Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح

All 6,294 hadiths in order · Page 215 of 315

4281Mishkaat-al-Masabihصحیح

مشروبات کا بیان

وَعَن كبْشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَرِبَ مِنْ فِي قِرْبَةٍ مُعَلَّقَةٍ قَائِمًا فَقُمْتُ إِلَى فِيهَا فَقَطَعْتُهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غريبٌ صَحِيح

کبشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو آپ نے لٹکے ہوئے مشکیزے سے کھڑے ہو کر پانی پیا ، میں نے اس (مشکیزے) کے منہ کی طرف توجہ رکھی اور میں نے اس (مشکیزے کے منہ) کو کاٹ لیا ۔ ترمذی ، ابن ماجہ ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔

4282Mishkaat-al-Masabihضعیف

مشروبات کا بیان

وَعَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ أَحَبُّ الشَّرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحُلْوَ الْبَارِدَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: وَالصَّحِيحُ مَا رُوِيَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا

امام زہری نے عروہ کی سند سے عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ کو ٹھنڈا شیریں مشروب زیادہ پسند تھا ۔ ترمذی اور انہوں نے کہا : صحیح وہ ہے جو زہری کی سند سے نبی ﷺ سے مرسل روایت کیا گیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

4283Mishkaat-al-Masabihضعیف

مشروبات کا بیان

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَأَطْعِمْنَا خَيْرًا مِنْهُ. وَإِذَا سُقِيَ لَبَنًا فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُ فَإِنَّهُ لَيْسَ شَيْء يجزى مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ إِلَّا اللَّبَنُ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو وہ یوں دعا کرے :’’ اے اللہ ! اس میں برکت عطا فرما ، اور ہمیں اس سے بہتر کھلا ۔‘‘ اور جب دودھ پیئے تو یوں دعا کرے :’’ اے اللہ اس میں برکت عطا فرما اور ہمیں اس سے زیادہ عطا فرما ۔‘‘ کیونکہ دودھ کے سوا کوئی ایسی چیز نہیں جو کھانے سے کفایت کرے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

4284Mishkaat-al-Masabihصحیح

مشروبات کا بیان

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْتَعْذَبُ لَهُ الْمَاءُ مِنَ السُّقْيَا. قِيلَ: هِيَ عَيْنٌ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْمَدِينَةِ يَوْمَانِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، نبی ﷺ کے لیے سقیا سے آبِ شیریں لایا جاتا تھا ، مشہور ہے کہ وہ مدینہ سے دو روز کی مسافت پر ایک چشمہ ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

4285Mishkaat-al-Masabihضعیف

مشروبات کا بیان

عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ شَرِبَ فِي إِنَاءِ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ أَوْ إِنَاءٍ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ فَإِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جهنمَ» . رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيّ

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص سونے یا چاندی کے برتن میں ، یا کسی ایسے برتن میں ، جس میں اس (سونے یا چاندی) میں سے کچھ ہو تو وہ شخص اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ ہی انڈیلتا ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الدارقطنی ۔

4286Mishkaat-al-Masabihصحیح

نقیع اور نبیذ کا بیان

عَن أنسٍ قَالَ: لَقَدْ سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحِي هَذَا الشَّرَابَ كُلَّهُ: الْعَسَلَ والنَّبيذَ والماءَ وَاللَّبن. رَوَاهُ مُسلم

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے اپنے اس پیالے میں رسول اللہ ﷺ کو ہر قسم کا مشروب پلایا ، شہد ، نبیذ ، پانی اور دودھ ۔ رواہ مسلم ۔

4287Mishkaat-al-Masabihصحیح

نقیع اور نبیذ کا بیان

وَعَن عائشةَ قَالَتْ: كُنَّا نَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَاءٍ يُوكَأُ أَعْلَاهُ وَلَهُ عَزْلَاءُ نَنْبِذُهُ غُدْوَةً فَيَشْرَبُهُ عِشَاءً وَنَنْبِذُهُ عِشَاءً فيشربُه غُدوةً. رَوَاهُ مُسلم

