Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح
All 6,333 hadiths in order · Page 187 of 317
جہاد میں معمولی درجہ کی شرکت بھی دنیا کی تمام چیزوں سے بہتر
وعن سهل بن سعد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : رباط يوم في سبيل الله خير من الدنيا وما عليها (2/363) 3792 - [ 6 ] ( متفق عليه ) وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لغدوة في سبيل الله أو روحة خير من الدنيا وما فيها
اور حضرت سہل ابن سعد کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ کی راہ میں ایک دن کی چوکیداری دنیا سے اور دنیا کی چیزوں سے بہتر ہے۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
یا تو یہ مطلب ہے کہ جہاد میں ایک دن کی لئے بھی چوکیداری جیسی معمولی خدمت کو انجام دینا اس مال سے بہتر ہے جو اللہ کے نام پر خرچ کیا جائے، یا یہ مطلب ہے کہ جہاد میں محض ایک دن کی چوکیداری کے عوض جو اجر ملے گا وہ دنیا کی چیزوں سے کہیں زیادہ بہتر اور افضل ہے۔ اور حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ایک صبح کے لئے ایک شام کے لئے اللہ کی راہ میں شرکت جہاد کی غرض سے) دنیا کی چیزوں سے بہتر ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص محض ایک صبح کے لئے ایک شام کے لئے بھی جہاد میں شریک ہوا تو اس پر اس کو جو اجر ملے گا اور اس کی جو فضیلت حاصل ہوگی وہ دنیا کی تمام نعمتوں سے بہتر ہے کیونکہ دنیا کی تمام نعمتیں فنا ہوجانے والی ہیں اور آخرت کی نعمت باقی رہنے والی ہے۔
جہاد میں ایک دن اور ایک رات کی چوکیداری ایک مہینے کے روزے اور سب بیداری سے بہتر ہے
وعن سلمان الفارسي قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : رباط يوم وليلة في سبيل الله خير من صيام شهر وقيامه وإن مات جرى عليه عمله الذي كان يعمله وأجري عليه رزقه وأمن الفتان . رواه مسلم
اور حضرت سلمان فارسی کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جہاد میں ایک دن اور ایک رات کی چوکیداری کی خدمت انجام دینا ایک مہینے کے روزے اور شب بیداری سے بہتر ہے اور اگر وہ چوکیدار (اس خدمت کی انجام دہی کے دوران) مرجائے تو اس کے اس عمل کا ثواب کہ جس پر وہ (اپنی زندگی میں) عامل تھا جاری رہتا ہے (یعنی اپنی زندگی میں وہ جس نیک عمل پر عامل تھا اس کا ثواب اس کے مرنے کے بعد بھی پہنچتا رہے گا) اور اس کے لئے (جنت کے طعام و شراب سے اس کا رزق کردیا جاتا ہے اور وہ شیطان یا دجال کے مکروفریب اور قبر میں عذاب کے فرشتے کے) فتنے سے محفوظ رہتا ہے۔ ( مسلم)
جہاد میں شرکت، دوزخ سے محفوظ رکھنے کی ضامن ہے
وعن أبي عبس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما اغبرت قدما عبد في سبيل الله فتمسه النار . رواه البخاري
اور حضرت ابوعبس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس بندے کے پاؤں اللہ کی راہ (یعنی جہاد میں) گرد آلود ہوجاتے ہیں تو پھر اس کو (دوزخ کی آگ نہیں چھوتی۔ (بخاری)
تشریح
یہ ارشاد گرامی دراصل راہ جہاد میں سعی ومشقت کے اظہار کا کنایۃ پیرایہ بیان ہے اس بات کو زیادہ سے زیادہ بیان کرتا ہے کہ جب جہاد کے راستے میں محض قدموں کا گرد آلود ہوجانا دوزخ کی آگ سے حفاظت کا ضامن ہے تو نفس جہاد کے ثواب اور اس شخص کی فضیلت کا کیا اندازہ لگایا جاسکتا ہے جو راہ جہاد کی مشقتیں برداشت کرتا ہوا میدان جنگ میں پہنچے اور جہاد میں شریک ہو۔
کافر کو مارنے والے مجاہد کے بارے میں ایک خاص بشارت
وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا يجتمع كافر وقاتله في النار أبدا . رواه مسلم
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کافر اور اس کو مارنے والا (مسلمان) کبھی بھی دوزخ میں ایک جا نہیں ہوسکتا۔ (مسلم)
تشریح
اس حدیث میں بطور خاص اس مسلمان کے لئے بشارت ہے جو جہاد میں کسی کافر کو مارے کہ وہ (مسلمان) ہرگز دوزخ میں نہیں جائے گا۔ اور حقیقت میں یہ ارشاد گرامی جہاد کی فضیلت کو ظاہر کرتا ہے جو مسلمان جہاد میں شریک ہوگا وہ غالبًا کسی کافر کو مارے گا اور جب کافر کو مارے گا تو وہ دوزخ سے محفوظ رہے گا اگرچہ اس کی جزاء بھی جنت ہے جو جہاد میں شریک ہوا اور اس میں پوری جدوجہد کرے لیکن کسی کافر کو قتل نہ کرسکے۔
