آداب جمعہ کی رعایت کرنے والے کے لئے خوشخبری
وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَحْضُرُا الْجُمُعَۃَ ثَلاثَۃُ نَفَرٍ فَرَجُلٌ حَضَرَھَا بِلَغْوٍ فَذَالِکَ حَظُّہ، مِنْھَا وَرَجُلٌ حَضَرَھَا بِدُعَاءٍ فَھُوَ رَجُلٌ دَعَا اﷲَ اِنْ شَاءَ اَعْطَاہُ وَاِنْ شَاءَ مَنَعَہ، وَرَجُلٌ حَضَرَھَا بِاِنْصَاتٍ وَسُکُوْتٍ وَلَمْ یَتَخَطَّ رَقَبَۃَ مُسْلِمٍ وَلَمْ یُؤْذِ اَحَدًا فَھِیَ کَفَّارَۃٌ اِلَی الْجُمُعَۃِ الَّتِی تَلِیْھَا وَزِیَادَۃُ ثَلاَ ثَۃِ اَیَّامٍ وَ ذَالِکَ بِاَنَّ اﷲُ یَقُوْلُ مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہ، عَشْرُ اَمْثَالِھَا۔ (رواہ ابوداؤد)
اور حضرت عبداللہ ابن عمرو ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جمعہ ( کی نماز) میں تین طرح کے لوگ آتے ہیں ایک وہ آدمی جو لغو کلام اور بیکار کام کے ساتھ آتا ہے (یعنی وہ خطبے کے وقت لغو بیہودہ کلام اور بیکار کام میں مشغول ہوتا ہے) چناچہ جمعے کی حاضری میں اس کا یہی حصہ ہے (یعنی وہ جمعے کے ثواب سے محروم رہتا ہے اور لغو کلام و فعل کا وبال اس کے حصے میں آتا ہے) دوسرا وہ آدمی ہے جو جمعے میں دعا کے لئے آتا ہے (چنانچہ وہ خطبے کے وقت دعا میں مشغول رہتا ہے یہاں تک کہ اس کی دعا اسے خطبے سننے یا خطبہ کے کمال ثواب سے باز رکھتی ہے) پس وہ دعا مانگتا ہے خواہ اللہ تعالیٰ (اپنے فضل و کرم کے صدقہ میں) اس کی دعا کو قبول فرمائے یا نہ قبول فرمائے تیسرا وہ آدمی جمعہ میں آتا ہے تو (اگر خطبہ کے وقت امام کے قریب ہوتا ہے تو خطبے سننے کے لئے) خاموش رہتا ہے اور (اگر امام سے دور ہوتا ہے اور خطبے کی آواز اس تک نہیں پہنچتی تب بھی خطبے کے احترام میں وہ) سکونت اختیار کرتا ہے نیز نہ تو وہ لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہے اور نہ کسی کو ایذاء پہنچاتا ہے لہٰذا اس کے واسطے یہ جمعہ اس (یعنی پہلے) جمعے تک جو اس سے ملا ہوا بلکہ اور تین دن زیادہ تک کا کفارہ ہوجائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہ عَشَر اَمْثَالِھَا یعنی جو ایک نیکی کرے گا۔ اس کو نیکی کا دس گناہ ثواب دیا جائے گا۔ (ابوداؤد)
تشریح
ان شاء اعطاہ وان شاء منعہ کا مطلب یہ ہے کہ وہ آدمی چونکہ خلاف ادب اور خلاف حکم اس وقت دعا میں مشغول رہتا ہے اس لئے اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا تو محض اپنے فضل و کرم کے صدقے اس کی دعا کو قبول فرما لے گا ورنہ از راہ عدل اس کے اس فعل بد کی وجہ سے کہ وہ دعا میں مشغول رہ کر خطبہ سننے سے غافل رہا اس کی دعا قبول نہیں فرمائے گا۔ خطبے کے وقت دعا میں مشغول ہونا حنفیہ کے نزدیک مکروہ ہے جب کہ دوسرے علماء کے ہاں حرام ہے مشکوٰۃ کے ایک دوسرے نسخے میں لفظ بَلَغُوْا صیغہ مضارع کے ساتھ نقل کیا گیا ہے لیکن صحیح بلغو جیسا کہ یہاں نقل کیا گیا ہے کیونکہ یہ اگلے جملوں کے مطابق ہے۔ ولم یوذ احد کا مطلب یہ ہے کہ مسجد میں آکر اس نے کسی آدمی کو ایذاء اور تکلیف نہیں پہنچائی بایں طور کہ مثلاً نہ تو کسی کو اس کی جگہ سے اٹھایا نہ کسی دوسرے کے جسم کے کسی عضو پر چڑھ کر بیٹھایا اسی طرح نہ تو کسی کے مصلیٰ پر اس کی مرضی کے بغیر بیٹھا اور نہ لہسن و پیاز جیسی اشیاء کی بدبو سے کسی کو تکلیف پہنچائی۔
خطبے کے وقت بات چیت کرنے والوں کے لئے وعید
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ تَکَلَّمَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ فَھُوَ کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًاوَالَّذِی یَقُوْلُ لَہ، اَنْصِتْ لَیْسَ لَہ، جُمُعَۃٌ۔ (رواہ احمد بن حنبل)
اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی جمعے کے دن اس حالت میں جب کہ امام خطبہ پڑھ رہا ہو بات چیت میں مشغول ہو تو وہ اس گدھے کی مانند ہے کہ جس پر کتابیں لاد دی گئیں ہوں اور جو آدمی اس (بات چیت میں مشغول رہنے والے) سے کہے چپ رہو تو اس کے لئے جمعے کا ثواب نہیں ہے۔ (احمد بن حنبل)
تشریح
کمثل الحمار کا مطلب یہ ہے کہ ایسا آدمی اس گدھے کی طرح ہے جس کی پشت پر کتابیں لاد دی جائیں یہ دراصل عالم کے علم پر عمل نہ کرنے سے کنایہ ہے نیز اس بات سے کنایہ ہے کہ اس آدمی نے انتہائی محنت و مشقت برادشت کر کے علم حاصل کیا مگر اس علم سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ جو آدمی مشغول گفتگو کو خاموش ہونے کے لئے کہے اس کو بھی جمعے کا ثواب اس لئے نہیں ملتا کہ اس سے ایسا لغو اور بےفائدہ کلام صادر ہوا جس کی ممانعت ثابت ہوچکی ہے جیسا کہ اس کی تفصیل حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت (نمبر ٥) میں بیان کی جا چکی ہے۔ خطبے کے وقت رسول اللہ ﷺ کا کلام اور اس کی وضاحت ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ جمعے کے روز جب کہ رسول اللہ ﷺ خطبہ دے رہے تھے ایک اعرابی آیا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرا مال تباہ و برباد ہوگیا، میرے اہل و عیال بھوکے ہیں ہمارے لئے دعا کیجئے! رسول اللہ ﷺ نے اسی حالت میں اپنے ہاتھ اٹھائے اور دعا فرمائی یا اسی طرح بعض روایتوں میں رسول اللہ ﷺ سے خطبہ کی حالت میں بات چیت کرنا ثابت ہے تو ان روایتوں کے بارے میں کئی احتمال ہیں اول تو یہ کہ آپ ﷺ کا دعا میں مشغول ہونا یا بات چیت کرنا خطبہ کی حالت میں نہیں تھا بلکہ یا تو خطبہ شروع ہونے کے بعد آپ ﷺ دعا یا بات چیت میں مشغول ہوئے ایک احتمال یہ ہے کہ ان روایتوں کا تعلق اس زمانے سے ہے جب کہ خطبے کی حالت میں اس قسم کی مشغولیت ممنوع نہیں تھی یا پھر یہ کہا جائے کہ یہ آنحضرت ﷺ کے خصائص میں سے ہے۔
