فتنوں کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 161 · 39 hadiths · Page 1 of 2

5275Mishkaat-al-Masabih

فتنوں کا بیان

فتن اصل میں فتنۃ کی جمع ہے جیسا کہ محن محنۃ کی جمع آتی ہے فتنہ کے مختلف معنی ہیں مثلاً آزمائش و امتحان، ابتلا، گناہ، فضیحت، عذاب، مال و دولت، اولاد، بیماری، جنون، محنت، عبرت، گمراہ کرنا و گمراہ ہونا اور کسی چیز کو پسند کرنا اور اس پر فریفتہ ہونا نیز لوگوں کی رائے میں اختلاف پر بھی فتنہ کا اطلاق ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ مشکوۃ کا وہ حصہ جو یہاں شروع ہو کر آخرت کا ہے اس کو مؤلف نے کتاب الفتن کا نام دیا ہے اور اس کے ضمن میں مختلف ابواب قائم کئے ہیں بظاہر اس کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی، خصوصا، فضائل مناقب کے ابواب کو کتاب الفتن میں شامل کرنے کی کوئی معقول وجہ نظر نہیں آتی، اگر یہ کہا جائے کہ ان ابواب میں جن مقدس ہستیوں یعنی ذات رسالت پناہ ﷺ اور خلفائے راشدین و اکابر صحابہ کرام کے فضائل ومناقب بیان کئے گئے ہیں ہم ان کی عظمت و برتری اور بزرگی کا اعتقاد رکھنے کے مکلف اور اس اعتقاد کو اپنے عمل سے ثابت کرنے کے امتحان و آزمائش میں مبتلا ہیں نیز ان کی ذات کے گرویدہ اور ان پر فریفتۃ ہیں اور اس اعتبار کو ملحوظ رکھا جائے تو پوری کتاب میں جو کچھ منقول و مذکور ہے وہ سب اسی قبیل سے ہے اور اس صورت میں محض کتاب الفتن کی تخصیص لاحاصل ہوگی۔ بہرحال اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس موقع پر مؤلف مشکوۃ کے ذہن میں کیا بات تھی اور انہوں نے کن وجوہ کی بنا پر یہاں سے کتاب کے آخر تک کے حصہ کو کتاب الفتن کا نام دیا۔

5276Mishkaat-al-Masabih

حضور ﷺ نے قیامت تک ظاہر ہونے والے تمام فتنوں کے بارے میں پیشگوئی فرما دی تھی

عن حذيفة قال قام فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم مقاما ما ترك شيئا يكون في مقامه إلى قيام الساعة إلا حدث به حفظه من حفظه ونسيه من نسيه قد علمه أصحابي هؤلاء وإنه ليكون منه الشيء قد نسيته فأراه فأذكره كما يذكر الرجل وجه الرجل إذا غاب عنه ثم إذا رآه عرفه . متفق عليه .

حضرت حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے جیسا کہ وعظ وخطبہ کے لئے کھڑے ہوتے ہیں چناچہ آپ ﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا اور وعظ کہا جس کے دوران آپ ﷺ نے ان فتنوں سے آگاہ فرمایا جو ظاہر ہونے والے تھے پس از قسم فتنہ جو چیزیں اس وقت یعنی زمانہ نبوی سے لے کر قیامت تک وقوع پذیر ہونے والی تھیں ان سب کو ذکر فرمایا اور ان میں سے کوئی چیز بیان کرنے سے نہیں چھوڑی ان باتوں کو یاد رکھنے والوں نے یاد رکھا اور جو بھولنے والے تھے وہ بھول گئے یعنی آپ ﷺ نے جن فتنوں کا ذکر فرمایا ان کو بعض لوگوں نے تو یاد رکھا اور بعض لوگوں نے فراموش کردیا۔ حضرت حذیفہ ؓ نے یہ بھی فرمایا کہ میرے یہ دوست (یعنی صحابہ ؓ جو اس وقت بقید حیات ہیں) اس واقعہ سے (کہ آپ ﷺ نے اس دن اپنے خطبہ میں قیامت تک ظاہر ہونے والے فتنوں کا ذکر فرمایا تھا) واقف ہیں (لیکن ان میں سے بعض حضرات حضور ﷺ کی بیان فرمودہ ان باتوں کو جانتے ہیں اور بعض حضرات کو وہ باتیں تفصیل کے ساتھ یاد نہیں رہی ہیں کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ نسیان کا طاری ہوجانا انسانی خواص میں سے ہے اور جیسا کہ بیان کیا گیا میں بھی انہی لوگوں میں سے ہوں جو ان باتوں کو پوری طرح یاد نہیں رکھ سکے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ حضور ﷺ نے جن باتوں کی خبر دی تھی اور جن باتوں کو میں بھول گیا ہوں اگر ان میں سے کوئی بات پیش آجاتی ہے تو میں اس کو دیکھ کر اپنا حافظہ تازہ کرلیتا ہوں جس طرح کہ جب کسی غائب شخص کا چہرہ نظر آجاتا ہے تو وہ چہرہ دیکھ کر اس شخص کو پہچان لیا جاتا ہے (یعنی عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص بہت عرصہ تک غائب رہتا ہے تو اس کی شخصیت ذہن سے اوجھل ہوجاتی ہے اور لوگ اسے بھول جاتے ہیں لیکن جب کبھی وہ ظاہر ہوجاتا ہے اور اس کا چہرہ نظروں کے سامنے آجاتا ہے تو اس کی بھولی ہوئی شخصیت فوراً یاد آجاتی ہے اور وہ تشخص کے ساتھ پہچان لیا جاتا ہے، اسی طرح میرا معاملہ بھی یہ ہے کہ اس دن حضور ﷺ نے جو باتیں پیش گوئی فرمائی تھیں وہ تفصیلی طور پر میرے ذہن میں نہیں رہی ہیں لیکن جب ان باتوں میں سے کوئی بات پیش آجاتی ہے اور حضور ﷺ نے جن چیزوں کی خبر دی تھی ان میں سے کوئی چیز وقوع پذیر ہوتی ہے تو اس کو دیکھ کر میں فوراً پہچان لیتا ہوں کہ یہ وہی بات ہے جس کی خبر حضور ﷺ نے دی تھی۔ (بخاری ومسلم)

5277Mishkaat-al-Masabih

قلب انسانی پر فتنوں کی یلغار

وعنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول تعرض الفتن على القلوب كالحصير عودا عودا فأي قلب أشربها نكتت فيه نكتة سوداء وأي قلب أنكرها نكتت فيه نكتة بيضاء حتى يصير على قلبين أبيض بمثل الصفا فلا تضره فتنة ما دامت السماوات والأرض والآخر أسود مربادا كالكوز مجخيا لا يعرف معروفا ولا ينكر منكرا إلا ما أشرب من هواه رواه مسلم . ( متفق عليه )

حضرت حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ لوگوں کے دلوں پر فتنے اس طرح ڈالے جائیں گے جس طرح چٹائی کے تنکے ہوتے ہیں یعنی جس طرح چٹائی میں تنکے ایک کے پیچھے ایک لگائے جاتے ہیں اسی طرح سے دلوں پر ایک کے بعد ایک فتنے ڈالے جائیں گے پس جو دل ان فتنوں کو قبول کرے گا اس میں سیاہ نکتہ ڈال دیا جائے گا اور جو دل ان فتنوں کو قبول کرنے سے انکار کرے گا اس میں سفید نکتہ پیدا کردیا جائے گا پس انسان ان فتنوں کے پیش آنے اور ان کے دلوں پر ان فتنوں کی تاثیر وعدم تاثیر کے اعتبار سے دو قسموں میں بٹ جائیں گے (یا یہ کہ انسان کے دل مذکورہ اعتبار کے مطابق دو قسم کے ہوجائیں گے) ایک تو سفید مثل سنگ مرمر کے کہ جس پر کوئی چیز اثر انداز نہیں ہوتی واضح رہے کہ اس تشبیہ میں محض سفیدی مراد نہیں ہے بلکہ سختی اور قوت کا اعتبار بھی ملحوظ رکھا گیا ہے چناچہ اس طرح کے دل پر کوئی بھی فتنہ اثر انداز اور مسرت رساں نہیں ہوگا جب تک کہ زمین و آسمان قائم و باقی ہیں (یعنی اس دل کی یہ کیفیت ہمیشہ باقی رہے گی) اور دوسرا راکھ کے رنگ جیسا سیال دل، اوندھے برتن کی مانند (کہ اس میں جو کچھ بھی ہو گرپڑے، مطلب یہ کہ اس طرح کا دل راکھ کی مانند سیاہ اور اوندھے برتن کی طرح ایمان و معرفت کے نور سے خالی ہوگا چناچہ اس طرح کا دل نہ تو نیک واچھے اور مشروع کاموں کو پہچانے گا اور نہ برے کاموں کو برا جانے گا، وہ تو بس اس چیز سے مطلب رکھے گا جو از قسم خواہشات اس میں رچ بس گئی ہے اور جس کی محبت کا وہ اسیر بن چکا ہے۔ (یعنی وہ طبعی طور پر نفسانی خواہشات کا غلام ہوگا اور اچھی وبری کا امتیاز کئے بغیر ہر اس چیز کے پیچھے بھاگے گا جو اس کے نفس کو مرغوب ہوگی۔ (مسلم) تشریح فتنوں سے مراد بلا وآفات اور وہ چیزیں ہیں جو انسان کے ذہن وفکر اور قلب وجسم کو تعب و تکلیف اور رنج و نقصان میں مبتلا کرلیتی ہیں لیکن بعض حضرات نے فتنوں کی مراد، فاسد و گمراہ نظریات، باطل افکار اور نفسانی شہوت و خواہشات کو قرار دیا ہے۔ لفظ عودا تین طرح سے نقل کیا گیا ہے، ایک روایت میں عین کے پیش اور دال مہملہ کے ساتھ ہے اور جیسا کہ دوسری روایت سے بھی ثابت ہوتا ہے، یہی زیادہ مشہور ہے۔ اس صورت میں حدیث کے اس جملہ کا مطلب یہ ہوگا کہ دلوں میں فتنے اس طرح ایک کے بعد ایک دو آئیں گے جیسا کہ چٹائی بنتے وقت تنکے ایک کے بعد ایک داخل کئے جاتے ہیں، اس تشبیہ سے مراد دلوں پر فتنوں کا اس طرح پیش آنا ہے جس طرح چٹائی بننے والے کے سامنے تنکے یکے بعد دیگرے پیش ہوتے رہتے ہیں۔ اور بعض حضرات کہتے ہیں کہ اس تشبیہ سے مراد یہ ہے کہ وہ فتنے دل پر اس طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔ دوسری روایات میں یہ لفظ عین کے زیر اور ذال کے ساتھ یعنی عوذا ہے اس صورت میں یہ لفظ ان فتنوں سے اللہ کی پناہ طلب کرنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے جیسا کہ گفتگو و کلام کے دوران کفر و معصیت کے ذکر کے بعد نعوذ باللہ یا معاذ اللہ کہا جاتا ہے۔ تیسری روایت میں یہ لفظ عین کے زیر اور دال کے مہملہ کے ساتھ (یعنی عودا) ہے اور اس سے مراد عود و تکرار ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ وہ فتنے دل پر باربار واقع ہوں گے۔ واضح رہے کہ پہلی روایت میں تو یہ لفظ منصوب اور مرفوع دونوں طرح نقل کیا گیا ہے اور دوسری و تیسری روایت میں صرف منصوب منقول ہے۔ اشربہا میں لفظ مشرب صیغہ مجہول کے ساتھ ہے۔ کہا جاتا ہے اشرب فلاں حب فلاں یعنی فلاں شخص کے دل میں فلاں شخص کی محبت رچ گئی ہے۔ یا فلاں شخص کے دل میں فلاں شخص کی محبت کا فتنہ بیٹھ گیا ہے، یا فلاں شخص کے دل پر فلاں شخص کی محبت کا رنگ چڑھ گیا ہے جیسا کہ کسی کپڑے پر کوئی رنگ چڑھ جاتا ہے۔ چونکہ شرب کے اصل معنی پینے کے ہیں اس لئے کڑے پر رنگ چڑھنے کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ گویا وہ کپڑا اس رنگ کو پیتا ہے اور اس میں رنگ جاتا ہے پس جو دل ان فتنوں کو قبول کرلے گا کا مطلب یہ ہے کہ جس میں کجی ہوگی اور جس کا میلان و رجحان برائی کی طرف ہوگا اس میں وہ فتنے رچ بس جائیں گے اور گویا وہ دل ان فتنوں کو اس طرح قبول کرلے گا جس طرح کوئی سفید کپڑا کسی بھی رنگ کو فورا قبول کرلیتا ہے۔ نکتہ اصل میں داغ کو کہتے ہیں اور اس نشان کے معنی میں آتا ہے جو لکڑی وغیرہ کے کریدنے اور چھونے سے زمین پر پیدا ہوجاتا ہے۔ نیز نکتہ کا لفظ نقطہ کے معنی میں بھی آجاتا ہے اور خاص طور پر اس نقطہ (دھبہ) کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جو مخالف رنگ کی چیز میں ہو جیسے سفید چیز میں سیاہ نقطہ اور سیاہ چیز میں سفید نقطہ۔ حتی تصیر علی قلبین میں لفظ تصیر حرف ت کے ساتھ بھی ہے اور حرف ی کے ساتھ بھی۔ اگر یہ لفظ ی کے ساتھ یعنی یصیر پڑھا جائے تو اس صورت میں اس کی ضمیر انسان کی طرف راجع ہوگی جیسا کہ سیاق کلام سے مفہوم ہوتا ہے اور اگر اس لفظ کو ت کے ساتھ تصیر پڑھا جائے تو اس کی ضمیر قلوب کی طرف راجع ہوگی جو صریحا مذکورہ بھی ہے۔ مرباد م کے پیش اور ر کے جزم اور دال کی تشدید کے ساتھ، کے معنی خاکستر اور سیاہ رنگ کے ہیں۔ رمد کا لفظ بھی خاکستر رنگ کے معنی میں آتا ہے اور ارمداد کے معنی ہیں خاکستری رنگ کا ہونا۔

5278Mishkaat-al-Masabih

جب امانت دلوں سے نکل جائے گی

وعنه قال حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم حديثين رأيت أحدهما وأنا أنتظر الآخر حدثنا إن الأمانة نزلت في جذر قلوب الرجال ثم علموا من القرآن ثم علموا من السنة . وحدثنا عن رفعها قال ينام الرجل النومة فتقبض الأمانة من قلبه أثرها مثل أثر الوكت ثم ينام النومة قتقبض فيبقى أثرها مثل أثر المجل كجمر دحرجته على رجلك فنفط فتراه منتبرا وليس فيه شيء ويصبح الناس يتبايعون ولا يكاد أحد يؤدي الأمانة فيقال إن في بني فلان رجلا أمينا ويقال للرجل ما أعقله وما أظرفه وما أجلده وما في قلبه مثقال حبة من خردل من إيمان . متفق عليه . ( متفق عليه )