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من خير معاش الناس لهم رجل ممسك عنان فرسه في سبيل الله يطير على متنه كلما سمع هيعة أو فزعة طار عليه يبتغي القتل والموت مظانه أو رجل في غنيمة في رأس شعفة من هذه الشعف أو بطن واد من هذه الأودية يقيم الصلاة ويؤتي الزكاة ويعبد الله حتى يأتيه اليقين ليس من الناس إلا في خير . رواه مسلم
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا انسانی زندگی میں بہترین زندگی اس شخص کی ہے جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی باگ پکڑ لے اور جب کسی کی خوفزدہ آواز یا کسی کے فریاد کرنے کی آواز سنے تو عجلت کے ساتھ گھوڑے کی پشت پر سوار ہوجائے اور (اس خوفزدہ یا فریاد رس کی آواز کی طرف دوڑتا ہوا چلا جائے اور اپنی موت کو یا اس جگہ کو تلاش کرتا پھرے جہاں موت کا گمان ہو (یعنی جب وہ کسی کی خوفزدہ چیخ و پکار یا فریاد و مدد چاہنے والے کی آواز سنے تو عجلت کے ساتھ چل پڑے اور اس آواز کو تلاش کرتا پھرے تاکہ موقع پر پہنچ کر فریاد کرنے والے کی مدد کرے اور اس بات سے نہ ڈرے کہ کہیں میری جان پر نہ بن جائے اور مجھے اپنی سی زندگی سے ہاتھ نہ دھونا پڑے یا بہترین زندگی اس شخص کی ہے جو کچھ بکریوں کے ساتھ ان پہاڑوں میں سے کسی ایک پہاڑ کی چوٹی پر یا ان وادیوں میں سے کسی ایک وادی میں اقامت گزین ہے اور نماز پڑہتا ہے اور اگر وہ بکریاں حدنصاب کو پہنچتی ہیں تو ان کی زکوٰۃ ادا کرتا ہے اور پروردگار کی عبادت و بندگی میں مشغول رہتا ہے یہاں تک کہ اس کی موت آجائے اور یہ شخص انسانوں کا شریک نہیں ہے بلکہ صرف بھلائی کے درمیان زندگی بسر کرتا ہے۔ (مسلم)
تشریح
حدیث کے آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ ایسا شخص دنیا والوں سے الگ تھلگ رہ کر ان کی برائیوں اور ان کے فتنہ و شر سے اپنے آپ کو محفوظ رکھتا ہے اور اپنے فتنہ وشر سے دنیا والوں کو بچاتا ہے۔ اس حدیث کا حاصل دراصل دشمنان دین کے مقابلہ پر جہاد اپنے نفس و شیطان سے مجاہدہ اور دنیا کی فانی لذتوں اور نفس کی باطل خواہشات وشہوات سے اجتناب کی طرف راغب کرتا ہے نیز اس بات کی آگاہی دیتا ہے کہ اگر دین کی تائید اور شریعت کی تقویت کے لئے لوگوں کے درمیان رہن سہن اختیار کرے تو بہتر ہے ورنہ (اگر دنیا والوں کے درمیان رہنے سہنے سے دین و شریعت کو نقصان پہنچنے اور ایمان کے کمزور ہوجانے کا خوف ہو) تو گوشہ عافیت اختیار کرے۔
گوشہ گزینی افضل ہے یا مخالطت ؟
امام نووی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ان لوگوں کے مسلک کی دلیل ہے جو مخالطت (یعنی دنیا والوں کے درمیان رہن سہن پر گوشہ گزینی کو فضیلت دیتے ہیں۔ چناچہ اس سلسلہ میں مشہور اختلافی اقوال یہ ہیں کہ حضرت امام شافعی اور اکثر علماء کے نزدیک اختلاط (یعنی دنیا والوں کے درمیان رہنا سہنا) افضل ہے بشرطیکہ (دین میں) فتنہ فساد سے محفوظ ومامون رہنے کی امید ہو جب کہ زاہد ان طریقت کی ایک جماعت کا مسلک یہ ہے کہ دنیا والوں سے کنارہ کشی کر کے گوشہ گزینی اختیار کرنا افضل ہے۔ انہوں نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے لیکن جمہور علماء یہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث یا تو فتنوں سے بھرپور زمانہ پر محمول ہے۔ یا اس کے علاوہ اس کا تعلق اس شخص سے ہے جو لوگوں کی ایذاء پر صبر نہ کرسکتا ہو یا لوگ خود اس کی وجہ سے سلامت نہ رہتے ہوں پھر ان کی سب سے بڑی دلیل یہ کہ انبیاء صلوات اللہ علیہم اکثر صحابہ کرام، تابعین عظام، علماء ومشائخ اور زاہد ان کی طریقت کا معمول یہی رہا ہے کہ انہوں نے دنیا سے کنارہ کشی اور گوشہ نشینی سے احتراز کر کے اسی دنیا میں اور اسی دنیا والوں کے درمیان رہن سہن کو اختیار کیا اور اس کے ذریعہ وہ بہت سارے دینی فوائد حاصل کرتے رہے جو گوشہ گزینی کی صورت میں ناممکن الحصول تھے جیسے نماز جمعہ و جماعت نماز جنازہ اور عیادت مریض وغیرہ وغیرہ۔
مجاہد کا سامان تیار کرنے والے اور مجاہد کے اہل وعیال کی نگہبانی کرنے والے کی فضیلت
وعن زيد بن خالد أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من جهز غازيا في سبيل الله فقد غزا ومن خلف غازيا في أهله فقد غزا