مسلمانوں کے لئے جمعہ عید ہے
وَعَنْ عُبَیْدِ بْنِ السَّابَّقِ مُرْسَلًا قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی جُمُعَۃٍ مِنَ الْجُمُعِ یَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِیْنَ اِنَّ ھٰذَا یَوْمٌ جَعَلَہُ اﷲُ عِیْدًا فَاغْتَسِلُوْا وَمَنْ کَانَ عِنْدَہ، طِیْبٌ فَلَا یَضُرُّہُ اَنْ یَمَسَّ مِنْہُ وَ عَلَیْکُمْ بِالسَّوَاکِ رَوَاہُ مَالِکٌ وَرَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃٌ عَنْہُ وَھُوَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مُتَّصِلًا۔
اور حضرت عبیداللہ ابن سباق بطریق ارسال روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے مسلمانوں کی جماعت! یہ (جمعہ) کا وہ دن ہے جسے اللہ تعالیٰ نے (مسلمانوں) کی عید قرار دیا ہے۔ لہٰذا (اس دن) غسل کرو اور جس آدمی کو خوشبو میسر ہو اگر وہ اسے استعمال کرے تو کوئی حرج نہیں نیز تم مسواک ضرور کیا کرو (مالک) ابن ماجہ نے بھی یہ حدیث عبیداللہ ابن سباق سے انہوں نے عبداللہ ابن عباس ؓ سے متصل نقل کی ہے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جمعہ کا دن عید یعنی فقراء و مساکین اور اولیاء اللہ و صالحین کے لئے خوشی و مسرت اور زیب وزینت کرنے کا دن ہے اس دن نہاؤ یعنی خوب اچھی طرح طہارت اور ستھرائی حاصل کرو۔ اور خوشبو استعمال کرو خوشبو ایسی ہونی چاہیے جس میں خوشبو تو ہو مگر رنگ نہ ہو جیسے عطر وغیرہ علامہ ابن حجر (رح) فرماتے ہیں کہ خوشبوؤوں میں سب سے اعلیٰ خوشبو ایسا مشک ہے جس میں گلاب کی آمیزش ہو کیونکہ رسول اللہ ﷺ اکثر و بیشتر مشک ہی کا استعمال فرماتے تھے۔ حدیث کے الفاظ ومن کان عندہ طیب فلا یضرہ ان یمس کے بارے میں اگر یہ اشکال پیدا ہو کہ یہ پیرا یہ بیان وہاں استعمال کیا جاتا ہے جہاں کسی گناہ کا گمان ہوتا ہے لیکن خوشبو استعمال کرنا اور خاص طور پر جمعے کے دن سنت موکدہ ہے لہٰذا اس موقعہ پر یہ پیرا یہ بیان کیوں اختیار کیا گیا؟ تو جواب یہ ہوگا کہ بعض مسلمان یہ گمان کرتے تھے کہ خوشبو چونکہ عورتوں کے استعمال میں زیادہ آتی ہے اور عورتیں زیادہ تر اس کے استعمال کی عادی ہوتی ہیں اس لئے مردوں کے لئے اس کا استعمال مناسب نہ ہوگا چناچہ اس گمان اور گناہ کی نفی اس پیرایہ بیان سے کی گئی ہے جیسا کہ طواف یعنی صفا ومروہ کی سعی ارکان حج میں سے ہے اور واجب ہے لیکن اس کے باوجود اس بارے میں حق تعالیٰ نے یہ پیرایہ بیان اختیار فرمایا لا جناح علیہ ان یطوف بھما (یعنی اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ صفا و مردہ کی سعی کی جائے) حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ جمعے کے دن اور خاص طور پر غسل و وضو کے وقت مسواک ضرور استعمال کرنی چاہیے۔
جمعے کے دن غسل کرنے اور خوشبو لگانے کی اہمیت
وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَقًّا عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ اَنْ یَغْتَسِلُوْا یَوْمُ الْجُمُعَۃِ وَلِیَمَسَّ اَحَدُھُمْ مِنْ طِیْبِ اَھْلِہٖ فَاِنْ لَمْ یَجِدْ فَالْمَآءُ لَہُ طِیْبٌ رَوَاہُ اَحْمَدُ وَ التِّرْمِذِیُّ وَقَالَ ھٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ۔
اور حضرت براء ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسلمانوں پر جمعے کے دن نہاناواجب ہے نیز مسلمانوں کو چاہیے کہ ان میں سے ہر آدمی اپنے گھر میں سے خوشبو لے کر استعمال کرے اور اگر کسی کو خوشبو میسر نہ ہو تو اس کے لئے پانی ہی خوشبو ہے۔ یہ روایت احمد و ترمذی نے نقل کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے۔
تشریح
من طیب اھلہ اس لئے فرمایا گیا ہے کہ عورتیں اکثر خوشبو لگاتی ہیں اس سے گویا اس طرف اشارہ ہے کہ اگر کسی کے پاس خوشبو نہ ہو وہ اپنی بیوی سے مانگ لے لیکن خوشبو زنانی یعنی ایسی نہ ہو کہ اس میں رنگ کی آمیزش ہو۔ فَالْمَاءُ لَہ طَیِّبٌ کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کے پاس خوشبو نہ ہو اور اس کے گھر میں بھی بیوی وغیرہ کے پاس سے نہ ملے تو وہ پانی سے نہالے کہ پانی بمنزلہ خوشبو کے ہے کیونکہ پانی پاکیزگی اور ستھرائی کا سبب ہے اور بدن کی بدبو اس سے جاتی رہتی ہے۔ یہ حدیث اور اوپر کی حدیث حضرت امام مالک کے مسلک کی موید ہے کیونکہ ان کے نزدیک جمعے کے دن غسل کرنا واجب ہے لیکن جمہور علماء کے نزدیک چونکہ جمعہ کے دن غسل واجب نہیں لہٰذا ان حضرات نے احادیث کو سنت پر محمول کیا ہے کیونکہ ان کے علاوہ دوسری اور بہت سے احادیث سے یہ ثابت ہے کہ جمعہ کے دن غسل واجب نہیں ہے تاہم علماء لکھتے ہیں کہ جمعہ کے دن غسل نہ کرنا مکروہ ہے۔
