فرائض کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 90 · 35 hadiths · Page 1 of 2

3068Mishkaat-al-Masabih

فرائض کا بیان

فرائض جمع ہے فریضۃ کی جو فرض سے مشتق ہے فرائض میراث کے ان حصوں کو کہتے ہیں جو قرآن و حدیث میں متعین ومقرر ہیں۔ گویا اس باب میں یہ بیان کیا جائے گا کہ جو شخص مرجائے اس کے کون کون عزیز و اقا رب اس کے وارث ہوں گے اور اس کا چھوڑا ہوا مال و اسباب ان ورثاء میں کس طرح تقسیم ہوگا۔ یہ باب چونکہ ایک بڑے اہم موضوع سے متعلق ہے اس لئے مناسب ہے کہ ابتدائی طور پر چند اصولی باتیں اور کچھ ضروری مسائل یکجائی انداز میں نقل کر دئیے جائیں۔

3069Mishkaat-al-Masabih

ورثاء کی ترتیب

علماء لکھتے ہیں کہ میت کے ترکہ (یعنی اس کے چھوڑے ہوئے مال و اسباب) کے ساتھ چار حق متعلق ہوتے ہیں جس کی ترتیب یہ ہے کہ (١) پہلے تو میت کی تجہیز و تکفین کی جائے یعنی اسے غسل دیا جائے پھر کفن دیا جائے اس کے بعد اس کی نماز جنازہ پڑھوا کر قبرستان لے جایا جائے اور پھر قبر میں دفن کیا جائے ان چیزوں میں جو کچھ خرچ کرنے کی ضرورت ہو وہ اس کے ترکہ میں سے اس طرح خرچ کیا جائے کہ نہ تو تنگی کی جائے اور نہ اسراف کیا جائے۔ (٢) اس کے بعد اگر میت کے ذمہ کوئی قرض و مطالبہ ہو تو اس کی ادائیگی کی جائے۔ پھر قرض و مطالبہ کی ادائیگی کے بعد (٣) جو مال و اسباب بچے اس میں سے تہائی حصہ میں وصیت جاری کی جائے بشرطیکہ اس نے وصیت کی ہو ان تین مرحلوں کے بعد (٤) اس کا بقیہ تمام مال و اسباب اس کے وارثوں کے درمیان تقسیم کیا جائے جس کی ترتیب یہ ہے کہ پہلے ذوی الفروض کو ان کے مقررہ حصے دئیے جائیں اور ان کو دینے کے بعد جو کچھ بچے وہ میت کے عصبات نسبی کو دیدیا جائے کیونکہ ذو الفروض کو دینے کے بعد جو کچھ بچتا ہے وہ عصبات نسبی کا حق ہوتا ہے اور اگر میت کے وارثوں میں ذوی الفروض موجود نہیں ہوتے تو پھر اس کا تمام ترکہ عصبات نسبی کو ملتا ہے اور اگر اس کے وارثوں میں عصبات نسبی نہیں ہوتے تو ذوی الفروض کو دینے کے بعد جو کچھ بچتا ہے وہ آزاد کرنیوالے کو ملتا ہے بشرطیکہ میت غلام رہا ہو اور اس کو آزاد کیا گیا ہو اور اگر آزاد کرنیوالا موجود نہ ہو تو پھر اس آزاد کرنیوالے کے مرد عصبات کو دیا جاتا ہے اور اگر یہ بھی نہ ہوں تو بھی وہ بچا ہوا ترکہ ذوی الفروض کی طرف لوٹ جائے گا علاوہ زوجین کے کیونکہ اس دوبارہ تقسیم میں ذوی الفروض میں سے زوجین کا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ اور اگر میت کے ورثاء میں نہ تو ذوی الفروض میں سے کوئی ہو اور نہ عصبات نسبی و سببی ہوں تو اس کا ترکہ ذوی الارحام کو دیا جائے اور اگر ذوی الارحام بھی نہ ہوں تو مولا موالات کو دیا جائے اور اگر کوئی مولا موالات بھی نہ ہو تو پھر وہ تمام ترکہ اس غیر شخص کو ملے گا جس کے نسب کا میت نے اقرار کیا ہو مثلا اس نے زید کے بارے میں کہا ہو کہ یہ میرے باپ کا بیٹا ہے حالانکہ زید کا یہ نسب یعنی اس میت کے باپ کا بیٹا ہونا اس اقرار کے علاوہ اور کسی صورت میں ثابت نہ ہو لیکن پھر بھی وہ میت کے ترکہ کا حقدار قرار پائیگا۔ اور اگر ایسا بھی کوئی شخص نہ ہو تو پھر وہ ترکہ اس شخص کو دیا جائے گا جس کے لئے میت نے اپنے تمام مال کی وصیت کی ہو اور اگر ایسا بھی کوئی شخص نہ ہو جس کے لئے میت نے اپنے تمام مال و اسباب کی وصیت کی ہو تو پھر اس کا سارا مال و اسباب بیت المال میں رکھا جائے گا۔ اور اگر بیت المال بھی نہ ہو تو پھر آخر میں بیت المال کے مصرف میں صرف کیا جائے یعنی مدارس ومساجد یا فقراء اور مساکین وغیرہ کو دیا جائے گا۔

3070Mishkaat-al-Masabih

ذوی الفروض کی تفصیل

ذوی الفروض بارے ہیں (1) باپ ( ٢) دادا خواہ اوپر کے درجہ کے ہوں جیسے پڑ دادا اور سکڑ دادا وغیرہ (٣) اخیافی بھائی ( اخیافی ان بھائیوں کو کہتے ہیں جن کے باپ الگ الگ ہوں اور ماں ایک ہو ( ٤) بیوی ( ٥) خاوند ( ٦) ماں (٧) جدہ (یعنی دادی یا نانی خواہ اوپر کے درجہ کی ہو جیسے پڑ دادی اور سکڑ دادی یا پڑنانی اور سکڑنانی (٨) بیٹی (٩) پوتی (١٠) حقیقی بہن (١١) سوتیلی بہن اور (١٢) اخیافی بہن۔