اور حضرت زید ابن خالد کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جس شخص نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کا سامان درست کیا اس نے (گویا) جہاد (ہی) کیا (یعنی وہ بھی جہاد کرنے والوں کے حکم میں داخل ہے اور جہاد کے ثواب میں شریک ہے) اور جو شخص کسی غازی و مجاہد کا اس کے اہل و عیال کے لئے نائب و خلیفہ بنا (یعنی جو شخص کسی غازی و مجاہد کے جہاد میں چلے جانے کے بعد اس کے اہل و عیال کا خدمت گزار ہوا اور نگہبان بنا اس نے بھی گویا جہاد ہی کیا۔ ( بخاری ومسلم )
مجاہدین کی عورتوں کے احترام کا حکم
وعن بريدة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : حرمة نساء المجاهدين على القاعدين كحرمة أمهاتهم وما من رجل من القاعدين يخلف رجلا من المجاهدين في أهله فيخونه فيهم إلا وقف له يوم القيامة فيأخذ من عمله ما شاء فما ظنكم ؟ . رواه مسلم
اور حضرت بریدہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا مجاہدین کی عورتوں کی عزت و حرمت (گھروں میں) بیٹھنے والوں (یعنی جہاد کے لئے نہ جانے والوں) پر اسی طرح لازم ہے جس طرح کہ ان کی ماؤں کی عزت و حرمت ان پر لازم ہے (یعنی جو لوگ کسی وجہ سے جہاد پر نہیں جاسکتے ہیں اور اپنے اپنے گھروں میں رہ گئے ہیں ان کو چاہئے کہ جو لوگ جہاد میں گئے ہوں ان مسلمانوں کی عورتوں کی عزت وآبرو میں خیانت نہ کریں اور ان کی طرف نظر بد نہ دیکھیں بلکہ ان کو اپنے حق میں ایسا حرام جانیں گویا وہ ان کی مائیں ہیں) لہٰذا اس کے اہل و عیال (یعنی اس کی بیوی اور لونڈیوں یا دوسرے قرابتوں) کے لئے نائب و خلیفہ بنا یعنی ان کا نگران بنا اور پھر اس نے اس (مجاہد) کے اہل و عیال (کی عزت وآبرو) میں خیانت کی تو اس کو قیامت کے دن اس مجاہد کے سامنے کھڑا کیا جائے گا اور مجاہد اس کے (نیک) اعمال میں سے جس قدر چاہے گا لے لے گا ایسی حالت میں تمہارا کیا خیال ہے؟ (مسلم)
تشریح
ایسی حالت میں تمہارا کیا خیال ہے؟ کا مطلب یہ ہے کہ کیا تم یہ خیال کرسکتے ہو کہ ایسی حالت میں وہ مجاہد قیامت کے دن اس شخص کی نیکیوں کو لے لینے میں کم راغب ہوگا؟ نہیں، بلکہ وہ اس کے پاس کچھ بھی نہیں چھوڑے گا اور اس کی تمام ہی نیکیاں لے لے گا یا اس شخص نے اس مجاہد کے حق میں خیانت کی ہے اس کو دیکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ کیا وہ خیانت کرنے والے کے نیکیوں کی صورت میں مجاہد کو جو عوض و بدلہ دے گا اس میں تمہیں کوئی شک ہے؟ اگر تمہیں کوئی شک نہیں ہے اور تم یہ یقین رکھتے ہو کہ میں نے جو کچھ کہا ہے وہ قطعی سچ ہے تو پھر تم پر لازم ہے کہ تم مجاہدین کی عورتوں کی عزت وآبرو میں خیانت کرنے سے احتراز نہ کرو مبادا اس کی وجہ سے تمہیں آخرت میں اپنی ساری نیکیوں سے ہاتھ دھونا پڑجائے۔ یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے مجاہد کو جو یہ مرتبہ عظیم عطا فرمایا ہے اور اس کو اس فضیلت کے ساتھ جو مخصوص کیا ہے تو تمہارا کیا خیال ہے کہ اس مجاہد کو بس یہی مرتبہ ملے گا؟ نہیں بلکہ اس مرتبہ اور اس مخصوص فضیلت کے ساتھ جو مخصوص کیا ہے تو تمہارا کیا خیال ہے کہ اس مجاہد کو بس یہی مرتبہ ملے گا؟ نہیں بلکہ اس مرتبہ اور اس مخصوص فضیلت کے علاوہ بھی اس کو اور بہت عظمتیں اور بزرگیاں ملیں گی اور اس سے بھی بڑے بڑے درجات اس کو نصیب ہوں گے۔
جہاد میں مالی مدد کرنے کی فضیلت
وعن أبي مسعود الأنصاري قال : جاء رجل بناقة مخطومة فقال : هذه في سبيل الله فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لك بها يوم القيامة سبعمائة ناقة كلها مخطومة . رواه مسلم
اور حضرت ابومسعود انصاری کہتے ہیں کہ (دربار نبوت میں) ایک شخص نکیل پکڑی ہوئی اونٹنی لے کر حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اللہ کی راہ کے لئے ہے یعنی میں اس اونٹنی کو اللہ کی رضا کے لئے جہاد میں پیش کرتا ہوں رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ (میں تمہاری اس پیشکش کو بہ تحسین قبول کرتا ہوں اور تمہیں یہ بشارت دیتا ہوں کہ (اس کے بدلے میں قیامت کے دن تمہیں سات سو اونٹنیاں ملیں گی اور سب کے نکیل پڑی ہوگی (مسلم )
مجاہد کے گھر بار کی نگہبانی کرنے کی فضیلت
