فتنوں کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 161 · 39 hadiths · Page 2 of 2

5295Mishkaat-al-Masabih

پر فتن ماحول میں نجات کی راہ

وعن عبد الله بن عمرو بن العاص أن النبي صلى الله عليه وسلم قال كيف بك إذا أبقيت في حثالة من الناس مرجت عهودهم وأماناتهم ؟ واختلفوا فكانوا هكذا ؟ وشبك بين أصابعه . قال فبم تأمرني ؟ قال عليك بما تعرف ودع ما تنكر وعليك بخاصة نفسك وإياك وعوامهم . وفي رواية إلزم بيتك واملك عليك لسانك وخذ ما تعرف ودع ما تنكر وعليك بأمر خاصة نفسك ودع أمر العامة . رواه الترمذي وصححه .

حضرت عبداللہ بن عمر بن عاص سے روایت ہے کہ ایک دن رسول کریم ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اس وقت تم کیا کرو گے جب تم اپنے آپ کو ناکارہ لوگوں کے زمانے میں پاؤ گے جن کے عہد و پیمان اور جن کی امانتیں خلط ملط ہوں گی اور جو آپ میں اختلاف رکھیں گے، گویا وہ ولوگ اس طرح کے ہوجائیں گے یہ کہہ کر آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے کے اندر داخل کیا۔ حضرت عبداللہ ؓ نے یہ سن کر عرض کیا کہ آپ ﷺ مجھے ہدایت فرمائیے کہ اس وقت میں کیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس وقت تم پر لازم ہوگا کہ اس چیز کو اختیار کرو اور اس پر عمل کرو جس کو تم دین و دیانت کی روشنی میں حق جانو اور اس چیز سے اجتناب ونفرت کرو جس کو تم ناحق اور برا جانو، نیز صرف اپنے کام اور اپنی بھلائی سے مطلب رکھو اور خود کو عوام الناس سے دور کرلو۔ اور ایک روایت میں یوں منقول ہے کہ اپنے گھر میں پڑے رہو بلا ضرورت باہر نکل کر ادھر ادھر نہ جاؤ اپنی زبان کو قابو میں رکھو، جس چیز کو حق جانو اس کو اختیار کرو اور جس چیز کو برا جانو اس کو چھوڑ دو، صرف اپنے کام اور اپنی بھلائی سے مطلب رکھو اور عوم الناس سے کوئی تعلق نہ رکھو۔ اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور صحیح قرار دیا ہے۔ تشریح حثالۃ کے معنی ہیں چاول اور جو وغیرہ کا چھلکا، جس کو بھوسی کہتے ہیں اسی طرح کسی بھی چیز کے ناکارہ اور بےفائدہ حصے کو بھی حثالہ کہا جاتا ہے، پس حثالۃ من الناس سے مراد وہ لوگ ہیں جو انسانی و اخلاقی قدروں کے اعتبار سے ادنیٰ درجے کے ہوں، جو انسانیت کا جوہر نہ رکھنے کے سبب نہایت پست ہوں اور جو دین وآخرت کے اعتبار سے بالکل ناکارہ اور بےفائدہ ہوں۔ جن کے عہد و پیمان اور جن کی امانتیں خلط ملط ہوں گی کا مطلب یہ ہے کہ وہ بالکل بےاعتبار اور ناقابل اعتمال دولت ہوں گے ان کے کسی عمل اور کسی قول کا کوئی بھروسہ نہیں ہوگا، ان کے کسی اقدام اور کسی معاملہ میں پختگی و استقلال نام کی کوئی چیز نہیں ہوگی، ان کے عہد و پیمان اور فیصلے لمحہ بہ لمحہ مختلف شکل و صورت میں بدلتے رہیں گے، دین ودیانت کے تقاضوں سے بےپرواہ ہوں گے اور امانتوں میں خیانت کریں گے۔ اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے کے اندر داخل کیا یعنی آپ ﷺ نے یہ سمجھانے کے لئے کہ وہ آپس میں کس طرح ایک دوسرے کی ہلاکت کے درپے ہوں گے اور ان کے باہمی اختلاف ونزاعات کی کیا صورت ہوگی اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے کے اندر داخل کر کے دکھایا اور بطور مثال واضح فرمایا کہ جس طرح ان دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے کے ساتھ گتھم گتھا ہیں اسی طرح ان کی اخلاقی وسماجی حیثیت اس درجے الجھی ہوئی اور ان کے دینی معاملات و اعمال اس قدر خلط ملط ہوں گے کہ امین وخائن اور نیک وبد کے درمیان تمیز کرنا ممکن نہیں رہے گا۔ واضح رہے کہ دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے کے اندر داخل کرنا جس طرح باہمی اختلاف ونزاع کو بطور تمثیل بیان کرنے کے لئے ہوتا ہے اسی طرح کبھی دو چیزوں کے باہمی رطب واتصال اور اتفاق ویگانگت کو ظاہر کرنے کے لئے بھی دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کر کے دکھایا جاتا ہے جیسا کہ مال غنیمت کی تقسیم کے بیان میں وہ حدیث گزری ہے جس میں حضور ﷺ نے مال غنیمت کے خمس کی تقسیم کے تعلق سے بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب کے باہمی ربط واتصال اور ان کی ایک دوسرے کے ساتھ قربت ویکجائی کو ظاہر کرنے کے لئے بطور تمثیل اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کر کے دکھایا تھا۔ دونوں صورتوں پر اس تمثیلی عمل کا اطلاق معنوی طور پر بھی کوئی تضاد نہیں رکھتا بلکہ تشبیک کے جو اصل معنی ہیں، یعنی باہم مختلط ہونا، دو چیزوں کا ایک دوسرے میں داخل ہونا، وہ مذکورہ بالا دونوں صورتوں میں پائے جاتے ہیں۔ اپنی بھلائی سے مطلب رکھو اور خود کو عوام الناس سے دور کرلو کا ملطب یہ ہے کہ پر فتن دور میں سب سے زیادہ ضرورت خود اپنے نفس کی اصلاح اور اپنے دین و کر در کی حفاظت کی ہوتی ہے، لہٰذا اس وقت تم بھی بس اپنے دین اور اپنی اخروی بھلائی کے کاموں کی تکمیل و حفاظت میں مشغول رہنا اور دوسرے لوگوں کی طرف سے کسی فکر و خیال میں نہ پڑنا۔ یہ حکم ایسے ماحول میں امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے فریضہ پر عمل نہ کرنے کی ایک درجہ میں اجازت کے طور پر ہے جب کہ شریر و بدکار لوگوں کی کثرت اور ان کا غلبہ ہو اور صالح ونیک لوگوں کی طاقت بہت کم ہو۔ اپنی زبان کو قابو میں رکھو کا مطلب یہ ہے کہ جب پورے ماحول میں برائیوں کا دور دورہ ہوجاتا ہے اور شریر و بدکار لوگوں کے اثرات غالب ہوتے ہیں تو زبان سے اچھی بات نکالنا بھی ایک جرم بن جاتا ہے، لہٰذا تم اس وقت لوگوں کے احوال و معاملات کے بارے میں بالکل خاموشی اختیار کئے رکھنا، کسی کی برائی یا بھلائی میں اپنی زبان نہ کھولنا تاکہ تمہاری بات کا برا ماننے والے لوگ تمہیں تکلیف و ایذاء نہ پہنچائیں۔ اس موقع پر ایک خاص بات یہ ذہن میں رکھنے کی ہے کہ پر فتن دور کے سلسلے میں ایک حدیث تو یہ ہے اور ایک حدیث پیچھے گزری ہے جس کو حضرت حذیفہ ؓ نے نقل کیا ہے، ان دونوں میں ایک طرح سے تضاد نظر آتا ہے اور وہ یہ کہ اس حدیث میں تو آنحضرت ﷺ نے گویا حضرت عبداللہ بن عمرو کو یہ اجازت دی ہے کہ وہ اس پر فتن ماحول میں بھی لوگوں کے درمیان بودوباش رکھنے سے پرہیز نہ کریں اور دنیا والوں سے مکمل یکسوئی علیحدگی اختیار نہ کریں، نیز ان کو یہ حکم بھی دیا کہ وہ صرف اپنے نفس کے تزکیہ و اصلاح اور اپنی دینی زندگی کو سدھارنے سنوارنے لگیں رہیں، عوام الناس کے معاملات سے کوئی سروکار نہ رکھیں اور ان کے حالات و اعمال کے تئیں کوئی فکر نہ کریں۔ اس کے برخلاف آپ ﷺ نے حضرت حذیفہ ؓ کو یہ حکم دیا کہ وہ ایسے ماحول میں بودوباش نہ رکھیں اور لوگوں سے مکمل علیحدگی ویکسوئی اختیار کر کے کسی ویرانہ وجنگل میں چلے جائیں دونوں حدیثوں کے اسی ظاہری تضاد کو دور کرنے کے لئے علماء نے لکھا ہے کہ ایک صورت حال کے لئے اس دو طرح کے حکم کا تعلق دراصل شخصی حالت کی رعایت و مصلحت کے اعتبار سے ہے، یعنی آپ ﷺ نے ان دونوں میں سے ہر ایک کو وہ حکم دیا جو اس کی حالت و حیثیت کے مطابق تھا، جس میں اس کی اصلاح پوشیدہ تھی اور جس پر عمل کر کے وہ نجات و فلاح کی راہ پاسکتا تھا جیسا کہ مرشد ومصلح کا طرز اصلاح ہوتا ہے کہ وہ اپنے پیر اور مرید کے ذہن ومزاج اور اس کے طبعی و شخصی حیثیت وحالت کے مطابق ہی اس کو تلقین و ہدایت کرتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ جیسا کہ معلوم ہے نہایت اونچے درجے کے صحابی ہیں، ان کی زندگی پر نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ انتہائی عظمت و فضیلت کے حامل تھے، منقول ہے کہ وہ اپنی جوانی کے دنوں میں بھی اتنے عابد و زاہد تھے کہ افطار کئے بغیر مسلسل روزے رکھا کرتے تھے، رات بھر سوتے نہیں تھے بلکہ عبادت الٰہی میں مشغول رہتے تھے، دنیاوی لذات و خواہشات سے اس قدر متنفر تھے کہ بیوی تک کی طرف کوئی رجحان نہٰ رکھتے تھے، ایک دن ان کے والد محترم حضرت عمرو بن عاص ؓ ان کو آنحضرت ﷺ کے پاس لے کر آئے اور ان کی اس عبادت و ریاضت کا حال بیان کیا، آنحضرت ﷺ نے ان کو اتنی سخت ریاضت اور اتنی زیادہ عبادت سے منع کیا اور حکم فرمایا کہ بلا افطار تین دن سے زیادہ روزے نہ رکھا کرو اور پوری رات کے بس تہائی یا چھٹے حصے میں شب بیداری کیا کرو، نیز آپ ﷺ نے ان کے یہ بھی نصیحت کی کہ اپنے بزرگوار باپ کی مرضی ومنشاء کا ہمیشہ لحاظ رکھنا۔ چناچہ حضور ﷺ کی اس وصیت و نصیحت کی بنا پر انہوں نے ملت میں تفرقہ و انتشار کے سخت ترین فتنے کے دور میں بھی اپنے والد بزرگوار سے علیحدگی وجدائی اختیار نہیں کی، جو حضرت امیر و معاویہ ؓ کے مشیر اعلیٰ اور وزیر تھے اور جیسا کہ حضور ﷺ نے ان کو فرمایا تھا، وہ لوگوں کے معاملات و حالات سے بےپرواہ ہو کر اپنی ذات کی اصلاح اور اپنی استقامت کی طرف متوجہ رہتے، جب ان کے والد حضرت عمرو ان سے کہا کرتے کہ تم ہم میں سے ہونے کے باوجود ہم سے الگ الگ کیوں رہتے ہو اور ہماری کاروائیوں میں کیوں شریک نہیں ہوتے؟ تو وہ جواب دیتے کہ آپ لوگوں کے اچھے کاموں میں تو شریک ہوں لیکن ان کاموں میں خود کو شریک نہیں کرسکتا جو میرے نزدیک اللہ اور اس کے رسول کی مرضی ومنشاء کے منافی وملی مفاد کے خلاف ہیں۔ نیز ایسا کبھی نہیں ہوا کہ بڑے سے بڑے فتنے کے وقت بھی ان کے دل سے اہل بیت نبوی ﷺ کی عزت و احترام کا جذبہ کسی بھی طرح سے کم ہوا ہو، ان کا باطن ہمیشہ اہل بیت کی محبت و عظمت سے منور رہا۔

5296Mishkaat-al-Masabih

قیامت سے پہلے ظاہر ہونے والے فتنوں کی پیشگوئی

وعن أبي موسى عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال إن بين يدي الساعة فتنا كقطع الليل المظلم يصبح الرجل مؤمنا ويمسي كافرا ويمسي مؤمنا ويصبح كافرا القاعد خير من القائم والماشي خير من الساعي فكسروا فيها قسيكم وقطعوا فيها أوتاركم واضربوا سيوفكم بالحجارة فإن دخل على أحد منكم فليكن كخير ابني آدم . رواه أبو داود . وفي رواية له ذكر إلى قوله خير من الساعي ثم قالوا فما تأمرنا ؟ قال كونوا أحلاس بيوتكم . وفي رواية الترمذي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال في الفتنة كسروا فيها قسيكم وقطعوا فيها أوتاركم والزموا فيها أجواف بيوتكم وكونوا كابن آدم . وقال هذا حديث صحيح غريب .

حضرت ابوموسیٰ ؓ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا۔ قیامت آنے سے پہلے فتنے ظاہر ہوں گے جو اندھیری رات کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے۔ ان فتنوں کے زمانے میں آدمی صبح کو ایمان کی حالت میں اٹھے گا اور شام کو کافر ہوجائے گا۔ شام کو مومن ہوگا تو صبح کو کفر کی حالت میں اٹھے گا۔ ان فتنوں کے وقت بیٹھ ہوا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا شخص دورنے والے سے بہتر ہوگا بس جب تم ان فتنوں کا زمانہ پاؤ تو اپنی کمانوں کو توڑ ڈالنا، کمانوں کے چلوں کو کاٹ ڈالنا اور اپنی تلواروں کو پتھر پردے مارنا (یعنی ان کے دھار کو کند و بیکار کردینا اور جب تم میں سے کوئی شخص کسی کو مارنے کے لئے آئے تو اس کو چاہئے کہ وہ حملہ آور کا مقابلہ کرنے اور اس سے لڑنے کی بجائے آدم کے دو بیٹوں میں سے بہترین بیٹے کی مانند ہوجائے۔ ( ابوداؤد) اور ابوداؤد کی ایک اور روایت میں خیر من الساعی یعنی چلنے والا شخص دوڑنے والے سے بہتر ہوگا، کے الفاظ نقل کرنے کے بعد پھر یوں نقل کیا گیا ہے کہ صحابہ نے یہ ارشاد گرامی سن کر عرض کیا کہ تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ یعنی ہمیں ہدایت دیجئے کہ اس وقت ہم کیا کریں اور ان فتنوں میں کس طرح زندگی گزاریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ تم اپنے گھروں کے ٹاٹ بن جانا۔ ترمذی کی روایت اس طرح ہے کہ حضور ﷺ نے فتنہ کے بارے میں یہ ہدایت فرمائی کہ تم فتنوں کے زمانہ میں اپنی کمانوں کو توڑ ڈالنا اور ان کے چلے کاٹ ڈالنا، نیز گھروں میں پڑے رہنے کو لازم کرلینا (یعنی اشد ضرورت کے علاوہ باہر نہ نکلنا اور اپنا سارا وقت گھروں میں گزارنے کے ذریعے لوگوں سے یکسوئی اختیار کئے رہنا تاکہ ان فتنوں کے برے اثرات سے محفوظ رہو) اور تم آدم کے بیٹے ہابیل کی طرح مظلوم بننا گوارہ کرلینا لیکن دفاع کی خاطر بھی کسی پر تلوار نہ اٹھانا، اس روایت کو ترمذی نے نقل کر کے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح غریب ہے۔ تشریح جو اندھیری رات کے ٹکڑوں کے مانند ہوں گے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کے باہمی قتل و قتال اور خونریزی کی صورت میں وہ فتنے اتنے زیادہ ہیبت ناک اور اس قدر شدید ہوں گے کہ دین وملت کا مستقبل تاریک تر نظر آنے لگے گا۔ اور اس وقت نیک وبد کے درمیان امتیاز کرنا اس طرح ناممکن ہوجائے جس طرح کہ اندھیری رات میں کسی کو شناخت کرنا ممکن نہیں ہوتا آدمی صبح کو ایمان کی حالت میں اٹھے گا الخ کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے عقائد ونظریات اقوال و احوال اور طور طریقوں میں ساعت بساعت تبدیلی ہوتی رہے گی، کبھی کسی نظریہ و عقیدہ کے حامل ہوں گے، کبھی کسی کے ایک وقت میں کوئی عہد و پیمان کریں گے اور دوسرے وقت میں اس سے منحرف ہوجائیں گے، کبھی دیانت و امانت پر چلنے لگیں گے اور کبھی بددیانتی و خیانت پر اتر آئیں گے کبھی سنت پر عمل کرتے نظر آئیں گے اور کبھی بدعت کی راہ پر چلتے دکھائی دیں گے، کسی وقت ایمان و یقین کی دولت سے مالا مال ہوں گے اور کسی وقت تشکیک و اوہام اور کفر کے اندھیروں میں بھٹکنے لگیں گے، غرض یہ کہ ہر ساعت اور ہر لمحہ تبدیلی پیدا ہوتی نظر آئے گی اور اس امر کا یقین کرنا دشوار ہوگا کہ کسی شخص کی اصل کیفیت وحالت کیا ہے۔ بیٹھا ہوا شخص کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا الخ کا اصل مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ جو شخص ان فتنوں سے جتنا زیادہ دور ہوگا وہ اس شخص سے اتنا ہی زیادہ بہتر ہوگا جو ان فتنوں کے قریب ہوگا اس جملے کی تفصیلی وضاحت پہلی فصل میں کی جا چکی ہے۔ کمانوں کے چلوں کو کاٹ ڈالنا یہ حکم گویا پہلے حکم یعنی اپنی کمانوں کو توڑ ڈالنا کو مؤ کد کرنے اور مقصد کو زیادہ سے زیادہ اہمیت کے ساتھ اور پر زور انداز میں بیان کرنے کے لئے ہے، کیونکہ کمانوں کے ٹوٹ جانے کے بعد ان کے چلے اگر باقی بھی رہیں تو وہ کمانیں قطعی کارگر نہیں ہوسکتیں۔ لہٰذا کمانوں کے توڑ دینے کے حکم کے بعد ان کے چلوں کو کاٹ دینے کا حکم محض زور بیان اور تاکید حکم کے لئے ہے۔ آدم کے بیٹوں میں سے بہترین بیٹے کی مانند ہوجائے کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح آدم کے ایک بیٹے ہابیل نے مظلومیت کی موت کو گوارا کرلیا تھا لیکن اس نے آدم کے دوسرے بیٹے یعنی اپنے بھائی قابیل کے حملے کا جواب نہیں دیا اور سارا ظلم اور تمام زیادتی اسی کے سر ڈال دی تھی، اسی طرح فتنوں کے وقت کوئی شخص تم پر حملہ بھی کرے اور تمہیں قتل بھی کردینا چاہے تو تم اس کا مقابلہ ہرگز نہ کرنا اور اس کے ہاتھوں مرجانے کو صبر و ضبط کے ساتھ گوارا کرلینا، کیونکہ اگر تم اس کا مقابلہ کرو گے تو اس کی وجہ سے فتنہ میں اور زیادہ شدت پیدا ہوجائے گی اور خونریزی بڑھ جائے گی، پس اس وقت اپنے حملہ آور کا مقابلہ کئے بغیر شہید ہوجانا، مقابلہ کرنے اور خونریزی میں کسی بھی طرح سے شرکت کر کے اپنی جان کو بچا لینے سے کہیں زیادہ بہتر ہوگا۔ تم اپنے گھروں کے ٹاٹ بن جانا کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح کسی اچھے فرش، جیسے قالین وغیرہ کے نیچے جو ٹاٹ بچھا ہوتا ہے وہ ہمیشہ اور ہر وقت اپنی جگہ پڑا رہتا ہے اسی طرح تم بھی اپنے گھروں میں پڑے رہا کرنا اور مکان کی چار دیواری سے باہر نکل کر ادھر ادھر نہ جانا تاکہ تم اس فتنے میں مبتلا نہ ہوجاؤ اور اس کے اثرات تمہارے دین کو تباہ نہ کردیں۔ حاصل یہ کہ فتنہ انگیزی کی جگہ سے دور رہنا، لوگوں کے معاملات و کاروبار سے بےتعلقی ویکسوئی اختیار کرلینا اور گوشہ عافیت میں پڑے رہ کر اپنے دین کی حفاظت کرنا، اس وقت نجات کی بہترین راہ ہوگی جب کہ مسلمانوں کے باہمی قتل و قتال، افتراق و انتشار اور مناقشت ومنافقت کا فتنہ پھیل جائے۔

5297Mishkaat-al-Masabih

فتنوں کے وقت سب سے بہتر شخص کون ہوگا؟

وعن أم مالك البهزية قالت ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم فتنة فقربها . قلت يا رسول الله من خير الناس فيها ؟ قال رجل في ماشيته يؤدي حقها ويعبد ربه ورجل آخذ برأس فرأسه يخيف العدو ويخوفونه . رواه الترمذي .