3071Mishkaat-al-Masabih

ذوی الفروض کے حصے

میت کے ترکہ میں باپ کا چھٹا حصہ ہوتا ہے جب کہ میت کا بیٹا یا پوتا اور یا پڑپوتا بھی موجود ہو اور اگر یہ نہ ہوں بلکہ بیٹی یا پوتی اور یا پڑپوتی موجود ہو تو باپ کو چھٹا حصہ بھی ملے گا اور وہ عصبہ بھی ہوگا اور اگر نہ تو بیٹا یا پوتا اور پڑپوتا ہو اور نہ بیٹی یا پوتی اور یا پڑپوتی ہو تو باپ صرف عصبہ ہوگا حاصل یہ ہے کہ پہلی صورت میں تو باپ صرف صاحب فرض ہوتا ہے اور دوسری صورت میں صاحب فرض بھی ہوتا ہے اور عصبہ بھی اور تیسری صورت میں صرف عصبہ ہوتا ہے۔ اگر میت کا باپ موجود نہ ہو تو مذکوربہ بالا تینوں صورتوں میں اس کا دادا باپ کی مانند ہوگا اور اگر میت کے باپ اور دادا دونوں زندہ ہوں تو پھر دادا محروم ہوگا یعنی اسے میت کے ترکہ میں سے کچھ نہیں ملے گا۔ اخیافی بھائی اور اخیافی بہن کو میراث کا چھٹا حصہ ملے گا بشرطیکہ وہ ایک ہو اور اگر وہ دو یا دو سے زائد ہوں تو ان کے لئے تہائی حصہ ہے جو مرد و عورت پر برابر تقسیم ہوگا اور اگر میت کا باپ یا دادا زندہ ہو یا اس کا بیٹا یا بیٹے کی اولاد موجود ہو تو پھر اخیافی بھائی بہن محروم ہونگے۔ اگر بیوی مرجائے اور اس کا بیٹا بیٹی نہ ہو اور بیٹے کی اولاد بھی نہ ہو تو اس کے ترکہ میں سے شوہر کو نصف حصہ ملے گا اور اگر بیٹا بیٹی یا بیٹے کی اولاد موجود ہو تو شوہر کو چوتھا حصہ ملے گا۔ اگر خاوند مرجائے اور نہ تو اس کے بیٹے بیٹی ہوں اور نہ بیٹے کی اولاد ہو تو اس کے ترکہ میں سے بیوی کو چوتھائی حصہ ملے گا اور اگر میت کے بیٹا بیٹی یا بیٹے کی اولاد موجود ہو تو بیوی کو آٹھواں حصہ ملے گا۔ یہ بات ملحوظ رہے کہ اگر میت کی ایک ہی بیوی ہو تو اس کو بھی وہی حصہ ملے گا جو ذکر کیا گیا ہو اور اگر ایک سے زائد یعنی دو یا تین اور چار بیویاں ہوں تب بھی یہی حصہ ملے گا فرق صرف اتنا ہے کہ اگر ایک بیوی ہوگی تو مذکورہ بالا حصہ کی وہ تنہا حق دار ہوگی اور ایک سے زائد بیویاں ہوں گی تو وہ اس حصہ کو باہم تقسیم کرلیں گی۔ میت کے ترکہ میں سے ماں کو چھٹا حصہ ملے گا بشرطیکہ میت کے بیٹا بیٹی یا پوتا یا اس کی اولاد یا بہن یا دو بھائی اور دو بہن یا دو سے زائد بھائی اور بہن خواہ حقیقی بھائی بہن ہوں یا سوتیلے اور اخیافی ہوں موجود ہوں اگر ان میں سے کوئی بھی موجود نہ ہوگا تو ماں کو کل ترکہ میں سے تہائی حصہ ملے گا۔ اور اگر ماں کے ساتھ باپ اور خاوند بھی ہو تو اس صورت میں باپ اور خاوند یا بیوی کا حصہ دے کر جو باقی بچے گا اس میں سے ماں کو تہائی حصہ ملے گا اور اگر مذکورہ بالا صورت میں بیوی یا خاوند کے ساتھ باپ کے بجائے دادا موجود ہو تو پھر ماں کو تمام ترکہ کا تہائی حصہ ملے گا کیونکہ اس صورت میں دادا باپ کا قائم مقام نہیں ہوتا۔ دادی اور نانی کا چھٹا حصہ ہوتا ہے خواہ وہ ایک ہوں یا کئی ہوں جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر صرف ایک دادی یا صرف ایک نانی ہوگی تو وہ میت کے ترکہ کے چھٹے حصہ کی تنہا حق دار ہوگی اور اگر ایک سے زائد ہوں گی مثلا ایک دادی اور ایک نانی ہو یا دو دادی یا دو نانی ہوں تو وہ سب اس چھٹے حصہ کو باہم برابر تقسیم کرلیں گی بشرطیکہ وہ سب درجہ میں برابر ہوں اور اگر درجہ میں برابر نہ ہوں بلکہ درجہ میں متفاوت ہوں جیسے ایک دادی ہو اور ایک پڑدادی ہو یا ایک نانی ہو اور ایک پڑنانی ہو تو دور کے درجہ والی یعنی پڑنانی) قریب کے درجہ والی یعنی نانی کے سامنے محروم ہوگی اسی طرح ماں کی موجودگی میں تمام ہی جدات یعنی دادی ونانی وغیرہ محروم ہوتی ہیں نیز دادا کی موجودگی میں باپ کی دادیاں محروم ہوتی ہیں لیکن دادا کی بیوی یعنی باپ کی ماں محروم نہیں ہوتی۔ میت کی بیٹی میراث سے کبھی محروم نہیں ہوتی اگر اس کا بھائی یعنی میت کا بیٹا موجود ہوتا ہے تو وہ عصبہ بن جاتی ہے ورنہ ذوی الفروض رہتی ہے چناچہ بیٹی کے میراث پانے کی دو تین صورتیں ہوتی ہے۔ اول یہ کہ صرف ایک بیٹی ہو اور اس کے ساتھ اس کا کوئی حقیقی یا سوتیلا بھائی نہ ہو تو میت کے ترکہ میں سے اس کو نصف حصہ ملتا ہے اور اگر کوئی دوسرا وارث بھی نہ ہو تو باقی نصف حصہ بھی اسی کو مل جاتا ہے دوم یہ کہ اگر دو بیٹیاں ہوں یا دو سے زائد ہوں اور ان کے ساتھ ان کا کوئی حقیقی یا سوتیلا بھائی نہ ہو تو ان بیٹیوں کے ترکہ میں سے دو تہائی ملے گا جسے وہ سب آپس میں برابر تقسیم کرلیں گی۔ سوم یہ کہ اگر بیٹیوں کے ساتھ میت کا بیٹا موجود ہو تو اس صورت میں بیٹی کا کوئی حصہ مقرر نہیں بلکہ وہ عصبہ بن جاتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ میت کے ترکہ میں سے جس قدر بیٹے کو ملے گا اس کا آدھا ہر ایک بیٹی کو ملے گا خواہ ایک بیٹی ہو یا دو چار بیٹیاں ہوں چناچہ اگر کسی میت کے متعدد بیٹے اور متعدد بیٹیاں ہوں تو ان میں ترکہ کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ ہر بیٹے کو دو حصے اور ہر بیٹی کو ایک حصہ دیا جائے گا۔ اگر میت کے بیٹی بیٹا یا پوتا موجود نہ ہو صرف ایک پوتی ہو تو اس کو ترکہ میں سے نصف ملے گا اور اگر دو یا دو سے زیادہ پوتیاں ہوں تو ان کو کل ترکہ میں سے دو تہائی دیا جائے گا۔ جسے وہ سب آپس میں برابر تقسیم کرلیں گی اگر میت کے بیٹا پوتا یا پڑپوتا موجود نہ ہو بلکہ صرف ایک بیٹی ہو تو پوتی کو چھٹا حصہ ملے گا خواہ ایک پوتی ہو یا متعدد پوتیاں ہوں اور اگر میت کے دو یا دو سے زیادہ بیٹیاں موجود ہوں گی تو اس صورت میں پوتی کو چھٹاحصہ ملے گا خواہ ایک پوتی ہو یا متعد پوتیاں ہوں اور اگر میت کے دو یا دو سے زیادہ بیٹیاں موجود ہوں گی تو اس صورت میں پوتی بالکل محروم رہے گی ہاں اگر پوتی کے ساتھ میت کا پوتا بھی موجود ہو خواہ وہ نیچے ہی کے درجہ کا کیوں نہ ہو یعنی پوتا اور خواہ یہ پوتا اس پڑپوتی کا حقیقی بھائی ہو یا سوتیلا بھائی ہو اور یا چچا زاد بھائی ہو تو پھر چاہے میت کی ایک ہی بیٹی ہو یا متعدد بیٹیاں ہوں وہ پوتی عصبہ ہوجائے گی جس کا مطلب یہ ہوگا کہ ذوی الفروض کے حصے دینے کے بعد جو کچھ بچے گا یہ پوتی اور پوتا آپس میں بطور عصوبت تقسیم کریں گے یعنی پوتے کو دو حصے اور پوتی کو ایک حصہ ملے گا لیکن یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ اگر میت کا بیٹا موجود ہوگا تو پھر یہ پوتی ہر حال میں بالکل محروم رہے گی نیز اگر نہ تو میت کی اولاد موجود ہو اور نہ میت کے بیٹے کی اولاد موجود ہو تو مذکوربہ بالا تمام صورتوں میں میت کی پوتی اس کی پوتی کے قائم مقام ہوگی اور اگر بیٹی موجود ہے تو بیٹی کی اولاد محروم رہے گی اور اگر پوتی موجود ہے تو پوتی کی اولاد محروم قرار پائیگی۔ اگر میت کی اولاد موجود ہو یا اس کے بیٹے کی اولاد موجود ہو (خواہ وہ نیچے ہی کے درجہ کی کیوں نہ ہو) تو اخیافی بہن بھائی محروم قرار پاتے ہیں اسی طرح اگر میت کا باپ یا دادا موجود ہو تو اخیافی بہن بھائی محروم ہوتے ہیں۔ اگر میت کے کوئی بیٹا یا بیٹی یا پوتا پوتی اور یا پڑپوتا پڑپوتی موجود نہ ہو بلکہ صرف ایک حقیقی بہن ہو تو وہ ہر حال میں بیٹی کے قائم مقام ہوگی یعنی اگر ایک بہن ہوگی تو اسے میت کے کل ترکہ میں سے نصف ملے گا اور اگر دو یا دو سے زائد بہنیں ہوں گی تو انہیں کل ترکہ میں سے دو تہائی ملے گا جسے وہ آپس میں برابر تقسیم کرلیں گی مذکورہ بالا صورت میں سوتیلی بہن کا بھی یہی حکم ہے بشرطیکہ حقیقی بہن موجود نہ ہو۔ اگر میت کی بیٹی یا پوتی یا پڑپوتی اور سکڑپوتی موجود ہو (خواہ ایک ہو یا زیادہ ہوں) تو اس صورت میں حقیقی بہن اور اگر حقیقی بہن نہ ہو تو سوتیلی بہن عصبہ ہوجاتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ میت کے ترکہ میں سے ذوی الفروض کو دینے کے بعد جو کچھ بچے گا وہ اس بہن کو مل جائے گا۔ اگر میت کے حقیقی بھائی ایک یا زیادہ موجود ہو تو حقیقی بہن اس کے ساتھ مل کر عصبہ بن جائے گی اور اگر بھائی حقیقی نہ ہو بلکہ سوتیلا ہو تو حقیقی بہن اس سوتیلے بھائی کی موجودگی میں ذوی الفروض میں شامل ہوگی۔ اگر میت کے ایک حقیقی بھائی ہو اور اس کے ساتھ ہی سوتیلے بھائی بہن بھی ہوں تو اس حقیقی بھائی کی موجودگی میں وہ سوتیلے بھائی بہن محروم ہوں گے۔ اگر میت کی ایک حقیقی بہن موجود ہو تو اس کی موجودگی میں سوتیلی بہن کو چھٹا حصہ ملے گا خواہ وہ ایک ہو یا ایک سے زائد ہوں اور اگر حقیقی بہنیں ایک سے زائد ہوں تو پھر سوتیلی بہن ساقط ہوجائے گی اسے کچھ نہیں ملے گا ہاں اگر سوتیلی بہن کے ساتھ سوتیلا بھائی ہو تو پھر یہ سوتیلی بہن محروم نہیں ہوگی بلکہ خواہ ایک حقیقی بہن ہو ایک سے زائد ہوں اور خواہ ایک بھی نہ ہو ہر صورت میں سوتیلی بہن سوتیلے بھائی کے ساتھ عصبہ ہوجائے گی جس کا مطلب یہ ہوگا کہ ذوی الفروض کو دینے کے بعد میت کے ترکہ میں سے جو کچھ بھی بچے گا وہ سب ان سوتیلے بہن بھائی کے درمیان بطور عصوبت تقسیم ہوجائے گا اور اگر میت کی حقیقی بہن میت کی بیٹی یا پوتی یا پڑپوتی اور یا سکڑپوتی کے ساتھ عصبہ ہوجائے گی تو اس صورت میں سوتیلا بھائی اور سوتیلی بہن بالکل محروم رہیں گے۔ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ اگر میت کے بیٹا یا پوتا یا پڑپوتا اور یا سکڑپوتا موجود ہوگا تو میت کا حقیقی بھائی حقیقی بہن اور سوتیلے بھائی بہن محروم رہیں گے اسی طرح میت کے باپ یا دادا کی موجودگی میں بھی میت کے حقیقی اور سوتیلے بہن بھائی محروم رہیں گے۔

