Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 163 of 317

3241Mishkaat-al-Masabih

کوئی اپنی باری اپنی کسی سوکن کو دے سکتی ہے

وعنها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يسأل في مرضه الذي مات فيه : أين أنا غدا ؟ يريد يوم عائشة فأذن له أزواجه يكون حيث شاء فكان في بيت عائشة حتى مات عندها . رواه البخاري

اور حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ اپنی اس بیماری میں کہ جس میں آپ ﷺ نے وفات پائی (روزانہ) یہ پوچھا کرتے تھے کہ کل میں کہاں رہوں گا کہ کل میں کس بیوی کے گھر رہوں گا اور اس دریافت کرنے سے آپ کا منشاء یہ معلوم ہوتا تھا کہ عائشہ کی باری کس دن ہے کیونکہ آپ ﷺ کو حضرت عائشہ ؓ بہت زیادہ محبت تھی اس لئے آپ ﷺ ان کی باری کے شدت سے منتظر رہتے تھے) چناچہ ازواج مطہرات نے آپ ﷺ کے اس قلبی اضطراب کو محسوس کیا تو سب نے یہ اجازت دیدی کہ آپ ﷺ جس کے ہاں چاہیں رہیں پھر آپ ﷺ حضرت عائشہ ہی کے ہاں مقیم رہے یہاں تک کہ انہیں کے پاس آپ نے وفات پائی (بخاری) تشریح ( یرید یوم عائشۃ) ما قبل جملہ کی وضاحت ہے کہ یعنی آپ ﷺ کا روزانہ پوچھنا ازواج مطہرات سے طلب اجازت کے لئے تھا کہ تمام ازواج مطہرات آپ ﷺ کو حضرت عائشہ ہی کے ہاں رہنے کی اجازت دیدیں چناچہ یہ جملہ (فاذن لہ ازواجہ) ازواج مطہرات نے آپ ﷺ کو اجازت دیدی اسی بات پر دلالت کرتا ہے۔

3242Mishkaat-al-Masabih

سفر میں ساتھ لے جانے کے لئے کسی بیوی کا انتخاب قرعہ کے ذریعہ کیا جائے

وعنها قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أراد سفرا أقرع بين نسائه فأيهن خرج سهمها خرج بها معه (2/233)

اور حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ جب رسول کریم ﷺ سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی بیوی کے درمیان قرعہ ڈالتے ان میں سے جس کا نام قرعہ میں نکلتا اسی کو آپ ﷺ اپنے ساتھ سفر میں لے جاتے ( بخاری و مسلم)

3243Mishkaat-al-Masabih

سفر میں ساتھ لے جانے کے لئے کسی بیوی کا انتخاب قرعہ کے ذریعہ کیا جائے

وعن أبي قلابة عن أنس قال : من السنة إذا تزوج الرجل البكر على الثيب أقام عندها سبعا وقسم إذا تزوج الثيب أقام عندها ثلاثا ثم قسم . قال أبو قلابة : ولو شئت لقلت : إن أنسا رفعه إلى النبي صلى الله عليه و سلم

اور حضرت ابوقلابہ تابعی حضرت انس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا یہ مسنون ہے کہ جب کوئی شخص ثیبہ کی موجودگی میں کسی باکرہ سے نکاح کرے تو سات رات تک اس کے پاس رہے اور پھر اس میں اور پرانی بیویوں کے درمیان باری مقرر کر دے اور کسی ثیب یعنی کسی بیوہ یا مطلقہ عورت سے نکاح کرے تو اس کے پاس تین رات رہے اور پھر باری مقرر کر دے۔ حضرت ابوقلابہ کہتے ہیں کہ اگر میں چاہتا تو یہ کہتا کہ حضرت انس نے یہ حدیث آنحضرت ﷺ سے نقل کی ہے (بخاری ومسلم) تشریح حضرت امام شافعی نے اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی شخص کے نکاح میں کئی عورتیں ہوں یا ایک عورت ہو اور پھر وہ ایک عورت سے نکاح کرے تو اگر وہ عورت باکرہ (کنواری) ہو تو اس کے پاس سات رات تک رہے اور اگر وہ ثیبہ (یعنی بیوہ یا مطلقہ ہو) تو اس کے پاس تین رات تک رہے اور پھر نئی اور پرانی بیویوں کے درمیان باری مقرر کر دے کہ ہر ایک کے پاس برابر برابر ایک ایک رات جایا کرے لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک اس سلسلہ میں باکرہ اور ثیب یا نئی اور پرانی کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ باری کے اعتبار سے سب برابر ہیں انہوں نے ان دونوں حدیثوں پر عمل کیا ہے جو اس باب کی دوسری فصل میں آئیں گی اور جن میں اس قسم کا فرق و امتیاز بیان نہیں کیا گیا ہے، امام اعظم کے نزدیک اس حدیث کے یہ معنی ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی ایک یا ایک سے زائد بیویوں کی موجودگی میں کسی باکرہ سے نکاح کرے تو اس کے پاس سات رات تک رہے اور پھر پہلی بیویوں میں سے بھی ہر ایک کے پاس سات سات رات تک رہے اور اگر ثیبہ کے ساتھ نکاح کرے تو اس کے پاس تین رات تک رہے اور پھر پہلی بیویوں سے بھی ہر ایک کے پاس تین تین رات تک رہے۔ روایت کے آخر میں ابوقلابہ کا مطلب یہ ہے کہ اگر میں چاہتا تو اس حدیث کو مرفوع کہتا یعنی یہ کہتا کہ اس حدیث کو حضرت انس نے آنحضرت ﷺ سے نقل کیا ہے کیونکہ صحابہ کا یہ کہنا کہ یہ مسنون ہے مرفوع کے حکم میں ہوتا ہے۔

3244Mishkaat-al-Masabih

سفر میں ساتھ لے جانے کے لئے کسی بیوی کا انتخاب قرعہ کے ذریعہ کیا جائے

وعن أبي بكر بن عبد الرحمن : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم حين تزوج أم سلمة وأصبحت عنده قال لها : ليس بك على أهلك هوان إن شئت سبعت عندك وسبعت عندهن وإن شئت ثلثت عندك ودرت . قالت : ثلث . وفي رواية : أنه قال لها : للبكر سبع وللثيب ثلاث . رواه مسلم

اور حضرت ابوبکر بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے جب حضرت ام سلمہ ؓ سے نکاح کیا تو دوسرے دن صبح کو ان سے فرمایا کہ تمہارے خاندان والوں کے لئے تہاری طرف سے اس میں کوئی ذلت نہیں کہ اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات رات رہوں اور پھر دوسری تمام بیویوں کے پاس بھی سات سات رات تک رہوں اور اگر تم چاہو تو تمہارے پاس تین رات تک رہوں اور پھر اس کے بعد دورہ کروں (یعنی تمام بیویوں کے پاس بھی تین تین رات تک رہوں) حضرت ام سلمہ نے یہ سن کر کہا کہ آپ ﷺ میرے پاس تین راتیں رہئے۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت ام سلمہ ؓ سے فرمایا کہ کنواری کے پاس سات رات تک رہنا چاہئے اور ثیبہ کے پاس تین رات تک (مسلم) تشریح اس میں کوئی ذلت نہیں ہے کا مطلب یہ ہے کہ میں تمہارے پاس جو تین رات رہوں گا تو اس کی وجہ سے تمہارے خاندان و قبیلہ پر کسی حقارت یا ذلت کا داغ نہیں لگے گا کیونکہ تمہارے ساتھ میرا تین رات تک رہنا تمہاری صحبت و اختلاط سے بےرغبتی کے سبب سے نہیں ہے بلکہ شرعی حکم کی بناء پر ہے ان الفاظ کے ذریعہ گو آپ ﷺ نے اس عذر کی تمہید بیان فرمائی ہے جس کی وجہ سے شادی کی ابتداء کے ایام میں حضرت ام سلمہ کے ہاں شب باشی کے لئے صرف تین راتوں پر اکتفاء کرنا پڑا اور وہ عذر یہ شرعی حکم ہے کہ اگر اپنی پہلی بیوی کی موجودگی میں کسی اور عورت سے نکاح کیا جائے۔ تو اس نئی بیوی کے ساتھ مسلسل سات دن تک شب باشی اس صورت میں جائز ہوگی جب کہ وہ باکرہ کنواری ہو لیکن اس کے بعد پہلی بیویوں میں سے بھی ہر ایک کے ہاں سات سات دن تک شب باشی ہونی چاہئے۔ تا کہ باری کے اعتبار سے کسی کے ساتھ بےانصافی اور حق تلفی نہ ہو اور اگر وہ نئی بیوی ثیبہ ( کسی کی بیوہ یا مطلقہ) ہو تو پھر اس کے ساتھ ساتھ تین دین تک شب باشی کی جائے لیکن اس کے بعد پہلی بیویوں میں سے بھی ہر ایک کے ساتھ تین تین دن تک شب باشی کی جائے چناچہ آنحضرت ﷺ نے حضرت ام سلمہ کے سامنے اس مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم چاہو تو میں تمہارے یہاں بھی سات راتوں تک رہ سکتا ہوں لیکن یہ حق کنواری عورت کے لئے ہے اور تم ثیبہ ہو اور پھر یہ کہ بعد میں مجھے دوری تمام بیویوں کے پاس بھی سات سات راتوں تک رہنا ہوگا اس لئے یہتر یہ ہے کہ ثیبہ کے حق میں جو حکم ہے اسی کے مطابق میں تمہارے پاس تین دن تک شب باشی کروں اور پھر بعد میں ہر ایک بیوی کے ہاں تین تین دن تک شب باشی کر کے تمہارے سب کے درمیان باری مقرر کر دوں لہذا حضرت ام سلمہ نے منشاء شریعت اور مزاج نبوت کے مطابق اسی بات کو قبول کیا کہ آپ ﷺ کے ہاں تین رات تک رہیں۔

