اپنے بچہ کا انکار کرنیوالا اللہ تعالیٰ کے دیدار سے محروم رہے گا
عن أبي هريرة أنه سمع النبي صلى الله عليه و سلم يقول لما نزلت آية الملاعنة : أيما امرأة أدخلت على قوم من ليس منهم فليست من الله في شيء ولن يدخلها الله جنته وأيما رجل جحد ولده وهو ينظر إليه احتجب الله منه وفضحه على رؤوس الخلائق في الأولين والآخرين . رواه أبو داود والنسائي والدارمي
اور حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ انہوں نے لعان کی آیت نازل ہونے کے موقع پر رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو عورت کسی کو اس قوم میں داخل کرے جس میں سے وہ نہیں ہے (یعنی کسی عورت نے بدکاری کرائی اور پھر اس بدکاری کے نتیجہ میں بچہ کو جنم دیا اور اس بچہ کو اپنے خاوند کی طرف منسوب کردیا) تو وہ اللہ کے نزدیک کسی درجہ میں نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ اس کو اپنے مقرب اور نیک بندوں کے ساتھ ہرگز اپنی جنت میں داخل نہیں کرے گا اور جو شخص اپنے بچہ کا انکار کرے یعنی اس کی بیوی نے جس بچہ کو جنم دیا ہے اس کے بارے میں کہے کہ میرا نہیں ہے درآنحالیکہ وہ اس کی طرف دیکھتا ہے یعنی وہ جانتا ہے کہ بچہ میرا ہی ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے پردہ کرے گا یعنی اس کو اللہ کا دیدار نصیب نہیں ہوگا اور اللہ تعالیٰ اس کو تمام اگلے و پچھلے لوگوں میں رسوا کرے گا یعنی جب میدان حشر میں تمام اگلی پچھلی مخلوق جمع ہوگی تو ان کے درمیان اس کو ذلیل و رسوا کرے گا ( ابوداؤد نسائی درامی)
تشریح
حدیث کا حاصل یہ ہے کہ نہ تو عورت کو چاہئے کہ وہ بدکاری کرائے اور اپنے حرامی بچہ کو اپنے خاوند کی طرف منسوب کرے اور نہ مرد کو چاہئے کہ دیدہ دانستہ اپنے بچہ کا انکار کرے اور اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے۔
بد کار بیوی کو طلاق دے دینا اولیٰ ہے
وعن ابن عباس قال : جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : إن لي امرأة لا ترد يد لامس فقال النبي صلى الله عليه و سلم : طلقها قال : إني أحبها قال : فأمسكها إذا . رواه أبو داود والنسائي وقال النسائي : رفعه أحد الرواة إلى ابن عباس وأحدهم لم يرفعه قال : وهذا الحديث ليس بثابت
اور حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک شخص نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ میری بیوی کسی چھونے والے ہاتھ کو جھٹکتی نہیں (یعنی جو بھی شخص اس سے بدکاری کا ارادہ کرتا ہے اس کو وہ انکار نہیں کرتی) نبی کریم ﷺ نے فرمایا اسے طلاق دیدو اس نے عرض کیا یہ ممکن نہیں کیونکہ میں اس سے بہت محبت کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا تو پھر اس کی نگہبانی کرو تاکہ وہ بدکاری میں مبتلا نہ ہو سکے) ابوداؤد نسائی اور نسائی نے کہا ہے کہ اس روایت کے راویوں میں سے ایک راوی نے تو اس کو حضرت ابن عباس تک پہنچایا ہے اور وصل کیا ہے اور ایک راوی نے اس کو ابن عباس تک نہیں پہنچایا ہے اور وصل نہیں کیا ہے نیز نسائی نے کہا ہے کہ یہ حدیث ثابت نہیں ہے ( یعنی یہ حدیث متصل نہیں ہے بلکہ منقطع ہے)
تشریح
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ بدکار بیوی کو طلاق دیدینا اولی ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے طلاق دینے کا حکم پہلے دیا اور نگہبانی کرنے کا حکم بعد میں دیا ہاں اگر کسی وجہ سے طلاق دینا آسان نہ ہو مثلا اس سے اتنی زیادہ محبت ہو کہ اس کو اپنے سے جدا کرنا ناممکن ہو یا اس کے بطن سے کوئی بچہ ہو جو ماں کی جدائی کو برداشت نہ کرسکتا ہو اور یا اس بیوی کا اپنے اوپر کوئی ایسا قرض و مطالبہ مثلا مہر واجب ہو کہ جس کو ادا کرنے پر قادر نہ ہو تو ایسی صورتوں میں جائز ہے کہ اس کو طلاق نہ دے لیکن یہ شرط ہے کہ وہ اس کو بدکاری سے روکے اور اگر وہ اس کو بدکاری سے نہ روک سکا تو پھر طلاق نہ دینے کی صورت میں گنہگار ہوگا۔
اثبات نسب کے سلسلہ میں ایک واضح ہدایت وضابطہ
وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن النبي صلى الله عليه و سلم قضى أن كل مستحلق استحلق بعد أبيه الذي يدعى له ادعاه ورثته فقضى أن كل من كان من أمة يملكها يوم أصابها فقد لحق بمن استحلقه وليس له مما قسم قبله من الميراث شيء وما أدرك من ميراث لم يقسم فله نصيبه ولا يلحق إذا كان أبوه الذي يدعى له أنكره فإن كان من أمة لم يملكها أو من حرة عاهر بها فإنه لا يلحق به ولا يرث وإن كان الذي يدعى له هو الذي ادعاه فهو ولد زنية من حرة كان أو أمة . رواه أبو داود
اور حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے یہ حکم دینے کا فیصلہ کیا کہ جس لڑکے کا نسب اس کے اس باپ کے مرنے کے بعد کہ جس کی طرف نسبت کی گئی ہے ملایا گیا ہے اور اس کا دعوی اس باپ کے وارثوں نے کیا ہے (یعنی مثلا زید کے مرنے کے بعد اس کے وارثوں نے ایک لڑکے بکر کے بارے میں کہا کہ یہ زید کا بیٹا ہے لہذا یہ بھی ہماری طرح زید کا وارث ہے تو اس کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے حکم صادر فرمایا کہ اگر وہ لڑکا جس کا نسب ملایا گیا ہے ایسی لونڈی کے بطن سے ہو جو صحبت کے دن اس کے باپ کی ملکیت میں تھی (یعنی اس لونڈی سے اس کے باپ کا جائز طریقہ پر جماع ہوا ہو) تو وہ اس شخص کے ساتھ نسب میں مل جائے گا جس نے اس کو ملایا ہے (یعنی جو وارث اس کو ملائیں گے وہ ان وارثوں میں مل جائے گا اور ان کے ساتھ میراث کا حقدار ہوگا بایں طور کہ اگر اس کو سبھی وارث ملائیں گے تو سب کے حق میں وارث ہوگا اور اگر بعض وارثوں نے ملایا ہوگا تو انہی بعض کے حق میں وارث ہوگا اور جو میراث اس کو ملنے سے پہلے تقسیم ہوچکی ہوگی اس میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا ہاں جو میراث ابھی تک تقسیم نہیں ہوئی اس میں سے اس کو حصہ ملے گا اور وہ لڑکا ایسا ہو کہ اس کی نسبت جس باپ کی طرف جاتی ہے اس نے اس کا انکار کردیا تھا (یعنی اس باپ نے اپنی زندگی میں اس کے اپنا بیٹا ہونے کا انکار کردیا تھا) تو وہ لڑکا اس کے مرنے کے بعد وارثوں کے ملانے سے نہیں ملے گا اور اس باپ کا وارث نہیں ہوگا اسی طرح اگر وہ لڑکا کسی ایسی لونڈی کے بطن سے ہو جو صحبت کے دن اس باپ کی ملکیت میں نہ رہی ہو (یعنی اس نے کسی دوسرے شخص کی لونڈی سے زنا کیا تھا اور اس زنا کے نتیجہ میں یہ لڑکا پیدا ہوا تھا) یا کسی ایسی آزاد عورت کے بطن سے ہو جس سے اس باپ نے زنا کیا تھا تو وہ لڑکا اس باپ کے وارثوں میں شامل نہیں ہوگا اور نہ اسے میراث ملے گی اگرچہ خود اس شخص یعنی باپ نے کہ جس کی طرف اس لڑکے کی نسبت کی جاتی ہے اس کا دعوی کیا ہو (یہ جملہ گویا پہلے حکم کی تاکید کے طور پر ہے کہ وہ لڑکا ولد الزنا ہو تو اس کو اس باپ یعنی زانی کے وارثوں میں کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ اگر خود وہ زانی اپنی زندگی میں اس کے نسب کا دعوی کرتا ہے کہ یہ میرا بیٹا ہے تب بھی اس کے ساتھ اس لڑکے کا نسب نہ ملتا چہ جائیکہ اس کے مرنے کے بعد اس کے وارث اس لڑکے کو اپنے میں شامل کریں لہذا وہ لڑکا حرام ہے خواہ وہ لونڈی کے بطن سے ہو یا آزاد عورت کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو ( ابوداؤد)
تشریح
خطابی کہتے ہیں کہ یہ وہ احکام ہیں جو شروع زمانہ اسلام میں آنحضرت ﷺ نے نافذ فرمائے تھے اس زمانہ میں لوگوں کی بدکار لونڈیاں تھیں جو زنا کراتی پھرتی تھیں اور ان کے مالک بھی ان سے صحبت کرتے تھے اور پھر جب ان کے کوئی بچہ ہوتا تو اس کا دعوی مالک بھی کرتا اور زانی بھی اس قسم کے تنازعہ کو شرعی طور پر ختم کرنے کے لئے آپ ﷺ نے مذکورہ بالا حکم صادر فرمائے، چناچہ اس بارے میں آپ ﷺ نے جو شرعی ضابطہ مقرر فرمایا اور جس کا ذکر اس حدیث میں کیا گیا ہے اس کی وضاحت یہ ہے کہ مثلا ایک شخص زید کا انتقال ہوگیا اس کے بعد زید کے وارثوں کا یہ دعوی تسلیم کرلیا جائے گا اور اس لڑکے کا نسب زید سے قائم کر کے اس کی میراث کا حصہ دار قرار دے دیا جائے گا لیکن یہ اسی صورت میں ہوگا جب کہ وہ لڑکا کسی ایسی لونڈی کے بطن سے ہو جو زید کی ملکیت میں رہی ہو اور زید کا اس کے ساتھ جائز طور پر جماع ہوا ہو یا وہ کسی آزاد عورت کے بطن سے ہو جو زید کے نکاح میں رہی ہو اور خود زید نے بھی اپنی زندگی میں یہ اقرار و اعلان کیا ہو کہ یہ میرا لڑکا ہے۔ پھر جیسا کہ حدیث میں وضاحت ہے یہ لڑکا انہی وارثوں کے حق میں حصہ دار ہوگا جنہوں نے مذکورہ بالا دعوی کیا ہو اگر سب ہی وارثوں نے یہ دعوی کیا ہوگا تو وہ لڑکا سب وارثوں کے حق میں حصہ دار ہوگا اور اگر بعض وارثوں نے دعوی کیا ہوگا تو صرف انہی بعض وارثوں کے حق میں حصہ دار ہوگا۔ نیز یہ لڑکا صرف اس میراث میں حصہ دار ہوگا جو ابھی تقسیم نہیں ہوئی ہے جو میراث اس دعوی سے پہلے تقسیم ہوچکی ہوگی اس میں اسے کوئی حصہ نہیں ملے گا اور اگر یہ صورت ہو کہ زید نے اپنی زندگی میں اس لڑکے کے نسب کا انکار کردیا یعنی یہ کہا تھا کہ یہ لڑکا میرا نہیں ہے تو پھر اس کے مرنے کے بعد اگر اس کے وارث اس لڑکے کو اپنے میں شامل کرنا چاہیں تو وہ شامل نہیں ہو سکے گا اور نہ اس کو زید کی میراث میں سے کوئی حصہ ملے گا۔ اگر اسی طرح وہ لڑکا کسی ایسی لونڈی کے بطن سے ہو جو زید کی ملکیت میں نہیں تھی جیسا کہ حضرت عائشہ کی روایت میں زمعہ کے بیٹے کے بارے میں گزر چکا ہے یا کسی ایسی آزاد عورت کے بطن سے جو زید کے نکاح میں نہیں تھی یعنی وہ لڑکا زید کے زنا کے نتیجہ میں پیدا ہوا تو اس صورت میں بھی وہ زید کے وارثوں میں شامل نہیں ہو سکے گا اور نہ اس کو زید کی میراث میں سے کچھ ملے گا بلکہ اگر زید اپنی زندگی میں خود بھی یہ چاہے کہ اس کے ساتھ اپنا نسب جوڑ کر اس کو اپنے وارثوں میں شامل کر دے تو بھی وہ شامل نہیں کیا جائے گا کیونکہ ولد الزنا کا نسب زانی سے قائم نہیں ہوتا اور نہ وہ زانی کا وارث نہیں ہوتا ہے۔