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ہم رسول اللہ ﷺ کے لیے ایک مشکیزے میں نبیذ تیار کیا کرتی تھیں ، جسے اوپر سے باندھ دیا جاتا تھا ، اور اس کے نیچے بھی منہ تھا ، ہم صبح نبیذ تیار کرتیں تو آپ اسے شام کو نوش فرما لیتے اور ہم شام کو تیار کرتیں تو آپ اسے صبح کو نوش فرما لیتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔

4288Mishkaat-al-Masabihصحیح

نقیع اور نبیذ کا بیان

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْبَذُ لَهُ أَوَّلَ اللَّيْلِ فَيَشْرَبُهُ إِذَا أَصْبَحَ يَوْمَهُ ذَلِكَ وَاللَّيْلَةَ الَّتِي تَجِيءُ وَالْغَدَ وَاللَّيْلَةَ الْأُخْرَى وَالْغَدَ إِلَى الْعَصْرِ فَإِنْ بَقِيَ شَيْءٌ سَقَاهُ الْخَادِمَ أَوْ أَمَرَ بهِ فصُبَّ. رَوَاهُ مُسلم

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے لیے رات کے پہلے حصے میں نبیذ تیار کی جاتی ، جب اس دن صبح ہوتی تو آپ اسے نوش فرماتے اور رات کو بھی پیتے ، اگلے دن اور اگلی رات بھی نوش فرماتے اور اگلے روز عصر تک نوش فرما لیتے ، اگر کچھ بچ جاتی آپ اسے خادم کو پلا دیتے یا پھر آپ کے حکم پر اسے انڈیل دیا جاتا ۔ رواہ مسلم ۔

4289Mishkaat-al-Masabihصحیح

نقیع اور نبیذ کا بیان

وَعَن جابرٍ قَالَ: كَانَ يُنْبَذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَائِهِ فَإِذَا لَمْ يَجِدُوا سِقَاءً يُنْبَذُ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ. رَوَاهُ مُسلم

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے لیے مشکیزے میں نبیذ تیار کی جاتی تھی ، اگر وہ مشکیزہ نہ پاتے تو پھر آپ کے لیے پتھر کے برتن میں نبیذ تیار کی جاتی تھی ۔ رواہ مسلم ۔

4290Mishkaat-al-Masabihصحیح

نقیع اور نبیذ کا بیان

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نهى عَن الدُّبَّاء والحنتم والمرفت وَالنَّقِيرِ وَأَمَرَ أَنْ يُنْبَذَ فِي أَسْقِيَةِ الْأَدَمِ. رَوَاهُ مُسلم

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کدو کے بنائے ہوئے برتن ، سبز گھڑے ، روغن کیے ہوئے برتن اور لکڑی سے کریدے ہوئے برتن میں نبیذ تیار کرنے سے منع فرمایا ، اور آپ ﷺ نے چمڑے کے مشکیزوں میں نبیذ تیار کرنے کا حکم فرمایا ۔ رواہ مسلم ۔

4291Mishkaat-al-Masabihصحیح

نقیع اور نبیذ کا بیان

وَعَن بُرَيْدَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «نَهَيْتُكُمْ عَنِ الظُّرُوفِ فَإِنَّ ظَرْفًا لَا يُحِلُّ شَيْئًا وَلَا يُحَرِّمُهُ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ» . وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: «نَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَشْرِبَةِ إِلَّا فِي ظُرُوفِ الْأَدَمِ فَاشْرَبُوا فِي كُلِّ وِعَاءٍ غَيْرَ أَنْ لَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے تمہیں (مذکورہ) ظروف (میں نبیذ تیار کرنے) سے منع کیا تھا ، کوئی ظرف (برتن نہ تو) کسی چیز کو حلال کرتا ہے اور نہ اسے حرام کرتا ہے ، ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔‘‘\nایک دوسری روایت میں ہے ، فرمایا :’’ میں نے چمڑے کے برتنوں کے علاوہ دیگر برتنوں میں مشروبات (رکھنے ، پینے) سے تمہیں منع کیا تھا ، تم تمام برتنوں میں پیو ، مگر نشہ آور چیزیں مت پیو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔\n