حضرت حذیفہ ؓ کہتے ہیں ایک دن رسول کریم ﷺ نے ہم سے امانت کے بارے میں اور فتنے کے زمانہ کے حوادث کے سلسلہ میں دو حدیثیں یعنی دو باتیں بیان فرمائیں ان میں سے ایک کو تو دیکھ چکا ہوں اور دوسری کا منتظر ہوں (یعنی حضور نے پہلی بات جو یہ فرمائی کہ امانت لوگوں کے دلوں کی گہرائی میں اتاری گئی ہے اس کو تو میں نے دیکھ لیا اور دوسری بات یعنی امانت کے اٹھ جانے کا منتظر ہوں) چناچہ رسول کریم ﷺ نے ہم سے بیان فرمایا کہ۔ امانت لوگوں کے دلوں کی گہرائی میں اتاری گئی پھر انہوں نے اس امانت کو نور سے قرآن کو جانا اور پھر انہوں نے سنت کو جانا۔ اس کے بعد آپ نے امانت کے اٹھ جانے (یعنی ایمان کے اثرات و برکات کے اٹھ جانے اور اس میں نقص آجانے کی حدیث بیان کی چناچہ فرمایا آدمی حسب معمول سوئے گا اور امانت اس کے دل سے نکال لی جائے گی (یعنی اس کے ایمان کے بعض ثمرات وانوار ناقص وکم ہوجائیں گے) پس امانت کا اثر یعنی نشان جو ایمان کا ثمرہ ہے وکت کے نشان کی طرح ہوجائے گا (حاصل یہ کہ ایمان کا نور دھندلا اور اس کا اثر وثمرہ ناقص ہوجائے گا) پھر جب وہ دوبارہ سوئے گا اور زیادہ غفلت طاری ہوگی تو اس کی امانت کا وہ حصہ بھی ناقص کردیا جائے گا اور نکال لیا جائے گا جو باقی رہ گیا تھا پس اس کے دل میں ایک مجل یعنی آبلہ جیسا نشان رہ جائے گا جیسا کہ تم آگ کی چنگاری کو اپنے پاؤں پر ڈال دو اور اس سے آبلہ پڑجائے جو بظاہر پھولا اور اٹھا ہوا ہوگا لیکن اس کے اندر خراب اور گندے پانی کے علاوہ کچھ نہیں ہوگا۔ پھر اس صورت حال کے بعد لوگ صبح کو اٹھیں گے تو حسب معمول آپس میں خریدو فروخت کریں گے اور ان میں سے ایک شخص بھی ایسا نہیں ہوگا جو امانت کو ادا کرے (یعنی شریعت کے حقوق ادا کرنے والا فرائض و واجبات کی تکمیل کرنے والا اور لوگوں کے حق میں کوئی خیانت و بددیانتی نہ کرنے والا کہیں دور دور بھی نظر نہیں آئے گا) یہاں تک کہ امانت و دیانت میں کمی آجانے کے سبب یہ کہا جائے گا کہ فلاں قبیلہ یا فلاں شہر و آبادی میں لوگوں کی کثرت کے باوجود بس ایک شخص ہے جو امانت دار یعنی کامل الایمان ہے۔ اور زبردست سیاسی مہارت و چالاکی اور دنیاوی شان و شوکت کا حامل ہوگا یا کہا جائے گا کہ اپنے دنیاوی کاروبار اور معاملات میں کس قدر عقلمند و ہوشیار، کس قدر خوبصورت ودانا، خوشگوار اور زبان آور ہے اور کس قدر چست و چالاک ہے، حالانکہ اس کے دل میں رائی کے برابر بھی ایمان نہیں ہوگا۔ (بخاری ومسلم) تشریح امانت سے مراد یا تو اس کے مشہور معنی ہیں یعنی کسی کے حق میں یا کسی کی ملکیت میں خیانت نہ کرنا یا وہ تمام شرعی ذمہ داریاں مراد ہیں جو ہر شخص پر عائد کی گئی ہیں یعنی تمام اسلامی احکام وتعلیمات کو ماننا اور ان پر عمل کرنا اور امانت کے یہ وہ معنی ہیں جو قرآن کریم کی اس آیت (اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ ) 33۔ الاحزاب 72) میں مذکور ہیں تاہم ان دونوں معنی کی اصل اور بنیاد ایمان ہے اس لئے زیادہ وضاحت کے لئے یوں کہا جاسکتا ہے کہ یہاں امانت سے مراد ایمان ہے جیسا کہ خود حدیث کے آخری الفاظ وما فی قلبہ مثقال حبۃ من خر دل من ایمان سے بھی یہی مفہوم ہوتا ہے۔ اسی طرح حدیث کے اس جملہ ولا یکاد احد یودی الامانۃ میں امانت کا جو لفظ ہے وہ بھی مذکورہ وضاحت پر مبنی ہے۔ پس حضور ﷺ نے جو دو حدیثیں بیان فرمائیں ان میں سے پہلی حدیث کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی ہدایت و فلاح کے لئے ایمان و امانت کو نازل فرمایا اور اس کا مورود کل قلب انسانی کو قرار دیا کہ پہلے ایمان کا نور اور جوہر انسان کے دل میں اترا اور راسخ ومستحکم ہوا جس نے کتاب ہدایت قرآن مجید اور سنت نبوی پر عمل آوری کے راستہ کو منور کیا، چناچہ انسان نے اسی طور ایمان کے سبب ان لافانی تعلیمات اور احکام و مسائل کو جانا اور سمجھا جو کتاب اللہ سے اخذ کئے گئے ہیں اور وہ احکام و مسائل خواہ فرض و واجب اور مسنون ومباح ہوں یا حرام و مکروہ اور پھر اسی نور نے سنت نبی کی حقیقت و صداقت کو واشگاف کیا کہ زبان رسالت اور معمولات نبوی نے کتاب اللہ کی تعلیمات منشا حق کی جو وضاحت و تفسیر بیان فرمائی اس کو بلا چون وچرا قبول کر کے عمل کی راہ کو استوار کیا گیا۔ یہاں یہ بات واضح ہوئی کہ حق تعالیٰ کی طرف سے نور ہدایت کا پیدا کیا جانا اور اس کے ذریعہ انسانیت عامہ کو نوازنے اور فلاح پہنچانے کا ارادہ فرمانا کتاب اللہ کو نازل کرنے اور رسولوں کو مبعوث کرنے سے پہلے تھا، یعنی پہلے تو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کو پیدا کیا اور یہ ارادہ فرمایا کہ اپنے بندوں کو اس نور ہدایت کے ذریعہ سعادت و بھلائی کے بلند مقام پر پہنچانا ہے۔ اس کے بعد اس نے اپنی کتاب کو دنیا میں نازل فرمایا اور اپنے پیغمبر اور رسول مبعوث فرمائے پس نسل انسانی سے جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی عنایت و ہدایت کا مورد ومحل بننا نصیب ہوا اور جن میں اس نور ہدایت کو قبول کرنے کی توفیق و استعداد و دیعت ہوئی وہی خوش بخت کتاب وسنت سے بہرہ مند ہوتے ہیں۔ اس موقع پر ایک نکتہ اور بھی بیان کیا جاتا ہے، وہ یہ کہ جو یہ فرمایا گیا ہے کہ۔ پھر انہوں نے قرآن کو جانا اور پھر انہوں نے سنت کو جانا۔ اس کے ذریعہ ایمان و امانت کے مرتبہ کی شان و حیثیت اور اس کی عظمت کو بیان کرنا بھی مقصود ہے کہ باوجودیکہ اللہ تعالیٰ نے نور ہدایت یعنی ایمان کو نازل فرمایا اور قلوب انسانی میں اس کو ودیعت و راسخ فرما دیا تھا مگر پھر کتاب اللہ کے نازل کرنے اور اپنے پیغمبر و رسول کے مبعوث کرنے کے ذریعہ بھی اس کو مؤ کد ومؤید کیا۔ بہرحال یہ وہ پہلی حدیث جو حضور ﷺ نے صحابہ ؓ سے ارشاد فرمائی اور حضرت حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اس کا مصداق اپنی آنکھوں سے دیکھ بھی لیا ہے بایں طور کہ حضور ﷺ کے زمانہ اور رفاقت حضوری میں صحابہ کرام اس ارشاد گرامی کے عین مصداق تھے اور دوسری حدیث کہ جس میں حضور ﷺ نے امانت کے کم ہوجانے اور اٹھ جانے کا ذکر فرمایا وہ حضور کے مبارک زمانہ کے بعد کے لوگوں پر صادق آئی۔ آدمی حسب معمول سوئے گا الخ سے مراد یا تو حقیقۃ سونا ہے یا یہ جملہ اس کی غفلت و کوتاہی میں پڑجانے سے کنایہ ہے یعنی یاد الٰہی سے غافل آیت الٰہی سے بیخبر، قرآن مجید میں تدبر و تفکر سے بےپرواہ اور تباع سنت میں کوتاہ ہوجانا۔ یہ دوسری مراد زیادہ واضح ہے کیونکہ ماقبل جملہ ثم السنۃ (اور پھر انہوں نے سنت کو جانا) کا مخالف مفہوم اسی مراد کا متقاضی ہے۔ فیظل اثرہ مثل اثرالوکت امانت کا اثر یعنی نشان وکت کے نشان کی طرح ہوجائے گا۔ پہلے یہ جاننا چاہئے کہ کسی چیز کا اثر وہ نشان کہلاتا ہے جو اس چیز کی علامت کے طور پر نمودار ہے اور اس چیز کا کچھ نہ کچھ حصہ اس کی صورت میں باقی رہے اور وکت عکسی چیز کے اس دھبہ کو کہتے ہیں جو اس چیز کے مخالف رنگ کی صورت میں نمودار ہوجائے جیسے کسی سفید چیز میں سیاہ نقطہ کا نمودار ہونا اور بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ وکت اصل میں اس سفید نقطہ نما نشان کو کہتے ہیں جو آنکھ کی سیاہی میں پیدا ہوجائے۔ حدیث کے اس جملہ کا حاصل یہ ہے کہ دین و شریعت کی طرف سے غافل ہوجانے اور گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے دل میں ایمان کا نور کم ہوجائے گا اور وہ غافل ہونے والا جب اس صورت حال سے آگاہ ہوگا اور اپنے دل کی حالت و کیفیت میں غور و فکر کرے گا تو یہ محسوس کرے گا کہ اس میں ایک نقطہ کی مقدار کے علاوہ نور امانت میں سے اور کچھ باقی نہیں رہا ہے۔ جب وہ دوبارہ سو جائے گا کے ذریعہ اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جب دین و شریعت سے غفلت کی نیند اور زیادہ طاری ہوجائے گی اور گناہوں کا ارتکاب زیادہ بڑھ جائے گا دل میں سے نور ایمان کا بقیہ حصہ بھی نکل جائے گا اور وہاں صرف مجل کے نشان کی طرح کی صورت میں رہ جائے گا واضح رہے کہ مجل کے معنی ہیں آبلہ پڑجانا اور کام کرتے کرتے ہاتھ کی جو کھال سخت ہوجاتی ہے اور جس کو گھٹا بھی کہتے ہیں اس پر بھی مجل کا اطلاق ہوتا ہے۔ لہٰذا جس طرح انسان کے جسم کے کسی حصہ پر جو آبلہ پڑجاتا ہے وہ اگرچہ اوپر سے ابھرا نظر آتا ہے لیکن حقیقت میں اس کے اندر خراب اور گندے پانی کے سوا کچھ نہیں ہوتا، اسی طرح جس شخص کے دل میں امانت کا وہ باقی اثر و نشان بھی نکال لیا جائے گا تو اگرچہ وہ بظاہر بالکل صالح و کار آمد نظر آئے گا لیکن حقیقت میں اس کے اندر سعادت و بھلائی اور اخروی زندگی کو فائدہ پہنچانے والی کوئی چیز نہیں ہوگی۔ مذکورہ وضاحت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وکت اور مجل نور امانت کے اس حصہ کی تمثیل ہے جو دل میں باقی رہ جاتا ہے گویا ان دونوں چیزوں کی مثال کے ذریعہ اس طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ اس دور میں اسلام کے نام لیواؤں میں ایمان و دین کی اس کمزوری کے باوجود ان کے دل میں ایمان و امانت کا نور کسی نہ کسی حد تک ضرور باقی رہے گا خواہ وہ وکت اور مجل کے نشان ہی کی طرح کیوں نہ ہو لیکن اس وضاحت پر ایک اشکال وارد ہوتا ہے وہ یہ کہ مجل کا نشان وکت کے نشان سے زیادہ گہرا ہوتا ہے۔ لہٰذا کلام کے اسلوب کا تقاضا تو یہ تھا کہ پہلے مجل کے نشان کا ذکر کیا جاتا اور اس کے بعد وکت کے نشان کا ذکر ہوتا کیونکہ بعد کے درجہ کا نشان پہلے درجہ کے نشان سے کمتر اور ہلکا ہونا چاہئے اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ وکت اگرچہ بہت قلیل نشان ہوتا ہے مگر وہ مجل سے کمتر حیثیت نہیں رکھتا کیونکہ مجل ایک خالی اور بالکل بیکار ہونے کی وجہ سے کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتا۔ لیکن یہ جواب زیادہ مضبوط نہیں ہے۔ ایک شارح نے اس بحث پر ایک دوسرے انداز سے روشنی ڈالی ہے ان کے منقولات کے مطابق اس دوسری حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جن اہل ایمان کے قوائے فکر و عمل پر غفلت وبے حسی طاری ہوجائے گی اور گناہوں کے ارتکاب کی صورت میں دین شریعت کے ساتھ ان کا تعلق نہایت کمزور پڑجائے گا ان کے دلوں سے امانت جاتی رہے گی چناچہ جب اس کا ایک حصہ زائل ہوجائے گا تو ان کے دلوں میں سے اس کا نور بھی زائل ہوجائے گا اور اس کی جگہ وکت کی طرح ظلمت وتاری کی پیدا ہوجائے گی اور اس کی مثال ایسی جیسے کسی چیز میں اس کا مخالف رنگ نمودار ہوجائے مثلا سفید چیز میں سیاہ رنگ کا نمودار ہوجانا اور جب دین و شریعت کے تئیں غفلت و کوتاہی اور بڑھ جائے گی اور گناہوں کا ارتکاب پہلے سے بھی زیادہ ہوجائے تو نور امانت کا جو حصہ باقی رہ گیا تھا اس میں سے کچھ اور زائل ہوجائے گا اور اس کی مثال ؛ ایسی ہے جیسے جسم کے کسی حصہ پر مجل (یعنی آبلہ یا گٹھے کا نشان) اتنا گہرا اور اس قدر سخت ہوتا ہے کہ جلد زائل نہیں ہوتا، پس دوسری مرتبہ دل میں جو تاریکی پیدا ہوگی وہ پہلی مرتبہ پیدا ہونے والی تاریکی سے زیادہ پھیلی ہوئی اور گہری ہوگی۔ مذکورہ صورت حال کو اس مثال کے ذریعہ بیان فرمانے کے بعد پھر یہ فرمایا کہ قلب انسانی میں ایمان و امانت کے نور کا پیدا ہونا اور پھر نکل جانا یا دلوں میں اس نور کا جگہ پکڑنا اور پھر اس کے زائل ہوجانے کے بعد تاریکی کا آجانا ایسی تشبیہ رکھتا ہے جیسا کہ کوئی آگ کا انگارہ لے کر اس کو اپنے پیر پر ڈال لے اور انگارہ پیر کو جلا کر زائل ہوجائے اور پھر جلی ہوئی جگہ پر آبلہ پڑجائے۔ ایک اور شارح نے یہ لکھا ہے کہ اس ارشاد گرامی کی مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دلوں میں امانت کا نور پیدا کیا تاکہ وہ اس کی روشنی میں فلاح کے راستہ پر چلیں اور دین و شریعت کے پیروکار بنیں لیکن جب وہ لوگ اس نعمت سے بےپرواہ ہوجائیں گے، دین و شریعت کے تئیں غفلت و کوتاہی میں پڑجائیں گے اور گناہوں کا ارتکاب کرنے لگیں گے تو اللہ تعالیٰ سزا کے طور پر ان لوگوں سے یہ نعمت واپس لے لے گا۔ بایں طور کہ ان کے دل سے امانت نکل جائے گی، یہاں تک کہ جب وہ خواب غفلت سے بیدار ہوں گے تو محسوس کریں گے کہ ان کے قلب کی وہ حالت نہیں ہے جو امانت کی موجودگی میں پہلے تھی۔ البتہ ان کے دلوں میں اس امانت کا نشان باقی رہے جو کبھی وکت کی طرح ہوگا اور کبھی مجل کی طرح ہوگا۔، پس مجل اگرچہ مصدر ہے لیکن یہاں اس سے مراد نفس آبلہ ہے اور یہ یعنی مجل پہلے مرتبہ یعنی وکت سے کمتر درجہ ہے۔ کیونکہ وکت کے ذریعہ اس طرف اشارہ مقصود ہے کہ اگرچہ امانت دل سے نکل جائے گی مگر نشان کی صورت میں اس کا کچھ نہ کچھ حصہ باقی رہے گا۔ حدیث کے آخری الفاظ حالانکہ اس کے دل میں رائی برابر بھی ایمان نہیں ہوگا دونوں احتمال رکھتے ہیں یا تو اصل ایمان کی نفی مراد ہے، یعنی اس شخص کے سرے سے ایمان کا وجود ہی نہیں ہوگا، یا کمال ایمان کی نفی مراد ہے کہ ارشاد گرامی کے اس جزو کا حاصل یہ ہے کہ لوگ اس شخص کی عقل و دانائی کی زیادتی اور چالاکی اور مہارت وغیرہ کی تعریف کریں گے اور اس کے تئیں تعجب تحسین کا اظہار کریں گے لیکن کسی ایسے شخص کی تعریف و توصیف نہیں کریں گے جس میں بہت زیادہ علم وفضل ہوگا اور جو عمل صالح کی دولت سے مالا مال ہوگا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اصل چیز ایمان اور پاکیزگی فکر و عمل ہے۔ اگر کسی شخص میں ایمان و پاکیزگی کی دولت نہ ہو تو خواہ وہ دنیا بھر کی تمام نعمتوں، کامرانیوں اور خوبیوں کا حامل ہو اس کی کوئی حقیقت نہ ہوگی اگرچہ دنیا والے اس کی کتنی ہی تعریف وتحسین کریں اور اس کی ان خوبیوں و کامرانیوں کی وجہ سے اس کو کتنا ہی بہتر و برتر جانیں لہٰذا تعریف وتحسین اس شخص کے حق میں معتبر ہوگی جو ایمان وتقویٰ کا حامل ہو۔

5279Mishkaat-al-Masabih

جب فتنوں کا ظہور ہو تو گوشہ عافیت تلاش کرو

وعنه قال كان الناس يسألون رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الخير وكنت أسأله عن الشر مخافة أن يدركني قال قلت يا رسول الله إنا كنا في جاهلية وشر فجاءنا الله بهذا الخير فهل بعد هذا الخير من شر ؟ قال نعم قلت وهل بعد ذلك الشر من خير ؟ قال نعم وفيه دخن . قلت وما دخنه ؟ قال قوم يستنون بغير سنتي ويهدون بغير هديي تعرف منهم وتنكر . قلت فهل بعد ذلك الخير من شر ؟ قال نعم دعاة على أبواب جهنم من أجابهم إليها قذفوه فيها . قلت يا رسول الله صفهم لنا . قال هم من جلدتنا ويتكلمون بألسنتنا . قلت فما تأمرني إن أدركني ذلك ؟ قال تلزم جماعة المسلمين وإمامهم . قلت فإن لم يكن لهم جماعة ولا إمام ؟ قال فاعتزل تلك الفرق كلها ولو أن تعض بأصل شجرة حتى يدركك الموت وأنت على ذلك . متفق عليه . وفي رواية لمسلم قال يكون بعدي أئمة لا يهتدون بهداي ولا يستنون بسنتي وسيقوم فيهم رجال قلوبهم قلوب الشياطين في جثمان إنس . قال حذيفة قلت كيف أصنع يا رسول الله إن أدركت ذلك ؟ قال تسمع وتطيع الأمير وإن ضرب ظهرك وأخذ مالك فاسمع وأطع .