وعن أبي سعيد : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم بعث بعثا إلى بني لحيان من هذيل فقال : لينبعث من كل رجلين أحدهما والأجر بينهما . رواه مسلم
اور حضرت ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے قبیلہ ہذیل کی ایک شاخ بنولحیان کے مقابلہ پر جہاد (کے لئے) ایک لشکر روانہ کرنے کا ارادہ کیا تو حکم دیا کہ دو شخصوں میں ایک جہاد میں جانے کے لئے نکلے (یعنی ہر قبیلے میں سے آدھے آدمی جہاد میں جائیں اور آدھے آدمی رہ جائیں تاکہ وہ جہاد میں جانے والوں کے اہل و عیال کی خبر گیری کریں) اور جہاد کا ثواب دونوں کو برابر ملے گا۔ (مسلم)
تشریح
اس ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ جو لوگ جہاد میں جائیں گے ان کو تو جہاد کا ثواب ملے گا لیکن جو لوگ اپنے گھروں پر رہ کر مجاہدین کے گھر بار کی نگرانی اور ان کے اہل و عیال کی پرورش ودیکھ بھال کریں گے۔ تو ان کو بھی مجاہدین جیسا ثواب ملے گا۔
ہمیشہ امت محمدی کی کوئی نہ کوئی جماعت برسر جہاد رہے گی
وعن جابر بن سمرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لن يبرح هذا الدين قائما يقاتل عليه عصابة من المسلمين حتى تقوم الساعة . رواه مسلم
اور حضرت جابر ابن سمرہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا اور مسلمانوں میں سے ایک نہ ایک جماعت اس دین کی حفاظت کے لئے قیامت (قائم ہونے کے قریب) تک لڑتی رہے گی (یعنی روئے جہاد سے خالی نہیں رہے گی کہیں نہ کہیں اور کسی نہ کسی صورت میں ہمیشہ جہاد ہوتا رہے گا۔ (مسلم)
تشریح
طیبی کہتے ہیں کہ یہ عبارت (یقاتل علیہ) الخ جملہ مستانفہ ہے جس کا مقصد پہلی عبارت کی وضاحت کرنا ہے اس طرح حاصل یہ ہوگا کہ یہ دین اسی سبب سے قائم رہے گا کہ مسلمانوں میں سے کوئی نہ کوئی جماعت قوم ہمیشہ دین کے دشمنوں سے لڑتی رہے گی اور اللہ کے باغیوں کا دعوی سرنگوں کرتی رہے گی۔
خدا کی راہ میں زخمی ہونے والا مجاہد قیامت کے دن اسی حال میں اٹھے گا
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يكلم أحد في سبيل الله والله أعلم بمن يكلم في سبيله إلا جاء يوم القيامة وجرحه يثعب دما اللون لون الدم والريح ريح المسك
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ کی راہ میں (یعنی جہاد) میں زخمی کیا جاتا ہے اور اللہ اس شخص کو خوب جانتا ہے جو اس کی راہ میں زخمی کیا جاتا ہے تو وہ مجاہد قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ اس کے زخم سے خون بہتا ہوگا اور اس خون کا رنگ خون کے رنگ کا سا ہوگا اور اس کی بو مشک کی خوشبو کی طرح ہوگی۔ ( بخاری ومسلم)
وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من أحد يدخل الجنة يحب أن يرجع إلى الدنيا وله ما في الأرض من شيء إلا الشهيد يتمنى أن يرجع إلى الدنيا فيقتل عشر مرات لما يرى من الكرامة
اور حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جنت میں داخل ہونے والا کوئی شخص بھی یہ پسند نہیں کرے گا کہ وہ دنیا میں واپس جائے اور (جنت کی نعمتوں کے عوض دنیا کی تمام) چیزوں کو قبول کرے مگر شہید یہ آرزو کرتا ہے کہ وہ دنیا میں واپس جائے اور دس بار اللہ کی راہ میں شہید ہو کیونکہ وہ شہادت کی عظمت اور اس کے ثواب کو جانتا ہے۔ ( بخاری ومسلم )
شہداء کی حیات بعد الموت کے بارے میں آیت کریمہ کی تفسیر
وعن مسروق قال : سألنا عبد الله بن مسعود عن هذه الآية : ( ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا بل أحياء عند ربهم يرزقون ) الآية قال : إنا قد سألنا عن ذلك فقال : أرواحهم في أجواف طير خضر لها قناديل معلقة بالعرش تسرح من الجنة حيث شاءت ثم تأوي إلى تلك القناديل فاطلع إليهم ربهم اطلاعة فقال : هل تشتهون شيئا ؟ قالوا : أي شيء نشتهي ونحن نسرح من الجنة حيث شئنا ففعل ذلك بهم ثلاث مرات فلما رأوا أنهم لن يتركوا من أن يسألوا قالوا : يا رب نريد أن ترد أرواحنا في أجسادنا حتى نقتل في سبيلك مرة أخرى فلما رأى أن ليس لهم حاجة تركوا . رواه مسلم