3072Mishkaat-al-Masabih

عصبات کی تفصیل

میت کے ترکہ میں سے ذوی الفروض کے حصے دینے کے بعد جو کچھ بچے گا وہ عصبات میں تقسیم ہوگا گویا ذوی الفروض پہلے درجہ کے وارث ہیں اور عصبات دوسرے درجہ کے وارث ہیں چناچہ عصبات کے بھی درجے ہیں اول بیٹا پوتا پڑپوتا سکڑپوتا یا اس کے نیچے کے درجہ ہے دوم باپ دادا پڑ دادا یا اس کے اوپر کے درجہ کے) سوم حقیقی اور سوتیلے بھائی اور ان کے لڑکے اگرچہ نیچے کے درجے کے ہوں چہارم میت کے چچا میت کے باپ کے چچا میت کے دادا کے چچا اور ان چچاؤں کے بیٹے پوتے پڑوتے اور سکڑوتے۔ اب ان چاروں درجوں کی ترتیب یہ ہوگی ان چاروں درجوں میں مقدم بیٹے ہیں پھر پوتے پھر پڑپوتے پھر سکڑوتے پھر باپ پھر دادا پھر پڑ دادا پھر سکڑ دادا پھر بھائی پھر بہن پھر بھتیجے (اگرچہ نیچے تک) پھر چچا پھر چچا کی اولاد لہذا جب ان چاروں درجوں میں سے پہلے درجہ کا کوئی عصبہ موجود ہوگا تو باقی تینوں درجوں کے عصبات بالکل محروم قرار پائیں گے۔ اسی طرح اگر پہلے درجہ کا کوئی عصبہ یعنی بیٹا یا پوتا یا پڑوتا اور یا سکڑوتا موجود نہ ہوگا اور دوسرے درجہ کا کوئی عصبہ موجود ہوگا تو باقی دو درجوں کے عصبات بالکل محروم ہوجائیں گے اور اگر نہ تو پہلے درجہ کے عصبات میں سے کوئی موجود اور نہ دوسرے درجہ کے عصبات میں سے بلکہ تیسرے درجہ کے عصبات میں سے کوئی موجود ہو تو پھر چوتھے درجہ کے عصبات بالکل محروم رہیں گے۔ ایسے ہی ان چاروں درجوں میں سے ہر درجہ میں قریب کا عصبہ بعید کے عصبہ پر مقدم ہوگا یعنی قریب کے عصبہ کی موجودگی میں بعید کے عصبہ کو کچھ نہیں ملے گا۔ مثلا میت کے بیٹا بھی موجود ہو اور پوتا بھی موجود ہو اور یہ دونوں ہی درجہ اول کے عصبہ ہیں مگر اس صورت میں قریب کا عصبہ یعنی بیٹا مقدم ہوگا کہ اسے میت کا ترکہ ملے گا اور بعید کا عصبہ یعنی پوتا محروم ہوجائے گا اسی طرح حقیقی عصبہ سوتیلے عصبہ پر مقدم ہوگا اور میت کے چچاؤں کے پوتے میت کے باپ کے چچاؤں پر مقدم ہوں گے۔ اور میت کے باپ کے چچاؤں کے پوتے میت کے دادا کے چچاؤں پر مقدم ہوں گے۔

