اور حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ کا ایک آزاد کیا ہوا غلام مرگیا اور اس نے کچھ مال چھوڑا لیکن نہ تو اس نے کوئی ناطے دار چھوڑا اور نہ فرزند جو اس کے ترکہ کا وارث ہوتا) چناچہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس کا چھوڑا ہوا مال اس کی بستی کے کسی آدمی کو دیدو (ابوداؤد ترمذی)
تشریح
چونکہ اس آزاد شدہ غلام نے کوئی وارث نہیں چھوڑا تھا اس لئے اس کے ترکہ کا حقدار بیت المال تھا اور بیت المال کا مصرف چونکہ فقراء اور مساکین ہوتے ہیں اس لئے آنحضرت ﷺ نے اس کے مال کو اس کی بستی کے کسی محتاج و مستحق کو دیدینا مناسب سمجھا
انبیاء کسی کے وارث نہیں ہوتے
وعن عائشة : أن مولى لرسول الله صلى الله عليه و سلم مات وترك شيئا ولم يدع حميما ولا ولدا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أعطوا ميراثه رجلا من أهل قريته . رواه أبو داود والترمذي
یہ بات پہلے ہوچکی ہے کہ آزاد شدہ غلام کے اگر عصبات نسبی نہیں ہوتے تو اس کا حق ولاء اس کو آزاد کرنیوالے کو پہنچتا ہے یعنی اس کے مرنے کے بعد اس کے آزاد کرنیوالا اس کی میراث کا مالک بنتا ہے۔ اس قاعدہ کے مطابق جب آنحضرت ﷺ کا آزاد کردہ غلام مرگیا اور اس کا کوئی نسبی دار نہیں تھا تو اس کی میراث آنحضرت ﷺ کو ملنی چاہئے تھی لیکن انبیاء چونکہ کسی کے وارث نہیں ہوتے اور نہ کوئی شخص انبیاء کا وارث ہوتا ہے اس لئے اس آزاد شدہ غلام کی میراث آپ ﷺ نے خود نہیں لی بیت المال کے مصرف میں دیدی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انبیاء کسی کے وارث کیوں نہیں ہوتے اور ان کی میراث کسی کو کیوں نہیں ملتی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) دنیا کی بےثباتی دنیا کے مال و اسباب سے بےتعلقی اور دنیا کی خواہشات سے اجتناب کی صرف تعلیم ہی نہیں دیتے تھے بلکہ اپنی تعلیم پر خود عمل بھی کرتے تھے اور دنیا داری کی کوئی چیز ان کے لئے اہمیت نہیں رکھتی تھی چناچہ ان کی حقیقت شناس نظر پر چونکہ غفلت کا پردہ نہیں تھا اس لئے اللہ تعالیٰ کے حقیقی مالک و متصرف ہونے کا مشاہدہ اور کامل یقین ان کو حاصل ہوتا تھا دنیا کے مال و اسباب کے مستعار ہونے اور دنیا میں انسان کی مسافرانہ حالت کا نقشہ ان کے پیش نظر رہتا تھا اس لئے انہیں نہ تو دنیا کے مال و اسباب اور یہاں کے سازوسامان سے کوئی دلچسپی ہوتی تھی اور نہ انہیں یہ خواہش ہوتی تھی کہ ہمارے فلاں عزیز و رشتہ دار کا متروکہ ہمیں مل جائے اور نہ ہی اس دنیا سے رخصت ہونے کے وقت انہیں اپنے مال و اسباب کے چھوٹنے کا کوئی افسوس ہوتا تھا کیونکہ اول تو انبیاء کے پاس دنیا کا مال و اسباب ہوتا ہی کیا تھا اور جو کچھ تھوڑا بہت ہوتا بھی تھا تو اس سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی تھی لہذا انبیاء کی اس شان کے پیش نظر قانون الٰہی نے یہ فیصلہ نافذ کیا انبیاء اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد جو تھوڑا بہت سامان و اسباب چھوڑ جاتے وہ بھی کسی کی وراثت نہیں ہوگا اور نہ انبیاء اپنی زندگی میں اپنے اقرباء کی میراث سے کوئی حصہ لیں گے چناچہ آنحضرت ﷺ نے تمام انبیاء کی شان ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے کہ نحن معاشر الانبیاء لا نورث ما ترکنا صدقۃ یعنی ہم نبیوں کے مال و اسباب میں میراث جاری نہیں ہوتی ہم جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہے
جس کا کوئی بھی وارث نہ ہو اس کا ترکہ بیت المال کے مصرف میں دیدیا جائے
وعن بريدة قال : مات رجل من خزاعة فأتي النبي صلى الله عليه و سلم بميراثه فقال : التمسوا له وارثا أو ذا رحم فلم يجدوا له وارثا ولا ذا رحم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أعطوا الكبر من خزاعة . رواه أبو داود وفي رواية له : قال : انظروا أكبر رجل من خزاعة (2/192) 3057 - [ 17 ] ( لم تتم دراسته ) وعن علي رضي الله عنه قال : إنكم تقرؤون هذه الآية : ( من بعد وصية توصون بها أو دين ) وإن رسول الله صلى الله عليه و سلم قضى بالدين قبل الوصية وأن أعيان بني الأم يتوارثون دون بني العلات الرجل يرث أخاه لأبيه وأمه دون أخيه لأبيه . رواه الترمذي وابن ماجه وفي رواية الدارمي : قال : الإخوة من الأم يتوارثون دون بني العلات . . . إلى آخره
