Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 161 of 317

3201Mishkaat-al-Masabih

کون کون رشتہ والی عورتیں محرمات میں داخل ہیں

عن ابن عباس قال : حرم من النسب سبع ومن الصهر سبع ثم قرأ : ( حرمت عليكم أمهاتكم ) الآية . رواه البخاري

حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ از روئے نسب سات رشتوں کی عورتیں حرام کی گئی ہیں۔ اور از روئے مصاہرت بھی سات رشتوں کی عورتیں حرام کی گئی ہیں پھر حضرت ابن عباس نے یہ آیت (حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ اُمَّھٰتُكُمْ ) 4۔ النساء 23) آخر تک پڑھی۔ (بخاری) تشریح از روئے نسب جو سات رشتہ والی عورتیں حرام قرار دی گئی ہیں وہ یہ ہیں ماں، بیٹی، بہن، پھوپھی، خالہ، بھتیجی، بھانجی۔ مصاہرت اس رشتہ اور قرابت کو کہتے ہیں جو نکاح کے ذریعہ قائم ہو اور جسے سسرالی رشتہ بھی کہا جاتا ہے چناچہ مصاہرت یعنی سسرالی رشتہ کی وجہ سے جو سات عورتیں حرام قرار دی گئی ہیں ان میں سے چار تو ہمیشہ کے لئے حرام ہوتی ہیں کہ ان سے کسی بھی حال میں اور کسی بھی وقت نکاح کرنا جائز نہیں ہوتا اور وہ یہ ہیں، بیوی کی ماں یعنی ساس، بیٹے اور پوتے کی بیویاں یعنی بہو اور پوت بہو، اگرچہ وہ کتنے ہی نیچے درجہ کی ہوں جیسے پڑپوتے اور سکڑپوتے وغیرہ کی بیویاں، باپ اور دادا کی بیویاں اگرچہ اوپر کے درجہ کی ہوں جیسے پڑ دادا اور سکڑ دادا وغیرہ کی بیویاں، اپنی اس بیوی کی بیٹی جس سے جماع کرچکا ہو، سسرالی رشتہ کی وہ تین عورتیں جو ہمیشہ کے لئے حرام نہیں ہیں وہ یہ ہیں، بیوی کی بہن، بیوی کی پھوپھی، بیوی کی خالہ۔ حضرت ابن عباس نے اپنی بات کی دلیل کے طور پر قرآن کریم کی آیت پڑھی چناچہ اس آیت میں نسبی رشتہ والی ان ساتوں عورتوں کا ذکر ہے جو حرام قرار دی گئی ہیں اور سسرالی رشتہ کی وجہ سے جو عورتیں حرام ہیں ان میں سے اکثر کا ذکر اس آیت میں ہے پوری آیت یوں ہے (حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ اُمَّھٰتُكُمْ ) 4۔ النساء 23) آخر تک

3202Mishkaat-al-Masabih

اپنی بیوی کی بیٹی سے نکاح کی ممانعت

وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أيما رجل نكح امرأة فدخل بها فلا يحل له نكاح ابنتها وإن لم يدخل بها فلينكح ابنتها وأيما رجل نكح امرأة فلا يحل له أن ينكح أمها دخل أو لم يدخل . رواه الترمذي وقال : هذا حديث لا يصح من قبل إسناده إنما رواه ابن لهيعة والمثنى بن الصباح عن عمرو بن شعيب وهما يضعفان في الحديث

اور حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا حضرت عبداللہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص عورت سے نکاح کرے اور پھر اس سے جماع کرے تو اس کے لئے اس بیوی کی بیٹی سے جو اس کے پہلے شوہر سے ہے) نکاح کرنا جائز نہیں ہے بشرطیکہ اس بیوی کو طلاق دے چکا ہو یا وہ مرگئی ہو کیونکہ اس بیوی کو اور اس کی بیٹی کو ایک ساتھ اپنے نکاح میں رکھنا اس صورت میں بھی جائز نہیں ہے) اور جس شخص نے کسی عورت سے نکاح کرلیا تو اب اس کے لئے اپنی اس منکوحہ کی ماں یعنی اپنی ساس سے نکاح کرنا جائز نہیں ہوگا خواہ اپنی اس منکوحہ سے جماع کیا ہو یا جماع نہ کیا ہو۔ اس روایت کو امام ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث اپنی سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے کیونکہ اس کو ابن لہیعہ اور مثنی ابن صباح نے عمرو بن شعیب سے نقل کیا ہے اور وہ دونوں حدیث روایت کرنے کے سلسلے میں ضعیف شمار کئے جاتے ہیں ( گویا یہ حدیث اپنے راویوں سے اعتبار سے تو صحیح نہیں ہے لیکن اپنے مفہوم ومعنی کے اعتبار سے صحیح ہے کیونکہ اس حدیث میں جو مفہوم بیان کیا گیا ہے وہ قرآن کی آیت کے مطابق ہے) تشریح حدیث میں اپنی بیوی کی بیٹی سے نکاح کے عدم جواز کا جو حکم بیان کیا گیا ہے وہ قرآن کریم کی اس آیت سے ثابت ہے چناچہ فرمایا کہ اور حرام ہیں تم پر تمہاری بیویوں کی وہ بیٹیاں جو ان کے لئے پہلے شوہر سے ہیں اور تمہاری پرورش میں ہیں اور جو تمہاری ان بیویوں سے ہیں جن سے تم جماع کرچکے ہو اور اگر تم نے ان بیویوں سے جماع نہیں کیا ہے تو اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم ان کی بیٹیوں سے نکاح کرو۔ اور بیوی کی ماں یعنی اپنی ساس سے نکاح کے عدم جواز کا جو مطلق حکم بیان کیا گیا ہے وہ قرآن کریم کی اس مطلق آیت سے ثابت ہے۔ اور حرام ہیں تم پر تمہاری بیویوں کی مائیں۔

3203Mishkaat-al-Masabih

مباشرت کے سلسلہ میں یہود کے ایک غلط خیال کی تردید

عن جابر قال : كانت اليهود تقول : إذا أتى الرجل امرأته من دبرها في قبلها كان الولد أحول فنزلت : ( نساوكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم )

حضرت جابر کہتے ہیں کہ یہودی یہ کہا کرتے تھے کہ جو شخص اپنی عورت کے پیچھے کی طرف سے اس کے اگلے حصہ (یعنی شرم گاہ) میں جماع کرتا ہے تو اس کے بھینگا بچہ پیدا ہوتا ہے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی (نِسَا ؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ ) 2۔ البقرۃ 223) ( تمہاری عورتیں یعنی تمہاری بیویاں اور لونڈیاں) تماری کھیتی ہیں لہذا تمہیں اختیار ہے کہ ان کے پاس جس طرح چاہو آؤ ( اس روایت کو بخاری اور مسلم نے نقل کیا ہے) تشریح یہودی یہ کہا کرتے تھے کہ اگر کوئی شخص عورت سے اس طرح جماع کرے کہ اس کے پیچھے کھڑا ہو کر یا بیٹھ کر اس کے اگلے حصہ یعنی شرم گاہ میں اپنا عضو داخل کرے تو اس کی وجہ سے بھینگا بچہ پیدا ہوگا چناچہ ان کے اس غلط خیال اور وہم کی تردید کے لئے یہ آیت نازل ہوئی کہ تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں کہ جس طرح تمہارے کھیتوں میں تمہارے لئے فصل پیدا ہوتی ہے اسی طرح تمہاری بیویوں کے ذریعے تمہاری اولاد پیدا ہوتی ہے اس لئے تم اپنی کھیتی میں آنے میں خود مختار ہو کہ جس طرح چاہو آؤ خواہ لیٹ کر خواہ بیٹھ کر خواہ کھڑے ہو کر خواہ پیچھے ہو کر اور خواہ آگے ہو کر جس طرح بھی تمہارا جی چاہے ان سے جماع کرو کسی صورت میں کوئی نقصان نہیں ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ جماع بہرصورت عورت کے اگلے حصے یعنی شرمگاہ ہی میں کیا جائے کیونکہ جس اعتبار سے عورت کو کھیتی کہا گیا ہے اس کا اطلاق عورت کی شرم گاہ ہی پر ہوسکتا ہے مقعد پر اس کا اطلاق نہیں ہوسکتا بایں وجہ کہ مقعد اولاد پیدا ہونے کی جگہ نہیں ہے بلکہ پاخانہ کی جگہ ہے اس لئے یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ پیچھے کے حصہ میں بدفعلی یعنی اغلام کرنا صرف اسلام ہی نہیں بلکہ ہر دین میں حرام ہے۔

3204Mishkaat-al-Masabih

عزل کا مسئلہ

وعنه كنا نعزل والقرآن ينزل . متفق عليه . وزاد مسلم : فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه و سلم فلم ينهناوعنه قال : إن رجلا أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : إن لي جارية هي خادمتنا وأنا أطوف عليها وأكره أن تحمل فقال : اعزل عنها إن شئت فإنه سيأتيها ما قدر لها . فلبث الرجل ثم أتاه فقال : إن الجارية قد حبلت فقال : قد أخبرتك أنه سيأتيها ما قدر لها . رواه مسلموعن أبي سعيد الخدري قال : خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم غزوة بني المصطلق فأصبنا سبيا من سبي العرب فاشتهينا النساء واشتدت علينا العزبة وأحببنا العزل فأردنا أن نعزل وقلنا : نعزل ورسول الله صلى الله عليه و سلم بين أظهرنا قبل أن نسأله ؟ فسألناه عن ذلك فقال : ما عليكم ألا تفعلوا ما من نسمة كائنة إلى يوم القيامة إلا وهي كائنة (2/222) 3187 - [ 5 ] ( صحيح ) وعنه قال : سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن العزل فقال : ما من كل الماء يكون الولد وإذا أراد الله خلق شيء لم يمنعه شيء . رواه مسلم (2/222) 3188 - [ 6 ] ( صحيح ) وعن سعد بن أبي وقاص : أن رجلا جاء إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : إني أعزل عن امرأتي . فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : لم تفعل ذلك ؟ فقال الرجل : أشفق على ولدها . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لو كان ذلك ضارا ضر فارس والروم . رواه مسلم (2/223) 3189 - [ 7 ] ( صحيح ) وعن جذامة بنت وهب قالت : حضرت رسول الله صلى الله عليه و سلم في أناس وهو يقول : لقد هممت أن أنهى عن الغيلة فنظرت في الروم وفارس فإذا هم يغيلون أولادهم فلا يضر أولادهم ذلك شيئا . ثم سألوه عن العزل فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ذلك الوأد الخفي وهي ( وإذا الموؤودة سئلت ) رواه مسلم 3190 - [ 8 ] ( صحيح )

اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں عزل کیا کرتے تھے اور قرآن کریم نازل ہوتا رہتا تھا یعنی نزول کا سلسلہ جاری تھا مگر اس بارے میں کوئی ممانعت نازل نہیں ہوئی۔ (بخاری ومسلم) اور مسلم نے اپنی روایت میں یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ ہمارے اس فعل کی اطلاع آنحضرت ﷺ کو تھی مگر آپ ﷺ نے ہمیں اس سے منع نہیں فرمایا۔ تشریح عزل کا مطلب یہ ہے کہ عورت سے اس طرح جماع کیا جائے کہ مرد جب منزل ہونے لگے تو وہ اپنا عضو مخصوص عورت کی شرم گاہ سے باہر نکال کر مادہ کا باہر ہی اخراج کر دے۔ اس طریقہ سے مادہ منویہ چونکہ اندر نہیں پہنچتا اس لئے عورت حاملہ ہونے سے بچ جاتی ہے۔ علامہ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ اکثر علماء اس بات کے قائل ہیں کہ عزل جائز ہے اور بعض حضرات جن میں کچھ صحابہ بھی شامل ہیں اس کو ناجائز کہتے ہیں لیکن زیادہ صحیح بات یہی ہے کہ عزل کرنا جائز ہے چناچہ درمختار میں بھی یہی لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کی خاص مصلحت یا عذر کی بناء پر عزل کرنا چاہے تو اس کی اجازت ہے لیکن یہ ملحوظ رہے کہ اپنی لونڈی سے عزل کرنا تو اس کی اجازت کے بغیر بھی جائز ہے جب کہ اپنی آزاد منکوحہ سے اس کی اجازت کے بعد ہی جائز ہوگا اسی طرح اگر کسی دوسرے کی لونڈی اپنے نکاح میں ہو تو اس کے مالک کی اجازت حاصل کرنے کے بعد اس سے عزل کرنا جائز ہوگا۔ حضرت امام شافعی کے بارے میں سید نے یہ لکھا ہے کہ ان کے نزدیک بھی اپنی آزاد منکوحہ سے اس کی اجازت کے بعد ہی عزل کرنا جائز ہے لیکن لونڈی خواہ اپنی مملوکہ ہو یا منکوحہ ہو اس کی اجازت کے بغیر بھی عزل کرنا جائز ہے۔ اور امام نووی نے جو شافعی المسلک ہیں) یہ لکھا ہے کہ ہمارے یعنی شوافع کے نزدیک عزل کرنا مکروہ ہے کیونکہ یہ انقطاع نسل کا سبب ہے۔ اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میرے پاس لونڈی ہے جو ہماری خدمت کرتی ہے اور میں اس سے جماع بھی کرتا ہوں لیکن میں اسے ناپسند کرتا ہوں کہ وہ حاملہ ہو آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم چاہو تو عزل کرلیا کرو لیکن اس لونڈی کے ذریعہ جو چیز پیدا ہونی مقدر ہوچکی ہے وہ ضرور پیدا ہوگی۔ اس کے بعد کچھ عرصہ تک وہ شخص نہیں آیا اور پھر جب آیا تو کہنے لگا کہ میری لونڈی حاملہ ہوگئی ہے آنحضرت ﷺ نے یہ سن کر فرمایا کہ میں نے تو تمہیں پہلے ہی آگاہ کردیا تھا کہ اس کے ذریعہ جو چیز پیدا ہونی مقدر ہوچکی ہے وہ ضرور پیدا ہوگی (مسلم) تشریح علامہ نووی کہتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عزل کرنے کے باوجود اگر حمل ٹھہر جائے تو اس کا نسب ثابت ہوگا اور علامہ ابن ہمام نے اس بارے میں لکھا ہے کہ اگر کسی شخص نے عورت کی اجازت کے بعد یا اس کی اجازت کے بغیر عزل کیا اور اس کے باوجود اس عورت کے حمل ٹھہر گیا تو آیا اس شخص کے لئے اس حمل سے انکار کرنا یعنی یہ کہنا کہ یہ حمل میرا نہیں ہے) جائز ہے یا نہیں؟ اس مسئلہ میں تفصیل ہے، چناچہ علماء کا قول ہے کہ اگر اس شخص نے عزل کرنے کے بعد دخول نہیں کیا تھا یا دخول کیا تھا مگر اس سے پہلے پیشاب نہیں کیا تھا تو پھر اس کے لئے اس حمل سے انکار کرنا جائز نہیں ہوگا کیونکہ اس صورت میں اس بات کا قوی احتمال ہوسکتا ہے کہ اس کے ذکر میں منی کا کوئی قطرہ باقی رہ گیا ہو اور وہ اب دخول کی صورت میں عورت کے رحم میں چلا گیا ہو اسی طرح حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا یہ مسلک ہے کہ اگر کسی شخص نے مثلا جماع سے فارغ ہونے کے بعد پیشاب کرنے سے پہلے غسل جنابت کیا اور اس کے بعد جب اس نے پیشاب کیا تو منی کا کوئی قطرہ نکل آیا تو اس صورت میں اس پر واجب ہوگا کہ وہ اب پھر غسل کرے۔ اور حضرت ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ جب ہم رسول کریم ﷺ کے ساتھ بنی المصطلق کی جنگ میں گئے تو عرب قوم میں سے کچھ لونڈی غلام ہمارے ساتھ آئے، ہمیں عورتوں کی خواہش ہوئی اور مجرد رہنا ہمارے لئے سخت مشکل ہوگیا اور ان لونڈیوں سے جو ہمارے ہاتھ لگی تھیں ہہم نے عزل کرنا چاہا) تاکہ ان کے حمل نہ ٹھہر جائے) آخر ہم نے عزل کا ارادہ کرلیا مگر پھر ہم نے سوچا کہ جب رسول کریم ﷺ ہمارے درمیان ہیں تو یہ جائز ہے یا نہیں؟ چناچہ ہم نے آپ سے اس کے بارے میں دریافت تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم عزل نہ کرو تو اس میں تمہارا کوئی نقصان نہیں ہے اس لئے کے قیامت تک جو جان پیدا ہو نیوالی ہے وہ تو پیدا ہو کر رہے گی ( بخاری ومسلم) تشریح امام نووی کہتے ہیں کہ سبیا من العرب سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اہل عرب پر بھی رق جاری ہوتا ہے جب کہ وہ مشرک ہوں (یعنی جس طرح غیرعرب مشرک و کافر جنگ میں پکڑ لئے جانے کے بعد غلام و لونڈی بنائے جاسکتے ہیں اسی طرح اگر وہ مشرک و کافر جن کا تعلق عرب نسل سے ہو کسی جنگ میں بطور قیدی ہاتھ لگیں تو وہ بھی مسلمانوں کے حق میں لونڈی غلام ہوجاتے ہیں کیونکہ یہاں جن لونڈی غلاموں کا ہاتھ لگنا ذکر کیا گیا ہے ان کا تعلق بنی المصطلق سے تھا جو قبیلہ خزاعہ کی ایک شاخ تھی اور قبیلہ خزاعہ والے اہل عرب میں سے تھے چناچہ حضرت امام شافعی کا قول قدیم بھی یہی ہے۔ (ما علیکم ان لا تفعلوا) میں حروف الف کے زبر کے ساتھ یعنی (ان) بھی صحیح ہے اور الف کے زیر کے ساتھ یعنی ان بھی صحیح ہے اس جملہ کے معنی نووی نے یہ بیان کئے ہیں کہ اگر تم عزل نہ کرو تو اس میں کوئی نقصان نہیں ہے کیونکہ جب یہ بات طے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس نفس کو پیدا کرنا مقدر کردیا ہے تو وہ ضرور پیدا ہو کر رہے گا اس لئے تم عزل کرو یا عزل نہ کرو پیدا ہونوالی جان پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوگا اگر اسے دنیا میں آنا ہے تو تم لاکھ عزل کرلو ضبط ولادت کے لاکھ طریق آزما لو وہ اس دنیا میں آ کر رہے گی اور اگر اس کا پیدا ہونا مقدر نہیں ہے تو پھر اگر عزل نہ کرو تو تمہارا کوئی نقصان نہیں حاصل یہ کہ تمہارا عزل کرنا کوئی فائدہ مند چیز نہیں ہے۔ اس اعتبار سے یہ حدیث عزل کے عدم جواز کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اور بعض علماء کہتے ہیں کہ (ان لا تفعلوا) میں حرف، لا، زائد ہے اس صورت میں اس جملہ کے یہ معنی ہوں گے کہ عزل کرنے میں کوئی قباحت نہیں اس اعتبار سے یہ حدیث عزل کے جائز ہونے کی دلیل ہوگی۔ اور حضرت ابوسعید خدری راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ سے عزل کرنے کے بارے میں پوچھا گیا (کہ عزل کرنا جائز ہے یا نہیں) تو آپ ﷺ نے فرمایا منی کے ہر پانی سے بچہ بنتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو پیدا ہونے سے کوئی چیز نہیں روک سکتی ( مسلم) تشریح بظاہر اشکال پیدا ہوسکتا ہے کہ سوال اور جواب میں کوئی مطابقت نہیں ہے حالانکہ اگر حدیث کے حقیقی مفہوم پر نظر ہو تو یہ اشکال پیدا ہونے کا کوئی محل ہی نہیں رہ جاتا کیونکہ سوال کا مقصد یہ تھا کہ عزل کرنے کی اجازت مل جائے تاکہ عورت کے ہاں ولادت ہونے کا کوئی خوف نہ رہے، سوال کے اسی حقیقی مفہوم کے پیش نظر آپ ﷺ نے جواب دیا کہ تم لوگ تو یہ سمجھتے ہو کہ مرد کی منی کا عورت کے رحم میں گرنا عورت کے ہاں ولادت ہونے کا سبب ہے اور عزل کرلینا ولادت نہ ہونے کا سبب ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ منی کے ہر پانی سے بچہ نہیں بنتا اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مرد کی منی عورت کے رحم تک پہنچ جاتی ہے مگر اس سے بچہ نہیں بنتا اور بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ لوگ عزل کرتے ہیں مگر اس کے باوجود عورت حاملہ ہوجاتی ہے لہذا اس سے معلوم ہوا کہ عورت کا حاملہ ہونا مرد کے مادہ تولید کے اندر کرنے پر موقوف نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت و ارادہ پر موقوف ہے، اسی طرح عورت کا حاملہ نہ ہونا بھی اللہ تعالیٰ کی مشیت و ارادہ ہی پر موقوف ہے عزل پر موقوف نہیں ہے۔ ہاں یہ ثابت ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تولد و تناسل کا ایک نظام مقرر کردیا ہے کہ مرد کے نطفہ سے بچہ کی تولید ہوتی ہے اس لئے ہوسکتا ہے کہ عزل کرنے کی صورت میں بھی نطفہ کا کوئی حصہ بلا اختیار عورت کے رحم میں چلا جائے اور اس سے بچہ بن جائے بلکہ اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ اگر کسی بچہ کا پیدا ہونا تقدیر الٰہی میں ہے تو اللہ تعالیٰ کو اس پر قدرت حاصل ہے کہ وہ اس بچہ کو بغیر نطفہ کے بھی پیدا کر دے۔ بظاہر یہ احادیث عزل کے جائز نہ ہونے پر دلالت کرتی ہیں لیکن ان کا حقیقی مفہوم ومنشاء اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ عزل کرنا پسندیدہ نہیں ہے بلکہ مکروہ ہے، اس مسئلہ میں حنفیہ اور دوسرے علماء کا جو فقہی مسلک ہے اس کا بیان حضرت جابر کی روایت کی تشریح میں گزر چکا ہے۔ اور حضرت سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں کہ ایک دن ایک شخص رسول کریم ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا کہ میں اپنی عورت سے عزل کرتا ہوں آنحضرت ﷺ نے یہ سن کر فرمایا کہ تم ایسا کیوں کرتے ہو؟ اس شخص نے کہا کہ میں اس کے شیر خوار بچہ کی وجہ سے ڈرتا ہوں کہ کہیں مدت رضاعت میں وہ حاملہ نہ ہوجائے اور اس حالت میں بچہ کو دودھ پلانا نقصان پہنچ جائے گا) رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر یہ نقصان پہنچاتا تو روم وفارس والوں کو ضرور نقصان پہنچاتا (مسلم) تشریح لوگوں کا خیال یہ تھا کہ مدت رضاعت میں جماع اور پھر حمل ٹھہرنے سے چونکہ عورت کے دودھ میں خرابی پیدا ہوجاتی ہے اس لئے اس دودھ کو پینے سے شیر خوار بچہ کو نقصان پہنچتا ہے اس کے علاوہ ایسی حالت میں عورت کا دودھ بھی کم ہوجاتا ہے اس کا حاصل یہ تھا کہ اسی خوف کی بناء پر اس شخص نے آنحضرت ﷺ سے عزل کی اجازت چاہی اس کے جواب میں آنحضرت ﷺ نے جو فرمایا اس کا حاصل یہ تھا کہ اگر مدت رضاعت میں جماع کرنا اور حمل ٹھہر جانا شیرخواربچہ کو نقصان دہ ہوتا تو یہ روم وفارس والوں کو ضرور نقصان پہنچاتا کیونکہ وہ اس کے عادی ہیں اور جب ان کی یہ عادت ان کے لئے نقصان دہ نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ مدت رضاعت میں حمل ٹھہر جانا نقصان دہ نہیں ہے لہذا عزل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور حمل ٹھہر جانے کے خوف کی وجہ سے عزل نہ کرو گویا آپ ﷺ کا یہ ارشاد عزل کی کراہت و ناپسندیدگی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اور حضرت جدامہ بنت وہب کہتی ہیں کہ ایک دن میں رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس وقت لوگوں کی ایک جماعت وہاں موجود تھی اور آپ ﷺ ان کو مخاطب کر کے فرما رہے تھے کہ میں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ لوگوں کو غیلہ سے منع کردوں لیکن پھر میں نے دیکھا کہ روم وفارس کے لوگ اپنی اولاد کی موجودگی میں غیلہ کرتے ہیں اور اس کی وجہ سے ان کی اولاد کو کوئی نقصان نہیں ہوتا تو میں نے اس ارادہ کو ترک کردیا) پھر لوگوں نے آپ ﷺ سے عزل کرنے کے بارے میں پوچھا کہ اس کا کیا حکم ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ عزل کرنا تو پوشیدہ طور پر زندہ گاڑ دینا ہے اور یہ ایک بری عادت ہے جو اس آیت کریمہ (وَاِذَا الْمَوْء دَةُ سُى ِلَتْ ) 81۔ التکویر 8) ( اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس گناہ کی پاداش میں قتل کی گئی تھی) کے حکم میں داخل ہے۔ (مسلم) تشریح غیلہ کے معنی ہیں حمل کی حالت میں بچہ کو دودھ پلانا اور نہایہ میں لکھا ہے کہ غیلہ کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص ایام رضاعت میں اپنی بیوی سے جماع کرے چناچہ اہل عرب غیلہ یعنی ایام رضاعت میں اپنی بیوی سے جماع کرنے) احتراز کرتے تھے اور اس کیوجہ ان کا یہ گمان تھا کہ اس صورت میں شیر خوار بچہ کو نقصان پہنچتا ہے اسی لئے آنحضرت ﷺ نے بھی یہ ارادہ فرمایا کہ لوگوں کو ایام رضاعت میں اپنی بیوی کے پاس جانے سے منع کردیں لیکن جب آپ ﷺ نے دیکھا کہ روم وفارس کے لوگ ایسا کرتے ہیں اور ان کی اولاد کو کوئی نقصان نہیں ہوتا تو آپ ﷺ نے ممانعت کا ارادہ ترک فرما دیا۔ واد کے معنی ہیں زندہ در گور کرنا، جیتا گاڑ دینا، زمانہ جاہلیت میں اہل عرب تنگدستی کے خوف اور عار کی وجہ سے اپنی بچیوں کو زندہ گاڑ دیتے تھے مذکورہ بالا آیت کریمہ میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان والدین سے سخت باز پرس کی جائے گی جو اپنے ہاتھوں اپنی بچیوں کو زندہ گاڑ دیتے تھے، چناچہ آنحضرت ﷺ نے عزل کو بھی واد خفی یعنی پوشیدہ زندہ گاڑ دینے سے تعبیر فرمایا۔ اس طرح یہ حدیث منسوخ ہے یا آپ نے یہ بات محض تہدید و تنبیہ کے طور پر فرمائی ہے یا پھر یہ کہ اس ارشاد کے ذریعہ گویا اس طرف اشارہ مقصود ہے کہ عزل نہ کرنا ہی اولی اور زیادہ بہتر ہے۔ ان حضرات کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے کہ ایک دن آنحضرت ﷺ کے صحابہ کی ایک مجلس منعقد تھی۔ حاضرین میں حضرت علی حضرت زبیر اور حضرت سعد رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین جیسے جلیل القدر صحابہ کے علاوہ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق بھی موجود تھے۔ عزل کے سلسلہ میں مباحثہ ہو رہا تھا صحابہ کی رائے تھی کہ اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے لیکن ایک صحابی نے یہ کہا کہ لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ یہ عزل کرنا مودۃ (چھوٹی مؤدۃ ہے یعنی جس طرح اپنی اولاد کو زندہ گاڑ دینا مؤدۃ کبری ہے اسی طرح عزل کرنا مؤدۃ صغری ہے حضرت علی نے اس کے جواب میں فرمایا کہ اس سلسلہ میں حاصل کلام یہ ہے کہ جب تک بچہ میں جان نہ پڑے مؤدۃ کے مفہوم کا اطلاق نہیں ہوگا یعنی اگر جان پڑھ جانے کے بعد اسقاط حمل کرایا جائے یا زندہ پیدا ہونے کے بعد اسے جیتا جاگتا گاڑ دیا جائے تو اس کو مؤدۃ کہا جائے گا۔ حضرت علی کا یہ جواب سن کر حضرت عمر نے فرمایا علی! اللہ تعالیٰ تمہاری عمر دراز کرے تم نے سچ کہا ہے چناچہ فقہی مسئلہ یہ ہے کہ جب تک بچہ میں جان نہ پڑے اسقاط حمل جائز ہے اور قرار حمل کے بعد ایک سو بیس دن میں حمل کے اندر جان پڑتی ہے گویا قرار حمل کے بعد ایک سو بیس دن کے اندر اندر تو اسقاط حمل جائز ہے اس کے بعد جائز نہیں ہے۔ بعض حضرات یہ فرماتے ہیں کہ یہ ارشاد گرامی عزل کے حرام ہونے پر دلالت نہیں کرتا البتہ اس کے مکروہ ہونے پر ضرور دلالت کرتا ہے بایں معنی کہ عزل کرنا واد حقیقی یعنی واقعۃً زندہ درگور کردینے کے حکم میں داخل نہیں ہے کیونکہ واد حقیق کا مطلب ہوتا ہے ایک جان کو ہلاک کردینا جب کہ عزل میں یہ صورت نہیں ہوتی البتہ عزل کرنا واد حقیقی کے مشابہ یقینا ہے اسی واسطے اس کو پوشیدہ زندہ گاڑ دی نا فرمایا گیا ہے جو اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ عزل کے ذریعہ چونکہ اپنے مادہ تولید نطفہ کو ضائع کیا جاتا ہے اور یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ مادۃ تولید اللہ تعالیٰ نے بچہ پیدا ہونے کے لئے مہیا کیا ہے اس لئے یہ فعل یعنی عزل کرنا اپنے بچہ کو ہلاک کرنے یا اس کو زندہ درگور کردینے کے مشابہ ہے۔ علامہ ابن ہمام کہتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود کے بارے میں یہ صحیح روایت منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ عزل مؤدۃ صغری ہے۔ نیز حضرت ابوامامہ کے بارے میں یہ منقول ہے کہ جب ان سے عزل کا حکم پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے کسی مسلمان کو عزل کرتے نہیں دیکھا سنا اس سے معلوم ہوا کہ عزل کرنا پسندیدہ نہیں ہے) اسی طرح حضرت ابن عمر سے یہ منقول ہے کہ حضرت عمر فاروق نے بعض لوگوں کو عزل کرنے پر مارا ہے اور حضرت عثمان غنی کے بارے میں یہ منقول ہے کہ وہ عزل کرنے سے منع کرتے تھے۔ ان تمام روایات سے عزل کی ممانعت ثابت ہوتی ہے لیکن علماء لکھتے ہیں کہ یہ ممانعت نہی تنزیہی کے طور پر ہے،