اور حضرت مسروق (تابعی) کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ اس آیت کریمہ کی تفسیر پوچھی۔ (وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا بَلْ اَحْيَا ءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ يُرْزَقُوْنَ ) 3۔ آل عمران 169) جو لوگ اللہ کی راہ میں جہاد میں مارے گئے ہیں ان کو تم مردہ خیال نہ کرو بلکہ وہ اپنے پروردگار کے پاس زندہ ہیں اور ان کو رزق دیا جاتا ہے ہے الخ۔ تو انہوں نے کہا کہ ہم نے رسول کریم ﷺ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ نے فرمایا کہ (ان شہداء) کی روحیں سبز رنگ کے پرندوں کے قلب میں ہیں ان کے (رہنے) کے لئے عرش الہٰی کے نیچے (بمنزلہ گھونسلوں) کے قندیلیں لٹکائی گئی ہیں وہ (روحیں) بہشت میں سے جہاں سے ان کا جی چاہتا ہے میوے کھاتی ہیں پھر ان قندیلوں میں جا کر بسیرا کرتی ہیں تب پروردگار ان (شہدا) کی طرف جھانکتا ہے فرماتا ہے کہ کیا تم کو کسی چیز کی خواہش ہے؟ وہ عرض کرتے ہیں کہ ہم کس چیز کی خواہش کریں درآنحالیکہ ہم بہشت میں سے جہاں سے ہمارا جی چاہتا ہے میوے کھاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ تین مرتبہ یہی معاملہ کرتا ہے (یعنی تین بار ان سے یہی سوال کرتا ہے) اور جب وہ دیکھتے ہیں کہ ہمیں پوچھے جانے والے سے چھوڑا نہیں جائے گا (یعنی جب وہ یہ جانتے ہیں کہ پروردگار کی مراد یہ ہے کہ ہم کسی خواہش کا اظہار کریں) تو وہ عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ہماری بس یہی خواہش ہے تو ہماری روحوں کو ہمارے جسموں میں واپس کر دے (اور ہمیں دنیا میں واپس بھیج دے) تاکہ ہم ایک بار اور تیری راہ میں مارے جائیں ) جب اللہ تعالیٰ یہ دیکھتا ہے کہ ان کی کوئی (متعین) خواہش و حاجت نہیں ہے (کیونکہ انہوں نے جس خواہش کا اظہار کیا ہے اس کو پورا کرنا اللہ کے ارادہ اور مصلحت کے خلاف ہے دوسرے یہ کہ ان کو پہلی ہی بار میں جو عظیم ثواب اور عظیم اجر ملا ہے اور اسی وجہ سے ان کی کوئی حاجت و خواہش نہیں ہے اگر وہ دوبارہ دنیا میں بھیج دیئے جائیں تو وہی اجر و انعام انہیں دوبارہ ملے گا اور اس کی انہیں حاجت ہی نہیں ہے کیونکہ شہید کا اجر وثواب ایک ہی ہے جو انہیں حاصل ہے) تو ان کو چھوڑ دیا جاتا ہے (یعنی اللہ تعالیٰ ان سے پوچھنا چھوڑ دیتا ہے۔ (مسلم )
تشریح
کسی کے ذہین میں اعتراض پیدا ہوسکتا ہے کہ ترجمہ میں بین القوسین عبارت کے مطابق اگر دوسری بار میں بھی پہلی ہی بار جیسا ثواب ملے تو پھر ان شہداء کی خواہش کا کیا فائدہ کہ ہماری روحوں کو ہمارے جسموں واپس کر کے دنیا میں بھیج دیا جائے تاکہ ہم دوبارہ اللہ کی راہ میں مارے جائیں۔ علماء نے اس کا جواب لکھا ہے کہ اس خواہش کے اظہار سے اس کی مراد حقیقت میں اپنی روحوں کو جسموں میں واپس کئے جانے کی درخواست کرنا نہیں ہے بلکہ ان کا مقصود اللہ تعالیٰ کے ان انعامات واکرامات کا شکر ادا کرنا ہے جس سے ان کو نوازا گیا گویا اپنی اس خواہش کے ذریعے وہ یہ واضح کرتے ہیں کہ اے اللہ! تو نے ہمیں اپنی جو نعمتیں عطا کی ہیں اور ہمیں جن عظیم درجات سے نوازا ہے اور ان کی وجہ سے ہم پر جو تیرا شکر ادا کرنا واجب ہے اس کا تقاضا یہی ہے کہ ہم ایک مرتبہ پھر دنیا میں واپس جائیں اور تیری راہ میں اپنی جان قربان کردیں۔ یا پھر وہ اپنی خواہش کا اظہار اپنے گمان کے مطابق کرتے ہوں کہ ہم چونکہ دوسری مرتبہ میں اور زیادہ مستعدی ہمت اور جان نثاری کے فزوں تر جذبے کے ساتھ اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کریں گے اس لئے کیا عجب کہ دوسری مرتبہ میں ہمیں اور زیادہ بہتر اور کامل تر جزا ملے لیکن نظام قدرت اور جاری معمول چونکہ اس کے خلاف ہے اور حق تعالیٰ کے علم میں یہ بات ہے کہ ان کو دوسری مرتبہ میں وہی اجر ملے گا جو پہلی مرتبہ مل چکا ہے اور اس کی انہیں حاجت نہیں ہے تو ان سے پوچھنا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ تنبیہ علماء نے یہ لکھا ہے کہ شہداء کی ارواح کو پرندوں کے قالب میں رکھنا ان ارواح کی عزت و توقیر اور تکریم کی بنا پر ہے جیسا کہ جواہرات کو ان کی حفاظت و احتیاط کے لئے صندوق میں رکھا جاتا ہے اور ساتھ ہی یہ مقصد ہوتا ہے کہ ان ارواح کو ان کے دنیاوی جسم کے بغیر اس صورت (یعنی پرندوں کے قلب میں جنت میں داخل کیا جائے، چناچہ وہ ارواح ان پرندوں کے قالب میں جنت کے مرغزاروں میں سیر کرتی ہیں، وہاں کی فضاؤں میں گھومتی ہیں جنت کی پاکیزہ ترین خوشبوؤں اور کیف آور ہواؤں سے لطف اندوز ہوتی ہیں، وہاں کے انوار و برکات کا مشاہدہ کرتی ہیں، وہاں کی نعمتوں اور لذتوں سے بہرہ اندوز ہوتی ہیں اور ان کو صرف ان ہی چیزوں کے ذریعہ ہمہ وقت کی خوش طبعی و آسودہ خاطری حاصل نہیں ہوتی بلکہ حق جل مجدہ کے مقرب ملائکہ کے قرب و جوار کی عظیم ترین سعادت بھی میسر ہوتی ہے جو بجائے خود سب سے بڑی نعمت اور فرحت و انبساط کا سبب ہے چناچہ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی یہی مراد ہے کہ (یرزقون فرحین بما اتہم اللہ من فضلہ )۔ وہ رزق دئیے جاتے ہیں اور جو کچھ اللہ نے ان کو اپنے فضل سے بخش رکھا ہے اس میں خوش ہیں۔ اس موقع پر یہ بات بطور خاص ملحوظ رہنی چاہئے کہ اس حدیث سے تناسخ (آواگون) کا نظریہ ثابت نہیں ہوتا کیونکہ جو لوگ تناسخ کے قائل ہیں ان کے نزدیک تناسخ اس کو کہتے ہیں کہ اس عالم میں روح کا کسی قالب وبدن میں لوٹنا گویا ان کے نزدیک کسی قالب وبدن میں روح کے لوٹنے کا نظریہ آخرت سے متعلق نہیں ہے اور یہ یوں بھی ممکن نہیں ہے کہ ان کے نزدیک آخرت کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ بلکہ وہ آخرت کے منکر ہیں۔ ایک بات اور اس حدیث سے یہ مسئلہ ثابت ہوتا ہے کہ جنت مخلوق ہے اور موجود ہے۔ جیسا کہ اہل سنت والجماعت کا مسل کہ ہے۔
جہاد، حقوق العباد کے علاوہ تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے
عن أبي قتادة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قام فيهم فذكر لهم أن الجهاد في سبيل الله والإيمان بالله أفضل الأعمال فقام رجل فقال : يا رسول الله أرأيت إن قتلت في سبيل الله يكفر عني خطاياي ؟ فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : نعم إن قتلت في سبيل الله وأنت صابر محتسب مقبل غير مدبر . ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : كيف قلت ؟ فقال : أرأيت إن قتلت في سبيل الله أيكفر عني خطاياي ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : نعم وأنت صابر محتسب مقبل غير مدبر إلا الدين فإن جبريل قال لي ذلك . رواه مسلم (2/366) 3806 - [ 20 ] ( صحيح ) وعن عبد الله بن عمرو بن العاص أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : القتل في سبيل الله يكفر كل شيء إلا الدين . رواه مسلم
اور ابوقتادہ کہتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ نے صحابہ کے سامنے خطبہ ارشاد فرمایا اور (اس خطبہ میں ان کو آگاہ کیا کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا اور اللہ پر ایمان لانا سب سے بہتر اعمال ہیں۔ (یہ سن کر) ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجھے یہ بتایئے کہ اگر میں اللہ کی راہ میں مارا جاؤں تو کیا میرے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے؟ رسول کریم ﷺ نے اس سے فرمایا کہ ہاں بشرطیکہ تم اللہ کی راہ میں اس حال میں مارے گئے کہ تم (سختیوں پر) صبر کرنے والے ہو، ثواب کے طالب ہو اور پیٹھ دکھا کر بھاگنے والے نہیں ہو بلکہ دشمن کے مقابلے پر جمے رہنے والے ہو۔ پھر رسول کریم ﷺ نے ان سے پوچھا کہ تم نے کیا کہا تھا؟ اس نے عرض کیا کہ مجھے یہ بتائیں کہ اگر میں اللہ کی راہ میں مارا جاؤں تو کیا میرے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے؟ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہاں! بشرطیکہ تم صبر کرنے والے ہو، ثواب کے طالب ہو اور پیٹھ دکھا کر بھاگنے والے نہ ہو بلکہ دشمن کے مقابلے میں جمنے والے ہو مگر دین (یعنی وہ قرض معاف نہیں ہوگا جس کی ادائیگی کی نیت ہی نہ ہو ) اور مجھ سے جبرائیل (علیہ السلام) نے یہی فرمایا ہے۔ (مسلم)
تشریح