خطبے اور جمعے کی نماز کا بیان
لغت میں خطبہ مطلقاً تقریر، گفتگو اور اس کلام کو کہتے ہیں کہ جس کے ذریعے لوگوں کو مخاطب کیا گیا ہو، لیکن شریعت کی اصطلاح میں خطبہ اس کلام اور مجموعہ الفاظ کو کہتے ہیں جو پندو نصائح، ذکروارشاد، درود وسلام اور شہادتیں پر مشتمل ہو۔ نماز جمعہ میں خطبہ فرض اور شرط ہے، امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک خطبے کی کم سے کم مقدار سبحان اللہ یا الحمد اللہ یا لا الہ الا اللہ کہنا ہے۔ اگرچہ رسول اللہ ﷺ سے طویل خطبہ منقول ہے لیکن طویل خطبہ واجب یا سنت ہے شرائط اور فرائض میں سے نہیں ہے کہ بغیر طویل خطبے کے جمعے کی نماز درست نہ ہوتی ہو۔ مگر حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما فرماتے ہیں کہ طویل ذکر اور پندو نصیحت کہ جسے عرف عام میں خطبہ کہا جاتا ہے ضروری ہے محض سبحان اللہ یا الحمد اللہ کہہ لینے کو خطبہ نہیں کہا جاسکتا۔ حضرت امام شافعی فرماتے ہیں کہ جب تک دو خطبے نہ پڑھے جائیں خطبہ جائز ہی نہیں ہوتا۔ ان تمام ائمہ کے دلائل فقہ کی کتابوں میں مذکور ہیں۔
عَنْ اَنَسٍ ص اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ ےُصَلِّی الْجُمُعَۃَ حِےْنَ تَمِےْلُ الشَّمْسُ۔ (صحیح البخاری)
حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب کہ آفتاب ڈھل جاتا۔ (صحیح البخاری )
تشریح
نماز جمعہ پڑھنے کے سلسلے میں آپ ﷺ کا معمول یہ تھا کہ جب سردی کا موسم ہوتا تھا تو آپ ﷺ آفتاب ڈھلتے ہی جمعے کی نماز پڑھ لیتے تھے مگر شدید گرمی کے دنوں میں ٹھنڈے وقت پڑھتے تھے جیسا کہ آگے حضرت انس ؓ کی ایک دوسری روایت سے معلوم ہوگا۔
وَعَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍص قَالَ مَا کُنَّا نَقِےْلُ وَلَا نَتَغَدّٰی اِلَّا بَعْدَ الْجُمُعَۃِ ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت سہل ابن سعد ؓ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ جمعے کی نماز سے فارغ ہو کر قیلولہ کرتے تھے اور کھانا کھاتے تھے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
تشریح
دوپہر کے وقت استراحت کرنے کو قیلولہ کہتے ہیں خواہ سویا جائے یا نہ سویا جائے۔ حدیث کا حاصل یہ ہے کہ ہم جمعے کے روز دوپہر کے کھانے اور قیلولہ میں مشغول نہ رہتے تھے بلکہ صبح سویرے نماز جمعہ کے لئے چلے جاتے تھے نماز کے بعد کھانا کھاتے اور قیلولہ کرتے تھے۔
وَعَنْ اَنَسٍ ص قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا اشْتَدَّ الْبَرْدُ بَکَّرَ بِالصَّلٰوۃِ وَاِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ اَبْرَدَ بِالصَّلٰوۃِ ےَعْنِی الْجُمُعَۃَ۔(صحیح البخاری)
اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سخت سردی کے موسم میں جمعے کی نماز سویرے پڑھ لیتے تھے اور جب شدید گرمی کے دن ہوتے تو دیر سے پڑھتے تھے۔ (صحیح البخاری )
رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں جمعے کی پہلی اذان نہیں ہوتی تھی
وَعَنِ السَّآئِبِ بْنِ ےَزِےْدَ صقَالَ کَانَ النِّدَاءُ ےَوْمَ الْجُمُعَۃِ اَوَّلُہُ اِذَا جَلَسَ الْاِمَامُ عَلَی الْمِنْبَرِ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَاَبِیْ بَکْرٍ وَّعُمَرَ فَلَمَّا کَانَ عُثْمَانُ وَکَثُرَ النَّاسُ زَادَ النِّدَآءَ الثَّالِثَ عَلَی الزَّوْرَآئِ۔(صحیح البخاری)
اور حضرت سائب ابن یزید ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر و عمر ؓ کے زمانے میں جمعے کی پہلی اذان وہ ہوتی تھی جو امام کے منبر پر بیٹھنے کے بعد دی جاتی تھی مگر جب حضرت عثمان غنی ؓ خلیفہ ہوئے اور لوگوں کی کثرت ہوگئی تو تیسری اذان کا اضافہ کیا گیا جو وزراء میں دی جاتی تھی۔ (صحیح البخاری )
تشریح
رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک میں جمعے کی اذان کے سلسلے میں معمول یہ تھا کہ جب آپ نماز جمعہ کے لئے تشریف لاتے اور منبر پر بیٹھتے تو اذان کہی جاتی تھی۔ جمعہ کی پہلی اذان جو نماز کا وقت شروع ہوجانے کے بعد کہی جاتی ہے اس وقت مقرر نہیں تھی۔ زمانہء رسالت کے بعد حضرت ابوبکر صدیق و عمر ؓ کے زمانہ خلافت میں بھی یہی معمول رہا۔ مگر جب حضرت عثمان غنی خلیفہ ہوئے تو انہوں نے یہ دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کے مبارک زمانہ میں مسلمان تعداد میں کم تھے اور یہ کہ مسجد کے قریب ہی سکونت پذیر تھے بلکہ اکثر مسلمان تو ہمہ وقت بارگاہ رسالت ہی میں حاضر رہتے تھے اور اب نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کی تعداد بھی بہت بڑھ گئی ہے بلکہ اکثر مسلمان مسجد سے دور دراز علاقوں میں سکونت پذیر ہیں اور اپنے اپنے کاروبار میں مشغول رہتے ہیں تو انہوں نے یہ مناسب جانا کہ جب نماز کا وقت ہوجائے تو اذان کہی جائے تاکہ جو لوگ دور دراز علاقوں میں رہتے ہیں وہ بھی خطبے میں حاضر ہوجائیں۔ اسی طرح اسی وقت سے اذان اول کہی جانے لگی۔ لہٰذا تیسری اذان سے مراد یہی پہلی اذان ہے کہ حدیث میں اس کو تیسری اذان سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کیونکہ اگرچہ یہ اذان وقوع کے اعتبار سے اول ہے کہ سب سے پہلے کہی جاتی ہے مگر رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چونکہ مقرر شدہ دو اذانوں (یعنی ایک تو وہ اذان جو خطبے کے وقت کہی جاتی ہے اور دوسری تکبیر) کے بعد یہ اذان مقرر ہوئی ہے اس لئے اسے تیسری اذان کہا جاتا ہے۔ بہر حال وہ اذان جو نماز جمعہ کے لئے سب سے پہلی کہی جاتی ہے حضرت عثمان غنی ؓ نے مقرر کی ہے اور وہ بھی سنت ہے اسے بدعت نہیں کہا جائے گا کیونکہ حضرات خلفاء راشدین کا فعل اور ان کا مقرر کردہ طریقہ بھی سنت ہی میں شمار ہوتا ہے۔ اب تو غالباً کسی بھی جگہ طریقہ یہ رائج نہیں ہے مگر پہلے بعض مقامات پر یہ معمول تھا کہ سنتیں پڑھنے کے وقت مزید ایک اذان کہی جاتی تھی جو نہ تو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مقرر تھی اور نہ صحابہ اور تابعین کے دور میں مقرر ہوئی اور نہ اکثر مسلم ممالک وبلاد میں اس وقت یہ اذان کہی جاتی تھی نہ معلوم کس آدمی نے یہ بدعت جاری کی تھی۔ علماء نے لکھا ہے کہ نماز جمعہ کے لئے پہلی اذان ہوجانے کے بعد خریدو فروخت (یا کوئی بھی دنیاوی مشغولیت) حرام ہوجاتی ہے اور نماز جمعہ میں جلدی پہنچنے کے لئے اس کی تیاریوں اور اہتمام میں مشغول ہوجانا واجب ہوجاتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ دو خطبے پڑھتے تھے اور دونوں کے درمیان بیٹھتے تھے
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَص قَالَ کَانَتْ لِلنَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم خُطْبَتَانِ ےَجْلِسُ بَےْنَھُمَا ےَقْرَءُ الْقُرْآنَ وَےُذَکِّرُ النَّاسَ فَکَانَتْ صَلٰوتُہُ قَصْدًا وَّخُطْبَتُہُ قَصْدًا۔(مسلم)
اور حضرت جابر ابن سمرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دو خطبے پڑھا کرتے تھے اور دونوں (خطبوں) کے درمیان بیٹھتے تھے، ان خطبوں میں آپ قرآن کریم پڑھتے تھے اور لوگوں کو پند و نصیحت فرمایا کرتے تھے۔ نیز آپ ﷺ کی نماز بھی اوسط درجہ کی ہوتی تھی اور آپ کا خطبہ بھی اوسط درجے کا ہوتا تھا نہ بہت زیادہ طویل ہوتا تھا اور نہ بالکل ہی مختصر۔ (صحیح مسلم)
تشریح
آپ دونوں خطبوں کے درمیان اس قدر بیٹھا کرتے تھے کہ جسم مبارک کا ہر ہر عضو اپنی اپنی جگہ پر آجاتا تھا۔ چناچہ فقہاء نے دونوں خطبوں کے درمیان بیٹھنے کا صرف اتنا عرصہ مقرر کیا ہے کہ جس میں تین مرتبہ سبحان اللہ کہا جاسکے دونوں خطبوں کے درمیان بیٹھنا واجب نہیں ہے بلکہ سنت ہے۔ یہ بات بھی جان لینی چاہیے کہ صحیح طور پر یہ ثابت نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ دونوں خطبوں کے درمیان بیٹھ کر کوئی دعا پڑھتے تھے۔
مختصر مگر پر تایثر خطبہ خطیب کی دانائی کی علامت ہے
وَعَنْ عَمَّارٍص قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَقُوْلُ اِنَّ طُوْلَ صَلٰوۃِ الرَّجُلِ وَقَصْرَ خُطْبَتِہٖ مَئِنَّۃٌ مِّنْ فِقْھِہٖ فَاَطِےْلُوا الصَّلٰوۃَ وَاقْصُرُوا الْخُطْبَۃَ وَاِنَّ مِنَ الْبَےَانِ سِحْرًا۔(صحیح مسلم)
اور حضرت عمار ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لمبی نماز اور مختصر خطبہ پڑھنا آدمی کی دانائی کی علامت ہے۔ لہٰذا تم نماز کو طویل اور خطبہ کو مختصر کرو کیونکہ بعض بیان سحر (کی تایثر لئے ہوئے ہوتا) ہے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
خطبہ کی حالت میں لوگوں کی توجہ مخلوق (یعنی خطبہ پڑھنے والے) کی طرف ہوتی ہے جب کہ نماز کی حالت میں توجہ کا مرکز خالق (یعنی اللہ تعالیٰ ) کی ذات ہوتی ہے۔ چناچہ حدیث بالا بڑے ہی بلیغ انداز میں یہ بتانا چاہتی ہے کہ انسان کی سمجھ داری اور اس کی دانائی کا تقاضہ یہ ہونا چاہیے کہ اس حالت کو زیادہ دراز اور طویل کیا جائے جس میں بندے کی توجہ اپنے خالق کی طرف ہو اور اس حالت کو مختصر کیا جائے جس میں توجہ مخلوق کی طرف منعطف ہو رہی ہو۔ لیکن اتنی بات سمجھ لیجئے کہ یہاں نماز طویل کرنے سے مراد یہ ہے کہ نماز سنت کے موافق ہو۔ یعنی نماز پڑھنے کے سلسلے میں جو درجے رسول اللہ ﷺ سے منقول اور ثابت ہے نہ تو اس سے طویل ہو اور نہ اس سے مختصر ہی ہو۔ اس طرح اس حدیث میں اور اوپر والی حدیث میں مطابقت پیدا ہوجائے گی۔ و ان من البیان سحرا (کیونکہ بعض بیان سحر ہے) گویا یہ خطبے کو مختصر کرنے کے سلسلے میں دلیل بیان کی جا رہی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ خطبہ ایسا پڑھنا چاہیے جو قَلَّ وَ دَلَّ کا پورا پورا مصداق ہو۔ یعنی اس کے الفاظ مختصر ہوں مگر حقائق و معنی کے دریا اپنے اندر سموئے ہوئے ہو۔ کیونکہ جس طرح سحر کے مختصر ترین الفاظ میں بہت زیادہ تایثر ہوتی ہے اسی طرح اس بیان اور اس تقریر میں بھی جو الفاظ کے معنی کے اعتبار سے جامع و مانع ہو، ایک عظیم تایثر ہوتی ہے جس کی وجہ سے سامعین کے قلوب ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف مائل و منتقل ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا حدیث کے ان الفاظ میں بیان و تقریر کی تعریف بھی ہے اور مذمت بھی بایں طور کہ اگر کوئی بیان سا معین کے قلوب و دماغ کو برائی کی طرف سے نیکی کی طرف مائل کر دے تو وہ اچھا ہے اور جو بیان سامعین کے ذہن و فکر کو نیکی کے راستہ سے ہٹا کر برائی کے راستہ پر موڑ دینے والا ہو وہ برا ہے۔
خطبہ ارشاد فرماتے وقت رسول اللہ ﷺ کی کیفیت
وَعَنْ جَابِرٍص قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا خَطَبَ اِحْمَرَّتْ عَےْنَاہُ وَعَلَا صَوْتُہُ وَاشْتَدَّ غَضَبُہُ حَتّٰی کَاَنَّہُ مُنْذِرُ جَےْشٍ ےَقُوْلُ صَبَّحَکُمْ وَمَسّٰکُمْ وَےَقُوْلُ بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَھَاتَےْنِ وَےَقْرِنُ بَےْنَ اِصْبَعَیْہِ السَّبَابَۃِ وَالْوُسْطٰی۔ (صحیح مسلم)
اور حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب (جمعے کا یا کوئی) خطبہ ارشاد فرماتے تو آپ ﷺ کی آنکھیں سرخ ہوجاتیں اور آواز بلند ہوجاتی اور غصہ تیز ہوجاتا تھا یہاں تک کہ (ایسا محسوس ہوتا) گویا آپ لوگوں کو (دشمن کے لشکر سے) ڈرا رہے ہوں اور فرما رہے ہوں کہ صبح و شام میں تم پر (دشمن کا لشکر ڈاکہ ڈالنے والا ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ خطبے میں ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ مجھے اور قیامت کو اس طرح ساتھ ساتھ بھیجا گیا ہے یہ کہہ کر آپ اپنی دو انگلیوں یعنی شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی کو ملاتے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
انوار جلال کبریائی کی تجلی اور امت مرحومہ کی تقصیرات کے مشاہدے کی وجہ سے خطبے کے وقت آپ کی آنکھیں سرخ ہوجاتی تھیں اسی طرح اپنی امت کے غم و فکر کی وجہ سے یا یہ کہ سا معین کے کانوں تک اپنے الفاظ پہنچانے کے لئے آپ کی آوازبلند ہوتی تھیں تاکہ لوگوں کے قلوب متاثر ہوں۔ نیز اس وقت آپ کا غصہ امت کی اعتقادی و عملی بےراہ روی کے پیش نظر ہوجاتا تھا۔ بہر حال حاصل یہ ہے کہ جس طرح اپنی قوم اور اپنے لشکر کی غفلت شعاریوں اور کو تاہیوں کو دیکھ کر اس کو دشمن کے خطرناک ارادوں اور منصوبوں سے ڈرانے والا اپنی آواز کو بلند کرتا ہے۔ اس کی آنکھیں سرخ ہوجاتی ہیں اور غصہ تیز ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اپنی امت کی غفلت شعاریوں کی پیش نظر خطبے کے وقت رسول اللہ ﷺ کی یہ کیفیت و حالت ہوتی تھی۔ حدیث کی آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح بیچ کی انگلی شہادت کی انگلی سے تھوڑی سی بڑھی ہوئی ہے اسی طرح میں بھی قیامت سے بس تھوڑا ہی پہلے دنیا میں آیا ہوں، قیامت کے آنے کا وقت میری بعثت کے وقت سے متصل ہی ہے میرے بعد جلد ہی قیامت آنے والی ہے۔
خطبے میں رسول اللہ ﷺ قرآن کی آیتیں پڑھا کرتے تھے
وَعَنْ ےَّعْلَی بْنِ اُمَےَّۃَص قَالَ سََمِعْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَی الْمِنْبَرِ وَنَادَوْا ےَا مَالِکُ لِےَقْضِ عَلَےْنَا رَبُّکَ۔صحیح البخاری و صحیح مسلم
اور حضرت یعلی ابن امیہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر یہ (آیت) پڑھتے ہوئے سنا ہے ( يٰمٰلِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ ) 43۔ الزخرف 77) اے سردار! تو اپنے پروردگار سے کہہ کہ وہ ہمارا کام تمام کرے۔ (صحیح البخاری )
تشریح
اس آیت میں دوزخیوں اور دوزخ کے سردار کے سوال و جواب کا بیان ہے کہ دوزخی دوزخ کے عذاب کی شدت سے گھبرا کر سردار یعنی داروغہ دوزخ سے کہیں گے کہ اے سردار تم اپنے پروردگار سے عرض کرو کہ وہ ہمارا کام تمام کرے یعنی ہمیں موت دیدے تاکہ اس عذاب سے ہمیں چھٹکارا مل جائے اس کے آگے داروغہ دوزخ کا جواب بھی مذکورہ ہے وہ کہے گا کہ اِنَّکُمْ مَاکِثُوْنَ یعنی موت اور اس عذاب سے چھٹکارا کی تمہاری تمنائیں باطل اور بیکار ہیں تو تم ہمیشہ ہمیشہ اس آگ ہی میں جلتے اور اسی طرح عذاب میں مبتلا رہو گے۔ لہٰذا رسول اللہ ﷺ لوگوں کو دوزخ کے عذاب سے ڈرانے کے لئے یہ آیت پڑھا کرتے تھے۔
خطبے میں رسول اللہ ﷺ قرآن کی آیتیں پڑھا کرتے تھے
وَعَنْ اُمِّ ھِشَامٍ بِنْتِ حَارِثَۃَ بْنِ النُّعْمَانَ رضی اللہ عنہا قَالَتْ مَا اَخَذْتُ قۤ وَالْقُرْآنِ الْمَجِےْدِ اِلَّا عَنْ لِّسَانِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَقْرَأُھَا کُلَّ جُمُعَۃٍ عَلَی الْمِنْبَرِ اِذَا خَطَبَ النَّاسَ۔مسلم