حضرت حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ لوگ تو اکثر رسول کریم ﷺ سے خیر ونی کی اور بھلائی کے بارے میں پوچھا کرتے تھے اور میں آپ ﷺ سے شر و برائی کے بارے میں دریافت کیا کرتا تھا اس خوف کی وجہ سے کہ کہیں میں کسی فتنہ میں مبتلا نہ ہوجاؤ (یعنی دوسرے صحابہ تو عبادت وطاعت کے بارے میں سوال کیا کرتے تھے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ نیک عمل اور اچھے کام کرسکیں یا یہ کہ وہ لوگ آپ ﷺ سے اپنے رزق میں وسعت و خوشحالی کی دعا کرتے تھے تاکہ انہیں اطمینان و فراغت حاصل ہو اور اپنی دنیا کو آخرت کی فلاح و کامیابی کا ذریعہ بنا سکیں لیکن ان کے برخلاف میرا معمول دوسرا تھا، میں حضور ﷺ سے گناہ اور برائیوں کے بارے میں پوچھا کرتا تھا کہ ان سے اجتناب کرسکوں یا یہ کہ ان فتنوں کے بارے میں پوچھتا تھا جو اس دنیا میں ظہور پذیر ہوسکتے ہیں اور جو نہ صرف اخروی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ ان کے برے اثرات دنیاوی خوشحالی اور رزق کی وسعت پر بھی پڑتے ہیں اور پوچھنے کی بناء یہ خوف ہوتا تھا کہ کہیں میں ان فتنوں میں مبتلا نہ ہوجاؤں یا ان کے برے اثرات و اسباب مجھ تک نہ پہنچ جائیں چناچہ اہل علم سے برائیوں کی واقفیت حاصل کر کے ان سے بچنے کی تدابیر اختیار کرنا ایک بہترین طریق ہے۔ اسی لئے حکماء اور اطبا بلکہ بعض فضلاء نے اس طریق کو بطور اصل اختیار کیا ہے کہ ازالہ مرض سلسلہ میں پرہیز کو ملحوظ رکھنا دوا استعمال کرنے سے زیادہ بہتر ہے نیز کلمہ توحید بھی اسی اصول کی طرف اشارہ ہے کہ پہلے ما سوی اللہ کی نفی کی گئی ہے اس کے بعد الوہیت کو ثابت کیا گیا) حضرت حذیفہ ؓ نے بیان کیا کہ اپنی مذکورہ عادت کے مطابق ایک دن میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم لوگ اسلام سے قبل جاہلیت اور برائی میں مبتلا تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی بعثت کے صدقہ میں ہمیں یہ ہدایت بخشی یعنی اسلام کی روشنی عطا فرمائی جس کی وجہ سے کفر ضلالت کے اندھیرے دور ہوگئے اور ہم گمراہیوں اور برائیوں کے جال سے باہر آگئے تو کیا اس ہدایت و بھلائی کے بعد کوئی اور برائی وبدی پیش آنے والی ہے؟ حضور ﷺ نے فرمایا ہاں! (اس بھلائی کے بعد بھی برائی پیش آنے والی ہے)۔ میں نے عرض کیا تو کیا اس برائی کے بعد پھر بھلائی کا ظہور ہوگا کہ جس کی وجہ سے دین و شریعت کا پھر بول بالا ہوجائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں! اس برائی کے بعد پھر بھلائی کا ظہور ہوگا لیکن اس برائی کے بعد پھر بھلائی کا ظہور ہوگا لیکن اس برائی کے بعد جو بھلائی آئے گی اس میں کدورت ہوگی۔ میں نے عرض کیا کہ اس بھلائی کی کدورت کیا ہوگی؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ میں نے کدورت کی جو بات کہی ہے اس سے مراد یہ ہے کہ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو میرے طریقہ اور میری روش کے خلاف طریقہ و روش اختیار کریں گے۔ لوگوں کو میرے بتائے ہوئے راستہ کے خلاف راستہ پر چلائیں گے۔ اور میری سیرت اور میرے کردار کے خلاف سیرت و کردار اپنائیں گے تم ان میں دین دار بھی دیکھو گے اور بےدین بھی۔ میں نے عرض کیا، کیا اس بھلائی کے بعد پھر کوئی برائی پیش آئے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو دوزخ کے دروازوں پر کھڑے ہو کر مخلوق کو اپنی طرف بلائی گے جو شخص ان کے بلاوے کو قبول کر کے دوزخ کی طرف جانا چاہے گا اس کو وہ دوزخ میں دھکیل دیں گے یعنی جو شخص ان کے بہکاوے میں آ کر ان گمراہیوں میں مبتلا ہوگا جو دوزخ کے عذاب کا مستوجب بناتی ہیں تو وہ دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ میں نے عرض کیا کہ ان کے بارے میں وضاحت فرمائیے کہ وہ کون لوگ ہوں گے آیا وہ مسلمانوں ہی میں سے ہوں گے یا غیر مسلم ہوں گے؟ حضور ﷺ نے فرمایا۔ وہ ہماری قوم، ہمارے ابناء جنس اور ہماری ملت کے لوگوں میں سے ہوں گے اور ہماری زبان میں گفتگو کریں گے (یعنی وہ لوگ عربی زبان رکھنے والے ہونگے یا یہ مراد ہے کہ ان کی گفتگو قرآن و حدیث کے حوالوں سے مزین اور پند و نصائح سے آراستہ ہوگی اور بظاہر ان کی زبان پر دین و مذہب کی باتیں ہوں گی مگر ان کے دل نیکی و بھلائی سے خالی ہوں گے) میں نے عرض کیا کہ تو پھر میرے بارے میں آپ کا کیا حکم ہے (یعنی اگر میں ان لوگوں کا زمانہ پاؤں تو مجھے اس وقت کیا کرنا چاہئے؟ حضور ﷺ نے فرمایا۔ کتاب وسنت پر عمل کرنے والے مسلمانوں کی جماعت کو لازم جاننا اور ان کے امیر کی اطاعت کرنا یعنی اہل سنت کے راستہ کو اختیار کرنا اور اہل سنت کا جو امام و مقتدا ہو اس کی اطاعت و رعایت کو ملحوظ رکھنا میں نے عرض کیا کہ اور اگر مسلمانوں کی کوئی مسلمہ جماعت ہی نہ ہو؟ اور نہ ان کا کوئی متفقہ امیر ومقتدا ہو بلکہ مسلمان مختلف جماعتوں میں منقسم ہوں اور الگ الگ مقتداؤں کے پیچھے چلتے ہوں تو اس صورت میں مجھے کیا کرنا چاہئے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ایسی صورت میں تمہیں ان سب فرقوں اور جماعتوں سے صرف نظر کر کے یکسوئی اختیار کر لینی چاہئے اگرچہ اس یکسوئی کے لئے تمہیں کسی درخت کی جڑ میں پناہ کیوں نہ لینی پڑے جنگلوں میں چھپنا کیوں نہ پڑے اور اس کی وجہ سے سخت سے سخت مصائب وشدائد برداشت کیوں نہ کرنا پڑے اور ان جنگلوں میں گھاس پھوس کھانے پر قناعت تک کی نوبت کیوں نہ آجائے یہاں تک اسی یکسوئی کی حالت میں موت تمہیں اپنی آغوش میں لے لے۔ (بخاری ومسلم) اور مسلم کی ایک اور روایت میں یوں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا میرے بعد ایسے امام یعنی امیر بادشاہ اور قائد رہنما ہوں گے جو عقیدہ وفکر اور علم کے اعتبار سے میری سیدھی راہ پر نہیں چلیں گے اور کردار وعمل کے اعتبار سے میری روش اور میرا طریقہ نہیں اپنائیں گے یا یہ معنی ہیں کہ وہ کتاب وسنت پر عمل نہیں کریں گے اور اس زمانہ میں ایسے بھی پیدا ہوں گے جو روپ اور بدن تو آدمیوں جیسا رکھیں گے لیکن ان کے دل شیطانوں کے سے ہوں گے یعنی وہ لوگ فسق و گمراہی شقاوت سخت دلی، شکوک و شبہات پیدا کرنے، فریب دینے عقل کے نکمے ہونے اور فاسد خواہشات رکھنے میں انسانیت کی ساری حدوں کو پار کر جائیں گے اور اس اعتبار سے ان کی شکل کو صورت آدمیوں جیسی ہونے کے باوجود ان کی سیرت اور ان کی باطنیت شیطان کی سی ہوگی۔ حضرت حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے یہ سن کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اگر میں اس زمانہ کو پاؤں تو کیا کرو؟ آپ نے فرمایا۔ مسلمانوں کا امیر ومقتدا جو کچھ کہے اس کو سننا اور امیر کی اطاعت کرنا (بشرطیکہ اس اطاعت کا تعلق کسی معصیت سے نہ ہو) اگرچہ تمہاری پشت پر مارا جائے اور تمہارا مال چھین لیا جائے تب بھی سننا اور طاعت کرنا۔ تشریح لفظ شر سے مراد فتنہ، ارکان اسلام میں سستی و کوتاہی واقع ہوجانا، برائی کا غلبہ پالینا اور بدعت کا پھیلنا ہے اور خیر سے مراد اس کے برعکس معنی ہیں۔ ہم لوگ جاہلیت اور برائی میں مبتلا تھے کے ذریعہ حضرت حذیفہ ؓ نے بعثت نبوی سے قبل کے زمانہ کی طرف اشارہ کیا جب توحید کا آفتاب جہالت کے بادلوں میں چھپا ہوا تھا، نبوت و رسالت کی روشنی نمودار نہیں ہوتی تھی۔ اور احکام الٰہی پر عمل آوری کا راستہ نظروں سے اوجھل تھا۔ فی جاہلیۃ و شر میں وشر کا لفظ عطف تفسیری ہے کہ اس لفظ کے ذریعہ جاہلیت کی وضاحت بیان کرنا مقصود ہے یا یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس جملہ میں وشر کے بعد تخصیص کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ دخن جس کا ترجمہ کدورت کیا گیا ہے۔ دخان (دھواں) کے معنی میں ہے مطلب یہ ہے کہ جس طرح فضا میں پھیلا ہوا دھواں صاف و شفاف چیزوں کو مکدر اور دھندلا بنا دیتا ہے اسی طرح اس وقت جو بھلائی بھی سامنے آئے گی وہ بدی اور برائی کے گرد و غبار سے آلودہ ہوگی، بایں طور کہ لوگوں کے دلوں میں صفائی اور خلوص نہیں ہوگا جو اس اسلام کے ابتدائی زمانہ میں تھا۔ اور عقیدے صحیح اور اعمال صالح نہیں ہوں گے، امراء و سلاطین کا نظم مملکت اس عدل و انصاف پر مبنی نہیں ہوگا جو پہلے زمانہ میں پایا جاتا تھا مسلمانوں کے قائد و رہنما مخلص (بےغرض اور دین وملت کے سچے خادم نہیں ہوں گے، برائیوں کا ظہور ہوگا، بدعتیں پیدا ہوں گی بدکار لوگ نیکو کاروں کے ساتھ اہل بدعت، اہل سنت کے ساتھ خلط ملط رہیں گے۔ تم ان میں دیندار بھی دیکھو گے اور بےدین بھی کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ بھلائی اور برائی دونوں کے ساتھ خلط ملط رکھنے کی وجہ سے متضاد اور مختلف اعمال و کردار اور طور طریقوں کے حامل ہوں گے؟ ان کی زندگی میں منکر یعنی بری باتوں کا چلن بھی ہوگا اور معروف یعنی اچھے کاموں کا عمل دخل بھی ہوگا۔ پس یہ جملہ بھی اسی مفہوم کو واضح کرتا ہے جو ماقبل کے جملوں نعم وفیہ دخن ویستنون بغیر سنتی سے مراد لیا گیا ہے۔ بعض حضرات نے وضاحت کی ہے کہ اس ارشاد گرامی میں اسلام و ہدایت کی روشنی کے بعد پیش آنے والی جس پہلی برائی یا فتنہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس سے وہ فتنہ و فساد مراد ہے جو حضرت عثمان غنی ؓ کے سانحہ شہادت کے وقت رونما ہو اور پھر پیش آنے والی دوسری بھلائی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس سے مراد حضرت عمر بن عبدالعزیز کا زمانہ خلافت ہے، نیز منہم وتنکر یعنی تم ان میں دیندار بھی دیکھو گے اور بےدین بھی۔ میں جن لوگوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ان سے وہ امراء و سلاطین مراد ہیں جو حضرت عمر بن عبدالعزیز کے بعد حکمراں ہوئے چناچہ ان میں سے بعض ایسے حکمران گزرے جو اپنی ذاتی زندگی میں بھی اور اپنے نظام سلطنت میں بھی کتاب وسنت کی ہدایت کو رہنما بناتے تھے اور عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے تھے۔ یا یہ کہ بعض ان میں سے ایسے تھے جو کبھی تو اچھے کام کرتے تھے اور کبھی خواہشات نفسانی میں پڑ کر برے کام کرتے تھے، اس وقت ان کے سامنے آخرت کا مفاد اور دار آخرت کے لئے تیاری کا جذبہ نہیں ہوتا تھا، بلکہ ان کا اصل مفاد اپنی ذاتی اغراض کو پورا کرنا اور ہر صورت اپنے اقتدار اور اپنی حکمرانی کو باقی رکھنا ہوتا تھا۔ اور بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ پہلی برائی سے مراد وہ فتنہ و فساد ہے جو حضرت عثمان غنی ؓ کے قتل کی صورت میں اور ان کے بعد رونما ہوا اور دوسری بھلائی سے وہ صلح صفائی ہے جو حضرت امیر معاویہ ؓ اور حضرت حسن ؓ کے درمیان ہوئی اور دخن یعنی کدورت سے مراد وہ افسوسناک واقعات، حادثات ہیں جو حضرت امیر معایہ ؓ کے زمانے میں بعض امراء کے ذریعہ رونما ہوئے جیسے عراق میں زیاد کا فتنہ و فساد۔ جو دوزخ کے دروازوں پر کھڑے ہو کر بلائیں گے یعنی ان مفاد پرست خود غرض اور گمراہ افراد کا ایک گروہ ہوگا جو لوگوں کو طرح طرح کے فریب اور مختلف لالچ اور بہلادوں کے ذریعہ گمراہی کی طرف بلائیں گے اور ان کو ہدایت و راستی سے دور رکھے گا۔ پس حضور ﷺ نے گمراہی کی دعوت دینے والوں کی دعوت کو اور جن کو دعوت دی جائے گی ان کی طرف سے اس دعوت کو قبول کئے جانے کو ایک ایسا سبب قرار دیا ہے جس کے ذریعہ دعوت دینے والے، دعوت قبول کرنے والوں کو جہنم میں دھکیل دیں گے اس طرح وہ لوگ ان کی مکر و فریب دعوت کا شکار ہو کر جہنم میں پہلے جائیں گے، نیز آپ ﷺ نے گویا مکر و فریب کی تمام اقسام اور تمام صورتوں کو جہنم کے دروازوں کا قائم مقام قرار دیا ہے۔ بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ یہاں جن افراد کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ لوگوں کو گمراہی کی طرف بلائیں گے ان سے وہ جاہ پسند اور حکومت و اقتدار کے طلبگار مراد ہیں جو ملک وقوم پر اپنا تسلط قائم کرنے اور اقتدار پر قبضہ کرنے کے لئے اپنے گروہ بنائیں گے اور عام لوگوں کو طرح طرح کے فریب دے کر اپنے گرد جمع کریں گے تاکہ ان کی اجتماعی طاقت کے ذریعہ ملی سیادت اور ملک و حکومت پر قبضہ کرسکیں، جیسا کہ خوارج اور روافض جیسے گمراہ فرقے اس ناپاک مقصد کے لئے پیدا ہوئے حالانکہ امارت وسیادت اور امانت و ولایت کی کوئی بھی شرط وخصوصیت ان میں موجود نہیں پائی جائے گی۔ ایک بات یہ بھی قابل وضاحت ہے کہ جو یہ فرمایا گیا ہے کہ وہ و دوزخ کے دروازوں پر کھڑے ہو کر لوگوں کو اپنی طرف بلائیں گے۔ تو دوزخ کے دروازوں پر کھڑے ہونا، مال کار کے اعتبار سے فرمایا گیا ہے یعنی گمراہی کی طرف ان لوگوں کے بلانے کا مآل کار چونکہ یہ ہوگا کہ جو لوگ ان کے بلانے پر ان کی طرف چلے جائیں گے وہ دوزخ کے عذاب کے مستوجب بنیں گے۔ اس لئے گمراہی کی طرف ان کے بلانے کو دوزخ کے دروازوں پر کھڑے ہو کر بلانے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ پس یہ ارشاد گرامی اسلوب کے اعتبار سے قرآن کریم اس آیت کی طرح ہے کہ (اِنَّ الَّذِيْنَ يَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْيَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا يَاْكُلُوْنَ فِيْ بُطُوْنِھِمْ نَارًا) 4۔ النساء 10) مسلم کی روایت کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم کسی ایسے ملک میں رہتے ہو جہاں مسلمانوں کا باقاعدہ نظم سلطنت قائم ہے اور مسلمانوں کا امیر و امام موجود ہے تو وہاں کے سیاسی حالات میں تمہارے لئے کتنی ہی تنگی و سختی کیوں نہ ہو اور اس امیر و امام کی طرف سے تمہارے مال اور تمہاری جان کے تئیں ظلم ہی کیوں نہ ہوتا ہو یا تمہیں مارا پیٹا اور تمہارا مال و اسباب چھینا کیوں نہ جاتا ہو، تم اس امیر و امام کے خلاف علم بغاوت ہرگز بلند نہ کرنا اور فتنہ و فساد کے دروازے نہ کھولنا بلکہ صبر و تحمل کی راہ اختیار کئے رہنا اور سخت سے سخت حالات میں بھی امام وقت سے بغاوت کر کے دین وملت کے شیرازہ کو منتشر کرنے کا سبب نہ بننا رہی بات یہ کہ اگر وہ امیر و امام مشروع امور کے ارتکاب کا حکم دے؟ تو اس صورت میں مسئلہ یہ ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے ہاں اگر ان مشروع امور کے ارتکاب کے لئے کہا جائے کہ حکم عدولی کی صورت میں بھی اولیٰ کو اختیار کرنے کا جواز باقی رہتا ہے یعنی حکم عدولی کی صورت میں جان جانے کا خوف ہو تو غیر مشروع امر کا ارتکاب کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص جان کی بازی لگا کر بھی غیر مشروع امر کے ارتکاب سے انکار کرے تو یہ سب سے اچھی بات ہوگی۔ اور اس سب سے اعلی درجہ کو اختیار کرنے کا جواز ہے۔ آخر میں فاسمع واطع کے الفاظ جو دوبارہ ارشاد فرمائے گئے ہیں ان سے اس حکم کو مؤ کد کرنا مقصود ہے کہ اپنے کو امام وقت کی اطاعت سے علیحدہ نہ کیا جائے اور سرکشی و بغاوت کے ذریعہ ملک وملت میں انتشار و تفریق کا فتنہ نہ اٹھایا جائے۔

5280Mishkaat-al-Masabih

اس سے قبل کہ فتنوں کا ظہور ہو، اعمال صالحہ کے ذریعہ اپنی زندگی مستحکم کر لو

وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم بادروا بالأعمال فتنا كقطع الليل المظلم يصبح الرجل مؤمنا ويمسي كافرا ويمسي مؤمنا ويصبح كافرا يبيع دينه بعرض من الدنيا . رواه مسلم . ( متفق عليه )

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ اعمال صالحہ میں جلدی کرو قبل اس کے کہ وہ فتنے ظاہر ہوجائیں جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے اور ان فتنوں کا اثر ہوگا کہ آدمی صبح کو ایمان کی حالت میں اٹھے گا اور شام کو کافر بن جائے گا اور شام کو مومن ہوگا تو صبح کو کفر کی حالت میں اٹھے گا، نیز اپنے دین و مذہب کو دنیا کی تھوڑی سی متاع کے عوض بیچ ڈالے گا۔ (مسلم) تشریح اعمال صالحہ میں جلدی کرو کی ہدایت کا حاصل یہ ہے کہ اس تغیر پذیر دنیا کو کسی ایک رخ پر قرار نہیں اور وقت حالت کا بہاؤ ایک ہی سمت نہیں رہتا، اگر اب ایسے حالات ہیں جو عقیدہ و عمل کا رخ صحیح سمت رکھنے میں معاون بنتے ہیں تو بعد میں ایسے حالات بھی پیدا ہوسکتے ہیں جو فکر ونظریات اور عقیدہ وعمل کا سفر ٹھیک رخ پر جاری رکھنے میں زبر دست رکاوٹ پیدا کردیں اور ایسے میں کم ہی انسان ایسے ہوتے ہیں جن کے ذہن وفکر اور دل و دماغ ان حالات کی تاثیر سے محفوظ رہ پائیں اور جن کے اعمال صالحہ میں رکاوٹ نہ پیدا ہوتی ہو، پس جس شخص کو جو بھی موقع ملے اس میں اچھے کام اور نیک عمل کرنے میں جلدی کرنی چاہئے اور جس قدر بھی اعمال کئے جاسکتے ہوں کر لئے جائیں کیونکہ یہ کوئی نہیں جانتا کہ آنے والا وقت کیا فتنے لے کر آئے اور پھر اعمال صالحہ اختیار کرنے کا موقع بھی مل سکے یا نہیں۔ فتنوں کو اندھیری رات کے ٹکڑوں سے تعبیر کیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ آنے والے فتنوں کے بارے میں کسی کو یہ معلوم نہیں ہو سکے گا کہ وہ کب اور کیوں نمودار ہوں گے اور ان سے چھٹکارے کی راہ کیا ہوگی، لہٰذا ان آنے والے فتنوں سے پہلے ہی اعمال صالحہ کے ذریعے اپنی دینی زندگی کو مضبوط ومستحکم بنا لو، آنے والے وقت کا انتظار نہ کرو کیونکہ اس وقت دین و شریعت کے تعلق سے سخت ترین آفات و مصائب میں اس طرح گم ہو کر رہ جاؤ گے کہ نیک کام کرنے کا موقع ہی نہ پا سکو گے۔ وہ وقت لوگوں کے ذہن وفکر اور اعمال و کردار پر کتنا برا اثر ڈالے گا اور وہ فتنے کس قدر سریع الاثر ہوں گے اس کی طرف اشارہ فرمایا کہ مثلا آدمی جب صبح کو اٹھے گا تو ایمان یعنی اصل ایمان یا کمال ایمان کے ساتھ متصف ہوگا لیکن شام ہوتے ہوتے کفر کے اندھیروں میں پہنچ جائے گا۔ رہی یہ بات کہ کفر سے کیا مراد ہے؟ تو ہوسکتا ہے کہ اصل کفر مراد ہو، یعنی وہ شخص واقعۃ کفر کے دائرہ میں داخل ہوجائے گا یا یہ مراد ہے کہ وہ کفران نعمت کرنے والا ہوجائے گا، یا وہ کافروں کی مشابہت اختیار کرلے گا اور یا یہ کہ وہ ایسے کام کرنے لگے گا جو صرف کافر ہی کرتے ہیں۔ اور بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ مذکورہ جملہ کے معنی یہ ہیں کہ مثلا ایک شخص جب صبح کو اٹھے گا تو اس چیز کو حلال جانتا ہوگا جس کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہے اور اس چیز کو حرام جانتا ہوگا جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے، لیکن شام ہوتے ہوتے اس کے ذہن وفکر اور اس کے عقیدے میں اس طرح انقلاب آجائے گا کہ وہ اس چیز کو حرام سمجھنے لگے گا جس کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہے اور اس چیز کو حلال سمجھنے لگے گا جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔ اس پر جملہ کے دوسرے جزء یعنی شام کو مومن ہوگا اور صبح کو کفر کی حالت میں ا تھے گا۔ کو بھی قیاس کیا جاسکتا ہے۔ اور حاصل یہ ہے کہ عام لوگ ان فتنوں کی وجہ سے دین و شریعت کے معاملات میں تذبذب وتردد کا شکار ہوجائیں اور نام نہاد دانشور و عالم اور دنیادار مقتداؤں کے پیچھے چلنے لگیں گے۔ مظہر نے کہا ہے کہ مذکورہ صورت حال کے کئی وجوہ و اسباب اور مختلف مظاہر ہوں گے ایک تو یہ مسلمانوں میں تفرقہ پڑجائے گا اور وہ مخالف گروہوں میں بٹ جائیں گے۔ پس ان کے درمیان محض عصبیت اور بغض وعناد کی وجہ سے خونریزی ہوگی اور دونوں گروہوں کے لوگ اپنے مخالفین کے جان و مال کو نقصان پہنچانے اور ایک دوسرے کی آبرو ریزی کرنے کو حلال و جائز جانیں گے، دوسرے یہ کہ مسلمانوں کے حاکم و امراء ظلم وجور کا شیوہ اپنا لیں گے۔ چناچہ وہ مسلمانوں کا ناحق خون بہائیں گے، زور زبردستی ان کا مال لیں گے زنا کاری کریں گے، شراب پئیں گے اور دوسرے حرام امور کا ارتکاب کریں گے، لیکن ان کی صریح زیادتیوں اور بدکاریوں کے باوجود بعض لوگ یہ عقیدہ رکھیں گے اور دوسرے حرام امور کا ارتکاب کریں گے، لیکن ان کی بدعقیدگی کے اس فتنہ میں مبتلا کرنے والے وہ نام نہاد علماء ہوں گے جن کو علماء سو کہا جاتا ہے۔ ان کی طرف سے بےمحابا ان امراء و حکام کے ان کاموں کے جواز کا فتوی دیا جائے گا جو وہ مسلمانوں کی خونریزی اور حرام امور کے ارتکاب کی صورت میں کریں گے اور تیسرے یہ کہ عام مسلمانوں میں جہالت اور دین کی ناواقفیت کی وجہ سے جو برائیاں پھیل جائیں گی اور ان سے جن غیر شرعی امور کا صدور ہوگا جیسے خریدو فروخت کے معاملات اور دوسرے سماجی امور و تعلقات میں دین و شریعت کے احکام کی خلاف ورزی، ان کو حلال و جائز مانیں گے۔ اور حضرت شیخ عبدالحق نے یہ لکھا ہے کہ مذکورہ صورت حال اس وجہ سے پیدا ہوگی کہ لوگ اپنے اغراض و منافع کی خاطر، دنیادار امراء و حکام اور اہل دولت و ثروت سے میل جول رکھیں گے ان سے حاجت روائی کی امید میں ان کے ہاں گھستے پھریں گے ان کی حاشیہ نشینی اور مصاحبت کو بڑا اعزاز سمجھیں گے، پس اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ ان کے تابع محض اور جی حضوری بن جائیں گے اور ان کے خلاف شریعت امور و معاملات میں ان کی موافقت تائید کرنے پر مجبور ہوں گے۔ آدمی صبح کو ایمان کی حالت میں اٹھے گا الخ کے ایک معنی یہ ہوسکتے ہیں کہ آدمی صبح کو اٹھے گا تو اپنے مسلمان بھائی کے خون اور مال وعزت کے حرام ہونے کا عقیدہ رکھنے کے سبب ایمان کی حالت میں ہوگا مگر شام ہوتے ہوئے اس کے عقیدے میں تبدیلی آجائے گی اور وہ اپنے مسلمان بھائی کے خون اور مال کو حلال سمجھنے لگے گا اور اس کے سبب وہ کافر قرار دیا جائے گا یہ معنی اختیار کرنے کی صورت میں فتنوں سے مراد جنگ و قتال ہوگا۔ لیکن اس جملہ کے جو معنی پہلے بیان کئے گئے ہیں وہ حضور ﷺ کے ارشاد گرامی کے زیادہ مناسب ہیں۔