3245Mishkaat-al-Masabih

کوئی شخص اپنی تمام بیویوں سے یکساں محبت کرنے پر مجبور نہیں ہے

عن عائشة : أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يقسم بين نسائه فيعدل ويقول : اللهم هذا قسمي فيما أملك فلا تلمني فيما تملك ولا أملك . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه والدارمي

حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ اپنی بیویوں کے درمیان باری مقرر فرماتے اور عدل سے کام لیتے ( یعنی ان کے پاس رات رہنے کے سلسلہ میں برابری کا خیال رکھتے) اور پھر اس احتیاط و عدل کے باوجود یہ دعا مانگا کرتے کہ اے اللہ جس چیز کا میں مالک ہوں اس میں باری مقرر کردی ہے لہذا جس کا تو مالک ہے میں مالک نہیں ہوں اس پر مجھے ملامت نہ کیجئے! (ترمذی ابوداؤد نسائی ابن ماجہ دارمی) تشریح دعا کا مطلب یہ ہے کہ اپنی بیویوں کے پاس جانے کی باری مقرر کرنے اور ان کے نان نفقہ کا میں مالک ہوں لہذا ان چیزوں میں عدل و برابری کرنا میری ذمہ داری ہے جسے میں پورا کرتا ہوں اور کسی بھی بیوی کے ساتھ ناانصافی یا اس کی حق تلفی نہیں کرتا ہاں پیار و محبت کا معاملہ دل سے متعلق ہے جس پر میرا کوئی اختیار نہیں ہے۔ میں اس میں برابری نہیں کرسکتا اس لئے اگر مجھے کسی بیوی سے زیادہ محبت اور کسی سے کم محبت ہو تو چونکہ میرے قصد و ارادہ کو دخل نہیں ہوگا لہذا اس پر مجھ سے مؤ اخذہ نہ کیجئے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس شخص کے ایک سے زائد بیویاں ہوں تو اس پر یہ لازم ہے کہ وہ ان بیویوں کے پاس جائے ان کے ہاں شب گزارے اور ان کے نان و نفقہ میں پورا پورا عدل کرے اور ان چیزوں میں ان کے درمیان اس طرح برابری کرے کہ کسی بھی بیوی کو فرق و امتیاز کی شکایت نہ ہو ہاں پیار و محبت مباشرت و جماع اور جنسی لطف حاصل کرنے کے بارے میں عدل و برابری لازم نہیں ہوگی کیونکہ یہ چیزیں دل و طیبعت سے متعلق ہیں جس پر کسی انسان کا اختیار نہیں ہوتا۔

3246Mishkaat-al-Masabih

اپنی بیویوں کے درمیان عدل وبرابری نہ کرنیوالے کے بارے میں وعید

وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إذا كانت عند الرجل امرأتان فلم يعدل بينهما جاء يوم القيامة وشقه ساقط . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه والدارمي

اور حضرت ابوہریرہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کے نکاح میں ایک سے زائد مثلا) دو بیویاں ہوں اور وہ ان دونوں کے درمیان عدل و برابری نہ کرتا ہو تو وہ قیامت کے دن (میدان حشر میں) اس طرح آئے گا کہ اس کا آدھا دھڑ ساقط ہوگا ( ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ) تشریح جس شخص کے ہاں ایک سے زائد بیویاں ہوں خواہو وہ دو ہوں اور خواہ تین یا چار ہوں اور وہ ان دونوں کے درمیان عدل و برابری نہ کرتا ہو تو اس کی اس بےانصافی پر مذکورہ بالا سزا کی دھمکی دی گئی ہے لہذا باری میں برابری کرنا بایں اعتبار سے واجب ہے کہ رات جتنا حصہ ایک بیوی کے ہاں گزارتا ہو اتنا ہی حصہ دوسری بیوی کے ہاں بھی گزارنا چاہئے مثلا اگر ایک بیوی کے ہاں مغرب کے بعد چلا جاتا ہے تو دوسری بیوی کے ہاں بھی مغرب کے بعد ہی چلا جائے اگر اس کے پاس عشاء کے بعد جائے گا تو یہ عدل و انصاف کے خلاف ہوگا یہاں صحبت کے معاملہ میں برابری کرنا واجب نہیں ہے۔ اس بارے میں یہ بات ملحوظ رہنی چاہئے کہ اس حکم میں باکرہ، ثیبہ، نئی، پرانی مسلمان اور کتابیہ سب برابر ہیں اور سب کے حقوق یکساں ہیں البتہ آزاد عورت کی بہ نسبت لونڈی، کا تبہ، مدبرہ اور ام ولد کیلئے آدھی باری ہے یعنی اگر کسی شخص کے نکاح میں ایک آزاد عورت ہو اور کسی کی لونڈی وغیرہ سے بھی اس نے نکاح کر رکھا ہو تو لونڈی وغیرہ کے پاس ایک رات رہے اور آزاد عورت کے پاس دو راتیں رہے! حرم (باندی) کے لئے باری مقرر کرنا واجب نہیں ہے۔

3247Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کی نو ازواج مطہرات میں سے آٹھ کے لئے باری مقرر تھی

عن عطاء قال : حضرنا مع ابن عباس جنازة ميمونة بسرف فقال : هذه زوجة رسول الله صلى الله عليه و سلم فإذا رفعتم نعشها فلا تزعزعوها ولا تزلزلوها وارفقوا بها فإنه كان عند رسول الله صلى الله عليه و سلم تسع نسوة كان يقسم منهن لثمان ولا يقسم لواحدة قال عطاء : التي كان رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يقسم لها بلغنا أنها صفية وكانت آخرهن موتا ماتت بالمدينة وقال رزين : قال غير عطاء : هي سودة وهو أصح وهبت يومها لعائشة حين أراد رسول الله صلى الله عليه و سلم طلاقها فقالت له : امسكني قد وهبت يومي لعائشة لعلي أكون من نسائك في الجنة