ایمان کا سب سے بہتر عمل ہونا تو ظاہر ہی ہے اس لئے کسی توضیح و تشریح کی ضرورت نہیں ہے۔ رہی بات تو اس عمل (یعنی جہاد) کو اس اعتبار سے سب سے بہتر عمل فرمایا گیا ہے کہ تمام نیک اعمال میں یہی ایک عمل ایسا ہے جس کے ذریعہ اعلاء کلمۃ اللہ (اللہ کے دین کو سربلند کرنے) کا فریضہ سر انجام پاتا ہے، اللہ کے باغیوں اور دین کے دشمنوں کی بیخ کنی ہوتی ہے، جان ومال کی قربانی پیش کی جاتی ہے اور مختلف قسم کی تکلیفیں مشقتیں اور پریشانیاں برداشت کرنا پڑتی ہیں گویا یہ اعمال اللہ کے حضور میں اور اس کی راہ میں بندے کے جذبہ عبودیت اور بندگی اور کمال ایثار و قربانی کا سب سے بڑا مظہر ہوتا ہے اور جو دوسری احادیث میں نماز کو سب سے بہتر عمل فرمایا گیا ہے تو وہ اس اعتبار سے ہے کہ نماز ہی ایک ایسا عمل ہے جس میں مداومت وہمیشگی ہے اور جو ایک عمل ہونے کے باوجود عبادات کثیرہ پر مشتمل ہے۔ مگر دین کے بارے میں علامہ تورپشتی لکھتے ہیں کہ یہاں دین سے مراد مسلمانوں کے حقوق ہیں لہٰذا اس ارشاد گرامی کا حاصل یہ ہے کہ جہاد سے حقوق العباد کے علاوہ تمام گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں۔ اور حضرت عبداللہ بن عمرو ابن العاص سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ اللہ کی راہ (یعنی جہاد میں) مارا جانا دین (حقوق العباد) کے علاوہ تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے (مسلم ) تشریح علامہ سیوطی نے لکھا ہے کہ بحری جہاز (پانی میں لڑی جانے والی جنگ) کے شہداء اس حکم سے مستثنیٰ ہیں یعنی ان کے ذمے جو حقوق العباد ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو معاف کردیتا ہے۔
وہ قاتل ومقتول جو جنت میں جائیں گے
وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : يضحك الله تعالى إلى رجلين يقتل أحدهما الآخر يدخلان الجنة : يقاتل هذا في سبيل الله فيقتل ثم يتوب الله على القاتل فيستشهد
اور حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ان دو شخصوں پر ہنستا ہے (یعنی ان سے ایک تو وہ ہے جو جنت میں داخل ہوتا ہے) پھر اللہ تعالیٰ اس کے قاتل کو توبہ کی توفیق عطا کرتا ہے (اور وہ کفر سے تائب ہو کر ایمان لے آتا ہے) اور پھر اللہ کی راہ میں جہاد کر کے شہید ہوجاتا ہے (لہٰذا اس کو بھی جنت میں داخل کیا جاتا ہے۔ (مسلم )
شہادت کی طلب صادق کی فضیلت
وعن سهل بن حنيف قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من سأل الله الشهادة بصدق بلغه الله منازل الشهداء وإن مات على فراشه . رواه مسلم
اور حضرت سہل ابن حنیف کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص سچے دل (یعنی طلب صادق کے جذبے سے) اللہ تعالیٰ سے شہادت کا طالب ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے شہیدوں کے درجہ پر پہنچاتا ہے اگرچہ وہ اپنے بستر پر مرے (یعنی صدق نیت اور طلب صادق کی وجہ سے شہیدوں جیسا ثواب پاتا ہے۔ (مسلم )
شہداء کا مسکن فردوس اعلی ہے
وعن أنس أن الربيع بنت البراء وهي أم حارثة بن سراقة أتت النبي صلى الله عليه و سلم فقالت : يا رسول الله ألا تحدثني عن حارثة وكان قتل يوم بدر أصابه سهم غرب فإن كان في الجنة صبرت وإن كان غير ذلك اجتهدت عليه في البكاء فقال : يا أم حارثة إنها جنان في الجنة وإن ابنك أصاب الفردوس الأعلى . رواه البخاري
اور حضرت انس کہتے ہیں کہ (میری پھوپھی) حضرت ربیع بنت براء جو حضرت حارثہ بن سراقہ کی ماں ہیں (ایک دن) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں کہ (یا نبی اللہ! کیا آپ مجھ سے میرے بیٹے کا حال بیان نہیں کریں گے اور حارثہ بدر کے دن (یعنی جنگ بدر میں) شہید ہوگئے اور ان کو ایسا تیر لگا تھا جس کا چلانے والا معلوم نہ ہو کہ کون تھا اگر وہ جنت میں ہو تو میں صبر کروں اور اگر وہ کسی اور جگہ ہو تو میں رونے کی کوشش کروں ( یعنی خوب رؤوں جیسا کہ عورتوں کی عادت ہے ) آنحضرت ﷺ نے فرمایا حارثہ کی ماں! حقیقت یہ ہے کہ جنت میں بہت سے باغ ہیں اور تمہارا بیٹا فردوس اعلی میں پہنچا ہوا ہے (جو جنت کا سب سے اعلی درجہ ہے )۔ (بخاری)
وعنه قال : انطلق رسول الله صلى الله عليه و سلم وأصحابه حتى سبقوا المشركين إلى بدر وجاء المشركون فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قوموا إلى جنة عرضها السماوات والأرض . قال عمير بن الحمام : بخ بخ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما يحملك على قولك : بخ بخ ؟ قال : لا والله يا رسول الله إلا رجاء أن أكون من أهلها قال : فإنك من أهلها قال : فأخرج تمرات من قرنه فجعل يأكل منهن ثم قال : لئن أنا حييت حتى آكل تمراتي إنها الحياة طويلة قال : فرمى بما كان معه من التمر ثم قاتلهم حتى قتل . رواه مسلم