5281Mishkaat-al-Masabih

فتنوں کے ظہور کے وقت گوشہ عافیت میں چھپ جاؤ

وعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ستكون فتن القاعد فيها خير من القائم والقائم فيها خير من الماشي والماشي فيه خير من الساعي من تشرف لها تستشرفه فمن وجد ملجأ أو معاذا فليعذ به . متفق عليه . وفي رواية لمسلم قال تكون فتنة النائم فيها خير من اليقظان واليقظان خير من القائم والقائم فيها خير من الساعي فمن وجد ملجأ أومعاذا فليستعذ به .

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ عنقریب فتنے پیدا ہوں گے یعنی جلد ہی ایک بڑا فتنہ سامنے آنے والا ہے یا یہ کہ پے بہ پے یا تھوڑے تھوڑے وقفہ سے بہت زیادہ فتنوں کا ظہور ہونے والا ہے ان فتنوں میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا سعی کرنے والے (یعنی کسی سواری کے ذریعہ یا پاپیادہ دوڑنے والے اور جلدی چلنے والے) بہتر ہوگا اور جو شخص فتنوں کی طرف جھانکے گا فتنہ اس کو اپنی طرف کھینچ لے گا پس جو شخص ان فتنوں سے نجات کی کوئی جگہ یا اس سے بھاگنے کا کوئی راستہ یا پناہ گاہ پائے اور یا کوئی ایسا آدمی اس کو مل جائے جس کے دامن میں وہ ان ان فتنوں سے پناہ لے سکتا ہو تو اس شخص کو چاہئے کہ اس کے ذریعہ پناہ حاصل کرلے یعنی اگر ان فتنوں سے بھاگنے کا کوئی راستہ مل سکتا ہو تو فتنوں کی جگہ سے نکل بھاگے یا کوئی ایسی جگہ اس کو معلوم ہو کہ جہاں چھپ جانے کی وجہ سے ان فتنوں سے پناہ مل سکتی ہو تو وہاں جا کر چھپ جائے اور یا اگر کوئی آدمی اپنے سایہ عاطفت میں پناہ دینے والا مل سکتا ہو تو پاس جا کر پناہ گزین ہوجائے۔ (بخاری ومسلم) اور مسلم کی ایک اور روایت میں یوں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا۔ جب کوئی فتنہ ظاہر ہوگا تو اس فتنہ میں سونے والا شخص (جو اس فتنہ سے غافل اور بیخبر ہو اور اس کے بارے میں اطلاعات نہ سنتا ہو) جاگنے والے (یعنی اس فتنہ کو جاننے اور اس کی خبر رکھنے والے سے بہتر ہوگا، جاگنے والا شخص کہ خواہ وہ لیٹا ہوا ہو یا بیٹھا ہوا) کھڑا رہنے والے سے بہتر ہوگا اور اس فتنہ میں کھڑا ہونے والا شخص اس فتنہ میں سعی کوشش کرنے والے سے بہتر ہوگا (یہاں سعی کا لفظ مشی یعنی چلنے والے کے معنی میں ہے اور کسی چیز کی طرف چلنا گویا اس چیز کے حق میں سعی و کوشش کرنے کے مترادف ہوتا ہے، صراح میں لکھا ہے کہ سعی کے معنی ہیں دوڑنا، جلدی کرنا اور کسی چیز کے حق میں محنت وعمل کرنا پس اس فتنہ میں سعی کرنے والے سے مراد اس فتنہ میں مدد و تعاون دینا اور اس کے حق میں سعی و کوشش کرنا ہے، لہٰذا جو شخص اس فتنہ سے بھاگنے کا راستہ یا اس سے پناہ کی جگہ پائے تو اس کو چاہئے کہ وہاں جا کر پناہ حاصل کرلے۔ تشریح فتنہ میں بیٹھنے والا، کھڑے ہونے والے سے اس لئے بہتر ہوگا کہ کسی چیز کے پاس کھڑے رہنے والا شخص اس چیز سے زیادہ قربت اور مناسبت رکھتا ہے کہ وہ اس چیز کو دیکھتا بھی ہے اور سنتا بھی ہے جب کہ ادھر ادھر بیٹھا رہنے والا شخص اس چیز کو نہ دیکھتا ہے نہ سنتا ہے لہٰذا فتنوں میں کھڑا رہنے والا شخص ان کو دیکھنے اور سننے کی وجہ سے کہ جن کو بیٹھا ہوا شخص نہیں دیکھے، سنے گا عذاب سے زیادہ قریب ہوگا، ہوسکتا ہے کہ اس جملہ میں بیٹھنے والے شخص سے مراد وہ شخص ہو جو اس زمانہ میں ظاہر ہونے والے فتنہ کا محرک نہ ہو بلکہ اس سے دور رہ کر اپنے مکان میں بیٹھا رہے اور باہر نہ نکلے اور کھڑے ہونے والے سے مراد وہ شخص ہو جس کے اندر اس فتنہ کے تعلق سے کوئی داعیہ اور تحریک تو ہو مگر فتنہ انگیزی میں متردد ہو۔ جو شخص فتنوں کی طرف جھانکے گا الخ کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ان فتنوں کی طرف متوجہ ہوگا اور ان کے نزدیک جائے گا تو اس کی وہ توجہ اور نزدیکی اس کے ان فتنوں میں مبتلا ہوجانے کا باعث ہوگی، لہٰذا ان فتنوں کی برائیوں سے بچنے اور ان کے جال سے خلاصی پانے کی صورت اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوگی کہ ان فتنوں سے جتنا زیادہ دور رہنا ممکن ہو اتنا ہی زیادہ دور رہا جائے۔

5282Mishkaat-al-Masabih

فتنوں کے ظہور کے وقت گوشہ عافیت میں چھپ جاؤ

وعن أبي بكرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إنها ستكون فتن ألا ثم تكون فتن ألا ثم تكون فتنة القاعد خير من الماشي فيها والماشي فيها خير من الساعي إليها ألا فإذا وقعت فمن كان له إبل فليلحق بإبله ومن كان له غنم فليلحق بغنمه ومن كانت له أرض فليلحق بأرضه فقال رجل يا رسول الله أرأيت من لم يكن له إبل ولا غنم ولا أرض ؟ قال يعمد إلى سيفه فيدق على حده بحجر ثم لينج إن استطاع النجاء اللهم هل بلغت ؟ ثلاثا فقال رجل يا رسول الله أرأيت إن أكرهت حتى ينطلق بي إلى أحدالصفين فضربني رجل بسيفه أو يجيء سهم فيقتلني ؟ قال يبوء بإثمه وإثمك ويكون من أصحاب النار رواه مسلم .

حضرت ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عنقریب فتنوں کا ظہور ہوگا، یاد رکھو پھر فتنے پیدا ہوں گے اور یاد رکھو ان فتنوں میں سے ایک بہت بڑا فتنہ (یعنی مسلمانوں کی باہمی محاذ آرائی اور خونریزی کا حادثہ پیش آئے گا، اس فتنہ میں بیٹھا ہوا شخص چلنے والے شخص سے بہتر ہوگا اور چلنے والا شخص اس فتنہ کی طرف دوڑنے والے شخص سے بہتر ہوگا۔ پس آگاہ رہو! جب وہ فتنہ پیش آئے تو جس شخص کے پاس جنگل میں اونٹ ہوں اوہ اپنے اونٹوں کے پاس جنگل میں چلا جائے جس شخص کے بکریاں ہوں وہ بکریوں کے پاس چلا جائے اور جس شخص کے پاس اس فتنہ کی جگہ کہیں دور کوئی زمین ومکان وغیرہ ہو وہ اپنی اس زمین پر یا اس مکان میں چلا جائے۔ (حاصل یہ کہ جس جگہ وہ فتنہ ظاہر ہو وہاں نہ ٹھہرے بلکہ اس جگہ کو چھوڑ کر کہیں دور چلا جائے اور گوشہ عافیت پکڑ لے یا اس فتنہ سے غیر متوجہ ہو کر اپنے کاروبار میں مشغول ومنہمک ہوجائے ایک شخص نے یہ سن کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجھے یہ بتائیے کہ اگر کسی شخص کے پاس نہ اونٹ ہوں نہ بکریاں اور نہ کسی دوسری جگہ کوئی زمین ومکان وغیرہ ہو جہاں وہ جا کر گوشہ عافیت اختیار کرے اور اس فتنہ کی جگہ سے دور رہ سکے تو اس کو کیا کرنا چاہئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا۔ اس کو چاہئے کہ وہ اپنی تلوار کی طرف متوجہ ہو اور اس کو پتھر پر مار کر توڑ ڈالے۔ (یعنی اس کے پاس جو بھی آلات حرب اور ہتھیار ہوں ان کو بےکار اور ناقابل استعمال بنا دے تاکہ اس کے دل میں جنگ وپیکار کا خیال ہی پیدا نہ ہو اور وہ مسلمانوں کے باہمی جنگ وجدل کے اس فتنہ میں شریک ہی نہ ہو سکے۔ یہ حکم اس لئے ہے کہ جس لڑائی میں دونوں طرف سے مسلمان برسرپیکار ہوں اور ایک دوسرے کی خونریزی کر رہے ہوں، اس میں شریک نہیں ہونا چاہئے۔ اور پھر اس شخص کو چاہئے کہ اگر وہ فتنہ کی جگہ سے بھاگ سکے تو جلد نکل بھاگے۔ تاکہ وہ اس فتنہ کے اثرات سے محفوظ رہ سکے۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا۔ اے اللہ میں نے تیرے احکام تیرے بندوں کو پہنچا دیئے۔ یہ الفاظ آپ ﷺ نے تین بار فرمائے ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! مجھ یہ بتائیے کہ اگر مجھے مجبور کر کے یعنی زور و زبردستی سے لڑنے والے دونوں فریق میں سے کسی ایک فریق کی صف میں لے جایا جائے اور وہاں سے کسی شخص کی تلوار سے مارا جاؤں یا کسی کا تیر آ کر مجھ کو لگے جو مجھے موت کی آغوش میں پہنچا دے تو اس صورت میں قاتل اور مقتول کا کیا حکم ہوگا۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ تمہارا وہ قاتل اپنے اور تمہارے گناہ کے ساتھ لوٹے گا اور دوزخیوں میں شمار ہوگا۔ (مسلم) تشریح علماء اسلام کے ہاں یہ ایک طویل بحث ہے کہ اگر افتراق و انتشار کا کوئی فتنہ ابھر آئے اور کچھ مسلمان دو فریق میں تقسیم ہو کر آپس میں جنگ وجدال کرنے لگیں تو اس وقت باقی مسلمانوں کا طرز عمل کیا ہونا چاہئے؟ اہل علم کی ایک جماعت کا یہ کہنا ہے کہ افتراق و انتشار اور مسلمانوں کی باہمی محاذ آرائی کی صورت میں کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ قتل و قتال میں شریک ہو، بلکہ جب مسلمانوں کے دو فریق آپس میں جنگ وجدال کریں تو اس میں شامل ہونے سے احتراز کرنا اور دونوں فریق سے یکسوئی وغیرہ جانب داری اختیار کر کے گوشہ عافیت پکڑنا واجب ہے۔ ان حضرات کی دلیل مذکورہ بالا ارشاد گرامی اور اس طرح کی دوسری احادیث ہیں۔ مشہور صحابی حضرت ابوبکر ؓ اور بعض دوسرے صحابہ ؓ کا مسلک بھی یہی تھا۔ حضرت ابن عمر ؓ کا قول یہ ہے کہ خونریزی کی ابتدا خود نہیں کرنی چاہئے لیکن اگر کوئی خونریزی کرے تو اس کا دفعیہ کرنا لازم ہے جمہور صحابہ ؓ اور تابعین کا مسلک یہ ہے کہ اگر مسلمانوں میں باہمی پھوٹ پڑجائے اور وہ ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما ہو کر قتل و قتال کرنے لگیں تو اس فریق کی حمایت کرنی چاہئے جو حق و انصاف پر ہو اور جو فریق ظلم وناانصافی کی راہ اختیار کئے ہوئے ہو یا مسلمانوں کے امام و سردار سے بغاوت کر کے ملی افتراق و انتشار کا سبب بن رہا ہو اس کے خلاف قتال کرنا چاہئے کیونکہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو فتنہ و فساد کا بازار گرم ہوجائے گا اور بغاوت و سرکشی کرنے والوں کی ہمت افزائی ہوگی۔ اس مسلک کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے۔ آیت (وَاِنْ طَا ى ِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اقْتَتَلُوْا) 49۔ الحجرات 9) چناچہ آیت کریمہ اس امر کو واضح طور پر ثابت کرتی ہے کہ جب مسلمانوں کے دو دو فریق باہمی قتل و قتال اور خونریزی میں مبتلا ہوں تو ان کے درمیان صلح و صفائی کرانی چاہئے اور دونوں فریق کو اس فتنہ و انتشار سے دور کرنے کی کوشش کرنی چاہے۔ لیکن اگر ان دونوں میں سے کوئی فریق دوسرے فریق کے تئیں حد سے تجاوز کرے اور اس فتنہ کو جاری رکھنے اور بھڑکانے میں مصروف رہے تو پھر اس فریق کے خلاف کہ جو حد سے متجاوز اور فتنہ کو بھڑکانے کا باعث بن رہا ہو تلوار اٹھا لینی چاہئے اور اس کے ساتھ قتال کرنا چاہئے تاکہ وہ راہ حق پر آجائے۔ اپنے اور تمہارے گناہ کے ساتھ لوٹے گا کے دو معنی بیان کئے گئے ہیں ایک تو یہ کہ اس شخص پر دو گناہ ہوں گے ایک گناہ تو اس کے اس عمل کا کہ اس نے حقیقت میں تمہیں مارا اور دوسرا تمہارا گناہ بایں اعتبار کہ اگر بالفرض تم اس کو مارتے اور اس کا گناہ تمہیں ہوتا تو گویا وہ گناہ بھی اس کے سر ڈال دیا جائے گا۔ پس از راہ زجر و توبیخ اس امر کو واضح کیا گیا ہے کہ اس فتنہ میں کسی ایسے مسلمان کو قتل کرنے کا گناہ کہ جو اس جنگ سے بیزار ہو مگر مجبورا اس میں شریک ہوگیا ہو الضاعف یعنی دو گناہ ہو کر سر پڑے گا۔ اور دوسرے معنی یہ ہیں کہ اس شخص پر دو گناہ ہوں گے، ایک گناہ تو اس بغض و عداوت کا جو وہ مسلمانوں سے رکھتا تھا اور جس کے سبب تمہارا قتل ہوا اور دوسرا گناہ تمہارے قتل کا جو اس سے سرزد ہوا۔ اور دوزخیوں میں شمار ہوگا اس کے بعد دوسرا جملہ یہ ہونا چاہئے تھا۔ کہ اور تم جنتیوں میں سے ہوگے۔ لیکن حضور ﷺ نے دوسرا جملہ ارشاد نہیں فرمایا کیونکہ مذکورہ پہلے جملہ سے یہ مفہوم خود بخود واضح ہوجاتا ہے۔

5283Mishkaat-al-Masabih

فتنوں کے ظہور کے وقت گوشہ عافیت میں چھپ جاؤ

وعن أبي سعيد قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يوشك أن يكون خير مال المسلم غنم يتبع بها شغف الجبال ومواقع القطر يفر بدينه من الفتن . رواه البخاري . ( متفق عليه )

حضرت ابوسعید ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ عنقریب ایسا زمانہ آنے والا ہے جب کہ ایک مسلمان کے لئے اس کا بہترین مال بکریاں ہوں گی جن کو لے کر وہ پہاڑی پر بارش برسنے کی جگہ چلا جائے اور فتنوں سے بھاگ کر اپنا دامن بچا لے۔ (بخاری) تشریح اس حدیث کا مطلب بھی یہ تلقین کرنا ہے کہ جب ایسے فتنے رونما ہوں جن سے مسلمانوں میں باہمی افتراق و انتشار اور جنگ وجدل کی وبا پھیل جائے اور ایسا ماحول پیدا ہوجائے جس میں دین کو بچانا مشکل ہو تو اس وقت نجات کی راہ یہی ہوگی کہ گوشہ تنہائی اختیار کرلیا جائے اور جس قدر ممکن ہو سکے اپنے آپ کو دنیا والوں سے الگ تھلگ کرلے، چناچہ فرمایا کہ ایسے میں سب سے بہتر صورت یہ ہوگی کہ ایک مسلمان بس چند بکریوں کا مالک ہو اور وہ ان بکریوں کو لے کر کہیں دور جنگل میں یا پہاڑ پر کسی ایسی جگہ چلا جائے جہاں کوئی چراگاہ اور پانی ملنے کا ذریعہ ہو اور وہاں ان بکریوں کو چرا کر ان کے دودھ کی صورت میں بقدر حیات غذائی ضروریات پر قناعت کر کے اپنی زندگی کے دن گزارتا رہے، تاکہ نہ دنیا والوں کے ساتھ رہے اور نہ دین کو نقصان پہنچانے والے فتنہ میں مبتلا ہو۔

5284Mishkaat-al-Masabih

فتنوں کی پیش گوئی

وعن أسامة بن زيد قال أشرف النبي صلى الله عليه وسلم على أطم من آطام المدينة فقال هل ترون ما أرى ؟ قالوا لا . قال فإني لأرى الفتن خلال بيوتكم كوقع المطر . متفق عليه .