3205Mishkaat-al-Masabih

اپنی بیوی کی پوشیدہ باتوں کو افشاء کرنے والے کے بارے میں وعید

وعن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أعظم الأمانة عند الله يوم القيامة وفي رواية : إن من أشر الناس عند الله منزلة يوم القيامة الرجل يفضي إلى امرأته وتفضي إليه ثم ينشر سرها . رواه مسلم

اور حضرت ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑی امانت ایک روایت میں یوں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک باعتبار مرتبہ کے سب سے برا شخص وہ ہوگا جو اپنی بیوی سے ہم بستر ہو اور اس کی بیوی ہم آغوش ہو اور پھر وہ اس کی پوشیدہ باتیں ظاہر کرتا پھرے ( بخاری ومسلم) تشریح علامہ طیبی (ان اعظم الامانۃ) کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بہت بڑی امانت کہ جس میں خیانت کرنیوالے سے قیامت کے دن سخت باز پرس ہوگی شوہر وبیوی کے درمیان جنسی معاملات اور نجی امور سے متعلق باتیں ہیں یعنی خاوند بیوی کے درمیان جنسی افعال اور راز و نیاز کی باتیں ایک بہت بڑی امانت ہے جس کی حفاظت ہر شوہر کی ذمہ داری ہے جو شوہر اس امانت کی حفاظت نہیں کرے گا بایں طور کہ وہ اپنی بیوی سے ہمبستری کے بعد اس کے راز افشاء کرے گا اس سے قیامت کے دن باز پرس کی جائے گی اور اشرف کے قول کے مطابق اس ارشاد کے معنی یہ ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑی امانت میں خیانت اس شخص کی خیانت ہوگی جو اپنی بیوی سے ہمبستری کرے اور پھر اس کے راز کو افشاء کرے۔ اور افشاء کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان راز و نیاز کی جو باتیں ہوئی ہوں اور جنسیات سے متعلق جو افعال ہوئے ہوں ان کو لوگوں سے کہتا پھرے جیسا کہ بےحیاء لوگوں کی عادت ہے یا اپنی بیوی کے کسی عیب کو بیان کرتا پھرے اور یا یہ کہ اپنی بیویوں کی ان خوبیوں اور اوصاف کو ذکر کرتا پھرے جن کو چھپانا شرعًا اخلاقًا اور عرفًا واجب ہے۔ ابن ملک کہتے ہیں کہ اس ارشاد گرامی کا مطلب یہ ہے کہ خاوند و بیوی میں سے ہر ایک اپنے دوسرے کے افعال و اقوال کا امین ہے لہذا ان میں سے جو بھی اپنے دوسرے کے ان افعال و اقوال کو ظاہر کرے گا جن کو ظاہر کرنا وہ دوسرا ناپسند کرتا ہو تو وہ خیانت کرنیوالا کہلائے گا۔ بہرکیف حدیث کا حاصل یہ ہے کہ خاوند و بیوی کے درمیان جنسی معاملات اور ذاتی امور سے متعلق جو باتیں ہوتی ہیں یا جو افعال ہوتے ہیں ان کو غیروں کے سامنے بیان کرنا یا ایک دوسرے کے عیوب وغیرہ کو ظاہر کرنا اخلاقی نکتہ نظر ہی سے معیوب نہیں ہے بلکہ شرعی طور پر آخرت میں مؤخذاہ الٰہی کا موجب ہے۔ اس سلسلہ میں ایک سبق آموز واقعہ بیان کرنا فائدہ سے خالی نہیں ہے۔ ایک مرتبہ ایک صاحب علم و دانش نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے پوچھا کہ ایسا کیوں کرتے ہو؟ اس نے کہا کہ میں اپنی بیوی کے عیوب کیونکر ذکر کروں (یعنی اگر میں طلاق کی وجہ بیان کروں تو گویا میں اس کے عیوب کو جو طلاق کی وجہ ہیں تمہارے سامنے بیان کرو دوں اور یہ مجھے گوارا نہیں ہے کہ جب تک وہ میری بیوی ہے اس کے عیوب دوسروں کے سامنے آئیں) پھر جب اس نے طلاق دیدی تو پھر کچھ اور لوگوں نے پوچھا کہ تم نے اپنی بیوی کو طلاق کیوں دی؟ اس نے کہا کہ میں ایک اجنبی عورت کے عیوب کیسے ظاہر کروں یعنی اگر میں طلاق کی وجہ بیان کروں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں ایک اجنبی عورت کے عیوب تمہارے سامنے بیان کر دوں اور اسے میں مطلقًا مناسب نہیں سمجھتا) بعض علماء نے یہ لکھا ہے کہ خاوند و بیوی کے لئے ایک دوسرے کی باتوں کو ظاہر کرنے کی یہ ممانعت اس صورت میں ہے جبکہ اس کا کوئی فائدہ اور مقصد نہ ہو، ہاں اگر اس کا کوئی فائدہ یا اس کی کوئی معقول وجہ ہو تو پھر یہ ممانعت نہیں ہوگی مثلا اگر عورت کا دعوی ہو کہ اس کا خاوند اس کی جنسی خواہش کی تسکین کا اہل نہیں ہے، یا بیوی یہ شکایت کرے کہ اس کا شوہر اس کے ساتھ بیزاری اور لاپرواہی کا برتاؤ کرتا ہے تو اس صورت میں بیوی کے لئے ان چیزوں کا ذکر کرنا غیر پسندیدہ نہیں ہوگا جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (لا یحب اللہ الجہر بالسوء من القول الا من ظلم) (اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کسی بری بات کو اعلانیہ بیان کیا جائے ہاں اگر کسی پر ظلم کیا گیا ہے تو وہ اسے اعلانیہ بھی بیان کرسکتا ہے)