3073Mishkaat-al-Masabih

ذوی الارحام کی تفصیل

جیسا کہ پہلے بتایا گیا تھا کہ میت کے وارثوں میں سب سے پہلا درجہ ذوی الفروض کا ہے اور دوسرا درجہ عصبات کا ہے اب یہ سمجھئے کہ اگر کسی میت کے وارثوں میں نہ تو ذوی الفروض ہوں اور نہ عصبات ہوں تو پھر اس کا ترکہ ذوی الارحام کو ملے گا گویا ذوی الارحام کو ملے گا گویا ذوی الارحام کے وارثوں کا تیسرا درجہ ہے چناچہ جس طرح عصبات کے چار درجے ہیں اسی طرح ذوی الارحام کے بھی چار درجے ہیں جن کی تفصیل یہ ہے۔ اول میت کی بیٹی پوتی اور پڑوتی خواہ اس سے نیچے کے درجہ کی اولاد یعنی میت کے نواسہ نواسی میت کے بیٹے کا نواسہ نواسی میت کے نواسے کا بیٹا بیٹی کی نواسی کا بیٹا بیٹی اور میت کے پوتے کے نواسہ نواسی وغیرہ۔ دوم دادا فاسد دادی فاسدہ اور نانی فاسدہ ( خواہ یہ سب اوپر کے درجہ کے ہوں) اس موقع پر یہ سمجھ لیجئے کہ دادا فاسد اس دادا کو کہتے ہیں جس کے اور میت کے درمیان عورت کا واسطہ جیسے میت کا نانا اور میت کی دادی یا نانی کا باپ اور دادی فاسدہ اور نانی فاسدہ اس دادی یا نانی کو کہتے ہیں جس کے اور میت کے درمیان دادا فاسد کا واسطہ ہو جیسے نانا کی ماں اور دادی یا نانی کے باپ کی ماں یہ سب ذوی الارحام ہیں جب کہ دادا صحیح اور دادی ونانی صحیحہ ذوی الفروض ہیں چناچہ دادا صحیح اس کو کہتے ہیں جس کے اور میت کے درمیان عورت کا واسطہ نہ ہو جیسے دادا اور پڑ دادا یا اس سے اوپر کے درجہ کے اور دادی ونانی صحیحہ اس دادی یا نانی کو کہتے ہیں جس کے اور میت کے درمیان دادا فاسد کا واسطہ نہ ہو جیسے دادی یا پڑ دادی اور نانی یا پڑنانی (یا اس سے اوپر کے درجہ کی) سوم حقیقی بہنوں کی اولاد سوتیلی بہنوں کی اولاد اخیافی بہنوں کی اولاد اخیافی بھائی کی اولاد حقیقی بھائی کی بیٹیاں اور سوتیلے بھائی کی بیٹیاں۔ چہارم پھوپیاں خواہ حقیقی ہوں یا سوتیلی اور اخیافی ہوں اخیافی چچا ماموں اور خالائیں۔ ذوی الارحام کے یہ چار درجے ہیں اور عصبات کی طرح ان کی ترتیب بھی یہ ہے کہ اگر ان چاروں درجوں میں سے اول درجہ کے ذوی الارحام وارث موجود ہوں گے یا ان کی اولاد خواہ وہ کتنے ہی نیچے کے درجہ کی ہو موجود ہوگی تو باقی تینوں درجوں کے ذوی الارحام محروم ہوں گے اسی طرح درجہ دوم کے ذوی الارحام ورثاء کی موجودگی میں سوم اور چہارم درجہ کے اور تیسرے درجہ کے ذوی الارحام کی موجودگی میں چوتھے درجہ کے ذوی الارحام محروم ہوں گے نیز عصبات کیطرح ذوی الارحام میں بھی اس کے ہر درجہ میں قریب کا ذی رحم بعید کے ذی رحم پر مقدم ہوگا