حضرت عطاء بن رباح تابعی کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابن عباس کے ہمراہ مقام سرف میں ام المؤمنین حضرت میمونہ کے جنازہ میں شریک ہوئے تو حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ دیکھو یہ رسول کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ ہیں جب تم ان کا جنازہ اٹھاؤ تو اس کو زیادہ حرکت و جنبش نہ دینا بلکہ تعظیم و تکریم کے تمام تقاضوں کو ملحوظ رکھ کر) نہایت آہستگی سے اٹھانا اس لئے کہ یہ ان ازواج مطہرات میں سے ہیں جن کے لئے آنحضرت ﷺ نے باری مقرر کر رکھی تھی چنانچہ) آنحضرت ﷺ کی نو بیویاں تھیں آپ ﷺ نے ان میں سے آٹھ کے لئے باری مقرر کر رکھی تھی اور ایک کے لئے کوئی باری نہیں تھی، حضرت عطاء کہتے ہیں کہ وہ زوجہ حضرت صفیہ تھیں اور رسول کریم ﷺ کی بیویوں میں حضرت صفیہ کا سب سے آخر میں مدینہ میں انتقال ہوا ہے ( بخاری و مسلم) اور رزین کا بیان ہے کہ عطا کے علاوہ دوسرے ائمہ حدیث سے منقول ہے کہ وہ زوجہ مطہرہ جن کے لئے کوئی باری مقرر نہیں تھی ( حضرت صفیہ نہیں تھیں بلکہ) حضرت سودہ تھیں اور یہی قول زیادہ صحیح ہے اور حضرت سودہ کے لئے باری مقرر نہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ) انہوں نے اپنی باری کا دن حضرت عائشہ کو دیدیا تھا جس کی تفصیل یہ ہے کہ) جب رسول کریم ﷺ نے حضرت سودہ کو طلاق دینے کا ارادہ فرمایا تو انہوں نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ میں اپنی باری کا دن عائشہ کو دیتی ہوں آپ ﷺ مجھے اپنے نکاح میں رہنے دیجئے تاکہ جنت میں آپ ﷺ کی بیویوں میں شامل رہنے کا شرف مجھے بھی حاصل رہے۔ تشریح حضرت میمونہ جو آنحضرت ﷺ کی ایک زوجہ مطہرہ ہیں حضرت ابن عباس کی خالہ تھیں ان کے والد کا نام حارث تھا ماں کا نام ہندہ تھا خود ان کا نام برہ تھا مگر آنحضرت ﷺ نے میمونہ رکھا یہ پہلے مسعود ابن عمرو کے نکاح میں تھیں پھر ابو وہم کے ساتھ شادی ہوئی ان کا رسول کریم ﷺ کے ساتھ ذی قعدہ سن ٦ ھ میں مقام سرف جو مکہ معظمہ سے آٹھ میل کا فاصلہ ہے وہاں ان کا نکاح ہوا یہیں شب زفاف گزری اور اتفاق کی بات کہ اسی مقام سرف میں وفات پائی اور یہیں مدفون ہوئیں۔ جن زوجہ مطہرہ کے لئے باری مقرر نہیں تھی وہ حضرت صفیہ تھیں یا حضرت سودہ اس بارے میں بظاہر دو متضاد روائتیں ہیں لیکن تحقیقی بات یہی ہے کہ وہ حضرت سودہ تھیں بلکہ خطابی نے تو عطاء کے اس قول کو کہ وہ حضرت صفیہ تھیں کے بارے میں یہ کہا ہے کہ کسی راوی کی چوک ہے یعنی حضرت عطاء نے تو یہاں حضرت سودہ ہی کہا تھا مگر کسی راوی کی چوک سے حضرت صفیہ نقل ہوگیا۔ وکانت اخرہن موتا ماتت بالمدینۃ اور آنحضرت ﷺ کی بیویوں میں حضرت صفیہ کا سب سے آخر میں مدینہ میں انتقال ہوا ہے توضیح سے پہلے یہ جان لیجئے کہ آنحضرت ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے کس زوجہ مطہرہ کا انتقال کب ہوا ہے صاحب مواہب نے لکھا ہے کہ حضرت صفیہ کا انتقال سن ٥٠ ھ کے ماہ رمضان میں ہوا ہے اور بعض علماء نے یہ لکھا ہے کہ ان کا انتقال حضرت معاویہ کے زمانہ سن ٥٢ یا ٥٥ ہجری میں ہوا ہے اور بقیع میں مدفون ہوئیں ہیں حضرت میمونہ کا انتقال ٥١ ہجری میں ہوا اور بعض علماء کے قول کے مطابق ٦٦ یا سن ٦٣ ہجری میں ہوا ہے۔ حضرت عائشہ ؓ نے مدینہ میں ٥٧ ہجری میں وفات پائی جب کہ بعض علماء کہتے ہیں کہ ان کی وفات سن ٥٨ میں ہوئی ہے۔ حضرت سودہ ؓ نے سن ٥٤ ہجری میں، حضرت حفصہ ؓ نے سن ٥٠ یا بعض علماء کے قول کے مطابق ٤١ ہجری میں، حضرت سلمہ ؓ نے سن ٥٩ ہجری میں، حضرت ام حبیبہ ؓ نے سن ٤٤ ہجری یا بعض علماء کے قول کے مطابق ٤٣ ہجری، حضرت زینب بنت جحش نے سن ٢٠ ہجری میں اور حضرت جویریہ ؓ نے سن ٥٠ ہجری میں انتقال کیا ہے حضرت خدیجہ ؓ کا انتقال ہجرت سے پہلے ہی مکہ میں ہوگیا تھا اور حضرت زینب بنت خزیمہ ؓ بھی آنحضرت ﷺ کے سامنے ہی وفات پا گئی تھیں۔ اب اس تفصیل کو دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ کہنا کہ حضرت صفیہ ؓ کا سب سے آخر میں انتقال ہوا ہے، صحیح نہیں ہے اور اگر لفظ کانت کی ضمیر کا مرجع حضرت میمونہ ؓ کو قرار دیا جائے تو بھی بات صحیح نہیں ہوتی کیونکہ اگر بعض علماء کے قول کے مطابق حضرت میمونہ ؓ کا سن وفات سن ٦٦ ہجری یا ٦٣ ہجری زیادہ صحیح تسلیم کرلیا جائے تو ازواج مطہرات میں ان کا سب سے آخر میں انتقال ہونا تو ثابت ہوجائے گا مگر یہ بات خود اسی عبارت کے اگلے جملے ماتت باالمدینہ کے مطابق نہیں ہوگی کیونکہ اس بارے میں حدیث نے وضاحت کردی ہے کہ ان کا انتقال مقام سرف میں ہوا ہے۔ لہٰذا اس عبارت کا صحیح مفہوم متعین کرنا بڑا مشکل ہے، اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس عبارت میں کیا مفہوم پوشیدہ ہے اور اس کا صحیح مطلب کیا ہے؟

3248Mishkaat-al-Masabih

عورتوں کے ساتھ صحبت واختلاط اور ہر ایک عورت کے حقوق کا بیان

اس باب میں وہ احادیث نقل کی جائیں گی جو عورتوں کے ساتھ صحبت و اختلاط اور حسن معاشرت اور ہر ایک عورت کے حق کے بارے میں منقول ہیں۔ عنوان میں ہر ایک عورت کے حقوق کہنے کی بجائے عورتوں کے حقوق کہنا بظاہر زیادہ مناسب تھا لیکن اس میں نکتہ یہ ہے کہ یہاں عورتوں کی جنس مراد نہیں ہے بلکہ عورتوں کی اقسام مراد ہے یعنی جن عورتوں سے نکاح کیا جاتا ہے وہ کئی قسم کی ہوتی ہیں کوئی تو باکرہ ہوتی ہے اور کوئی ثیبہ ہوتی ہے اور کوئی خوش خلق ہوتی ہے کوئی بد خلق ہوتی ہے اسی طرح کوئی عورت مالدار ہوتی ہے اور کوئی مفلس ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ لہٰذا یہاں چونکہ عورتوں کی یہ اقسام مراد تھیں اس لئے عنوان میں ہر ایک عورت کے حقوق کہا گیا۔

3249Mishkaat-al-Masabih

عورت کی کجی کو سخت روی سے دور نہیں کیا جاسکتا

عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : استوصوا بالنساء خيرا فإنهن خلقن من ضلع وإن أعوج شيء في الضلع أعلاه فإن ذهبت تقيمه كسرته وإن تركته لم يزل أعوج فاستوصوا بالنساء

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا عورتوں کے حق میں بھلائی کی وصیت قبول کرو، اس لئے کہ وہ پسلی سے پیدا کی گئی ہیں جو ٹیڑھی ہے اور سب سے زیادہ ٹیڑھا پن اس پسلی میں ہے جو اوپر کی ہے لہٰذا اگر تم پسلی کو سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو اس کو توڑ دو گے اور اگر پسلی کو اپنے حال پر چھوڑ دو تو وہ ہمیشہ ٹیڑھی رہے گی اس لئے عورتوں کے حق میں بھلائی کی وصیت قبول کرو (بخاری و مسلم) تشریح اس ارشاد گرامی نے عورتوں کی خلقت و طبیعت کے بارے میں دو بنیادی نکتے بیان کئے ہیں اول تو یہ کہ عورتوں کی اصل و بنیاد حضرت حوا ہیں جو حضرت آدم (علیہ السلام) کی اوپر کی پسلی سے پیدا ہوئی ہیں جو بہت زیادہ ٹیڑھی ہوتی ہے لہٰذا عورتوں کی اصل خلقت ہی میں ٹیڑھا پن ہے جسے کوئی درست نہیں کرسکتا۔ دوم یہ کہ جس طرح پسلی کا حال ہے کہ اگر کوئی اسے سیدھا کرنا چاہے تو سیدھی نہیں ہوگی بلکہ ٹوٹ جائے گی اور اگر اس کو اسی حالت پر چھوڑ دیا جائے تو ہمیشہ ٹیڑھی رہے گی ٹھیک اسی طرح عورتوں کا حال ہے کہ ان کی اصل خلقت ہی میں چونکہ اعمال و اخلاق کی کجی ہے اس لئے اگر مرد چاہیں کہ ان کی جی کو درست کردیں تو وہ اس میں کامیاب نہیں ہوں گے بلکہ اس کو توڑ ڈالیں گے (توڑنے سے مراد طلاق دینا ہے جیسا کہ اگلی حدیث سے معلوم ہوگا)۔ لہٰذا عورتوں سے فائدہ اٹھانا اور ان کا کار آمد رہنا اسی صورت میں ممکن ہے جب کہ ان کو ان کے خلقی ٹیڑھے پن پر چھوڑے رکھا جائے پس حدیث کا حاصل یہ ہوا کہ عورتوں کی اصلاح و درستگی کا م، عاملہ بہت پیچیدہ اور نازک ہے ان کی غلطیوں اور کو تاہیوں پر سخت روی اور غیظ و غضب کی بجائے ٹھنڈے دل سے غور کرنا چاہئے اور اس بنیادی نکتہ کو ملحوظ رکھنا چاہئے کہ ان کے ٹیڑھے پن کو درست کرنے کے لئے اگر سختی سے کام لیا جائے گا۔ اس کا انجام ان کی توڑ پھوڑ یعنی طلاق کی صورت میں ظاہر ہوگا جو ان عورتوں ہی کے لئے تباہی کا باعث نہی ہوگا بلکہ خود اپنی زندگی کے لئے بھی نقصان دہ اور اضطراب انگیز ہوگا۔ اس لئے اپنی عورتوں کے ساتھ نرم معاملہ رکھو اور ان کے ٹیڑھے پن پر صبر کرو اور یہ طریقہ چھوڑ دو کہ وہ سب باتوں میں تمہاری مرضی اور تمہاری خواہش کے مطابق عمل کریں گی لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ان کا ٹیڑھا پن اگر روز مرہ کی گھریلو زندگی اور معاشرتی امور سے گزر کر گناہ و معصیت کی حدود میں پہنچ جائے تب بھی اس پر صبر کیا جائے بلکہ ان کے ٹیڑھے پن پر صبر کرنا اور اس سے چشم پوشی کرنا اس وقت تک مناسب ہوگا۔ جب تک کوئی گناہ لازم نہ آئے۔ اگر گناہ لازم آئے تو پھر تغافل اور چشم پوشی بالکل مناسب نہیں ہوگی۔