4292Mishkaat-al-Masabihصحیح

نقیع اور نبیذ کا بیان

عَن أبي مَالك الْأَشْعَرِيّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَيَشْرَبَنَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ

ابومالک اشعری ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ میری امت کے کچھ لوگ شراب کا کوئی اور نام رکھ کر شراب نوشی کریں گے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

4293Mishkaat-al-Masabihصحیح

نقیع اور نبیذ کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ الْأَخْضَرِ قُلْتُ: أَنَشْرَبُ فِي الأبيضِ؟ قَالَ: «لَا» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

عبداللہ بن ابی اوفی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے سبز گھڑے کی نبیذ سے منع فرمایا تو میں نے عرض کیا ، کیا ہم سفید میں پی لیا کریں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

4294Mishkaat-al-Masabihصحیح

برتنوں اور دیگر چیزوں کو ڈھانپنے وغیرہ کا بیان

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَانَ جِنْحُ اللَّيْلِ أَوْ أَمْسَيْتُمْ فَكُفُّوا صِبْيَانَكُمْ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْتَشِرُ حِينَئِذٍ فَإِذَا ذَهَبَ سَاعَةً مِنَ اللَّيْلِ فَخَلَّوهُمْ وَأَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ بَابًا مُغْلَقًا وَأَوْكُوا قِرَبَكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ وَخَمِّرُوا آنِيَتَكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ وَلَوْ أنْ تعرِضوا عَلَيْهِ شَيْئا وأطفئوا مصابيحكم»

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب سورج غروب ہو جائے یا جب تم شام کرو تو اپنے بچوں کو روک لیا کرو ، کیونکہ اس وقت شیطان پھیل جاتے ہیں ، لیکن جب رات کی ایک گھڑی گزر جائے تو ان (بچوں) کو چھوڑ دو اور دروازے بند کر لو اور اللہ کا نام لو ، کیونکہ شیطان بند دروازہ نہیں کھولتا ، اپنے مشکیزے بند رکھو ، ان پر اللہ کا نام لو ، اپنے برتن ڈھانپ کر رکھو ان پر اللہ کا نام لو ، خواہ کوئی معمولی چیز ہی ان پر رکھو اور اپنے چراغ بجھا دیا کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔

4295Mishkaat-al-Masabihصحیح

برتنوں اور دیگر چیزوں کو ڈھانپنے وغیرہ کا بیان

وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ: قَالَ: «خَمِّرُوا الْآنِيَةَ وَأَوْكُوا الْأَسْقِيَةَ وَأَجِيفُوا الْأَبْوَابَ وَاكْفِتُوا صِبْيَانَكُمْ عِنْدَ الْمَسَاءِ فَإِن للجن انتشارا أَو خطْفَة وَأَطْفِئُوا الْمَصَابِيحَ عِنْدَ الرُّقَادِ فَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ رُبَّمَا اجْتَرَّتْ الفتيلة فأحرقت أهل الْبَيْت»

اور بخاری کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ برتن ڈھانپو ، مشکیزوں کو باندھو ، دروازے بند رکھو اور شام کے وقت اپنے بچوں کو اکٹھا کر لو کیونکہ (اس وقت) جن پھیل جاتے ہیں ، اور اچک لیتے ہیں اور سوتے وقت چراغ گل کر دیا کرو کیونکہ بسا اوقات چوہیا چراغ کی بتی کھینچ کر لے جاتی ہے اور گھر والوں کو جلا ڈالتی ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