اور حضرت بریدہ کہتے ہیں کہ قبیلہ خزاعہ کا ایک شخص مرگیا تو اس کی میراث نبی کریم ﷺ کے پاس لائی گئی آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کا کوئی وارث تلاش کرو (یعنی پہلے تو ذوی الفروض اور عصبات میں سے کوئی وارث ڈھونڈو اگر ان میں سے کوئی وارث نہ ملے تو) چاہے کوئی ذی رحم ہی وارث ہو چناچہ تلاش کے بعد نہ تو ذوی الفروض وعصبات میں سے کوئی وارث پایا گیا اور نہ ذی رحم اس لئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ قبیلہ خزاعہ کے کسی بڑے بوڑھے کو دیدو (ابوداؤد) اور ابوداؤد ہی کی ایک اور روایت میں یوں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ قبیلہ خزاعہ کے کسی بوڑھے کو دیکھو ( اور اس کو یہ میراث دیدو)
تشریح
اس حدیث کی وضاحت بھی وہی ہے جو اوپر کی حدیث میں کی گئی ہے کہ اس شخص کا چونکہ کوئی بھی وارث نہیں تھا اس لئے اس کے ترکہ بیت المال میں داخل کیا جاتا لہذا آپ ﷺ نے یہ مناسب سمجھا کہ اس کا ترکہ اس کے قبیلہ کے کسی بڑے بوڑھے کو دیدیا جائے کیونکہ ایسا شخص بیت المال کا مصرف بھی ہے اور اس کے قبیلہ کا ایک فرد ہونے اور اپنے بڑھاپے کی وجہ سے اس کا سب سے زیادہ مستحق بھی ہے۔ میت کے قرض کی ادائیگی اس کی وصیت کی تعمیل پر مقدم ہے اور حضرت علی ؓ سے منقول ہے کہ ایک دین انہوں نے لوگوں سے کہا کہ تم اس آیت کو پڑھتے ہو (مِّنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوْصُوْنَ بِھَا اَوْ دَيْنٍ ) 4۔ النساء 12) جب کہ نبی کریم ﷺ نے وصیت پوری کرنے سے پہلے قرض ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور آپ ﷺ نے یہ حکم بھی صادر فرمایا ہے کہ حقیقی بھائی وارث ہوتے ہیں نہ کہ سوتیلے بھائی (یعنی حقیقی بھائیوں کی موجودگی میں سوتیلے بھائیوں کو کچھ نہیں ملتا) اور یہ کہ آدمی اپنے حقیقی بھائی کا وارث ہوتا ہے نہ کہ سوتیلے بھائی کا یہ جملہ پہلے جملہ کی تاکید کے طور پر استعمال کیا گیا ہے (ترمذی ابن ماجہ) اور دارمی کی روایت میں یوں ہے کہ حضرت علی نے فرمایا کہ وہ بھائی جو ماں میں بھی شریک ہوں یعنی باپ اور ماں دونوں میں شریک ہوں کہ جنہیں حقیقی بھائی کہتے ہیں) وارث ہوتے ہیں نہ کہ وہ بھائی جو صرف باپ میں شریک ہوں یعنی سوتیلے بھائی آگے حدیث کے وہی الفاظ ہیں جو اوپر نقل ہوئے) تشریح حدیث میں مذکورہ آیت کریمہ کا حاصل یہ ہے کہ اگر میت نے کوئی وصیت کی ہے تو اس کو پوری کرنے کے بعد اور اگر اس کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اس کو ادا کرنے کے بعد اس کے ورثاء کو اس کی میراث تقسیم کی جائے گی۔ گویا آیت کریمہ میں بظاہر وصیت کی تعمیل کو قرض کی ادائیگی پر مقدم کیا گیا ہے جب کہ آنحضرت ﷺ کا معمول یہ تھا کہ آپ ﷺ وصیت کی تعمیل سے پہلے قرض ادا کرنے کا حکم دیتے تھے۔ چناچہ اسی بارے میں حضرت علی نے لوگوں سے پوچھا کہ تم یہ آیت پڑھتے ہو کیا اس کی مراد بھی سمجھتے ہو یا نہیں؟ گویا اس طرح حضرت علی نے لوگوں کو آگاہ کیا کہ یہ نہ سمجھ لینا کہ قرآن کریم کی اس آیت اور آنحضرت ﷺ کے فعل میں کوئی تضاد نظر آتا ہے۔ یا یہ کہ آیت کریمہ میں چونکہ وصیت کو مقدم کیا گیا ہے اس لئے وصیت کی تعمیل قرض کی ادائیگی پر مقدم ہے بلکہ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ آیت میں الفاظ کے اعتبار سے قرض کی ادائیگی کو اگرچہ بعد میں ذکر کیا گیا ہے لیکن حقیقت اور حکم کے اعتبار سے یہی ہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے حکم کے ذریہ اس کو واضح کردیا ہے۔ اب رہی یہ بات کہ پھر آیت کریمہ میں وصیت کا ذکر پہلے کیوں ہے؟ تو اس کا مختصر ترین جواب یہ ہے کہ میت کی وصیت کی تعمیل چونکہ گراں گزر سکتی ہے اور اس میں کوتاہی ہوسکتی ہے اس لئے وصیت کے ذکر کو مقدم کر کے یہ آگاہی دی گئی ہے کہ میت کی تعمیل کو آسان اور غیر ضروری نہ سمجھا جائے بلکہ اسے ایک اہم اور ضروری چیز سمجھ کر پورا کیا جائے
وعن جابر قال : جاءت امرأة سعد بن الربيع بابنتيها من سعد بن الربيع إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالت : يا رسول الله هاتان ابنتا سعد بن الربيع قتل أبوهما معك يوم أحد شهيدا وإن عمهما أخذ مالهما ولم يدع لهما مالا ولا تنكحان إلا ولهما مال قال : يقضي الله في ذلك فنزلت آية الميراث فبعث رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى عمهما فقال : أعط لابنتي سعد الثلثين وأعط أمهما الثمن وما بقي فهو لك . رواه أحمد والترمذي وأبو داود وابن ماجه وقال الترمذي : هذا حديث حسن غريب
اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت سعد بن ربیع کی زوجہ اپنی دونوں بیٹیوں کو جو حضرت سعد بن ربیع سے تھیں لے کر رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ یہ دونوں بیٹیاں سعد بن ربیع کی ہیں ان کا باپ جو غزوہ احد کے دن آپ کے ہمراہ تھا میدان جنگ میں شہید ہوگیا اور ان کا مال ان کے چچا نے لے لیا ہے (یعنی ان کے باپ کا جو ترکہ ان لڑکیوں کو پہنچتا وہ زمانہ جاہلیت کی رسم کے مطابق سعد کے بھائی نے لے لیا ہے) اور ان کے لئے کچھ بھی مال نہیں چھوڑا ہے اب تاوقتیکہ ان کے پاس مال نہ ہو ان سے کوئی نکاح کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کچھ دنوں کے لئے صبر کرو) ان لڑکیوں کے معاملہ کا اللہ تعالیٰ فیصلہ کرے گا (یعنی ان کے بارے میں جب کوئی وحی نازل ہوگی تو فیصلہ ہوگا) چناچہ کچھ دنوں کے بعد آیت میراث یعنی (يُوْصِيْكُمُ اللّٰهُ فِيْ اَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ الخ) 4۔ النساء 11) نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے کسی کو ان لڑکیوں کے چچا کے پاس بھیجا اور بلا کر کہا کہ سعد کی بیٹیوں کو سعد کے ترکہ میں سے دو تہائی اور ان کی ماں کو آٹھواں حصہ دیدو اور جو کچھ باقی بچے وہ تمہارا ہے (احمد ترمذی ابوداؤد ابن ماجہ) اور امام ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے)
تشریح
آنحضرت ﷺ کے مبعوث ہونے اور اسلام کا اجالا پھیلنے سے پہلے زمانہ جاہلیت میں یہ طریقہ رائج تھا کہ میت کا ترکہ صرف وہی مرد لیتے تھے جو پورے مرد جوان اور میدان جنگ میں جانے کے قابل ہوں عورتوں، بچوں، ضعیفوں کو میراث نہیں ملتی تھی، مفلس و بےکس بیوہ، معصوم و یتیم بچے اور قابل رحم لڑکیاں روتی چلاتی رہ جائیں مگر ان کی پرواہ کئے بغیر جوان اور قوی و مال دار چچا اور بھائی آتے اور میت کا سب مال لے جاتے۔ ظلم وستم کا یہ طریقہ رائج تھا کہ آنحضرت ﷺ بیواؤں، یتیموں، مسکینوں لڑکیوں اور لا چاروں کے ماواؤ وملجا اور ان کے ہمدرد وغمسار بن کر اس دنیا میں تشریف لائے اور اسلام کا نور ہر ظلم ہر ستم ہر برائی اور ہر ناانصافی کے اندھیرے کو مٹاتا رہا یہاں تک کہ میراث کے معاملہ میں میں عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ ہونیوالی ناانصافی کو ختم کرنے کا وقت بھی آپہنچا چناچہ عورتوں کے حق میں اس صریح ظلم کے خاتمہ کی ابتداء اس طرح ہوئی کہ ایک صحابی حضرت اوس ابن ثابت انصاری کا انتقال ہوا انہوں نے پسماندگان میں ایک زوجہ ام کمحہ اور تین لڑکیاں چھوڑیں (بعض روایات میں یہ ہے کہ دو بیٹیاں اور ایک چھوٹا لڑکا تھا) حضرت اوس نے اپنے مال و اسباب کا جن دو آدمیوں کو کار پرداز اور وصی بنایا تھا انہوں نے زمانہ جاہلیت کے رائج طریقے کے مطابق اوس کا کل مال ان کے چچا زاد بھائی ( یا بعض روایات کے مطابق ان کے دو حقیقی بھائیوں) خالد اور عرفطہ کو دیدیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اوس کی بےکس بیوہ اور ان کی معصوم بچیاں؟ روتی رہ گئیں مگر انہیں کچھ نہ ملا ظاہر ہے کہ ایسے بےکس و لاچار اور غریب مسلمانوں کا ہمدرد و مددگار اور چارہ گر رحمت دو عالم ﷺ کے علاوہ اور کون ہوسکتا تھا وہ پریشان حال اور گھبرائی ہوئی دربار رسالت میں دوڑی آئیں اور عرض کیا کہ شوہر کے کار پردازوں نے نہ مجھ کو کچھ دیا نہ میری بیٹیوں کو جو کچھ تھا خالد اور عرفطہ کو دے کر یکسو ہوگئے، اب ہمارا کیا ہوگا یہ حال زار سن کر آپ ﷺ کو بہت افسوس ہوا مگر فوری طور پر آپ ﷺ کچھ نہیں کرسکتے تھے، کیونکہ آپ ﷺ خود مختار حاکم اور اللہ کی خدائی میں شریک تو تھے نہیں اس لئے اپنی طرف سے کوئی فیصلہ کیسے فرما سکتے تھے، تاہم آپ ﷺ نے اوس کی زوجہ کو تسلی دے کر فرمایا کہ اب تو اپنے گھر لوٹ جاؤ اور اس معاملہ میں جب تک اللہ کی طرف سے کوئی فیصلہ صادر ہو انتظار اور صبر کرو، چناچہ آپ ﷺ احکم الحاکمین کے حکم و فیصلہ کے انتظار میں تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی۔ (لِلرِّجَالِ نَصِيْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ وَلِلنِّسَا ءِ نَصِيْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَ نَصِيْبًا مَّفْرُوْضًا) (4۔ النساء 7) (مردوں کے لئے بھی حصہ ہے اس چیز میں سے جس کو ماں باپ اور بہت نزدیک کے قرابت دار چھوڑ جائیں اور عورتوں کے لئے بھی حصہ ہے اس چیز میں سے جس کو ماں باپ اور بہت نزدیک کے قرابت دار چھوڑ جائیں خواہ وہ چیز قلیل ہو یا کثیر ہو حصہ قطعی ہے) اس آیت کے نازل ہونے سے یہ معلوم ہوگیا کہ میراث کے معاملہ میں عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ آج تک جو ناانصافی ہو رہی تھی وہ اب ختم ہوگئی ہے اور ترکہ و میراث میں صرف مردوں ہی کا حق نہیں ہے بلکہ عورتوں کا بھی حق ہے، لیکن بہرحال آیت مجمل تھی کہ اس میں صرف عورتوں کا حق ثابت کیا گیا تھا۔ ابھی یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ ترکہ میں مردوں کا کیا حصہ ہے اور عورتوں کو کتنا حصہ ملے گا۔ اسی لئے اس حکم الٰہی کے نزول کے بعد آپ ﷺ نے اوس کے کارپردازوں کے پاس کہلا بھیجا کہ اللہ تعالیٰ نے میراث میں عورتوں کا بھی حق مقرر فرما دیا ہے لیکن ابھی تک مقدار اور حصہ مقرر نہیں فرمایا اس لئے تم اوس کے مال کو حفاظت سے رکھنا اس میں سے ایک حبہ بھی خرچ نہ کرنا عنقریب ہی کوئی ایسا حکم نازل ہونیوالا ہے جس میں حصوں کا تعین کیا جائے گا چناچہ اس قصہ کو زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ وہ واقعہ پیش آیا جو مذکورہ حدیث میں ذکر کیا گیا ہے کہ قبیلہ خزرج کے ایک جلیل القدر انصاری صحابی حضرت سعد بن ربیع ٣ ھ میں احد کی مشہور لڑائی میں بارے زخم کھا کر شہید ہوگئے ان کی شہادت کے بعد ان کے بھائی نے زمانہ جاہلیت کے رائج دستور کے مطابق حضرت سعد کے کل مال پر قبضہ کرلیا اور زوجہ اور دونوں بیٹیاں محروم رہ گئیں اس طرح حضرت سعد کی زوجہ اور دربار رسالت میں حاضر ہوئیں اور اس ناانصافی کے خلاف مرافعہ پیش کیا، آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ کچھ دن صبر کرو اللہ تعالیٰ عنقریب آخری اور قطعی فیصلہ صادر فرمانیوالا ہے چناچہ کچھ دنوں کے بعد یہ آیت میراث نازل ہوئی۔ (یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثیین) (آخری رکوع تک النساء ٤ ١١) (یعنی اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں کہ لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصہ کے برابر ہے) اس آخری فیصلہ کے بعد جب تمام ورثاء کے حصوں کا تعین ہوگیا تو آپ ﷺ نے سعد بن ربیع کے بھائی کے پاس کہلا بھیجا کہ حکم الٰہی کے پیش نظر اپنے بھائی کے ترکہ میں سے دو تہائی لڑکیوں کو دیدو اور آٹھواں حصہ ان کی ماں کو اس کے بعد جو کچھ باقی بچے وہ تم لے لو۔ یعنی سعد نے جو کچھ چھوڑا ہے پہلے اس کے چوبیس حصے کرلو پھر ان چوبیس حصوں میں سے آٹھ آٹھ حصے دونوں لڑکیوں کو دو تین حصے ان کی ماں کو دو اور باقی پانچ حصے تم لے لو اس طرح اس تقسیم کو یوں ظاہر کریں گے۔
وعن هزيل بن شرحبيل قال : سئل أبو موسى عن ابنة وبنت ابن وأخت فقال : للبنت النصف وللأخت النصف وائت ابن مسعود فسيتابعني فسئل ابن مسعود وأخبر بقول أبي موسى فقال : لقد ضللت إذن وما أنا من المهتدين أقضي فيها بما قضى النبي صلى الله عليه و سلم : للبنت النصف ولابنة الابن السدس تكملة الثلثين وما بقي فللأخت فأتينا أبا موسى فأخبرناه بقول ابن مسعود فقال : لا تسألوني ما دام هذا الحبر فيكم . رواه البخاري
اور حضرت ہزیل بن شرحبیل تابعی کہتے ہیں کہ حضرت ابوموسی صحابی سے یہ سوال کیا گیا کہ مثلا زید مرگیا اور اس کے وارثوں میں ایک بیٹی ایک پوتی اور ایک بہن ہے تو زید کی میراث کو کس طرح تقسیم کیا جائے گا حضرت ابوموسی نے جواب دیا کہ زید کا ترکہ آدھا بیٹی کو اور آدھا بہن کو ملے گا پوتی محروم رہے گی پھر حضرت ابوموسی نے سوال کرنیوالے سے کہا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس جاؤ اور ان سے بھی یہی مسئلہ پوچھو وہ بھی میرے اس جواب سے اتفاق کریں گے ( یعنی اس مسئلہ کا جو جواب میں نے دیا ہے یہی جواب وہ بھی دیں گے) چناچہ حضرت عبداللہ بن مسعود سے بھی یہ مسئلہ پوچھا گیا اور اس کا جو جواب حضرت ابوموسی نے دیا تھا وہ بھی انہیں بتایا گیا حضرت عبداللہ بن مسعود نے (مسئلہ اور حضرت ابوموسی کا جواب سن کر) کہا کہ ایسی صورت میں (یعنی ابوموسی نے جو فتوی دیا ہے وہی فتوی اگر میں بھی دوں تو) میں گمراہ سمجھا جاؤں گا اور اپنے کو راہ ہدایت پر نہ پاؤں گا لہذا اس مسئلہ میں، میں وہی فیصلہ دوں گا جو رسول کریم ﷺ کے حکم کے مطابق ہے اور وہ یہ ہے کہ بیٹی کو آدھا ملے گا اور دو تہائی پورا کرنے کے لئے پوتی کو چھٹا حصہ ملے گا ( یعنی میت کے ترکہ میں سے دو یا دو سے زائد