3250Mishkaat-al-Masabih

عورت کی کجی کو سخت روی سے دور نہیں کیا جاسکتا

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن المرأة خلقت من ضلع لن تستقيم لك على طريقة فإن استمتعت بها استمتعت بها وبها عوج وإن ذهبت تقيمها كسرتها وكسرها طلاقها . رواه مسلم

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا عورت کی اصل اور بنیاد یعنی اس کی ماں حوا چونکہ (حضرت آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا کی گئی ہے۔ اس لئے تمہارے لئے کسی ایک راہ پر ہرگز سیدھی نہیں ہوگی۔ لہٰذا اگر تم اس سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہو تو اس کے ٹیڑھے پن ہی کی حالت میں اس سے ٹیڑھے پن ہی کی حالت میں فائدہ اٹھاؤ اور اگر تم اس کو سیدھا کرنا چاہو گے تو اس کا نتیجہ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا کہ تم اسے توڑ ڈالو گے اور اس کا توڑنا طلاق دینا ہے (مسلم) تشریح ہرگز سیدھی نہیں ہوگی کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم یہ چاہو کہ کوئی عورت کسی ایک حالت پر ہمیشہ قائم رہے تو یہ ناممکن ہے کیونکہ اس کی خلقت ہی میں چونکہ کجی ہے اسی لئے اس کی حالت بدلتی سدلتی رہے گی کبھی شکر گزاری کی راہ چھوڑ کر ناشکری کا راستہ اختیار کرے گی کبھی طاعت و فرمانبرداری کے راستہ پر چلتے چلتے نافرمانی کی راہ پر پڑھ جائے گی کبھی قناعت کو بالائے طاق رکھ کر طمع و حرص کے جال میں پھنس جائے گی غرضیکہ اسی طرح اس کے مزاج و عمل میں دوسرے تغیرات پیدا ہوتے رہیں گے۔

3251Mishkaat-al-Masabih

عورتوں کے ساتھ حسن معاشرت اختیار کرو

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يفرك مؤمن مؤمنة إن كره منها خلقا رضي منها آخر . رواه مسلم

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کوئی مسلمان مرد کسی مسلمان عورت سے بغض نہ رکھے اگر اس کی نظر میں اس عورت کی کوئی خصلت و عادت ناپسندیدہ ہوگی تو کوئی دوسری خصلت و عادت پسندیدہ بھی ہوگی (مسلم) تشریح حدیث کے آخری جزو کا مطلب یہ ہے کہ کسی انسان کے تمام افعال و خصائل برے نہیں ہوتے بلکہ اگر اس کے کچھ افعال و خصائل برے ہوتے ہیں تو اس میں کچھ اچھی عادتیں اور اچھے خصائل بھی ہوتے ہیں لہٰذا ہر مسلمان مرد کو چاہئے کہ وہ اپنی عورت کے ان اچھے افعال و اخلاق کو پیش نظر رکھے جو اس کی نظر میں پسندیدہ ہیں اور جو افعال و اخلاق برے ہوں ان پر صبر و تحمل کرے گویا اس ارشاد کا مقصد اس بات کی ترغیب دلانا ہے کہ عورتوں کے ساتھ حسن معاشرت اختیار کرو ان کی معیت میں خوشگوار و پُرمسرت زندگی گزارنے کی کوشش کرو اور اگر ان کی طرف سے کوئی ایسی کوتاہی یا غلطی ہوجائے یا ان میں کوئی ایسی بری عادت و خصلت ہو جس سے تکلیف پہنچتی ہے تو اس تکلیف پر صبر کرو۔ اس حدیث میں ایک بہت بڑے لطیف نکتہ کی طرف اشارہ ہے کہ بےعیب یار اور اپنے مزاج کے بالکل موافق ہاتھ نہیں لگا کرتا۔ اگر کوئی شخص بالکل بےعیب یار ڈھونڈھنے لگے تو وہ ہمیشہ بےیار ہی رہے گا کیونکہ ایسا کوئی انسان نہیں ہے جس میں کوئی عیب اور کوئی ناپسندیدہ بات نہ ہو اس طرح کوئی انسان خصوصاً مسلمان اچھے خصائل اور اچھی عادتوں سے بالکل بھی خالی نہیں ہوتا لہٰذا عقل کا تقاضا یہی ہونا چاہئے کہ اس کے ان اچھے خصائل کو تو پیش نظر رکھا جائے اور برے خصائل سے چشم پوشی کی جائے۔

3252Mishkaat-al-Masabih

کجی ہر عورت کو ورثہ میں ملی ہے

وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لولا بنو إسرائيل لم يخنز اللحم ولولا حواء لم تخن أنثى زوجها الدهر

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو گوشت نہ سڑا کرتا اور اگر حوا نہ ہوتیں تو عورت اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتی (بخاری ومسلم) تشریح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے وقت میں ان کی قوم بنی اسرائیل یعنی یہودیوں کے لئے جنگل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے من وسلوی ٰ کا خوان نعمت اترا کرتا تھا اور اس کا یہ حکم تھا کہ انہیں جتنی ضرورت ہو اسی کے بقدر اس میں سے لے لیا کریں ضرورت سے زائد لے کر ذخیرہ نہ کریں مگر وہ یہودی کیا جو اپنی کج فطرتی اور اللہ کی نافرمانی سے باز آجائیں چناچہ اس موقع پر بھی انہوں نے حکم الٰہی کی نافرمانی کی اور اس خوان نعمت سے اپنی ضرورت سے زائد لے کر ذخیرہ کرنے لگے، مگر قدرت کا کرنا ایسا ہوتا کہ جب وہ ذخیرہ کرتے تو وہ گوشت سڑ جاتا تھا۔ چناچہ یہ گوشت کا سڑنا ان کے اس فعل بد یعنی اللہ تعالیٰ پر توکل و اعتماد نہ کرنے اور محض حرص و طمع کی وجہ سے ذخیرہ کرنے کی سزا کے طور پر تھا اس کے بعد نظام قدرت نے ہمیشہ کے لئے گوشت کا سڑنا لازم کردیا لہٰذا اس کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر بنی اسرائیل اس بری عادت میں مبتلا نہ ہوتے اور ان کو یہ سزا نہ ملتی تو گوشت سڑا نہ کرتا بلکہ جب تک لوگ چاہتے اسے اپنی ضرورت کے مطابق رکھا کرتے۔ یہاں خیانت کے وہ معنی مراد نہیں ہیں جو امانت و دیانت کی ضد ہے بلکہ خیانت سے ناراستی یعنی کجی مراد ہے لہٰذا حضرت حوا کی کجی یہ تھی کہ انہوں نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو جنت کا وہ درخت کھانے کی ترغیب دی جس سے اللہ تعالیٰ نے روک رکھا تھا۔ پس آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو کجی حضرت حوا سے سرزد ہوگئی تھی وہ ہر ایک عورت کی سرشت کا جزو بن گئی ہے اگر حضرت حوا سے یہ کجی سرزد نہ ہوتی تو کسی بھی عورت میں کجی کا خمیر نہ ہوتا اور وہ اپنے خاوند کے ساتھ کجروی کا کوئی بھی برتاؤ نہ کرتی۔

3253Mishkaat-al-Masabih

عورت کو مارنے کی ممانعت

وعن عبد الله بن زمعة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يجلد أحدكم امرأته جلد العبد ثم يجامعها في آخر اليوم وفي رواية : يعمد أحدكم فيجلد امرأته جلد العبد فلعله يضاجعها في آخر يومه . ثم وعظهم في ضحكهم من الضرطة فقال : لم يضحك أحدكم مما يفعل ؟