3074Mishkaat-al-Masabih

میراث پانے سے محروم کردینے والی چیزیں

اللہ تعالیٰ نے میت کا مال و اسباب اس کے موجودہ ورثاء کو متعینہ حصوں اور مقررہ ضابطوں کے تحت دینے کا جو حکم دیا ہے اس میں دراصل میت اور اس کے ورثاء کے درمیان ایک خاص علاقہ تعلق اور رشتہ داری کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ چناچہ اگر کوئی ایسی بات پیش آجائے جس سے نہ صرف یہ کہ میت اور اس کے وارث کے درمیان کسی خاص علاقہ وتعلق کا اظہار نہ ہوتا ہو بلکہ وہ ایک قسم کی جدائی علیحدگی اور نفرت ثابت کرنے کا ذریعہ بن جائے تو وہ وارث میراث میت کا حق دار نہیں ہوگا اور اسے کوئی میراث نہیں ملے گی۔ لہذا ایسی چار چیزیں ہیں جو کسی شخص کو میراث پانے سے محروم کردیتی ہیں ان چار چیزوں کی تفصیل یہ ہے کہ ١) غلامی نہ تو کسی غلام کا وارث کوئی آزاد شخص ہوتا ہے اور نہ خود غلام کسی آزاد شخص کا وارث بن سکتا ہے کیونکہ غلام شرعی طور پر کسی چیز کا مالک ہونے کی قابلیت ہی نہیں رکھتا اور نہ کوئی چیز اس کی ملکیت ہوتی ہے۔ ٢) قتل اگر کوئی بالغ وارث اپنے مورث کو قتل کر دے تو وہ وارث میراث پانے سے بالکل محروم ہوجائے گا لیکن یہاں قتل سے مراد وہ قتل ہے جس کی وجہ سے قاتل پر قصاص یا کفارہ واجب ہوتا ہے چناچہ قتل کی پانچ قسمیں ہیں (جن کی تفصیل انشاء اللہ اپنے موقع پر آئے گی) ان میں سے چار قسمیں ایسی ہیں کہ کسی میں قصاص واجب ہوتا ہے اور کسی میں کفارہ اور دیت لہذا ان چاروں صورتوں میں حنفی مسلک کے مطابق قاتل میراث سے محروم ہوجاتا ہے۔ جبکہ وہ اپنے مورث کو ناحق قتل کرے ہاں اگر وارث اپنے مورث کو ظلمًا قتل نہ کرے بلکہ دفاع کرتے ہوئے مورث پر وار کرے اور مورث مارا جائے مثلا مورث ناحق اس وارث پر حملہ کرے اور پھر وارث اپنے کو بچانے کے لئے مورث پر وار کرے اور اس کے وار کے نتیجے میں مورث مارا جائے یا مورث پر شرعا کسی وجہ سے بطور سزا قتل واجب ہو مثلًا قصاص کے طور پر) یا اس پر کوئی حد جاری کی جانی ضرور ہو اور بادشاہ یا قاضی کے حکم سے وارث نے اس مورث کو قتل کیا یا اس پر حد جاری کی اور وہ مرگیا تو اس صورت میں بھی وارث میراث سے محروم نہیں ہوگا۔ قتل کی پانچ قسموں میں ایک قسم (قتل بالتسبب) ہے قتل کی اس قسم پر نہ قصاص لازم آتا ہے اور نہ کفارہ بلکہ صرف دیت واجب ہوتی ہے چناچہ اس قسم کے قتل میں بھی قاتل میراث سے محروم نہیں ہوتا۔ قتل بالتسبب کی صورت یہ ہوتی ہے کہ مثلا کوئی شخص کسی دوسرے شخص کی زمین میں مالک کی اجازت کے بغیر پتھر رکھ دے یا کنواں کھود دے اور پتھر سے ٹھوکر کھا کر یا کنویں میں گر کر کوئی شخص مرجائے تو اس شخص پر دیت واجب ہوتی ہے۔ اسی طرح حنفیہ کا مسلک یہ ہے کہ اگر کوئی نابالغ یا مجنوں اپنے مورث کو قتل کر دے تو وہ میراث سے محروم نہیں ہوتا کیونکہ نابالغ اور مجنوں کے اکثر افعال پر شرعی طور پر کوئی سزا واجب نہیں ہوتی۔ ٣) اختلاف مذہب دو مذہبوں کا اختلاف میراث سے محروم کردیتا ہے یعنی اگر وارث مسلمان ہے اور مورث غیر مسلم ہے ( خواہ وہ ہندو ہو یا عیسائی اور یہودی وغیرہ ہو) تو اس کی میراث مسلمان کو نہیں ملے گی اسی طرح اگر وارث غیر مسلم ہے اور مورث مسلمان ہے تو اس کی میراث غیر مسلم کو نہیں ملے گی۔ ٤) اختلاف دارین یعنی ممالک وطن کا اختلاف میت اور وارث کے ملک وطن کے ملک و وطن کا مختلف ہونا میراث سے محروم کردیتا ہے مثلا ایک شخص دار الاسلام میں رہتا ہے اور ایک شخص دار الحرب میں تو دونوں ایک دوسرے کی میراث سے محروم رہیں گے۔ لیکن یہ حکم غیر مسلم کے لئے ہے۔ مسلمان مورث ووارث اگر اختلاف دارین بھی رکھ تے ہوں گے تب بھی ایک دوسرے کی میراث کے حقدار ہوں گے۔

3075Mishkaat-al-Masabih

میت کا ترکہ اس کے ورثاء کا حق ہے

عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أنا أولى بالمؤمنين من أنفسهم فمن مات وعليه دين ولم يترك وفاء فعلي قضاؤه . ومن ترك مالا فلورثته . وفي رواية : من ترك دينا أو ضياعا فليأتني فأنا مولاه . وفي رواية : من ترك مالا فلورثته ومن ترك كلا فإلينا

حضرت ابوہریرہ نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں مسلمانوں کے حق میں خود ان سے بھی زیادہ عزیز ہوں یعنی دین و دنیا کے ہر معاملہ میں ایک مسلمان اپنے اوپر خود جتنا شفیق و مہربان ہوسکتا ہے میں اس پر اس سے بھی زیادہ شفیق و مہربان ہوں اسی لئے ان کے قرضوں کو ادا کرنے میں زیادہ حق دار ہوں لہذا جو شخص یعنی مسلمان مرجائے اور اس پر قرض ہو اور اس نے اتنا مال نہ چھوڑا ہو جس سے اس کا قرض ادا ہوسکتا ہو تو اس کے قرض کی ادائیگی میرے ذمہ ہے اور جو شخص اتنا مال چھوڑ جائے جو اس کے قرض کی ادائیگی اور اس کی کی ہوئی وصیت کی شرعی تکمیل کے بعد بھی بچ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ جو شخص قرض دار یا عیال دار مرجائے اور اس نے اتنا مال نہ چھوڑا ہو جس سے اس کے قرض کی ادائیگی ہو سکے یا اس کے عیال کی پرورش ہو سکے تو اس کا وکیل یا وصی میرے پاس آئے میں اس کا انتظام کروں گا یعنی میں اس کا قرض ادا کروں گا اور اس کے عیال کی نگہداشت وغم خواری کروں گا۔ ایک روایت میں یوں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص مال چھوڑ کر مرے تو وہ مال اس کے وارثوں کا ہے اور جو بھاری چیز یعنی قرض اور عیال چھوڑ کر مرے تو اس کا انتظام کرنا میرے ذمہ ہے ( بخاری ومسلم) تشریح شروع میں آنحضرت ﷺ کا یہ معمول تھا کہ اگر کوئی شخص مرتا جس کے ذمہ قرض ہوتا اور اس کے ترکہ میں اتنا مال نہ ہوتا جو اس قرض کی ادائیگی کے لئے کافی ہوتا ہے تو آپ ﷺ اس کے جنازہ کی نماز پڑھنے سے احتراز فرماتے لیکن جب حق تعالیٰ نے وسعت عطا فرمائی اور آپ ﷺ کو کشائش مال کی نعمت میسر ہوئی تو آپ ﷺ نے یہ معمول بنا لیا کہ جو شخص قرضدار مرجاتا آپ ﷺ اس کا قرض ادا کرتے اور اس کے جنازہ کی نماز پڑھتے۔ یہ بات حضرت ابوہریرہ ؓ کی اس روایت سے مفہوم ہوتی ہے جو باب الافلاس والانظار کی پہلی فصل میں گزر چکی ہے اور یہ گویا آنحضرت ﷺ کے اس بےپناہ جذبہ شفقت و مہربانی اور کمال رحمت ہمدردی کا مظہر ہے جو آپ ﷺ تمام مسلمانوں کے تئیں رکھتے تھے۔

3076Mishkaat-al-Masabih

میت کا ترکہ پہلے ذوی الفروض کو دو

وعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألحقوا الفرائض بأهلها فما بقي فهو لأولى رجل ذكر