3206Mishkaat-al-Masabih

ایام حیض میں اپنی بیوی کے پاس نہ جاؤ اور نہ بیوی کے ساتھ بد فعلی کرو

عن ابن عباس قال : أوحي إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( نساوكم حرث لكم فأتوا حرثكم ) الآية : أقبل وأدبر واتق الدبر والحيضة . رواه الترمذي وابن ماجه (2/223) 3192 - [ 10 ] ( صحيح ) وعن خزيمة بن ثابت : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن الله لا يستحيي من الحق لا تأتوا النساء في أدبارهن . رواه أحمد والترمذي وابن ماجه . والدارمي

حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ پر یہ آیت نازل کی گئی (نِسَا ؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ ) 2۔ البقرۃ 223) ( تماری عورتیں تمہاری کھیتیاں پس آؤ تم اپنی کھیتیوں میں الخ) لہذا تم جس طرح چاہو ان سے مجامعت کرو خواہ آگے سے اگلی جانب میں آؤ یا پیچھے سے اگلی جانب آؤ لیکن مقعد میں دخول کرنے سے اجتناب کرو اور حیض کی حالت میں جماع نہ کرو (ترمذی ابن ماجہ دارمی) تشریح لفظ اقبل (خواہ آگے سے اگلی جانب میں آؤ) اور ادبر ( یا پیچھے سے اگلی جانب میں آؤ) یہ دونوں لفظ آیت کریمہ کے الفاظ (فا توا حرثکم) 2۔ البقرۃ 223) کی تفسیر وبیان میں ہیں، یعنی ان دونوں الفاظ کے ذریعہ یہ وضاحتی تنبیہ کی گئی ہے کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ خواہ آگے کی طرف سے آؤ یا پیچھے کی طرف سے آؤ مگر دخول بہرصورت اگلے حصے یعنی شرمگاہ ہی میں کرو چناچہ بدفعلی کرنا یعنی مقعد میں دخول کرنا قطعی حرام ہے اسی طرح حیض کی حالت میں اگلے حصہ میں بھی دخول کرنا حرام ہے۔ اور حضرت خزیمہ بن ثابت کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ حق بات کہنے سے حیاء نہیں کرتا تم عورتوں کی مقعد میں بدفعلی نہ کرو ( احمد ترمذی ابن ماجہ دارمی) تشریح حیاء اس تغیر کو کہتے ہیں جو عیب لگنے اور برا کہے جانے کے خوف سے انسان میں واقع ہوتا ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات میں کسی تغیر کا واقع ہونا محال ہے اس لئے یہاں حیاء سے حقیقی حیاء مراد نہیں ہے بلکہ مجازی حیاء یعنی ترک کرنا مراد ہے جو حیاء کا مقصد ہے اس طرح ( اِنَّ اللّٰهَ لَا يَسْتَحْى) 2۔ البقرۃ 26) کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ حق بات کہنے اور اس کے اظہار کو ترک نہیں کرتا لہذا حدیث میں اس بات کو ما بعد کے مضمون (عورت کے ساتھ بدفعلی کی ممانعت) کی تمہید ومقدمہ کے طور پر ذکر کرنا گویا اس فعل بد کی انتہائی برائی اور اس کے حرام ہونے پر متنبہ کرنا ہے کہ یہ بات اتنی ناپسندیدہ اور مکروہ ہے کہ اس کو زبان پر لانا اور اس کا ذکر کرنا بھی شرم وحیا کے منافی ہے اگرچہ اس کا ذکر کرنا اس سے روکنے ہی کی وجہ سے کیوں نہ ہو لیکن چونکہ یہ ایک شرعی مسئلہ ہے اور شرعی مسئلہ کو بیان کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے اس لئے سن لو کہ عورتوں کے ساتھ ان کی مقعد میں بدفعلی کرنا حرام ہے اس لئے اجتناب کرو اس سے معلوم ہوا کہ جب عورتوں کے ساتھ بدفعلی کرنا حرام ہے تو مردوں کے ساتھ یہ فعل بطریقہ اولی حرام ہے۔ طیبی کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی اجنبی عورت کے ساتھ یہ فعل بد کرے تو وہ زانی کے حکم میں ہوگا اور اگر اپنی بیوی یا اپنی لونڈی کے ساتھ کرے تو وہ حرام کا مرتکب ہوا لیکن اس کی پاداش میں اسے سنگسار نہیں کیا جائے گا اور نہ اس پر حد جاری کی جائے گی البتہ اسے کوئی سزا ضرور دی جائے گی۔ اور نووی کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنے غلام کے ساتھ اغلام کرے تو وہ اجنبی کے ساتھ بدفعلی کرنے والے کے حکم میں ہوگا نیز حضرت امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ اس فعل بد پر فاعل اور مفعول یعنی یہ فعل بد کرنیوالا اور کر انیوالا دونوں مستوجب تعزیر ہوتے ہیں کہ ان دونوں کو ان کے حال کے مناسب کوئی سزا دی جائے گی ہاں اگر مفعول یعنی جس کے ساتھ یہ بدفعلی کی گئی ہے) چھوٹا ہو یا دیوانہ ہو یا اس کے ساتھ زبردستی یہ فعل بد کیا گیا ہو تو اسے سزا نہیں دی جائے گی۔

3207Mishkaat-al-Masabih

اپنی بیوی کے ساتھ بد فعلی کرنیوالا ملعون

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ملعون من أتى امرأته في دبرها . رواه أحمد وأبو داود (2/224) 3194 - [ 12 ] ( صحيح ) وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الذي يأتي امرأته في دبرها لا ينظر الله إليه . رواه في شرح السنة (2/224) 3195 - [ 13 ] ( حسن ) وعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا ينظر الله إلى رجل أتى رجلا أو امرأة في الدبر . رواه الترمذي

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص ملعون ہے جو اپنی عورت کے ساتھ بدفعلی کرتا ہے ( ابوداؤد، احمد) اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنی عورت کے ساتھ بدفعلی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی طرف رحمت و شفقت کی نظر سے نہیں دیکھتا ( ترمذی) اور حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف رحمت و شفقت کی نظر سے نہیں دیکھتا جو مرد یا عورت کے ساتھ بدفعلی کرتا ہے ( ترمذی)

3208Mishkaat-al-Masabih

غیلہ کی ممانعت

وعن أسماء بنت يزيد قالت : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لا تقتلوا أولادكم سرا فإن الغيل يدرك الفارس فيدعثره عن فرسه . رواه أبو داود

اور حضرت اسماء بنت یزید ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم اپنی اولاد کو مخفی طور پر قتل نہ کرو کیونکہ غیل سوار پر اثر انداز ہوتا ہے اور اسے گھوڑے سے گرا دیتا ہے ( ابوداؤد) تشریح اپنی اولاد کو مخفی طور پر قتل نہ کرو، کا مطلب یہ ہے کہ غیلہ کے ذریعہ اولاد کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور یہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ حمل کی حالت میں دودھ پلانے یا مدت رضاعت میں جماع کرنے کو غیلہ کہتے ہیں لہذا حدیث کا حاصل یہ ہوا کہ غیلہ کی وجہ سے بچہ کے مزاج میں خرابی پیدا ہوجاتی ہے اور اس کے قوی ضعیف ہوجاتے ہیں اور اس خرابی و ضعف کا اثر اس کے بالغ ہونے کے بعد تک رہتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بچہ بڑا ہونے کے بعد جب میدان کارزار میں جاتا ہے تو دشمن کے مقابلہ میں سست اور کمزور پڑجاتا ہے اور گھوڑے سے گرپڑتا ہے اور یہ چیز اس کے حق میں ایسی ہے جیسا کہ اسے مقابلہ سے پہلے ہی قتل کردیا گیا ہو لہذا غیلہ نہ کرو تاکہ غیلہ کی وجہ سے اپنے بچے کے قتل ہوجانے کا باعث نہ بنو۔ اس موقع پر یہ خلجان پیدا ہوسکتا ہے کہ اس حدیث سے معلوم ہو کہ بچہ پر غیلہ کا اثر پڑتا ہے جبکہ اس سے پہلے گزرنے والی بعض احادیث سے یہ معلوم ہوا تھا کہ غیلہ بچہ پر اثرانداز نہیں ہوتا؟ اس کا جواب طیبی نے یہ دیا ہے کہ گزشتہ احادیث میں بچہ پر غیلہ کے اثرانداز ہونے کی نفی زمانہ جاہلیت کے اس اعتقاد کی تردید کے لئے تھے کہ لوگ غیلہ ہی کو حقیقی مؤثر سمجھتے تھے۔ اور اس حدیث کے ذریعہ غیلہ کے اثرانداز ہونے کا جو اثبات کیا گیا ہے وہ اس بات کے پیش نظر ہے کہ غیلہ فی الجملہ سبب بنتا ہے اور مؤثرحقیقی حق تعالیٰ کی مرضی اور اس کا حکم ہے۔ یا یوں کہا جائے کہ اس حدیث میں غیلہ کی جو ممانعت بیان کی گئی ہے وہ نہی تنزیہی کے طور پر ہے اور آپ ﷺ کا گزشتہ ارشاد (لقد ہممت) الخ ( حدیث نمبر ٧) تحریم پر محمول ہے اسی طرح دونوں حدیثوں میں کوئی تضاد باقی نہیں رہے گا اس کے علاوہ یہ بھی کہا جاسکتا ہے) ان دونوں کی بنیاد آپ ﷺ کا اجتہاد تھا یعنی جب آپ ﷺ نے دیکھا کہ عرب کے لوگ جب غیلہ کرتے ہیں تو ان کے بچے ضعیف و کمزور ہوجاتے ہیں تو آپ ﷺ نے غیلہ سے منع کیا مگر جب بعد میں آپ ﷺ نے روم وفارس کے لوگوں کو دیکھا کہ ان کے ہاں غیلہ کی وجہ سے بچہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا تو آپ ﷺ نے غیلہ کی ممانعت کو ختم کردیا چناچہ حضرت جدامہ کی روایت نمبر ٧ سے اسی بات کی تائید ہوتی ہے۔