بیٹیوں کو تہائی ملتا ہے اب چونکہ بیٹی ایک ہے اور اس کو آدھا حصہ ملا ہے تو پوتی کو چھٹا حصہ دے کردو تہائی پورا کردیا جائے گا اور جو کچھ باقی بچے (یعنی ایک تہائی) وہ بہن کا ہے یعنی اس حدیث بیٹوں کی موجودگی میں بہن کو عصبہ قرار دو کے مطابق بہن عصبہ ہو کر باقی ماندہ ترکہ لے لے گی چناچہ اکثر علماء کا یہی مسلک ہے) راوی کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود کا یہ جواب سن کر ہم حضرت ابوموسی کے پاس آئے اور انہیں حضرت ابن مسعود کے جواب سے آگاہ کیا حضرت ابوموسی نے فرمایا کہ مجھے اپنی غلطی کا اعتراف ہے کیونکہ ابن مسعود نے جو فتوی دیا ہے وہی صحیح اور حق ہے لہذا جب تک تمہارے درمیان یہ عالم (ابن مسعود) موجود ہیں مجھ سے کوئی مسئلہ نہ پوچھا کرو (بخاری)
تشریح
حضرت عبداللہ بن مسعود کے جواب کا حاصل یہ تھا کہ میت کے کل ترکہ کے چھ حصے کر کے اس طرح تقسیم کرو کہ یعنی لڑکی کو تین حصے پوتی کو ایک حصہ اور بہن کو دو حصے دو۔
وعن عمران بن حصين قال : جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : إن ابني مات فما لي من ميراثه ؟ قال : لك السدس فلما ولى دعاه قال : لك سدس آخر فلما ولى دعاه قال : إن السدس الآخر طعمة . رواه أحمد والترمذي وأبو داود وقال الترمذي : هذا حديث حسن صحيح
اور حضرت عمران بن حصین کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میرا پوتا مرگیا ہے اس کے ترکہ میں سے مجھے کتنا ملے گا آپ ﷺ نے فرمایا چھٹا حصہ جب وہ یہ جواب سن کر) واپس ہوا تو آپ ﷺ نے اسے بلایا اور فرمایا کہ تمہیں چھٹا حصہ اور ملے گا پھر جب وہ واپس ہوا تو آپ ﷺ نے بلایا اور کہا کہ یہ آخر کا چھٹا حصہ تمہارا رزق ہے (احمد ترمذی ابوداؤد) اور امام ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
تشریح
یہ آخر کا چھٹا حصہ تمہارا رزق ہے کا مطلب یہ ہے کہ پہلا چھٹاحصہ تو تمہارے ذی فرض ہونے کی وجہ سے تمہیں ملا اور یہ دوسرا چھٹا تمہارے عصبہ ہونے کی حیثیت سے تمہیں ملا ہے اس طرح اس شخص کو گویا کل ترکہ میں سے تہائی ملا مگر آپ ﷺ نے یکبارگی اسے تہائی نہیں دیا تاکہ وہ یہ گمان نہ کرلے کہ پوتے کے ترکہ میں سے دادا کا حصہ ذی فرض ہونے کی حیثیت سے تہائی ہی ہوتا ہے۔ یہ تو حدیث کی وضاحت تھی اب مسئلہ کی نوعیت سمجھئے جو یہ تھی کہ ایک شخص کا انتقال ہوا جس کے وارثوں میں دو بیٹیاں تھیں اور ایک یہ سال یعنی دادا تھا چناچہ میت کے ترکہ میں سے اس کی دونوں بیٹیوں کو دو تہائی ملا باقی ایک تہائی میں سے آدھا یعنی کل ترکہ کا چھٹا حصہ تو دادا کو ذی فرض ہونے کی حیثیت سے ملا اور جو آدھا یعنی کل ترکہ کا چھٹا بچا وہ بھی دادا ہی کو عصبہ ہو نیکی وجہ سے مل گیا گویا ترکہ کی تقسیم یوں ہوئی۔
وعن قبيصة بن ذؤيب قال : جاءت الجدة إلى أبي بكر رضي الله عنه تسأله ميراثها فقال لها : ما لك في كتاب الله شيء وما لك في سنة رسول الله صلى الله عليه و سلم شيء فارجعي حتى أسأل الناس فسأل فقال المغيرة بن شعبة : حضرت رسول الله صلى الله عليه و سلم أعطاها السدس فقال أبو بكر رضي الله عنه هل معك غيره ؟ فقال محمد بن مسلمة مثل ما قال المغيرة فأنفذه لها أبو بكر رضي الله عنه ثم جاءت الجدة الأخرى إلى عمر رضي الله عنه تسأله ميراثها فقال : هو ذلك السدس فإن اجتمعا فهو بينكما وأيتكما خلت به فهو لها . رواه مالك وأحمد والترمذي وأبو داود والدارمي وابن ماجه
اور حضرت قبصہ بن ذویب کہتے ہیں کہ ایک متوفی شخص کی جدہ حضرت ابوبکر صدیق کی خدمت میں حاضر ہوئی اور ان سے اپنی میراث دلوائے جانے کا مطالبہ کیا حضرت ابوبکر نے اس سے فرمایا کہ کتاب اللہ میں تمہارے لئے کوئی حصہ مقرر نہیں ہے اور نہ سنت رسول اللہ ﷺ میں تمہارے لئے کوئی حصہ مقرر کیا گیا ہے ( یعنی علماء صحابہ سے) پوچھوں گا ( شاید ان میں سے کسی کو جدہ کے حصہ کے بارے میں آنحضرت ﷺ کا کوئی ارشاد معلوم ہوا) چناچہ حضرت ابوبکر نے لوگوں سے پوچھا تو حضرت مغیرہ بن شعبہ نے کہا کہ میں ایک دن رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا تو میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ نے جدہ کو چھٹا حصہ دلوایا حضرت ابوبکر نے حضرت مغیرہ سے کہا کہ تمہارے علاوہ کوئی اور شخص بھی تمہارے ساتھ تھا؟ یعنی حضرت ابوبکر نے بطور احتیاط ان سے پوچھا کہ تمہارے علاوہ کسی اور شخص نے بھی رسول کریم ﷺ سے یہ حکم سنا یا دیکھا ہے) چناچہ ایک اور صحابی حضرت محمد بن مسلمہ نے حضرت مغیرہ کے قول کی تائید کی یعنی انہوں نے وہی کہا جو حضرت مغیرہ نے کہا تھا کہ حضرت ابوبکر کو جب اطمینان ہوگیا کہ میت کے ترکہ میں سے جدہ کا بھی حصہ ہے تو انہوں نے اس جدہ کو میت کے ترکہ میں سے چھٹا حصہ دیئے جانے کا فیصلہ کردیا۔ پھر دوسری جدہ حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے ان سے اپنی میراث دلوائے جانے کا مطالبہ کیا حضرت عمر نے کہا وہی چھٹا حصہ تمہارے لئے بھی ہے اگر تم دو ہو تو وہ چھٹا حصہ تم دونوں کے درمیان مشترک ہے اور اگر تم میں سے کوئی ایک ہے تو وہ چھٹا حصہ اس ایک کے لئے ہوگا۔ (مالک احمد ترمذی ابوداؤد دارمی ابن ماجہ)
تشریح
جدہ دادی کو بھی کہتے ہیں اور نانی کو بھی کہتے ہیں چناچہ حضرت ابوبکر کی خدمت میں جو عورت آئی تھی وہ تو میت کی نانی تھی اور حضرت عمر کی خدمت میں جو عورت آئی تھی وہ اس میت کی دادی تھی جیسا کہ ایک اور روایت میں یہ وضاحت موجود ہے۔ حدیث کے آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ میت کے ترکہ میں جدہ کا چھٹا حصہ ہوتا ہے خواہ ایک ہو یا کئی ہوں، اگر ایک جدہ ہوگی تو وہ اس چھٹے حصہ کی تنہا مالک ہوگی اور اگر کئی ہوں گی تو اس چھٹے حصہ کو سب آپس میں برابر برابر تقسیم کرلیں گی چناچہ حضرت ابوبکر نے وہ چھٹا حصہ تنہا ایک جدہ یعنی نانی کو دیئے جانے کا حکم دیا کیونکہ انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ میت کی دوسری جدہ یعنی دادی بھی موجود ہے لیکن حضرت عمر کو جب یہ معلوم ہوا کہ میت کی دوسری جدہ بھی ہے تو انہوں نے یہ حکم دیا کہ اس چھٹے حصہ میں دونوں جدہ شریک ہوں۔
باپ کی موجودگی میں دادی کو چھٹا صہ دلوائے جانے کا ایک خاص واقعہ
وعن ابن مسعود قال في الجدة مع ابنها : إنها أول جدة أطعمها رسول الله صلى الله عليه و سلم سدسا مع ابنها وابنها حي . رواه الترمذي والدارمي والترمذي ضعفه
اور حضرت ابن مسعود ؓ مروی ہے کہ انہوں نے اس جدہ کے بارے میں جس کا بیٹا موجود ہو یہ کہا کہ میراث دلوائی جانے والی وہ پہلی جدہ تھی جسے رسول کریم ﷺ نے اس کے بیٹے کی موجودگی میں اسے چھٹا حصہ دلوایا تھا اور اس کا بیٹا زندہ تھا (ترمذی دارمی) اور امام ترمذی نے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے۔
تشریح
صورت مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص دادی اور باپ چھوڑ کر مرا تو آنحضرت ﷺ نے اس کے ترکہ میں سے دادی کو چھٹا حصہ دلوایا باوجودیکہ اس کا بیٹا یعنی میت کا باپ موجود تھا۔ حالانکہ علماء کا مسلک یہ ہے کہ اگر میت کا باپ موجود ہو تو اس کے ترکہ میں سے دادی کو کچھ نہیں ملتا گویا دادی اپنے بیٹے یعنی میت کے باپ کی موجودگی میں پوتے کے ترکہ سے محروم رہتی ہے مذکورہ بالا حدیث پر علماء نے اس لئے عمل نہیں کیا کہ یہ حدیث ضعیف ہے جس سے استدلال نہیں کیا جاسکتا دلیل کے طور پر صحیح حدیث ہی اختیار کی جاسکتی ہے یا پھر یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ ایک خاص صورت تھی جس میں آپ نے جدہ کو اس کے بیٹے یعنی میت کے باپ کی موجودگی میں تبرعًا یعنی ازارہ احسان حصہ دلوایا تھا بطریق میراث نہیں دلوایا تھا
خون بہا کا مال مقتول ورثاء کو ملتا ہے
وعن الضحاك بن سفيان : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كتب إليه : أن ورث امرأة أشيم الضبابي من دية زوجها . رواه الترمذي وأبو داود وقال الترمذي : هذا حديث حسن صحيح
اور حضرت ضحاک بن سفیان سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے انہیں لکھا کہ اشیم ضبابی کی بیوی کو اس کے خاوند کے خون بہا میں سے میراث دی جائے امام ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے ( ترمذی ابواداؤد)
تشریح
اشیم ضبابی آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں قتل کر دئے گئے تھے لیکن یہ قتل قصدًا نہیں ہوا تھا بلکہ خطاء ہوا تھا چناچہ جس شخص کی خطاء اور غلطی سے وہ قتل ہوگئے تھے اس پر خون بہا واجب ہوا اور جب اس نے خون بہا ادا کیا تو آپ ﷺ نے ضحاک کو لکھا کہ مقتول یعنی اشیم ضبابی کے خون بہا کے طور پر جو مال حاصل ہوا ہے اس میں سے اس کی بیوی کو میراث دیدی جائے۔ شرح السنۃ میں لکھا ہے کہ یہ حدیث اس بابت کی دلیل ہے کہ دیت پہلے تو مقتول کے لئے واجب ہوتی ہے پھر اس دیت میں حاصل ہونیوالا مال مقتول کی دوسری املاک کی طرح اس کے ورثاء کی طرف منتقل ہوجاتا ہے چناچہ اکثر علماء کا یہی قول ہے۔ منقول ہے کہ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق فرمایا کرتے تھے کہ عورت اپنے خاوند کی دیت میں حاصل ہونیوالے مال کی وارث نہیں ہوتی چناچہ حضرت ضحاک نے ان کے سامنے یہ حدیث بیان کی اور یہ ثابت کیا کہ خاوند کی دیت میں حاصل ہونیوالے مال میں سے اس کی بیوی کو میراث ملتی ہے۔