غیرت بعض صورتوں میں پسندیدہ اور بعض صورتوں میں ناپسندیدہ ہے
وعن جابر بن عتيك أن نبي الله صلى الله عليه و سلم قال : من الغيرة ما يحب الله ومنها ما يبغض الله فأما التي يحبها الله فالغيرة في الريبة وأما التي يبغضها الله فالغيرة في غير ريبة وإن من الخيلاء ما يبغض الله ومنها ما يحب الله فأما الخيلاء التي يحب الله فاختيال الرجل عند القتال واختياله عند الصدقة وأما التي يبغض الله فاختياله في الفخر وفي رواية : في البغي . رواه أحمد وأبو داود والنسائي
اور حضرت جابر ابن عتیک کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اپنی بیوی اور لونڈی کے بارے میں) بعض غیرت کو تو اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے اور بعض غیرت کو ناپسند کرتا ہے چناچہ جس غیرت کو اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے وہ شک و شبہ کی جگہ پیدا ہونے والی غیرت ہے ( مثلا بیوی یا لونڈی غیر مردوں کے سامنے آتی ہے یا غیر مرد اس کے پاس آتے ہیں اور وہ ان سے ہنسی مزاق کرتی ہے تو اس موقع پر خاوند جو غیرت محسوس کرتا ہے اس کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور جس غیرت کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے وہ غیرت ہے جو کسی شک و شبہ کی وجہ کے بغیر پیدا ہوئی ہو (مثلا کسی قرینہ وسبب کے بغیر خاوند کے دل میں بیوی کے کردار کے بارے میں بدگمانی پیدا ہوجائے اور پھر اس پر غیرت محسوس کرے) اسی طرح بعض تکبر کو تو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور بعض کو ناپسند فرماتا ہے چناچہ جس تکبر کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے وہ لڑائی کے وقت آدمی کا تکبر کرنا ہے ( یعنی جہاد میں جب کفار سے مقابلہ ہو تو اپنی قوت و برتری اور کفار کی حقارت و کمتری کے اظہار کے لئے خوب اکڑے اور اپنی بڑائی و شجاعت کو بڑے فخر و غرور کے ساتھ بیان کرے) اور وہ تکبر بھی اللہ تعالیٰ کو پسند ہے جو اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرنے کے سلسلہ میں ہو (یعنی جب صدقہ و خیرات دے تو خوشدلی اور بےپروائی کے ساتھ دے اور زیادہ سے زیادہ دینے کو بھی تھوڑا جانے) اور جس تکبر کو اللہ تعالیٰ نے ناپسند کرتا ہے وہ اپنے نسب پر فخر کا تکبر ہے اور ایک روایت میں فی الفخر کی بجائے فی البغی ہے یعنی جس تکبر کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے وہ ظلم کا تکبر ہے یعنی وہ تکبر جو بلا کسی حق استحقاق کیا جائے جس کی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں) (احمد ابوداؤد نسائی)
تشریح
اپنے نسب پر فخر کا تکبر یہ ہے کہ جو شخص اعلی حسب و نسب اور اچھے خاندان کا ہو وہ یہ کہتا پھرے کہ مجھے نسب میں برتری اور امتیاز حاصل ہے اور میرے باپ دادا اعلی نسل و خاندان کے افراد ہونے کی وجہ سے بزرگ و افضل ہیں یہ ایسا تکبر ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں تو برتری و فوقیت اور بزرگی و فضیلت اسی شخص کو حاصل ہے جو دین کے اعتبار سے سب میں ممتاز ہو چناچہ ارشاد ربانی ہے ا یت (ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم) اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں سے زیادہ بزرگ وبلند مرتبہ وہ شخص ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہے مشکوۃ کے ایک نسخہ میں اس روایت میں فی الفخر کی بجائے فی الفقر ہے یعنی جس تکبر کو اللہ تعالیٰ ناپسند کرتا ہے وہ فقر کا تکبر ہے مطلب یہ کہ اللہ کو یہ بات پسند نہیں ہے کہ کوئی شخص حالت فقر میں اپنی قناعت اور اپنے صبر و توکل پر تکبر کرے چناچہ علماء لکھتے ہیں کہ یہ تکبر اس تکبر سے بدتر ہے جو اپنے غنا اور اپنی ثروت پر کیا جاتا ہے لیکن فقر کا تکبر اس صورت میں برا اور اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ ہے جب کہ وہ فقراء کے مقابلہ پر کیا جائے ہاں اگر وہ تکبر امراء و اغنیاء کے مقابلہ پر ہو تو اچھا اور پسندیدہ ہے کیونکہ ایسے تکبر کو تو صدقہ کہا گیا ہے
ولد الزنا کا نسب زانی سے ثابت نہیں ہوتا
عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال : قام رجل فقال : يا رسول الله إن فلانا ابني عاهرت بأمه في الجاهلية فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا دعوة في الإسلام ذهب أمر الجاهلية الولد للفراش وللعاهر الحجر . رواه أبو داود
حضرت عمرو ابن شعیب اپنے والد حضرت شعیب سے اور حضرت شعیب اپنے دادا حضرت عبداللہ ابن عمرو) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص مجلس نبوی میں کھڑا ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! فلاں میرا لڑکا ہے میں نے زمانہ جاہلیت میں اس کی ماں سے زنا کیا تھا رسول کریم ﷺ نے فرمایا زمانہ جاہلیت کی گئی گزری بات زمانہ اسلام میں دعوی نہیں ہوسکتا ( یعنی یہ بات زمانہ جاہلیت ہی کے ساتھ مخصوص تھی اور جو بچہ زنا کے نتیجہ میں پیدا ہوا کرتا تھا اس کا نسب زانی اپنے ساتھ جوڑ لیتا تھا اب زمانہ اسلام میں یہ بات درست نہیں بچہ صاحب فراش کا ہے اور زانی کے لئے پتھر یعنی محرومی ہے یا سنگساری (ابوداؤد)
تشریح
صاحب فراش سے وہ شخص مراد ہے جو ولد الزنا کی ماں کا خاوند یا مالک ہو مطلب یہ ہے کہ جو عورت کسی کے نکاح میں ہو یا لونڈی ہونے کی صورت میں کسی کی ملک میں ہو تو اس کے زنا کے نتیجے میں جو بچہ پیدا ہوگا اس کا نسب اس کے خاوند یا مالک سے ثابت ہوگا اور اگر وہ عورت کسی کے نکاح یا کسی کی ملک میں نہ ہو تو پھر بچہ ماں ہی کی طرف منسوب ہوگا بہرصورت زانی کا اس بچہ سے کوئی نسبی تعلق نہیں ہوگا۔
وہ چار عورتیں جن سے لعان نہیں ہوتا
وعنه أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أربع من النساء لا ملاعنة بينهن : النصرانية تحت المسلم واليهودية تحت المسلم والحرة تحت المملوك والمملوكة تحت الحر . رواه ابن ماجه
اور حضرت عمرو ابن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا چار طرح کی عورتیں ہیں کہ ان کے اور ان کے شوہروں کے درمیان لعان نہیں ہوتا ایک تو وہ نصرانیہ عورت یعنی عیسائی عورت جو کسی مسلمان کے نکاح میں ہو اور دوسری یہودیہ یعنی یہودی عورت جو کسی مسلمان کے نکاح میں ہو اور تیسری وہ آزاد عورت جو کسی غلام کے نکاح میں ہو اور چوتھی وہ لونڈی جو کسی آزاد کے نکاح میں ہو (ابن ماجہ)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی عیسائی یا یہودی عورت کسی مسلمان کی نکاح میں ہو اور اس کا خاوند اس پر زنا کی تہمت لگائے اور وہ اس کی تردید کرے تو اس صورت میں ان دونوں کے درمیان لعان نہیں کرایا جائے گا اسی طرح اگر کوئی آزاد عورت کسی غلام کے نکاح میں ہو یا کوئی لونڈی کسی آزاد کے نکاح میں ہو تو اس کے درمیان بھی لعان نہیں ہوگا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ لعان دراصل شہادت و گواہی ہے اس لئے لعان کی صورت میں مرد و عورت دونوں کا اہل شہادت کہ جن کی شہادت شرعی طور پر معتبر ہوتی ہے ہونا ضروری ہے جب کہ مملوک یعنی غلام و لونڈی اور کافر اہل شہادت نہیں ہیں یعنی کسی معاملہ میں ان کی شہادت و گواہی شرعی طور پر معتبر نہیں ہے لہذا ان کے درمیان لعان کی کوئی صورت نہیں۔
آنحضرت ﷺ حتی الامکان لعان سے باز رکھنا چاہتے تھے
وعن ابن عباس : أن النبي صلى الله عليه و سلم أمر رجلا حين أمر المتلاعنين أن يتلاعنا أن يضع يده عند الخامسة على فيه وقال : إنها موجبة . رواه النسائي
اور حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جب نبی کریم ﷺ کے حکم پر دو لعان کرنے والے یعنی میاں بیوی لعان کر رہے تھے تو آنحضرت ﷺ نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ پانچویں گواہی کے وقت لعان کرنیوالے کے منہ پر ہاتھ رکھ دے اور فرمایا کہ پانچویں گواہی واجب کرنیوالی ہے (نسائی)
تشریح