3209Mishkaat-al-Masabih

عزل کا مشروط جواز

عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يعزل عن الحرة إلا بإذنها . رواه ابن ماجه

اور حضرت عمر بن خطاب کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے حرۃ آزاد عورت) کے ساتھ اس کی اجازت کے بغیر عزل کرنے سے منع فرمایا ہے ( ابن ماجہ) تشریح آزاد عورت سے جماع کے وقت اگر عزل کیا جائے تو اس سے اجازت لینی ضروری ہے اس کی اجازت حاصل کئے بغیر عزل نہ کیا جائے کیونکہ عزل کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ بچہ نہیں ہوتا بلکہ عورت کی جنسی لذت میں کمی بھی ہوجاتی ہے اور ان دونوں چیزوں سے آزاد عورت کا حق متعلق ہے کہ اگر عورت بچہ کی پیدائش چاہتی ہے تو مرد کو یہ اختیار نہیں ہوگا کہ وہ عورت کی اس خواہش کو پورا نہ ہونے دے اسی طرح عورت اگر عزل کی وجہ سے اپنی جنسی لذت میں کمی محسوس کرتی ہے تو یہ اس کے ساتھ بےانصافی ہے اس لئے ضروری ہے کہ عزل کے لئے عورت کی اجازت حاصل کرلی جائے اگر وہ اجازت دے تو عزل کیا جائے اور اگر اجازت نہ دے تو عزل نہ کیا جائے گویا یہ حدیث آزاد عورت کی اجازت کی شرط کے ساتھ اور لونڈی کی اجازت کے بغیر بھی عزل کے جائز ہونے پر دلالت کرتی ہے کہ جیسا کہ حنفیہ کا مسلک ہے۔

3210Mishkaat-al-Masabih

لونڈی آزاد ہونے کے بعد اپنا نکاح فسخ کرسکتی ہے

عن عروة عن عائشة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لها في بريرة : خذيها فأعتقيها . وكان زوجها عبدا فخيرها رسول الله صلى الله عليه و سلم فاختارت نفسها ولو كان حرا لم يخيرها (2/225) 3199 - [ 2 ] ( صحيح ) وعن ابن عباس قال : كان زوج بريرة عبدا أسود يقال له مغيث كأني أنظر إليه يطوف خلفها في سكك المدينة يبكي ودموعه تسيل على لحيته فقال النبي صلى الله عليه و سلم للعباس : يا عباس ألا تعجب من حب مغيث بريرة ؟ ومن بغض بريرة مغيثا ؟ فقال النبي صلى الله عليه و سلم : لو راجعته فقالت : يا رسول الله تأمرني ؟ قال : إنما أشفع قالت : لا حاجة لي فيه . رواه البخاري

حضرت عروہ ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ان یعنی (حضرت عائشہ) سے بریرہ کے بارے میں فرمایا کہ اسے خرید لو اور پھر اس کو آزاد کردو اور بریرہ کا خاوند چونکہ غلام تھا اس لئے آنحضرت نے اسے اختیار دے دیا تھا اور بریرہ نے اس اختیار کے مطابق اپنے آپ کو اپنے خاوند سے علیحدہ کرلیا تھا۔ اور اگر اس کا خاوند آزاد ہوتا تو آپ ﷺ اسے یہ اختیار نہ دیتے ( بخاری ومسلم) تشریح بریرہ کا مذکورہ بالا واقعہ تفصیلی طور پر کتاب البیوع میں گزر چکا ہے یہ بطور لونڈی ایک یہودی کی ملکیت میں تھیں پھر حضرت عائشہ نے ان کو خرید کر آزاد کردیا تھا چناچہ بریرہ کی خریداری کے وقت آنحضرت ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ فرمایا کہ پہلے اسے اس کے مالکوں سے خرید لو اور پھر اس کو آزاد کردو آپ ﷺ کے ارشاد کے مطابق حضرت عائشہ نے اسے خریدا اور پھر آزاد کردیا، بریرہ کا خاوند چونکہ غلام تھا اس لئے آنحضرت ﷺ نے بریرہ کو یہ اختیار دیدیا تھا کہ آزاد ہونے کے بعد اگر چاہو تو تم اپنے خاوند کے نکاح میں حسب سابق رہو اور اگر اس کے نکاح میں رہنا نہ چاہو تو اس سے علیحدہ ہوجاؤ، اس اختیار کے پیش نظر بریرہ نے علیحدگی کو اختیار کیا اور اپنے خاوند سے قطع تعلق کرلیا۔ حدیث کا آخری جملہ (ولو کان حرا) الخ اور اگر اس کا خاوند آزاد ہوتا الخ بظاہر حضرت عروہ کا اپنا قول معلوم ہوتا ہے اور ائمہ ثلثہ یعنی حضرت امام شافعی، حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد کا مسلک بھی یہی ہے کہ لونڈی کو آزاد ہونے کے بعد اپنے نکاح کو باقی یا فسخ کرنے کا اختیار اسی صورت میں ہوتا ہے جب کہ اس کا خاوند غلام ہوتا کہ وہ آزاد ہوجانے کے بعد ایک غلام کے نکاح میں رہنے کو عار محسوس نہ کرے، اگر اس کا خاوند غلام نہ ہو تو پھر اسے یہ اختیار حاصل نہیں ہوگا لیکن حضرت امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ اسے بہرصورت یہ اختیار حاصل ہوتا ہے، خواہ اس کا شوہر غلام ہو یا آزاد ہو۔ دونوں طرف کے علماء کی دلیلیں فقہ کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ اور اگر میاں بیوی دونوں ایک ساتھ آزاد ہوں تو تمام علماء کا متفقہ فیصلہ ہے کہ اس صورت میں بیوی کو یہ اختیار حاصل نہیں ہوتا اسی طرح اگر شوہر آزاد ہوجائے تو اسے اپنا نکاح باقی رکھنے یا فسخ کردینے کا اختیار حاصل نہیں ہوتا۔ خواہ اس کی بیوی آزاد ہو یا لونڈی ہو۔ اور حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ بریرہ کا شوہر ایک سیاہ فام تھا جس کو مغیث کہا جاتا تھا میری آنکھوں کے سامنے اب بھی وہ منظر ہے جب وہ بریرہ کے پیچھے پیچھے مدینہ کی گلیوں میں روتا پھرتا تھا اور اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپک ٹپک کر اس کی داڑھی پر گرتے تھے چناچہ ایک دن آنحضرت ﷺ نے حضرت عباس سے فرمایا کہ عباس کیا تمہیں اس پر حیرت نہیں ہے کہ مغیث بریرہ کو کتنا چاہتا ہے اور بریرہ مغیث سے کتنا نفرت کرتی ہے؟ پھر آپ ﷺ نے بریرہ سے بھی فرمایا کہ بریرہ کاش تم مغیث سے رجوع کرتیں (یعنی مغیث سے دوبارہ نکاح کرلیتیں) بریرہ نے عرض کیا کہ یا رسو اللہ ﷺ کیا آپ مجھے بطور وجوب اس کا حکم دے رہے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ بریرہ میں تو سفارش کر رہا ہوں یعنی بطور وجوب نہیں بلکہ بطریق استحباب تمہیں حکم دے رہا ہوں بریرہ نے کہا کہ مجھے اس سے رجوع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے (یعنی مجھے اس کے پاس رہنا منظور نہیں ہے) (بخاری) تشریح چونکہ بعض روایتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مغیث یعنی بریرہ کا شوہر آزد تھا اس لئے اگر اس حدیث کے ابتدائی جملہ کی یہ وضاحت کی جائے کہ مغیث بد صورتی میں ایک سیاہ فام غلام کی مانند تھا یا یہ کہ مغیث پہلے تو غلام تھا جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے لیکن پھر آزاد کیا گیا اور وہ آزاد ہوگیا تو اس صورت میں رواتیوں کے درمیان کوئی تضاد نہیں رہے گا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سردار حاکم کو اپی رعایا سے کسی کے حق میں جائز کام کی سفارش کرنا ایک اچھی بات ہے اسی طرح حدیث سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ اپنے سردار حاکم کی سفارش کو قبول کرنا واجب نہیں ہے اور نہ اس سفارش کو نہ ماننے کی وجہ سے اس سے سردار حاکم کو کوئی مؤ اخذہ کرنے کا حق حاصل ہے نیز حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی سے اس کی بدصورتی و بدخلقی کی وجہ سے تعلق نہ رکھنا جائز ہے۔

3211Mishkaat-al-Masabih

مملوک خاوند وبیوی کو آزاد کرنا ہو تو پہلے خاوند کو آزاد کیا جائے

عن عائشة : أنها أرادت أن تعتق مملوكين لها زوج فسألت النبي صلى الله عليه و سلم فأمرها أن تبدأ بالرجل قبل المرأة . رواه أبو داود والنسائي

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے دو مملوکوں کو آزاد کرنے کا ارادہ کیا جو آپس میں خاوند بیوی تھے تو نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا آپ نے انہیں عورت سے پہلے مرد کو آزاد کرنے کا حکم دیا (تا کہ عورت کو نکاح کے فسخ کرنے کا اختیار باقی نہ رہے) (ابوداؤد، نسائی) تشریح اگر حضرت عائشہ پہلے عورت کو آزاد کرتیں تو وہ آزاد ہونے کے بعد ایک غلام کے نکاح میں رہتی اس صورت میں اسے یہ اختیار حاصل ہوجاتا کہ اگر وہ چاہتی تو اپنا نکاح باقی رکھتی اور اگر اسے شوہر کے ساتھ رہنا گوارہ نہ ہوتا تو نکاح فسخ کردیتی ( جیسا کہ ائمہ ثلاثہ کا مسلک ہے اور جس کی تفصیل ابھی پیچھے گزری ہے) چناچہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عائشہ کو پہلے مرد کو آزاد کرنے کا حکم دیا تاکہ یہ اختیار نہ رہے اور مرد کی دل شکنی نہ ہو۔ لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ آپ ﷺ نے پہلے مرد کو آزاد کرنے کا حکم اس لئے دیا کہ مرد عورت کی بہ نسبت زیادہ کامل اور افضل ہوتا ہے لہذا اس کو مقدم رکھنا چاہئے، یا پھر یہ کہ آپ ﷺ اس بات کو محسوس کرتے تھے کہ مرد تو لونڈی بیوی کو گوارا کرلیتا ہے لیکن عورت اگر کسی غلام کے نکاح میں ہوتی ہے تو پھر اکثر اس سے بیزار رہتی ہے اور ہمہ وقت ذہنی اذیت وکوفت میں مبتلا رہتی ہے اس لئے آپ ﷺ نے پہلے مرد کو آزاد کرنے کا حکم دیا تاکہ اس کی بیوی اپنے شوہر کی طرف سے کسی بیزاری میں مبتلا نہ ہو۔

3212Mishkaat-al-Masabih

اگر لونڈی اپنی مرضی سے نکاح کرے تو آزاد ہونے کے بعد فسخ نکاح کا اختیار اسے حصل نہیں ہوتا