حضرت ام مالک بہزیہ ؓ کہتی ہیں کہ ایک دن جب رسول کریم ﷺ نے فتنہ کا ذکر فرمایا اور اس کو قریب تر کیا تو میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ﷺ اس فتنے کے زمانے میں سب سے بہتر کون شخص ہوگا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس زمانے میں سب سے بہتر شخص وہ ہوگا جو اپنے مویشیوں کی دیکھ بھال اور ان کے گھاس چارے کے انتظام میں مصروف رہے ان کا حق ادا کرے یعنی ان پر جو زکوٰۃ اور شرعی ٹیکس وغیرہ واجب ہو، اس کو ادا کرے اور اپنے رب کی بندگی میں مشغول رہے اور وہ شخص بھی سب سے بہتر ہوگا جو اپنے گھوڑے کا سر یعنی اپنے گھوڑے کی پشت پر سوار اس کی باگ پکڑے کھڑا ہو اور دشمنان دین کو خوف زدہ کرتا ہو اور دشمن اس کو ڈراتے ہوں۔ (ترمذی) تشریح بہزیہ (ب کے زبر اور ہ کے جزم کے ساتھ) ابن امرء القیس کی طرف منسوب ہے، حضرت ام مالک ایک صحابیہ ہیں اور حجازیہ کہلائی جاتی ہیں۔ اور اس کو قریب تر کیا کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے جب اس فتنہ کا ذکر فرمایا تو اس بات سے باخبر کیا کہ وہ فتنہ بالکل قریب ہے اور سامنے آنے والا ہے۔ اور طیبی نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ آپ ﷺ نے اس فتنہ کو بہت تفصیل و وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا اور چونکہ یہ ایک عام اسلوب ہے کہ جب کوئی شخص کسی کے سامنے کسی چیز کو تفصیل کے ساتھ بیان کرتا ہے اور اس کی خصوصیات و علامات کو زیادہ سے زیادہ اہمیت کے ساتھ واضح کرتا ہے تو گویا وہ اس چیز کو مخاطب کے ذہن یا مشاہدہ کے قریب تر کردیتا ہے، چناچہ وہ مخاطب اس چیز کو نہ صرف اپنے ذہن و خیال میں جاگزیں پاتا ہے بلکہ وہ خارج میں بھی ایسا محسوس کرنے لگتا ہے جیسے وہ چیز اپنی شکل و صورت کے ساتھ اس کے بالکل قریب موجود ہے۔ جو شخص اپنے مویشیوں میں رہے کا مطلب یہ ہے کہ اس فتنہ کے زمانے میں جب کہ مسلمانوں کے باہمی قتل و قتال اور محاذ آرائی کا بازار گرم ہوجائے گا، فلاح یاب شخص وہی ہوگا جو فتنوں کی باتوں سے لاتعلق اور دنیا والوں سے بیگانہ رہ کر اور گوشہ عافیت اختیار کر کے بس اپنے جائز کاروبار میں مشغول اور اپنے معاملات کی اصلاح کی طرف متوجہ ہوگا، اس پر اس کے کاروبار اور معاملات کے تئیں شریعت کے جو حقوق عائد ہوتے ہوں ان کو ادا کرنے میں کوتاہی نہ کرے گا اور اپنے پروردگار کی طرف متوجہ اور اس کی عبادت میں منہمک رہے گا۔ یہ ارشاد گرامی گویا قرآن کریم کی ان آیات (ففروا الی اللہ، وتبتل الیہ تبتیلا۔ اور والیہ یرجع الامر کلہ فاعبدہ و توکل علیہ وما ربک بغافل عما تعملون) کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے۔ جو اپنے گھوڑے کا سر پکڑے ہو الخ کا مطلب یہ ہے کہ وہ شخص اس فتنہ و فساد میں الجھنے اور آپس میں ہی ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہونے کے بجائے، اپنی طاقت و توانائی ان لوگوں کے خلاف استعمال کرنے کی طرف متوجہ ہو جو دین اسلام کے اصل دشمن و مخالف ہیں اور ان سے نبرد آزمائی میں لگ جائے یہ چیز نہ صرف یہ کہ دین وملت کی اصل خدمت ہونے کی وجہ سے اجر وثواب کا مستحق بنائے گی بلکہ اس فتنہ سے بچانے کا بہترین ذریعہ بھی ثابت ہوگی۔

5298Mishkaat-al-Masabih

فتنہ کا ذکر

وعن عبد الله بن عمرو قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ستكون فتنة تستنظف العرب قتلاها في النار اللسان فيها أشد من وقع السيف . رواه الترمذي وابن ماجه .

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ عنقریب ایک بڑا فتنہ ظاہر ہونے والا ہے جو پورے عرب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور اس کے بڑے اثرات ہر ایک تک پہنچیں گے اس فتنہ میں قتل ہوجانے والے لوگ بھی دوزخ میں جائیں گے نیز اس فتنہ کے وقت زبان کھولنا یعنی کسی کو برا بھلا کہنا اور عیب جوئی ونکتہ چینی کرنا تلوار مارنے سے بھی زیادہ سکت مضر ہوگا۔ (ترمذی، ابن ماجہ) تشریح اس فتنہ سے مراد باہمی قتل و قتال اور لوٹ مار کا وہ فتنہ ہے جو مختلف گروہ، حق و سچائی کو ثابت کرنے اور دین کا جھنڈا بلند کرنے اور حق و انصاف کی مدد کے لئے نہیں بلکہ محض جاہ اقتدار اور دولت و سلطنت حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے کا خون بہانے اور ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے لگتے ہیں۔ اس وضاحت سے یہ بات بھی صاف ہوگئی کہ اس فتنہ کے مقتولین بھی دوزخ میں کیوں ہوجائیں گے، چناچہ یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ جو شخص خانہ جنگی میں مبتلا ہو کر لوٹ مار کی خاطر کسی سے لڑے اور اس لڑائی کے دوران مارا جائے تو وہ نہ شہید کہلاتا ہے اور نہ اس کی موت کوئی بامقصد موت کہلاتی ہے بلکہ وہ ایک ایسی موت کے ہاتھوں مرتا ہے جو دین و شریعت کے تقاضوں اور اسلامی احکام کے خلاف جنگ وجدل کی صورت میں آتی ہے لہٰذا جس طرح ناحق خون بہانے والا قاتل دوزخ میں جائے گا اسی طرح وہ مقتول بھی دوزخ کی آگ کا مستوجب ہوگا۔

5299Mishkaat-al-Masabih

فتنہ کا ذکر

وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ستكون فتنة صماء بكماء عمياء من أشرف لها استشرفت له وإشراف اللسان فيها كوقوع السيف . رواه أبو داود .

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ عنقریب گونگے، بہرے اور اندھے فتنے کا ظہور ہوگا، جو شخص اس فتنہ کو دیکھے گا اور اس کے قریب جائے گا وہ فتنہ اس کو دیکھے گا اور اس کے قریب آجائے گا نیز اس فتنہ کے وقت زبان درازی، تلوار مارنے کی مانند ہوگی۔ (ابو داؤد) تشریح فتنہ کو گونگا اور بہرہ کہنا، لوگوں کے اعتبار سے ہے، یعنی وہ فتنہ اتنا سخت اور اس قدر ہیبت ناک ہوگا کہ عام لوگ اس وقت حیران وسراسیمہ ہو کر رہ جائیں گے، نہ کوئی فریاد رس نظر آئے گا کہ جس سے کوئی شخص گلو خلاصی کی درخواست کرسکے اور نہ کسی کو نجات دلا سکے اور نہ کوئی ایسی راہ دکھائی دے گی جس کے ذریعے اس فتنہ سے نجات اور خلاصی پائی جاسکے۔ یا مطلب یہ ہے کہ اس فتنے کے وقت لوگ حق و باطل اور نیک وبد کے درمیان تمیز نہیں کریں گے۔ وعظ و نصیحت کو سننا اور اس پر عمل کرنا گوارہ نہیں کریں گے، امر بالمعروف ونہی عن المنکر کی باتوں پر دھیان نہیں دیں گے، جو شخص ان کو نیک باتوں کی طرف بلائے گا اور زبان سے حق بات نکالے گا اس کو روحانی و جسمانی اذیتوں میں مبتلا کریں گے اور اس کے ساتھ نہایت تکلیف دہ اور پریشان کن سلوک کریں گے۔ جو شخص اس فتنہ کو دیکھے گا الخ کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اس فتنہ کی باتوں کی طرف متوجہ رہے گا اور ان لوگوں کی قربت وہمنشینی اختیار کرے گا جو اس فنتہ کا باعث ہوں گے، تو اس شخص کا اس فتنہ سے محفوظ رہنا اور اس کے برے اثرات کے چنگل سے بچ نکلنا ممکن نہیں ہوگا، اس کے برخلاف جو شخص اس فتنہ سے دور اور فتنہ پردازوں سے بےتعلق رہے گا وہ فلاح یاب ہوگا۔ زبان درازی تلوار مارنے کی مانند ہوگی کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت چونکہ لوگوں میں تعصب و عداوت، ضد و ہٹ دھرمی اور حق کو قبول نہ کرنے پر اصرار بہت زیادہ ہوگا اس لئے وہ کسی کی زبان سے کوئی ایسی بات سننا بھی گوارا نہیں کریں گے جو ان کی مرضی ومنشاء کے خلاف ہوگی۔ لہٰذا اس فتنہ میں زبان کھولنے والا گویا خون ریزی کو دعوت دے گا۔ اور یہ بات تو بالکل ظاہر ہے کہ بعض وقت زبان سے نکلا ہوا لفظ اپنی تاثیر کے اعتبار سے تلوار کی دھار سے بھی زیادہ سخت وار کرجاتا ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے جراحات السنان لہا التیام ولا یلتام ماجرح اللسان نیزے کے پھل کا زخم مندمل ہوجاتا ہے لیکن زبان کے گھاؤ کو کوئی چیز نہیں بھر سکتی

5300Mishkaat-al-Masabih

چند فتنوں کے بارے میں پیشین گوئی

وعن عبد الله بن عمر قال كنا قعودا عند النبي صلى الله عليه وسلم فذكر الفتن فأكثر في ذكرها حتى ذكر فتنة الاحلاس فقال قائل وما فتنة الأحلاس . قال هي هرب وحرب ثم فتنة السراء دخنها من تحت قدمي رجل من أهل بيتي يزعم أنه مني وليس مني إنما أوليائي المتقون ثم يصطلح الناس على رجل كورك على ضلع ثم فتنة الدهماء لا تدع أحدا من هذه الأمة إلا لطمته لطمة فإذا قيل انقضت تمادت يصبح الرجل فيها مؤمنا ويمسي كافرا حتى يصير الناس إلى فسطاطين فسطاط إيمان لا نفاق فيه وفسطاط نفاق لا إيمان فيه . فإذا كان ذلك فانتظروا الدجال من يومه أو من غده . رواه أبو داود .