اور حضرت انس کہتے ہیں کہ (غزوہ بدر کے موقع پر) رسول کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ (مدینہ) روانہ ہوئے اور مشرکوں سے پہلے بدر (کے میدان جنگ) میں پہنچ گئے پھر (جب اسلامی مجاہدین کے پہنچنے کے بعد) مشرکین کا لشکر آیا اور (مقابلہ کی تیاری شروع ہوئی) تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جنت کے راستے پر کھڑے ہوجاؤ، وہ جنت جس کا عرض زمین و آسمان کے عرض کے برابر ہے (ایک صحابی) حضرت عمیر ابن حمام انصاری نے (یہ ارشاد سن کر کہا کہ خوب! خوب! رسول اللہ ﷺ نے پوچھا تم نے خوب خوب کیوں کہا؟ عمیر نے کہا کہ یا رسول اللہ! میں نے یہ الفاظ (اظہار تعجب یا کسی اور مطلب سے نہیں کہے بلکہ (درحقیقت ان الفاظ کے ذریعہ اپنی اس آرزو کا اظہار کیا ہے کہ میں بھی جنتی بنوں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اس میں کوئی شک نہیں تم بھی جنتی ہو۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمیر نے سرکار دو عالم ﷺ کی زبان مبارک سے یہ بشارت سن کر اپنے ترکش سے کچھ کھجوریں نکالیں اور ان کو کھانا شروع کیا اور پھر کہنے لگے کہ اگر میں ان (ساری کھجوروں کو کھانے تک زندہ رہا تو زندگی طویل ہوگی چناچہ انہوں نے ان کھجوروں کو جو ان کے پاس تھیں پھینک دیا اور کفار سے لڑنے لگے یہاں تک کہ شہید ہوگئے۔ (مسلم)
تشریح
جنت کے راستے پر کھڑے ہوجاؤ کا مطلب یہ ہے کہ اس عمل کی راہ کو اختیار کرو جو جنت میں لے جانے کا باعث ہے۔ اور وہ جہاد ہے۔ جس کا عرض زمین و آسمان کے عرض کے برابر ہے اس ارشاد کے ذریعہ درحقیقت جنت کی وسعت و کشادگی کو بیان کرنا ہے چناچہ اس مقصد کے لئے ایسی چیز (یعنی زمین و آسمان کے درمیانی فاصلے) کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جس سے زیادہ وسیع و عریض چیز انسان کے فہم میں اور کوئی نہیں آسکتی، نیز اس ارشاد میں صرف عرض کو ذکر کیا گیا ہے طول کو بیان نہیں کیا گیا تاکہ انسانی فہم خود اندازہ کرلے کہ جس چیز کا عرض اتنا ہے اس کے طول کا کیا حال ہوگا۔ تم نے خوب خوب کیوں کہا گویا آنحضرت ﷺ نے یہ خیال فرمایا کہ عمیر نے جو یہ الفاظ کہے ہیں وہ بغیر کسی نیت و ارادہ کے اور بغیر سوچے سمجھے ان کی زبان سے ادا ہوئے ہیں جیسا کہ اس قسم کے الفاظ یا تو اس شخص کی زبان سے صادر ہوتے ہیں جو کسی کی کسی بات پر اپنے ہزل و مزاح اور استہزاء کا اظہار کرتا ہے۔ یا اپنے قتل کے خوف میں مبتلا ہوتا ہے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ نے جب عمیر سے ان الفاظ کی وضاحت طلب کی تو انہوں نے ان دونوں باتوں سے انکار کیا اور اللہ کی قسم کھا کر اپنا اصل مطلب بیان کیا۔ تو زندگی طویل ہوگی۔ سے حضرت عمیر کی مراد یہ تھی کہ اگر میں ساری کھجوریں کھانے کا انتظار کروں اور جب تک جیوں تو زندگی طویل ہوجائے گی۔ جب کہ آرزو یہ ہے کہ اب ایک منٹ گنوائے بغیر اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر دوں اور شہادت کا مرتبہ حاصل کر کے جنت کی راہ پکڑ لوں۔ گویا انہوں نے حصول شہادت کی شوق کی وجہ سے اپنی زندگی کو اور کفار سے نبرد آزمائی میں تاخیر کو اپنے حق میں وبال جانا۔
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما تعدون الشهيد فيكم ؟ قالوا : يا رسول الله من قتل في سبيل الله فهو شهيد قال : إن شهداء أمتي إذا لقليل : من قتل في سبيل الله فهو شهيد ومن مات في سبيل الله فهو شهيد ومن مات في الطاعون فهو شهيد ومن مات في البطن فهو شهيد . رواه مسلم
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے (صحابہ) سے پوچھا کہ تم اپنے آپ میں سے کس کو شہید شمار کرتے ہو؟ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! جو شخص اللہ کی راہ میں مارا جائے وہ شہید ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا اس صورت میں میری امت کے اندر شہیدوں کی تعداد کم ہوجائے گی جو شخص اللہ کی راہ میں مارا جائے وہ تو (حقیقی شہید ہے) لیکن جو شخص اللہ کی راہ (یعنی جہاد) میں (بغیر قتل و قتال کے خود اپنی موت سے ) مرجائے وہ بھی شہید ہے جو شخص وباء میں مرے وہ بھی شہید ہے اور جو شخص پیٹ کی بیماری (یعنی استسقاء اور اسہال وغیرہ) میں مرے وہ بھی شہید ہے یعنی یہ سب بھی حقیقی شہداء کے درجات وثواب میں ہیں نہ یہ کہ ان کے جمیع احکام ہیں۔ (مسلم )