وعنها : أن بريرة عتقت وهي عند مغيث فخيرها رسول الله صلى الله عليه و سلم وقال لها : إن قربك فلا خيار لك . رواه أبو داود وهذا الباب خال عن الفصل الثالث

اور حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ بریرہ اس حال میں آزاد ہوئی تھی کہ وہ مغیث کے نکاح میں تھی چناچہ رسول کریم ﷺ نے اسے اپنا نکاح باقی رکھنے یا فسخ کردینے کا اختیار دیدیا لیکن یہ بھی فرما دیا کہ اگر تیرا شوہر تجھ سے جماع کرے گا تو تجھے یہ اختیار حاصل رہے گا کیونکہ اس صورت میں یہ سمجھا جائے گا کہ تو اس کی زوجیت پر راضی ہے (ابوداؤد) تشریح ہدایہ میں لکھا ہے کہ اگر کسی لونڈی نے اپنے مالک کی رضا مندی سے اپنا نکاح کیا یا اس کے مالک نے اس کا نکاح اس کی رضامندی سے یا اس کی رضامندی کے بغیر کردیا اور پھر وہ لونڈی آزاد ہوگئی تو اس کو اپنا نکاح باقی رکھنے یا فسخ کردینے کا اختیار حاصل ہوتا ہے خواہ اس کا خاوند ہو یا غلام ہو اور اگر لونڈی اپنے مالک کی رضا مندی و اجازت کے بغیر اپنا نکاح خود کرے اور پھر اس کا مالک اس کو آزاد کر دے تو آزاد ہوتے ہی اس کا نکاح منعقد یعنی صحیح ہوجاتا ہے لیکن اسے مذکورہ اختیار حاصل نہیں رہتا۔ ائمہ ثلاثہ یہ فرماتے ہیں کہ اگر لونڈی کسی آزاد کے نکاح میں ہو تو آزاد ہونے کے بعد اس لونڈی کو اپنے نکاح کے باقی یا فسخ کردینے کا اختیار نہیں ہوتا۔ علامہ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ امام اعظم ابوحنیفہ اور ائمہ ثلاثہ کے درمیان اس اختلاف کی بنیاد یہ ہے کہ بریرہ کے خاوند کے بارے میں متعارض روایتیں منقول ہیں۔ بخاری ومسلم میں حضرت عائشہ ؓ یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت بریرہ کو اس حال میں اختیار دیا تاکہ اس کا شوہر غلام تھا لیکن بخاری ومسلم ہی میں یہ بھی منقول ہے کہ جب بریرہ کو آزاد کیا گیا تو اس کا شوہر ایک آزاد مرد تھا۔ اسی طرح کی روایت سنن اربعہ یعنی ابوداؤد ترمذی نسائی اور ابن ماجہ نے بھی نقل کی ہے نیز ترمذی نے اس روایت کو حسن صحیح کہا ہے، لہذا ائمہ ثلاثہ نے تو پہلی روایت کو ترجیح دی ہے اور حضرت امام ابوحنیفہ نے دوسری روایت کو راجح قرار دیا ہے۔ ملا علی قاری نے ابن ہمام کے اس قول کو مرقاۃ میں تفصیل کے ساتھ لکھا ہے، یہاں طوالت کے خوف سے اس کا خلاصہ نقل کردیا گیا ہے۔

3213Mishkaat-al-Masabih

مہرکا بیان

مہر حقوق زوجیت حاصل ہونے کے اس معاوضہ کو کہتے ہیں جو عورت کو اس کے شوہر کی طرف سے دیا جاتا ہے۔ مہر کے نہ دینے کی نیت نہ ہونا نکاح کے صحیح ہونے کی ایک شرط ہے یعنی اگر کوئی شخص نکاح کے وقت یہ نیت کرلے کہ مہر دیا ہی نہ جائے گا تو اس کا نکاح صحیح نہ ہوگا۔ نکاح کے وقت مہر کا ذکر کرنا نکاح صحیح ہونے کے لئے شرط نہیں ہے اگر مہر کا ذکر نہ کیا جائے تو نکاح صحیح ہوجائے گا اور شوہر پر مہر مثل واجب ہوگا۔ مہر کی مقدار نہ تو شریعت نے مہر کے لئے کسی خاص مقدار کو متعین کر کے اسے واجب قرار دیا ہے اور نہ اس کی زیادہ سے زیادہ کوئی حد مقرر کی گئی ہے بلکہ اسے شوہر کی حیثیت و استطاعت پر موقوف رکھا ہے کہ جو شخص جس قدر مہر دینے کی استطاعت رکھتا ہو اسی قدر مقرر کرے البتہ مہر کی کم سے کم ایک حد ضرور مقرر کی گئی ہے تاکہ کوئی شخص اس سے کم مہر نہ باندھے، چناچہ حنفیہ کے مسلک میں مہر کی کم سے کم مقدار دس درہم (٦٢ ء 30 گرام چاندی) ہے اگر کسی شخص نے اتنا مہر باندھا جو دس درہم یعنی (٦٢ ء ٣٠ گرام چاندی) کی قیمت سے کم ہو تو مہر صحیح نہیں ہوگا۔ حضرت امام مالک کے نزدیک کم سے کم مہر کی آخری حد چوتھائی دینار ہے اور حضرت امام شافعی وحضرت امام احمد یہ فرماتے ہیں کہ جو بھی چیز ثمن یعنی قیمت ہونے کی صلاحیت رکھتی ہو اس کا مہر باندھنا جائز ہے۔ ازواج مطہرات اور صاحبزادیوں کا مہر ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ کے علاوہ تمام ازواج مطہرات اور حضرت فاطمۃ کے علاوہ تمام صاحبزادیوں کا مہر پانچ سو درہم چاندی کی مقدار ١٥٧٥ ماشہ یعنی ایک کلو ٥٣٠ گرام ہوتی ہے۔ آجکل کے نرخ کے مطابق ایک کلو ٥٣٠ گرام چاندی کی قیمت تقریبا ٩١٨ روپے ہوتی ہے۔ ام المؤمنین ام حبیبہ کا مہر چار ہزار درہم یا چار سو دینار تھا، چار ہزار درہم بارہ ہزار چھ سو ماشہ یعنی بارہ کلو ٢٤٧ گرام چاندی کے بقدر ہوتے ہیں اور چاندی کے موجودہ نرخ کے مطابق اس کی قیمت سات ہزار تین سو اڑتالیس (٧٣٤٨) روپیہ ہوتی ہے۔ حضرت فاطمہ زہراء کا مہر چار سو مثقال نقرہ تھا، چار سو مثقال اٹھارہ سو ماشہ یعنی ایک کلو ٧٥٠ گرام چاندی کے بقدر ہوتے ہیں اور چاندی کے موجودہ نرخ کے مطابق اس کی قیمت ایک ہزار پچاس روپیہ ہوتی ہے۔ اس قدر چاندی کے ساتھ روپے کی یہ مطابقت آج کل کے دور میں درست نہیں ہے کیونکہ پاکستان میں روپے کی قیمت بہت زیادہ گر چکی ہے۔ ہاں ہر زمانے میں چاندی کی قیمت معلوم کر کے روپے کی تعیین کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ( از اصغر۔ م)۔

3214Mishkaat-al-Masabih

مہر کی کم سے کم مقدار کیا ہونی چاہئے

عن سهل بن سعد : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم جاءته امرأة فقالت : يا رسول الله إني وهبت نفسي لك فقامت طويلا فقام رجل فقال : يا رسول الله زوجنيها إن لم تكن لك فيها حاجة فقال : هل عندك من شيء تصدقها ؟ قال : ما عندي إلا إزاري هذا . قال : فالتمس ولو خاتما من حديد فالتمس فلم يجد شيئا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : هل معك من القرآن شيء قال : نعم سورة كذا وسورة كذا فقال : زوجتكها بما معك من القرآن . وفي رواية : قال : انطلق فقد زوجتكها فعلمها من القرآن