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم نبی کریم ﷺ کی مجلس مبارک میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ ﷺ نے آخر زمانہ میں ظاہر ہونے والے فتنوں کا ذکر شروع فرمایا اور بہت سارے فتنوں کو بیان کیا، یہاں تک کہ فتہ احلاس کا ذکر فرمایا۔ ایک شخص نے پوچھا کہ احلاس کا فتنہ کیا ہے (یعنی اس فتنہ کی نوعیت کیا ہوگی اور وہ کس صورتحال میں ظاہر ہوگا؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا۔ وہ بھاگنا اور مال کا ناحق لینا ہے (یعنی اس فتنہ کی صورت یہ ہوگی کہ لوگ آپس میں سخت بغض و عداوت رکھنے اور باہمی نفرت و دشمنی کی وجہ سے ایک دوسرے سے بھاگیں گے، کوئی کسی کی صورت دیکھنے اور کسی کے ساتھ نباہ کرنے کا روادار نہیں ہوگا، ایک دوسرے کے مال کو زبردستی چھین لینے اور ایک دوسرے کو ہڑپ کرلینے کا بازار گرم ہوگا اور پھر سراء کا فتنہ ہے، اس فتنہ کی تاریکی اور تباہی اس شخص کے قدموں کے نیچے سے نکلے گی (یعنی اس فتنہ کا بانی وہ شخص ہوگا) جو میرے اہل بیت میں سے ہوگا، اس شخص کا گمان تو یہ ہوگا کہ وہ فعل و کردار کے اعتبار سے بھی میرے اہل بیت میں سے ہے لیکن حقیقت یہ ہوگی کہ وہ خواہ نسب کے اعتبار سے بھلے ہی میرے اہل بیت میں سے ہو مگر فعل و کردار کے اعتبار سے میرے اپنوں میں سے ہرگز نہیں ہوگا، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ میرے دوست اور میرے اپنے تو وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو پرہیز گار ہوں۔ پھر اس فتنہ کے بعد لوگ ایسے شخص کی بیعت پر اتفاق کریں گے جو پسلی کے اوپر کو ل ہے کی مانند ہوگا، پھر دہیماء کا فتنہ ظاہر ہوگا۔ اور وہ فتنہ اس امت میں سے کسی ایسے شخص کو نہیں چھوڑے گا جس پر اس کا طمانچہ، طمانچہ کے طور پر نہ لگے (یعنی وہ فتنہ اتنا وسیع اور ہمہ گیر ہوگا کہ امت کے شخص تک اس کے برے اثرات پہنچیں گے اور ہر مسلمان اس کے ضرر و نقصان میں مبتلا ہوگا) اور جب کہا جائے گا کہ یہ فتنہ ختم ہوگیا ہے تو اس کی مدت کچھ اور بڑھ جائے گی یعنی لوگ یہ گمان کریں گے کہ فتنہ ختم ہوگیا ہے مگر حقیقت میں وہ ختم کی حد تک پہنچا ہوا نہیں ہوگا بلکہ کچھ اور طویل ہوگیا ہوگا، یہ اور بات ہے کہ کسی وقت اس کا اثر کچھ خم ہوجائے، جس سے لوگ اس کے ختم ہوجانے کا گمان کرنے لگیں لیکن بعد میں پھر بڑھ جائے گا اس وقت آدمی صبح کو ایمان کی حالت میں اٹھے گا اور شام کو کافر ہوجائے گا (یعنی اس فتنہ کے اثرات سے لوگوں کے دل و دماغ کی حالت کیفیت میں اس قدر تیزی کے ساتھ تبدیلی پیدا ہوتی رہے گی کہ مثلا ایک شخص صبح کو اٹھے گا تو اس کا ایمان و عقیدہ صحیح ہوگا اور اس پختہ اعتقاد کا حامل ہوگا کہ کسی مسلمان بھائی کا خون بہانا یا اس کی آبروریزی کرنا اور یا اس کے مال و اسباب کو ہڑپ کرنا و نقصان پہنچانا مطلقاً حلال نہیں ہے مگر شام ہوتے ہوتے اس کے ایمان و عقیدہ میں تبدیلی آجائے گی اور وہ اپنے قول وفعل سے یہ ثابت کرنے لگے گا یہ گویا اس کے نزدیک کسی مسلمان بھائی کا خون بہانا، اس کی آبروریزی کرنا اور اس کے مال و جائیداد کو ہڑپ کرنا نقصان پہنچانا جائز و حلال ہے، اس طرح جو صبح کے وقت مومن تھا شام کو اس عقیدے کی تبدیلی کی وجہ سے کافر ہوجائے گا اور یہ صورت حال جاری رہے گی تاکہ لوگ خیموں میں تقسیم ہوجائیں گے۔ ایک خیمہ ایمان کا ہوگا کہ اس میں نفاق ہوگا اور ایک خیمہ نفاق کا ہوگا کہ اس میں ایمان نہیں ہوگا۔ جب یہ بات ظہور میں آجائے تو پھر اس دن یا اس کے اگلے دن، دجال کے ظاہر ہونے کے منتظر رہنا۔ (ابو داؤد) تشریح فتنہ احلاس سے مراد یہ ہے کہ وہ فتنہ عرصہ دراز تک قائم رہے گا اور اس کے اثرات امت کے لوگوں کو بہت طویل عرصے تک مختلف آفات اور پریشانیوں میں مبتلا رکھیں گے۔ واضح رہے کہ احلاس اصل میں حلس کی جمع ہے اور حلس اس ٹاٹ کو کہتے ہیں جو کسی عمدہ فرش جیسے قالین وغیرہ کے نیچے زمین پر بچھا رہتا ہے اور وہ ہمیشہ اپنی جگہ پر پڑا رہتا ہے۔ یا حلس اس کملی کو کہتے ہیں جو پالان کے نیچے اونٹ کی پیٹھ پر ڈالی جاتی ہے۔ پس اس فتنہ کو فتنہ احلاس کہنے کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح کسی اچھے فرش کے نیچے کا ٹاٹ مستقل طور پر اپنی جگہ پڑا رہتا ہے وہاں سے اٹھایا نہیں جاتا اسی طرح وہ فتنہ بھی لوگوں کو چھوڑنے والا نہیں۔ بلکہ برابر قائم رہے گا اور اس کے برے اثرات بہت دنوں تک لوگوں کو مبتلا رکھیں گے۔ یا یہ کہ اس فتنہ کو ظلمت وتاری کی اور برائی کے طور پر حلس سے تشبیہ دی گئی ہے اور یا یہ کہ اس فتنہ کو فتنہ احلاس فرما کر اس طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ جس طرح ٹاٹ ہمیشہ بچھا رہتا ہے اور اس کو اپنی جگہ سے ہٹایا نہیں جاتا اسی طرح لوگوں کو بھی چاہئے کہ اس فتنہ کے دوران اپنے گھروں میں پڑے رہنے کو لازم کرلیں اور گوشہ نشینی اختیار کرلیں۔ لفظ فتنۃ السراء رفع کے ساتھ ہے اور اس اعتبار سے یہ لفظ ہرب پر عطف ہے، یعنی جب کسی نے آپ ﷺ سے یہ پوچھا کہ فتنہ احلاس کی نوعیت و صورت کیا ہوگی تو آپ ﷺ نے گویا یہ فرمایا کہ وہ فتنہ ہرب وحرب اور سراء کی صورت میں ہوگا ہرب اور حرب کے معنی تو اوپر ترجمے میں واضح کئے جا چکے ہیں، یعنی باہمی عداوت و دشمنی اور بغض ونفرت کی وجہ سے ایک دوسرے سے دور بھاگنا اور کسی کا مال لوٹ لینا۔ اور سراء کے معنی یہ ہیں کہ وہ فتنہ اندر ہی اندر اسلام کی بیخ کنی کرے گا، یعنی کچھ لوگ ایسے پیدا ہوجائیں گے جو ظاہر میں اسلام اور مسلمانوں کی ہمدردی کا دعویٰ کریں گے مگر باطن میں اسلام اور مسلمانوں کی تباہی و بربادی چاہیں گے اور اپنی اس ناپاک خواہش کی تکمیل کے لئے طرح طرح کی سازشوں کے جال پھیلا کر مسلمانوں کو فتنہ و فساد میں مبتلا کریں گے۔ نہایہ میں لکھا ہے کہ سراء سے کنکریلا پتھریلا میدان مراد ہے، اس صورت میں فتنہ سراء سے واقعہ حرا کی طرف اشارہ مراد ہوگا جو یزید کی حکومت میں ہوا اور اس کی وجہ سے اہل مدینہ کا قتل عام ہوا، سینکڑوں صحابہ اور تابعین کو جام شہادت نوش کرنا پڑا اور حرم محترم کی سخت بربادی ہوئی یہ معنی اس صورت میں ہوں گے جب کہ سراء کو پوشیدہ کے مفہوم میں لیا جائے اگر یہ لفظ سرور و شادمانی کے مفہوم میں ہو تو اس صورت میں یہ معنی ہوں گے کہ وہ فتنہ ایسے حالات پیدا کر دے گا جس میں عیش و عشرت کی چیزوں کی فراوانی ہوجائے گی اور لوگ اسراف وتنعم کے ذریعے راحت و آرام اور سرور و شادمانی کی زندگی میں پڑ کر اللہ اور آخرت کے خوف سے بےنیاز ہوجائیں گے۔ یا یہ کہ اس فتنہ کی وجہ سے چونکہ اسلام اور مسلمانوں کی شوکت کو دھچکا لگے گا اور ملت اسلامیہ بہت زیادہ نقصان و تباہی میں مبتلا ہوجائے گی لہٰذا یہ صورت حال اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کے لئے خوشی و شادمانی کا باعث بنے گی۔ اور ایک نسخے میں فتنۃ السراء کا لفظ نصب کے ساتھ ہے، اس صورت میں اس کا عطف فتنہ الاحلاس پر ہوگا اور معنی یہ ہوں گے کہ آپ نے فتنہ احلاس کا ذکر فرمایا اور اس کے بعد فتنہ اسراء کا ذکر کیا۔ مگر وہ میرے اپنوں میں سے نہیں ہوگا کا مطلب یہ ہے کہ خواہ وہ میرے اہل بیت میں سے ہونے کا کتنا ہی گمان رکھے اور اگرچہ نسب اور خاندان کے اعتبار سے وہ واقعۃً میرے اہل بیت میں سے کیوں نہ ہو لیکن وہ اپنے طور طریقوں اور اپنے فعل و کردار کے لحاظ سے میرے اپنوں میں سے یقینا نہیں ہوگا کیونکہ وہ میرے اپنوں میں سے ہوتا تو روئے زمین پر فتنہ و فساد کے ذریعے میری امت کو نقصان وضرر میں مبتلا نہیں کرتا۔ اس ارشاد گرامی کی نظیر اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے آیت (انہ لیس من اہلک)۔ یقینا وہ تمہارے اپنوں میں سے نہیں ہے۔ یا یہ کہ اس جملے کا یہ مطلب ہے کہ وہ شخص خواہ نسب کے اعتبار سے میرے خاندان سے کوئی تعلق کیوں نہ رکھے لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ میرے محبوب اور دوستوں میں سے ہوگا کیونکہ میرا محبوب اور دوست صرف وہی مسلمان ہوسکتا ہے جو تقویٰ اور پرہیز گاری اختیار کرے اور کبھی بھی ایسے قول وفعل کا ارتکاب نہ کرے جس سے اسلام اور مسلمانوں کو ذرہ برابر بھی نقصان پہنچ سکتا ہو۔ اس کی تائید حدیث کے اگلے جملے سے بھی ہوتی ہے۔ جو پسلی کے اوپر کو ل ہے کی مانند ہوگا اس جملے کے ذریعے گویا اس شخص کو ذہنی وعملی کج روی اور غیر پائیداری کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ جس طرح اگر کو ل ہے کی ہڈی کو پسلی کی ہڈی پر چڑھا دیا جائے تو وہ کو لہا اپنی جگہ پر قائم نہیں رہ سکتا اور پسلی کی ہڈی کے ساتھ اس کا جوڑ نہیں بیٹھ سکتا اسی طرح اگرچہ لوگ اس شخص کے ہاتھ پر بیعت کر کے اس کو اپنا امیر وحکمران تسلیم کرلیں گے لیکن حقیقت میں وہ امارت وسرداری کے لائق نہیں ہوگا کیونکہ وہ علم و دانائی سے محروم ہوگا، آئین حکمرانی سے بےبہرہ نہ ہوگا، قوت فیصلہ کی کمی اور رائے کی کمزوری میں مبتلا ہوگا، پس اس کا کوئی حکم اور کوئی فیصلہ، محل موقع کے مطابق نہیں ہوگا اور جب یہ صورت حال ہوگی تو سلطنت ومملکت کا سارا نظام انتشار وبد امنی اور سستی و کمزوری کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔ پھر دہیما کا فتنہ ظاہر ہوگا کے سلسلے میں پہلے یہ واضح کردینا ضروری ہے کہ جس طرح فتنہ الاحلاس کے دونوں اعراب، یعنی رفع اور نصب ذکر کئے گئے تھے اور ان میں سے ہر ایک کے مطابق معنی بیان کئے گئے تھے، اسی طرح فتنۃ الدہیما میں بھی فتنہ کے لفظ کے دونوں اعراب یعنی رفع اور نصب میں دہیماء (دال کے پیش اور ہا کے زبر کے ساتھ) اصل میں لفظ دہماء کی تصغیر ہے جس کے معنی سیاہی اور تاریکی کے ہیں اور یہاں تصغیر کا اظہار مذمت و برائی کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ حاصل یہ کہ فتنہ احلاس کے بعد جو فتنہ ظاہر ہوگا وہ اپنے اثرات کی ظلمت اور قتل و غارت گری کی شدت کے اعتبار سے ایک سیاہ اور تاریک شب کی مانند ہوگا اور جس کی سیاہ رات کی تاریکی ہر شخص کو اندھیرے میں مبتلا کردیتی ہے اس طرح اس فتنہ کی ظلمت ہر شخص کے دل و دماغ پر اثر انداز ہوگی اور ہر ایک کے قوائے فکر و عمل پر تاریک سایہ بن کر چھا جائے گی۔ تآنکہ لوگ دو خیموں میں تقسیم ہوجائیں گے کا مطلب یہ ہے کہ زمانہ کے لوگ دو گروہوں میں تقسیم ہوجائیں گے۔ ایک گروہ تو خالص ایمان والوں کا ہوگا کہ جن میں کفر اور نفاق کا نام نہ ہوگا اور ایک گروہ خالص کفر والوں کا ہوگا اور ان میں ایمان و اخلاص کا نام نہ ہوگا۔ اور بعض حضرات نے یہاں فسطاط کا ترجمہ خیمہ کے بجائے شہر کیا ہے یعنی اس زمانے کے لوگ دو شہر یا دو ملکوں میں تقسیم ہوجائیں گے کہ ایک شہر یا ایک ملک میں صرف خالص مسلمانوں اہل ایمان ہوں گے اور ایک شہر یا ملک میں خالص کافر ہوں گے۔ واضح رہے کہ فسطاط اصل میں تو خیمے کو کہتے ہیں لیکن شہر پر بھی اس لفظ کا اطلاق ہوتا ہے اور حدیث میں اس لفظ کا استعمال گویا اس اسلوب کے طور پر ہے کہ ذکر تو محل رہنے کی جگہ کا ہوا، لیکن مراد حال یعنی رہنے والوں کی حالت و کیفیت ہو۔ پس لوگ دو خیموں میں تقسیم ہوجائیں گے کا حاصل یہ ہے کہ اس وقت پوری دنیا کے لوگ واضح طور پر دو طبقوں میں تقسیم ہوجائیں گے، ایک طبقہ اہل ایمان کا ہوگا اور ایک طبقہ اہل کفر کا ہوگا اور ان دونوں طبقوں کے لوگ خواہ دنیا کے کسی حصے میں اور شہر میں سکونت پذیر ہوں اس موقع پر ایک بات بھی ذہن میں رکھنے کی ہے کہ جو یہ فرمایا گیا ہے کہ ایک خیمہ نفاق کا ہوگا کہ اس میں ایمان نہیں ہوگا۔ تو اس خیمہ یا اس طبقہ کے لوگوں میں سے ایمان کی نفی یا تو اصل کے اعتبار سے ہے یعنی اس خیمہ کے لوگوں میں سرے سے ایمان نہیں ہوگا یا کمال ایمان کی نفی بھی مراد ہے یعنی اس خیمہ یا اس طبقہ میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جو ظاہر کے اعتبار سے ایمان رکھتے ہوں، مگر اہل نفاق کے سے اعمال اختیار کرنے، یعنی جھوٹ بولنے، خیانت کرنے اور عہد شکنی وغیرہ کا ارتکاب کرنے کی وجہ سے مخلص اہل ایمان کے زمرے سے خارج ہوں گے۔ دجال کے ظاہر ہونے کے منتظر رہنا کا مطلب یہ ہے کہ جب فتنہ دہیما ظاہر ہوجائے تو سمجھنا کہ دجال کا ظہور ہوا ہی چاہتا ہے، چناچہ اس فتنہ کے فورا بعد دجال ظاہر ہوگا، اس وقت حضرت مہدی دمشق میں ہوگا، دجال دمشق کے شہر کو گھیر لے گا، پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) آسمان سے نازل ہوں گے اور دجال ان کے مقابلے میں پر اس طرح گھل جائے گا، جس طرح پانی میں نمک گھل جاتا ہے، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اس کو اپنے نیزے سے موت کے گھاٹ اتار دیں گے اور اس کی موت سے ان کو بہت زیادہ خوشی ہوگی۔ طیبی نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ فسطاط شہر یا خیمے کو کہتے ہیں جس میں لوگ جمع ہوتے اور رہتے ہیں، نیز حدیث کے اس آخری جزو سے کہ جس میں فسطاط کا ذکر ہے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ فتنہ آخر زمانہ میں ظاہر ہوگا لیکن علماء نے پہلے ذکر کئے گئے فتنوں کے بارے میں کچھ نہیں لکھا اور کہا ہے کہ یہ فتنے کب ظاہر ہوں گے اور کون سے واقعات ان کا مصداق ہیں خصوصا فتنہ سراء کے بارے میں تو مکمل سکوت اختیار کیا ہے اور اس طرف کوئی اشارہ نہیں کیا گیا ہے کہ اہل بیت نبوی میں سے وہ کون شخص ہے جس کو اس فتنہ کا بانی کہا گیا ہے۔

5301Mishkaat-al-Masabih

حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) کی شہادت کا سانحہ اور اس کی تفصیل

یہ بات تو طیبی نے لکھی ہے لیکن بعد کے علماء میں سے حضرت امام شاہ ولی اللہ دہلوی (رح) نے اس حدیث میں مذکورہ فتنوں کے مصداق کا تعین کیا ہے چناچہ انہوں نے لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فتنہ احلاس کے ذریعے جس فتنہ کی طرف اشارہ فرمایا تھا وہ حضرت عبداللہ بن زبیر کی شہادت کی صورت میں ظاہر ہوا ہے جب کہ وہ یزید بن معاویہ کی خلافت کے اعلان کے بعد اس کی بیعت سے گریز کر کے مع اہل و عیال مدینہ سے نکل گئے اور مکہ آگئے تھے پھر جب ٦٢ ھ میں یزید بن معاویہ نے اپنے خلاف اہل مدینہ کی تحریک کو کچلنے کے لئے مسلم بن عقبہ کی کمان میں شامیوں کی ایک بڑی فوج مدینہ کی طرف روانہ کی تو مسلم نے اس شہر مقدس میں پہنچ کر بڑی تباہی پھیلائی اور اہل مدینہ کا قتل عام کرایا۔ یہ واقعہ حرہ کے نام سے مشہور ہے، مسلم نے شامیوں کی یہ فتح یاب فوج لے کر پھر مکہ کا رخ کیا۔ مسلم اگرچہ خود مکہ تک نہیں پہنچ سکا کیونکہ وہ راستے ہی میں مرگیا تھا، البتہ اس کی فوج حصین بن نمیر کی سر کردگی میں مکہ پہنچ گئی اور اس نے ایک دن کی جنگ کے بعد مکہ کا محاصرہ کرلیا، حصین بن نمیر نے کوہ ابن قیس پر منجنیق نصب کر کے خانہ کعبہ پر سنگ باری کا سلسلہ بھی شروع کردیا اس محاصرے اور سنگ باری کے دوران کہ جس کا سلسلہ ایک ماہ سے بھی زائد عرصے تک جاری رہا، اہل مکہ کو بڑی سخت تکلیفوں اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا، اتفاق کی بات کہ اسی اثناء میں دمشق میں یزید کا انتقال ہوگیا اور ابن نمیر نے اس خبر کو سن کر محاصرہ اٹھا لیا اور اپنی فوج کو لے کر دمشق کی طرف واپس روانہ ہوگیا، اس کے بعد حضرت عبداللہ بن زبیر کی خلافت نہ صرف پورے حجاز میں قائم ہوگئی، بلکہ عراق اور مصر تک کے لوگوں نے ان کی خلافت کو تسلیم کرلیا یہاں تک کہ یزید بن معاویہ کے جانشین معاویہ بن یزید کی تقریبا دو ماہ کی مختصر خلافت کے بعد جب کہ اس کا انتقال ہوگیا تھا تو حضرت عبداللہ بن زبیر پورے عالم اسلام کے خلیفہ تسلیم کر لئے گئے لیکن پھر چھ سات ماہ کے بعد مروان بن حکم نے اپنی سازشوں اور کوششوں میں کامیاب ہو کر شام پر قبضہ جما لیا اور دمشق میں اپنی خلافت کا اعلان کردیا، شام کے بعد مصر اور عراق بھی حضرت زیبر کی خلافت سے نکل گئے اسی دوران مروان بن حکم مرگیا اور اس کا بیٹا عبدالملک بن مروان اس کا جانشین ہوا، عبدالملک نے زبردست جنگی طاقت کے ذریعے تقریبا تمام ہی علاقوں سے حضرت زبیر کی خلافت کو ختم کردیا اور آخر میں حجاج بن یوسف کی کمان میں ایک لشکر جرار مکہ مکرمہ کی طرف روانہ کیا اور ٧٢ ھ کے ماہ رمضان میں حجاج نے شہر مکہ کا محاصرہ کرلیا اور کوہ ابوقبیس پر منجنیق لگا کر سنگ باری شروع کردی اور محاصرہ سنگ باری کا یہ سلسلہ ذی الحجہ تک جاری رہا، اس عرصے میں اہل مکہ کو بڑی زبردست مصیبت و پریشانی اور تباہی کا سامنا کرنا پڑا حج کے دنوں میں کچھ عرصے کے لئے سنگ باری بند ہوگئی اور حج ختم ہوتے ہی یہ سلسلہ پھر شروع ہوگیا جس کا نشانہ براہ راست خانہ کعبہ تھا جہاں حضرت عبداللہ محصور تھے اور آخری مرحلے پر حضرت عبداللہ بن زبیر نے خانہ کعبہ سے نکل کر محض چند ساتھیوں کے ہمراہ شامیوں کے اس عظیم لشکر پر حملہ کیا اور بڑی بہادری کے ساتھ لڑتے رہے جب وہ چند ساتھی بھی ایک ایک کر کے کام آگئے اور خود ان پر دشمنوں نے چاروں طرف سے پتھروں اور تیروں کی بارش شروع کردی تو دنیا کا یہ عظیم الشان بہادر و متقی انسان داد شجاعت دیتا ہوا بڑی مظلومیت کے ساتھ جمادی الثانی ٧٣ ھ کی ایک خوں آشام تاریخ میں اس طرح شہید ہوا کہ اس وقت میدان جنگ میں بہادری و شجاعت، زہد و عبادت اور ہست و شرافت کے علاوہ کوئی انسان ان کی مبارک لاش پر کف افسوس ملنے والا بھی موجود نہیں تھا۔ یہ حضرت عبداللہ بن زبیر کی شہادت کا وہ واقعہ ہے جس کو حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی (رح) نے فتنہ احلاس کا مصداق قرار دیا ہے۔