4296Mishkaat-al-Masabihصحیح

برتنوں اور دیگر چیزوں کو ڈھانپنے وغیرہ کا بیان

وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ: «غَطُّوا الْإِنَاءَ وَأَوْكُوا السِّقَاءَ وَأَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ وَأَطْفِئُوا السِّرَاجَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَحُلُّ سِقَاءً وَلَا يَفْتَحُ بَابًا وَلَا يَكْشِفُ إِنَاءً فَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا أنْ يعرضَ على إِنائِه عوداً ويذكرَ اسمَ اللَّهَ فَلْيَفْعَلْ فَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْت بَيتهمْ»

اور مسلم کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ برتن ڈھانپو ، مشکیزوں کے منہ باندھو ، دروازے بند رکھو ، چراغ گل کر دو ، کیونکہ شیطان مشکیزے کا منہ نہیں کھولتا اور نہ بند دروازے کھولتا ہے اور نہ ہی کسی برتن سے ڈھکنا اٹھاتا ہے ، اور اگر تم میں سے کوئی لکڑی کے سوا کوئی چیز نہ پائے تو وہ اسے ہی عرض کے بل اس پر رکھ دے اور اللہ کا نام لے ، وہ ایسے ضرور کرے ، کیونکہ چوہیا گھر کو اہل خانہ سمیت جلا دیتی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

4297Mishkaat-al-Masabihصحیح

برتنوں اور دیگر چیزوں کو ڈھانپنے وغیرہ کا بیان

وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: قَالَ: «لَا تُرْسِلُوا فَوَاشِيكُمْ وَصِبْيَانَكُمْ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَبْعَثُ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ حَتَّى تذْهب فَحْمَة الْعشَاء»

اور مسلم ہی کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ جب سورج غروب ہو جائے تو رات کی ابتدائی تاریکی غائب ہو جانے تک اپنے مویشی اور اپنے بچے نہ چھوڑو ، کیونکہ اس وقت شیطان چھوڑے جاتے ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

4298Mishkaat-al-Masabihصحیح

برتنوں اور دیگر چیزوں کو ڈھانپنے وغیرہ کا بیان

وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: قَالَ: «غَطُّوا الْإِنَاءَ وَأَوْكُوا السِّقَاءَ فَإِنَّ فِي السَّنَةِ لَيْلَةً يَنْزِلُ فِيهَا وَبَاءٌ لَا يَمُرُّ بِإِنَاءٍ لَيْسَ عَلَيْهِ غِطَاءٌ أَوْ سِقَاءٌ لَيْسَ عَلَيْهِ وِكَاءٌ إِلَّا نَزَلَ فِيهِ من ذَلِك الوباء»

اور مسلم ہی کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ برتن ڈھانپو ، مشکیزوں کے منہ باندھو ، کیونکہ سال میں ایک ایسی رات ہے جس میں وبا پھیلتی ہے ، اور وہ وبا جب ایسے برتن سے گزرتی ہے جس پر ڈھکنا نہ ہو یا کسی ایسے مشکیزے سے گزرتی ہے جس کا منہ بند نہ ہو تو وہ اس میں داخل ہو جاتی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

4299Mishkaat-al-Masabihصحیح

برتنوں اور دیگر چیزوں کو ڈھانپنے وغیرہ کا بیان

وَعَنْهُ قَالَ: جَاءَ أَبُو حُمَيْدٍ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنَ النَّقِيعِ بِإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَّا خَمَّرْتَهُ وَلَوْ أنْ تعرِضَ عليهِ عوداً»

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ابوحمید انصاری ؓ نقیع سے دودھ کا برتن لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے اسے ڈھانپا کیوں نہیں ، خواہ تم عرض کے بل اس پر ایک لکڑی رکھ لیتے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

4300Mishkaat-al-Masabihصحیح

برتنوں اور دیگر چیزوں کو ڈھانپنے وغیرہ کا بیان

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَتْرُكُوا النَّارَ فِي بُيُوتِكُمْ حِينَ تنامون»

ابن عمر ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم سوتے وقت اپنے گھروں میں آگ (کو جلتے ہوئے) مت چھوڑو ۔‘‘ متفق علیہ ۔