حضرت اسامہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ مدینہ کے ایک بلند مکان کی چھت پر چڑھے اور پھر صحابہ کرام کو مخاطب کر کے فرمایا کہ۔ کیا تم اس چیز کو دیکھتے ہو جس کو میں دیکھ رہا ہوں؟ صحابہ نے جواب دیا کہ! آپ نے فرمایا کہ حقیقت یہ ہے کہ میں ان فتنوں کو دیکھ رہا ہوں جو تمہارے گھروں پر اس طرح برس رہے ہیں جس طرح مینہ برستا ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح اطم پہاڑ کی چوٹی قلعہ اور بلند مکان کو کہتے ہیں اور اٰطام اس کی جمع ہے یہاں اطام سے مراد مدینہ کے گرد واقع وہ فلک بوس مکانات اور قلعے ہیں جن میں وہاں کے یہودی رہا کرتے تھے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ ایک دن انہی قلعوں میں سے ایک قعلہ کی چھت پر تشریف لے گئے اور پھر مذکورہ بالا حدیث ارشاد فرمائی۔ میں ان فتنوں کو دیکھ رہا ہوں الخ کی وضاحت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے گویا اپنے نبی ﷺ کو اس وقت جب کہ وہ قلعہ کی چھت پر چڑھے، فتنوں کا قریب ہونا دکھایا تاکہ وہ ان فتنوں کے بارے میں آگاہ کردیں اور لوگ یہ جان کر کہ ان فتنوں کا نازل ہونا مقدر ہوچکا ہے ان سے بچنے کے طریقے اختیار کرلیں۔ اور اس بات کو آنحضرت ﷺ کے معجزات میں سے شمار کریں کہ آپ نے جو پیش گوئی فرمائی تھی وہ بالکل صحیح ثابت ہوئی۔

5285Mishkaat-al-Masabih

ایک خاص پیش گوئی

وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم هلكة أمتي على يدي غلمة من قريش . رواه البخاري . ( متفق عليه )

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ میری امت کی ہلاکت قریش کے چند نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہے۔ (بخاری) تشریح اس حدیث میں امت سے مراد صحابہ کرام اور اہل بیت نبی ﷺ ہیں جو امت کے سب سے بہتر و افضل افراد تھے۔ اور لفظ غلمۃ غلام کی جمع ہیں جس کے معنی نوجوان کے ہیں اور صراح میں لکھا ہے کہ غلام کے معنی لڑکے کے ہیں نیز واضح رہے کہ غلام کا لفظ اصل میں غلم اور اغتلام سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں شہوت کا جوش و غلبہ بہرحال یہاں غلمۃ (نوجوانوں) سے مراد وہ چھوٹی عمر کے نوجوان ہیں جو غیر سنجدیدہ اور بیباک ہوتے ہیں بڑوں، بزرگوں کا ادب و احترام نہیں کرے اور ہل علم و دانش اور باوقار لوگوں کی عظمت کو ملحوظ نہیں رکھتے۔ پس آنحضرت ﷺ نے اس ارشاد گرامی میں قریش کے جن نوجوانوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے ان سے قریش سے نسلی تعلق رکھنے والے دین وملت کے وہ بدخواہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے جاہ و سلطنت اور ذاتی اغراض حاصل کرنے کے لئے حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت حسن اور حضرت حسین ؓ کو شہید کیا اور ان کی ہلاکت کا باعث بنے یا جنہوں نے اس وقت ملت میں افتراق و انتشار اور ظلم و بغاوت کا فتنہ پیدا کیا نیز مجمع البحار میں لکھا ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد گرامی کی روشنی میں لوگوں کو تعین وتشخص کے ساتھ جانتے تھے لیکن اس حدیث کو بیان کرتے وقت، فتنہ وشرانگیز کے خوف سے ان لوگوں کے نام ظاہر نہیں فرماتے تھے اور وہ لوگ بنو امیہ کے عبداللہ بن زیاد اور ان جیسے دوسرے نوجوان، حجاج بن یوسف جو عبدالملک بن مراوان کا میرالامراء بنا سلیمان بن عبدالملک جیسے نوخیز اور ان کی اولاد میں سے دوسرے افراد تھے جنہوں نے اس حد تک فتنہ و فساد کا بازار گرم کیا کہ اہل بیت نبوی کو بےپناہ مظالم کا شکار بننا اور جام شہادت نوش کرنا پڑا بڑے اونچے درجہ کے مہاجر اور انصار صحابہ کرام کو بڑی مظلومیت کے ساتھ اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا اور ایسی ایسی خونریزیاں ہوئیں اور جان ومال کا اس قدر نقصان ہوا کہ زمین و آسمان کانپ گئے چناچہ ان لوگوں کے وہ سیاہ کارنامے تاریخ میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہیں۔

5286Mishkaat-al-Masabih

ایک خاص پیش گوئی

وعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يتقارب الزمان ويقبض العلم وتظهر الفتن ويلقى الشح ويكثر الهرج قالوا وما الهرج ؟ قال القتل . متفق عليه .

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ وہ وقت بھی آنے والا ہے جب زمانے ایک دوسرے کے قریب ہوں گے علم اٹھا لیا جائے گا، فتنے پھوٹ پڑیں گے بخل ڈالا جائے گا اور ہرج زیادہ ہوگا۔ صحابہ نے یہ سن کر عرض کیا کہ ہرج کیا چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا قتل۔ (بخاری ومسلم) تشریح زمانے ایک دوسرے کے قریب ہوں گے کا مطلب یا تو یہ ہے کہ کہ اس وقت دنیا کا زمانہ اور آخرت کا زمانہ ایک دوسرے کے قریب ہوجائیں گے، اس صورت میں قیامت کا قریب ہونا مراد ہوگا یا اس جملہ سے مراد زمانہ والوں میں سے بعض کا بعض کے ساتھ برائی اور بدی کے تعلق سے قریب ہونا ہے۔ یعنی اس زمانہ میں جو برے اور بدکار لوگ ہوں گے وہ ایک دوسرے کے قریب و نزدیک آجائیں گے، یا یہ مطلب ہے کہ خود زمانہ کے اجزاء بدی و برائی کے اعتبار سے ایک دوسرے کے قریب اور مشابہ ہوں گے یعنی ایک زمانہ برائی اور بدی کا ماحول لئے ہوئے آئے گا اور اس کے بعد پھر دوسرا زمانہ بھی اسی طرح آئے گا، یا یہ مطلب ہے کہ ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں حکومتیں دیر پا نہیں ہوں گی اور مختلف انقلابات اور عوامل بہت مختصر مختصر عرصہ میں حکومتوں کو بدلتے رہیں گے۔ اور بعض حضرات نے یہ مطلب بیان کیا کہ آخر میں جو زمانہ آئے گا اس میں لوگوں کی عمریں بہت چھوٹی چھوٹی ہوں گی اور یہ احتمال بھی ہے کہ یہ جملہ دراصل گناہوں کے سبب زمانہ سے برکت کے ختم ہوجانے سے کنایہ ہو، یعنی آخر زمانہ میں جب کہ گناہوں کی کثرت ہوجائے اور لوگ دین شریعت کے تقاضوں اور اللہ وآخرت کے خوف سے بےپرواہ ہو کر عیش و عشرت اور راحت و غفلت میں پڑجائیں گے تو زمانہ سے برکت نکل جائے گی اور اس کے شب و روز کی گردش اتنی تیز اور دن رات کی مدت اتنی مختصر محسوس ہونے لگے گی کہ سالوں پہلے گزرا ہوا کوئی واقعہ کل کی بات معلوم ہوگا اور ہر وقت کی کمی کا شکوہ رنج نظر آئے گا۔ اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ آخر زمانہ میں وقت اس طرح جلدی گزرے گا کہ ایک سال ایک مہینے کے برابر اور ایک مہینہ ایک ہفتہ کے برابر اور ایک ہفتہ ایک دن کے برابر معلوم ہوگا۔ علم اٹھا لیا جائے گا کا مطلب یہ ہے کہ اس زمانہ میں مخلص، با عمل اور حقیقی علم کے حامل اٹھا لئے جائیں گے اور اس طرح حقیقی علم مفقود ہوجائے گا نیز مختلف علمی فتنوں کا اندھیرا اس طرح پھیل جائے گا کہ علماء سو کے درمیان امتیاز کرنا مشکل ہوگا اور ہر طرف ایسا محسوس ہوگا جیسے علم کا چراغ گل ہوگیا ہے اور جہالت ونادانی کی تاریکی طاری ہوگئی ہے۔ بخل ڈالا جائے گا مطلب یہ ہے کہ آخر زمانہ میں لوگوں میں بخل کی خصلت نہایت پختہ ہوجائے گی اور یہ چیز یعنی بخل کی برائی ایک عام وبا کی طرح پھیل جائے گی، نیز لوگ اس بخل کے یہاں تک تابع ہوجائیں گے کہ صنعت وحرفت والے اپنی صنعتی اشیاء کو بنانے اور پیدا کرنے میں بخل وتنگی کرنے لگیں گے اور مال کی تجارت و لین دین کرنے والے لوگ اپنے مال کو چھپا کر بیٹھ جائیں گے یہاں تک کہ ضروری اشیاء کو بھی فراہم کرنے اور دینے سے انکار کرنے لگیں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بخل ڈالا جائے گا سے لوگوں میں اصل بخل کا پایا جانا مراد نہیں ہے کیونکہ اصل بخل تو انسان کی جبلت میں پڑا ہوا ہے اور اس اعتبار سے یہ بات پہلے زمانہ کے لوگوں کے بارے میں بھی نہیں کی جاسکتی کہ ان میں سرے سے بخل کا وجود نہیں تھا۔ لیکن اس سے یہ نتیجہ بھی اخذ نہیں کیا جاسکتا چونکہ اصل بخل انسان کی جبلت میں پڑا ہوا ہے اس لئے کوئی بھی شخص نہ پہلے زمانوں میں اس خصلت سے کلیۃ محفوظ رکھ سکتا ہے اور جیسا کہ اس آیت (وَمَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِه فَاُولٰ ى ِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ) 64۔ التغابن 16) سے واضح ہوتا ہے ایسے پاک نفس انسان سے پہلے بھی گزرے ہیں اب بھی موجود ہیں اور آئندہ بھی موجود رہیں گے یہ اور بات ہے کہ زمانہ کے اثرات کی وجہ سے ایسے پاک نفسوں کی تعداد ہر آنے والے زمانہ میں پہلے سے کم ہوتی جائے۔ ہرج کے معنی ہیں فتنہ اور خرابی میں پڑنا اور جیسا کہ قاموس میں لکھا ہے جب یہ کہا جاتا ہے کہ ہرج اناس تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں لوگ فتنے میں پڑگئے اور قتل و اختلاط یعنی خونریزی اور کاموں کے خلط ملط ہوجانے کی وجہ سے اچھے برے کی تمیز نہ کرسکنے کی آفت میں مبتلا ہوگئے پس اس ارشاد گرامی ہرج سے مراد خاص طور پر وہ قتل و خونریزی ہے جو مسلمانوں کے باہمی افتراق واتنشار کے فتنہ کی صورت میں اور اچھے برے کاموں کی تمیز مفقود ہونے کی وجہ سے پھیل جائے۔

5287Mishkaat-al-Masabih

فتنوں کی شدت کی انتہا

وعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم والذي نفسي بيده لا تذهب الدنيا حتى يأتي يوم لا يدري القاتل فيم قتل ؟ ولا المقتول فيم قتل ؟ فقيل كيف يكون ذلك ؟ قال الهرج القاتل والمقتول في النار . رواه مسلم .

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے پوری دنیا اس وقت تک فنا نہیں ہوگی جب تک لوگوں پر ایسا دن یعنی بدامنی و انتشار فتنہ و فساد کی شدت انتہا سے بھرا ہوا وہ دور نہ آجائے جس میں نہ قاتل کو یہ معلوم ہوگا کہ اس نے مقتول کو کیوں قتل کیا اور نہ مقتول یا اس کے ورثاء متعلقین کو یہ معلوم ہوگا کہ اس کو کیوں قتل کیا گیا۔ پوچھا گیا کہ یہ کیونکر ہوگا یعنی اس کی وجہ کیا ہوگی کہ قتل کا سبب نہ قاتل کو معلوم ہوگا نہ مقتول کو؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ ہرج کے سبب، نیز قاتل و مقتول دونوں دوزخ میں جائیں گے۔ (مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ اس زمانے میں لوگوں کے دل و دماغ سے فتنہ و فساد اور تقل و غارت گری کی برائی کا احساس اس طرح ختم ہوجائے گا کہ نہ تو قاتل بتاسکے گا کہ اس نے مقتول کا خون کس مقصد سے بہایا ہے اور نہ مقتول اور اس کے ورثاء ومتععلقین کو یہ معلوم ہوگا کہ اس کی جان کس دنیاوی غرض ومقصد کے تحت یا کس شرعی وجہ کی بناء پر ماری گئی ہے ایسا اندھیرا پھیل جائے گا کہ بس شکوک و شبہات اور ذرا ذرا سے واہموں پر انسان کا قیمتی خون بےدریغ بہایا جانے لگے گا اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوگی کہ کون شخص حق پر ہے اور کون باطل پر، بلا تشخیص وتمیز جو جس کو چاہے گا موت کے گھاٹ اتار دے گا۔ موجودہ زمانے کے حالات دیکھتے ہوئے کون کہہ سکتا ہے کہ مذکورہ صورت حال کا ظہور نہیں ہوگیا ہے۔ ہرج کے سبب سے کا مطلب یہ ہے کہ اس اندھے قتل و غارت گری کا باعث جہالت ونادانی کی وہ تاریکی ہوگی جو پورے ماحول کو فتنہ و فساد اور بدامنی سے بھر دے گی، شرارت پسندوں اور بلوائیوں کا عروج ہوگا، اخلاقی سرکاری قوانین کی گرفت ڈھیلی پڑجائے گی۔ اچھے برے کاموں کی تمیز مٹ جائے گی، حق و باطل باہم خلط ملط ہوجائیں گے او دل و دماغ سے انسانی خون کی حرمت کا احساس مٹ جائے گا۔ دونوں دوزخ میں جائیں گے سے یہ واضح ہوا کہ نیت کا فتور اس قدر عام ہوجائے گا کہ بظاہر مقتول اور مظلوم نظر آنے والا شخص بھی اپنے اندر ظلم و طغیان کا فتنہ چھپائے رہا ہوگا۔ اس کا مقتول ومظلوم ہونا اس وجہ سے نہیں ہوگا کہ وہ واقعۃ کسی ظالمانہ قتل کا شکار ہوا ہے بلکہ اس اعتبار سے ہوگا کہ وہ موقع پر چوک گیا اور خود وار کرنے سے پہلے دوسرے کے وار کرنے کا شکار ہوگیا۔ چناچہ مذکورہ جملے کا مطلب یہ ہے کہ قاتل تو دوزخ میں اس لئے جائے گا کہ وہ واقعۃ قتل عمد کا گناہ گار ہوا ہے اور مقتول اس وجہ سے دوزخ میں جائے گا کہ وہ خود بھی اس قاتل کو قتل کرنا چاہتا تھا اور اس کو بتاہ وہلاک کرنے کی خواہش و ارادہ رکھتا تھا اور چونکہ آدمی کسی گناہ کا عزم رکھنے کی وجہ سے بھی ماخوذ ہوتا ہے اس لئے اس کو بھی دوزخ کا مستوجب قرار دیا جائے گا لیکن واضح رہے کہ یہ حکم جہالت کے طاری ہونے اور حق و باطل کے درمیان تمیز مفقود ہونے کی صورت کا ہے۔ ہاں اگر اس مقتول کی مذکورہ نیت و ارادہ کا تعلق جہالت ونادانی اور عدم تمیز سے نہ ہو بلکہ اس بات سے ہو کہ وہ بسبب اشتباہ، خطاء اجتہادی میں پڑگیا ہو تو اس پر مذکورہ حکم کا اطلاق نہیں ہوگا۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ وہ مقتول اپنے قاتل کے تئیں جو عداوت ونفرت رکھے ہوئے تھا اور اس کو قتل کے ساتھ مقتول بھی مستوجب عذاب ہوگا لیکن اگر وہ مقتول اس جہالت ونادانی کی بنا پر نہیں بلکہ وہ از روئے دین و دیانت اس شخص یعنی قاتل کو قتل کرنے کا عزم رکھتا تھا نیز اس عزم تک وہ دین و شریعت کے اپنے علم کی روشنی میں غور فکر کرنے کے بعد اور نیت کے اخلاص کے ساتھ پہنچا تھا اگرچہ حقیقت کے اعتبار سے اس عزم تک اس کا پہنچنا غیر صحیح کیوں نہ ہو۔ اس کو محض اس عزم کی وجہ سے مستوجب عذاب قرار نہیں دیا جائے گا کیونکہ اجتہاد اور صحیح نتیجے تک پہنچنے کی کوشش میں خطا کر جانے والا شخص عند اللہ ماخوذ قرار نہیں دیا جاتا۔ واضح رہے کہ مذکورہ ارشاد گرامی اس مشہور اور صحیح مسلک کی دلیل ہے کہ جو شخص کسی گناہ کی نیت کرے اور اس نیت پر قائم رہے تو وہ گنہگار ہی کے حکم میں ہوگا، اگرچہ وہ اپنے اعضاء اور زبان سے عملی طور پر اس گناہ کا ارتکاب نہ کرے۔

5288Mishkaat-al-Masabih

پر فتن ماحول میں دین پر قائم رہنے کی فضیلت

وعن معقل بن يسار قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم العبادة في الهرج كهجرة إلي . رواه مسلم .