5302Mishkaat-al-Masabih

فتنہ مختار کی تفصیل

فتنہ سراء کے بارے میں حضرت شاہ صاحب کا کہنا یہ ہے کہ یہ فتنہ بھی مختار کے فتنہ و فساد کی صورت میں ظہور پذیر ہوچکا ہے۔ مختار وہ شخص تھا جس نے پہلے تو مکر و فریب کے ذریعے پھر باقاعدہ جنگ کر کے اہل عراق پر تسلط حاصل کرلیا تھا اور اپنی اس کاروائی کے لئے حضرت محمد بن الحنفیہ کی اجازت اور اہل بیت نبوی ﷺ کی تائید ونصرت کا دعویٰ رکھتا تھا۔ اس کا واقعہ بھی تھوڑی سی تفصیل کا متقاضی ہے۔ اس شخص کا اصل نام مختار بن عبیدہ ابن مسعود ثقفی تھا۔ کوفہ (عراق) میں رہتا تھا اور شیعان علی میں سے تھا حضرت امام حسین ؓ نے اہل کوفہ کی دعوت پر جب کوفہ جانا طے کرلیا اور پہلے اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل کو وہاں بھیجا تاکہ وہ پوشیدہ طور پر کوفہ میں کام کر کے لوگوں سے ان کے نام پر بیعت لیں تو مسلم بن عقیل کوفہ پہنچ کر اسی مختار بن عبیدہ کے مکان پر فروکش ہوئے تھے پھر اس سلسلے میں جو کچھ پیش آیا اور حادثہ کربلا واقع ہوا وہ سب بہت مشہور واقعات ہیں۔ کربلا میں شہادت حسین کے سانحہ کے بعد کوفہ میں ایک جماعت توابین کے نام سے معرض وجود میں آئی جس کا سردار سلیمان بن صرد تھا یہ جماعت کوفہ کے ان لوگوں پر مشتمل تھی جو یہ کہا کرتے تھے کہ ہم لوگوں کی بےوفائی کی وجہ سے حضرت امام حسین ؓ کو کربلا میں جام شہادت نوش کرنا پڑا اور ہم اپنے اس جرم کا اعتراف کرتے ہوئے تائب ہوتے ہیں اور عہد کرتے ہیں کہ اس جرم کی تلافی کے طور پر خون حسین کا انتقام لیں گے اور ہر اس شخص کو موت کے گھاٹ اتار دیں گے، جس نے قتل حسین میں ذرا بھی حصہ لیا ہے۔ مختار بن عبیدہ چونکہ پہلے ہی سے اپنی مختلف سازشوں کے ذریعے عراق پر قبضہ جمانے کی کوشش کر رہا تھا اور اس مقصد کے لئے قاتلان حسین کے خلاف لوگوں کے جذبات بھڑکا کر انہیں اپنے گرد جمع کر رہا تھا، اس لئے اس نے توابین کی جماعت سے فائدہ اٹھانے کا ارادہ کرلیا اور جماعت کے لوگوں اور ان کے ہمنواؤں کو جمع کر کے کہا کہ تمہارا سردار سلمان تو ایک پست ہمت آدمی ہے، لڑنے سے جان چراتا ہے، لہٰذا امام مہدی محمد بن الحنفیہ نے جو حضرت امام حسین کے بھائی ہیں مجھے کوفہ میں اپنا نائب بنا کر بھیجا ہے، تم لوگ میرے ہاتھ پر بیعت کرلو اور خون حسین کا بدلہ لینے کے لئے میرے جھنڈے تلے جمع ہوجاؤ، چناچہ کوفہ کے وہ تمام لوگ جو شیعان حسین کہلاتے تھے، مختار کے ہاتھ پر بیعت ہونے لگے اس وقت عراق پر حضرت عبداللہ بن زبیر کی خلافت کا قبضہ تھا اور کوفہ میں ان کی طرف سے عبداللہ بن یزید گورنر تھے انہیں جب مختار کی سرگرمیوں اور اس کے حقیقی ارادوں کا علم ہوا تو انہوں نے مختار کو گرفتار کر کے جیل میں بند کردیا، لیکن توابین کی جماعت کا سردار سلیمان ابن صرد بہرحال اپنی جنگی تیاریوں میں پہلے ہی سے مصروف تھا، وہ ستر ہزار مسلح افراد کا لشکر لے کر عبداللہ بن زیاد کے خلاف جنگ کرنے چلا جو کربلا میں حضرت امام حسین ؓ کو شہید کرنے والی کار روائیوں کا تمام تر ذمہ دار تھا اور مروان بن حکم کی طرف سے موصل میں بحیثیت گورنر تعینات تھا، پھر عین الوردہ کے مقام پر عبداللہ بن زیاد کی فوجوں سے اس کا مقابلہ ہوا اور کئی دن کی جنگ کے بعد خود سلیمان بن صرد اور جماعت توابین کے تمام بڑے بڑے سردار مارے گئے فوج میں سے جو لوگ باقی بچے وہ وہاں سے بھاگ کر کوفہ واپس آگئے، کوفہ میں مختار نے جیل سے جہاں وہ قید تھا ان لوگوں کو ہمدردی کا پیغام بھیجا اور تسلی دلائی کہ تم لوگ غم نہ کرو، اگر میں زندہ رہا تو خون حسین کے ساتھ تمہارے مقتولین کے خون کا بدلہ بھی ضرور لوں گا، اس کے بعد اس نے کسی کے ذریعے سے جیل کے اندر ہی سے ایک خط حضرت عبداللہ بن عمر کے نام مدینہ بھیجا جس میں یہ درخواست کی کہ عبداللہ بن یزید گورنر کوفہ سے سفارش کر کے مجھے رہائی نصیب فرمائیں چناچہ حضرت عبداللہ بن عمر نے گور رنر کوفہ کو سفارشی خط لکھ دیا اور گورنر نے ان کی سفارش کی تکریم میں مختار کو اس شرط پر جیل سے رہا کردیا کہ وہ کوفہ میں کوئی شورش نہیں پھیلائے گا اور اپنے گھر میں بیٹھا رہے گا۔ اس مکار نے جیل سے آنے کے بعد کوفہ والوں اور بالخصوص شیعان حسین پر یہ ظاہر کیا کہ یہ میری روحانی طاقت اور کرامت تھی جس نے جیل کے دروازے وا کرا دئیے اور میں باہر آگیا۔ ادھر کسی وجہ سے حضرت عبداللہ بن زبیر نے عبداللہ بن یزید کو کوفہ کی گورنری سے معزول کر کے ان کی جگہ عبداللہ بن مطیع کو مقرر کردیا، مختار نے اس عزل ونصب کو بھی اپنی کرامت ظاہر کیا اور پرانے حاکم کے کوفہ سے چلے جانے کے بعد تمام پابندیوں کو توڑ کر آزادانہ طور پر اپنی سازشی کار روائیوں میں مصروف ہوگیا، اس نے مکر و فریب اور عیاریوں کے ذریعے کوفہ والوں پر اپنی روحانی بزرگی و کر امت کا کچھ ایسا سکہ جمایا کہ لوگ دھڑا دھڑ اس کے مرید ہونے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کی جماعت حیرت انگیز طور پر ترقی کرگئی، کو توال شہر نے اس کی جماعت کی ترقی اور اس کی سازشی تحریک سے گورنر کو مطلع کیا اور دارالامارۃ (گورنر ہاؤس) سے اس کے خلاف کار روائی کرنے تیاری بھی ہوئی مگر وقت گزر چکا تھا اور مختار نہایت عیاری کے ساتھ حکام کے ہاتھ لگنے سے بچ گیا اور روپوش ہو کر اپنی جماعت کو ایک باضابطہ فوج میں تبدیل کردیا اور کوفہ پر قبضہ کرنے کے منصوبے کی تکمیل میں مصروف ہوگیا ادھر اس نے محمد بن الحنفیہ کو پوری طرح شیشے میں اتار ہی رکھا تھا چناچہ جب مختار نے کوفہ کے بعض دوسرے بااثر حضرات کو قاتلان حسین کے خلاف بھڑکا کر اپنے ساتھ ملانا چاہا اور محمد بن الحنفیہ کی نیابت کا دعویٰ کیا اور ان لوگوں نے کچھ آدمیوں کو اس کے دعویٰ کی تصدیق کے لئے محمد بن الحنفیہ کے پاس بھیجا تو انہوں نے کہا کہ ہاں مختار کا خون حسین کا بدلہ لینے کی ہم نے اجازت دی ہے۔ اس تصدیق نے مختار کو بہت تقویت پہنچائی آخر کار ایک دن رات کے اندھیرے میں مختار نے اپنی جماعت کے مسلح افراد کے ساتھ خروج اختیار کیا اور کوفہ کے گلی کوچوں میں لڑائی چھڑ گئی، کافی سخت مقابلہ آرائی کے بعد سرکاری فوج کو شکست ہوگئی اور عبداللہ بن مطیع گورنر کوفہ کو دارالامارۃ میں محصور ہونا پڑا اور پھر تین دن کے بعد وہ کسی نہ کسی طرح دارالامارۃ سے چھپ کر نکلنے میں کامیاب ہوگئے مختار نے سرکاری دفاتر اور بیت المال پر قبضہ کرلیا اور کوفہ کے لوگوں سے محمد بن الحنفیہ کے نام پر بیعت لینے لگا اور پورے شہر پر اس کا تسلط قائم ہوگیا، کچھ ہی دنوں کے بعد کوفہ کے لوگ مختار کے خلاف ہوگئے مگر مختار نے بڑی چالاکی کے ساتھ ان پر بھی قابو پا لیا اور پورے شہر میں اس طرح قتل عام کرایا کہ کوفہ کا کوئی بھی گھر ایسا نہیں بچا جس میں سے ایک یا دو یا اس سے زائد آدمی قتل نہ کئے گئے ہوں اس نے قاتلان حسین سے بھی انتقام لیا اور جس جس نے میدان کربلا میں کوئی حصہ لیا تھا ان میں سے ہر ایک کا سر تن سے جدا کرا دیا ایک طرف تو وہ کوفہ پر تسلط پانے کے بعد دوسرے علاقوں پر قبضہ کرنے کی کاروائیوں میں مصروف رہا اور دوسری طرف حضرت علی ؓ کی کرسی کھڑاگ کھڑا کر کے لوگوں کو اپنی غیر معمولی روحانی طاقتوں کا معتقد بنانے میں لگا رہا اور رفتہ رفتہ نبوت کے دعوؤں تک پہنچ گیا۔ جب حضرت عبداللہ بن زبیر کو معلوم ہوا کہ مختار نہ صرف یہ کہ کوفہ میں لوگوں کا قتل عام کر رہا ہے اور اہل کوفہ پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑ رہا ہے اور دوسرے علاقوں کو بھی ہتھیانے کے منصوبے بنا رہا ہے بلکہ یہ مشہور کرنے لگا ہے کہ میرے پاس جبرائیل امین آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی لاتے ہیں اور میں بطور نبی مبعوث ہوا ہوں تو انہوں نے اس کے استیصال میں مزید تاخیر کرنا کسی طرح مناسب نہ سمجھا اور اپنے بھائی مصعب بن زبیر کو بصرہ کا گورنر مقرر کر کے مختار کے فتنہ کی سرکوبی کی مہم ان کے سپرد کی، چناچہ حضرت مصعب اپنی فوج کو لے کر کوفہ کی طرف چلے، ادھر جب مختار کو اس فوج کشی کا علم ہوا تو وہ بھی اپنا لشکر لے کر کوفہ سے نکلا، دونوں فوجوں کا مدارا نامی گاؤں کے قریب مقابلہ ہوا اور خوب زور و شور کی لڑائی ہوئی آخر کار مختار شکست کھا کر کوفہ بھاگا اور دارالامارۃ میں قلعہ بند ہوگیا۔ حضرت مصعب بن زبیر ؓ نے کوفہ پہنچ کر دارالامارۃ کا محاصرہ کرلیا، مختار سامان رسد کی کمی سے مجبور ہو کر قلعہ کا دروازہ کھول کر باہر آیا اور آخری مرتبہ مقابلہ کیا لیکن جلد ہی موت کے گھاٹ اتر گیا اور اس طرح کوفہ کا یہ فتنہ ختم ہوگیا۔

5303Mishkaat-al-Masabih

مروان کا قصہ

حدیث میں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ اس کے بعد لوگ ایک ایسے شخص کی بیعت پر اتفاق کرلیں گے جو پسلی کی ہڈی کے اوپر کو ل ہے کی مانند ہوگا۔ تو حضرت شاہ صاحب نے اس کا مصداق مروان بن حکم کو قرار دیا ہے۔ مروان بن حکم کی خلافت کا قصہ اگرچہ مختار کے فتنہ سے پہلے ہی ہوچکا تھا اور جس وقت حضرت عبداللہ بن زبیر کی فوج نے اس کو کوفہ میں قتل کر کے اس فتنہ کی سرکوبی کی اس وقت مروان بن حکم کا انتقال ہوچکا تھا اور بنو امیہ کی خلافت کا جانشین عبدالملک بن مروان مقرر ہوچکا تھا لیکن اگر اس لفظی تقدیم و تاخیر سے صرف نظر کر کے دیکھا جائے تو حضرت شاہ صاحب کے بیان کردہ اس مصداق کو صحیح ماننے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، یہ مروان بن حکم وہی تھا جس نے معاویہ بن یزید بن معاویہ کے انتقال کے بعد پورے عالم اسلام پر حضرت عبداللہ بن زبیر کی قائم ہوجانے والی خلافت کو چیلنج کیا اور مختلف سازشوں کے ذریعے دمشق میں اپنی خلافت پر بیعت کرنے کے لئے لوگوں کو مجبور کردیا، چناچہ بنو امیہ کے علاوہ شام کے دیگر قبائل بنو کلب اور عنان و طے وغیرہ نے اس کی خلافت پر اتفاق کرلیا اور پھر اسی وقت سے افتراق و انتشار اور فتنہ و فساد کا سلسلہ شروع ہوگیا جس نے اسلام اور مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچایا اور ملی طاقت کو اس طرح متشر کردیا کہ کافی عرصے تک مسلمان آپس میں برسر پیکار رہے اور جس قوت کو دشمنان دین کے خلاف استعمال ہونا چاہئے تھا وہ مختلف علاقوں میں اپنے مسلمان بھائیوں کا خون بہانے کے لئے استعمال ہوتی رہی۔ مروان بن حکم عیار و چالاک ہونے کے باجود قوت فیصلہ، بصیرت و تدبر اور رائے ومزاج کے استقلال و استحکام جیسے وہ اوصاف نہیں رکھتا تھا جو ملی نظم ونسق اور مملکت کے سیاسی استحکام کے لئے اشد ضروری تھے اس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ جس زمانے میں معاویہ بن یزید کی وفات کے بعد دمشق میں انتخاب خلیفہ کے متعلق اختلاف ہوا اور شام میں بنو امیہ کے حامی مددگار و طاقتور اور مقتدر قبائل بنو کلب اور بنو قیس کے درمیان رقابتیں آشکارا ہونے لگیں تو مروان نے یہ دیکھ کر کہ نہ صرف عراق بلکہ شام کا بھی ایک بڑا حصہ حضرت عبداللہ بن زبیر کی خلافت کو تسلیم کرچکا ہے، ارادہ کیا تھا کہ دمشق سے روانہ ہو کر حضرت عبداللہ بن زبیر کی خدمت میں حاضر ہو اور اور ان کے ہاتھ پر بیعت کر کے ان کی خلافت کا وفادار ہوجائے بلکہ اس نے سفر کا سامان بھی درست کرلیا تھا لیکن اس دوران عبداللہ بن زیاد دمشق آگیا جب اس کو مروان کے اس ارادے کا علم ہوا تو اس نے مروان کو باصرار اس ارادے سے باز رکھا اور اس بات پر ہموار کرلیا کہ وہ خلافت کے امیدوار کی حیثیت سے بیعت لینا شروع کر دے، چناچہ مروان کی خلافت دراصل عبداللہ بن زیاد کی کوششوں کا نتیجہ تھی، اگر مروان میں مستقل مزاجی، رائے کی پختگی اور تدبر و دور اندیشی کا جوہر ہوتا تو وہ کسی قیمت پر ابن زیاد کی رائے نہ مانتا اور اپنے ارادے میں اٹل رہ کر حضرت عبداللہ بن زبیر کی خدمت میں چلا جاتا اور اس کی وجہ سے جو فتنے پیدا ہوئے اور پوری ملت کو جس نقصان وضرر میں، مبتلا ہونا پڑا شاید اس کی نوبت نہ آتی۔