کسی خاوند نے اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائی ہوگی اور بیوی نے اس کی تردید کی ہوگی اور صورت حال کو ختم کرنے کے لئے انہوں نے لعان کا ارادہ کیا ہوگا چناچہ آنحضرت ﷺ نے ان کو لعان کا حکم دیا اور اسی وقت ایک دوسرے شخص کو یہ حکم فرمایا کہ جب پانچویں گواہی کی باری آئے تو لعان کرنیوالے کے منہ پر ہاتھ رکھ دینا تاکہ وہ پانچویں گواہی دے کر لعان کو پورا نہ کرے۔ اس حکم کا بظاہر مقصد یہ تھا کہ جب اس کے منہ پر ہاتھ رکھا جائے گا تو اسے تنبہ اور اسح اس ہوگا اور جو سچ بات ہوگی اس کا اقرار کر کے پانچویں گواہی سے باز رہے گا اور جب پانچویں گواہی پوری نہیں ہوگی تو لعان واقع نہیں ہوگا یہ گویا اس بات کی علامت ہے کہ آنحضرت ﷺ حتی الامکان لعان سے روکنے کی کوشش کرتے تھے اور یہ چاہتے تھے کہ جو سچ بات ہو میاں بیوی اس کا اقرار کریں اور اس دنیا کے آسان عذاب یعنی زنا یا تہمت کی حد) کو اختیار کر کے آخرت کے سخت ترین عذاب سے محفوظ رہے۔
شیطان، میاں بیوی کو ایک دوسرے سے بدظن کرنے کی کوشش کرتا ہے
وعن عائشة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم خرج من عندها ليلا قالت : فغرت عليه فجاء فرأى ما أصنع فقال : ما لك يا عائشة أغرت ؟ فقلت : وما لي ؟ لا يغار مثلي على مثلك ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لقد جاءك شيطانك قالت : يا رسول الله أمعي شيطان ؟ قال : نعم قلت : ومعك يا رسول الله ؟ قال : نعم ولكن أعانني عليه حتى أسلم . رواه مسلم
اور حضرت عائشہ کے بارے میں منقول ہے کہ ایک مرتبہ شعبان کی پندرہویں رات کو نبی کریم ﷺ ان کے پاس سے اٹھ کر چلے گئے تو حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ مجھے آپ ﷺ پر بڑی غیرت آئی پھر جب آنحضرت ﷺ واپس تشریف لائے اور میں جس کیفیت میں مبتلا تھی اس کو دیکھا تو فرمایا کہ عائشہ! تمہیں کیا ہوا؟ کیا تم مجھ پر غیرت کرتی ہو؟ میں نے عرض کیا کہ بھلا میری جیسی عورت کو آپ ﷺ جیسے مرد پر غیرت کیوں نہ آئے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا دراصل تمہارے پاس تمہارا شیطان آگیا ہے یعنی شیطان نے تمہیں شک وشبہ میں مبتلا کردیا میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! کیا میرے ساتھ شیطان ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ ﷺ کے ساتھ بھی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر حاوی کردیا ہے یہاں تک کہ میں اس وسوسہ سے سالم محفوظ رہتا ہوں حتی اسلم کا ترجمہ یہ ہے کہ یہاں تک کہ وہ مسلمان ہوگیا ہے یعنی میرا تابع ہوگیا ہے ( مسلم)
تشریح
ایک مرتبہ شعبان کی پندرہویں شب میں آنحضرت ﷺ چپکے سے حضرت عائشہ کے پاس سے اٹھ کر جنت البقیع تشریف لے گئے تاکہ وہاں مردوں کے لئے ایصال ثواب اور دعا و مغفرت کریں لیکن حضرت عائشہ یہ سمجھیں کہ آپ ﷺ میرے پاس سے اٹھ کر اپنی کسی اور بیوی کے ہاں چلے گئے ہیں، یہ گویا شیطان کا فریب تھا جس نے انہیں اس شک میں مبتلا کردیا اس کی وجہ سے ان کو بڑی غیرت آئی ان کی قلبی کیفیت متغیر ہوگئی چناچہ وہ بھی گھبرا کر اٹھیں اور آنحضرت ﷺ کے پیچھے پیچھے چل پڑیں پھر انہوں نے دیکھا کہ آپ ﷺ کی منزل کسی دوسری بیوی کا مکان نہیں ہے بلکہ جنت البقیع مدینہ کا قبرستان ہے) جہاں آپ ﷺ اس دنیا سے چلے جانیوالے مسلمانوں کے لئے دعاء مغفرت میں مشغول ہیں یقینی بات ہے کہ جس شک وشبہ نے حضرت عائشہ کو اتنا اکسایا اور گھبراہٹ میں مبتلا کیا کہ وہ آنحضرت ﷺ کے واپس پہنچنے سے پہلے ہی گھر میں پہنچ جانا چاہتی ہوں گی چناچہ وہ وہاں سے بھاگی دوڑتی گھر کی طرف چلیں جب گھر میں داخل ہوئی تو کچھ دوڑنے کی وجہ سے اور کچھ ندامت کے سبب سینہ دھونکنی بن گیا اور دم پھولنے لگا ان کے بعد ہی آنحضرت ﷺ گھر میں آئے اور حضرت عائشہ کی یہ کیفیت دیکھی کہ دم چڑھ رہا ہے اور گھبراہٹ طاری ہے تو فرمایا آخر اتنی گھبراہٹ تم پر کیوں طاری ہوگی کیا تم نے محض اس وجہ سے غیرت محسوس کی کہ میں اس طرح کیوں چلا گیا اس کے جواب میں حضرت عائشہ نے جو کچھ کہا وہ دراصل عورت کے جذبات فطرت کی بڑی حسین اور دلچسپ ترجمانی تھی انہوں نے کہا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ مجھ جیسی عورت آپ ﷺ جیسے مرد پر غیرت نہ کرے؟ یعنی اگرچہ مجھے آپ ﷺ کی بےپناہ محبت حاصل ہے لیکن میری سوکنیں بھی کئی ہیں اور پھر آپ ﷺ تمام ظاہری و باطنی جمال و کمال سے متصف ہیں ایسی صورت میں کیوں کر رشک و غیرت میں مبتلا نہ ہوں۔
عدت کے معنی لغت میں عدت کے معنی ہیں شمار کرنا اور اصطلاح شریعت میں عدت اسے کہتے ہیں کہ جب کسی عورت کو اس کا خاوند طلاق دیدے یا خلع و ایلاء وغیرہ کے ذریعہ نکاح یا نکاح جیسی چیز مثلا نکاح فاسد ٹوٹ جائے بشرطیکہ اس نکاح میں جماع یا خلوت صحیحہ ہوچکی ہو یا شوہر مرجائے تو وہ مقررہ مدت کہ جس کی تفصیل آگے آئے گی) گھر میں رکی رہے جب تک وہ مدت ختم نہ ہوجائے تب تک نہ کہیں جائے اور نہ کسی دوسرے مرد سے ملاقات کرے جب مدت پوری ہوجائے تو جہاں چاہے جائے اور جس طرح چاہے نکاح کرے۔ عدت کی مدت جس آزاد عورت کو اس کے خاوند نے طلاق دے دی ہو یا نکاح فسخ ہوگیا ہو اور اس کو حیض آتا ہو تو اس کی عدت کی مدت تین حیض ہے یعنی وہ تین حیض آنے تک شوہر ہی کے گھر میں جہاں طلاق ملی ہو بیٹھی رہے اس گھر سے باہر نہ نکلے اور نہ کسی سے نکاح کرے اسی طرح جس عورت کے ساتھ شبہ میں جماع ہوگیا ہو اس کی عدت کی مدت بھی تین حیض ہے یعنی کسی مرد نے کسی غیر عورت کو اپنی بیوی سمجھ کر دھوکہ سے صحبت کرلی تو اس عورت کو بھی تین حیض آنے تک عدت میں بیٹھنا ہوگا جب تک عدت ختم نہ ہوجائے تب تک وہ اپنے شوہر کو جماع نہ کرنے دے جس عورت کے ساتھ بےقاعدہ یعنی فاسد نکاح ختم ہوا ہو جیسے موقت نکاح اور پھر تفریق کرا دی گئی یا تفریق کرانے سے پہلے ہی خاوند مرگیا ہو تو اس عدت کی مدت بھی تین حیض ہے۔ ام ولد جب کہ آزاد کردی جائے یا اس کا مولیٰ مرجائے تو اس کی عدت بھی تین حیض ہیں۔ اگر کسی عورت کو کم سن ہونے کیوجہ سے یا بانجھ ہونے کی وجہ سے اور یا بڑھاپے کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو تو اس کی عدت تین مہینہ ہے۔ جس آزاد عورت کا خاوند مرگیا اور اس کی عدت چار مہینہ دس دن ہے خواہ اس عورت سے جماع کیا گیا ہو یا جماع نہ کیا گیا ہو خواہ وہ مسلمان عورت ہو یا مسلمان مرد کے نکاح میں یہودیہ اور نصرانیہ ہو خواہ وہ بالغہ ہو یا نابالغہ اور یا آئسہ ہو خواہ اس کا شوہر آزاد ہو یا غلام ہو اور خواہ اس کی مدت میں اس کو حیض آئے یا نہ آئے۔ حاملہ عورت کی عدت وضع حمل ہے خواہ اس عورت کو اس کے خاوند نے طلاق دی ہو یا اس کا خاوند مرگیا ہو اور خواہ وہ عورت آزاد ہو یا لونڈی ولادت ہوتے ہی اس کی عدت پوری ہو جائیگی اگرچہ خاوند کے طلاق دینے یا خاوند کے مرنے کے کچھ ہی دیر بعد ولادت ہوجائے یہاں تک کہ کتاب مبسوط میں لکھا ہے کہ اگر حاملہ عورت کا شوہر مرگیا ہو اور وہ ابھی تختہ پر نہلایا جا رہا تھا یا کفنایا جا رہا تھا کہ اس عورت کے ولادت ہوگئی تو اس صورت میں بھی اس کی عدت پوری ہو جائیگی۔ جو عورت آزاد ہو یعنی کسی کی لونڈی ہو اور اس کا خاوند اس کو طلاق دے دے تو اس کی عدت دو حیض ہے بشرطیکہ اس کو حیض آتا ہو اور اگر اس کو حیض نہ آتا ہو تو پھر اس کی عدت ڈیڑھ مہینہ ہوگی اور اگر اس کا خاوند مرجائے تو تو اس کی عدت دو مہینے پانچ دن ہوگی خواہ اس کو حیض آتا ہو یا نہ آتا ہو۔ عدت کی ابتداء کا وقت طلاق کی صورت میں عدت کی ابتداء طلاق کے بعد سے ہوگی یعنی طلاق کے بعد جو تین حیض آئیں گے ان کا شمار ہوگا اگر کسی نے حیض کی حالت میں طلاق دی ہوگی تو اس حیض کا شمار نہ ہوگا بلکہ اس کے بعد کے تین حیض کا اعتبار کیا جائے گا اور وفات میں عدت کا شمار شوہر کی وفات کے بعد سے ہوگا اگر عورت کو طلاق یا وفات کی خبر نہیں ہوئی یہاں تک کہ عدت کی مدت گزر گئی تو اس کی عدت پوری ہوگی عدت کے مسائل کی باقی تفصیل فقہ کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔
عدت کے دنوں میں شوہر پر نفقہ اور سکنی واجب ہے یا نہیں
عن أبي سلمة عن فاطمة بنت قيس : أن أبا عمرو بن حفص طلقها البتة وهو غائب فأرسل إليها وكيله الشعير فسخطته فقال : والله ما لك علينا من شيء فجاءت رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكرت ذلك له فقال : ليس لك نفقة فأمرها أن تعتد في بيت أم شريك ثم قال : تلك امرأة يغشاها أصحابي اعتدي عند ابن أم مكتوم فإنه رجل أعمى تضعين ثيابك فإذا حللت فآذنيني . قالت : فلما حللت ذكرت له أن معاوية بن أبي سفيان وأبا جهم خطباني فقال : أما أبو الجهم فلا يضع عصاه عن عاتقه وأما معاوية فصعلوك لا مال له انكحي أسامة بن زيد فكرهته ثم قال : انكحي أسامة فنكحته فجعل الله فيه خيرا واغتبطت وفي رواية عنها : فأما أبو جهم فرجل ضراب للنساء . رواه مسلم وفي رواية : أن زوجها طلقها ثلاثا فأتت النبي صلى الله عليه و سلم فقال : لا نفقة لك إلا أن تكوني حاملا