حضرت معقل بن یسار ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ فتنے کے زمانہ میں اور مسلمانوں کے باہمی محاذ آرائی اور قتل و قتال کے وقت پوری استقامت اور مداومت کے ساتھ دین پر قائم رہنے اور عبادت ونی کی کرنے کا ثواب، میری طرف ہجرت کرنے کے ثواب کی مانند ہے۔ (مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ زمانہ نبوی میں فتح مکہ سے پہلے دارالحرب سے ہجرت کر کے مدینہ آجانے اور آنحضرت ﷺ کی رفاقت و صحبت کا شرف رکھنے والے کو جو عظیم ثواب ملتا تھا اسی طرح کا عظیم ثواب اس شخص کو بھی ملے گا جو فتنہ و فساد کی جہالت وتاری کی سے اپنے کو محفوظ رکھ کر اور مسلمانوں کی باہمی محاذ آرائی سے اپنا دامن بچا کر مولیٰ کی عبادت میں مشغول اور اپنے دین پر قائم رہے۔

5289Mishkaat-al-Masabih

مظالم پر صبر کرو اور یہ جانو کہ آنے والا زمانہ موجودہ دور سے بھی بدتر ہوگا

وعن الزبير بن عدي قال أتينا أنس بن مالك فشكونا إليه ما نلقى من الحجاج . فقال اصبروا فإنه لا يأتي عليكم زمان إلا الذي بعده أشرمنه حتى تلقوا ربكم . سمعته من نبيكم صلى الله عليه وسلم . رواه البخاري .

حضرت زبیر بن عدی تابعی کہتے ہیں کہ ایک دن ہم لوگ حضرت انس بن مالک ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے حجاج بن یوسف کے مظالم اور ایذاء رسانیوں کی شکایت کی انہوں نے فرمایا کہ صبر کرو اور ضبط و تحمل سے کام لو، کیو کہ آئندہ جو بھی زمانہ آئے گا وہ گزشتہ زمانے سے بدتر ہوگا پس تمہیں کیا معلوم کہ آنے والے زمانے میں کیسے کیسے حکمران و اعمال ہوں گے جو شاید حجاج سے بھی زیادہ ظالم و جابر ثابت ہوں۔ اس لئے تم حجاج کے مظالم اور ایذاء رسانیوں پر صبر کرو، یہاں تک تم روز آخرت اپنے پروردگار سے ملاقات کرو اور پھر تم دیکھنا کہ تمہارا پروردگار تمہارے ظالموں کو کس طرح عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ یہ بات میں نے تمہارے پیغمبر سے سنی ہے۔ (بخاری) تشریح اس حدیث میں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ ہر آنے والا زمانہ گزشتہ زمانہ سے بدتر ہوگا، تو اس پر اس صورت میں اشکال واقع ہوگا جب کہ آنے والا زمانہ سے مراد بلا استثناء ہر آنے والا زمانہ ہو اور اشکال یہ واقع ہوگا کہ حجاج بن یوسف کے زمانہ کے بعد حضرت عمر بن عبدالعزیز کا زمانہ آیا، یا بعد میں حضرت عیسیٰ اور حضرت مہدی علیہما السلام کا زمانہ آئے گا تو کیا ان زمانوں پر بھی مذکورہ بات کا اطلاق ہوگا اور بلا استثناء یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ہر آنے والا زمانہ حجاج کے زمانہ سے بھی بدتر ہوگا، ہاں اگر یہ بات استثناء کے ساتھ فرمائی گئی ہے تو پھر اشکال پیدا ہوگا، چناچہ شارحین حدیث نے وضاحت کی ہے کہ آنے والے زمانوں کے بدتر ہونے کی خبر دینا اکثر و اغلب کے اعتبار سے ہے یعنی آنے والے زمانوں میں اکثر و غالب زمانے ایسے ہی ہوں گے جو پچھلے زمانہ سے بدتر ماحول سے بھرے ہوئے ہوں گے، نیز آنے والے زمانہ سے مراد حجاج کے زمانہ سے زمانہ دجال تک کے زمانے ہیں، جن میں سے حضرت عیسیٰ اور حضرت مہدی کے زمانے مستثنی ہیں، علاوہ ازیں اس حدیث کا اصل مقصود امت کے لوگوں کو تسلی دینا، ظلم و جور پر صبر کرنے کی تلقین کرنا، آنے والے زمانوں کے بارے میں باخبر کرنا اور اس بات کی طرف راغب کرنا ہے کہ اپنے زمانہ کو غنیمت جان کر زیادہ سے زیاہ اخروی فائدے حاصل کرنے میں مشغول رہو، کیا خبر کہ آنے والے زمانوں میں کسی کو اتنا بھی موقع مل سکے یا نہیں۔ بعض حضرات نے اس وضاحت کو زیادہ مناسب کہا ہے کہ آنے والے زمانوں کے بارے میں جہاں جو کچھ فرمایا گیا ہے اس سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا زمانہ تو مستثنی ہے باقی تمام زمانے، کسی نہ کسی اعتبار سے، کسی نہ کسی جگہ کے حالات کے مطابق اور کسی نہ کسی معاملہ میں از روئے علم وعمل اور استقامت و اخلاص دین پہلے زمانے سے بتر ہی حالت کے حامل رہے ہیں یا حامل رہیں گے اور آنحضرت ﷺ کے زمانہ مبارک سے بعد و دوری کا تقاضا بھی ہے کہ زمانہ جوں جوں آنحضرت ﷺ کے عہد مبارک سے دور ہوتا جاتا ہے اسی اعتبار سے بدی اور خرابی بڑھتی جاتی ہے اور اس کا سلسلہ ذات رسالت ﷺ کے اس دنیا سے پردہ فرمانے کے فورا بعد شروع ہوگیا تھا چناچہ صحابہ تک نے اپنی صفائی باطن اور پاکیزگی نفس کے باوجود آنحضرت ﷺ کی تدفین کے بعد اپنے قلوب کی حالت و کیفیت میں تبدیلی محسوس کی تھی، پہلے کے بعض بزرگوں کے بارے میں لکھا ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ پہلے کسی وقت دل میں گناہ کا خیال پیدا ہوگیا اور پھر وہ خیال جاتا رہا تو کہیں کافی مدت کے بعد جب وہی خیال پھر دوبارہ آیا تو اب آسانی کے ساتھ دفعہ ہونے کا نام نہیں لیتا تھا۔ بہت غور کرنے بعد اس فرق کی وجہ اس کے علاوہ کچھ سمجھ میں نہیں آئی کہ یہ ظلمت، زمانہ نبوت کے نور سے اور زیادہ بعد زمانہ ہوجانے کی وجہ سے پیدا ہوگئی ہے کیونکہ زمانہ نبوت کو گزرے جتنا زیادہ عرصہ ہوتا جاتا ہے برائی کی ظلمت اسی اعتبار سے زیادہ ہوتی جاتی ہے۔

5290Mishkaat-al-Masabih

حضور ﷺ نے قیامت تک پیدا ہونے والے اس امت کے فتنہ پردازوں کے بارے میں خبر دے دی تھی

عن حذيفة قال والله ما أدري أنسي أصحابي أم تناسوا ؟ والله ما ترك رسول الله صلى الله عليه وسلم من قائد فتنة إلى أن تنقضي الدنيا يبلغ من معه ثلاثمائة فصاعدا إلا قد سماه لنا باسمه واسم أبيه واسم قبيلته . رواه أبو داود .

حضرت حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے نہیں معلوم کہ میرے یہ رفقاء یعنی صحابہ کرام بھول گئے ہیں یا وہ بھولے تو نہیں ہیں مگر اپنی بعض مصلحتوں کی وجہ سے ایسا ظاہر کرتے ہیں جیسے وہ بھول گئے ہیں، اللہ کی قسم، رسول کریم ﷺ نے کسی بھی ایسے فتنہ پردازوں کو ذکر کرنے سے نہیں چھوڑا تھا جو دنیا کے ختم ہونے تک پیدا ہونے والا اور جس کے تابعداروں کی تعداد تین سو تک یا تین سو سے زائد تک کی ہوگی۔ آپ ﷺ ہر فتنہ پرداز کا ذکر کرتے وقت ہمیں اس کا اور اس کے باپ کا اور اس کے قبیلے تک کا نام بتایا تھا۔ (ابوداؤد) تشریح فتنہ پرداز سے وہ شخص مراد ہے جو فتنہ و فساد اور تباہی و خرابی کا باعث ہو، جیسے وہ عالم جو دین میں بدعت پیدا کرے دین کے نام پر مسلمانوں کو آپس میں لڑائے، امت میں افتراق و انتشار پیدا کر کے اسلام کی شوکت کو مجروح کرے اور جیسے وہ ظالم بادشاہ و امیر جو مسلمانوں کے باہمی قتل و قتال کا باعث ہو۔ تین سو کے عدد کی قید بظاہر اس لئے لگائی گئی ہے کہ کم سے کم اتنی تعداد میں آدمیوں کا کسی فتنہ پرداز کے گرد جمع ہوجانا اس فتنہ پرداز کی فتنہ پردازیوں کو پھیلانے، فتنہ و فساد کی کاروائیوں کو اثر انداز ہوجانے اور دین وملت کو نقصان پہنچ جانے کے لئے عام طور پر کافی ہوجاتا ہے، اگر کسی فتنہ پرداز کے تابعداروں کی تعداد اس سے کم ہوتی ہے تو گوہ انفرادی اور جزوی طور پر فتنہ پردازی میں کامیاب ہوجائے مگر اجتماعی طور پر اثر انداز ہونے کے قابل نہیں ہوتا۔

5291Mishkaat-al-Masabih

گمراہ کرنے والے قائد

وعن ثوبان قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إنما أخاف على أمتي الأئمة المضلين وإذا وضع السيف في أمتي لم يرفع عنهم إلى يوم القيامة . رواه أبو داود والترمذي . ( حسن )

حضرت ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ حقیقت یہ ہے کہ میں اپنی امت کے حق میں جن لوگوں سے زیادہ ڈرتا ہوں وہ گمراہ کرنے والے امام ہیں۔ یاد رکھو جب میری امت میں تلوار چل پڑے گی تو پھر قیامت تک نہیں رکے گی۔ ( ابوداؤد ) تشریح ائمہ اصل میں امام کی جمع ہے اور امام قوم و جماعت کے سردار، پیشوا اور اس شخص کو کہتے ہیں کہ جو لوگوں کو اپنے قول یا فعل یا عقیدے کی اتباع کی طرف بلائے، پس اس ارشاد کا مقصود یہ واضح کرنا ہے کہ مسلمانوں کی اجتماعی اور ملی حیثیت نیز ان کے دین کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والی اور تباہی کی طرف لے جانے والی جو چیز ہے وہ مسلمانوں کی قیادت و رہبری اور پیشوائی کرنے والے لوگوں کا گمراہ ہونا ہے کیونکہ انفرادی حیثیت میں کسی بھی شخص کے گمراہ ہونے کا نقصان اسی کی ذات تک محدود رہتا ہے لیکن قائد و پیشوا کی گمراہی کا نقصان و ضرر پوری قوم و جماعت کو متاثر کرتا ہے۔ جب میری امت میں تلوار چل پڑے گی الخ کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک دوسرے کے خلاف تلوار و طاقت آزمائی کی سیاست کی ابتداء ہوجائے گی اور باہمی مسائل و معاملات کو افہام تفہیم اور دین ودیانت کی روشنی میں حل کرنے کی بجائے تشدد و خونریزی کے راستے کو اختیار کرلیا جائے گا تو پھر طاقت آزمائی اور تشدد و خونریزی کا وہ فتنہ قیامت تک ٹھنڈا نہیں ہوگا اور مسلمان کہیں نہ کہیں ایک دوسرے کے خلاف لڑتے رہیں گے۔ واضح رہے کہ حضور ﷺ نے اس ارشاد گرامی کے ذریعے امت میں خونریزی کی اتبداء ہوجانے کے جس خوف کی طرف اشارہ فرمایا تھا اس کا مصداق امیرالمومنین حضرت عثمان غنی ؓ کے واقعہ شہادت کی صورت میں سامنے آیا۔ چناچہ اسلام میں سے پہلے مسلمان نے مسلمان کے خلاف جو تلوار اٹھائی اور خون بہایا وہ حضرت عثمان ؓ کی شہادت ہے۔ اور پھر ان کے سانحہ شہادت کے بعد مسلمانوں میں باہمی خونریزی کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ آج تک باقی ہے جیسا کہ مخبر صادق ﷺ نے خبر دی ہے کہ مسلمانوں کی بدقسمتی سے یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔

5292Mishkaat-al-Masabih

خلافت راشدہ کی مدت کے بارے میں پیش گوئی

وعن سفينة قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول الخلافة ثلاثون سنة ثم تكون ملكا . ثم يقول سفينة أمسك خلافة أبي بكر سنتين وخلافة عمر عشرة وعثمان اثنتي عشرة وعلي ستة . رواه أحمد والترمذي وأبو داود .

حضرت سفینہ ؓ جو آنحضرت ﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ خلافت کا زمانہ تیس سال کا ہوگا۔ اس کے بعد وہ خلافت بادشاہت میں بدل جائے گی حضرت سفینہ ؓ نے یہ حدیث بیان کرنے کے بعد راوی سے یا عام لوگوں کو خطاب کر کے کہا کہ حساب کر کے دیکھو حضور ﷺ نے جو تیس سال کی مدت بیان فرمائی ہے وہ اس طرح ہوتی ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ کی خلافت کا زمانہ دو سال۔، حضرت عمر ؓ کی خلافت کا زمانہ دس سال، حضرت عثمان کی خلافت کا زمانہ بارہ سال اور حضرت علی کی خلافت کا زمانہ چھ سال (ؓ ورضوا عنہ)۔ (احمد، ترمذی، ابوداؤد) تشریح خلافت سے مراد خلافت حق ہے یا وہ خلافت مراد ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک پسندیدہ اور جس کی بنیاد قرآن وسنت کی ہدایت اور رہنمائی اور دین و شریعت کے آئین حکمرانی کی اتباع پر ہو، چنانہ اس خلافت کا صحیح مصداق حضور ﷺ کے بعد اول کی خلافت ہے جس کو خلافت راشدہ کہا جاتا ہے اور جس کی مدت تیس سال ہوئی ہے۔ حضرت شیخ عبدالحق دہلوی نے اپنی شرح مشکوۃ میں اس روایت کو نقل کرتے ہوئے ملکا کے بعد عضوضا کا لفظ بھی نقل کیا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ وہ خلافت کٹ کھنی بادشاہت میں بدل جائے گی، یعنی خلافت کا دور ختم ہوجانے کے بعد بادشاہت کا دور شروع ہوجائے گا اور بادشاہت بھی ایسی کہ لوگ اس کی سختیوں اور ظالمانہ کاروایوں سے امن نہیں پائیں گے اور عدل و انصاف کا نظام اور دین پروری کا ماحول جیسا کہ ہونا چاہئے، جاری نہیں ہوگا، یہ اور بات ہے کہ اس دور کے حکمران گزرے ہوئے خلفاء کی جانشینی کا دعویٰ رکھنے کی وجہ سے اور مجازا اس بادشاہت پر خلافت ہی کا اطلاق کریں اور اپنے کو خلیفہ کہلائیں اور گو ان کو امیرالمومنین کہنا کوئی خلاف حقیقت بات بھی نہ ہو کیونکہ نظم مملکت اور ظاہری قانون کے مطابق وہ مسلمانوں کے امیر و حاکم بہرحال ہوں گے لیکن حقیقی خلافت کہ جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے بس تیس سال تک رہے گی، چنانہ خلفاء راشدین کہ جن کا دور خلافت حقیقی خلافت کا واقعی مصداق تھا، تیس ہی سال پر مشتمل ہے۔ شرح عقائد میں اس حدیث کے تعلق سے ایک اشکال وارد کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ حضور ﷺ نے خلافت کا دور صرف تیس سال فرمایا ہے جب کہ خلفاء راشدین کے بعد کے زمانے میں خلفاء عباسیہ بلکہ بنو امیہ میں سے بعض خلفاء جیسے حضرت عمر بن عبدالعزیز کی خلافت پر مسلمانوں کے تقریبا تمام ہی علماء اور اہل عمل وعقد کا اتفاق رہا ہے تو کیا ان کے دور خلافت کو خلافت نہیں کہا جاسکتا اس کا جواب یہ ہے کہ حضور ﷺ نے جس خلافت کی طرف اشارہ فرمایا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ خلافت کاملہ کہ جس میں دین و شریعت اور عدل و انصاف کی ذرا سی بھی آمیزش نہ ہو، تیس سال رہے گی، اس کے بعد کی خلافت کی شکل و صورت میں تبدیلی آئے گی، ہاں کچھ دور ایسے بھی آئیں گے جس میں اس خلافت کے طرز کو اختیار کیا جائے گا ورنہ عام طور پر جو بھی خلافت قائم ہوگی وہ بس نام ہی کی خلافت ہوگی، اصل کے اعتبار سے بادشاہت ہوگی، واضح رہے کہ خلافت راشدہ کے بعد بنو امیہ کا دور حکمرانی شروع ہوا جس کو انہوں نے اگرچہ خلافت ہی کا نام دیا مگر حقیقت میں وہ بادشاہت تھی، حضرت امیر معاویہ ؓ اس دور کے سب سے پہلے حکمران ہیں ان کا دور حکمرانی اگرچہ خلافت راشدہ کی طرح دین وملت کے حق میں حقیقی خلافت کا نمونہ نہیں رہا مگر ان کی خلافت و حکومت میں بادشاہت کی وہ تمام خرابیاں بھی نہیں تھیں جو ان کے جانشینوں کے دور حکومت میں پیدا ہوئی نیز انہوں نے اپنے دور حکمرانی کو کسی نہ کسی حد تک خلافت راشدہ کے نہج پر رکھنے کی کوشش کی۔ لیکن ان کے بعد بنو امیہ کا اکثر دور حکمرانی مسلمانوں کی باہمی آویزش وخلفشار قتل و غارت گری، دین و شریعت کی صریح خلاف ورزی اور ظلم و ناانصافی کی بہت زیادہ مثالوں سے بھرا ہوا تھا، اس دور کی ابتداء یزید بن معاویہ کے دور سے ہوتی ہے، یزید کے بعد اس کا بیٹا معاویہ بن یزید حکمران ہوا، اس کے بعد ولید بن عبدالملک، سلیمان بن عبدالملک، حضرت عمر بن عبدالعزیز، یزید بن عبدالملک، ہشام بن عبدالملک، ولید بن یزید بن عبدالملک، ابراہیم بن ولید بن عبدالملک اور مروان بن محمد بن مروان بالترتیب یکے بعد دیگرے خلیفہ وحکمران ہوتے رہے مروان بن محمد بن مروان، بنو امیہ میں سے آخری حکمران تھا، اس کے بعد خلافت بنو امیہ سے نکل کر بنو عباس میں پہنچ گئی۔ حدیث کے راوی حضرت سفینہ ؓ نے تیس سال کا جو حساب بیان کیا ہے وہ تخمینا ہے اور اس بات پر مبنی ہے کہ انہوں نے کسور کو بیان نہیں کیا، چناچہ صحیح روایات اور مستند تاریخی کتابوں میں خلافت راشدہ کی تیس سالہ مدت کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی خلافت کا زمانہ دو سال چار ماہ، حضرت عمر فاروق ؓ کی خلافت کا زمانہ دس سال چھ ماہ، حضرت عثمان غنی کی خلافت کا زمانہ چند روز کم بارہ سال اور حضرت علی مرتضی ؓ کی خلافت کا زمانہ چار سال نو ماہ رہا ہے۔ اس طرح چاروں خلفاء کی مجموع مدت خلافت انتیس سال سات ماہ ہوتی ہے اور پانچ مہینے جو باقی رہے وہ حضرت امام حسن ؓ کی خلافت کا زمانہ ہے، پس حضرت امام حسن ؓ بھی خلفاء راشدین میں سے ہوئے ؓ

5293Mishkaat-al-Masabih

آنے والے زمانوں کے بارے میں پیشگوئی

وعن حذيفة قال قلت يا رسول الله أيكون بعد هذا الخير شر كما كان قبله شر ؟ قال نعم قلت فما العصمة ؟ قال السيف قلت وهل بعد السيف بقية ؟ قال نعم تكون إمارة على أقذاء وهدنة على دخن . قلت ثم ماذا ؟ قال ثم ينشأ دعاة الضلال فإن كان لله في الأرض خليفة جلد ظهرك وأخذ مالك فأطعه وإلا فمت وأنت عاض على جذل شجرة . قلت ثم ماذا ؟ قال ثم يخرج الدجال بعد ذلك معه نهر ونار فمن وقع في ناره وجب أجره وحط وزره ومن وقع في نهره وجب وزره وحظ أجره . قال قلت ثم ماذا ؟ قال ثم ينتج المهر فلا يركب حتى تقوم الساعة وفي رواية هدنة على دخن وجماعة على أقذاء . قلت يا رسول الله الهدنة على الدخن ما هي ؟ قال لا ترجع قلوب أقوام كما كانت عليه . قلت بعد هذا الخير شر ؟ قال فتنة عمياء صماء عليها دعاة على أبواب النار فإن مت يا حذيفة وأنت عاض على جذل خير لك من أن تتبع أحدا منهم . رواه أبو داود .