موالی آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوتے
وعن تميم الداري قال : سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما السنة في الرجل من أهل الشرك يسلم على يدي رجل من المسلمين ؟ فقال : هو أولى الناس بمحياه ومماته . رواه الترمذي وابن ماجه والدارمي
اور حضرت تمیم داری کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ سے پوچھا کہ اس مشرک کے بارے میں کیا حکم ہے جو کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام لایا ہو یعنی وہ مسلمان اس نو مسلم کا مولیٰ ہوتا ہے یا نہیں؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ وہ مسلمان جس کے ہاتھ پر وہ مشرک اسلام لایا ہے اس کی زندگی میں اس کا سب سے زیادہ حقدار ہے اور مرنے کے بعد بھی سب سے زیادہ حقدار وہی ہے یعنی وہ مسلمان اس نو مسلم کا مولیٰ ہے ( ترمذی ابن ماجہ دارمی)
تشریح
حضرت تمیم داری ایک جلیل القدر اور مشہور صحابی ہیں یہ پہلے عیسائی تھے پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت بخشی اور ٩ ھ میں مشرف باسلام ہوئے اسلام قبول کرنے کے بعد ان کی زندگی خوف اللہ اور عبادت گزاری سے اس قدر معمور ہوئی کہ شب بیداری جیسے عظیم وصف میں امتیازی حیثیت کے مالک ہوئے رات میں ایک رکعت میں پورا قرآن کریم ختم کیا کرتے تھے اور کبھی کبھی ایک ہی آیت پڑھتے پڑھتے صبح کردیتے اتفاق سے ایک رات تہجد کی نماز نہ پڑھ سکے تو اپنے نفس کو اس کی اس طرح سزا دی کہ پورے ایک برس تک مسلسل سوئے نہیں حضرت تمیم داری کو ایک تاریخی امتیاز یہ بھی حاصل ہے کہ یہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے سب سے پہلے مسجد میں چراغ روشن کیا ہے۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتا ہے تو وہ مسلمان اس نو مسلم کا مولیٰ ہوجاتا ہے چناچہ ابتداء اسلام میں یہی حکم تھا کہ موالی آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہوتے تھے بعد میں یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ بعض حضرات کہتے ہیں کہ حدیث کے الفاظ وہ سب سے زیادہ حقدار ہے کی مراد یہ ہے کہ مسلمان کرنیوالے پر یہ حق سب سے زیادہ ہے کہ وہ اس نو مسلم کی زندگی میں تو اس کی اعانت و خیرخواہی کرے اور اس کے مرنے کے بعد اس کی نماز جنازہ پڑھے۔
آزاد شدہ غلم اپنے آزاد کرنیوالے کا وارث ہوتا ہے یا نہیں؟
وعن ابن عباس : أن رجلا مات ولم يدع وارثا إلا غلاما كان أعتقه فقال النبي صلى الله عليه و سلم : هل له أحد ؟ قالوا : لا إلا غلام له كان أعتقه فجعل النبي صلى الله عليه و سلم ميراثه له . رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه
اور حضرت ابن عباس راوی ہیں کہ ایک شخص مرگیا جس نے اپنے ایک غلام کے علاوہ کہ جسے وہ آزاد کرچکا تھا اور کوئی وارث نہیں چھوڑا چناچہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کیا اس کا کوئی وارث ہے یا نہیں؟ صحابہ نے عرض کیا کہ کوئی وارث نہیں ہے البتہ ایک غلام ہے جسے اس نے آزاد کیا تھا آنحضرت ﷺ نے اس میت کی میراث اس کے آزاد کردہ غلام ہی کو دلوا دی۔
تشریح
چونکہ آزاد شدہ غلام اپنے آزاد کرنیوالے کا وارث نہیں ہوتا اس لئے اس حدیث کا مطلب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ آپ ﷺ نے اس آزاد شدہ غلام کو اس کے آزاد کرنیوالے کی میراث ازراہ تبرع (احسان کے طور پر) دلوائی تھی جیسا کہ حضرت عائشہ کی حدیث نمبر ١٤ میں گزرا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک لاوارث میت کی میراث کے بارے میں فرمایا کہ اس کی میراث اس کی بستی کے کسی شخص کو دیدو چناچہ اس موقع پر جو وضاحت کی گئی تھی وہی وضاحت یہاں بھی ہے۔ حضرت شریح اور حضرت طاؤس نے اس حدیث کے ظاہری مفہوم کے پیش نظر کہا گیا ہے کہ جس طرح آزاد کرنیوالا اپنے آزاد کردہ غلام کا وارث ہوتا ہے اسی طرح آزاد شدہ غلام بھی اپنے آزاد کرنیوالے کا وارث ہوسکتا ہے۔
وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : يرث الولاء من يرث المال . رواه الترمذي وقال : هذا حديث إسناده ليس بالقوي
اور حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص مال کا وارث ہوتا ہے وہ ولاء کا بھی وارث ہوتا ہے۔ امام ترمذی نے اس حدیث کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ اس حدیث کی اسناد قوی نہیں ہے۔
تشریح
آزاد شدہ غلام کے مال کو ولاء کہتے ہیں لہذا حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص مثلا زید کا باپ مرگیا پھر اس کے بعد اس کے باپ کا آزاد کردہ غلام یا اس کے باپ کا آزاد کردہ غلام مرا تو اب یہ شخص یعنی زید اس کے مال کا وارث ہوگا کیونکہ جس طرح یہ اپنے باپ کی دیگر املاک کا وارث ہوتا ہے اسی طرح اپنے باپ کے ولاء کا بھی وارث ہے لیکن یہ حکم صرف عصبہ کے ساتھ مخصوص ہے یعنی جو عصبہ وارث مثلا بیٹا بنفسہ ہونے کی حیثیت سے میت کے مال کا وارث ہوتا ہے وہی عصبہ ولاء کا وارث ہوگا لہذا آزاد کرنیوالے کی بیٹی اپنے باپ کے ولاء کی وارث نہیں ہوگی کیونکہ اگرچہ وہ اپنے باپ کے مال کی وارث ہوتی ہے مگر عصبہ نہیں ہوتی بلکہ عصبہ بنفسہ تو صرف مرد ہوتے ہیں عورتیں عصبہ بنفسہ نہیں ہوتیں ہاں عورت ایسے آزاد شدہ غلام کے مال کی تو وارث ہوتی ہے جسے اس نے خود آزاد کیا ہو یا اس کو اس کے آزاد کردہ غلام نے آزاد کیا ہو۔
اسلام لانے سے پہلے جو میراث تقسیم ہوچکی ہے اسلام لانے کے بعد اس میں کوئی ترمیم نہیں ہوگی
عن عبد الله بن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ما كان من ميراث قسم في الجاهلية فهو على قسمة الجاهلية وما كان من ميراث أدركه الإسلام فهو على قسمة الإسلام . رواه ابن ماجه
حضرت عبداللہ بن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو میراث زمانہ جاہلیت میں تقسیم ہوچکی ہے وہ زمانہ جاہلیت ہی کی تقسیم کے مطابق رہے گی اور جس میراث نے اسلام کا زمانہ پایا وہ اسلام ہی کے مطابق تقسیم ہوگی ( ابن ماجہ)
تشریح
اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جو میراث زمانہ جاہلیت میں تقسیم ہوچکی ہے اب اس میں کوئی ترمیم نہیں ہوگی جس کو جتنا مل چکا ہے وہ اتنے ہی کا مالک رہے گا اگر اس زمانہ میں کسی کے پاس زیادہ چلا گیا ہے تو اب اس کی واپسی ضروری نہیں ہے اور اگر کسی کو کم حصہ ملا ہے تو اسے باقی کے مطابق کا حق پہنچتا ہے ہاں اسلام لانے کے بعد جو بھی میراث تقسیم ہوگی اسلامی احکام و قواعد کے مطابق ہی تقسیم ہوگی۔
پھوپھیوں کے وارث نہ ہونے کے بارے میں حضرت عمرکا تعجب
وعن محمد بن أبي بكر بن حزم أنه سمع أباه كثيرا يقول : كان عمر بن الخطاب يقول : عجبا للعمة تورث ولا ترث . رواه مالك
اور حضرت محمد بن ابی بکر بن حزم سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے باپ سے سنا جو اکثریہ کہا کرتے تھے کہ حضرت عمر فاروق فرماتے تھے کہ پھوپھی کے بارے میں تعجب ہے کہ اس کا بھتیجا تو اس کا وارث ہوجاتا ہے مگر وہ اپنے بھتیجے کی وارث نہیں ہوتی ( مالک)
تشریح
حضرت عمر کا یہ تعجب محض عقل و قیاس کی بنیاد پر ہے ورنہ اگر بجاآوری حکم کے نکتہ نظر سے دیکھا جائے یا یہ بات پیش نظر ہو کہ اس کی حکمت و مصلحت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے تو تعجب کی کوئی بات نہیں ہے۔ حدیث کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ اگر کسی شخص کی پھوپھی مرجائے تو وہ اپنی پھوپھی کا وارث ہوسکتا ہے اس کے برعکس اگر وہ شخص مرجائے تو اس کی پھوپھی اس کی وارث نہیں ہوسکتی چناچہ حدیث کا یہ مفہوم اور حضرت عمر کا یہ تعجب ان علماء کے مسلک کے مطابق ہے جن کے نزدیک ذوی الارحام میت کے وارث نہیں ہوتے جب کہ پھوپھی ذوی الارحام میں سے ہونے کی وجہ سے ان علماء کے نزدیک اپنے بھتیجے کی وارث ہوسکتی ہے جو ذوی الارحام کو علم فرائض میں مذکورہ تفصیل کے مطابق میت کا وارث قرار دیتے ہیں۔
فرائض کا علم سیکھنے کا حکم
وعن عمر رضي الله عنه قال : تعلموا الفرائض وزاد ابن مسعود : والطلاق والحج قالا : فإنه من دينكم . رواه الدارمي
اور حضرت عمر فاروق سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ فرائض کے احکام و مسائل سیکھو نیز حضرت بن مسعود نے ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے طلاق اور حج کے احکام و مسائل بھی سیکھو انہوں نے کہا کہ اس کا سیکھنا اس لئے ضروری ہے کہ یہ علم تمہاری دینی ضروریات میں سے ہے ( دارمی)