ابوسلمہ فاطمہ بن قیس سے نقل کرتے ہیں کہ ابوعمرو بن حفص نے فاطمہ بن قیس کو جو ان کی بیوی تھیں تین طلاقیں دیں جب کہ وہ خود موجود نہیں تھے یعنی عمرو کہیں باہر تھے وہیں سے انہوں نے کسی کی زبانی کہلا کر بھیجا کہ میں نے طلاق دی پھر ابوعمرو کے وکیل کارندے نے بطور نفقہ فاطمہ کے پاس کچھ جو بھیجے فاطمہ کے خیال میں جو کی وہ مقدار بہت کم تھی اس لئے وہ اس پر ناراض ہوئیں وکیل نے کہا کہ اللہ کی قسم ہم پر تمہارا کوئی حق نہیں ہے (کیونکہ تمہیں تین طلاقیں مل چکی اس کے نفقہ کا کوئی حکم نہیں ہے اس وقت تمہیں جو کی جو بھی مقدار دی گئی ہے وہ محض احسان و سلوک کے طور پر ہے فاطمہ یہ سن کر رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ ﷺ سے یہ واقعہ بیان کیا آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارا نفقہ ابوعمر پر واجب نہیں ہے پھر آپ ﷺ نے فاطمہ کو یہ حکم دیا کہ وہ ام شریک کے گھر عدت میں بیٹھ جائیں لیکن پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ ام شریک کے گھر میں میرے صحابہ جو ام شریک کے عزیز واقا رب اور آل اولاد ہیں آتے جاتے ہیں اس لئے ان کے گھر میں تمہارا بیٹھنا مناسب نہیں ہوگا البتہ تم ابن ام مکتوم کے ہاں عدت کے دن گزار لو کیونکہ وہ اندھے ہیں وہاں تم اپنے کپڑے رکھ سکتی ہو اور جب تم حلال ہوجاؤ یعنی تمہاری عدت کے دن پورے ہوجائیں تو مجھے اطلاع کردینا تاکہ میں تمہارے دوسرے نکاح کی فکر کروں فاطمہ کہتی ہیں کہ پھر جب میں حلال ہوگی تو میں نے رسول کریم ﷺ سے عرض کیا کہ معاویہ ابن ابی سفیان اور ابوجہم نے میرے پاس نکاح کا پیغام بھیجا ہے (آپ ﷺ کی کیا رائے ہے؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا ابوجہم کی بات تو یہ ہے کہ وہ اپنی لاٹھی اپنے کاندھے سے کبھی رکھتے ہیں نہیں اور معاویہ غریب آدمی ہیں جن کے پاس مال و اسباب نہیں ہے لہذا میری رائے میں تو مناسب یہ ہے کہ تم اسامہ ابن زید سے نکاح کرلو چناچہ میں نے اسامہ سے نکاح کرلیا اور اللہ تعالیٰ نے اس نکاح اور اسامہ کی رفاقت میں خیر و برکت عطاء فرمائی اور مجھ پر رشک کیا جانے لگا ( یعنی ہم دونوں کی رفاقت اتنی راس آئی اور ہم میں اتنی الفت و محبت پیدا ہوئی کہ جو بھی دیکھتا مجھ پر رشک کرتا) اور ایک روایت میں یوں ہے کہ فاطمہ کے الفاظ یہ ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ابوجہم ایک ایسا مرد ہے جو عورتوں کو بہت مارتا ہے (مسلم) اور مسلم ہی کی ایک اور روایت میں یوں ہے کہ فاطمہ کے شوہر نے ان کو تین طلاقیں دی تھیں چناچہ جب وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارا نفقہ تمہارے شوہر کے ذمہ نہیں ہے ہاں اگر تم حاملہ ہوتیں تو اس پر تمہارا نفقہ واجب ہوتا)
تشریح
وہاں تم اپنے کپڑے رکھ سکتی ہو کا مطلب یہ ہے کہ ابن ام مکتوم چونکہ نابینا ہیں اس لئے تمہیں وہاں پردے کی احتیاط کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی اور اگر یہ ترجمہ کیا جائے کہ وہاں تم اپنے کپڑے رکھ دو تو پھر مطلب یہ ہوگا کہ وہاں تم جب تک عدت میں رہو زینت و آرائش کے کپڑے نہ پہننا یا پھر اس جمہ کے ذریعہ کنایۃً یہ اظہار مقصود تھا کہ ایام عدت میں گھر سے باہر نکلنا جائز نہیں ہے۔ امام نووی فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے بعض علماء نے یہ استدلال کیا ہے کہ عورت کو اجنبی مرد کی طرف دیکھنا جائز ہے بشرطیکہ وہ اجنبی مرد اس کو نہ دیکھے لیکن یہ استدلال کمزور و ضعیف ہے اور صحیح وہی بات ہے جو اکثر علماء کا قول ہے کہ جس طرح اجنبی مرد کو اجنبی عورت دیکھنا حرام ہے اسی طرح اجنبی عورت کو بھی اجنبی مرد کی طرف دیکھنا حرام ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح مردوں کے حق میں یہ حکم دیا ہے کہ ا یت (قُلْ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ ) 24۔ النور 30) اے محمد آپ مسلمان مردوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں (آخر آیت تک) اسی طرح عورتوں کے حق میں بھی یہ حکم دیا گیا ہے ا یت (وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ يَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ ) 24۔ النور 31) اور مسلمان عورتوں سے بھی یہی کہہ دیجئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں (آخر آیت تک) نیز اس سلسلہ میں حضرت ابن ام مکتوم سے متعلق ام المؤمنین حضرت ام سلمہ کی وہ روایت بھی ایک بڑی واضح دلیل ہے جس میں حضرت ام سلمہ نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ وہ اور حضرت میمونہ آنحضرت کے پاس تھیں کہ اچانک حضرت ابن ام مکتوم آگئے تو آنحضرت ﷺ نے ان دونوں سے فرمایا کہ پردہ کرلو حضرت ام سلمہ نے عرض کیا کہ یہ تو نابینا ہیں یہ ہمیں کہاں دیکھ رہے؟ کہ ہم ان سے پردہ کریں اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا حدیث (افعمیا وان انتما الستما تبصرانہ) کیا تم دونوں بھی اندھی ہو کیا تم ان کو نہیں دیکھ رہی ہو پھر حضرت فاطمہ کی اس روایت سے یہ کسی طرح ثابت نہیں ہوتا کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت ابن ام مکتوم کو دیکھنا حضرت فاطمہ کے لئے جائز قرار دیا تھا بلکہ دراصل آنحضرت ﷺ کا مقصد تو صرف یہ ظاہر کرنا تھا کہ تم ابن ام مکتوم کے ہاں امن و حفاظت کے ساتھ رہو گی کیونکہ ان کے ہاں تمہیں کوئی دیکھے گا نہیں اور جہاں تک حضرت فاطمہ کا سوال ہے تو انہیں خود ہی کتاب اللہ کا یہ حکم معلوم تھا کہ اجنبی مرد کو دیکھنا ممنوع ہے اس لء ان سے یہ کیونکہ ممکن تھا کہ وہ حضرت ابن ام مکتوم کو دیکھتی ہوں گی؟ بہرکیف حضرت فاطمہ کی اس روایت سے بعض علماء نے عورت کو اجنبی مرد کے دیکھنے کا جو جواز ثابت کیا ہے اس کے متعلق اکثر جمہور علماء کی طرف سے یہ جواب دیا جاتا ہے۔ اب رہی بات حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے فقہی مسلک کی تو یہ ملحوظ رہنا چاہئے کہ ان کے نزدیک اجنبی مرد کو اس کے زیر ناف سے زیر زانو تک کے حصہ کے علاوہ دیکھنا عورت کے لئے جائز ہے بشرطیکہ وہ جنسی ترغیب شہوت سے محفوظ و مامون ہو اگر جنسی ترغیب سے مامون نہ ہو تو پھر اجنبی مرد کے پورے جسم کو دیکھنا اس کے لئے حرام ہوگا۔ ابوجہم اپنی لاٹھی اپنے کندھے سے رکھتے ہی نہیں اس سے ابوجہم کی تند خوئی اور درست مزاجی کی طرف اشارہ مقصود تھا کہ ابوجہم بہت سخت گیر اور تند خو ہیں۔ وہ عورتوں کو مارتے ہیں ان سے تمہارا نباہ مشکل ہوگا اس سے معلوم ہوا کہ جس شخص کو مرد یا عورت کا کوئی عیب معلوم ہو تو منگنی کے وقت اس کا اظہار کردینا جائز ہے تاکہ شادی کے بعد وہ دونوں ہی کسی تکلیف اور پریشانی میں مبتلا نہ ہوں۔ فاطمہ نے حضرت اسامہ کے انتخاب کو اس لئے ناپسند کیا کہ وہ اول تو آنحضرت ﷺ کے غلام بیٹے تھے، دوسرا ان کا رنگ سیاہ تھا جبکہ حضرت فاطمہ قریشی تھیں اور خوبصورت بھی تھیں لیکن حضرت اسامہ چونکہ آنحضرت ﷺ کو بہت محبوب تھے اور انہیں آنحضرت ﷺ کی بارگاہ میں ایک مخصوص فضیلت اور تقرب حاصل تھا اس لئے آپ ﷺ نے دوبارہ ان کی سفارش کی جس کے بعد فاطمہ نے بھی انکار کرنا مناسب نہیں سمجھا اور حکم نبوی کے مطابق حضرت اسامہ سے نکاح کرلیا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے نکاح میں خیر و برکت عطا فرمائی اور ان کو اسامہ کی زوجیت ورفاقت میں چین و آرام نصیب ہوا۔ اس بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں کہ جس عورت کو طلاق بائن دی گئی ہو اور وہ حاملہ نہ ہو تو عدت پوری ہونے تک اس کا نفقہ (کھانے پینے اور کپڑے کا خرچ اور سکنی (رہنے کی جگہ) شوہر کے ذمہ ہے یا نہیں؟ چناچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور بعض علماء کے نزدیک شوہر پر اس عورت کا نفقہ اور سکنی واجب ہے سکنی تو آیت سے ثابت ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے آیت (اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ ) 65۔ الطلاق 6) تم ان مطلقہ کو اپنی وسعت کے موافق رہنے کا مکان دو جہاں تم رہتے ہو اور نفقہ کے اعتبار سے واجب ہے کہ وہ عورت اسی شوہر کی وجہ سے تمام پابندیوں کے ساتھ عدت میں بیٹھی ہوئی ہے۔ حضرت عمر فاروق بھی اسی کے قائل تھے بلکہ وہ اس حدیث کے بارے میں فرماتے تھے کہ ہم ایک عورت فاطمہ بنت قیس کے کہنے سے کہ رسول کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ تمہارا نفقہ اور سکنی تمہارے شوہر کے ذمہ نہیں ہے) کتاب اللہ اور آنحضرت ﷺ کی سنت کو ترک نہیں کرسکتے جس سے نفقہ اور سکنی کا واجب ہونا ثابت ہے ہوسکتا ہے کہ فاطمہ کو اشتباہ ہوا ہو یا نہیں آپ کا اصل ارشاد یاد نہ رہا ہو چناچہ میں نے خود رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس عورت کا نفقہ اور سکنی شوہر کے ذمہ ہے لیکن حضرت ابن ملک کہتے ہیں کہ یہ واقعہ صحابہ کے سامنے پیش آیا تھا ان صحابہ میں سے کسی نے فاطمہ کے قول کی تردید نہیں کی ہے اس لئے یہ بمنزلہ اجماع کے ہوا) حضرت امام احمد یہ فرماتے ہیں کہ اس عورت کے لئے نہ تو نفقہ و اجب ہے اور نہ سکنی اور انہوں نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے حضرت امام مالک حضرت امام شافعی اور بعض علماء یہ فرماتے ہیں کہ اس آیت (اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ ) 65۔ الطلاق 6) کے موجب اس عورت کے لئے سکنی واجب ہے نفقہ واجب نہیں ہے ہاں اگر اسے حمل کی حالت میں طلاق دی گئی ہو تو اس حدیث کے مطابق اس کے لئے نفقہ واجب ہوگا۔ اور حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت قیس جس مقام میں رہتی تھی وہ ایک ویران جگہ تھی اور ہاں اس کے بارے میں اندیشہ رہتا تھا اس لئے نبی کریم ﷺ نے اس کو عدت کے دنوں میں اپنے مکان سے ابن ام مکتوم کے مکان میں منتقل ہونے کی آسانی عطا فرما دی تھی ایک اور روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ حضرت عائشہ نے کہا کہ فاطمہ کو کیا ہوا ہے کہ وہ اللہ سے نہیں ڈرتی؟ اس سے حضرت کی مراد فاطمہ کے اس قول کہ نہ نفقہ واجب ہے اور نہ سکنی کی تردید کرنا ہے ( بخاری) تشریح حدیث کے ابتدائی الفاظ کا مطلب ہے کہ فاطمہ بنت قیس جس مکان میں رہتی تھیں وہ ایک ویران جگہ میں تھا جہاں ہر وقت چور وغیرہ کا اندیشہ رہتا تھا اسی لئے آنحضرت ﷺ نے انہیں اس مکان سے حضرت ابن ام مکتوم کے مکان میں منتقل ہونے کی اجازت مرحمت فرما دی اور اس بیان سے حضرت عائشہ کا مقصد یہ آگاہ کرنا تھا کہ فاطمہ اپنی عدت کے دنوں میں اپنے خاوند کے گھر کو چھوڑ کر غیر کے گھر میں جو بیٹھی تھیں اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ تین طلاقوں والی عورت کے لئے سکنی نہیں ہے اور وہ جہاں چاہے عدت میں بیٹھ جائے بلکہ فاطمہ کا اپنے خاوند کے مکان کو چھوڑ کر ایک دوسرے شخص کے مکان میں عدت گزارنے کا سبب یہ ہے جو بیان کیا گیا ہے۔ دوسری روایت کے الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ حضرت فاطمہ بنت قیس آنحضرت ﷺ سے یہ نقل کیا کرتی تھیں کہ جس عورت کو طلاق بائن دی گئی ہو اس کے لئے نہ تو نفقہ ہے اور نہ سکنی ہے چناچہ حضرت عائشہ نے ان کی اس بات کی تردید کی اور فرمایا کہ فاطمہ اس قول نہ نفقہ اور نہ سکنی ہے کو آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب کرتے ہوئے اللہ سے نہیں ڈرتی آنحضرت ﷺ نے اس طرح ہرگز نہیں فرمایا ہوگا بلکہ فاطمہ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ گویا اس مسئلہ میں حضرت عائشہ کا بھی وہی مسلک تھا جو حضرت عمر کا تھا اور یہ حدیث حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے مسلک کی مؤید ہے کہ طلاق بائن والی عورت کے لئے سکنی بھی ہے اور نفقہ بھی ہے۔ اور حضرت سعید ابن مسیب کہتے ہیں کہ فاطمہ کو عدت کے زمانہ میں اس کے خاوند کے گھر سے اس لئے منتقل کردیا گیا تھا کہ وہ اپنے خاوند کے عزیزوں سے زبان درازی کیا کرتی تھیں ( شرح السنۃ) رکھنے کی کوشش کرو اگر اس پر زبانی نصیحت تنبیہ کا کوئی اثر نہ ہو تو پھر اس کو مارو لیکن بےرحمی کے ساتھ نہ مارو بلکہ ہلکے سے اور تھوڑا سا مارو
عدت کے زمانے میں کسی ضرورت سے گھر سے باہر نکلنا جائز ہے یا نہیں
وعن جابر قال : طلقت خالتي ثلاثا فأرادت أن تجد نخلها فزجرها رجل أن تخرج فأتت النبي صلى الله عليه و سلم فقال : بلى فجدي نخلك فإنه عسى أن تصدقي أو تفعلي معروفا . رواه مسلم
اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ میری خالہ کو تین طلاقیں دی گئی اور وہ عدت میں بیٹھ گئیں پھر ایک دن انہوں نے ارادہ کیا کہ گھر سے باہر جا کر کھجوریں توڑ لائیں تو ایک شخص نے انہیں گھر سے باہر نکلنے سے منع کیا وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور یہ واقعہ بیان کیا اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے جاؤ اور اپنے درخت سے کھجوریں توڑ لاؤ کیونکہ شاید تم وہ کھجوریں اللہ تعالیٰ کی راہ میں دو یا ان کے ذریعہ احسان کرو ( مسلم)
تشریح
آپ ﷺ کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ اگر وہ کھجوریں اتنی مقدار میں ہوجائیں گی کہ ان پر زکوٰۃ واجب ہوجائے تم ان کی زکوٰۃ ادا کرو گی اور اگر بقدر نصاب نہیں ہوں گی تو پھر تم ان کے ذریعے احسان و سلوک کرو گی بایں طور کہ اپنے ہمسایوں اور فقراء کو نقل صدقہ کے طور پر دو گی یا لوگوں کے پاس بطور تحفہ بھیجو گی اس سے معلوم ہوا کہ اگر وہ صدقہ نہ کرتیں تو ان کے لئے گھر سے باہر نکلنا جائز نہ ہوتا۔ امام نووی فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ جو عورت طلاق بائن کی عدت میں بیٹھی ہو اس کو اپنی کسی ضرورت کے تحت گھر سے باہر نکلنا جائز ہے اس مسلہ میں حنفیہ کا جو مسلک ہے وہ ام عطیہ کی روایت کے ضمن میں بیان ہوچکا ہے جو آگے آئے گی۔
وعن المسور بن مخرمة : أن سبيعة الأسلمية نفست بعد وفاة زوجها بليال فجاءت النبي صلى الله عليه و سلم فاستأذنته أن تنكح فأذن لها فنكحت . رواه البخاري
اور حضرت مسور ابن مخرمہ کہتے ہیں کہ سبیعہ اسلمیہ کے ہاں ان کے خاوند کی وفات کے کچھ دنوں ہی کے بعد ولادت ہوئی تو وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ ﷺ سے دوسرا نکاح کرنے کی اجازت مانگی آپ ﷺ نے ان کو اجازت عطا فرما دی اور انہوں نے نکاح کرلیا ( بخاری)
تشریح
سبیعہ اسلمیہ اپنے خاوند کی وفات کے وقت حاملہ تھیں چناچہ خاوند کی وفات کے چند ہی دنوں بعد ان کے ہاں ولادت ہوگئی تو آنحضرت ﷺ نے ان کو دوسرا نکاح کرنے کی اجازت عطا فرما دی۔ علماء لکھتے ہیں کہ اگر خاوند کی وفات یا طلاق کے بعد عورت کے ہاں ولادت ہوجائے تو وہ عدت سے نکل آتی ہے اور اس کے لئے دوسرا نکاح کرنا جائز ہوجاتا ہے اگرچہ ولادت یا وفات کے تھوڑی ہی دیر بعد ہو۔
عدت کے دنوں میں سرمہ لگانے کی ممانعت
وعن أم سلمة قالت : جاءت امرأة إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقالت : يا رسول الله إن ابنتي توفي عنها زوجها وقد اشتكت عينها أفنكحلها ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا مرتين أو ثلاثا كل ذلك يقول : لا قال : إنما هي أربعة أشهر وعشر وقد كانت إحداهن في الجاهلية ترمي بالبعرة على رأس الحول
اور حضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ ایک عورت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! میری لڑکی کا خاوند مرگیا ہے جس کی وجہ سے وہ عدت میں ہے اور اس کی آنکھیں دکھتی ہیں تو کیا میں اس کی آنکھوں میں سرمہ لگا دوں؟ رسول کریم ﷺ نے فرمایا نہیں اس عورت نے یہ دو بار یا تین بار پوچھا اور آپ ﷺ ہر بار یہی جواب دیتے تھے کہ نہیں پھر فرمایا کہ عدت چار مہینہ اور دس دن ہے جب کہ ایام جاہلیت میں تم میں کی ایک عورت یعنی بیوہ سال بھر کے بعد مینگنیاں پھینکتی تھی (بخاری ومسلم)
تشریح
یہ حدیث بظاہر امام احمد کی دلیل ہے کہ کیونکہ ان کے نزدیک اس عورت کو سرمہ لگانا جائز نہیں ہے جس کا خاوند مرگیا ہو اور وہ عدت میں بیٹھی ہو خواہ آنکھیں دکھنے کی وجہ سے اس کو سرمہ لگانے کی ضرورت ہو اور خواہ وہ محض زینت یا عادت کی بناء پر لگانا چاہے جب کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام مالک کے نزدیک مجبوری کی حالت میں مثلا آنکھ دکھنے کی صورت میں سرمہ لگانا جائز ہے اور حضرت امام شافعی بھی آنکھیں دکھنے کی صورت میں سرمہ لگانے کی اجازت دیتے ہیں مگر اس شرط کے ساتھ کہ رات میں لگائے اور دن میں پونچھ لے۔ اس حدیث کے بارے میں حنفی علماء یہ فرماتے ہیں کہ اس عورت نے زینت کے لئے سرمہ لگانا چاہا ہوگا مگر بہانہ کیا ہوگا آنکھ دکھنے کا اور چونکہ آپ ﷺ کو اس بات کا علم ہوگا اس لئے آپ ﷺ نے سرمہ لگانے کی اجازت دینے سے انکار فرما دیا۔ حدیث کے آخری جملہ کی وضاحت یہ ہے کہ اسلام سے پہلے زمانہ جاہلیت میں یہ رسم تھی کہ جس عورت کا خاوند مرجاتا وہ ایک تنگ و تاریک کوٹھری میں بیٹھی رہتی اور بہت خراب کپڑے جو اکثر و بیشتر ٹاٹ اور نمدے کی صورت میں ہوتا تھا پہنے رہا کرتی تھی زینت کی کوئی چیز استعمال نہیں کرتی تھی خوشبو بھی نہیں لگاتی تھی غرض کہ پورے ایک سال تک اسی حالت میں رہتی پھر جس دن سال ختم ہوتا اس دن اس کے پاس گدھا یا بکری اور یا کوئی بھی جانور و پرندہ لایا جاتا جس سے وہ اپنی شرمگاہ رگڑتی اور اس کے بعد اس کوٹھڑی سے باہر نکلتی پھر اس کے ہاتھ میں چند مینگنیاں دی جاتیں جن کو وہ پھینکتی اور اس کے ساتھ ہی عدت سے نکل آتی۔ لہذا آنحضرت ﷺ نے اسی رسم کی طرف اشارہ فرمایا کہ پچھلے زمانہ میں عدت کی مدت بھی بہت زیادہ تھی اور اس میں خرابیاں اور پریشانیاں بھی بہت تھیں جب کہ اسلام میں عدت کی مدت بھی بہت کم ہے یعنی چار مہینہ دس دن زیادہ تھی اور اس میں خرابی اور پریشانی بھی نہیں ہے تو پھر اتنا اضطراب کیوں ہے؟
زمانہ عدت میں سوگ کرنے کا حکم
وعن أم حبيبة وزينب بنت جحش عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تحد على ميت فوق ثلاث ليال إلا على زوج أربعة أشهر وعشرا (2/256) 3331 - [ 8 ] ( متفق عليه ) وعن أم عطية أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا تحد امرأة على ميت فوق ثلاث إلا على زوج أربعة أشهر وعشرا ولا تلبس ثوبا مصبوغا إلا ثوب عصب ولا تكتحل ولا تمس طيبا إلا إذا طهرت نبذة من قسط أو أظفار . متفق عليه . وزاد أبو داود : ولا تختضب
اور حضرت ام حبیبہ اور حضرت زینب بنت جحش نبی کریم ﷺ سے نقل کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو بھی عورت اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے اس کے لئے یہ درست نہیں ہے کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے ہاں اپنے شوہر کا سوگ چار مہینے دس دن تک کیا کرے ( بخاری ومسلم)