حضرت حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! کیا اس خیر کے بعد شر پیدا ہوگا جیسا کہ اب سے پہلے شر کا دور دورہ تھا (یعنی جس طرح آپ ﷺ کی بعثت سے پہلے کفر و شرک اور برائیوں کا اندھیرا پھیلا ہوا تھا اور پھر آپ ﷺ کے نور نبوت نے بدی و برائی کی تاریکی کو ختم کر کے نیکی اور بھلائی کا اجالا پھیلایا، اسی طرح کیا خیر و بھلائی کے اس زمانے کے بعد شر و برائی کا زمانہ بھی آئے گا) آپ ﷺ نے فرمایا ہاں (اس کے بعد پھر بدی و برائی کا زمانہ بھی آئے گا) میں نے عرض کیا کہ پھر اس وقت بچنے کی کیا سبیل ہوگی؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ تلوار (یعنی اس فتنہ سے حفاظت، تلوار آزمائی کے ذریعے حاصل ہوگی یا یہ مراد ہے کہ اس فتنہ سے بچنے کا راستہ یہی ہوگا کہ تم اس فتنہ کو پیدا کرنے والے لوگوں کو سر تلوار سے اڑا دو ) میں نے عرض کیا کہ پھر اس تلوار کے بعد اہل اسلام باقی رہیں (یعنی جب مسلمان بدی اور برائی کی طاقتوں کو ختم کرنے کے لئے تلوار اٹھائیں گے اور قتل و قتال کریں گے تو کیا اس کے بعد اس زمانے کے مسلمانوں میں اتنی طاقت واجتماعیت باقی رہ جائے گی کہ وہ امانت ودیانت کے ساتھ اپنی سرداری وحاکمیت قائم کرلیں اور لوگ اس کی قیادت وامارت پر اتفاق کرلیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ ہاں! امارت یعنی حکومت و سلطنت تو قائم ہوجائے گی لیکن اس کی بنیاد فساد پر ہوگی اور صلح کی بنیاد کدورت پر ہوگی۔ میں نے عرض کیا کہ پھر اس کے بعد کیا ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس کے بعد گمراہی کی طرف بلانے والے لوگ پیدا ہوں گے۔ اگر اس وقت زمین پر کوئی خلیفہ یعنی امیر و بادشاہ ہو تو خواہ وہ تیری پیٹھ پر مارے ہی کیوں نہ اور تیرا مال کیوں نہ لے لے (یعنی وہ امیر بادشاہ اگرچہ تمہیں ناحق ستائے تم پر ظلم وستم ڈھائے اور تمہارا مال و اسباب چھین لے لیکن تم اس کی اطاعت سے منہ نہ پھیرنا تاوقتیکہ وہ تمہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف کوئی کام کرنے کو نہ کہے اور حکم اس لئے دیا گیا ہے تاکہ دین وملت میں افتراق و انتشار اور مملکت میں بدامنی و فساد پیدا نہ ہو۔ اور اگر کوئی خلیفہ یعنی امیر و بادشاہ نہ ہو تو تمہاری موت ایسی حالت میں آنی چاہئے کہ تم کسی درخت کی جڑ میں پناہ پکڑے ہوئے ہو۔ میں نے عرض کیا کہ پھر اس کے بعد کیا ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ اس کے بعد دنیا اور زیادہ فتنہ و انتشار اور برائیوں کی طرف بڑھتی رہے گی اور مسلمان بتدریج دینی وملی طور پر اور دنیاوی اعتبار سے بھی زوال پذیر ہوتے رہیں گے، یہاں تک کہ حضرت مہدی کے زمانہ میں دجال کا ظہور ہوگا جس کے ساتھ پانی کی نہر ہوگی اور آگ کی خندق پس جو شخص اس کی نہر میں پڑے گا اس کا گناہ اس کے لئے باردوش بنے گا اور اس کا اجر جو اس نے اچھے عمل کر کے حاصل کئے ہوں گے جاتا رہے گا۔ حضرت حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ پھر اس کے بعد کیا ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ گھوڑے کا بچہ جنوایا جائے گا اور وہ سواری نہیں دینے پائے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ اور ایک روایت میں (امارت تو قائم ہوجائے گی لیکن اس کی بنیاد فساد پر ہوگی الخ) کے بجائے یوں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کدورت پر صلح ہوگی یعنی اس وقت لوگ ظاہر میں تو صلح صفائی کا راستہ اختیار کریں گے لیکن ان کے باطن میں کدورت ہوگی۔ اور وہ کسی معاہدہ و فیصلہ پر دلوں کی ناخوشی اور بخشش کے ساتھ متفق ومجتمع ہوں گے۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کدورت پر صلح سے کیا مراد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے دل اس حالت پر نہیں ہوں گے جس پر پہلے تھے (یعنی جس طرح اسلام کے ابتدائی زمانے میں لوگوں کے دل بغض وکینہ سے صاف رہا کرتے تھے، وہ جو بات کہا کرتے یا جو معاملہ کرتے تھے اس میں صدق دلی شامل ہوتی تھی۔ اس طرح کے پاک وصاف دل اس وقت لوگوں کے نہیں ہوں گے کہ زبان سے کچھ کہیں گے معاملہ کچھ کریں گے اور دل میں کچھ اور رکھیں گے۔ یا یہ مراد ہے کہ لوگوں میں باہمی صلح و صفائی ہوجانے کے باوجود، ان کے دل اس طرح پاک وصاف نہیں ہوں گے جس طرح ایک دوسرے کے خلاف بغض وعناد میں مبتلا ہونے اور کدورت پیدا ہونے سے پہلے تھے۔ میں نے عرض کیا کہ کیا اس بھلائی کے بعد کہ جو آپس کے نفاق کدورت کے بعد مذکورہ باہمی مصالحت ومفاہمت کی صورت میں ظاہر ہوگی اور جو اگرچہ برائی کی آمیزش سے پوری طرح صاف نہیں ہوگی کسی اور برائی کا ظہور ہوگا؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ ہاں، اس کے بعد پھر برائی کا ظہور ہوگا اور وہ ایک ایسے بڑے فتنہ کی صورت میں ہوگا جو اندھا اور بہرا ہوگا (یعنی وہ فتنہ لوگوں کی عقل وخرد اور نیکی وبد کی قوت تمیز پر اس طرح اثر انداز ہوجائے کہ وہ حق اور سچائی کو نہ دیکھیں گے اور نہ سنیں گے۔ گویا فتنہ کی طرف اندھے پن اور بہرے پن کی نسبت مجازاً ہے اصل مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ لوگ اس فتنہ میں مبتلا ہو کر بدی اور برائی کی انتہائی حدوں تک پہنچ جائیں گے اور اس کا نتیجہ، جیسا کہ آگے فرمایا جا رہا ہے، یہ ہوگا کہ اس فتنہ کی طرف بلانے والے لوگ پیدا ہوجائیں گے یعنی لوگ محض اس فتنہ میں مبتلا ہی نہیں ہوں گے بلکہ ایک ایسی جماعت بھی پیدا ہوجائے گی جو اس فتنہ کو ہوا دے گی اور دوسروں کے اس فتنہ میں مبتلا ہونے کا باعث بنے گی اور اس جماعت کے لوگوں کا یہ عمل ایسا ظاہر کرے گا جیسے کہ وہ دوزخ پر کھڑے ہو کر مخلوق کو اس دوزخ کی طرف بلا رہے ہیں چناچہ بلانے والے اور ان کے بلاوے کو قبول کرنے والے سب ہی دوزخ میں جائیں گے۔ پس اے حذیفہ اس وقت تمہاری موت اگر اس حالت میں آئے کہ تم کسی درخت کی جڑ میں پناہ پکڑے ہوئے ہو تو یہ اس سے بہتر ہوگا کہ تم اہل فتنہ میں سے کسی کی اتباع و پیروی کرو۔ تشریح قتادہ ؓ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے جس فتنہ سے بچاؤ کا ذریعہ تلوار کو قرار دیا تھا اس کا مصداق وہ لوگ ہیں جو حضور ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے زمانہ خلاف میں اسلام سے پھرگئے تھے اور اپنے ارتداد و بغاوت کے ذریعہ ایک بڑے فتنہ کا باعث بننے والے تھے لیکن حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے نہایت تدبر وہوشیاری کے ساتھ ان کی سرکوبی کی اور طاقت کے ذریعے ان کو دبایا۔ اقذاء اصل میں قذی کی جمع ہے اور قذاۃ کا معنی اس کیچڑ اور تنکے کے ہیں جو آنکھ میں یا پانی وشربت وغیرہ میں پڑجائے۔ پس حضور ﷺ نے فرمایا کہ اس وقت امارت و حکومت تو قائم ہوجائے گی اور مسلمانوں کا امیر و خلیفہ بھی ہوگا لیکن لوگ اخلاص وحسن نیت کے ساتھ اپنی اس امارت و حکومت کے تئیں وفاداری نہ رکھیں گے بلکہ ان کے دلوں میں بغض و عداوت، عدم وفاداری اور مخالفت ومخاصمت کے جذبات ہوں گے، جیسا کہ اگر کسی کی آنکھ میں کوئی ریزہ یا تنکا پڑجائے تو گو وہ باہر سے اچھی بچھی معلوم ہوتی ہو مگر اس کے اندر سخت شوزش اور دکھن ہوتی ہے اسی طرح وہ لوگ گو ظاہر میں اپنی امارت و حکومت کے وفادار و بہی خواہ نظر آئیں گے مگر ان کے اندر غیر وفاداری اور مخالفت و عداوت بھری ہوگی اور قاضی نے اس کے دوسرے معنی بیان کئے ہیں اور وہ یہ کہ اس وقت مسلمانوں کی حکومت وامارت تو قائم ہوگی لیکن وہ امارت و حکومت، بعض بدعتوں اور دین مخالف کاروائیوں کے ذریعے اپنی حیثیت کو بگاڑے رکھے گی۔ ہدنۃ مصالحت کے مفہوم میں ہے اور اصل میں اس کے معنی سکون و آرام اور فراغت کے ہیں اور دخن دخان کے مفہوم میں ہے جس کے معنی ہیں دھواں اس جملے ہدنۃ علی دخن (صلح کی بنیاد کدور پر ہوگی) کا مطلب بھی وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا کہ اس وقت باہم مخاصمت و مخالفت رکھنے والے فریقوں کے درمیان جو مصالحت ہوگی وہ فریب ونفاق اور بدنیتی کے ساتھ ہوگی کہ اس اعتبار سے یہ جملہ ماقبل کے جملہ کو مؤ کدہ کرنے کے لئے ہے۔ اور شارحین حدیث نے بیان کیا ہے کہ حضور ﷺ کے اس ارشاد گرامی کا مصداق وہ مصالحت ومفاہمت ہے جو حضرت امام حسن اور حضرت امیر معاویہ ؓ کے سپرد کردی تھی اور انہوں نے یعنی امیر معاویہ ؓ نے اپنی امرت وسیادت کو مستحکم کرلیا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض حضرات خصوصا مورخین نے جو یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ امیر معاویہ، حضرت امام حسن سے صلح و صفائی کرلینے کے بعد خلیفہ ہوئے تھے۔ اس معنی میں صحیح نہیں ہے کہ امام حسن واقعۃ حضرت امیر معاویہ ؓ کو خلافت کا اپنے سے زیادہ مستحق واہل جانتے تھے اس لئے انہوں نے صلح کر کے ان کے حق میں خلاف سے دستبرداری دے دی تھی، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت کے سیاسی عناصر نے حضرت امام حسن کے خلاف جس طرح کا ماحول بنادیا تھا اور ان دونوں عظیم المرتبت شخصیتوں کی باہمی آویزش کی وجہ سے دین وملت کو جو نقصان پہنچنے والا تھا، حضرت امام موصوف نے اس سے بچنے کے لئے بادل نخواستہ مصالحت کی اور اپنی خلافت و حکومت کو دین وملت کے وسیع تر مفاد پر ترجیح دینے کی بجائے اس سے دستبرداری ہی کو بہتر سمجھا۔ گمراہی کی طرف بلانے والے لوگ پیدا ہوں گے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کے امراء اور ارباب حکومت میں سے ایسے لوگوں کی جماعت پیدا ہوگی جو لوگوں کو بدعت و گناہ کی طرف مائل کرے گی اور برائی کے راستے پر لگائے گی۔ کسی درخت کی جڑ میں پناہ پکڑے ہوئے ہو کے ذریعے اس امر کی تلقین کرنا مقصود ہے کہ اپنے نازک حالات اور اس طرح کے سخت دین مخالف ماحول میں تمہیں چاہئے کہ لوگوں سے کنارہ کشی اختیار کر کے کہیں گوشہ نشین ہوجاؤ اور اپنے آپ کو فتنہ و فساد سے بچا کر اپنی باقی زندگی کو کسی ایسی جگہ گزار دو جہاں تک اس فتنہ کے برے اثرات تم تک نہ پہنچ سکیں یہاں تک کہ اگر تمہیں ان نازک حالات اور اس پر فتن ماحول سے دور رہنے کے لئے کہیں دور جنگل میں جا کر کسی درخت کی جڑ میں پناہ لینی پڑے اور وہاں اتنی سخت اور صبر آزما زندگی گزارنی پڑے کہ گھاس پھوس اور لکڑی چبانے تک کی نوبت آجائے تو اس سے بھی دریغ نہ کرو۔ اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ والا فمت کا تعلق واطعہ سے ہے، اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اس امیر و بادشاہ کی طرف سے تمہارے حق میں کتنے ہی سخت حالات پیدا کر دئیے جائیں تم اس کی اطاعت و فرمانبرداری سے منہ نہ پھیرنا، کیونکہ اگر تم اس امیر و بادشاہ کی اطاعت نہیں کرو گے تو پھر تمہیں اور زیادہ شدید حالات میں اور کہیں زیادہ سخت اذیت کے ساتھ مرنا پڑے گا۔ نیز بعض نسخوں میں فمت کی بجائے قمت کا لفظ ہے جو لفظ قیام سے ماضی کا صیغہ ہے، اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اگر ایسا نہ ہو یعنی تم اس امیر و بادشاہ کے ظلم وستم کی وجہ سے اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرنے سے معذور ہو تو پھر نکل کھڑے ہو اور کہیں دور جنگل میں جا کر کسی درخت کی جڑ میں پناہ لے لو۔ (یعنی اس امیر و بادشاہ کے زیر حکومت علاقہ سے نکل جاؤ اور کہیں دوسری جگہ جا کر پناہ گزیں ہوجاؤ۔ جس کے ساتھ پانی کی نہر ہوگی اور آگ کی خندق کے بارے میں بعض حضرات نے کہا ہے کہ یہ دونوں چیزیں حقیقی نہیں بلکہ محض خیالی ہوں گی اور ان کا تعلق سحر و طلسم سے ہوگا یعنی بظاہر نظر تو ایسا آئے گا کہ وہ دجال اپنے ساتھ پانی کی نہر اور آگ کی خندق لئے پھر رہا ہے لیکن حقیقت ان کے علاوہ کچھ اور ہوگی، جیسا کہ شعبدہ باز نظر بندی کر کے کچھ کا کچھ دکھا دیتے ہیں، چناچہ آگے کی عبارت فمن وقع فی فارۃ میں دجال کی طرف آگ کی نسبت سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ دونوں چیزیں محض جادوئی اور طلسماتی ہوں گی۔ اور بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ اس کے ساتھ پانی کی جو نہر ہوگی وہ نتیجہ و حقیقت کے اعتبار سے آگ ہوگی اور آگ کی خندق ہوگی وہ نتیجہ و حقیقت کے اعتبار سے پانی ثابت ہوگا۔ اور حضرت شیخ عبدالحق نے اس جملے کی تشریح میں یہ لکھا ہے کہ زیادہ صحیح بات تو یہی ہے کہ یہ عبارت حقیقی معنی پر محمول ہے، یعنی اس کے ساتھ واقعۃ پانی کی نہر اور آگ کی خندق ہوگی، لیکن یہ احتمال بھی ہے کہ ان چیزوں سے مراد لطف وقہر اور وعدہ وعید ہو، یعنی پانی کی نہر سے مراد تو یہ ہے کہ اس کے پاس اپنے متعلقین کے لئے زبردست ترغیبات و لالچ اور آسائش و راحت کے سامان ہوں گے اور آگ کی خندق سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے مخالفین و منکرین کے لئے ڈرانے، دھمکانے اور مصیبت واذیت میں مبتلا کرنے کے ذرائع رکھے گا، پس جو شخص اس کی آگ میں پڑے گا الخ کا مطلب یہ ہے کہ دجال کی موافقت و تابعداری نہیں کرے گا وہ اس کو آگ میں ڈالے گا اور طرح طرح کی سختیوں اور آلام میں مبتلا کرے گا) اور جو شخص اس کی آگ میں پڑے گا وہ اللہ کے دین پر ثابت قدم رہنے اور اللہ کی رضاء کی خاطر ہر مصیبت پر صبر کرنے کی وجہ سے بڑے بڑے اجر پائے گا اور اس نے پہلے جو گناہ کئے ہوں گے وہ دھل جائیں گے، اسی طرح جو شخص دجال کی موافقت و تابعداری کرے گا اس کو وہ اپنی میں ڈالے گا (یعنی اس کو طرح طرح کی آسائش اور راحت زیادہ سے زیادہ دنیاوی فائدے پہنچائے گا، چناچہ جو شخص اس کے پانی میں جائے گا وہ دنیاوی آسائش و راحت اور یہاں کی زندگانی کی محبت کے سبب اس پر ایمان لانے، اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرنے کی وجہ سخت وبال مول لے لے گا اور اس نے پہلے جو اچھے کام کئے ہوں گے ان سب کا اجر ضائع ہوجائے گا۔ ثم ینتج المہر الخ میں لفظ ینتج انتج کا صیغہ مجہول ہے نہ کہ یہ انتاج سے ہے اور نتج کے معنی ہیں حاملہ کی خبر گیری کرنا یہاں تک کہ وہ جنے۔ جب کہ انتاج کے معنی ہیں ولادت کا وقت آجانا۔ پس علماء نے لکھا ہے کہ یہاں نتج اصل میں تولید کے معنی استعمال ہوا ہے یعنی لوگ اپنی گھوڑیوں کے ہاں بچہ ہونے کی تدابیر اختیار کریں گے اور بچہ جننے کے وقت گھوڑیوں کی دیکھ بھال اور خدمت کریں گے جیسا کہ دایہ کسی عورت کے ہاں ولادت کے وقت خدمت انجام دیتی ہے اور مہر کے معنی بچھڑنے کے ہیں اور اگر یہ لفظ ۃ کے ساتھ یعنی مہرۃ ہو تو اس کے معنی بچھڑی کے ہوتے ہیں۔ نیز یرکب کے معنی ہیں سواری دینے کی عمر کو پہنچ جانا یا سواری کے قابل ہوجانا۔ بہرحال جو یہ فرمایا گیا ہے کہ لوگ اپنی گھوڑیوں سے بچے جنوانے کی تدابیر کریں گے تاکہ ان کو سواری کے کام میں لاسکیں لیکن جب ان کی گھوڑیاں بچے جنیں گی تو وہ بچے ابھی سواری کے قابل بھی نہیں ہونے پائیں گے کہ قیامت آجائے گی، تو اس سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے کی طرف اشارہ کرنا ہے، کیونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نزول سے قیامت کے دن تک گھوڑوں کی سواری کا موقع ہی نہیں آئے گا اور یہ اس وجہ سے ہوگا کہ اس زمانے میں کفار کا وجود ہی نہیں ہوگا کہ جن سے جنگ کرنے کے لئے گھوڑوں کی سواری کی ضرورت پیش آئے لیکن یہ مراد لینا اور مذکورہ تاویل کرنا اس زمانے تو صحیح تھا جب کہ گھوڑوں کی سوار صرف میدان جنگ تک محدود رہتی تھی اور گھوڑے کا اصل مصرف کفار کے مقابلے پر لڑنے کے لئے ان کو استعمال کرنا سمجھا جاتا تھا، ظاہر ہے کہ موجودہ حالت میں یہ بات کچھ زیادہ وزن دار معلوم نہیں ہوتی۔ یا اس جملے کے ذریعے اس طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ دجال کے ظاہر ہوجانے کے بعد سے قیامت آنے تک کا زمانہ طویل نہیں ہوگا، بہت مختصر ہوگا، گویا اس وقت سے قیامت آنے تک میں بس اتنا عرصہ رہ جائے گا ایک بچھڑے کے پیدا ہونے کے وقت سے اس سواری کے قابل ہونے تک کے درمیان لگتا ہے۔ یہ وضاحت نہ صرف یہ کہ زیادہ صاف اور قرین قیاس ہے بلکہ ان احادیث کے مفہوم کے مطابق بھی ہے جو اس سلسلے میں منقول ہیں۔