5304Mishkaat-al-Masabih

فتنہ دہیما کا مصداق

فتنہ دہیما کے بارے میں حضرت شاہ صاحب کا کہنا یہ ہے کہ اس کے ذریعے حضور ﷺ نے ترکوں (تاتاریوں) کے اس قبضہ و تسلط کی پیشین گوئی فرمائی جس نے اسلامی شہروں کو تراج کیا اور مسلمانوں کو سخت ترین تباہی و بربادی سے دوچار کیا، چناچہ اس وقت جس جس نے ترکوں کی حمایت کی اور ان کے معاون بنے وہ منافقین کے زمرے میں شمار کئے گئے یہ ساتویں صدی ہجری کے وسط کا واقعہ ہے جب کہ خلافت عباسیہ کا آخری فرمانروا مستعصم باللہ بن مستنصر باللہ بغداد کے تخت خلافت پر متمکن تھا، یہ انتہائی کم ہمت، بےحوصلہ اور غیر مدبر خلیفہ تھا اس نے اپنا وزیر موئد الدین علقمی کو بنا رکھا تھا جو نہایت متعصب اور بدباطن شیعہ تھا علقمی نے عہد وزارت پر فائز ہوتے ہی اپنی عیاریوں اور چالا کیوں سے خلیفہ کو عضو معطل بنا کر خود سیاہ وسفید کا مالک بن بیٹھا، اس کی شروع سے یہ خواہش تھی کہ کسی طرح عباسیوں کا نام ونشان ختم کر کے بغداد میں علویوں کی خلافت قائم ہوجائے اس خواہش کی تکمیل کے لئے اس نے ایک غیر ملکی طاقت یعنی تاتاریوں سے سازباز کرلی اور چنگیزخاں کے پوتے ہلاکو خان کو دعوت دی کہ تم اپنی فوج لے کر بغداد پر حملہ کردو، میں نہایت آسانی کے ساتھ تمہیں بغداد کی خلافت اور اس کے زیر تسلط دوسرے علاقوں اور ممالک پر قبضہ کرا دوں گا، ہلاکو خاں کو شروع میں تو اس کی دعوت قبول کرنے میں تامل ہوا کیونکہ اہل بغداد کی شجاعت وبہادری اور خلافت کی ہیبت سے مرعوب تھا لیکن جب علقمی نے مختلف حیلوں اور سازشوں کے ذریعے بغداد کی فوج کا بہت بڑا حصہ دور دراز کے علاقوں اور شہروں میں منتشر کرا دیا اور باقی ماندہ فوجیوں کے ذریعے شہر میں بعض اقدامات کرا کے لوٹ مار کا بازار گرم کرا دیا جس سے سخت ابتری اور انتشار پھیل گیا اور ہلاکو خان کو معلوم ہوگیا کہ خلافت کی طاقت بہت کمزور ہوگئی ہے اور خلیفہ کی طاقت بہت کمزور ہوگئی ہے اور خلیفہ کی فوج کسی بڑے عملے کو برداشت کرنے کے قابل نہیں رہی ہے تو ہلاکو خان نے اس دعوت کو قبول کرنے کی راہ میں کوئی رکاوٹ محسوس نہیں کی، علقمی نے ایک چال اور اختیار کی اس نے بغداد کے شیعوں کی طرف سے ہلاکو خان کو کثیر تعداد میں بغداد پر حملہ کرنے کی دعوت پر مشتمل خطوط راوانہ کر ادئیے جن میں یہ لکھا گیا تھا کہ ہمارے بزرگوں نے بطور پیشین گوئی ہمیں خبر دی تھی کہ فلاں سن میں فلاں تاتاری سردار بغداد و عراق پر قبضہ کرلے گا اور ہمارا یقین ہے کہ وہ فاتح سردار آپ ہی ہیں اس بات سے ہلاکو خان کے ارادے کو اور تحریک ملی، ادھر خود ہلاکو خان کے دربار میں ایک شیعہ نصیرالدین طوسی پہلے سے موجود تھا اور علقمی کی طرح وہ بھی عباسیوں کی خلافت ختم کرانے کے درپے تھا، اس نے بھی مختلف ترغیبات اور لالچ کے ذریعے ہلاکو خان کے ارادے کو بہت تقویت پہنچائی۔ چناچہ ہلاکو خان نے پہلے تو ایک زبردست فوج ہر اول دستے کے طور پر بغداد کی طرف روانہ کی جس کا مقابلہ خلیفہ کی کمزور فوج سے ہوا اور شروع میں اس فوج نے کچھ کامیابی بھی حاصل کی مگر انجام کار شکست سے دوچار ہوئی اور تاتاریوں کا ہر اول دستہ کامیاب رہا، پھر ہلاکو خان ایک بہت بڑی فوج لے کر بغداد کے اوپر چڑھ آیا اور شہر کا محاصرہ کرلیا، اہل شہر نے اس کا مقابلہ کیا اور پچاس روز تک تاتاریوں کو شہر میں گھسنے نہیں دیا۔ لیکن بغداد کے شیعوں نے نہ صرف یہ کہ خفیہ طور پر ہلاکو خان سے اپنے لئے امن و تحفظ کی ضمانت حاصل کرلی تھی بلکہ شہر کے حالات اور فوجی اطلاعات بھی ہلاکو خان کو پہنچاتے رہے پھر علقمی نے ایک اور سازش کی، اس نے خلیفہ سے کہا کہ میں نے آپ کے لئے امن و تحفظ کی ضمانت حاصل کرلی ہے، آپ ہلاکو خان کے پاس چلیں وہ آپ کے ساتھ اعزازو تکریم سے پیش آئے گا اور مفاہمت کر کے آپ کو بغداد و عراق کا حکمراں باقی رکھے گا۔ خلیفہ علقمی کے بہکاوے میں آ کر اپنے بیٹے کے ساتھ شہر سے نکل کر ہلاکو خان کے لشکر میں پہنچا، ہلاکو خان نے خلیفہ کو دیکھ کر کہا کہ آپ اپنے اراکین سلطنت اور شہر کے علماء وفقہاء کو بھی یہیں بلوا لیجئے چناچہ خلیفہ نے ان سب کو حکم بھیج کر وہاں بلوا لیا، جب سب لوگ آگئے تو ہلاکو خان نے خلیفہ کے سامنے ہی ان سب کو ایک ایک کر کے قتل کروا دیا اس کے بعد ہلاکو خان نے خلیفہ سے کہا کہ تم شہر میں پیغام بھیج دو کہ اہل شہر ہتھیار رکھ کر شہر سے باہر آجائیں، خلیفہ نے یہ پیغام بھی شہر میں بھیج دیا، اہل شہر باہر نکلے اور تاتاریوں نے ان کو قتل کرنا شروع کیا شہر کے تمام سوار پیادے اور شرفاء کھیرے ککڑی کی طرح کئی لاکھ کی تعداد میں کاٹ ڈالے گئے، شہر کی خندق ان کی لاشوں سے بھر گئی اور اس قدر خون بہا کہ اس کی کثرت سے دریائے دجلہ کا پانی سرخ ہوگیا، تاتاری لوگ شہر میں گھس پڑے عورتیں اور بچے اپنے سروں پر قرآن شریف رکھ کر نکلے مگر تاتاریوں کی تلوار سے کوئی بھی نہ بچ سکا اور ان ظالموں نے بغداد اور اس کے مضافات میں چن چن کر لوگوں کو قتل کیا، شہر بغداد میں صرف چند شخص جو کنویں اور دوسری پوشیدہ جگہوں میں چھپے ہوئے رہ گئے، زندہ بچے، باقی کوئی متنفس زندہ نہیں چھوڑا گیا۔ اگلے دن یعنی ٩ صفر ٦٥ ھ کو ہلاکو خان، خلیفہ مستعصم باللہ کو ہمراہ لے کر بغداد میں داخل ہوا اور قصر خلافت میں پہنچ کر دربار کیا، خلیفہ سے تمام خزانوں کی کنجیاں لے لیں، جتنے دفینے تھے سب حاصل کئے، پھر خلیفہ کو نظر بند کردیا گیا اور بھوکا پیاسا رکھا گیا، اس کے بعد جب ہلاکو خاں نے خلیفہ مستعصم کے مستقبل کے بارے میں اپنے اراکین سے مشورہ کیا تو سب نے رائے دی کہ اس کو قتل کردینا چاہئے لیکن بدبخت علقمی اور طوسی نے کہا کہ نہیں تلوار کو اس کے خون سے آلودہ نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس کو نمدے میں لپیٹ کر لاتوں سے کچلوانا چاہئے، چناچہ یہ کام علقمی ہی کے سپرد ہوا اور اس نے اپنے آقا مستعصم باللہ کو نمدے میں لپیٹ کر اور ایک ستون سے باندھ کر اس قدر لاتیں لگوائیں کہ خلیفہ کا دم نکل گیا۔ پھر اس کی لاش کو زمین پر ڈال کر تاتاری سپاہیوں کے پیروں سے روندوا کر پارہ پارہ اور ریزہ کروا دیا اور خود دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا رہا کہ میں علویوں کا انتقام لے رہا ہوں غرض یہ کہ بدنصیب خلیفہ کی لاش کو گور و کفن بھی نصیب نہیں ہوا اور اس طرح خاندان عباسیہ کی خلافت کا خاتمہ ہوگیا اس کے بعد ہلاکو خان نے شاہی کتب خانہ کو بھی نہیں بخشا، جس میں بیشمار کتابوں کا ذخیرہ تھا، یہ تمام کتابیں دریائے دجلہ میں پھینک دی گئیں جس سے دریا میں ایک بند سا بندھ گیا اور بتدریج پانی ان سب کو بہا لے گیا، دجلہ کا پانی جو بغداد ومضافات کے مقتولین کے خون سے سرخ ہو رہا تھا اب ان کتابوں کی روشنائی سے سیاہ ہوگیا اور عرصہ تک سیاہ رہا۔ تمام شاہی محلات کو لوٹ کر مسمار کردیا۔ مورخین نے لکھا ہے کہ اس وقت ہلاکو خان کی فوج کے ہاتھوں بغداد اور مضافات بغداد میں جو قتل عام ہوا اس کے نتیجے میں ایک کروڑ چھ لاکھ مسلمان مقتول ہوئے۔ غرض یہ کہ وہ ایسی عظیم الشان اور ہیبت ناک خونریزی اور بربادی تھی جس کی نظیر تاریخ عالم میں نہیں مل سکتی اور اسلام پر ایک ایسی مصیبت آئی تھی کہ لوگوں نے اس کو قیامت صغری کے نام سے تعبیر کیا ہے۔ اس سانحہ عظمی کا سب سے زیادہ عبرت ناک پہلو یہ ہے کہ علقمی نے جس علوی خلافت کے قیام اور اپنی حکمرانی کی خواہش کے تحت اتنی عظیم الشان تباہی و بربادی کے اسباب پیدا کئے اور پورے عالم اسلام کو زبردست نقصان پہنچنے کا باعث بنا، اس کے ہاتھ کچھ نہ لگا، ہلاکو خان نے کسی ہاشمی یا علوی کو خلیفہ وحکمران بنانے کے بجائے اپنے آدمیوں کو عراق میں حاکم بنادیا، علقمی نے بہت چالیں چلیں ہلاکو خان کے آگے رویا گڑ گڑایا اور لاکھ منت سماجت کی لیکن ہلاکو خان نے اس کو اس طرح دھتکار دیا جس طرح کتے کو دھتکار دیتے ہیں کچھ دنوں تک علقمی غلاموں کی طرح تاتاریوں کے ساتھ ان کی جوتیاں سیدھی کرتا پھرا، آخر اپنی منافقت وغداری کا عبرتناک حشر دیکھ کر ناکامی ومایوسی کے غم سے بہت جلد مرگیا اس سانحہ کے بعد بغداد دارلخلافہ بھی نہیں رہا اور خلیفہ مستعصم باللہ کے بعد تین سال کا ایسا عرصہ گزرا جس میں دنیا میں کوئی خلیفہ نہیں تھا۔

5305Mishkaat-al-Masabih

زمانہ نبوی کے بعد عرب میں ظہور پذیر ہونے والے فتنہ کی پیشین گوئی

وعن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال ويل للعرب من شر قد اقترب أفلح من كف يده . رواه أبو داود .

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ افسوس اور بدنصیبی عرب کی کہ برائی کے فتنے کا ظاہر ہونا قریب آگیا، اس فتنہ میں وہی شخص نجات یافتہ اور فلاح یاب رہے گا جس نے اپنا ہاتھ روکے رکھا۔ (ابو داؤد) تشریح طیبی (رح) کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے اس ارشاد گرامی کے ذریعے عرب کے اس فتنہ کی طرف اشارہ فرمایا جو حضرت عثمان غنی ؓ کی خلافت میں پیش آیا اور جس نے مسلمانوں کے باہمی افتراق و انتشار، خروج و بغاوت اور بدامنی وخانہ جنگی کی صورت میں نہ صرف حضرت عثمان غنی ؓ کو جام شہادت نوش کرنے پر مجبور کیا بلکہ اس کا سلسلہ بعد میں حضرت علی ؓ اور حضرت امیر معاویہ ؓ کی آویزش کی صورت میں بہت دنوں تک جاری رہا اور اسلام اور مسلمانوں کو کافی نقصانات برداشت کرنا پڑے۔ لیکن ملا علی قاری کا کہنا یہ ہے کہ حضور ﷺ کے اس ارشاد گرامی کا مصداق حضرت امام حسین ؓ کے خلاف یزید بن معاویہ کی وہ کار روائی ہے جس کے نتیجے میں امام عالی مقام کربلا کے میدان میں شہید ہوئے۔ معنی کے اعتبار سے یہ قول زیادہ صحیح اور حدیث کے قریب تر ہے کیونکہ حضرت امام حسین ؓ کی شہادت کا سانحہ ایک ایسا فتنہ تھا جس کی برائی میں عرب وعجم میں سے کسی کو بھی کوئی شک وشبہ نہیں۔

5306Mishkaat-al-Masabih

فتنہ وفساد سے دور رہنے والا شخص نیک بخت ہے

وعن المقداد بن الأسود قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إن السعيد لمن جنب الفتن أن السعيد لمن جنب الفتن إن السعيد لمن جنب الفتن ولمن ابتلى فصبر فواها . رواه أبو داود .

حضرت مقداد بن اسود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ یقینا نیک بخت وہ شخص ہے جو فتنوں سے محفوظ رکھا گیا ہو، یقینا نیک بخت وہ شخص ہے جو فتنوں سے محفوظ رکھا گیا ہو (گویا آپ نے بات کی اہمیت کو زیادہ موثر اور تاکیدی انداز میں بیان کرنے کے لئے یہ جملہ تین بار ارشاد فرمایا) اور یقینا نیک بخت وہ شخص بھی ہے جو فتنہ میں مبتلا کیا گیا لیکن اس نے صبر و ضبط کا دامن پکڑے رکھا اور قابل افسوس وہ شخص ہے جو نہ فتنوں سے محفوظ رکھا گیا اور نہ اس نے صبر وضبط اختیار کیا۔ (ابو داؤد) تشریح واھا کے معنی ہیں افسوس، حسرت اور کبھی یہ لفظ عجب، یعنی خوشی ظاہر کرنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے، پس اگر یہاں یہ لفظ اظہار افسوس و حسرت کے معنی میں لیا جائے تو کہا جائے گا کہ فواھا کا لفظ ماقبل جملہ یعنی لمن ابتلی فصبر سے الگ ہے اور ایک ایسے جملے کے ساتھ تعلق رکھتا ہے جو اگرچہ لفظوں میں مذکور نہیں ہے لیکن اس کا مفہوم مراد لیا گیا ہے، اس صورت میں پوری عبارت گویا یوں ہوگی کہ یہ اور قابل افسوس وہ شخص ہے جو فتنوں سے محفوظ نہ رکھا گیا ہو اور فتنوں میں مبتلا ہونے کی صورت میں اس نے صبر و ضبط اختیار نہ کیا ہے۔ اس طرح ماقبل جملہ لمن ابتلی فصبر میں لفظ لمن کے لام کو مفتوح قرر دیا جائے گا۔ اور اگر یہاں واھا کے معنی عجب یعنی خوشی کو ظاہر کرنا، مراد ہوں تو اس صورت میں فواھا کسی علیحدہ جملے کے مفہوم کو ادا کرنے کے لئے نہیں ہوگا یا یہ کہ ماقبل جملہ لمن ابتلی فصبر سے جڑا ہوا سمجھا جائے گا اور اس جملے کا ترجمہ یوں ہوگا کہ فتنوں سے محفوظ رہنا اور اگر فتنے میں مبتلا ہوجائے تو صبر و ضبط اختیار کرنا کتنی اچھی اور خوش کرنے والی بات ہے؟ چناچہ بعض محدثین نے جو یہاں لمن ابتلی فصبر میں لمن کے لام کو زیر کے ساتھ پڑھا اور لکھا ہے اور اس کو فواھا کے متعلق کہا ہے تو اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ یہاں واھا کا لفظ عجب، یعنی اظہار خوشی کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔

5307Mishkaat-al-Masabih

چند پیشین گوئیاں

وعن ثوبان قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا وضع السيف في أمتي لم يرفع عنها إلى يوم القيامة ولا تقوم الساعة حتى تلحق قبائل من أمتي بالمشركين وحتى تعبد قبائل من أمتي الأوثان وإنه سيكون في أمتي كذابون ثلاثون كلهم يزعم أنه نبي الله وأنا خاتم النبيين لا نبي بعدي ولا تزال طائفة من أمتي على الحق ظاهرين لا يضرهم من خالفهم حتى يأتي أمر الله . رواه أبو داود .

حضرت ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جب میری امت میں آپس میں تلوار چل جائے گی تو پھر قیامت تک امت کے لوگوں کے قتل و قتال سے باز نہیں رہے گی۔ اور اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک میری امت کے بعض قبائل مشرکوں کے ساتھ نہ جا ملیں گے اور اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک میری امت کے بعض قبائل بتوں کو پوجنے لگیں گے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ میری امت میں سے تیس جھوٹے (یعنی نبوت کا دعویٰ کرنے والے) ظاہر ہوں گے۔ ان میں سے ہر ایک یہ گمان کرے گا کہ وہ اللہ کا نبی ہے جب کہ واقعہ یہ ہے کہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اور میری امت میں سے ہمیشہ ایک جماعت حق پر ثابت قدم رہے گی (یعنی عملی طور پر بھی اور علمی طور پر بھی دین کے صحیح راستے پر چلنے والی ہوگی اور دشمنان دین پر غالب رہے گی) اس جماعت کا کوئی بھی مخالف وبدخواہ اس کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا (کیونکہ اس جماعت کے لوگ دین پر ثابت قدم اور برحق ہونے کی وجہ سے اللہ کی مدد و نصرت کے سایہ میں ہوں گے) تآنکہ اللہ کا حکم آئے۔ ( ابوداؤد، ترمذی) تشریح حدیث کے پہلے جملے کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک دفعہ کو بعض مسلمانوں کی وجہ سے میری امت میں باہمی محاذ آرائی آپس میں قتل و قتال کی سیاست کو عمل ودخل کا موقع مل گیا تو پھر مسلمانوں کی باہمی خونریزی اور ایک دوسرے کے خلاف تشدد و طاقت کے استعمال کا ایسا سلسلہ شروع ہوجائے گا جو قیامت تک ختم نہیں ہوگا اور ہمیشہ میری امت کے لوگ کہیں نہ کہیں اور کسی نہ کسی صورت میں اپنی ہی صفوں کے خلاف لڑتے رہیں گے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ کا یہ فرمانا بالکل صحیح ثابت ہوا اور حضرت امیر معاویہ ؓ کے زمانے سے مسلمانوں کی جو باہمی محاذ آرائی شروع ہوئی تھی اس کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ جب تک میری امت کے بعض قبائل مشرکوں کے ساتھ نہ جا ملیں گے حضور ﷺ کی اس پیشین گوئی کا کچھ حصہ تو آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد ہی سامنے آگیا تھا جب حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ابتدائی زمانہ خلافت میں عرب کے چند قبائل کچھ شرپسندوں اور منافقین کے فریب میں آ کر ارتداد میں مبتلا ہوگئے اور کفر وشرک کی طاقتوں کے ساتھ مل گئے تھے، لیکن حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی فراست و دانش مندی اور قوت فیصلہ کی مضبوطی واولوالعزمی نے ان مرتدین کا استیصال کردیا تھا۔ جب تک میری امت کے بعض قبائل بتوں کو پوجنے لگیں گے میں بتوں کا پوجنا اگر حقیقی معنی میں مراد ہے تو کہا جائے گا کہ شاید آئندہ زمانے میں کوئی وقت ایسا بھی آئے جب مسلمانوں کے کچھ طبقے ایمان واسلام کا دعویٰ رکھنے کے باوجود، واقعۃً بتوں کی پوجا کرنے لگیں۔ ویسے موجودہ زمانے میں بھی ایسے مسلمانوں کا وجود بہرحال پایا جاتا ہے جو قبر پرستی اور تعزیہ کی پرستش وغیرہ کی صورت میں اپنی پیشانیاں غیر اللہ کے آگے سجدہ ریز کرتے ہیں اور اگر یہ کہا جائے کہ اس جملے میں بتوں کو پوجنے والی بات اپنے حقیقی معنی پر محمول نہیں ہے بلکہ اسے مجازی اور معنوی صورت مراد ہے تو پھر اس کے محمول کی بہت صورتیں ہوسکتیں ہیں جو ہر زمانے میں پائی جاتی ہیں، ان میں سے ایک صورت مال و دولت اور جاہ و اقتدار وغیرہ کے حصول کو اپنی زندگی کا اصل مقصد اور اپنی امیدوں اور آرزوؤں کی واحد آماجگاہ بنا لیتا ہے، اس صورت میں اس ارشاد گرامی کا ایک محمول وہ لوگ بھی ہیں جن کے بارے میں فرمایا گیا ہے۔ تعس عبدالدیناوعبدالدرہم۔ درہم ودینا یعنی مال و دولت کے غلام ہلاک ہوں۔ لفظ خاتم ت کے زیر اور زبر دونوں کے ساتھ آتا ہے۔ اور وانا خاتم النبیین کے جملہ نحوی قاعدہ کے اعتبار سے حال واقع ہوا ہے نیز لا نبی بعدی کا جملہ اپنے پہلے جملہ یعنی وانا خاتم النبیین کی تفسیر و وضاحت کے طور پر ہے۔ تا ن کہ اللہ کا حکم آئے میں اللہ کے حکم سے مراد قیامت ہے یا دین کا اس طرح تسلط و غلبہ پالینا مراد ہے کہ روئے زمین پر کفر کا کوئی نام ونشان باقی نہ رہے۔ نیز حتی یاتی الخ کا جملہ، لفظ لاتزال سے متعلق ہے۔

5308Mishkaat-al-Masabih

ایک پیشین گوئی

وعن عبد الله بن مسعود عن النبي صلى الله عليه وسلم قال تدور رحى الإسلام لخمس وثلاثين أو ست وثلاثين أو سبع وثلاثين فإن يهلكوا فسبيل من هلك وإن يقم لهم دينهم يقم لهم سبعين عاما . قلت أمما بقي أو مما مضى ؟ قال مما مضى . رواه أبو داود .