تشریح
سوگ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بناؤ سنگھار ترک کر دے اور خوشبو وسرمہ وغیرہ لگانے سے پرہیز کرے چناچہ یہ سوگ کرنا کسی دوسری میت پر تو تین دن سے زیادہ جائز نہیں ہے۔ لیکن اپنے شوہر کی وفات پر چار مہینے دس دن تک یعنی ایام عدت میں سوگ کرنا واجب ہے۔ اب رہی یہ بات کہ چار مہینہ دس دن یعنی عدت کی مدت کی ابتداء کب سے ہوگی تو جمہور علماء کے نزدیک اس مدت کی ابتداء خاوند کی موت کے بعد سے ہوگی لیکن حضرت علی اس کے قائل تھے کہ عدت کی ابتداء اس وقت سے ہوگی جس وقت کہ عورت کو خاوند کے انتقال کی خبر ہوئی ہے لہذا اگر کسی عورت کا خاوند کہیں باہر سفر وغیرہ میں مرگیا اور اس عورت کو اس کی خبر نہیں ہوئی یہاں تک کہ چار مہینے دس دن گزر گئے تو جمہور علماء کے نزدیک عدت پوری ہوگئی جب کہ حضرت علی کے قول کے مطابق اس کی عدت پوری نہیں ہوگی بلکہ اس کو خبر ہونے کے وقت سے چار مہینے دس دن تک عدت میں بیٹھنا ہوگا۔ اور حضرت ام عطیہ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کوئی عورت کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ کرے ہاں اپنے شوہر کے مرنے پر چار مہینے دس دن تک سوگ کرے اور ان ایام یعنی زمانہ عدت میں عصب کے علاوہ نہ تو کوئی رنگین کپڑا پہنے نہ سرمہ لگائے اور نہ خوشبو لگائے البتہ حیض سے پاک ہوتے وقت تھوڑا سا قسط یا اظفار استعمال کرے تو قباحت نہیں ( بخاری ومسلم) تشریح رنگین کپڑے سے مراد وہ کپڑا ہے جو کسم، زعفران اور گیرو وغرہ کے تیز اور شوخ رنگ میں رنگا گیا ہو اور عام طور پر زینت و آرائش کے طور پر پہنا جاتا ہو اور کتاب کافی میں لکھا ہے کہ اگر کسی عورت کے پاس رنگین کپڑوں کے علاوہ اور کوئی کپڑا نہ ہو تو وہ رنگین کپڑا بھی پہن سکتی ہے کیونکہ اس کی سترپوشی بہرحال زیادہ ضروری ہے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ ان رنگین کپڑوں کو زیب وزینت کے مقصد سے استعمال نہ کرے۔ عصب اس زمانہ میں ایک خاص قسم کی چادر کو کہتے تھے جو اس طور پر بنی ہوتی تھی کہ پہلے سوت کو جمع کر کے ایک جگہ باندھ لیتے تھے پھر اس کو کسم میں رنگتے تھے اور اس کے بعد اس کو بنتے تھے چناچہ وہ سرخ رنگ کی ایک چادر ہوجاتی تھی جس میں سفید دھاریاں بھی ہوتی تھیں کیونکہ سوت کو باندھ کر رنگنے کی وجہ سے سوت کا وہ حصہ سفید رہ جاتا تھا جو بندھا ہوا ہوتا تھا۔ اس سے بھی معلوم ہوا کہ عدت والی عورت کو رنگین کپڑا پہننے کی جو ممانعت ہے اس کا تعلق اس کپڑے سے ہے جو بننے کے بعد رنگا گیا ہو تو اس کا پہننا بھی درست ہے۔ علامہ ابن ہمام حنفی یہ فرماتے ہیں کہ ہمارے علماء حنفیہ کے نزدیک عدت والی عورت کو عصب کا پہننا بھی درست نہیں ہے حضرت امام شافعی کے نزدیک عدت والی عورت کو عصب پہننا جائز ہے خواہ وہ موٹا ہو یا مہین ہو جب کہ حضرت امام مالک مہین عصب کو پہننے سے منع کرتے ہیں موٹے عصب کو منع نہیں کرتے۔ سرمہ لگانے کے سلسلہ میں ائمہ کے جو اختلافی اقوال ہیں وہ پیچھے حضرت ام سلمہ کی روایت کے ضمن میں بیان کئے جا چکے ہیں علامہ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ حنفی مسلک کے مطابق عدت والی عورت کو مجبوری کی حالت میں سرمہ لگانا جائز ہے ویسے جائز نہیں ہے۔ قسط اور اظفار یہ دونوں ایک قسم کی خوشبو ہیں قسط تو عود کو کہتے ہیں جس عام طور پر عورتیں یا بچے دھونی لیتے ہیں کرمانی نے کہا ہے کہ قسط عود ہندی کو کہتے ہیں جسے اگر یا کوٹ کہا جاتا ہے۔ اظفار ایک قسم کا عطر ہوتا تھا یہ دونوں خوشبوئیں اس زمانہ میں عام طور پر عرب کی عورتیں حیض سے پاک ہوتے وقت بدبو دور کرنے کے لئے شرمگاہ میں استعمال کرتی تھیں۔ چناچہ آنحضرت ﷺ نے عدت والی عورت کو خوشبو استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے لیکن حائضہ کو حیض سے پاک ہوتے وقت بدبو دور کرنے کے لئے ان دونوں خوشبوؤں کے استعمال کی اجازت دے دی۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جس عورت کا خاوند مرگیا ہو اس پر عدت کے زمانہ میں سوگ کرنا واجب ہے چناچہ اس پر تمام علماء کا اجماع و اتفاق ہے البتہ سوگ کی تفصیل میں اختلافی اقوال ہیں۔ حضرت امام شافعی اور جمہور علماء تو یہ کہتے ہیں کہ خاوند کی وفات کے بعد ہر عدت والی عورت پر سوگ کرنا واجب ہے خواہ وہ مدخول بہا ہو یعنی جس کے ساتھ جماع ہوچکا ہو یا غیر مدخول بہا ہو ( یعنی جس کے ساتھ جماع نہ ہوا ہو) خواہ چھوٹی ہو یا بڑی خواہ باکرہ ہو یا ثیبہ خواہ آزاد ہو یا لونڈی اور خواہ مسلمہ ہو یا کافرہ۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک سات قسم کی عورتوں پر سوگ واجب نہیں ہے جس کی تفصیل درمختار کے مطابق یہ ہے کہ (١) کافرہ (٢) مجنونہ (٣) صغیرہ (٤) معتدہ عتق یعنی وہ ام ولد جو اپنے مولیٰ کی طرف سے آزاد کئے جانے یا اپنے مولیٰ کے مرجانے کی وجہ سے عدت میں بیٹھی ہو (٥) وہ عورت جو نکاح فاسد کی عدت میں بیٹھی ہو (٦) وہ عورت جو وطی بالشبہ کی عدت میں بیٹھی ہو یعنی جس سے کسی غیر مرد نے غلط فہمی میں جماع کرلیا ہو اور اس کی وجہ سے عدت میں بیٹھی ہو (٧) وہ عورت جو طلاق رجعی کی عدت میں بیٹھی ہو۔ جیسا کہ حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ خاوند کے علاوہ کسی کے مرنے پر عورت کو تین دن سے زیادہ سوگ کرنا جائز نہیں ہے اور تین دن تک بھی صرف مباح ہے واجب نہیں ہے چناچہ اگر تین دنوں میں بھی خاوند سوگ کرنے سے منع کرے تو اس کو اس کا حق ہے کیونکہ بیوی کے بناؤ سنگار کا تعلق خاوند کے حق سے ہے اگر تین دنوں میں خاوند کی خواہش یہ ہو کہ وہ سوگ ترک کر کے بناؤ سنگار کرے اور بیوی خاوند کا کہنا نہ مانے تو اس بات پر بیوی کو مارنا خاوند کے لئے جائز ہے کیونکہ سوگ کرنے میں خاوند کا حق فوت ہوجاتا ہے۔ سوگ کے احکام و مسائل جس عورت کو طلاق رجعی ملی ہو اس کی عدت تو فقط اتنی ہی ہے کہ وہ مقررہ مدت تک گھر سے باہر نہ نکلے اور نہ کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے اس کے لئے بناؤ سنگھار وغیرہ درست ہے اور جس عورت کو جو مکلفہ مسلمہ یعنی بالغ و عاقل اور مسلمان ہو تین طلاقیں مل گئیں یا ایک طلاق بائن یا اور کسی طرح سے نکاح ٹوٹ گیا یا خاوند مرگیا تو ان سب صورتوں میں اس کے لئے یہ حکم ہے کہ جب تک عدت میں رہے تب تک نہ تو گھر سے باہر نکلے نہ اپنا دوسرا نکاح کرے اور نہ بناؤ سنگھار کرے یہ سب باتیں اس پر حرام ہیں۔ اس سنگھار نہ کرنے اور میلے کچیلے رہنے کو سوگ کہتے ہیں۔ جب تک عدت ختم نہ ہو تب تک خوشبو لگانا کپڑے بسانا زیور گہنا پہننا پھول پہننا سرمہ لگانا پان کھا کر منہ لال کرنا مسی مسلنا سر میں تیل ڈالنا کنگھی کرنا مہندی لگانا اچھے کپڑے پہننا ریشمی اور رنگے ہوئے بہار دار کپڑے پہننا یہ سب باتیں ممنوع ہیں۔ ہاں مجبوری کی حالت میں اگر ان میں سے کوئی چیز اختیار کی گئی تو کوئی مضائقہ نہیں مثلا سر میں درد ہونے کی وجہ سے تیل ڈالنے کی ضرورت پڑے تو بغیر خوشبو کا تیل ڈالنا درست ہے اسی طرح دوا کے لئے سرمہ لگانا بھی ضرورت کے وقت درست ہے۔ جس عورت کا نکاح صحیح نہیں ہوا تھا بلکہ بےقاعدہ ہوگیا تھا اور وہ فسخ کرا دیا گیا یا خاوند مر یا تو ایسی عورت پر سوگ کرنا واجب نہیں ہے۔ اسی طرح جو عورت عتق یعنی آزادی کی عدت میں ہو جیسے ام ولد کو اس کا مولیٰ آزاد کر دے اور وہ اس کیوجہ سے عدت میں بیٹھی ہو تو اس پر سوگ کرنا واجب نہیں ہے۔ جو عورت عدت میں بیٹھی ہو اس کے پاس نکاح کا پیغام بھیجنا جائز نہیں ہے ہاں نکاح کا کنایۃ یعنی یہ کہنا کہ میں اس عورت سے نکاح کرنے کی خواہش رکھتا ہوں یا اس سے نکاح کرنے کا میں ارادہ رکھتا ہوں جائز ہے، مگر یہ بھی اس صورت میں جائز ہے کہ جب کہ وہ عورت وفات کی عدت میں بیٹھی ہو اگر طلاق کی عدت میں بیٹھی ہو تو یہ بھی جائز نہیں ہے۔ جو عورت طلاق کی عدت میں بیٹھی ہو اس کو تو کسی بھی وقت گھر سے نکلنا جائز نہیں ہے ہاں جو عورت وفات کی عدت میں بیٹھی ہو وہ دن میں نکل سکتی ہے اور کچھ رات تک نکل سکتی ہے مگر رات اپنے گھر سے علاوہ دوسری جگہ بسر نہ کرے لونڈی اپنے آقا کے کام سے گھر سے باہر نکل سکتی ہے۔ معتدہ (عدت والی عورت) کو اپنی عدت کے دن اسی مکان میں گزارنے چاہئیں جس میں وہ فسخ و طلاق یا خاوند کی موت کے وقت سکونت پذیر ہو ہاں اگر اس مکان سے زبردستی نکالا جائے اس مکان میں اپنے مال و اسباب کے ضائع ہونے کا خوف ہو یا اس مکان کے گر پڑنے کا خطرہ ہو اور یا اس مکان کا کرایہ ادا کرنے پر قادر نہ ہو تو ان صورتوں میں کسی دوسرے مکان میں عدت بیٹھنا جائز ہے۔ اسی طرح اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ میاں بیوی ایک ہی مکان میں رہیں اگرچہ وہ طلاق بائن کی عدت میں بیٹھی ہو بشرطیکہ دونوں کے درمیان پردہ حائل رہے ہاں اگر خاوند فاسق اور ناقابل اعتماد ہو یا مکان تنگ ہو تو عورت اس گھر سے منتقل ہوجائے اگرچہ خاوند کا منتقل ہونا اولی ہے اور اگر میاں بیوی کے ایک ہی مکان میں رہنے کی صورت میں وہ دونوں اپنے ساتھ کسی ایسی معتمد عورت کو رکھ لیں جو دونوں کو ایک دوسرے سے الگ رکھنے پر قادر ہو تو بہت ہی اچھا ہے۔ اگر مرد عورت کو اپنے ساتھ سفر میں لے گیا اور پھر سفر کے دوران اس کو طلاق بائن یا تین طلاقیں دیدیں یا مرد مرگیا اور عورت کا شہر یعنی اس کا وطن اس جگہ سے کہ جہاں طلاق یا وفات واقع ہوئی ہے سفر شرعی یعنی تین دن کے سفر سے کم مسافت پر واقع ہو تو وہ اپنے شہر واپس آجائے اور اگر اس مقام سے جہاں طلاق یا وفات ہوئی ہے اس کا شہر سفر شرعی ( یعنی تین دن کی مسافت) کے بقدر یا اس سے زائد فاصلہ پر واقع ہے اور وہ منزل مقصود (جہاں کے لئے سفر اختیار کیا تھا) اس مسافت سے کم فاصلہ پر واقع ہے تو اپنے شہر واپس آنے کی بجائے منزل مقصود چلی جائے اور ان دونوں صورتوں میں خواہ اس کا ولی اس کے ساتھ ہو یا ساتھ نہ ہو لیکن بہتر یہ ہے کہ وہ عورت طلاق یا وفات کے وقت کسی شہر میں ہو تو وہاں سے عدت گزارے بغیر نہ نکلے تو کسی محرم کا ساتھ ہونا ضروری ہے لیکن صاحبین یعنی حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد یہ فرماتے ہیں کہ اگر اس کا کوئی محرم اس کے ساتھ ہو تو پھر عدت سے پہلے بھی اس شہر سے نکل سکتی ہے۔