حارثہ ابن نعمان کی بیٹی حضرت ام ہشام فرماتی ہیں کہ میں نے سورت ق والقران المجید رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے صرف اس طرح سیکھی ہے کہ آپ ہر جمعے منبر پر جب لوگوں کے سامنے خطبہ ارشاد فرماتے تو یہ سورت پڑھا کرتے تھے اور میں سن سن کر یاد کرلیتی تھی۔ (صحیح مسلم)
تشریح
چونکہ خطبہ میں یکبارگی رسول اللہ ﷺ سے پوری سورت کا پڑھنا ثابت نہیں ہے اس لئے اس حدیث کا مفہوم یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ہر جمعہ کے روز خطبہ میں اس سورت کے تھوڑے تھوڑے حصے تلاوت فرماتے ہوں گے۔ اسی طرح ام ہشام نے آپ ﷺ سے ہر جمعے میں تھوڑا تھوڑا سن کر پوری سورت یاد کرلی ہوگی۔ وا اللہ اعلم
عمامہ باندھ کر خطبہ پڑھنا
وَعَنْ عَمْرِوبْنِ حُرَےْثٍ ص اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم خَطَبَ وَعَلَےْہِ عِمَامَۃٌ سَوْدَآءُ قَدْ اَرْخٰی طَرَفَےْھَا بَےْنَ کَتِفَےْہِ ےَوْمَ الْجُمُعَۃِ۔ مسلم
اور حضرت عمرو ابن حریث فرماتے ہیں کہ سر تاج دو عالم ﷺ نے جمعے کی روز اس حال میں خطبہ ارشاد فرمایا ہے کہ آپ کے سر مبارک پر سیاہ عمامہ تھا جس کے دونوں کنارے آپ نے اپنے دونوں کندھوں کے درمیان چھوڑ رکھے تھے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
ایک ضعیف حدیث میں منقول ہے کہ عمامہ باندھ کر پڑھی گئی نماز ان ستر نمازوں سے بہتر ہے جو بغیر عمامہ پڑھی گئی ہوں بہر حال علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ حدیث بالا سے یہ مفہوم ثابت ہوتا ہے کہ جمعے کے روز زیبائش اختیار کرتا، اچھے اور عمدہ لباس زیب تن کرنا، سیادہ عمامہ باندھنا اور عمامہ کے دونوں کناروں کو دونوں کندھوں کے درمیان لٹکانا سنت ہے میرک شاہ کا قول اس حدیث کے بارے میں یہ ہے کہ جس خطبے کے بارے میں یہاں بتایا جا رہا ہے۔ یہ خطبہ آپ ﷺ نے مرض موت میں ارشاد فرمایا تھا۔ زیلعی کا کہنا ہے کہ سیاہ کپڑے کا استعمال کرنا سنت ہے۔ صاحب مدخل نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا عمامہ سات ہاتھ کا تھا۔ سیو طی نے ایسے صحابہ اور تابعین کا ذکر کیا ہے جو سیاہ عماہ باندھتے تھے ان میں انس ابن مالک، عمار ابن یاسر، معاویہ، ابودردا، براء، عبدالرحمن ابن عوف، واثلہ، سعید ابن مسیب، حسن بصری اور سعید ابن جبیر ؓ وغیرہ شامل ہیں۔ نووی (رح) نے لکھا ہے کہ عمامہ دونوں طریقوں سے باندھنا جائز ہے خواہ شملہ چھوڑا جائے یا نہ چھوڑا جائے۔ ان میں کسی طریقہ سے بھی مکروہ نہیں ہے۔
خطبہ کے وقت تحیۃ المسجد پڑھنے کا مسئلہ
وَعَنْ جَابِرٍص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَھُوَ ےَخْطُبُ اِذَا جَآءَ اَحَدُکُمْ ےَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَالْاِمَامُ ےَخْطُبُ فَلْےَرْکَعْ رَکْعَتَےْنِ وَلْےَتَجَوَّزْ فِےْھِمَا۔مسلم
اور حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے کہ جب تم میں سے کوئی آدمی جمعے کے روز (مسجد میں) آئے اور امام خطبہ پڑھ رہا ہو تو دو رکعتیں پڑھ لے مگر دونوں رکعتیں ہلکی (یعنی مختصر) پڑھے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
حضرت امام شافعی (رح) نے اس روایت کو تحیۃ المسجد پر محمول کیا ہے۔ ان کے نزدیک تحیۃ المسجد کی نماز واجب ہے اگرچہ امام خطبہ ہی کیوں نہ پڑھ رہا ہو۔ یہی مسلک امام احمد کا بھی ہے۔ یہ دونوں حضرات اس حدیث کو اپنی دلیل بناتے ہیں کہ تحیۃ المسجد واجب ہے جب ہی تو آپ ﷺ نے خطبہ کے دوران بھی اس کے پڑھنے کی تاکید فرمائی ہے۔ حنفیہ کے نزدیک تحیۃ المسجد جب کہ خطبے کے علاوہ دوسرے اوقات میں ہی واجب نہیں ہے تو خطبے کے دوران بطریق اولیٰ واجب نہیں ہوگی چناچہ حضرت امام مالک اور سفیان ثوری کا بھی یہی مسلک ہے۔ نیز جمہور صحابہ اور تابعین ان کے ہم نوا ہیں۔ ان حضرات کی طرف سے اس حدیث کی تاویل یہ کی جاتی ہے کہ یہاں خطبے سے مراد خطبے کا ارادہ ہے یعنی آپ ﷺ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ دو رکعتیں اس وقت بھی پڑھی جاسکتی ہیں جب کہ امام خطبے کے لئے اٹھ جائے اور خطبہ پڑھنے کا ارادہ کر رہا ہو نہ یہ کہ بالفعل خطبہ پڑھ ہی رہا ہو۔ اسی تاویل کی بنیاد وہ قرائن اور صحیح احادیث ہیں جن سے خطبہ کے وقت حرمت نماز ثابت ہوچکی ہے چناچہ رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ جب امام (خطبہ کے لئے) نکلے (یعنی خطبہ پڑھنے کے لئے منبر کی طرف چلے) تو اس وقت نہ بات چیت درست ہے اور نہ نماز ہی درست ہے نہ صرف یہ ارشاد نبوی ہے۔ بلکہ علی المرتضیٰ اور حضرت عمر ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ بھی امام کے نکلنے کے بعد کلام اور نماز دونوں کو مکروہ جانتے تھے۔ لہٰذا قول صحابہ بھی حجت ہے اور ہمارے نزدیک اس کی تقلید واجب ہے اگر سنت سے منقول کوئی چیز اس کے معارض نہ ہو۔ اور بخاری و مسلم میں حضرت جابر ؓ سے جو یہ روایت متعدد طرق سے منقول ہے کہ ایک آدمی مسجد میں اس وقت داخل ہوا جب کہ رسول اللہ ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو آپ ﷺ نے اس آدمی سے پوچھا کہ اے فلاں آدمی! تم نے (تحیۃ المسجد کی) نماز پڑھی ہے؟ اس نے عرض کیا ہم نہیں آپ نے اس سے فرمایا کہ دو رکعت، نماز پڑھ لو اور مختصر پڑھو تو اس کی تاویل یہ کی جاتی ہے کہ یہ واقعہ اس وقت کا تھا جب کہ خطبے کے وقت نماز کی ممانعت نہیں ہوئی تھی، یا یہ کہ اجازت صرف اسی آدمی کے لئے مخصوص تھی، بعض حضرات کی تحقیق تو یہ ہے کہ یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ کے خطبہ شروع کرنے سے پہلے پیش آیا تھا۔ حضرت شیخ ابن ہمام نے اس سلسلے میں جو بات فرمائی ہے وہ زیادہ مناسب ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں اور ان احادیث میں جن سے خطبے کے وقت نماز پڑھنے کی ممانعت ثابت ہوئی ہے کوئی معارضہ اور اختلاف ہی لازم نہیں آتا کیونکہ ہوسکتا ہے کہ جب یہ آدمی مسجد میں داخل ہوا اور آپ ﷺ نے اس سے نماز پڑھنے کے لئے فرمایا تو آپ نے خطبہ روک دیا ہوگا۔ جب وہ آدمی نماز سے فارغ ہوگیا ہوگا تب آپ ﷺ نے خطبہ مکمل فرمایا۔ حضرت ابن ہمام (رح) کی یہ بات محض قیاس اور تاویل کے درجے تک محدود نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ صورت حال یہی ہوئی تھی چناچہ دارقطنی کی روایت نے بالکل واضح الفاظ میں یہ صراحت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا کہ دو رکعت نماز پڑھو، پھر جب تک وہ آدمی نماز سے فارغ نہیں ہوا آپ ﷺ خاموش رہے (نماز سے فراغت کے بعد آپ نے پھر خطبہ مکمل فرمایا )
جس نے امام کے ساتھ ایک رکعت پائی اس نے پوری نماز پالی
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ اَدْرَکَ رَکْعَۃً مِنَ الصَّلٰوۃِ مَعَ الْاِمَامِ فَقَدْ اَدْرَکَ الصَّلٰوۃَ۔صحیح البخاری و صحیح مسلم
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس آدمی نے نماز کی ایک رکعت امام کے ساتھ پائی اس نے نماز پالی۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
یہ حکم عام طور پر تمام نمازوں کے لئے ہے جمعہ ہی کے لئے مخصوص نہیں چناچہ قسط نمبر ١٤ میں کتاب الصلوۃ کے باب ما علی الماموم میں تقریباً اسی مضمون کی یہ حدیث گذر چکی ہے کہ من ادرک رکعۃ فقدادرک الصلوۃ اس کی وضاحت وہاں بھی کی جا چکی ہے۔ لیکن اس حدیث کو جو یہاں نقل کی جا رہی ہے امام شافعی (رح) نے جمعے کی نماز کے ساتھ مخصوص و مقید کیا ہے اور اس کی بنیاد انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی اس روایت پر رکھی ہے جو اسی باب کے آخر میں آرہی ہے۔ فقہ حنفی کی مشہور کتاب ہدایہ میں لکھا ہے کہ جس آدمی کی نماز میں امام کے ساتھ نماز کا جو حصہ بھی ملے اسے امام کے ساتھ ادا کرے اور اس حصہ پر جمعہ کی بناء کر کے بقیہ نماز پوری کرلے اس کی دلیل یہ حدیث ہے کہ ماادرکتم فصلوا وما فاتکم فاقضوا یعنی نماز کا جو حصہ امام کے ساتھ پاؤ اسے ادا کرو اور جو کچھ رہ جائے اسے پورا کرو۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کوئی آدمی جمعہ کی نماز میں بالکل آخر میں اس حال میں شریک ہوا کہ امام التحیات میں تھا یا سجدہ سہو میں تھا تو اسے چاہیے کہ وہ اسی حالت میں جماعت میں شریک ہوجائے اور امام کے ساتھ اسے نماز جمعہ کا جو بھی حصہ ہاتھ لگا ہے اسی پر جمعہ کی بناء کر کے بقیہ نماز پوری کرلے حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام ابویوسف رحمہما اللہ کا بھی یہی مسلک ہے۔ البتہ امام محمد فرماتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی امام کے ساتھ جمعے کی دوسری رکعت کا اکثر حصہ پائے تو اسے اس حصے پر جمعے کی بناء کرنی چاہیے۔ لیکن جس آدمی کو دوسری رکعت کا اکثر حصہ نہ ملے تو اس پر جمعہ کی بناء نہ کرے بلکہ ظہر کی بناء کرے۔ دوسری رکعت کا اکثر حصہ پانے سے مراد دوسری رکعت کا رکوع پانا ہے۔ یعنی اگر کوئی آدمی دوسری رکعت کے رکوع میں بھی شریک ہوگیا تو اسے اکثر حصہ مل گیا اور اگر امام کے رکوع سے سر اٹھانے کے بعد وہ جماعت میں شریک ہوا تو اسے اکثر حصہ پانا نہیں کہیں گے۔ شیخ ابن ہمام نے فرمایا ہے کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام ابویوسف نے اپنے مذکورہ بالا مسلک کی بنیاد جس حدیث پر رکھی ہے وہ حدیث بھی مطلق ہے جمعہ کے ساتھ اس کی تخصیص نہیں ہے۔
رسول اللہ ﷺ کے خطبہ پڑھنے کا طریقہ
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم یَخْطُبُ خُطْبَتَیْنِ کَانَ یَجْلِسُ اِذَا صَعِدَ الْمِنْبَرَ حَتّٰی یَفْرَغُ اَرَاہُ الْمُؤَذِّنَ ثُمَّ یَقُوْمُ فَیَخْطِبُ ثُمَّ یَجْلِسُ وَلَا یَتَکَلَّمُ ثُمَّ یَقُوْمُ یَخْطُبُ۔ (رواہ ابوداؤد)
حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دو خطبے اس طرح پڑھا کرتے تھے ( کہ) جب آپ منبر پر چڑھتے تو (پہلے) بیٹھتے یہاں تک کہ فارغ ہوتا، راوی فرماتے ہیں کہ میرا گمان یہ ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ نے کہا تھا کہ یہاں تک کہ مؤذن فارغ ہوتا پھر آپ اٹھتے اور (پہلا خطبہ ارشاد فرماتے، پھر تھوڑی سی دیر) بیٹھتے (لیکن اس بیٹھنے کے درمیان) کوئی کلام نہ کرتے، پھر کھڑے ہوتے اور (دوسرا) خطبہ ارشاد فرماتے۔ (سنن ابوداؤد)