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا۔ اسلام کی چکی پینتیس برس یا چھتیس برس یا سینتیس برس تک گھومتی رہے گی پھر اگر لوگ ہلاک ہوں گے تو اس راستے پر چلنے کی وجہ سے ہلاک ہوں گے جس پر چل کر پہلے لوگ ہلاک ہوچکے ہیں اور اگر ان کے دین کا نظام کامل و برقرار رہا تو ان کے دینی نظام کی تکمیل و برقرار کا وہ سلسلہ ستر برس تک رہے گا۔ حضرت ابن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے یہ سن کر پوچھا کہ یہ سترہ برس بقیہ میں سے ہوں گے یا اس عرصے سمیت ہوں گے جو گزرا (یعنی آپ ﷺ نے دین کے نظام کی تکمیل و برقرار کے لئے جس ستر سال کے عرصے کا ذکر فرمایا ہے آیا اس سے ستر سال کا وہ عرصہ مراد ہے جس کی اتبداء ٣٥ یا ٣٦ سال کا مذکورہ زمانہ گزرنے کے بعد ہوگی، یا وہ مذکورہ سال بھی اس ستر سال کے عرصے میں شامل ہیں اور اس کی ابتداء اسلام کے ابتدائی زمانہ یا ہجرت کے وقت سے مراد لی گئی ہے؟ حضور ﷺ نے فرمایا یہ مذکورہ سال بھی ان ستر سالوں میں شامل ہیں اور ستر سال کا عرصہ اس عرصہ سمیت ہے جو اسلام کے ابتدائی زمانہ یا ہجرت کے وقت سے اب تک گزر چکا ہے۔ (ابو داؤد) تشریح اسلام کی چکی گھومتی رہے گی سے حضور ﷺ کا مطلب یہ ہے تاکہ وہ زمانہ کہ جس میں دین کا نظام مستحکم و استوار رہے گا، احکام شریعت کی بھر پور حکمرانی ہوگی، مسلمانوں کے تمام دینی و دنیاوی معاملات قرآن وست کے مطابق خوش اسلوبی کے ساتھ چلتے رہیں گے اور دین وآخرت کی فتنہ و فساد سے محفوظ ومامون رہے گی، ٣٥ یا ٣٦ سال پر مشتمل ہوگا اور اس زمانے کی ابتداء ہجرت کے سال سے ہے کہ اسلام کے ملی سیاسی ظہور اور ملکی فتوحات کا سلسلہ ہجرت ہی سے شروع ہوتا ہے۔ چناچہ اس میں کچھ شبہ نہیں کہ حضرت عثمان غنی ؓ کی شہادت کا سانحہ اسلام کی تاریخ کا وہ پہلا فتنہ ہے جس نے مسلمانوں کی دینی وملی زندگی کو سخت دھچکا لگایا اور اسلام کی سیاسی طاقت باہمی افتراق و انتشار کی وجہ سے بہت مضمحل ہوگئی۔ یہ فتنہ ٣٥ ھ میں ظاہر ہوا، اس کے بعد ٣٦ ھ میں جنگ جمل ٣٧ ھ میں جنگ صفین کے فتنے پیش آئے، جن سے مسلمانوں کے دین وملی نظام اور سیاسی استحکام کو ہلا کر رکھ دیا اور اس کے نہایت روح فرسا نتائج نکلے۔ واضح رہے کہ لخمس وثلثین او ست وثلثین او سبع وثلثین (٣٥ برس یا ٣٦ برس یا ٣٧ برس) میں حرف او (بمعنی یا) تنویع کے لئے یا بل (بلکہ) کے معنی میں ہے۔ ٣٥ یا ٣٦ برس کے تعین کے سلسلے میں ایک وضاحت تو وہ ہے جو اوپر بیان کی گئی یعنی ابتداء تو سال ہجرت سے شمار کی جائے اور انتہاء حضرت عثمان ؓ کی شہادت اور پھر جنگ جمل وجنگ صفین کو قرار دیا جائے تو بالترتیب ٣٥ ھ، ٣٦ ھ، ٣٧ ھ کے واقعات ہیں لیکن اس بارے میں ایک احتمال یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہ کلام اس سال ارشاد فرمایا تھا جب کہ آپ ﷺ کی زندگی کے چند ہی سال باقی رہ گئے تھے اور اگر ان چند سالوں کو خلفاء اربعہ کی مدت خلافت کے ساتھ جوڑا جائے تو ان سب کی مجموعی مدت اتنے ہی سالوں پر مشتمل ہے جو حضور ﷺ نے اس ارشاد گرامی میں ظاہر فرمائی۔ گویا اس قول کے مطابق ٥٣ یا ٦٣ یا ٧٣ سال کا ابتدائی تو اس کو قرار دیا جائے گا، جس میں حضور ﷺ نے یہ حدیث ارشاد فرمائی تھی اور ان سالوں کا آخری سال حضرت علی ؓ کی خلافت کے سال آخر کو قرار دیا جائے گا، لہٰذا دین کے نظام کے استقرار و تکمیل سے اگر یہ مراد لیا جائے کہ ان مذکورہ سالوں میں دین کی پوری طرح محفوظ ومامون رہے گا کہ بدعت اور فکر و جمال کی لغزش تک کو دین میں راہ پانے کا موقع نہیں ملے گا اور ملک وملت کا کوئی بھی کام شارع کے حکم کے خلاف نہیں ہوگا تو پھر مذکورہ سالوں کے تعین کے سلسلے میں یہی وضاحت مناسب تر اور اولیٰ ہوگی اور اگر دین کے استقرار اور تکمیل سے مراد لیا جائے کہ ملک وملت کے تمام کا انتظام وفتنہ و فساد سے پاک ہوں گے خلافت کا مسئلہ خوش اسلوبی اور اتفاق و اتحاد کے ساتھ طے پاتا رہے گا اور مسلمانوں کے درمیان کوئی محاذ آرائی اور مخالفت وعناد کی صورت پیدا نہیں ہوگی تو پھر مذکورہ سالوں کے تعین میں وہ وضاحت مناسب تر ہوگی جو پہلے نقل کی گئی۔ ایک اور احتمال یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ مذکورہ سالوں کی ابتداء اس وقت سے لگائی جب کہ آنحضرت ﷺ پر وحی نازل ہونے کا سلسلہ شروع ہوا تھا یعنی نبوت کا پہلا سال اس صورت میں ٣٥ برس کی مدت کا اختتام حضرت عمر ؓ کی خلافت کے اختتام پر ہوگا یہ احتمال اس اعتبار سے قرین قیاس معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد دین و ایمان کی سلامتی، سنت کی اتباع، جماعتی اتحاد و اتفاق، مسلمانوں کی باہمی قلبی محبت ورواداری اور دین وملت کا اخلاق و سیاسی استحکام جس زمانے میں بت عمدہ اور نہایت خوبی کے ساتھ تھا، وہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ ہی خلافت کا زمانہ تھا، حضرت عمر ؓ کے بعد حضرت عثمان ؓ کی خلافت میں ایک دو سال کے بعد ہی جو صورت پیدا ہوگئی اور دین وملت کے نظم و استحکام کے منافی جو حادثات و واقعات ظاہر ہونے شروع ہوئے وہی ان فتنوں کا باعث جنگی حشر سامانیوں نے اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ کو نہایت مکدر کر رکھ دیا۔ پھر اگر لوگ ہلاک ہوں گے الخ کا مطلب یہ ہے کہ مذکورہ سالوں میں دین وملت کے اخلاق و سیاسی نظام میں استحکام و استقرار کے بعد اگر لوگ اپنے دین وملی معاملات میں اختلاف و انتشار کا شکار ہوجائیں دین وآخرت کے امور میں سستی و کوتاہی کا شکار اور گناہ و معصیت کا ارتکاب کرنے لگیں تو سمجھو کہ خطرناک راستے پر پڑگئے ہیں جس پر پچھلی امتوں کے لوگوں نے تباہی و بربادی اور ہلاکت مول لی تھی، چناچہ پچھلی امتوں کے لوگ اسی لئے تباوہ و برباد اور ہلاک کر دئیے گئے تھے کہ انہوں نے کجروی اختیار کرلی تھی، حق سے دور ہٹ گئے تھے، شرع احکام اور اپنے ملی معاملات میں اختلاف و انتشار کا شکار ہوگئے تھے اپنے دین پر عمل کرنے اور اپنے پیغمبر کی تعلیمات کو ماننے میں سستی و کوتاہی اور لاپرواہی برتنے لگے تھے اور گناہ و معصیت سے اجتناب نہیں کرتے تھے۔ واضح رہے کہ جو چیزیں انسان کی ہلاکت و تباہی کا سبب بنتی ہیں اور جن کو اختیار کر کے کوئی شخص ہلاکت میں مبتلا ہوتا ہے یہاں ان ہی اسباب کو ہلاکت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اگر ان کے دین کا نظام کامل و برقرار رہا الخ کا مطلب یہ ہے کہ اگر مسلمان پہلے کی طرح اپنے امیر و خلیفہ کی اطاعت و فرمانبرداری پر قائم رہے، احکام شریعت اور دینی نظام کو برقرار رکھنے اور ان کی اتباع کرنے پر عامل رہے اور ملی اتحاد و اتفاق کے ذریعے اسلام کی شوکت کو بحال رکھنے میں مصروف رہے تو ان کے دو ملی اور سیاسی استحکام و برقرار کا سلسلہ ستر برس تک جاری رہے گا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ستر برس کی تحدید سے کیا مراد ہے؟ تو اس کا حقیقی مفہوم پوری وضاحت کے ساتھ سامنے ہے، تاہم یہ کہا جاسکتا ہے کہ دینی وملی نظام کے اخلاقی و سیاسی استحکام کے سلسلے میں جو بات پہلے ذکر کی جا چکی ہے کہ وہ یعنی دین وملی استحکام ٣٥ یا ٣٦ یا ٣٧ سال تک قائم رہے گا تو اسی کے اعتبار سے یہ بات کہی گئی ہے کہ مسلمانوں کے ملی وملکی امور اور سیاسی وانتظامی معاملات آنے والے زمانہ کی بہ نسبت ان ستر سالوں میں زیادہ عمدگی اور خوش اسلوبی کے ساتھ انجام پاتے رہیں گے۔ بہرحال اس حدیث کی تشریح میں یوں تو شارحین نے بہت زیادہ بحث کی ہے اور لمبی چوڑی باتیں لکھی ہیں لیکن قابل اعتماد و اعتبار مسلک و عقیدہ کے مطابق نیز حدیث کے الفاظ کی رعایت ملحوظ رکھتے ہوئے مختصر طور پر جو تشریح بیان کی جاسکتی تھی وہ یہاں نقل کردی گئی ہے جو انشاء اللہ کافی ہوگی۔ لیکن اگر اسی اختصار کے ساتھ حضرت امام شاہ ولی اللہ دہلوی کے ان منقولات و فرمودات کو بھی بیان کردیا جائے جو اس حدیث کی تشریح سے تعلق رکھتے ہیں تو حدیث کے فرمودات اور اس کے مصداق کی کچھ اور وضاحت ہوجائے گی۔ چناچہ شاہ صاحب کے مطابق جو حدیث کا حاصل اور مصداق یوں واضح کیا جاسکتا ہے کہ گویا آنحضرت ﷺ نے یہ فرمایا کہ زمانہ ہجرت کے بعد اسلام کی پیش قدمی اور مسلمانوں کی حالات میں جو مضبوطی و استحکام پیدا ہوا ہے، وہ ٣٥، ٣٦، سالوں تک یوں ہی چلتا رہے گا اور تمام دینی وملی معاملات خوش اسلوبی کے ساتھ طے پاتے رہیں گے، پھر اسلام کے دائرہ میں کچھ اضطراب واقع ہوجائے گا اور باہمی افتراق و انتشار جب کہ حضرت عثمان غنی ؓ کی شہات کا سانحہ پیش آیا۔ پھر ٣٦ ھ میں مزید بگاڑ واقع ہوا جب کہ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ اور حضرت علی ؓ کے درمیان محاذ آرائی ہوئی اور جس کو جنگ جمل کہا جاتا ہے اور اس کے بعد ٣٧ ھ میں حالات بالکل ہی قابو سے باہر ہوگئے اور اسلام و مسلمانوں کو سخت و نقصان و تباہی سے دوچار ہونا پڑا۔ جب کہ حضرت علی ؓ اور حضرت معاویہ ؓ کے درمیان بڑی خوفناک جنگ جنگ صفین کے نام سے ہوئی اس کے بعد گویا حضور ﷺ نے اس طرف اشارہ فرمایا کہ مسلمانوں کے دینی اور ملی نظام میں اس خرابی کے واقع ہونے کے بعد اور باغیوں کے غالب آجانے اور خلیفہ برحق مغلوبیت کی وجہ سے اگر لوگ دین وملی نظام کو تباہ کرنے والے ان اعمال واطوار کو اختیار کر کے ہلاک ہوں گے تو وہ اس راستے پر چلنے کی وجہ سے ہلاک ہوں گے جس پر پچھلی امتوں کے لوگوں نے چل کر ساتھ اپنی خلافت سے دست کش ہونا پڑا اور جس طرح ان کو گویا مغلوب ہونا پڑا جس کے نتائج آگے چل کر باہمی افتراق و انتشار اور جاہ اقتدا کی خاطر ایک دوسرے کے خلاف قتل و قتال کی صورت میں رونما ہوئے اور اگر خلیفہ برحق کا اقتدار و تسلط قائم رہا اور باغیوں کو غالب آنے کا موقع نہ مل سکا تو مسلمانوں کا دین وملی نظام آنے والے زمانوں کی بہ نسبت کہیں زیادہ عمدگی کے ساتھ چلتا رہے گا اور یہ نظام ستر برس تک یوں ہی قائم رہے گا۔