اور حضرت عبداللہ بن زمعہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کوئی شخص اپنی بیوی کو غلام کی طرح (بددلی سے) نہ مارے اور پھر دن کے آخری حصہ میں اس سے جماع کرے ( ایک روایت میں یوں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا تم میں ایک شخص اپنی بیوی کو غلام کی طرح مارتا ہے حالانکہ یہ نہیں سوچتا کہ شاید وہ اسی دن کے آخری حصہ میں اس سے ہم بستر ہو) پھر آپ ﷺ نے ریح خارج ہونے پر ہنسنے والوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص اس چیز پر کیوں ہنستا ہے جس کو وہ خود بھی کرتا ہے (بخاری ومسلم) تشریح اور پھر دن کے آخری حصہ میں اس سے جماع کرے۔ اس کے ذریعہ آپ ﷺ نے ایک بڑا نفسیاتی نکتہ بیان فرمایا کہ جو شخص اپنی بیوی سے جنسی لذت حاصل کرتا ہے اس کے لئے یہ بات کس طرح مناسب ہوسکتی ہے کہ ایک طرف تو اس کے ساتھ ایسا پرکیف معاملہ ہو دوسری طرف اس کے ساتھ اتنا وحشیانہ اور بےدردانہ سلوک کرے؟ اگرچہ اپنی بیوی کو اس کی مسلسل نافرمانی اور سرکشی پر مارنے کی اجازت ہے لیکن اس طرح نہیں کہ غلاموں کی طرح بےدردی سے اسے مارا پیٹا جائے۔ یہ ایک غیر شرعی فعل ہی نہیں ہے بلکہ ایک انتہائی غیر انسانی اور غیر مہذب حرکت بھی ہے! اس سے معلوم ہوا کہ اپنی بیوی کے ساتھ پیار و محبت اور اتفاق و سلوک کے ساتھ رہنا چاہئے۔ حدیث کے آخری جزو کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا کسی ایسی عجیب بات پر ہنسنا تو اچھا معلوم ہوتا ہے جو عام طور پر نہ پائی جاتی ہو لیکن جب ایک چیز خود اپنے اندر موجود ہے تو پھر جب وہ کسی دوسرے سے سرزد ہوتی ہے تو اس پر ہنسنے کا کیا موقع ہے اس سے معلوم ہوا کہ اگر کسی شخص کی ریح خاج ہوجائے تو اس سے تغافل کیا جائے تاکہ وہ خجالت اور شرمندگی کر کے کبیدہ خاطر نہ ہو۔ اس سلسلہ میں یہ سبق آموز واقعہ پڑھنے کے قابل ہے کہ ایک بہت بڑے عالم گزرے ہیں جن کا نام اصم تھا یہ اگرچہ حقیقت میں بہرے نہیں تھے لیکن انہوں نے دنیا کی نظروں میں اپنے آپ کو بہرا بنا رکھا تھا جس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک دن ایک عورت کوئی مسئلہ پوچھنے کے لئے ان کے پاس آئی جب وہ ان سے مسئلہ پوچھ رہی تھی تو اسی اثناء میں اس کی ریح خارج ہوگئی۔ اصم نے سوچا کہ یہ عورت ذات ہے اب یہ بہت زیادہ شرمندگی و خجالت محسوس کر رہی ہوگی لہٰذا انہوں نے اس کی شرمندگی و خجالت دور کرنے کے لئے کہا کہ ذرا زور سے کہو کیا کہہ رہی ہو؟ گویا انہوں نے یہ ظاہر کیا کہ میں اونچا سنتا ہوں وہ عورت بڑی خوش ہوئی اس نے بتایا کہ یہ تو بہرے ہیں انہوں نے کچھ سنا ہی نہیں اور اس طرح اس کی شرمندگی دور ہوگئی مگر اصم نے پھر اپنی اس بات کو نباہنے کے لئے اپنے آپ کو ہمیشہ بہر بنائے رکھا۔ علامہ طیبی (رح) فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں یہ تنبیہ پوشیدہ ہے کہ ہر عقل مند انسان کو چاہئے کہ جب وہ اپنے کسی مسلمان بھائی کی عیب گیری کا ارادہ کرے تو اپنے دل میں سوچے کہ آیا یہ عیب یا اسی طرح کا کوئی اور عیب میری ذات میں بھی موجود ہے یا نہیں؟ اگر وہ اپنے آپ کو کسی عیب سے پاک نہ پائے تو پھر اس کے لئے اس مسلمان بھائی کی عیب گیری سے زیادہ بہتر یہ ہے کہ اپنے آپ کو اس عیب سے پاک کرنے پر توجہ دے کسی مرد دانا نے کیا خوب کہا ہے کہ میں اکثر لوگوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ دوسروں کے عیوب تو دیکھ لیتے ہیں لیکن خود ان کے اندر جو عیوب ہیں ان سے وہ اندھے ہیں۔

3254Mishkaat-al-Masabih

اپنی بیوی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو

وعن عائشة قالت : كنت ألعب بالبنات عند النبي صلى الله عليه و سلم وكان لي صواحب يلعبن معي فكان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا دخل ينقمعن فيسربهن إلي فيلعبن معي

اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب میں چھوٹی تھی اور میری شادی کا ابتدائی دور تھا تو میں رسول کریم ﷺ کے ہاں گڑیوں سے کھیلا کرتی تھی اور میری ہمجولیاں بھی میرے ساتھ کھیلتی تھیں اور پھر جب رسول کریم ﷺ گھر میں تشریف لاتے تو میری ہم جولیاں شرم کی وجہ سے آپ ﷺ سے چھپ جاتی تھیں لیکن آنحضرت ﷺ ان کو میرے پاس بھیج دیا کرتے تھے اور وہ میرے ساتھ کھیلنے لگتی تھیں۔ (بخاری ومسلم) تشریح اس حدیث میں گویا اس بات کا بیان ہے کہ اپنی بیوی کے ساتھ ہنسی خوشی رہنا اس کے جائز جذبات و شوق کا لحاظ رکھنا ایک پرمسرت زندگی کا بنیادی باب ہے جس کے بغیر انسان کو اطمینان و سکون کی دولت نصیب نہیں ہوتی۔ گڑیوں سے کھیلنے کے بارے میں جو حکم و تفصیل ہے۔ باب الولی میں اس کا بیان گزر چکا ہے۔

3255Mishkaat-al-Masabih

اپنی بیوی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو

وعنها قالت : والله لقد رأيت النبي صلى الله عليه و سلم يقوم على باب حجرتي والحبشة يلعبون بالحراب في المسجد ورسول الله صلى الله عليه و سلم يسترني بردائه لأنظر إلى لعبهم بين أذنه وعاتقه ثم يقوم من أجلي حتى أكون أنا التي أنصرف فاقدروا قدر الجارية الحديثة السن الحريصة على اللهو

اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے دیکھا اور مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ رسول کریم ﷺ میرے حجرہ مبارک کے دروازہ پر کھڑے تھے اور حبشی لوگ مسجد میں اپنی برچھیوں کے کرتب دکھا رہے تھے اور رسول کریم ﷺ نے اپنی چادر سے میرے لئے پردہ کر رکھا تھا تاکہ میں بھی آپ ﷺ کے کان اور مونڈھے کے درمیان سے ان حبشیوں کا کھیل کرتب دیکھتی رہوں یہاں تک کہ آپ ﷺ اس وقت تک پردہ کئے کھڑے رہے جب تک کہ میں خود وہاں سے نہ ہٹ گئی اس سے تم اس عرصہ کا اندازہ کرلو جس میں ایک صغیر السن لڑکی جو کھیل تماشہ کی شائق ہو کھڑی رہ سکتی ہے (یعنی خیال کرو کہ خورد سال لڑکیاں کھیل تماشہ دیکھنے کی کتنی شائق ہوتی ہیں اور زیادہ سے زیادہ دیر تک کھڑے رہنا بھی ان کے لئے ایک معمولی بات ہوتی ہے چناچہ میں بھی اس وقت جتنی دیر کھڑی رہی، آپ ﷺ بھی میری وجہ سے پردہ کئے کھڑے رہے، حاصل یہ ہے کہ آپ ﷺ بہت دیر تک وہاں کھڑے ہو کر مجھے ان حبشیوں کا کھیل کرتب دکھاتے رہے)۔ (بخاری ومسلم) تشریح مسجد سے مراد رحبہ مسجد ہے جو مسجد سے ملا ہوا ایک چبوترہ تھا، یعنی وہ حبشی مسجد میں اپنا کرتب نہیں دکھا رہے تھے بلکہ مسجد سے متصل رحبہ میں اپنے کمالات کا مظاہرہ کر رہے تھے اور اگر نفس مسجد ہی مراد لی جائے یعنی یہ کہا جائے کہ ان کا کھیل کرتب مسجد ہی کے اندر ہو رہا تھا تو اس میں بھی کوئی قباحت نہیں ہے کیونکہ ان کا برچھیوں کا کرتب دکھانا گویا جہاد کی ایک علامتی مشق تھی لہٰذا تیر اندازی کی طرح ان کا یہ کھیل کرتب بھی عبادت کی مانند تھا، ایسے ہی ان کا کھیل دیکھنا بھی پسندیدہ تھا بظاہر معلوم یہ ہوتا ہے کہ یہ واقعہ پردہ واجب ہونے سے پہلے کا ہے۔

3256Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ حضرت عائشہ (رض) کی خوشی وناخوشی کو کس طرح پہچانتے تھے

وعنها قالت : قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : إني لأعلم إذا كنت عني راضية وإذا كنت عني غضبى فقلت : من أين تعرف ذلك ؟ فقال : إذا كنت عني راضية فإنك تقولين : لا ورب محمد وإذا كنت علي غضبى قلت : لا ورب إبراهيم . قالت : قلت : أجل والله يا رسول الله ما أهجر إلا اسمك

اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ مجھ سے فرمانے لگے کہ جس وقت تم مجھ سے خوش ہوتی ہو تو میں جان جاتا ہوں اور جب تم کسی دنیوی معاملہ میں مجھ سے ناراض ہوتی ہو جیسا کہ میاں بیوی کے درمیان کسی بات پر خفگی ہوجاتی ہے تو مجھے وہ بھی معلوم ہوجاتا ہے میں نے عرض کیا کہ آپ ﷺ یہ کس طرح پہچان لیتے ہیں؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اس طرح کہ جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو تو اس طرح کہا کرتی ہو یہ بات نہیں محمد ﷺ کے پروردگار کی قسم اور جب تم مجھ سے خفا ہوتی ہو تو اس طرح کہتی ہو کہ یہ بات نہیں ہے ابراہیم (علیہ السلام) کے پروردگار کی قسم یعنی جب تم مجھ سے خفا ہونے کی حالت میں قسم کھاتی ہو تو میرا نام نہیں لیتیں بلکہ ابراہیم (علیہ السلام) کا پروردگار کہتی ہو۔ حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ یہ سن کر میں نے عرض کیا کہ ہاں یا رسول اللہ! یہ بات ٹھیک ہے، لیکن میں صرف آپ ﷺ کا نام ہی چھوڑتی ہوں۔ (بخاری ومسلم) تشریح لیکن میں صرف آپ کا نام ہی چھوڑتی ہوں۔ کا مطلب یہ ہے کہ غصہ کی حالت میں مغلوب العقل ہوجاتی ہوں اگرچہ میں آپ ﷺ کا نام نہیں لیتی مگر میرے دل میں آپ ﷺ کے لئے پیار و محبت کا جو دریا موجزن ہے اس کے تلاطم میں ذرہ برابر بھی کمی نہیں ہوتی، بلکہ میرا دل آپ ﷺ کی محبت میں جوں کا توں مستغرق رہتا ہے۔

3257Mishkaat-al-Masabih

شوہر کی خواہش پر بیوی کو ہم بستر ہونے سے انکار نہ کرنا چاہئے

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه فأبت فبات غضبان لعنتها الملائكة حتى تصبح . متفق عليه . وفي رواية لهما قال : والذي نفسي بيده ما من رجل يدعو امرأته إلى فراشه فتأبى عليه إلا كان الذي في السماء ساخطا عليها حتى يرضى عنها

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر کوئی مرد اپنی عورت کو ہم بستر ہونے کے لئے بلائے اور وہ عورت انکار کر دے۔ اور پھر شوہر اس کے انکار کی وجہ سے رات بھر غصہ کی حالت میں رہے تو فرشتے اس عورت پر صبح تک لعنت بھیجتے رہتے ہیں (بخاری و مسلم) اور مسلم کی ایک روایت میں یوں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے ہاتھ میں یعنی جس کے قبضہ و تصرف میں میری جان ہے، جو شخص اپنی عورت کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ انکار کر دے تو وہ جو آسمان میں ہے اس سے اس وقت تک ناراض رہتا ہے جب تک اس کا شوہر اس سے راضی نہ ہو۔ تشریح یہ وعید اس صورت میں ہے جب کہ بیوی کوئی شرعی عذر نہ ہونے کے باوجود شوہر کے بستر پر آنے سے انکار کر دے۔ بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ حیض ایسا عذر نہیں ہے جس کی موجودگی میں بیوی کو شوہر کے بستر پر آنے سے انکار کردینے کا حق پہنچتا ہو، کیونکہ جمہور علماء کے نزدیک شوہر کو اس صورت میں بھی کپڑوں کے اوپر سے جنسی لطف حاصل کرنا (یعنی بدن سے بدن ملانا اور بوسہ وغیرہ لینا) جائز ہے اور بعض علماء کے نزدیک شرم گاہ کے علاوہ جسم کے بقیہ حصوں سے لطف اندوزی جائز ہے۔ صبح تک غالب کے اعتبار سے فرمایا گیا ہے یعنی اکثر یہ صورت حال چونکہ رات میں پیش آتی ہے اس لئے صبح تک کا ذکر کیا گیا ورنہ اگر شوہر کی طرف خواہش اور بیوی کی طرف سے انکار کی یہ صورت حال دن میں پیش آئے اور اس کی وجہ سے شوہر دن بھر ناراض رہے تو فرشتے اسی طرح شام تک اس عورت پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں۔ وہ جو آسمان میں ہے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ذات جس کا حکم آسمانوں میں جاری ہے۔ یا وہ ذات جس کی آسمانوں میں عبادت کی جاتی ہے اور اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے یوں تو اللہ تعالیٰ زمین اور زمین کی ساری مخلوقات کا بھی معبود اور آسمان اور آسمان کی ساری مخلوقات کا بھی معبود ہے جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ آیت (وھو الذی فی السماء الٰہ وفی الارض الہ) اور وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے کہ جو آسمان میں بھی معبود ہے اور زمین میں بھی معبود ہے۔ لیکن حدیث میں صرف آسمان کا معبود اس لئے کہا گیا ہے کہ زمین کی بہ نسبت آسمان زیادہ شرف رکھتا ہے اور صرف آسمان کا ذکر اظہار مقصد کے لئے کافی ہے تاہم یہ بھی احتمال ہے کہ وہ جو آسمان میں ہے سے فرشتے مراد ہوں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خاوند کی ناراضگی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث ہے اور جب جنسی جذبات کی تسکین کے بارے میں خاوند کی ناراضگی کی یہ اہمیت ہے تو کسی دنیوی معاملہ میں خاوند کی ناراضگی کی کتنی اہمیت ہوگی۔

3258Mishkaat-al-Masabih

کوئی عورت خواہ مخواہ اپنی سوکن کو جلانے کے کام نہ کرے

وعن أسماء أن امرأة قالت : يا رسول الله إن لي ضرة فهل علي جناح إن تشبعت من زوجي غير الذي يعطيني ؟ فقال : المتشبع بما لم يعط كلابس ثوبي زور

اور حضرت اسماء ؓ کہتی ہیں کہ ایک عورت نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میری ایک سوکن ہے اگر میں اس کے سامنے اپنے خاوند کی کسی ایسی چیز کا اظہار کروں جو اس نے مجھے نہیں دی ہے تو کیا یہ گناہ ہے؟ یعنی میرا خاوند مجھے جو کچھ دیتا ہے اگر میں اپنی سوکن کو جلانے کے لئے اس کے سامنے اس چیز کو زیادہ کر کے بیان کروں کہ دیکھو مجھے تم سے زیادہ ملتا ہے تو کیا اس میں کوئی برائی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں بہت بری بات ہے کیونکہ نہ دی ہوئی چیز کا اظہار کرنے والا دو جھوٹ موٹ کے کپڑے پہننے والے کے مانند ہے۔ (بخاری ومسلم) تشریح دو کپڑوں سے مراد چادر اور تہبند ہیں اور جھوٹ موٹ کے کپڑے پہننے والے سے وہ شخص مراد ہے جو کسی کا مانگا ہوا یا کسی کی امانت کا کپڑا پہنے اور ظاہر یہ کرے کہ گویا وہ کپڑے اسی شخص کے ہیں یا وہ شخص مراد ہے جو زاہدوں اور بزرگوں کا لباس پہنے حالانکہ واقعۃً اسے زہد و بزرگی سے کوئی نسبت نہ ہو بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ حدیث میں اس شخص کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جو ایسا قمیص و کرتہ پہنے جس کی آستینوں کے نیچے دو اور آستینیں لگی ہوئی ہوں تاکہ دیکھنے والے یہ سمجھیں کہ دو کپڑے پہن رکھے ہیں اور بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ عرب میں ایک شخص تھا جو محض اس لئے وہ بہت عمدہ اور نفیس کپڑے پہنتا تھا تاکہ لوگ اسے عزت و احترام کی نظر دیکھیں اور اگر وہ کوئی جھوٹی گواہی دے تو کوئی آدمی اس کی کسی گواہی کو جھوٹ نہ جانے لہٰذا حدیث میں اسی شخص کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔

3259Mishkaat-al-Masabih

ایلاء کا مطلب

وعن أنس قال : آلى رسول الله من نسائه شهرا وكانت انفكت رجله فأقام في مشربة تسعا وعشرين ليلة ثم نزل فقالوا : يا رسول الله آليت شهرا فقال : إن الشهر يكون تسعا وعشرين . رواه البخاري