اور حضرت سہل بن سعد کہتے ہیں کہ ایک دن ایک عورت رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ ﷺ میں نے اپنے آپ کو آپ ﷺ کے لئے ہبہ کردیا یہ کہہ کر وہ عورت دیر تک کھڑی رہی یہاں تکہ کہ آنحضرت ﷺ نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا اور ابھی آپ ﷺ خاموش ہی تھے کہ ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ اگر آپ اس عورت کی ضرورت محسوس نہ کرتے ہوں تو اس سے میرا نکاح کر دیجئے۔ آپ ﷺ نے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس کوئی ایسی چیز ہے جسے تم اس عورت کو مہر میں دے سکو؟ انہوں نے عرض کیا کہ اس تہبند کے علاوہ جسے میں باندھے ہوئے ہوں میرے پاس کوئی اور چیز نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا جاؤ کوئی چیز ڈھونڈ لاؤ! اگرچہ وہ لوہے کی انگوٹھی ہی ہو۔ جب صحابی نے بہت تلاش کیا اور انہیں کوئی چیز نہیں ملی تو پھر آپ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ کیا تمہیں قرآن میں سے کچھ یاد ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہاں فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا قرآن میں سے جو کچھ تمہیں یاد ہے اس کے سبب میں نے تمہارا نکاح اس عورت سے کردیا۔ اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جاؤ میں نے تمہارا نکاح اس عورت سے کردیا۔ اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جاؤ میں نے تمہارا نکاح اس عورت سے کردیا تم اس کو قرآن کی تعلیم دیا کرو (بخاری ومسلم) تشریح آنحضرت ﷺ کی حیات مبارکہ میں یہ حکم تھا کہ اگر کوئی عورت اپنے آپ کو آنحضرت ﷺ کے لئے ہبہ کردیتی تھی اور آپ ﷺ اس کے ہبہ کو قبول کرلیتے تھے تو وہ عورت آنحضرت ﷺ کے لئے حلال ہوجاتی تھی اور آپ ﷺ پر اس کا کچھ مہر واجب نہیں ہوتا تھا۔ یہ اور کسی کے لئے نہ آپ ﷺ کے وقت میں جائز تھا اور نہ اب جائز ہے بلکہ یہ آپ ﷺ کے خصائص میں سے تھا یعنی صرف آپ ﷺ ہی کے لئے جائز تھا چناچہ قرآن کریم کی یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے۔ اور اگر کوئی مؤمن عورت اپنے تئیں پیغمبر ﷺ کو ہبہ کر دے یعنی مہر لینے کے بغیر نکاح میں آنا چاہے) اور پیغمبر ﷺ بھی اس سے نکاح کرنا چاہیں تو وہ عورت حلال ہے لیکن اے محمد یہ اجازت صرف آپ ہی کو ہے سب مسلمانوں کو نہیں۔ اس بارے میں فقہی تفصیل یہ ہے کہ حضرت امام شافعی کے نزدیک بغیر مہر کے لفظ ہبہ کے ذریعہ نکاح کا جواز صرف آنحضرت ﷺ کے لئے تھا یہ کسی اور کے لئے جائز نہیں ہے جب کہ حنفی مسلک یہ ہے کہ لفظ ہبہ کے ذریعہ نکاح کرنا تو سب کے لئے جائز ہے مگر اس صورت میں مہر کا واجب نہ ہونا صرف آنحضرت ﷺ کے لئے تھا لہذا اگر کوئی عورت اپنے آپ کو کسی شخص کے لئے ہبہ کرے اور وہ شخص اس ہبہ کو قبول کرلے تو اس ہبہ کے ذریعہ دونوں کے درمیان نکاح صحیح ہوجائے گا اور اس شخص پر مہر مثل واجب ہوگا اگرچہ وہ عورت مہر کا کوئی ذکر نہ کرے یا مہر کی نفی ہی کیوں نہ کر دے لہذا حنفی مسلک کے مطابق مذکورہ بالا آیت کے الفاظ (خَالِصَةً لَّكَ ) 33۔ الاحزاب 50) کے معنی ہیں کہ اپنے آپ کو ہبہ کردینے والی عورت کا مہر واجب ہوئے بغیر حلال ہونا صرف آپ ﷺ کے لئے ہے۔ (ولو خاتما من حدید) ( اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہو) سے معلوم ہوا کہ ازقسم مال کسی بھی چیز کا مہرباندھنا جائز ہے خواہ وہ چیز کتنی ہی کم تر کیوں نہ ہو بشرطیکہ مرد و عورت دونوں اس پر راضی ہوں چناچہ حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد کا یہی مسلک ہے اس بارے میں امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام مالک کا جو مسلک ہے وہ ابتدائے باب میں ذکر کیا جا چکا ہے حنفیہ کی دلیل حضرت جابر کی یہ روایت ہے جس کو دارقطنی نے نقل کیا ہے کہ حدیث (لا تنکحوا النساء الا الاکفاء) الخ رسول کریم ﷺ نے فرمایا عورتوں کا نکاح ان کے کفو ہی سے کیا جائے گا اور عورتوں کا نکاح ان کے ولی کریں اور دس درہم سے کم مہر کا اعتبار نہیں ہے۔ نیز حنفی مسلک کی تائید دارقطنی اور بیہقی ہی میں منقول حضرت علی کے اس ارشاد سے بھی ہوتی ہے کہ حضرت علی نے فرمایا کہ دس درہم سے کم کا مہر معتبر نہیں) حضرت سہیل کی اس روایت کو حنفیہ نے مہر معجل پر محمول کیا ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ کا یہ معمول تھا کہ آپ ﷺ ازواج مطہرات کے مقررہ مہر میں سے کچھ حصہ علی الفور عین جماع کرنے سے پہلے دیدیتے تھے اسی لئے آپ ﷺ نے ان صحابی کو بھی یہ حکم فرمایا کہ اگر تمہیں کوئی بھی چیز خواہ وہ لوہے کی انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو مل جائے تو لے آؤ تاکہ نکاح کے بعد اس عورت کو مہر کے طور پر کچھ نہ کچھ دے سکو۔ اسی بناء پر بعض علماء نے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ نکاح کے بعد اپنی بیوی سے اس وقت تک جماع نہ کیا جائے جب تک اس کے مہر میں سے کچھ نہ کچھ اسے دے دیا جائے چناچہ حضرت ابن عباس حضرت ابن عمر حضرت زہری اور حضرت قتادہ کا یہی مسلک تھا ان کی دلیل یہ ہے کہ جب حضرت علی نے حضرت فاطمہ سے نکاح کیا تو آنحضرت ﷺ نے انہیں حضرت فاطمہ کے پاس اس وقت تک جانے سے ممانعت کردی جب تک کہ وہ حضرت فاطمہ کو ان کے مہر میں سے کچھ نہ دیدیں حضرت علی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اس وقت تو میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تم فاطمہ کو اپنی زرہ دیدو حضرت علی نے حضرت فاطمہ کو اپنی زرہ دیدی اور اس کے بعد ان کے پاس گئے اور یہ معلوم ہے کہ حضرت فاطمہ کا مہر چار سو مثقال چاندی کا تھا اور آنحضرت ﷺ نے حضرت علی کو اس مقررہ مہر سے ایک زرہ کی بقدر دینے کا حکم دیا تھا لہذا ان حضرات کے نزدیک مقررہ مہر میں سے علی الفور یعنی جماع سے قبل کچھ دیدینا واجب ہے جب کہ حنفیہ کے ہاں یہ مستحب ہے واجب نہیں ہے۔ حدیث کے آخری الفاظ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے تعلیم قرآن کو مہر قرار دیا، چناچہ بعض ائمہ نے اسے جائز رکھا ہے جب کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک یہ جائز نہیں ہے وہ فرماتے ہیں کہ اس صورت میں یعنی تعلیم قرآن کو مہر قرار دے کے نکاح کرلینے کی صورت میں نکاح تو صحیح ہوجاتا ہے مگر خاوند پر مہر مثل واجب ہوتا ہے اور جہاں تک اس روایت کا تعلق ہے تو ارشاد گرامی (بما معک) الخ میں حرف با بدل کے لئے نہیں ہے بلکہ سببیت کے اظہار کے لئے ہے یعنی اس جملہ کے معنی یہ ہیں کہ قرآن میں سے جو کچھ تمہیں یاد ہے اس کے سبب میں نے تمہارا نکاح اس عورت سے کردیا گویا تمہیں قرآن کا یاد ہونا اس عورت کے ساتھ ہوا تھا تو قبولیت اسلام ان کے نکاح کا سبب تھا اسے مہر قرار نہیں دیا گیا تھا۔ تم اس کو قرآن کی تعلیم دیا کرو یہ حکم بطور وجوب نہیں تھا بلکہ بطریق استحباب تھا لہذا یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے تعلیم قرآن کو مہر قرار دیا تھا۔

3215Mishkaat-al-Masabih

ازواج مطہرات کے مہر کی مقدار

وعن أبي سلمة قال : سألت عائشة : كم كان صداق النبي صلى الله عليه و سلم قالت : كان صداقه لأزواجه اثنتي عشرة أوقية ونش قالت : أتدري ما النش ؟ قلت : لا قالت : نصف أوقية فتلك خمسمائة درهم . رواه مسلم . ونش بالرفع في شرح السنة وفي جميع الأصول

اور حضرت ابوسلمہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ پوچھا کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات کا کتنا مہر مقرر کیا تھا؟ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ نے اپنی ازواج کے لئے بارہ اوقیہ اور ایک نش کا مہر مقرر فرمایا تھا۔ پھر حضرت عائشہ نے پوچھا کہ جانتے ہو نش کسے کہتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں انہوں نے فرمایا کہ ایک نش آدھے اوقیہ کے برابر ہوتا ہے اس طرح بارہ اوقیہ ایک نش کی مجموعی مقدار پانچ سو درہم کے برابر ہوئی کیونکہ ایک اوقیہ چالیس درہم کے برابر ہوتا ہے) اس روایت کو مسلم نے نقل کیا اور شرح السنہ اور اصول کی تمام کتابوں میں لفظ نش نون کے پیش کے ساتھ یعنی نش منقول ہے اصول حدیث کی ان کتابوں کو کہتے ہیں جن میں تمام احادیث سند کے ساتھ لکھی گئی ہیں ( تشریح پانچ سو درہم کے موجودہ وزن اور موجودہ حیثیت کی تفصیل ابتداء باب میں بیان کی جا چکی ہے اس حدیث سے شوافع یہ استدلال کرتے ہیں کہ پانچ سو درہم کا مہرباندھنا مستحب ہے۔ یہاں ایک خلجان پیدا ہوسکتا ہے کہ حضرت عائشہ نے آنحضرت ﷺ کی تمام ازواج مطہرات کی مقدار پانچ سو درہم بتائی ہے حالانکہ حضرت ام حبیبہ کا مہر چار ہزار درہم یا چار سو دینار تھا اور حضرت ام حبیبہ بھی آنحضرت ﷺ کی زوجہ مطہرہ تھیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت عائشہ نے تمام ازواج مطہرات کے مہر کی مقدار بتائی ہے جن کا مہر خود آنحضرت ﷺ نے مقرر فرما دیا تھا جب کہ حضرت ام حبیبہ کا مہر حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے باندھا تھا۔

3216Mishkaat-al-Masabih

بھاری مہر کی ممانعت

عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال : ألا لا تغالوا صدقة النساء فإنها لو كانت مكرمة في الدنيا وتقوى عند الله لكان أولاكم بها نبي الله صلى الله عليه و سلم ما علمت رسول الله صلى الله عليه و سلم نكح شيئا من نسائه ولا أنكح شيئا من بناته على أكثر من اثنتي عشرة أوقية . رواه أحمد والترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه والدارمي

حضرت عمر بن خطاب کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا خبردار! عورتوں کا بھاری مہر نہ باندھو اگر بھاری مہر باندھنا دنیا میں بزرگی و عظمت کا سبب اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک تقوی کا موجب ہوتا تو یقینا نبی کریم ﷺ اس کے زیادہ مستحق تھے ( آپ ﷺ بھاری سے بھاری مہر باندھتے) مگر میں نہیں جانتا کہ رسول کریم ﷺ نے بارے اوقیہ سے زیادہ مہر پر اپنی ازواج مطہرات سے نکاح کیا ہو یا اس سے زیادہ مہر پر اپنی صاحبزادیوں کا نکاح کرایا ہو ( احمد ترمذی ابوداؤد نسائی ابن ماجہ دارمی) تشریح تقوی سے مراد زیادہ تقوی ہے اور آیت کریمہ ( اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ ) 49۔ الحجرات 13) ( یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں سے بڑے مرتبے والا وہی ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو کہ بموجب اللہ تعالیٰ کے نزدیک امتیاز عطا کرنیوالی بزرگی فضیلت کا مستحق بناتا ہے حاصل یہ کہ بھاری مہر باندھنے سے نہ صرف یہ کہ دنیا میں کوئی عظمت و بزرگی حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کی وجہ سے آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک امتیازی بزرگی و فضیلت کا درجہ حاصل نہیں ہوگا اور جب اس کی وجہ سے نہ دنیا کا کوئی فائدہ ہے اور نہ دین کا کوئی نفع تو پھر اس لا حاصل چیز کو کیوں اختیار کیا جائے ازواج مطہرات کے مہر کے سلسلہ میں تین روایتیں ہیں جو بظاہر متضاد معلوم ہوتی ہیں ایک تو حضرت عائشہ کی روایت ہے دوسری روایت یہ ہے کہ جس میں بارہ اوقیہ یعنی چار سو اسی درہم کی مقدار ذکر کی گئی ہے اور ایک روایت آگے آئے گی جس میں حضرت ام حبیبہ کے مہر کی مقدار چار ہزار درہم ذکر ہوگی ان تینوں روایتوں میں سے حضرت ام حبیبہ کے مہر والی روایت کو مستثنی سمجھنا چاہئے کیونکہ ان کا مہر آنحضرت ﷺ نے مقرر نہیں کیا تھا بلکہ حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے باندھا تھا اور نجاشی بادشاہ نے بھی اتنا زیادہ مہر محض آپ ﷺ کی تعظیم و تکریم کے پیش نظر باندھا تھا۔ اب رہی حضرت عائشہ اور حضرت عمر کی روایتیں تو دونوں کے درمیان بھی درحقیقت کوئی تضاد نہیں ہے کیونکہ حضرت عائشہ نے مہر کی اصل مقدار کی وضاحت کرتے ہوئے اوقیہ کے ساتھ کسر یعنی آدھے اوقیہ کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور حضرت عمر نے صرف اوقیہ کا ذکر کیا کسر کو چھوڑ دیا اس کے علاوہ یہ بھی احتمال ہے کہ حضرت عمر نے بارہ اوقیہ سے زیادہ کی نفی اپنے علم کے مطابق کی ہے یعنی حضرت عمر کو صرف بارہ اوقیہ ہی کا علم ہوگا اور حضرت عائشہ نے جو ایک نش آدھا اوقیہ زیادہ ذکر کیا ہے وہ حضرت عمر کے علم میں نہیں آیا ہوگا۔ یہ بات ملحوظ ہے کہ حضرت عمر نے یہاں صرف اولی اور افضل کو بیان کیا ہے یعنی ان کے اس ارشاد کا مطلب یہ ہوگا کہ زیادہ بہتر اور افضل و اولی یہ ہے کہ مہر کم ہی باندھا جائے جس کی مسنون مقدار بارہ اوقیہ ہے ورنہ تو جہاں تک جواز کا تعلق ہے یہ بتایا جا ہی چکا ہے کہ اس سے زیادہ مہر باندھنا بھی جائز ہے۔