5309Mishkaat-al-Masabih

شہادت عثمان رضی اللہ عنہ

حدیث کی تشریح میں تین ایسے واقعات کا ذکر آیا ہے جو اسلامی تاریخ میں نہایت روح فرسا نتائج کے ساتھ یاد کئے جاتے ہیں اور جن کی طرف حضور ﷺ نے گویا پہلے ہی اشارہ فرما دیا تھا، یہ تینوں واقعات ہیں شہادت عثمان، جنگ جمل اور جنگ صفین، ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ان تینوں واقعات پر مختصر انداز میں روشنی ڈالی جائے۔ چناچہ سب سے پہلے حضرت عثمان ؓ کی شہادت کے واقعہ اور اس کے پس منظر کو بیان کیا جاتا ہے۔ حضرت عثمان غنی ؓ اسلام کے تیسرے خلیفہ اور حضرت عمر فاروق ؓ کے بعد مسلمانوں کے امیر وحکمران بنے تھے۔ حضرت عمر ؓ کے دور خلافت تک مسلمانوں کے عام دینی و سیاسی اور ملکی وملی معاملات ایک مستحکم خلافت کے تحت عمدگی و خوبی کے ساتھ چلتے رہے اور ان عوامل و اسباب کو سر اٹھانے کا موقع نہیں ملا جو خلافت کے استحکام اور ملی نظم و اتحاد کے خلاف کسی محاذ آرائی کا باعث بنتے، حضرت عثمان غنی ؓ کی خلافت کا ابتدائی نصف حصہ بھی اسی نہج پر استوار رہا لیکن اس کے بعد کچھ ایسے اندرونی عوامل و اسباب پیدا ہوگئے اور اس کے ساتھ بعض ایسی بیرونی سازشیں حرکت میں آگئیں جن سے حضرت عثمان ؓ کی خلافت کا استحکام ڈانواں ڈول ہوگیا اور ملک وملت کے دینی و سیاسی معاملات پر حضرت عثمان ؓ کی گرفت ڈھیلی پڑگئی۔ حضرت عثمان ؓ کے جہاں بیشمار اوصاف ان زندگی میں مابہ الامتیاز حیثیت رکھتے وہاں ان میں ایک بڑا وصف علم ومروت، چشم پوشی و درگزر اور خاص طور اپنے عزیز واقا رب کے ساتھ حسن سلوک کا جذبہ بھی تھا، انہوں نے اخلاص نیت کے ساتھ اپنے ان عزیز واقا رب کو اونچے عہدوں اور مناصب پر فائز کیا جس کو وہ ان عہدوں کے لئے واقعۃً اور دیانۃً اہل اور مناسب جانتے تھے، نیز وہ چونکہ ذاتی طور پر بہت مالدار تھے اس لئے اپنے مال و دولت کے ذریعے اپنے عزیزوں کی خبر گیری رکھتے تھے اور ان کی مالی معاونت فرمایا کرتے تھے ادھر مسلمانوں کے ذہنی وفکری حالات میں بھی زمانہ کے تغیرات اور وسیع تر ماحول میں عالم خلط ملط کے اثرات سے کافی حد تک تبدیلی آگئی تھی، چناچہ کچھ مسلمانوں میں اور خاص طور پر ان مسلمانوں میں جو نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے اور جو قدیم قبائلی وعلاقائی عصبیت کی گرفت سے پوری طرح آزاد نہیں ہوئے تھے، یہ شکوک پیدا ہونے شروع ہوگئے کہ امیر المومنین اپنی خلافت کے ذریعے اپنے قبیلے اور اپنے خاندان کے لوگوں ہی کو منفعت پہنچا رہے ہیں۔ اگرچہ اس طرح کے لوگ ابھی بہت کم تھے اور عام لوگوں میں حضرت عثمان ؓ کی طرف سے کوئی بدگمانی اور شکایت پیدا نہیں ہوئی تھی لیکن عین اسی وقت عبداللہ بن سبا نے اپنی مکر و سازش کا جال پھیلانے کا کام شروع کردیا، عبداللہ بن سبا شہر صنعاء کا رہنے والا ایک یہودی تھا اس نے حضرت عثمان ؓ کی خلافت میں یہ دیکھ کر کہ مسلمان ہی دنیا کی سب سے فاتح قوم بن گئی ہے اور اس قوم کو بہت زیادہ مال و حشمت حاصل ہے، مدینہ میں آیا اور بظاہر مسلمان بن کر رہنے لگا، اس کا اصل مقصد محض دولت و حشمت کا حصول ہی نہیں تھا بلکہ وہ اپنے ذہن میں مسلمانوں کی طاقت کمزور کرنے اور اسلام کی شوکت و حشمت کو ختم کرنے کی سازش بھی پنہاں رکھتا تھا، چناچہ وہ مدینہ میں اپنی سازش کی تکمیل میں مصروف ہوگیا، وہاں جب کچھ کامیابی نہیں ہوئی تو بصرہ پہنچا۔ بصرہ میں اس نے مختلف مکر و فریب اور ترغیبات و لالچ کے ذریعے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا اور طرح طرح بد عقیدگیوں کا پر چار شروع کیا، جب بصرہ کے گورنر کو اس کے حالات اور اس کی اصل حقیقت کا علم ہوا اور انہوں نے باز پرس کی وہاں اپنے حامیوں کی ایک جماعت کا چھوڑ کر کوفہ آگیا جہاں پہلے ہی سے ایک جماعت حضرت عثمان ؓ اور ان کے عامل کے خلاف تھی یہاں عبدللہ بن سباء کو اپنی سازش پھیلانے کا زیادہ موقع ملا اس کو ایک طرف تو اسلام سے مخالفت تھی دوسری طرف وہ حضرت عثمان غنی ؓ سے کوئی ذاتی عداوت وعناد بھی رکھتا تھا اور ان سے انتقام لینے کی خواہش رکھتا تھا کچھ دنوں کے بعد اس کو کوفہ بھی چھوڑنا پڑا اور پھر دمشق پہنچ گیا دمشق میں اس کی دال زیادہ نہ گلی اور جلد ہی اسے یہاں سے باہر شہر بدر ہونا چپڑا، یہاں سے نکل کر وہ مصر پہنچا اور وہاں اس نے زیادہ ہوشیاری اور اطاعت کے ساتھ کام شروع کیا اور ایک باقاعدہ خفیہ جماعت کی تنظیم کی چونکہ اہل بیت کی محبت اور حضرت علی ؓ کے ساتھ تعلق کا دعویٰ بھی کرتا تھا لہٰذا اس فریب آویز دعویٰ کے ذریعے مصر میں اسے کامیابی حاصل ہوئی اور لوگوں نے اس کے گرد جمع ہونا شروع کردیا یہاں بیٹھ کر اس نے اسلامی سلطنت کے ان تمام علاقوں سے رابطہ قائم کیا، جہاں جہاں وہ گیا تھا اور اپنے کچھ حامیوں کی جماعت چھوڑ کر آیا تھا اپنے ان حامیوں کے ذریعے ایک طرف تو اس نے مختلف علاقوں سے اہل مدینہ کے پاس یہ شکایتیں پہنچوائیں کہ عثمان کے عامل ماموں اور گورنر اپنے اپنے علاقوں کے لوگوں پر سخت ظلم وستم کر رہے ہیں دوسری طرف اس نے عام مسلمانوں میں حضرت عثمان ؓ کی خویش پروری اور ان کے عاملوں اور گورنروں کے ظلم وستم کے فرضی واقعات کا پروپیگنڈہ کر کے خلافت عثمان کے خلاف ناراضگی اور شورش پیدا کردی، جب حضرت عثمان ؓ کو اس شورش کا علم ہوا تو انہوں نے صورت حال کی طرف توجہ دی اور اپنے عاملین اور مشیروں کو جمع کر کے مشورہ کیا، کچھ لوگوں نے یہ مشورہ دیا کہ جو افراد یہ شورش پھیلانے کے ذمہ دار ہیں ان کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر قتل کردیا جائے اور مجرمین کے ساتھ کوئی رعایت روا نہ رکھی جائے لیکن حضرت عثمان ؓ نے اپنی مروت وبردباری کی وجہ سے اس مشورے کو قبول نہیں کیا اور یہ فرمایا کہ میں قرآن و حدیث کے حکم کے مطابق کسی شخص کو اس وقت تک قتل نہیں کرسکتا جب تک کہ علانیہ مرتد ہوتے نہ دیکھ لوں اور اس کا جرم ثابت نہ ہوجائے غرض معمولی تدابیر کے علاوہ سازشیوں کے مخالف کوئی سخت کار روائی نہیں ہوئی جس سے ان کے حوصلے اور بلند ہوگئے اور وہ نہایت زور وشور کے ساتھ اپنی تخریبی کار روائیوں میں مصروف رہے اور اکثر علاقوں خاص طور پر مصر میں شورش پسندوں کے گروہ کے گروہ تیار ہوگئے جن کو مدینہ دھاوا بولنے اور حضرت عثمان ؓ کو قتل کردینے کی تربیت دی جانے لگی۔ ادھر عبداللہ بن سبا کے لوگ مختلف علاقوں کے گورنروں وعاملوں کے خلاف جو فرضی شکایتیں اہل مدینہ کے پاس بھتیجے تھے ان کو اہل مدینہ صحیح سمجھ کر حضرت عثمان ؓ سے ان گورنروں اور عاملوں کی معزولی کا مطالبہ کرتے تھے، مگر حضرت عثمان ؓ کو تفتیش و تحقیق سے چونکہ معلوم ہوجاتا تھا کہ تمام شکایتیں فرضی ہیں اس لئے وہ ان گورنروں اور عاملوں کے خلاف کوئی کار روائی نہیں کرتے تھے، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خود مدینہ میں حضرت عثمان ؓ اور ان کی حکومت کے خلاف بدگمانیوں اور شکایتوں کی ایک فضا بن گئی اور جا بجا خلیفہ وقت کی نسبت سر گوشیاں ہونا شروع ہوگئیں بلکہ لوگوں کی زبان پر علانیہ شکایتیں آنے لگیں، یہ وہ زمانہ تھا جب عبداللہ بن سبا کے ایجنٹ تمام ممالک اسلامیہ اور تمام بڑے شہروں اور قصبوں میں پہنچ چکے تھے اور ان کے حامیوں کے گروہ ہر جگہ پیدا ہوچکے تھے جب اس نے دیکھ لیا کہ اس کی سازش آخری مرحلوں میں پہنچ گئی ہے، تمام علاقوں میں خلافت عثمان کے خلاف بدگمانیوں اور شکایتوں کا جال پھیلا دیا گیا ہے اور ہر جگہ میرے حامیوں کی خاصی تعداد جمع ہوگئی ہے تو اس نے ہر ہر علاقے سے اپنے مسلح آدمیوں کی بڑی تعداد، چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں اور خفیہ طور پر مدینہ روانہ کی اور پھر کچھ دنوں کے بعد مدینہ والوں نے دیکھا کہ باغیوں اور بلوائیوں کی ایک بڑی جماعت نعرہ تکبیر بلند کرتی ہوئی مدینہ میں داخل ہوگئی ہے۔ عبداللہ بن سبا نے حضرت علی ؓ کی محبت اور ان کی خلیفہ بنانے کا دعویٰ کر کے جن لوگوں کو اپنے گرد جمع کیا تھا ان تک اس نے حضرت علی ؓ کا ایک جعلی خط بھی گشت کرایا تھا جس میں گویا انہوں نے باغیوں کی حمایت کا اعلان کیا تھا، چناچہ بلوائیوں نے مدینہ پہنچ کر حضرت علی ؓ سے مدد کی درخواست کی تو انہوں نے اس کی کسی بھی طرح سے مدد کرنے سے صاف انکار کردیا، انہوں نے ان سے اسبات کا انکار کیا کہ میں نے تم لوگوں کی حمایت کا اظہار کیا اور کہا کہ میں نے کبھی بھی تم لوگوں کو خط نہیں لکھا۔ حضرت علی ؓ نے بلوائیوں کو ان کی سازش سے دور رکھنے کی بہت کوشش کی، دوسرے صحابہ نے اس معاملے کو سلجھانے کی سعی کی، حضرت عثمان ؓ نے بلوائیوں کے مطالبے پر مصر کے گورنر کو معزول بھی کردیا لیکن اصل تحریک کا مقصد ہی محض شورش و بغاوت پھیلانا تھا اس لئے بلوائیوں کے لیڈروں نے صورت حال کو معمول پر لانے اور شورش کو دبانے کی تمام تدابیر کو ناکام بنادیا، حضرت عثمان ؓ نے یہ رنگ اور مدینہ کے گلی کوچوں کو بلوائیوں سے دیکھ کر مختلف بلاد اسلامیہ کے گورنروں کو خط لکھ کر امداد طلب کی اور ان بلاد سے سرکاری فوجیں بلوائیوں کی سرکوبی کے لئے مدینہ کی طرف روانہ بھی ہوگئیں لیکن بلوائیوں نے ان فوجوں کے آنے سے پیشتر ہی حضرت عثمان ؓ کے مکان کو گھیر کر ان کا محاصرہ کرلیا، اس موقع پر یہ ظاہر کردینا نہایت ضروری ہے کہ اس صورت حال کو بگاڑنے میں بڑا دخل مروان بن حکم کا تھا جو حضرت عثمان ؓ کا چچا زاد بھائی اور ان کا میر منشی و وزیر تھا، اس نے حضرت عثمان ؓ کی مروت وچشم پوشی کا ناجائز فائدہ اٹھا کر اپنی بد اطواریوں، جعل سازیوں اور عوام مخالف اقدامات کے ذریعے عام مسلمانوں اور خصوصا اہل مدینہ کو بہت زیادہ برہم کر رکھا تھا، اہل مدینہ نے اس موقع پر فائدہ ضرور اٹھانا چاہا کہ مروان کے خلاف وہ بھی بلوائیوں کے شریک حال ہوگئے لیکن ان کا مطالبہ صرف مروان کو اس کے عہدے سے معزول کر کے اہل مدینہ کے سپرد کردینے کا تھا اور اگر حضرت عثمان ؓ اہل مدینہ کا مطالبہ مان لیتے تو شاید بلوائیوں کو اپنے اصل مقصد میں زیادہ کامیابی نہ ہوتی کیونکہ پھر مدینہ کے لوگ بلوائیوں کی حمایت ترک کر کے پوری طاقت سے ان کا مقابلہ کرتے لیکن حضرت عثمان ؓ کی مروت کو گوارہ نہ کیا کہ وہ مروان کو اہل مدینہ کے حوالے کر کے ان کے ہاتھوں اس کے قتل ہوجانے کا منظر دیکھیں بہرحال جب بلوائیوں نے زیادہ شورش برپا کی یہاں تک کہ ان کے مکان میں پانی جانے تک پر پابندی عائد کردی اور جب حضرت علی ؓ و دیگر جلیل القدر صحابہ کو یہ معلوم ہوا کہ اب بلوائی حضرت عثمان ؓ کے مکان کا دروازہ توڑ کر ان کو قتل کردینا چاہتے ہیں تو ان سب سے اپنے صاحبزادوں اور دوسرے متعدد آدمیوں کو حضرت عثمان ؓ کی حفاظت پر معمور کیا اور ان لوگوں نے بڑی جوان مردی سے بلوائیوں کا مقابلہ کر کے حضرت عثمان ؓ کی حفاظت کا فریضہ انجام دیا اور دروازے پر جم کر کھڑے ہوگئے، کچھ حضرات نے ان کے مکانوں کی چھتوں پر پہرہ دینا شروع کیا بلوائیوں نے یہ سوچ کر کہ باہر سے سرکاری فوجوں کی آمد سے پہلے بہت جلد حضرت عثمان ؓ کا کام کسی نہ کسی طرح تمام کردینا چاہئے یہ چال چلی کہ خفیہ طور پر ایک پڑوسی کے مکان میں گھس گئے اور دیوار پھاند کر حضرت عثمان ؓ کے مکان میں داخل ہوگئے اس وقت حضرت عثمان ؓ کے جو محافظین تھے ان میں سے کچھ تو کوٹھے پر چڑھے ہوئے باغیوں کی کوشش اور نقل حرکت کی نگرانی کر رہے تھے اور کچھ دروازے پر جمے ہوئے بلوائیوں کو اندر گھسنے سے روک رہے تھے، مکان کے اندر صرف عثمان ؓ تھے اور ان کی زوجہ محترمہ حضرت نائلہ ؓ، بلوائیوں نے گھستے ہی حضرت عثمان ؓ پر تلوار چلائی جو قرآن کریم کی تلاوت میں مصروف تھے، ان کی بیوی نے فوراً آگے بڑھ کر ٹھوکریں ماریں جس سے آپ کی پسلیاں ٹوٹ گئیں، پھر تمام بلوائیوں نے زبردست ریلے کے ذریعے مکان کے اندر دھاوابول دیا، گھر کا سارا سامان لوٹ لیا اور بڑی وابتری مچائی، یہ المناک حادثہ ١٨ ذی الحجہ ھ جمعہ کے روز ہوا تین روز تک حضرت عثمان ؓ کی لاش بےگور و کفن پڑی رہی، پورے شہر پر بلوائیوں کا تسلط تھا، آخر بعض حضرات نے کوشش کرے کے تین دن کے بعد رات کے وقت ان کی نعش مبارک کو بغیر غسل دئیے ہوئے کپڑوں میں دفن کردیا، نماز جنازہ حضرت جبیر ابن مطعم نے پڑھائی اور حضرت عثمان ؓ کی اس ہولناک اور مظلومانہ شہادت کے ذریعے ان کا دور خلافت ختم ہوگیا اور بدبخت یہودیوں کی ایک تباہ کن سازش کو کامیاب ہونے کا موقع مل گیا۔