5294Mishkaat-al-Masabih

خلافت راشدہ کے بعد پیش آنے والے روح فرسا واقعات کے بارے میں پیشگوئی

وعن أبي ذر قال كنت رديفا خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما علىحمار فلما جاوزنا بيوت المدينة قال كيف بك يا أبا ذر إذا كان بالمدينة جوع تقوم عن فراشك ولا تبلغ مسجدك حتى يجهدك الجوع ؟ قال قلت الله ورسوله أعلم . قال تعفف يا أبا ذر . قال كيف بك يا أبا ذر إذا كان بالمدينة موت يبلغ البيت العبد حتى إنه يباع القبر بالعبد ؟ . قال قلت الله ورسوله أعلم . قال تصبر يا أبا ذر . قال كيف بك يا أبا ذر إذا كان بالمدينة قتل تغمر الدماء أحجار الزيت ؟ قال قلت الله ورسوله أعلم . قال تأتي من أنت منه . قال قلت وألبس السلاح ؟ قال شاركت القوم إذا . قلت فكيف أصنع يا رسول الله ؟ قال إن خشيت أن يبهرك شعاع السيف فألق ناحية ثوبك على وجهك ليبوء باثمك وإثمه . رواه أبو داود .

حضرت ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن کسی سفر کے موقع پر میں گدھے پر رسول کریم ﷺ کے پیچھے سوار تھا (یعنی آنحضرت ﷺ نے ابوذر ؓ کو اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھا رکھا تھا، گویا یہ بات اس امر کی دلیل ہے کہ آنحضرت ﷺ اپنے صحابہ ؓ اور رفقاء کے ساتھ کس قدر تواضع و محبت اور حسن و سلوک کا رویہ اختیار فرماتے تھے، نیز اس سے حضرت ابوذر ؓ کی اس خصوصیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انہیں حضور ﷺ سے کس قدر قریب کا مقام حاصل تھا اور وہ آنحضرت ﷺ کے فرمودات کو نہایت توجہ وہوشیاری کے ساتھ سنتے اور اچھی طرح یاد رکھتے تھے، بہرحال، حضرت ابوذر ؓ نے فرمایا کہ) جب ہم مدینہ کے گھروں سے یعنی آبادی سے باہر نکل گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا ابوذر ؓ اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب مدینہ میں بھوک کا دور دورہ ہوگا (یعنی خاص طور پر تمہیں اس قدر اسباب معیشت حاصل نہیں ہو سکیں گے کہ تم اپنا پیٹ بھی بھر سکو، یا یہ کہ اس وقت مدینہ میں قحط پھیل جائے گا اور تم لوگوں کو کھانے کے لئے کچھ نہیں ملے گا یہاں تک کہ تم اپنے بستر سے اٹھ کر اپنی مسجد تک پہنچنے میں بھی مشکل محسوس کرو گے اور بھوک کی شدت تمہیں سخت پریشانی اور اذیت میں مبتلا کر دے گی (یعنی بھوک کی وجہ سے تم پر اس قدر ضعف غالب ہوجائے گا کہ تم اپنے گھر سے نکل کر نماز پڑھنے کے لئے مسجد تک جانے میں بھی سخت مشکل اور دقت محسوس کرو گے۔ حضرت ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں (یعنی میں نہیں بتاسکتا کہ اس وقت کیا کروں گا، ہاں آپ ﷺ ہی ہدایت فرمائیے کہ اس وقت مجھے کیا کرنا چاہئے) آپ ﷺ نے فرمایا۔ ابوذر! پارسائی اختیار کرنا، یعنی اس بھوک پر صبر کرنا ضبط و تحمل کے ساتھ اس سخت حالت کا مقابلہ کرنا اپنے آپ کو حرام ومشتبہ مال سے محفوظ رکھنا، طمع و لالچ لرکھنے اور کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے اور مخلوق کے سامنے ذلت و رسوائی اختیار کرنے سے اجتناب کرنا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا۔ ابوذر! اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب قحط یا کسی وبا کے پھیل جانے کی وجہ سے مدینہ میں موت کی گرم بازاری ہوگی اور مکان (یعنی قبر) کی قیمت غلام تک پہنچ جائے گی (یعنی کثرت اموات سے یہ حال ہوگا کہ لوگوں کو اپنے مردے دفن کرنے کے لئے قبر کی جگہ ملنی مشکل ہوجائے گی اور ایک قبر کی جگہ، غلام کی قیمت کے برابر پہنچ جائے گی۔ چناچہ آگلے جملے کے ذریعے اسی بات کو زیادہ وضاحت کے ساتھ یوں فرمایا کہ یہاں تک کہ قبر کی جگہ، غلام کی قیمت کے برابر فروخت ہوگی) حضرت ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں (آپ ہی ہدایت فرمائیے کہ اس وقت مجھے کیا کرنا چاہئے؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا ابوذر! صبر کا دامن ہرگز نہ چھوڑنا اور پھر فرمایا ابوذر! اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب مدینہ میں قتل عام ہوگا اور اس کا خون احجار الزیت کو ڈھان لے گا؟ حضرت ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں (آپ ﷺ ہی فرمائیے کہ مجھے اس وقت کیا کرنا چاہئے؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا تم اس کے پاس چلے جانا، جس سے تم تعلق رکھتے ہو۔ میں نے عرض کیا کہ، تو کیا میں اس وقت ہتھیار باندھ لوں اور فتنہ پھیلانے والی جماعت کے خلاف برسر پیکار ہوجاؤں آپ ﷺ نے فرمایا۔ اس طرح تو تم بھی جماعت کے شریک کار ہوجاؤ گے۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! پھر مجھے اس وقت کیا کرنا چاہئے؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ اگر تمہیں خوف ہو کہ تلوار کی چمک تم پر غالب آجائے گی (یعنی تم یہ دیکھو کہ کوئی شخص تمہیں مار ڈالنے کے لئے اپنی تلوار سے تم پر وار کرنا چاہتا ہے) تو اس وقت تم اپنے کپڑے کا کونہ اپنے منہ میں ڈال لینا۔ تاکہ وہ تمہارا گناہ (یعنی تمہارے قتل کا گناہ) اور اپنا گناہ لے کر واپس ہو۔ (ابوداؤد) تشریح تصبر بات تفعل سے امر کا صیغہ ہے اور ایک نسخہ میں یہ لفظ مضارع کا صیغہ منقول ہے جو امر کے معنی ہیں اس جملے کا حاصل یہ ہے کہ تم اس آفت وبلا پر صبر کرنا جزع وفزع سے اجتناب کرنا، تقدیر الٰہی پر راضی و شاکر رہنا۔ اور مدینہ سے بھاگنے کی کوشش نہ کرنا۔ احجار الزیت نواح مدینہ میں بجانب غرب ایک جگہ کا نام تھا، وہاں کی زمین نہایت پتھریلی تھی اور وہ پتھر بھی اس قدر سیاہ اور چمکدار تھے کہ جیسے کسی نے ان پر زیتون کا تیل مل دیا ہو، اسی مناسبت سے اس جگہ کو احجار الزیت کہا جاتا تھا۔ حضور ﷺ نے اس ارشاد گرامی ابوذر! اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب مدینہ میں قتل عام ہوگا الخ کے ذریعے بطور پیشگوئی اس خونچکاں واقعہ کی طرف اشارہ کیا جو مسلمانوں کے قتل عام کی صورت میں مدینہ منورہ پیش آیا اور واقعہ حرہ کے نام سے مشہور ہوا، مستند کتابوں میں اس واقعہ کی جو تفصیل مذکور ہے وہ اتنی لرزہ خیز، اتنی دردناک اور اتنی بھیانک ہے کہ نہ تو اس کو بیان کرنے کا زبان وقلم کو یارا ہے اور نہ کوئی آسانی کے ساتھ اس کو پڑھنے اور سننے کی تاب لاسکتا ہے۔ تاہم اجمالی طور پر اتنا بتادینا ضروری ہے کہ جب بدبخت یزید ابن معاویہ کی فوج نے میدان کربلا میں حضرت امام حسین ؓ کو نہایت بےدردی کے ساتھ شہید کردیا تو پورے عالم اسلام میں زبردست تہلکہ مچ گیا اور یزید کے خلاف عام مسلمانوں میں ناہیت نفرت کے جذبات پیدا ہوگئے ادھر اس کی بدکاریوں، بےاعتدالیوں اور بدمست زندگی کے واقعات نے اس کی طرف لوگوں کو پہلے ہی بدظن کر رکھا تھا چناچہ اہل مدینہ نے متفقہ طور پر اس کی خلافت و حکومت سے بیزاری کا اظہار اور اس کے خلاف جہاد کا اعلان کردیا، جب یزید کو یہ معلوم ہوا تو اس نے مسلم بن عقبہ کی کمان میں ایک بہت بڑا لشکر اہل مدینہ نے بڑی بہادری اور بےجگری کے ساتھ یزید کی فوج کا مقابلہ کیا لیکن اول تو تربیت یافتہ فوج اور دیگر وسائل و ذرائع کی کمی کی وجہ سے اور دوسرے مسلم بن عقبہ جیسے ہوشیار و تجربہ کار کمانڈر کا مقابلہ نہ کرسکنے کی وجہ سے شکست کھا گئے پھر تو مسلم بن عقبہ اور اس کی فوج نے شہر میں گھس کر قتل عام اور خونریزی کا بازر گرم کردیا اور قتل عام لوٹ مار کا یہ سلسلہ کئی دن تک جاری رہا، ہزاروں مسلمان نہایت سفاکی اور بےدردی کے ساتھ قتل کر دئیے گئے جن میں صحابہ کرام اور تابعین کی بھی بہت بڑی تعداد تھی، شہر مقدس اور مسجد نبوی ﷺ کی حرمت کو پامال کیا گیا اور دیگر ناقابل بیان تباہیوں اور بربادیوں کا بازار گرم کیا گیا۔ صرف مدینہ ہی کی پامالی پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ اس کے بعد یزید کی وہ فوج مکہ کی طرف روانہ ہوئی جہاں کے لوگوں نے بہت پہلے سے حضرت عبداللہ بن زبیر کو خلیفہ تسلیم کر رکھا تھا، یزیدی لشکر نے مکہ مکرمہ میں بھی بےپناہ تباہی مچائی اور خانہ کعبہ تک کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا۔ اسی سال یزید کی موت ہوئی۔ تم اس کے پاس چلے جانا جس سے تعلق رکھتے ہو کے معنی یہ ہیں کہ اس وقت جو لوگ تمہارے دین ومسلک کے ہوں اور تمہارے خیالات و اعمال کے موافق ہوں ان کے پاس چلے جانا۔ اور قاضی (رح) نے اس جملے کی یہ مراد بیان کی ہے کہ تم اپنے اہل واقا رب کے پاس چلے جانا اور یہ کہ اپنے گھر میں بیٹھے رہنا۔ اور طیبی (رح) نے کہا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت تم اپنے اس امام و امیر کی طرف رجوع کرنا جس کی تم اتباع فرمانبرداری کرتے ہو۔ یہ مطلب زیادہ صحیح اور حضرت ابوذر ؓ کے اس جملے تو کیا میں ہتھیار باندھ لوں کے زیادہ مناسب ہے۔ اس طرح تم بھی جماعت کے شریک کار ہوجاؤ گے کا مطلب، جو طیبی کے منقولات کی روشنی میں واضح ہوتا ہے یہ ہے کہ ایسے موقع پر جب کہ فتنہ و فساد پھوٹ پڑا ہو اور قتل و خونریزی کا بازار گرم ہو مسلح اور ہتھیار بند ہونا گویا اس خونریزی میں شرکت کرنا اور فتنہ پردازی کے گناہ گاروں کی صف میں شامل ہونا ہے لہٰذا تم نہ ہتھیار باندھنا اور نہ کسی کے خلاف جنگ میں شریک ہونا بلکہ اپنے امام ومقتدا اور صلح جو امن پسند لوگوں کے ساتھ رہنا یہاں تک کہ تم صلح جوئی اور امن پسندی کی راہ میں فلاح یاب۔ لیکن اس وضاحت پر یہ اشکال وارد ہوتا ہے کہ ایک طرف تو حضرت ابوذر ؓ کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ اپنے امام و امیر کے ساتھ رہیں جو یقینا اس وقت قتل و قتال اور خونریزی میں ایک فریق کی حیثیت رکھے گا دوسری طرف یہ حکم دیا گیا کہ وہ قتل و قتال سے دور رہیں۔ تو یہ دونوں باتیں ایک ساتھ کس طرح ممکن ہوں گی؟ اس کا جواب ابن ملک نے اس طرح دینے کی کوشش کی ہے کہ شریعت کا حکم تو یہی ہے کہ اگر کوئی شخص ناحق اور از راہ ظلم، خونریزی کا ارتکاب کرنا چاہے تو اس کا دفاع کرنا اور اس کی فساد انگیزی کو طاقت کے ذریعے ختم کرنے کی سعی کرنا واجب ہے لیکن حضور ﷺ نے جو یہ فرمایا کہ اس وقت ہتھیار بند ہونا، گویا فتنہ پردازوں کی جماعت کا شریک کار ہونا ہے، تو اس کا اصل مقصد خونریزی کی بڑائی کو واضح کرنا اور اس کے تباہ کن اثرات کے خلاف آگاہ و متنبہ کرنا ہے۔ تاہم اس سلسلے میں زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اگر خونریزی و غارت گری کے لئے آنے والا دشمن اگر مسلمان ہو تو طاقت کے ذریعے اس کا دفاع کرنا اور اس سے لڑنا جائز ہے بشرطیکہ اس سے مقابلہ آرائی کی صورت میں فتنہ و فساد کے زیادہ بڑھ جانے کا خوف نہ ہو اور اگر وہ دشمن، کوئی غیر مسلم ہو تو پھر اس کا ہر ممکن ذریعے سے مقابلہ کرنا اور اس کے ساتھ ہر صورت میں لڑنا واجب ہے۔ اپنے کپڑے کا کونہ اپنے منہ میں ڈال لینا کا مطلب یہ ہے کہ اگر قتل و قتال کرنے والے لوگ تم پر حملہ بھی کریں تو تم ان سے نہ لڑو۔ بلکہ ان کے حملے کے وقت کسی بھی ذریعے سے اپنے آپ کو غافل اور غیر متعلق بنا لو تاکہ تمہیں اس حملے سے خوف محسوس نہ ہو۔ اس سے گویا اس طرف اشارہ مقصود ہے کہ تم ان لوگوں سے اس حالت میں بھی نہ لڑنا اور ان کے خلاف تلوار نہ آتھانا جب کہ وہ تم سے لڑنا اور تمہیں قتل کرنا چاہیں بلکہ تمہارے لئے فلاح کا راستہ یہی ہوگا کہ اس وقت تم مظلوم بن جانا اور اور اپنے آپ کو ان کے ہاتھوں شہید ہوجانے پر تیار کرلینا کیونکہ وہ لوگ بہرحال مسلمان ہوں گے اور مسلمان کے خلاف تلوار اٹھانا جائز نہیں ہے۔ اگر وہ تمہیں قتل کریں گے تو وہ ان کا عمل ہوگا اور اللہ خود ان سے نپٹ لے گا۔ بعض شارحین نے لکھا ہے کہ حضور ﷺ کے اس ارشاد کا اصل مقصد مسلمانوں کی باہمی خونریزی کی برائی اور اس سے بچنے کی فضیلت کو زیادہ سے زیادہ اہمیت کے ساتھ بیان کرنا ہے کہ چاہے اپنی جان سے ہاتھ بھی دھونا پڑے مگر کسی مسلمان کے خلاف ہتھیار اٹھانا گوارہ نہ کرنا چاہئے ورنہ جہاں تک مسئلہ کا تعلق ہے، یہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ فتنہ کا سر کچلنے کے لئے اور ناحق خونریزی پر آمادہ شخص کا دفاع کرنے کے لئے لڑنا جائز ہے اگرچہ وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو۔ یہ بات واضح کر دینی ضروری ہے کہ واقعہ حرہ ٦٣ ھ میں پیش آیا جب کہ حضرت ابوذر ؓ کی وفات حضرت عثمان غنی ؓ کی خلافت کے آخری زمانے میں ٣٢ ھ میں ہوچکی تھی، پس آنحضرت ﷺ پر یہ تو منکشف ہوگیا تھا کہ مدینے میں ایسا المناک واقعہ پیش آئے گا لیکن یہ منکشف نہیں ہوا تھا کہ یہ واقعہ کب پیش آئے گا۔ چناچہ آپ ﷺ نے حضرت ابوذر ؓ کو اس کے متعلق باخبر کیا اور گویا یہ وصیت فرمائی کہ اگر وہ خونریزی تمہارے سامنے پیش آئے اور تمہاری زندگی اس وقت تک باقی رہے تو صبر و ثبات کی راہ اختیار کرنا اور اس خونریزی میں ہرگز شامل نہ ہونا جہاں تک بھوک کی حالت اور کثرت اموات کے واقعہ کا تعلق ہے تو ہوسکتا ہے کہ مدینہ والوں کو ان دونوں باتوں کا سامنا کرنا پڑا ہو اور حضرت ابوذر ؓ کی زندگی ہی میں یہ دونوں پیشگوئیاں بھی پوری ہوگئی ہوں جیسا کہ عام الرماد میں پیش آنے والی صورت حال سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ قتل عام اور خونریزی کے فتنہ کی طرح یہ دونوں باتیں بھی حضرت ابوذر ؓ کی وفات کے بعد ظاہر ہوئی ہیں۔