معتدہ کو بلاضرورت ایک مکان سے دوسرے مکان میں منتقل ہوناجائز نہیں
عن زينب بنت كعب : أن الفريعة بنت مالك بن سنان وهي أخت أبي سعيد الخدري أخبرتها أنها جاءت رسول الله صلى الله عليه و سلم تسأله أن ترجع إلى أهلها في بني خدرة فإن زوجها خرج في طلب أعبد له أبقوا فقتلوه قالت : فسألت رسول الله صلى الله عليه و سلم أن أرجع إلى أهلي فإن زوجي لم يتركني في منزل يملكه ولا نفقة فقالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : نعم . فانصرفت حتى إذا كنت في الحجرة أو في المسجد دعاني فقال : امكثي في بيتك حتى يبلغ الكتاب أجله . قالت : فاعتددت فيه أربعة أشهر وعشرا . رواه مالك والترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه والدارمي
حضرت زینب بنت کعب فرماتی ہیں کہ فریعہ بنت مالک بن سنان نے جو حضرت ابوسعید خدری کی بہن ہیں مجھے بتایا کہ وہ فریعہ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں یہ پوچھنے کے لئے حاضر ہوئیں کہ کیا وہ اپنی عدت گزارنے کے لئے اپنے میکہ بنی خدرہ میں منتقل ہوسکتی ہیں کیونکہ ان کے شوہر اپنے بھاگے ہوئے غلاموں کی تلاش میں گئے تھے کہ ان غلاموں نے انہیں مار ڈالا چناچہ فریعہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ سے پوچھا کہ میں اپنے میکے میں آجاؤں کیونکہ میرے شوہر نے مجھے جس مکان میں چھوڑا ہے وہ اس کے مالک نہیں تھے (یعنی میں جس مکان میں رہتی ہوں وہ ان کی ملکیت میں نہیں تھا) اور نہ ہی میرے پاس کھانے پینے کے خرچ کا کوئی انتظام ہے۔ فریعہ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے یہ سن کر فرمایا کہ بہتر ہے کہ تم اپنے میکے چلی جاؤ چناچہ میں یہ اجازت حاصل کر کے واپس ہوئی اور جب حجرہ مبارکہ کے صحن میں یا مسجد نبوی میں پہنچی تو آپ ﷺ نے مجھے پھر بلایا اور فرمایا تم اپنے اسی گھر میں عدت میں بیٹھو جس میں تمہارے شوہر کے مرنے کی خبر آئی ہے اگرچہ وہ تمہارے شوہر کی ملکیت میں نہیں ہے تاآنکہ کتاب یعنی عدت اپنی مدت تک پہنچ جائے فریعہ کہتی ہیں کہ میں آنحضرت ﷺ کے اس حکم کے مطابق چار مہینہ دس دن تک اسی مکان میں عدت میں بیٹھی رہی ( مالک ترمذی ابوداؤد نسائی ابن ماجہ دارمی)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ معتدہ (یعنی عدت میں بیٹھی ہوئی عورت) کو بلا ضرورت ایک مکان سے دوسرے مکان میں اٹھ آنا درست نہیں ہے۔ شرح السنۃ میں لکھا ہے کہ اس بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں کہ جو عورت اپنے خاوند کے مرجانے کی وجہ سے عدت میں بیٹھی ہو اس کے لئے سکنی یعنی شوہر ہی کے مکان میں عدت گزارنا) ضروری ہے یا نہیں چناچہ اس سلسلہ میں حضرت امام شافعی کے دو قول ہیں جس میں زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ اس کے لئے سکنی ضروری ہے حضرت عمر حضرت عثمان حضرت عبداللہ ابن مسعود اور حضرت عبداللہ ابن عمر بھی اسی کے قائل تھے ان کی طرف سے یہی حدیث بطور دلیل پیش کی جاتی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے پہلے تو فریعہ کو مکان منتقل کرنے کی اجازت دے دی مگر پھر آپ ﷺ نے ان کو منتقل ہونے سے منع کردیا اور یہ حکم دیا کہ وہ اپنے شوہر کے اسی مکان میں عدت کے دن گزاریں اس سے ثابت ہوا کہ فریعہ کو پہلے آپ ﷺ کا اجازت دینا آپ ﷺ کے اس حدیث (امکثی فی بیتک) الخ تم اپنے اسی گھر میں عدت میں بیٹھو) کے ذریعہ منسوخ ہوگیا۔ حضرت امام شافعی کا دوسرا قول یہ ہے کہ معتدہ وفات کے لئے سکنی ضروری نہیں ہے بلکہ وہ جہاں چاہے عدت میں بیٹھ جائے اور یہی قول حضرت علی حضرت ابن عباس اور حضرت عائشہ کا بھی تھا اس قول کی دلیل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فریعہ کو مکان میں منتقل ہونے کی اجازت عطا فرما دی تھی اور پھر بعد میں آپ ﷺ نے ان کو اپنے ہی مکان میں عدت گزارنے کا جو حکم فرمایا وہ استحباب کے طور پر تھا اس مسئلہ میں حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا جو مسلک ہے وہ انشاء اللہ باب النفقات کے ابتداء میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا جائے گا۔
عدت کے دنوں میں بناؤ سنگار کی کوئی بھی چیز استعمال نہ کیجائے
وعن أم سلمة قالت : دخل علي رسول الله صلى الله عليه و سلم حين توفي أبو سلمة وقد جعلت علي صبرا فقال : ما هذا يا أم سلمة ؟ . قلت : إنما هو صبر ليس فيه طيب فقال : إنه يشب الوجه فلا تجعليه إلا بالليل وتنزعيه بالنهار ولا تمتشطي بالطيب ولا بالحناء فإنه خضاب . رواه أبو داود والنسائي (2/257) 3334 - [ 11 ] ( لم تتم دراسته ) وعنها عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : المتوفى عنها زوجها لا تلبس المعصفر من الثياب ولا الممشقة ولا الحلي ولا تختضب ولا تكتحل . رواه أبو داود والنسائي
اور حضرت ام سلمہ جو آنحضرت ﷺ کی زوجہ مطہرہ ہیں روایت کرتی ہیں کہ جب میرے پہلے شوہر ابوسلمہ کا انتقال ہوا اور میں عدت میں بیٹھی ہوئی تھی تو ایک دن رسول کریم ﷺ میرے گھر تشریف لائے اس وقت میں نے اپنے منہ پر ایلوا لگا رکھا تھا آپ ﷺ نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ ام سلمہ یہ کیا ہے یعنی تم نے عدت کے دنوں میں منہ پر یہ کیا لگا رکھا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ یہ تو ایلوا ہے جس میں کسی قسم کی کوئی خوشبو نہیں ہے آپ ﷺ نے فرمایا مگر ایلوا چہرے کو جوان بنا دیتا ہے یعنی ایلوا لگانے سے چہرہ چمکدار ہوجاتا ہے اور اس کا رنگ نکھر جاتا ہے لہذا تم اس کو نہ لگاؤ ہاں اگر کسی وجہ سے لگانا ضروری ہی ہو تو) رات میں لگا لو اور دن میں صاف کر ڈالو کیونکہ رات میں استعمال کرنے سے بناؤ سنگار کا گمان ہوتا ہے) اسی طرح خوشبو دار کنگھی بھی نہ کرو اور نہ مہندی کے ساتھ کنگھی کرو کیونکہ مہندی سرخ رنگ لئے ہوتی ہے اور اس میں خوشبو ہوتی ہے جب کہ یہ سوگ کی حالت میں ممنوع ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! پھر میں کس چیز کے ساتھ کنگھی کروں یعنی اپنے بالوں کو کس چیز سے صاف کروں؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا کہ بیری کے پتوں کے ساتھ کنگھی کرو اور ان پتوں سے اپنے سر کو غلاف کی طرح ڈھانپ لو یعنی بیری کے پتے اپنے سر پر اتنی مقدار میں ڈالو کہ وہ تمہارے سر کو غلاف کی طرح ڈھانپ لیں ( ابوداؤد نسائی)
تشریح
خوشبودار تیل کے بارے میں تو علماء کا اتفاق و اجماع ہے کہ عدت والی عورت اس کا استعمال نہ کرے البتہ بغیر خوشبو کے تیل مثلا روغن زیتون و تل کے بارے میں اختلافی اقوال ہیں چناچہ امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام شافعی تو بغیر خوشبو کا تیل لگانے بھی منع کرتے ہیں البتہ ضرورت و مجبوری کی حالت میں اس کی اجازت دیتے ہیں اور حضرت امام مالک حضرت امام احمد اور علماء ظواہر نے عدت والی عورت کے لئے ایسے تیل کے استعمال کو جائز رکھا ہے جس میں خوشبو نہ ہو۔ اور حضرت ام سلمہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جس عورت کا خاوند مرجائے وہ نہ کسم میں رنگا ہوا کپڑا پہنے نہ گیرہ میں رنگا ہوا کپڑا پہنے نہ زیور پہنے نہ ہاتھ پاؤں اور بالوں پر مہندی لگائے اور نہ سرمہ لگائے ( ابوداؤد نسائی) تشریح اگر سیاہ اور خاکستری رنگ کے کپڑے پہنے تو کوئی مضائقہ نہیں اسی طرح کسم میں زیادہ دنوں کا رنگا ہوا کپڑا کہ جس سے خوشبو نہ آتی ہو پہننا بھی درست ہے ہدایہ میں لکھا ہے کہ مذکورہ بالا عورت کو کسی عذر مثلا کھجلی یا جوئیں یا کسی بیماری کیوجہ سے ریشمی کپڑا پہننا بھی جائز ہے۔
مطلقہ کی عدت کے بارے میں ایک بحث
عن سليمان بن يسار : أن الأحوص هلك بالشام حين دخلت امرأته في الدم من الحيضة الثالثة وقد كان طلقها فكتب معاوية بن أبي سفيان إلى زيد بن ثابت يسأله عن ذلك فكتب إليه زيد : إنها إذا دخلت في الدم من الحيضة الثالثة فقد برئت منه وبرئ منها لا يرثها ولا ترثه . رواه مالك