5310Mishkaat-al-Masabih

جنگ جمل

حضرت عثمان ؓ کی شہادت کے بعد مدینہ میں قاتلین عثمان اور بلوائیوں ہی کا دور دورہ تھا اس لئے سب سے پہلے انہوں نے اہل مدینہ کو ڈرا دھمکا کر انتخاب خلیفہ کے کام پر آمادہ کیا، عبداللہ بن سبا نے چونکہ اپنی پوری سازش اور تحریک میں حضرت علی ؓ کا نام اچھالا تھا اور ان ہی کو خلافت قائم کرنے کے نام پر لوگوں کو اپنے گرد جمع کیا تھا اس لئے قدرتی طور پر بلوائیوں کی کثرت حضرت علی ؓ کو خلیفہ منتخب کرنے کی حامی تھی۔ اگرچہ حضرت علی ؓ نے حضرت عثمان ؓ کی شہادت سے پہلے ہی خلافت کے باغیوں سے اپنے تعلق کا انکار کیا تھا اور ان کی مدد کی درخواست کو ٹھکرا دیا تھا لیکن جب بلوائیوں نے ان سے اصرار کیا ادھر انہوں نے اہل مدینہ کی بھی کثرت آراء اپنے بارے میں دیکھی تو وہ خلافت کا بار سنبھالنے کے لئے تیار ہوگئے، تاہم جب لوگ بیعت کے لئے ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے صفائی سے کہہ دیا کہ جب تک اصحاب بدر مجھ کو خلیفہ نہ تسلیم کرلیں میں بیعت نہیں لوں گا، یہ سن کر ان لوگوں نے جہاں تک ممکن ہوسکا اصحاب بدر کو جمع کر کے حضرت علی ؓ کی خدمت میں لائے اور اس طرح ان کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت ہوئی۔ خلیفہ بننے کے بعد حضرت علی ؓ کو سب سے پہلے جس مطالبے کا سامنا کرنا پڑا وہ حضرت عثمان ؓ کے قصاص کا تھا۔ انہوں نے حضرت عثمان ؓ کی زوجہ محترمہ سے قاتلوں کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے صرف دو اشخاص کا حلیہ بتایا لیکن ان کا نام نہ بتاسکیں۔ ظاہر ہے کہ حضرت علی ؓ بلا تشخص وتعین اور ثبوت فراہم ہوئے بغیر قاتلین عثمان کو سزا کیسے دے سکتے تھے۔ اس لئے قصاص کے مطالبہ کو تسلیم کرنے میں رکاوٹ پیدا ہوگئی جب لوگوں نے بالخصوص حضرت طلحہ اور حضرت زبیر ؓ نے صرف حضرت علی ؓ سے اس مطالبہ پر اصرار کیا تو حضرت علی ؓ نے کہا کہ میں قاتلین عثمان سے قصاص ضرور لوں گا اور حضرت عثمان ؓ کے معاملے میں پورا پورا انصاف کروں گا لیکن ابھی تک بلوائیوں کا زور ہے اور ادھر خلافت کا زور پوری طرح مستحکم نہیں ہوا ہے اس لئے فی الحال میں اس معاملے میں کچھ نہیں کرسکتا، اطمینان اور استحکام حاصل ہونے کے بعد سب سے پہلے اسی معاملے کی طرف توجہ کروں گا۔ بس اسی جگہ سے حضرت علی ؓ کے خلاف بدگمانی کی فضا پیدا ہونا شروع ہوگئی، مسلمانوں بالخصوص بنو امیہ کے لوگوں کو یقین ہوگیا کہ حضرت عثمان ؓ کے قتل کا بدلہ نہیں لیا جائے گا اور قاتلان عثمان مزے اڑاتے پھریں گے، ادھر سبائیوں نے اس خوف سے کہ کہیں حضرت علی ؓ قتل عثمان کے بدلے میں ہمیں یہ سزا نہ دینے لگیں، اپنی سازش میں لگ گئے اور کوشش کرنے لگے کہ خلافت کو استحکام نصیب نہ ہو اور تمام مسلمان ایک دوسرے کے خلاف بدگمانی اور عداوت میں مبتلا ہوجائیں۔ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ حج کے لئے مکہ تشریف لے گئی تھیں وہاں سے مدینہ واپس آرہی تھیں کہ راستے میں حضرت عثمان ؓ کی شہادت کا سانحہ سن کر پھر مکہ لوٹ آئیں ان کو حضرت علی ؓ کی خلافت کی خبر بھی ملی ساتھ ہی انہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت علی ؓ قاتلان عثمان کو سزا دینے میں تامل کر رہے ہیں، چناچہ وہ مکہ آئیں اور لوگوں کو ان کی اس طرح واپسی کا حال معلوم ہوا تو وہ آ کر ان کی سواری کے گرد جمع ہوگئے انہوں نے مجمع کے روبرو تقریر کرتے ہوئے اعلان کیا کہ میں خود خون عثمان کا بدلہ لونگی۔ بنو امیہ کے تمام لوگوں اور مکہ کے عثمانی گورنر نے ان کی حمایت کا اعلان کیا۔ حضرت طلحہ، حضرت زبیر ؓ مدینہ سے مکہ آئے تو وہ دونوں بھی حضرت عائشہ ؓ کے ساتھ ہوگئے، کچھ عرصہ تیاریوں میں لگا اور پھر حضرت عائشہ ؓ اپنے تمام حامیوں کو لے کر بصرہ روانہ ہوئیں تاکہ وہ ان سے فوجی امداد لے کر آگے کی کاروائی شروع کریں راستے میں کچھ لوگ ان سے جدا بھی ہوگئے۔ خود حضرت عائشہ ؓ نے ایک مقام پر یہ ارادہ کرلیا کہ اپنے ارادہ سے باز آ کر واپس ہوجائیں مگر مسلمانوں کو باہم محاذ آرا کرنے پر ساشیوں کے جو لوگ متعین تھے انہوں نے کچھ ایسے حالات پیدا کر دئیے کہ کارواں کو پھر آگے بڑھنا پڑا، بصڑہ کے قریب پہنچ کر ام المومنین خیمہ زن ہو گیں، گو امیر بصرہ نے ان کی مدد کرنے سے انکار کیا مگر عام لوگوں نے ان کی حمایت کی اور ان کے لشکر میں شامل ہوگئے، حضرت عائشہ ؓ اپنا وہ لشکر لے کر مقام امربد تک آپہنچیں، اس کے بعد امیر بصرہ بھی اپنا لشکر لے کر وہاں آگیا اور دونوں لشکر ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہوگئے، دونوں کے درمیان جنگ ہوئی اور گورنر بصرہ کی فوج شکست کھا کر بھاگ کھڑی ہوئی اور ام المومنین وغیرہ کا بصرہ پر قبضہ ہوگیا۔ حضرت علی ؓ کو جب یہ صورت حال معلوم ہوئی تو وہ ایک بڑا لشکر لے کر بصڑہ روانہ ہوئے ادھر بعض دور اندیش اور صاحب بصیرت حضرات کی طرف سے ام المومنین اور حضرت علی ؓ کے درمیان مصالحت کرانے کی کوشش ہونے لگی چونکہ ام المومنین اور حضرت علی ؓ دونوں کے قلوب صاف تھے اور دونوں ہی اس باہی محاذ آرائی پر سخت دل گرفتہ تھے، اس لئے جب م صالحین نے دونوں کے دلوں سے ایک دوسرے کے خلاف بدگمانیاں دور کرا کے باہمی صلح و صفائی کا میدان ہموار کرلیا اور مصالحت یقین ہوگئی تو عین موقع پر عبداللہ بن سبا جو اپنے ساتھیوں کی ایک بڑی جماعت کے ساتھ حضرت علی ؓ کے لشکر میں موجود تھا اپنی پرانی یہودی سازش کے تحت متحرک ہوگیا اور جس دن صلح نامہ پر دستخط ہونے والے تھے اس کی صبح سپیدہ سحر نمودار ہونے سے پہلے سپاہیوں نے اچانک ام المومنین کے لشکر پر حملہ کردیا اور اس طرح دونوں طرف کی فوجیں اس بدگمانی میں پڑ کر کہ فریق مخالف نے مصالحت کی کوشش ٹھکرا کر جنگ کرنے کا ارادہ کرلیا ہے، باہم برسر پیکار ہوگئیں، ام المومنین نے اس موقع پر بھی جنگ رکوانے کی کوشش کی اور اس مقصد کے لئے اونٹ پر ہودج میں بیٹھ کر میدان جنگ میں آئیں لیکن چونکہ دونوں طرف کے جذبات بھڑک اٹھے تھے اس لئے میدان جنگ میں ان کی بہ نفس نفیس آمد دونوں طرف سے جنگ کے شعلے کو بھڑکانے کا مزید سبب بن گئی جم کر لڑائی ہوئی اور جنگ کا سارا زور حضرت ام المومنین کے اونٹ کے ارگرد رہا، اسی مناسبت سے اس جنگ کو جنگ جمل یعنی اونٹ کی لڑائی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ سازشیوں کی سازش لوگوں کو بھڑکاتی رہی اور مسلمانوں کی تلوار اپنے ہی بھائیوں کا گلا کاٹنے میں مصروف رہی۔ حضرت عائشہ ؓ نے آخری طور پر جنگ بند کرانے کی ایک اور کوشش کی لیکن عبداللہ بن سبا کے لوگوں کی وجہ سے وہ کوشش بھی ناکام ہوگئی۔ ام المومنین کا اونٹ لڑائی اور کشت وخون کا مرکز بنا ہوا تھا۔ چاروں طرف سے حضرت عائشہ ؓ کے کجاوہ پر تیروں کی بارش ہو رہی تھی، اہل بصرہ پوری جان نثاری کے ساتھ ان تیروں کو اپنے اوپر لے جا رہے تھے اور اونٹ کے چاروں طرف لاشوں کے انبار لگ گئے، آخرش حضرت علی ؓ کے لشکر والوں نے ایک زور کا دھاوا بولا اور ایک شخص نے موقع پا کر اونٹ کے پاؤں میں تلوار ماری اور چلا کر سینہ کے بل بیٹھ گیا اونٹ کے گرتے ہی اہل بصرہ منتشر ہوگئے اور جنگ ختم ہوگئی۔ اس جنگ میں حضرت عائشہ ؓ کی طرف سے لڑنے والوں کی تعداد تیس ہزار تھی جن میں سے نو ہزار آدمی میدان جنگ میں کام آئے۔ اس کے بعد اگلے دن حضرت علی ؓ بصرہ میں داخل ہوئے تمام اہل شہر نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی اور بعد میں حضرت علی ؓ نے ام المومنین کو پورے ادب و احترام کے ساتھ بصرہ سے روانہ فرمایا اور طرفین کے درمیان ہر طرح صلح و صفائی ہوگئی۔ یہ واقعہ ٣٦ ھ کے وسط پیش آیا اور یہ یہودیوں کی گھناؤنی سازش کا دوسرا حملہ تھا جس سے اہل اسلام کو زبردست دھچکا لگا اور مسلمانوں کو سخت نقصان اٹھانا پڑا۔

5311Mishkaat-al-Masabih

جنگ صفین

حضرت امیر معاویہ ؓ، حضرت عثمان ؓ کی طرف سے ملک شام کے گورنر مقرر ہوئے تھے۔ ان کا حضرت عثمان ؓ سے خاندانی اور قرابتی تعلق بھی تھا۔ جب حضرت علی ؓ نے دوسرے ملکوں اور شہروں میں خلافت عثمانی کے مقررہ گورنروں اور عاملوں کو سبکدوش کر کے اپنے معتمد لوگوں کو ان کی جگہوں پر بھیجا تو حضرت امیر معاویہ ؓ کی معزولی کا فرمان بھی صادر ہوا اور ان کا عہدہ سنبھالنے کے لئے سہل بن حنیف کو روانہ فرمایا لیکن سہل بن حنیف کو راستے ہی سے واپس ہونا پڑا اور وہ حضرت امیر معاویہ ؓ سے شام کی گورنری کا عہدہ سنبھالنے میں ناکام رہے۔ اس طرح یہ بات سامنے آگئی کہ حضرت امیر معاویہ ؓ نے گویا حضرت علی ؓ کی خلافت کو تسلیم نہیں کیا ہے اور وہ بنو امیہ کے معتمد ہونے کی حیثیت سے خون عثمان کے قصاص کے مسئلہ پر نہایت مضبوطی سے حضرت علی ؓ کے مخالف ہیں، اس موقع پر پھر یہودیوں نے سبائیوں کی صورت میں سازش کا جال پھیلایا اور حضرت علی ؓ و امیر معاویہ ؓ کا لشکر نکلا اور حضرت علی ؓ کے لشکر کا مقابلہ کرنے کے لئے چل پڑا پہلے دونوں لشکروں کے مقدمۃ الجیش کے درمیان مقابلہ ہوا اس کے بعد دونوں طرف کی پوری فوجیں میدان جنگ میں پہنچ کر ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہوگئیں، حضرت علی ؓ اپنی فوج کی کمان کر رہے تھے اور حضرت امیر معاویہ ؓ اپنے لشکر کے سپہ سالار تھے، پھر بعض حضرات نے مصالحت کی کوشش شروع کی لیکن سازشیوں کا جال چونکہ دونوں طرف پھیلا ہوا تھا اس لئے یہ کوشش ناکام ہوگئی اس کے بعد مجبوراً لڑائی شروع ہوگئی، تقریبا ایک مہینے تک تو جنگ کا رخ بالکل انفرادی رہا اور باقاعدہ جنگ سے گریز کیا جاتا رہا۔ اس کے بعد مہینے تک کے لئے یہ انفرادی لڑائی بھی معطل کردی گئی اور اس عرصے میں مصالحت کی کوششیں پھر شروع ہوگئیں لیکن مصالحت کی یہ دوسری کوشش بھی کامیاب نہیں ہوسکی اور آخرکار یکم صفر ٣٧ ھ سے جنگ کا آغاز ہوگیا اور ایک ہفتے سے زائد تک بڑی خوفناک جنگ ہوتی رہی حضرت علی ؓ کی فوج کا پلڑا بھاری تھا اور جنگ کے آخری دن وہ مرحلہ بھی آگیا تھا کہ حضرت امیر معاویہ ؓ کو پوری طرح شکست ہوجاتی لیکن عین موقع پر امیر معاویہ ؓ کے مشیر خاص حضرت عمرو بن العاص ؓ کی حکمت عملی نے فوری جنگ بند کر ادی۔ اس کے بعد فریقین نے یہ طے کرلیا کہ حکم کے ذریعے قرآن مجید کی روشنی میں صلح صفائی کرلی جائے۔ امیر معاویہ ؓ کی طرف سے حضرت عمرو بن العاص اور حضرت علی ؓ کی طرف سے ابوموسیٰ اشعری کو ثالث بنانے پر اتفاق ہوگیا۔ گو آگے چل کر بعض اسباب و عوامل کی بنا پر جس کی تفصیل بہت طویل ہے، یہ ثالثی کامیاب نہیں ہوئی اور حضرت علی و امیر معاویہ ؓ کے درمیان اس آویزش و اختلاف کا سلسلہ ختم نہیں ہوا لیکن یہ بھیانک جنگ جو جنگ صفین کے نام سے مشہور ہوئی۔ مزید تباہی و بربادی اور خونریزی پھیلائے بغیربند ہوگئی۔ اس جنگ نے مسلمانوں کو بہت نقصان پہنچایا اور اسلام کی شوکت زبردست دھکا لگا بیان کیا جاتا ہے کہ اس باہمی محاذ آرائی کے دوران مجموعی طور پر ستر ہزار کے قریب مسلمان میدان جنگ میں کام آئے۔

5312Mishkaat-al-Masabih

ایک واقعہ ایک پیشین گوئی

عن أبي واقد الليثي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما خرج إلى غزوة حنين مر بشجرة للمشركين كانوا يعلقون عليها أسلحتهم يقال لها ذات أنواط . فقالوا يا رسول الله اجعل لنا ذات أنواط كما لهم ذات أنواط فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم سبحان الله هذا كما قال قوم موسى ( اجعل لنا إلها كما لهم آلهة ) والذي نفسي بيده لتركبن سنن من كان قبلكم . رواه الترمذي .

حضرت ابو واقد لیثی ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ فتح مکہ کے بعد جب غزوہ حنین کے لئے روانہ ہوئے تو راستہ میں آپ ﷺ کا گزر مشرکوں کے ایک درخت پر ہوا جس پر وہ مشرک اپنے ہتھیار لٹکایا کرتے تھے اور پوجا کے طور پر اس درخت کے گرد طواف کرتے اور تعظیما اس کی طرف منہ کر کے بیٹھا کرتے۔ اس درخت کا نام ذات انواط تھا۔ آنحضرت ﷺ کے ہمراہیوں میں ایسے مسلمانوں کی تعداد بھی شامل تھی جو نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے اور اسلامی احکام و شرائع اور دینی تعلیمات سے زیادہ واقفیت نہ رکھنے کی وجہ سے شریک بیزاری اور توحید میں کامل مرتبہ نہیں رکھتے تھے، انہی مسلمانوں میں سے بعض لوگوں نے اس درخت کو دیکھ کر حضور ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! ہمارے لئے بھی کوئی ایسا درخت مقرر کر دیجئے جس پر ہم اپنے ہتھیار لٹکایا کریں اور اس کو ذات انواط کہا کریں جیسا کہ مشرکوں نے اس درخت کو اپنے لئے ذات انواط بنا رکھا ہے وار اس پر ہتھیار لٹکاتے ہیں۔ حضور ﷺ نے ان لوگوں کی یہ عجیب و غریب خواہش سن کر از راہ حیرت وتعجب فرمایا کہ سبحان اللہ یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ یہ بات تم ایسی کہہ رہے ہو جیسا کہ موسیٰ کی قوم یہودیوں نے اپنے نبی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تھا کہ ہمارے لئے بھی ایک ایسا معبود یعنی بت بنا دیجئے جیسا کہ کافروں کے معبود ہیں تاکہ جس طرح وہ کافر اپنے بتوں کو پوجتے ہیں اسی طرح ہم اپنے اس بت کو پوجا کریں۔ پھر حضور ﷺ نے بطور تنبیہ یہ فرمایا ہے کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم ان لوگوں کے راستے پر چلنا شروع کردو گے جو تم سے پہلے گزرے ہیں۔ (ترمذی) تشریح انواط دراصل نوط کی جمع ہے جو مصدر ہے اور جس کے معنی لٹکانے کے ہیں، چونکہ اس درخت پر ہتھیار لٹکائے جاتے تھے اس لئے اس کا نام ذات انواط ہوگیا اور یہ نام خاص اسی درخت کا تھا۔ جو تم سے پہلے گزرے ہیں سے مراد گزشتہ امتوں کے لوگ یعنی یود و نصاری وغیرہ ہیں حدیث کے اس آخری جملے کے ذریعے حضور ﷺ نے گویا ان لوگوں کے تئیں ناراضگی وبے اطمینانی کا اظہار فرمایا کہ اگر تم لوگ ایسی ہی بات کہتے اور کرتے رہے تو عجب نہیں کہ گمراہی اور حد سے بڑھ جانے کے اس راستہ پر جا پڑو جس کو پچھلی امتوں کے لوگوں نے اختیار کیا تھا اور اللہ کے مبغوض بندے قرار پائے تھے۔

5313Mishkaat-al-Masabih

چند فتنوں کا ذکر

وعن ابن المسيب قال وقعت الفتنة الأولى يعني مقتل عثمان فلم يبق من أصحاب بدر أحد ثم وقعت الفتنة الثانية يعني الحرة فلم يبق من أصحاب الحديبية أحد ثم وقعت الفتنة الثالثة فلم ترتفع وبالناس طباخ . رواه البخاري .

حضرت ابن مسیب سے جو جلیل القدر تابعین میں سے تھے اور جنہوں نے چاروں خلفائے راشدین کا زمانہ پایا تھا روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا۔ جب پہلا فتنہ کہ (کہ جس سے پہلے اسلام میں کوئی فتنہ ظاہر نہیں ہوا) واقع ہوا یعنی حضرت عثمان ؓ کی شہادت کا سانحہ پیش آیا تو غزوہ بدر میں شریک ہونے والے صحابہ میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہا، پھر جب دوسرا فتنہ واقع ہوا یعنی حرہ کا واقعہ پیش آیا تو ان صحابہ میں سے کوئی باقی نہیں رہا جو صلح حدیبیہ یعنی بیعت الرضوان میں شریک ہوئے تھے پھر جب تیسرا فتنہ واقع ہوا تو اس کا خاتمہ اس حالت میں نہیں ہوا تھا کہ لوگوں میں قوت اور فربہی باقی رہی ہو۔ (بخاری) تشریح یعنی کا لفظ اس راوی کا ہے جس نے اس روایت کو حضرت ابن مسیب ؓ سے نقل کیا ہے گویا اس راوی نے اس لفظ کے ذریعے وضاحت کی کہ حضرت ابن مسیب ؓ نے جس فتنہ کو ذکر کیا اس سے ان کی مراد کس فتنہ سے تھی۔ فلم یبق الخ کے الفاظ ابن مسیب کے ہیں، جن سے مراد یہ ہے کہ اصحاب بدر اس سے اللہ کو پیارے ہونے لگے تھے جب کہ پہلا فتنہ یعنی ٣٥ ھ میں حضرت عثمان غنی ؓ کی شہادت کا المناک سانحہ پیش آیا تھا اور پھر جب ٣٦ ھ میں دوسرا فتنہ یعنی حرہ کی جنگ اواعہ پیش آیا تو اس تک کوئی بھی بدر صحابی باقی نہیں رہا تھا۔ پس مذکورہ الفاظ کی مراد یہ نہیں ہے کہ اصحاب بدر حضرت عثمان ؓ کی شہادت کے فتنہ میں مارے گئے تھے۔ اسی وضاحت کو بعد کے جملے میں بھی ان الفاظ پر منطبق کرنا چاہئے اور حاصل یہ کہ غزوہ بدر میں شرکت کی برکت کے سبب اللہ تعالیٰ نے بدری صحابہ کو فتنے سے محفوظ رکھا اور انہوں نے فتنے کا دوبارہ منہ نہیں دیکھا۔ اصحاب بدر میں سب سے آخر میں جن صحابی کا انتقال ہوا ہے وہ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ ہیں جو واقعہ حرہ سے چند سال پہلے انتقال کر گئے تھے۔ طباخ کے معنی ہیں مضبوطی، قوت، موٹاپا۔ اور کبھی یہ لفظ اپنے برعکس معنی کے لئے بھی مستعمل ہوتا ہے، مثلا کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص کو طباخ نہیں ہے یعنی اس کو عقل نہیں ہے، اس میں کیر و بھلائی نہیں ہے۔ حدیث کے اس آخری جملے سے مراد یہ ہے کہ جب وہ فتنہ ظاہر ہوا تو اس وقت لوگوں میں یعنی تابعین میں کوئی صحابی باقی نہیں رہا تھا۔ بعض حواشی میں لکھا ہے کہ ابن مسیب ؓ نے جس تیسرے فتنہ کی طرف اشارہ کیا۔ اس سے ابن حمزہ خارجی کا فتنہ خروج مراد ہے جو مروان بن محمد بن الحکم کے زمانے میں پیش آیا تھا۔ اور کرمانی نے یہ لکھا ہے کہ اس تیسرے فتنہ سے مراد عبداللہ بن زبیر اور اہل مکہ کے خلاف حجاج بن یوسف کی وہ جنگ ہے جو عبدالملک بن مروان کے زمانے میں ٧٤ ھ میں ہوئی تھی اور جس کے نتیجے میں کعبہ اقدس کی بھی تخریب ہوئی تھی۔ لیکن یہ مراد اس صوت میں صحیح نہیں قرار پاسکتی جب کہ حدیث کے آخری جملے کے مطابق یہ کہا جائے کہ اس فتنے کے وقت دنیا میں کوئی صحابی موجود نہیں تھا کیونکہ حجاج بن یوسف کی جنگ کے وقت تو صحابہ کی اچھی خاصی تعداد بقید حیات تھی۔ لہٰذا پہلی مراد ہی صحیح ہے۔