تشریح
حدیث کے الفاظ اذا صعد المنبر کے پیش نظر علماء نے کہا ہے کہ منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ پڑھنا مستحب ہے۔ دونوں خطبوں کے درمیان بیٹھنے کی مقدار کے بارے میں علامہ ابن حجر (رح) کا ارشاد ہے کہ اولی یہ ہے کہ سورت اخلاص پڑھنے کے بقدر بیٹھنا چاہیے کوئی کلام نہ کرتے کا مطلب یہ ہے کہ دونوں خطبوں کے درمیان بیٹھنے کے عرصے میں نہ تو آپ ﷺ دعا کرتے تھے اور نہ کچھ پڑھتے تھے۔ مسئلہ یہ ہے کہ دوسرے خطبہ میں رسول اللہ ﷺ کے آل و اصحاب و ازواج مطہرات خصوصا خلفاء راشدین اور حضرت حمزہ و عباس ؓ کے لئے دعا کرنا مستحب ہے، بادشاہ وقت کے لئے بھی دعا کرنا جائز ہے۔ لیکن شرح منیہ میں لکھا ہے کہ بادشاہوں کی ایسی تعریف کرنا جو غلط ہو اور ان کے ایسے اوصاف بیان کرنا جن سے وہ متصف نہ ہوں اشد مکروہ (یعنی مکروہ تحریمی) ہے کیونکہ اس طرح عبادت کے ساتھ گناہ یعنی جھوٹ کو ملانا لازم آتا ہے۔ اس مسئلہ کی شدت اس سے بخوبی واضح ہوتی ہے کہ ہمارے بعض ائمہ نے تو یہاں تک کہا ہے کہ ہمارے زمانے کے بادشاہوں کو عاد کہنا حدود کفر کے قریب ہوجاتا ہے۔ حدیث میں جو یہ بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ دونوں خطبوں کے درمیان کلام نہیں کرتے تھے تو اس کے بارے میں حضرت شیٰخ عبدالحق محدث دہلوی نے تو وہی تشریح کی ہے جو اوپر بیان کی گئی ہے۔ لیکن ملا علی قاری نے شرح طیبی سے نقل کیا ہے کہ دونوں خطبوں کے درمیان بیٹھتے تو کتاب اللہ کی آیتیں پڑھا کرتے تھے چناچہ بعض حضرات نے کہا ہے کہ اس عرصے میں سورت اخلاص پڑھنا مستحب ہے۔ بہر حال ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کے اس جملے کی فائدہ کے وقت حضرت شیخ عبدالحق (رح) کے سامنے یہ روایت نہیں ہوگی۔ وا اللہ اعلم۔
خطبے کے وقت نمازی خطیب کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھیں
وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا اسْتَوَی عَلَی الْمِنْبَرِ اسْتَقْبَلْنَاہُ بِوُجُوْھِنَا رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَقَالَ ھٰذَا حَدِیْثٌ لَا نَعْرِفُہ، اِلَّامِنْ حَدِیْثِ مُحَمَّدِ ابْنِ الْفَضْلِ وَھُوَ ضَعِیْفُ ذَاھِبِ الْحَدِیْثِ۔
اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ فرماتے کہ رسول اللہ ﷺ جب (خطبے کے وقت) منبر پر تشریف فرما ہوتے تو ہم اپنے منہ آپ ﷺ کی طرف متوجہ کرلیتے امام ترمذی (رح) نے یہ روایت نقل کی ہے اور کہا ہے کہ اس حدیث کو ہم بجز محمد ابن فضل کی سند کے اور کسی سند سے نہیں جانتے اور وہ ضعیف ہیں انہیں حدیث یاد نہیں رہتی تھی۔
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ لوگوں کے لئے یہ مستحب ہے کہ وہ خطبے کے وقت خطبہ سننے کے لئے اپنے منہ خطیب کی طرف کر کے بیٹھیں۔ اسی طرح خطیب بھی لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر خطبہ پڑھے۔ حنفیہ کے نزدیک مسئلہ یہ ہے کہ جب خطیب خطبے کے لئے منبر پر بیٹھے تو لوگوں کو سلام نہ کرے مگر حضرت امام شافعی و امام احمد (رح) نے اس سے اختلاف کیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَص قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم ےَخْطُبُ قَائِمًا ثُمَّ ےَجْلِسُ ثُمَّ ےَقُوْمُ فَےَخْطُبُ قَآئِمًا فَمَنْ نَبَّاَکَ اَنَّہُ کَانَ ےَخْطُبُ جَالِسًا فَقَدْ کَذَبَ فَقَدْ وَاللّٰہِ صَلَّےْتُ مَعَہُ اَکْثَرَ مِنْ اَلْفَیْ صَلٰوۃٍ۔مسلم
حضرت جابر ابن سمرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو کر (پہلا) خطبہ ارشاد فرماتے پھر بیٹھتے، پھر (دوسرا) خطبہ (بھی) کھڑے ہو کر ارشاد فرماتے لہٰذا تم سے اگر کوئی آدمی یہ کہے کہ رسول اللہ ﷺ بیٹھ کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے تو بلا شبہ وہ آدمی جھوٹا ہے اللہ کی قسم! میں نے رسول اللہ ﷺ کی ہمراہ دو ہزار سے زیادہ نمازیں پڑھی ہیں۔ (صحیح مسلم)
تشریح
دو ہزار سے زائد نمازوں سے صرف جمعے کی نمازیں مراد نہیں ہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ جمعے اور جمعے کے علاوہ دوسری دوہزار سے زائد نمازیں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ پڑھی ہیں۔ کیونکہ آپ ﷺ نے سب سے پہلا جمعہ مدینہ میں آکر پڑھا ہے اور مدینہ میں آپ کی کل مدت اقامت دس سال تھی لہٰذا اس طرح آپ ﷺ کی حیات میں تمام جمعوں کی تعداد پانچ سو سے زائد نہیں ہوتی بہرحال حضرت جابر ؓ کا مقصد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ معیت ورفاقت کی کثرت بیان کرنا ہے۔ شرح منیہ میں یہ مسئلہ لکھا ہوا ہے کہ جو شہر جنگ و جدل سے اور بذریعہ تلوار فتح ہوا ہو جیسا کہ مکہ فتح ہوا تھا تو وہاں خطیب تلوار کے ساتھ خطبہ پڑھے اور جس شہر کے باشندے بخوشی حلقہ بگوش اسلام ہوجائیں جیسے مدینہ تو وہاں بغیر تلوار کے خطبہ پڑھنا چاہیے۔ بنا بیع میں لکھا ہے کہ دوسرا خطبہ پہلے خطبہ کی بہ نسبت کم آواز سے پڑھنا چاہیے۔