اور حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا میراث کے حصے جو قرآن کریم میں متعین کئے گئے ہیں حصہ داروں کو دو پھر جو کچھ بچے وہ میت کے اس مرد وارث عصبہ کا حق ہے جو میت کا سب سے قریبی عزیز ہو (بخاری ومسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ میت کا ترکہ سب سے پہلے ان لوگوں کو دو جن کے حصے قرآن کریم میں مقرر ہیں کہ جنہیں ذوی الفروض کہا جاتا ہے ان کو معینہ حصے دینے کے بعد جو کچھ بچے وہ عصبات کو دو اور پھر عصبات میں مقدم وہ عصبہ ہیں جو میت کا سب سے قریبی عزیز ہو چناچہ قریب کے عصبہ کی موجودگی میں بعید کا عصبہ میت کے ترکہ کا وارث نہیں ہوتا ابتداء باب میں ذوی الفروض اور عصبات کا تفصیلی ذکر کیا جا چکا ہے۔ حدیث کے آخری الفظ رجل ذکر میں لفظ ذکر تاکید کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے اور اس کا مقصد یہ بھی ہے کہ خنثی سے احتراز ہوجائے۔ شرح السنۃ میں لکھا ہے کہ یہ ارشاد گرامی اس بات کی دلیل ہے کہ بعض وارث بعض دوسرے وارثوں کے حق میں حاجب یعنی میراث سے روکنے والے) ہوتے ہیں چناچہ حجب یعنی میراث سے روکنا دو طرح سے ہوتا ہے اول حجب نقصان دوم حجب حرمان اس موقع پر اجمالی طور پر ان دونوں کی یہ تعریف جان لیجئے کہ بعض وارث ایسے ہوتے ہیں جن کی وجہ سے دوسرے وارثوں کا حصہ کم ہوجاتا ہے۔ مثلا جب میت کے اولاد نہ ہو تو میت کی ماں کو ترکہ میں سے ایک تہائی ملتا ہے۔ اور اگر میت کی اولاد موجود ہو تو میت کی ماں کو صرف چھٹا حصہ ملتا ہے اس کو حجب نقصان کہتے ہیں اسی طرح بعض وارث ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی وجہ سے بعض عزیزوں کو میراث میں سے کچھ بھی نہیں ملتا مثلا میت کے بیٹے کے موجودگی میں بھائی میراث سے بالکل محروم رہ جاتا ہے۔ اس کو حجب حرمان کہتے ہیں

3077Mishkaat-al-Masabih

اختلاف مذہب میراث سے محروم کردیتا ہے۔

وعن أسامة بن زيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يرث المسلم الكافر ولا الكافر المسلم

اور حضرت اسامہ بن زید کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ نہ تو مسلمان کافر کا وارث ہوتا ہے اور نہ کافر مسلمان کا وارث ہوتا ہے (بخاری ومسلم) تشریح علامہ نووی (رح) فرماتے ہیں کہ اس بات پر تو تمام مسلمانوں کا اتفاق واجماع ہے کہ کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوتا یعنی اگر مورث مسلمان ہو اور وارث کافر ہو تو مسلمان مورث کے مرنے کے بعد اس کا کافر وارث میراث سے محروم رہے گا۔ لیکن اس بارے میں اختلاف ہے کہ مسلمان کافر کا وارث ہوتا ہے یا نہیں چناچہ اکثر علماء تو یہ کہتے ہیں کہ جس طرح کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوتا۔ اسی طرح مسلمان بھی کافر کا وارث نہیں ہوتا مگر صحابہ اور تابعین میں سے بعض حضرات کا قول یہ ہے کہ مسلمان کافر کا وارث ہوتا ہے چناچہ حضرت امام مالک کا بھی یہی مسلک ہے۔ اسی طرح اس بات پر بھی تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ کافر کی طرح مرتد بھی مسلمان کا وارث نہیں ہوتا لیکن اس بارے میں اختلاف ہے کہ مسلمان مرتد کا وارث ہوتا ہے یا نہیں؟ چناچہ حضرت امام مالک حضرت امام شافعی حضرت ربیعہ اور حضرت ابن ابی لیلی وغیرہ تو یہ کہتے ہیں کہ مسلمان بھی مرتد کا وارث نہیں ہوتا، حضرت امام ابوحنیفہ یہ فرماتے ہیں کہ مرتد نے اپنے ارتداد کی زندگی میں جو کچھ کمایا ہے وہ بیت المال میں جائے گا اور حالت اسلام میں جو کچھ کمایا ہے وہ اس کے مسلمان ورثاء کو ملے گا۔

3078Mishkaat-al-Masabih

آزاد کرنیوالا غلام کا وارث ہوتا ہے

وعن أنس رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : مولى القوم من أنفسهم . رواه البخاري

اور حضرت انس نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا قوم کا مولیٰ اسی قوم میں سے ہے (بخاری) تشریح ارشاد گرامی میں مولیٰ سے مراد آزاد کرنیوالا ہے گویا اس حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ آزاد شدہ غلام کا وارث وہ شخص ہوتا ہے جس نے اسے آزاد کیا ہے اس کے برخلاف آزاد شدہ غلام اپنے آزاد کرنیوالے کا وارث نہیں ہوگا۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ مولیٰ سے مراد آزاد شدہ غلام ہے یعنی جس قبلہ وفرد سے کسی غلام کو آزاد کیا گیا ہو تو اس آزاد شدہ غلام کا وہی حکم ہوگا جو اس کو آزاد کرنیوالے قبیلے یا فرد کا ہوگا مثلًا بنی ہاشم سید نے کسی غلام کو آزاد کیا تو اب وہ آزاد شدہ غلام زکوٰۃ کے باب میں بنی ہاشم ہی کا سا حکم رکھے گا کہ جس طرح بنی ہاشم پر زکوٰۃ کا مال حرام ہے اسی طرح اس آزاد شدہ غلام پر بھی زکوٰۃ کا مال حرام ہوگا۔

3079Mishkaat-al-Masabih

بھانجا ماموں کے ترکہ کا وارث ہوتا ہے

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ابن أخت القوم منهم وذكر حديث عائشة : إنما الولاء في باب قبل باب السلم

اور حضرت انس راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی قوم کا بھانجا اسی قوم میں سے ہے ( بخاری ومسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ بھانجا اپنے ماموں کا وارث ہوتا ہے اور یہ ذوی الارحام میں سے ہے، چناچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام احمد کے نزدیک ذوی الارحام میت کے وارث ہوتے ہیں۔ ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ ذوی الارحام کو میت کے ترکہ میں سے میراث اسی صورت میں ملتی ہے جب کہ میت کے ذوی الفروض اور عصبات موجود نہ ہوں ان دونوں کی موجودگی میں ذوی الارحام کو کچھ نہیں ملتا۔ اس کی تفصیل ابتداء میں گزر چکی ہے۔ بہرحال حضرت امام اعظم ابوحنیفہ نے ذوی الارحام کے وارث ہونے پر اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ حضرت عائشہ کی روایت (انما الولاء) الخ باب السلم سے پہلے باب میں نقل کی جا چکی ہے اور حضرت براء کی روایت (الخالۃ بمنزلۃ الام) الخ انشاء اللہ باب بلوغ الصغیر وحضانۃ میں ذکر کی جائے گی۔