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے اپنی بیویوں سے ایک مہینہ کا ایلاء کیا اور اسی زمانہ میں آپ ﷺ کے پاؤں میں موچ آگئی تھی چناچہ آپ ﷺ انتیس راتوں تک بالاخانہ ہی پر رہے پھر جب آپ ﷺ نیچے تشریف لائے تو لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے تو ایک مہینہ کا ایلاء کیا تھا اور مہینہ تیس دن کا ہوتا ہے پھر آپ انتیس دن کے بعد کیوں اتر آئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ (بخاری) تشریح ایلاء کے لغوی معنی ہیں قسم کھانا اور اصطلاح شریعت میں ایلاء اس کو کہتے ہیں کہ کوئی شخص اس بات کی قسم کھائے کہ میں چار مہینہ یا اس سے زیادہ تک اپنی بیوی کے پاس نہیں جاؤں گا یعنی اس سے جماع نہیں کروں گا اگر قسم پوری ہوجائے یعنی وہ شخص اپنی قسم کے مطابق چار مہینہ تک یا اس سے بھی زائد اس مدت تک جو اس نے متعین کی ہو، اپنی بیوی کے پاس نہ جائے تو طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے اور اگر وہ قسم پوری نہ کرے یعنی اس مدت کے پوری ہونے سے پہلے بیوی کے پاس چلا جائے تو ایلاء ساقط ہوجاتا ہے اور اس پر قسم پوری نہ کرنے کا کفارہ واجب ہوجاتا ہے یا جزا لازم ہوجاتی ہے اور اگر کسی شخص کے نکاح میں کسی کی لونڈی ہو یعنی اس کی بیوی آزاد عورت نہ ہو بلکہ کسی کی لونڈی ہو اور وہ اس سے ایلاء کرے تو اس کی کم سے کم مدت بجائے چار مہینہ کے دو مہینہ ہوگی اور اگر کسی شخص نے آزاد عورت کے حق میں چار مہینہ سے کم اور لونڈی کے حق میں دو مہینہ سے کم مدت کے لئے قسم کھائی تو یہ ایلاء شرعی نہیں کہلائے گا چناچہ اس حدیث میں آنحضرت ﷺ کی طرف جس ایلاء کی نسبت کی گئی ہے وہ شرعی ایلاء نہیں ہے۔ بلکہ ایلاء لغوی مراد ہے یعنی آپ ﷺ نے یہ قسم کھائی تھی کہ میں اپنی بیویوں کے پاس ایک مہینہ تک نہیں جاؤں گا جس کا سبب یہ تھا کہ آپ ﷺ کی بیویوں نے آپ ﷺ سے کچھ زیادہ نفقہ کا مطالبہ کیا تھا جس سے آپ ﷺ کو سخت ناگواری ہوئی اور آپ ﷺ نے قسم کے ساتھ یہ عہد کیا کہ میں ان بیویوں کے پاس ایک مہینہ تک نہیں جاؤں گا انہیں دنوں میں یہ حادثہ پیش آیا کہ آپ ﷺ گھوڑے سے گرپڑے جس کی وجہ سے آپ ﷺ کے پائے مبارک میں چوٹ آگئی پھر آپ ﷺ ایک مہینہ بالا خانہ پر ہی رہے نیچے نہیں آئے مگر وہ مہینہ غالباً انتیس دن کا تھا اس لئے آپ ﷺ نے انتیس دن پر اکتفا کیا اور نیچے تشریف لے آئے۔

3260Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کے ایلاء کا واقعہ

وعن جابر قال : دخل أبو بكر رضي الله عنه يستأذن على رسول الله صلى الله عليه و سلم فوجد الناس جلوسا ببابه لم يؤذن لأحد منهم قال : فأذن لأبي بكر فدخل ثم أقبل عمر فاستأذن فأذن له فوجد النبي صلى الله عليه و سلم جالسا حوله نسائه واجما ساكتا قال فقلت : لأقولن شيئا أضحك النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله لو رأيت بنت خارجة سألتني النفقة فقمت إليها فوجأت عنقها فضحك رسول الله صلى الله عليه و سلم وقال : هن حولي كما ترى يسألنني النفقة . فقام أبو بكر إلى عائشة يجأ عنقها وقام عمر إلى حفصة يجأ عنقها كلاهما يقول : تسألين رسول الله صلى الله عليه و سلم ما ليس عنده ؟ فقلن : والله لا نسأل رسول الله صلى الله عليه و سلم شيئا أبدا ليس عنده ثم اعتزلهن شهرا أو تسعا وعشرين ثم نزلت هذه الآية : ( يا أيها النبي قل لأزواجك ) حتى بلغ ( للمحسنات منكن أجرا عظيما ) قال : فبدأ بعائشة فقال : يا عائشة إني أريد أن أعرض عليك أمرا أحب أن لا تعجلي فيه حتى تستشيري أبويك . قالت : وما هو يا رسول الله ؟ فتلا عليها الآية قالت : أفيك يا رسول الله أستشير أبوي ؟ بل أختار الله ورسوله والدار الآخرة وأسألك أن لا تخبر امرأة من نسائك بالذي قلت : قال : لا تسألني امرأة منهن إلا أخبرتها إن الله لم يبعثني معنتا ولا متعنتا ولكن بعثني معلما ميسرا . رواه مسلم

اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ جس زمانہ میں آنحضرت ﷺ اپنی بیویوں سے ایک مہینہ کی علیحدگی اختیار کئے ہوئے مکان میں گوشہ نشین تھے تو ایک دن حضرت ابوبکر ؓ آئے اور رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت کے طلب گار ہوئے انہوں نے دیکھا کہ آنحضرت ﷺ کے دروازہ پر لوگ جمع ہیں۔ اور کسی کو حاضر ہونے کی اجازت نہیں مل رہی مگر حضرت ابوبکر ؓ کو اجازت مل گئی اور وہ آپ ﷺ کی خدمت میں چلے گئے پھر حضرت عمر فاروق ؓ آئے اور انہوں نے حاضر ہونے کی اجازت مانگی ان کو بھی اجازت مل گئی چناچہ حضرت عمر ؓ جب آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے آپ ﷺ کو اس حالت میں پایا کہ آپ ﷺ کے اردگرد آپ ﷺ کی بیویاں بیٹھی ہوئی تھیں اور آپ ﷺ اس وقت غمگین اور خاموش تھے حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے یہ صورت حال دیکھ کر اپنے دل میں کہا کہ اس وقت مجھے کوئی ایسی بات کہنی چاہئے۔ جس سے نبی کریم ﷺ ہنس پڑیں، چناچہ انہوں کہا کہ یا رسول اللہ! اگر آپ دیکھیں کہ خارجہ کی بیٹی یعنی میری بیوی مجھ سے روٹی پانی کا خرچ معمول سے زیادہ طلب کرے تو میں کھڑا ہو کر اس کی گردن پر مار لگاؤں۔ حضرت عمر نے یہ بات کچھ اس انداز سے کہی کہ آنحضرت ﷺ ہنس پڑے اور پھر فرمایا کہ یہ میری عورتیں جنہیں تم میرے اردگرد بیٹھی دیکھ رہے مجھ سے معمول سے زیادہ خرچ مانگ رہی ہیں یہ سنتے ہی حضرت ابوبکر کھڑے ہوئے اور اپنی صاحبزادی حضرت عائشہ کی گردن پر مارنے لگے، اسی طرح حضرت عمر بھی کھڑے ہوئے اور وہ بھی اپنی صاحبزادی حضرت حفصہ کی گردن پر مارنے لگے اور پھر ان دونوں یعنی حضرت ابوبکر و عمر ؓ نے کہا کہ کیا تم آنحضرت ﷺ سے اس چیز کا مطالبہ کر رہی ہو جو آپ ﷺ کے پاس موجود نہیں ہے یعنی یہ بات کتنی غیر مناسب ہے کہ تم آنحضرت ﷺ کی مالی حالت جانتی ہو اور اس کے باوجود آپ ﷺ سے اتنے خرچ کا مطالبہ کرتی ہو جس کو آپ ﷺ پورا کرنے پر قادر نہیں ہیں کیا تمہارا یہ مطالبہ آنحضرت ﷺ کو پریشانی میں مبتلا کرنے کے مترادف نہیں ہے ان عورتوں نے کہا کہ بیشک ہم نے بےجا مطالبہ کیا تھا جس پر ہم نادم ہیں اور آئندہ کے لئے ہم عہد کرتی ہیں کہ اللہ کی قسم اب ہم کبھی بھی آپ ﷺ سے اس چیز کا مطالبہ نہیں کریں گی جو آپ ﷺ کے پاس نہ ہو۔ لیکن آپ ﷺ نے چونکہ علیحدگی کی قسم کھالی تھی اس لئے اس قسم کو پورا کرنے کے لئے آپ ﷺ ایک مہینہ تک یا انتیس دن تک اپنی بیویوں سے علیحدہ رہے (اس جگہ حدیث کے کسی راوی کو شک ہوا کہ حضرت جابر نے یہاں ایک مہینہ کہا تھا یا انتیس دن کہا تھا) پھر یہ آیات۔ (يٰ اَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا فَتَعَالَيْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَاُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا 28 وَاِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَه وَالدَّارَ الْاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ اَجْرًا عَظِيْمًا 29) 33۔ الاحزاب 28۔ 29)۔ تک نازل ہوئی حضرت جابر کہتے ہیں کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد آپ ﷺ نے سب سے پہلے حضرت عائشہ ؓ رابطہ قائم کیا کیونکہ تمام ازواج مطہرات میں وہی سب سے زیادہ عقل مند اور افضل تھیں۔ چناچہ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ عائشہ میں تمہارے سامنے ایک بات پیش کرنا چاہتا ہوں لیکن ساتھ ہی میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ تم اس کا جواب دینے میں جلدی نہ کرو بلکہ اس کے بارے میں اپنے والدین سے مشورہ کرلو۔ حضرت عائشہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! فرمائیے وہ کیا بات ہے؟ آنحضرت ﷺ نے ان کے سامنے مذکورہ بالا آیت پڑھی، حضرت عائشہ نے یہ آیت سن کر کہا کہ یا رسول اللہ! کیا میں آپ ﷺ کے معاملہ میں اپنے والدین سے مشورہ لوں یعنی مشورہ تو اس معاملہ میں کیا جاتا ہے جس میں کوئی تردد ہو جب کہ اس معاملہ میں مجھے کوئی تردد نہیں ہے۔ بلکہ میں اللہ اور اللہ کے رسول اور آخرت کے گھر کو اختیار کرلیا یعنی میں اس معاملہ میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مرضی و خواہش کے سامنے سر تسلیم خم کرتی ہوں کہ اسی میں میرے لئے دنیا کی بھی بھلائی ہے اور آخرت کی کامیابی بھی ہے مگر میں آپ ﷺ سے یہ درخواست کرتی ہوں کہ اس وقت میں نے آپ ﷺ سے جو کچھ عرض کیا ہے اس کا ذکر اپنی کسی اور بیوی سے نہ کریں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا یہ بات ممکن نہیں ہے کیونکہ اگر کوئی بیوی مجھ سے یہ پوچھے گی تو میں اس کے سامنے ضرور ذکر کروں گا، اللہ تعالیٰ نے مجھے اس لئے نہیں بھیجا ہے کہ میں کسی کو رنج پہنچاؤں یا کسی کو خواہ مخواہ تکلیف میں مبتلا کروں بلکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس لئے بھیجا ہے کہ میں مخلوق اللہ کو دین کے احکام سکھاؤں اور آسانی (یعنی دینی دنیوی راحت) سے ہمکنار کروں (مسلم) تشریح حضرت عمر ؓ نے آپ ﷺ کو اس حال میں پایا الخ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ واقعہ پردہ واجب ہونے سے پہلے کا ہے کیونکہ اگر پردہ واجب ہوچکا ہوتا تو نہ حضرت عمر ؓ اس طرح زنانہ خانہ میں عورتوں کے سامنے جاتے اور نہ عورتیں ان کے سامنے ہوتیں۔ جس سے نبی کریم ﷺ ہنس پڑیں اس سے حضرت عمر ؓ کا مقصد یہ تھا کہ میں کوئی دلچسپ بات کہہ دوں جس سے آنحضرت ﷺ کا غم و ملال زائل ہوجائے اور آپ ﷺ خوش ہوجائیں اس سے معلوم ہوا کہ یہ مستحب ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے کسی دوست و عزیز کو غمگین دیکھے تو وہ اس کے سامنے کوئی بات ذکر کرے جس سے وہ ہنس پڑے اور خوش ہوجائے اور خود بھی اس بات میں شریک ہو کر اپنا رنج و غم بھول جائے چناچہ منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ جب اپنے کسی صحابی کو غمگین دیکھتے تو اس کو خوش طبعی اور ہنسی مذاق کے ذریعہ خوش کردیتے تھے۔ حدیث میں جس آیت کا ذکر کیا گیا ہے وہ پوری یوں ہے ا یت (يٰ اَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا فَتَعَالَيْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَاُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا 28 وَاِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَه وَالدَّارَ الْاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ اَجْرًا عَظِيْمًا 29) 33۔ الاحزاب 29-28)۔ اے پیغمبر ﷺ! آپ اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ (میں نے تو فقر کو اختیار کیا ہے) اگر تم میرے فقر پر راضی نہیں ہو بلکہ دنیا کی آرام دہ زندگی اور اس کی زینت و آرائش کی خواستگار ہو تو مجھے بتادو اور آؤ میں تمہیں کچھ مال دوں اور اچھی طرح رخصت کر دوں (یعنی ہمیشہ کے لئے تم سے علیحدگی اختیار کرلوں) اور اگر تم میرے فقر پر راضی ہو اور یہ چاہتی ہو کہ تمہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا مندی حاصل ہو اور جنت تمہارا ٹھکانا بنے تو سن لو کہ تم میں جو نیکو کاری کرنے والی ہیں ان کے لئے اللہ نے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے (یعنی تمہاری اس مشقت کے عوض جو تمہیں میری فقروفاقہ کی زندگی کی رفیق بننے میں اٹھانی پڑے گی اللہ تعالیٰ تمہیں بےاندازہ اجر وثواب عطا کرے گا۔ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد آنحضرت ﷺ نے اپنی بیویوں میں سب سے پہلے حضرت عائشہ ؓ رابطہ قائم کیا اور ان کے سامنے اس آسمانی ہدایت کو رکھنے سے پہلے ان پر واضح کردیا کہ میں تمہارے سامنے جو ہدایت و ضابطہ رکھنے والا ہوں میں چاہتا ہوں کہ اس کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے اپنے والدین سے مشورہ کا حکم اس لئے دیا کہ حضرت عائشہ اگرچہ سب سے زیادہ سمجھدار اور عقل مند تھیں مگر بہرحال صغیر السن تھیں آپ ﷺ کو یہ خوف تھا کہ کہیں عائشہ کم عمری کے جذبات میں نہ بہہ جائیں اور وہ دنیا کی عیش و عشرت کی خاطر مجھے چھوڑ کر آخرت کی ابدی سعادتوں سے منہ نہ موڑ لیں جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس سے صرف عائشہ ہی کو نقصان اور تباہی سے دو چار ہونا نہیں پڑے گا، بلکہ ان کے والدین کو بھی سخت اذیت اور تکلیف پہنچے گی لیکن اگر اس معاملہ میں اپنے والدین سے مشورہ کریں تو وہ انہیں وہی صلاح دیں گے جو ان کی دنیا اور ان کے دین کی بھلائی اور بہتری کے مطابق ہوگی۔ مگر یہ حجرت عائشہ کی فطری سعادت کی بات تھی کہ انہوں نے اپنے والدین کے مشورہ کے بغیر اپنا یہ فیصلہ سنا دیا کہ میں دنیا کی آرام دہ زندگی پر آخرت کی ابدی سعادتوں کو ترجیح دیتی ہوں اور اللہ اور اس کے رسول کی مرضی و منشا ہی کو اختیار کرتی ہوں۔ حضرت عائشہ نے آنحضرت ﷺ سے یہ جو درخواست کی کہ میں نے آپ ﷺ کو جو کچھ جواب دیا ہے وہ آپ ﷺ اپنی کسی اور بیوی سے ذکر نہ کریں تو ان کا یہ خیال تھا کہ شاید اس موقعہ پر کوئی بیوی آپ ﷺ کے فقر پر راضی نہ ہو کہ دنیا کی آرام دہ زندگی کے لئے آپ ﷺ سے علیحدہ ہوجائے اس لئے انہوں نے سوچا کہ اگر کسی بیوی کو میرے اس ایمان و یقین سے بھرپور فیصلہ کا علم ہوا تو شاید اسے بھی راہنمائی مل جائے اور وہ بھی ایسا ہی فیصلہ کرے لیکن اگر میرے اس فیصلہ سے لاعلمی رہے گی تو بہت ممکن ہے کہ کوئی بیوی دنیا کے عیش و آرام کو آنحضرت ﷺ کی پر مشقت رفاقت پر ترجیح دے اس لئے اچھا ہی ہوگا اگر کوئی بیوی آنحضرت ﷺ کے نکاح سے نکل جائے گویا حضرت عائشہ کی اس خواہش کا محرک آنحضرت ﷺ سے ان کی وہ بےپناہ محبت تھی جس میں وہ کسی دوسری عورت کو شریک دیکھنا گوارا نہیں کرتی تھیں۔ لیکن بہرحال رسول کریم ﷺ کی نظر میں تمام بیویوں کی بھلائی و برائی یکساں حیثیت رکھتی تھی، آپ ﷺ یہ کیسے گوارا کرسکتے تھے کہ ایک بیوی تو آخرت کی سعادتوں سے نوازی جائے اور دوسری بیوی دنیا کو اختیار کر کے تباہی کے راستہ پر لگ جائے چناچہ آپ ﷺ نے حضرت عائشہ کی اس درخواست کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور ان پر واضح کردیا، کہ مجھ سے جو بھی بیوی پوچھے گی میں اس کو بتادوں گا کیونکہ اس کی بھلائی اسی میں پوشیدہ ہے اگر میں کسی کو نہ بتاؤں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میں نے اس تئیں شفقت کا رویہ نہیں اپنایا اور اس کو وہ راستہ نہیں دکھایا جو اس کی راحت، اس کی بھلائی اور اس کی اخروی فلاح کے لئے ضروری ہے حالانکہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اس لئے مبعوث نہیں کیا ہے کہ میں لوگوں کے حق میں بدخواہی کروں یا کسی کو تکلیف و مصیبت اور رنج و غم میں مبتلا کروں اس دنیا میں اس لئے آیا ہوں کہ کائنات انسانی کے ہر فرد کو دنیا و آخرت کی بھلائی کی تعلیم دوں اور ہر انسان کو اس کے دینی دنیاوی معاملات میں آسانی و سہولت کی راہ دکھاؤں۔