حضرت سلیمان ابن یسار کہتے ہیں کہ احوص نے ملک شام میں اس وقت وفات پائی جب کہ ان کی بیوی کا تیسرا حیض شروع ہوچکا تھا اور احوص نے اپنے مرنے سے پہلے ان کو طلاق دیدی تھی چناچہ حضرت معاویہ ابن ابوسفیان نے اس مسئلہ کو دریافت کرنے کے لئے حضرت زید ابن ثابت کو خط لکھا، حضرت زید نے حضرت معاویہ کو جواب میں لکھا کہ جب اس عورت کا تیسرا حیض شروع ہوگیا تو وہ احوس سے الگ ہوگئی اور احوس اس سے الگ ہوگئے نہ تو احوس اس کے وارث ہوئے اور نہ وہ احوص کی وارث ہوئی ( مالک)
تشریح
صورت مسئلہ یہ تھی کہ حضرت احوص نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور وہ تین حیض آنے تک کے لئے عدت میں بیٹھ گئیں جیسا کہ طلاق کی عدت کا حکم ہے پھر ابھی ان کی عدت پوری نہیں ہوئی تھی اور تیرا حیض شروع ہوا تھا کہ احوص کا انتقال ہوگیا اس صورت میں انہیں چار مہینے دس دن تک وفات کی عدت میں بیٹھنا چاہئے تھا چناچہ حضرت معاویہ نے حضرت زید ابن ثابت سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اس صورت میں عورت خاوند کی وارث ہوگی یا نہیں؟ حضرت زید نے حضرت معاویہ کو لکھا کہ جب تیسرا حیض شروع ہوگیا تو محض تیسرے حیض کا خون دیکھتے ہی اس کا تعلق منقطع ہوگیا۔ اور زوجیت کی پابندی سے آزاد ہوگئی کیونکہ اس صورت میں طلاق کی عدت یا تو اس اعتبار سے کہ اس کی عدت کا زیادہ حصہ گزر گیا ہے یا اس اعتبار سے کہ تیسرا حیض شروع ہوگیا پوری ہوگئی ہے اس صورت میں وفات کی عدت ساقط ہوگئی لہذا جس طرح طلاق کی عدت پوری ہوجانے پر اگر مرد زندہ ہوتا تو وہ عورت کا وارث نہیں ہوسکتا تھا اسی طرح اب مذکورہ مسئلہ میں جب کہ مرد مرگیا ہو تو عورت اس کی وارث نہیں ہوگی۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت معاویہ کا مقصد صرف یہ معلوم کرنا تھا کہ وہ عورت احوص کی وارث ہوگی یا نہیں؟ جبکہ یہ احتمال بھی ہے کہ حضرت معاویہ کا مقصد عدت کے بارے میں معلوم کرنا تھا کہ آیا یہ عورت اپنی طلاق کی عدت جاری رکھے یعنی تیسرا حیض جو شروع ہوچکا ہے اس سے پاک ہو کر عدت سے نکل آئے یا اب وفات کی عدت بیٹھ جائے۔ ملا علی قاری لکھتے ہیں کہ اس موقع پر طیبی (شافعی) نے لکھا ہے کہ اس سے صریحا یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں مطلقہ عورت کی عدت کے بارے میں جو یہ حکم دیا ہے کہ ا یت (والمطلقت یتربصن بانفسہن ثلثۃ قروء) اور طلاق دی ہوئی عورتیں اپنے آپ کو روکے رکھیں تین حیض ختم ہونے تک تو اس میں قروء سے مراد طہر ہیں گویا طیبی کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ یہ حدیث شوافع کی دلیل ہے کیونکہ ان کے نزدیک مطلقہ کی عدت تین حیض نہیں بلکہ تین طہر ہیں حالانکہ طیبی کی یہ بات کہ اس حدیث سے شوافع کا مسلک ثابت ہوتا ہے کوئی مضبوط بات نہیں ہے کیونکہ اول تو یہ ایک صحابی حضرت زید بن ثابت کا مسلک ہے دوسرے یہ کہ خود انہی حضرت زید سے اس امر کے برخلاف بھی منقول ہے چناچہ ان سے یہ منقول ہے کہ حدیث (عدۃ لامۃ حیضتان) یعنی لونڈی کی عدت دو حیض ہیں پھر اس کے علاوہ یہ قطعا معلوم نہیں ہوتا کہ حضرت معاویہ نے حضرت زید کے قول پر عمل بھی کیا تھا یا نہیں۔ حنفیہ کے نزدیک ثلثۃ قروء سے مراد تین حیض ہیں چناچہ خلفاء راشدین اور اکثر صحابہ کا بھی یہ قول ہے نیز تیرہ صحابیوں سے منقول ہے کہ وہ یہ کہا کرتے تھے کہ بیوی طلاق کی عدت میں جب تک تیسرے حیض سے پاک نہ ہوجائے مرد یعنی خاوند کہ جس نے اس کو طلاق دی ہے اس کا زیادہ حق رکھتا ہے (مطلب یہ کہ تیسرے حیض سے پاک ہونے کے بعد ہی عدت کی مدت پوری ہوتی ہے اور اس بیوی سے مرد کا مکمل انقطاع ہوجاتا ہے اس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ قروء سے حیض مراد ہیں ملا علی قاری نے اپنی کتاب میں اس موقع پر تفصیلی بحث کی ہے اور حنفیہ کے بہت سے دلائل لکھے ہیں۔
مطلقہ کی عدت کا ایک مسئلہ
وعن سعيد بن المسيب قال : قال عمر بن الخطاب رضي الله عنه أيما امرأة طلقت فحاضت حيضة أو حيضتين ثم رفعتها حيضتها فإنها تنتظر تسعة أشهر فإن بان لها حمل فذلك وإلا اعتدت بعد التسعة الأشهر ثلاثة أشهر ثم حلت . رواه مالك
اور سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا جس عورت کو طلاق دی گئی ہو اور اس کو ایک یا دو بار حیض آ کر پھر موقوف ہوگیا ہو تو وہ نو مہینے تک انتظار کرے اگر اس عرصہ میں حمل ظاہر ہوجائے تو اس کا حکم ظاہر ہے کہ جب ولادت ہوگی تو عدت پوری ہوگی اور حمل ظاہر نہ ہو تو پھر نو مہینے کے بعد تین مہینہ تک عدت کے دن گزارے اور اس کے بعد حلال ہو یعنی عدت سے نکل آئے) مالک)
شریعت میں استبراء کا مطلب ہے لونڈی کے رحم کی حمل سے پاکی صفائی طلب کرنا اس کی فقہی تفصیل یہ ہے کہ جب کسی شخص کی ملکیت میں کوئی لونڈی آئے خواہ اس نے اس کو خریدا ہو یا کسی وصیت میں ملی ہو، یا کسی نے ہبہ کی ہو اور یا میراث میں ملی ہو تو اس شخص کو اس لونڈی سے اس وقت تک جماع کرنا یا مساس کرنا اور یا بوسہ لینا وغیرہ حرام ہے جب تک کہ استبراء نہ کرلے یعنی اس کے قبضہ میں آنے کے بعد ایک حیض نہ آجائے اگر اس کو حیض آتا ہو یا نہ آنے کی صورت میں اس پر ایک مہینہ کی مدت نہ گزر جائے اور یا حاملہ ہونے کی صورت میں ولادت نہ ہوجائے اور یہ استبراء ہر حال میں کرنا ضروری ہے خواہ وہ باکرہ ہی کیوں نہ ہو یا اس کو کسی عورت نے کیوں نہ خریدا ہو یا وہ کسی محرم یا اپنے نابالغ بچہ کے مال سے بذریعہ وراثت وغیرہ کیوں نہ حاصل ہوئی ہو اگرچہ ان صورتوں میں قیاس کا تقاضا تو یہ ہے کہ استبراء واجب نہ ہونا چاہئے۔ کیونکہ استبراء میں حکمت یہ ہے کہ اس طریقہ سے اس کے رحم کا کسی غیر کے نطفہ سے پاک و نامعلوم ہوجائے تاکہ اس کے نطفہ کا کسی غیر کے نطفہ کے ساتھ اختلاط نہ ہو اور ظاہر ہے کہ ان صورتوں میں کسی غیر کے نطفہ کا کوئی احتمال نہیں ہے لیکن چونکہ یہ صریح نص ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اوطاس کے غزوہ کے موقع پر حاصل ہونیوالی لونڈیوں کے بارے میں فرمایا کہ خبردار حاملہ لونڈی سے اس وقت تک صحبت نہ کی جائے جب کہ اس کے ولادت نہ ہوجائے اور غیر حاملہ سے اس وقت تک صحبت نہ کی جائے جب تک کہ اس کو ایک حیض نہ آجائے اور ظاہر ہے کہ ان لونڈیوں میں باکرہ بھی ہوں گی اور ایسی لونڈیاں بھی ہوں گی جو باکرہ کی نطفہ کے اختلاط کا احتمال نہیں رکھتی ہوں گی اس لئے قیاس کو نظر انداز کر کے ان صورتوں میں بھی استبراء کو واجب قرار دیا ہے۔
استبراء کے بغیر لونڈی سے جماع کرنیوالا لعنت کا مستحق ہے
عن أبي الدرداء قال : مر النبي صلى الله عليه و سلم بامرأة مجح فسأل عنها فقالوا : أمة لفلان قال : أيلم بها ؟ قالوا : نعم . قال : لقد هممت أن ألعنه لعنا يدخل معه في قبره كيف يستخدمه وهو لا يحل له ؟ أم كيف يورثه وهو لا يحل له ؟ . رواه مسلم
حضرت ابودرداء کہتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ ایک عورت کے قریب سے گزرے جس کے جلد ہی ولادت ہونیوالی تھی آپ ﷺ نے اس کے بارے میں دریافت فرمایا کہ یہ کوئی آزاد عورت ہے یا لونڈی ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ فلاں شخص کی لونڈی ہے آپ ﷺ نے پوچھا کہ کیا وہ شخص اس سے صحبت کرتا ہے صحابہ نے عرض کیا کہ ہاں آپ ﷺ نے فرمایا میں نے ارادہ کیا کہ اس شخص پر ایسی لعنت کروں جو اس کے ساتھ قبر میں بھی جائے یعنی ایسی لعنت جو ہمیشہ رہے بایں طور کہ اس کا اثر اس کے مرنے کے بعد باقی رہے وہ کس طرح اپنے بیٹے سے خدمت کو کہے گا جب کہ بیٹے سے خدمت کے لئے کہنا یا اس کو غلام بنانا حلال نہیں ہے یا اس کو کس طرح اپنا وارث قرار دے گا جب کہ غیر کے بیٹے کو اپنا وارث بنانا حلال نہیں ہے ( مسلم)
تشریح
آنحضرت ﷺ نے اس شخص پر لعنت کا ارادہ اس لئے فرمایا کہ جب اس نے ایک لونڈی سے جماع کیا جو حالت حمل میں اس کی ملکیت میں آئی تو اس استبراء کو ترک کیا حالانکہ وہ فرض ہے وہ کس طرح اپنے بیٹے سے خدمت کو کہے گا الخ، آپ ﷺ نے اس ارشاد کے ذریعہ ترک استبراء پر لعنت کے سبب کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنی لونڈی سے بغیر استبراء کے صحبت کرے گا اور پھر اس سے بچہ پیدا ہوگا تو اس بچہ کے بارے میں یا یہ احتمال ہوگا کہ وہ اس شخص کے نطفہ سے جس کی ملکیت سے نکل کر یہ لونڈی بغیر استبراء کے صحبت کرنیوالے کی ملکیت میں آئی ہے تو وہ اس صورت میں اگر وہ شخص کہ جس نے بغیر استبراء کے اس لونڈی سے جماع کیا ہے اس بچہ کے نسب کا اقرار کرے گا یعنی یہ کہے گا کہ یہ بچہ میرا ہے جب کہ حقیقت میں وہ اس کے نطفہ سے نہیں ہے تو وہ بچہ اس شخص کا وارث ہوگا لہذا اس طرح ایک دوسرے شخص کے بچہ کا اپنا وارث بنانا لازم آئے گا جو حرام ہے اور اس پر وہ لعنت کا مستحق ہوگا یا پھر یہ صورت ہوگی کہ وہ اس بچہ کے نسب سے انکار کر دے گا جب کہ اس احتمال کے مطابق حققت میں وہ بچہ اس کا بیٹا ہوگا لہذا اس طرح اپنے ہی بیٹے سے غلامی کرانا اور اپنا نسب منقطع کرنا لازم آئے گا اور یہ بھی لعنت کو مستحق کرنیوالی صورت ہے لہذا ثابت ہوا کہ تحقیق حال کے لئے استبراء نہایت ضروری ہے۔