3080Mishkaat-al-Masabih

مسلم، غیرمسلم کا اور غیرمسلم، مسلم کا وارث نہیں ہوتا

عن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يتوارث أهل ملتين شتى . رواه أبو داود وابن ماجه (2/190) 3047 - [ 7 ] ( لم تتم دراسته ) ورواه الترمذي عن جابر

حضرت عبداللہ بن عمرو کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا دو مختلف مذہب کے لوگوں کے درمیان وارثت قائم نہیں ہوتی (ابوداؤد ابن ماجہ) امام ترمذی نے اس روایت کو حضرت جابر سے نقل کیا ہے۔ تشریح مطلب یہ ہے کہ نہ تو مسلمان غیر مسلمان کا وارث ہوسکتا ہے اور نہ غیر مسلمان، مسلمان کا وارث بن سکتا ہے۔

3081Mishkaat-al-Masabih

اپنے مورث کا قاتل میراث سے محروم ہوجاتا ہے

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : القاتل لا يرث . رواه الترمذي وابن ماجه

اور حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قتل کرنیوالا وارث نہیں ہوسکتا ( ترمذی ابن ماجہ) تشریح مطلب یہ ہے کہ جو شخص اپنے مورث کو ناحق قتل کر دے وہ اس کی میراث پانے سے محروم ہوجاتا ہے چناچہ اس بارے میں تفصیل ابتداء باب میں گزر چکی ہے۔

3082Mishkaat-al-Masabih

جدہ کا چھٹا حصہ ہے

وعن بريدة : أن النبي صلى الله عليه و سلم جعل للجدة السدس إذا لم تكن دونها أم . رواه أبو داود

اور حضرت بریدہ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے جدہ کا چھٹا حصہ مقرر کیا ہے جب کہ ماں اسے محجوب نہ کر دے ( ابوداؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر میت کی ماں زندہ ہوگی تو اس کی وجہ سے میت کی جدہ محروم ہوجائے گی ہاں اگر میت کی ماں زندہ نہ ہوگی تو اس کے ترکہ میں سے جدہ کو چھٹا حصہ ملے گا۔ یہاں جدہ کے عام معنی یعنی دادی اور نانی دونوں مراد ہیں۔

3083Mishkaat-al-Masabih

زندہ پیدا ہونیوالا بچہ کا وارث ہے

وعن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا استهل الصبي صلي عليه وورث . رواه ابن ماجه والدارمي

اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر بچہ نے کوئی آواز نکالی ہو تو اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے اور اسے وارث قرار دیا جائے ( ابن ماجہ دارمی) تشریح آواز نکالنے سے مراد علامت زندگی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی بچہ پیدائش کے وقت ماں کے پیٹ سے آدھے سے زیادہ نکلا اور اس میں زندگی کی کوئی علامت پائی گئی بایں طور کہ اس کے منہ سے آواز نکلی یا سانس لیا یا چھینکا اور یا اس کا کوئی عضو ہلا اور پھر وہ مرگیا تو اس بچہ کی بھی نماز جنازہ پڑھی جائے اور اس کو وارث قرار دے کر اس کا ورثہ بھی تقسیم کیا جائے۔ اب اس حدیث کی وضاحت کی روشنی میں یہ مسئلہ جان لیجئے کہ اگر کوئی شخص مرجائے اور اس کا وارث ماں کے پیٹ میں ہو تو اس کی میراث رکھ چھوڑی جائے پھر اگر وہ زندہ پیدا ہوا تو وہ وارث قرار پائیگا اور اس کی میراث اس کے ورثاء کی طرف منتقل ہوجائے گی اور اگر وہ زندہ پیدا نہ ہوا تو پھر وارث نہیں ہوگا اور وہ میراث دوسرے وارثوں کو مل جائے گی۔

3084Mishkaat-al-Masabih

ابتداء اسلام کا ایک حکم

وعن كثير بن عبد الله عن أبيه عن جده قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مولى القوم منهم وحليف القوم منهم وابن أخت القوم منهم . رواه الدارمي

اور حضرت کثیر بن عبداللہ اپنے والد (حضرت عبداللہ تابعی) اور وہ کثیر کے دادا (یعنی اپنے والد حضرت عمرو بن عوف مزنی صحابی) سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ کسی قوم کا مولیٰ اسی قوم میں سے ہے کسی قوم کا حلیف اسی قوم میں سے ہے اور کسی قوم کا بھانجا اسی قوم میں سے ہے (دارمی) تشریح پہلی فصل میں حضرت انس کی جو روایت نمبر (٤) گرزی ہے اس کی تشریح میں مولیٰ کی وضاحت کی جا چکی ہے کسی قوم کا حلیف اسی قوم میں سے ہے کی وضاحت یہ ہے کہ پہلے اہل عرب میں یہ دستور تھا کہ دو شخص آپس میں قسم وحلف کے ذریعے یہ باہمی عہد و اقرار کرلیتے تھے کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے رنج و راحت اور موت وحیات میں شریک رہیں گے ایک کا خون دوسرے کا خون ہوگا ایک کی صلح دوسرے کی صلح ہوگی اور ایک کی جنگ دوسرے کی جنگ ہوگی ہم میں سے کسی پر کوئی تاوان لازم ہوگا تو دوسرا ادا کرے گا اسی طرح ایک دوسرے کی میراث کے بارے میں بھی ایک دوسرا یہ اقرار کرتا تھا کہ میں تمہارا وارث ہوں گا اور تم میرے وارث ہو گے چناچہ میراث کے سلسلہ میں اسلام کے ابتدائی زمانہ میں بھی اس پر عمل ہوتا رہا مگر جب قرآن کریم میں وراثت کا ایک واضح ضابطہ نازل کیا گیا اور ورثاء اور ان کے حصے میں متعین و مقرر کر دئیے گئے تو یہ پرانا دستور بھی ختم ہوگیا اور آپ ﷺ کا یہ ارشاد گرامی بھی منسوخ ہوگیا اور کسی قوم کا بھانجا اسی قوم میں سے اس کی وضاحت بھی حضرت انس ہی کی روایت نمبر (٥) کی تشریح کے تحت کی جا چکی ہے۔

3085Mishkaat-al-Masabih

ماموں اپنے بھانجے کا ذی رحم وارث ہوتا ہے

وعن المقدام قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أنا أولى بكل مؤمن من نفسه فمن ترك دينا أو ضيعة فإلينا ومن ترك مالا فلورثته وأنا مولى من لا مولى له أرث ماله وأفك عانه والخال وارث من لا وارث له يرث ماله ويفك عانه . وفي رواية : وأنا وارث من لا وارث له أعقل عنه وأرثه والخال وارث من لا وارث له يعقل عنه ويرثه . رواه أبو داود

اور حضرت مقدام کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا میں ہر مؤمن کے حق میں خود اس سے زیادہ عزیز وخیر خواہ ہیں لہذا جو شخص اپنے ذمہ عیال یا قرض چھوڑ کر مرے تو اس کے قرض کی ادائیگی اور اس کے عیال کی پرورش میرے ذمہ ہے اور جو شخص مال چھوڑ کر مرے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے۔ اور میں اس شخص کا کار ساز یعنی منتظم ہوں جس کا کوئی کار ساز نہیں چناچہ میں اس کے مال کا وارث ہوتا ہوں اور اس کے قیدی کو نجات دلاتا ہوں یعنی اس کی زندگی میں اس پر جو خون بہا لازم ہوا تھا اور وہ خون بہا ادا کرنے سے پہلے مرگیا تو اس کی وجہ سے چونکہ اس کا نفس عالم برزخ میں قیدی کیطرح سختیوں میں مبتلا ہے اس لئے میں اس کا خون بہا اپنے پاس سے ادا کر کے اسے نجات دلاتا ہوں اور ماموں اس شخص کا وارث ہوتا ہے جس کا کوئی وارث نہیں وہ میت کی میراث پاتا ہے اور اس کے قیدی کو نجات دلاتا ہے (یعنی جش شخص کے ذوی الفروض اور عصبی وارث نہیں ہوتے اس کا ماموں کہ جو اس کے ذوی الارحام میں سے ہے اس کا وارث ہوتا ہے چناچہ وہ میت کا ترکہ پاتا ہے اور اس پر جو خون بہا وغیرہ لازم تھا اس کو ادا کر کے اس کی روح کو عالم برزخ کے عذاب سے نجات دلاتا ہے) ایک دوسری روایت میں یوں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا میں اس شخص کا وارث ہوتا ہوں جس کا کوئی وارث نہیں چناچہ میں اس کی طرف سے اس کا خون بہا ادا کرتا ہوں اور اس کا وارث ہوجاتا ہوں یعنی اس کا ترکہ اپنی نگرانی میں لے کر بیت المال میں داخل کردیتا ہوں اور جس شخص کا ذوی الفروض وعصبات میں سے) کوئی وارث نہیں ہوتا تو ذوی الارحام میں سے) اس کا ماموں اس کا وارث ہوتا ہے جو اس کی طرف سے خون بہا ادا کرتا ہے اور اس کی میراث پاتا ہے ( ابوداؤد)

3086Mishkaat-al-Masabih

عورت کن تین آدمیوں کی میراث پاتی ہے

وعن وائلة بن الأسقع قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تحوز المرأة ثلاث مواريث عتيقها ولقيطها وولدها الذي لاعنت عنه . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه

اور حضرت واثلہ بن اسقع کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ عورت تین آدمیوں کی میراث لیتی ہے ایک تو وہ اپنے آزاد کئے ہوئے غلام کی دوسرے اپنے لقیط کی اور تیسرے اپنے بچے کی جس کی وجہ سے لعان ہوا ( ترمذی ابوداؤد، ابن ماجہ) تشریح اپنے آزاد کئے ہوئے غلام کی سے مراد یہ ہے کہ مثلًا ایک عورت نے کسی غلام کو آزاد کیا اور وہ آزاد شدہ غلام اس حالت میں مرا کہ اس کا کوئی نسبی عصبہ نہیں تھا تو جس طرح ایک مرد اس صورت میں اپنے آزاد شدہ غلام کا وارث ہوتا ہے اسی طرح یہ عورت بھی اپنے اس آزاد شدہ غلام کی میراث پائیگی۔ دوسرے اپنے لقیط کی سے مراد یہ ہے کہ مثلا کسی عورت نے کہیں راستہ میں پڑا ہوا کوئی بچہ پایا اور اسے پالا پوسا تو اب یہ عورت اس کی وارث ہوگی کہ اس لقیط کے مرنے کے بعد اس کی میراث پائیگی چناچہ حضرت اسحق بن راہویہ کا یہی مسلک ہے۔ لیکن علماء کا یہ مسلک ہے کہ ملتقط (یعنی لقیط کو اٹھانیوالا) حق ولاء نہیں رکھتا جس کا مطلب یہ ہے کہ جو عورت کسی بچہ کو اٹھا لے اور اسے پالے پوسے تو وہ اس کی وارث نہیں ہوتی کیونکہ آنحضرت ﷺ نے اپنے اس ارشاد گرامی حدیث (لا ولاء لہا الولا ولاء العتاقۃ) کے ذریعہ لقیط کے حق ولاء کو آزاد کرنیوالے کے ساتھ مختص کیا ہے چناچہ ان علماء کے نزدیک یہ حکم کہ عورت اپنے لقیط کی وارث ہوتی ہے منسوخ ہے۔ البتہ قاضی نے اس حکم کا جو مطلب بیان کیا ہے اس کے پیش نظر اس کو منسوخ کہنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ قاضی کہتے ہیں کہ اس جملہ کے معنی یہ ہیں کہ لقیط کا چھوڑا ہوا مال و اسباب بیت المال کا حق ہے ہاں جس عورت نے لقیط کو اٹھایا اور اسے پالا پوسا وہ دوسرے مسلمانوں کے مقابلہ میں اس بات کی زیادہ مستحق اور اولی ہے کہ بیت المال کی طرف سے وہ مال جو اس لقیط نے چھوڑا ہے اس عورت پر صرف کیا جائے۔ لعان اس کو کہتے ہیں کہ کوئی شخص اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے یا جو بچہ پیدا ہوا ہے اس کے بارے میں یہ کہے کہ یہ میرا نہیں ہے اور وہ اس کی وجہ سے آپس میں ایک دوسرے پر لعنت ملامت کریں اس کا تفصیلی ذکر انشاء اللہ باب اللعان میں آئگا لہذا جس بچہ کے پیدا ہونے میں لعان ہوا ہے اس بچہ کا نسب باپ سے ثابت نہیں ہوتا اور نہ وہ بچہ اور باپ آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہوتے ہیں کیونکہ وارثت کا تعلق نسب سے ہوتا ہے جو اس صورت میں منتفی ہوتا ہے البتہ اس بچہ کا نسب چونکہ ماں سے ثابت ہوتا ہے اس لئے وہ بچہ اور ماں آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہوتے ہیں۔ ولد الزنا کا بھی یہی حکم ہے

3087Mishkaat-al-Masabih

ولد الزنا کا حکم

وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أيما رجل عاهر بحرة أو أمة فالولد ولد زنى لا يرث ولا يورث . رواه الترمذي

اور حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد حضرت شعیب اور حضرت شعیب اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی آزاد عورت یا لونڈی سے زنا کرے تو اس کے نتیجے میں جو بچہ پیدا ہوگا وہ ولد الزنا (حرامی) کہلائے گا وہ بچہ نہ کسی کا وارث ہوگا اور نہ اس کی میراث کسی کو ملے گی ( ترمذی) تشریح مطلب یہ ہے کہ زنا کے نتیجہ میں پیدا ہونیوالا بچہ نہ تو زنا کرنے والے کا وارث ہوتا ہے اور نہ اس کے اقرباء کی کوئی میراث اسے ملتی ہے کیونکہ وراثت نسب کی وجہ سے ہوتی ہے جب کہ ولد الزنا اور زنا کرنیوالے کے درمیان نسب کا کوئی وجود نہیں ہوتا اسی طرح زنا کرنیوالا بھی اپنے ولد الزنا کا وارث نہیں ہوتا اور نہ اس کے اقرباء اس کی میراث پاتے ہیں اس کے برعکس ولد الزنا کی ماں اس کی وارث ہوتی ہے اور ولد الزنا اپنی ماں کی میراث پاتا ہے۔