3217Mishkaat-al-Masabih

مہر میں کچھ حصلہ علی الفور دیدینا بہتر ہے

وعن جابر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : من أعطى في صداق امرأته ملء كفيه سويقا أو تمرا فقد استحل . رواه أبو داود (2/227) 3206 - [ 5 ] ( لم تتم دراسته ) وعن عامر بن ربيعة : أن امرأة من بني فزارة تزوجت على نعلين فقال لها رسول الله صلى الله عليه و سلم : أرضيت من نفسك ومالك بنعلين ؟ قالت : نعم . فأجازه . رواه الترمذي

اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے اپنی بیوی کے مہر میں سے کچھ حصہ بطور مہر معجل دیدیا مثلا دونوں ہاتھ بھر کر ستو یا کھجوریں دیدیں تو اس نے اس عورت کو اپنے لئے حلال کرلیا ہے ( ابوداؤد) اور حضرت عامر بن ربیعہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی فزارہ کی ایک عورت نے ایک جوڑی جوتی پر ایک شخص سے نکاح کیا تو رسول کریم ﷺ نے اس سے فرمایا کیا تم اپنی مالداری کے باوجود اپنے آپ کو ایک جوڑا جوتی کے بدلے حوالے کردینے پر راضی ہوگئیں یعنی اس کے باوجود کہ تم خود مالدار اور باحیثیت خاتون ہو کیا صرف ایک جوڑا جوتی کے بدلے اپنے آپ کو حوالے کردینے پر راضی ہو ( اس عورت نے کہا کہ ہاں میں راضی ہوں آپ ﷺ نے یہ جواب سن کر اس کو جائز رکھا (ترمذی) تشریح رفع تعارض کے پیش نظر اس حدیث کو بھی مہر معجل پر محمول کیا جائے گا لیکن اس کی یہ توضیح زیادہ مناسب ہے کہ جب اس عورت نے ایک جوڑا جوتی کے عوض نکاح کیا تو اس کا نکاح صحیح ہوگیا اور اسے اپنے مہر مثل کے مطالبہ کا حق حاصل ہوگیا جب وہ ایک جوڑا جوتی پر راضی ہوگئی تو گویا وہ اپنے مہر مثل میں سے ایک جوڑا جوتی سے زیادہ کے حق کے دستبردار ہوگئی لہذا رسول کریم ﷺ نے اس کو جائز رکھا اور چونکہ اس صورت میں اس کے جائز ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے اس لئے یہ حدیث حضرت امام شافعی وغیرہ کے مسلک کی دلیل نہیں ہوسکتی اور ویسے بھی یہ حدیث ضعیف ہے۔

3218Mishkaat-al-Masabih

مہرمثل و اجب ہونے کی ایک صورت

وعن علقمة عن ابن مسعود : أنه سئل عن رجل تزوج امرأة ولم يفرض لها شيئا ولم يدخل بها حتى مات فقال ابن مسعود : لها مثل صداق نسائها . لا وكس ولا شطط وعليها العدة ولها الميراث فقام معقل بن سنان الأشجعي فقال : قضى رسول الله صلى الله عليه و سلم في بروع بنت واشق امرأة منا بمثل ما قضيت . ففرح بها ابن مسعود . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي والدارمي

اور حضرت علقمہ حضرت بن مسعود کے بارے میں نقل کرتے ہیں کہ ان سے ایک شخص کے متعلق پوچھا گیا جس نے ایک عورت سے نکاح کیا اور اس کا کچھ مہر مقرر نہیں کیا اور پھر اس نے ابھی دخول نہیں کیا تھا یعنی نہ تو اپنی بیوی کے ساتھ جماع کیا تھا اور نہ خلوت صحیحہ ہوئی تھی۔ کہ اس کا انتقال ہوگیا۔ حضرت ابن مسعود نے ایک مہینہ تک اس مسئلہ پر غور و فکر کیا اور پھر اپنے اجتہاد کی بنیاد پر فرمایا کہ اس عورت کو وہ مہر ملے گا جو اس کے خاندان کی عورتوں کا ہے (یعنی اش شخص کی بیوہ کو مہر دیا جائے گا) نہ اس میں کوئی کمی ہوگی نہ زیادتی اور اس عورت پر شوہر کی وفات کی عدت بھی واجب ہوگی اور اس کو میراث بھی ملے گی۔ یہ سن کر حضرت معقل بن سنان اشجعی کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ نبی کریم ﷺ نے ہمارے خاندان کی ایک عورت بروع بنت واشق کے بارے میں یہی حکم دیا تھا جو اس وقت آپ نے بیان کیا ہے حضرت ابن مسعود یہ بات سن کر بہت خوش ہوئے۔ (ترمذی ابوداؤد نسائی دارمی) تشریح حضرت ابن مسعود کو اللہ تعالیٰ نے علم و فضل ذہانت و ذکاوت اور دینی فہم و فراست کی دولت بڑی فراوانی کے ساتھ عطا فرمائی تھی کسی بھی الجھے ہوئے مسئلے کو اپنی بےپناہ قوت اجتہاد کے ذریعہ اس طرح حل فرما دیتے تھے کہ وہ قرآن و حدیث کے بالکل مطابق ہوتا انہوں نے اپنی قوت اجتہاد سے اس کا شرعی فیصلہ سنایا تو ایک صحابی حضرت معقل نے علی الاعلان یہ شہادت دی کہ حضرت ابن مسعود کا یہ فیصلہ آنحضرت ﷺ کے حکم کے عین مطابق ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے بھی اسی قسم کے ایک معاملہ میں ایسا ہی فیصلہ صادر فرمایا تھا چناچہ حضرت ابن مسعود نے اپنی اس بات پر بہت زیادہ خوشی کا اظہار فرمایا کہ حق تعالیٰ نے میری رہبری فرمائی اور میرا یہ فیصلہ آنحضرت ﷺ کے حکم کے مطابق ہوا۔ مذکورہ بالا مسئلہ میں حضرت علی اور صحابہ کی ایک جماعت کا یہ مسلک تھا کہ اس صورت میں عورت عدم دخول کی وجہ سے مہر کی حق دار نہیں ہوتی ہاں اس پر عدت واجب ہوتی ہے اور اسے شوہر کی میراث بھی ملتی ہے اس بارے میں حضرت امام شافعی کے دو قول ہیں ایک تو حضرت علی کے موافق ہے اور دوسرا قول حضرت ابن مسعود کے مطابق ہے حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام احمد کا مسلک وہی ہے جو حضرت ابن مسعود نے بیان کی ہے۔ مہر مثل کسے کہتے ہیں؟ مہر مثل عورت کے اس مہر کو کہتے ہیں جو اس کے باپ کے خاندان کی ان عورتوں کا ہو جو ان باتوں میں اس کے مثل ہوں عمر، جمال، زمانہ، عقل، دینداری، بکارت و ثیوبت، علم و ادب اور اخلاق و عادات۔

3219Mishkaat-al-Masabih

ام حبیبہ سے آنحضرت ﷺ کے نکاح کی تفصیل اور ان کے مہر کی مقدار۔

عن أم حبيبة : أنها كانت تحت عبد الله بن جحش فمات بأرض الحبشة فزوجها النجاشي النبي صلى الله عليه و سلم وأمهرها عنه أربعة آلاف . وفي رواية : أربعة درهم وبعث بها إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم مع شرحبيل بن حسنة . رواه أبو داود والنسائي

ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ پہلے عبداللہ بن جحش کے نکاح میں تھیں پھر جب ملک حبشہ میں عبداللہ کا انتقال ہوگیا تو حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے ان کا نکاح نبی کریم ﷺ کے ساتھ کردیا اور نجاشی نے آنحضرت ﷺ کی طرف سے ام حبیبہ کا مہر چار ہار مقرر کیا ایک اور روایت میں چار ہزار درہم کے الفاظ ہیں (یعنی یہاں جو روایت نقل کی گئی ہے اس میں درہم کا لفظ نہیں ہے بلکہ صرف چار ہزار کا ذکر ہے جب کہ ایک دوسری روایت میں چار ہزار کے ساتھ درہم کا لفظ بھی ہے اور یہی مراد ہے اور نجاشی نے نکاح کے بعد ام حبیبہ کو شرحبیل ابن حسنہ کے ہمراہ آنحضرت ﷺ کے پاس بھیج دیا۔ (ابوداؤد نسائی) تشریح حضرت ام حبیبہ کے پہلے شوہر کا نام مشکوۃ کے تمام نسخوں میں عبداللہ بن جحش ہی لکھا ہوا ہے حالانکہ یہ نام غلط ہے صحیح نام عبیداللہ بن جحش (تصغیر کے صیغہ کے ساتھ) ہے چناچہ سنن ابوداؤد اور اصول وغیرہ میں اسی طرح لکھا ہوا ہے۔ حضرت ام حبیبہ کا اصل نام رملہ تھا یہ حضرت ابوسفیان کی صاحبزادی اور حضرت معاویہ کی بہن تھی۔ پہلے ان کی شادی عبیداللہ بن جحش کے ساتھ ہوئی تھی عبیداللہ نے اسلام قبول کرلیا تھا اور ام حبیبہ کے ساتھ مکہ سے ہجرت کر کے حبشہ چلے گئے تھے۔ پھر وہاں پہنچ کر مرتد ہوگئے یعنی اسلام ترک کر کے عیسائی ہوگئے اور وہیں مرگئے ام حبیبہ اسلام پر ثابت قدم رہیں پھر آنحضرت ﷺ نے عمرو بن امیہ ضمری کو حبشہ کے بادشاہ اصحمہ جن کا لقب نجاشی تھا کے پاس یہ حکم دے کر بھیجا کہ وہ ام حبیہ کو آپ ﷺ کے نکاح کا پیغام دیں چناچہ نجاشی نے آنحضرت ﷺ کا یہ حکم آپ کی اپنی ایک لونڈی ابراہہ کے ذریعہ حضرت ام حبیبہ کی خدمت میں بھیجا ابراہہ نے ان سے کہا کہ مجھے بادشاہ نے آپ کے پاس بھیجا ہے اور کہا ہے کہ مجھے رسول کریم ﷺ کا یہ حکم ملا ہے کہ آپ سے رسول کریم ﷺ کا نکاح کر دوں حضرت ام حبیبہ نے یہ پیغام بطیب خاطر قبول کیا اور فورا ایک آدمی کو حضرت خالد بن سعید کے پاس بھیج کر ان کو اپنا وکیل مقرر کیا جو ان کے والد کے چچا زاد بھائی تھے اور ساتھ ہی ابراہہ کو یہ خوشخبری سنانے کے عوض دو کپڑے اور چاندی کی ایک انگوٹھی عطا کی پھر جب شام ہوئی تو نجاشی نے حضرت جعفر بن ابوطالب کو اور ان تمام مسلمانوں کو جو اس وقت حبشہ میں موجود تھے جمع ہونے کا حکم دیا جب سب لوگ جمع ہوگئے تو نجاشی نے یہ خطبہ پڑھا۔ پھر یہ الفاظ کہے بعد ازاں میں نے اس چیز کو قبول کیا جو رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے اور میں نے چار سو دینا مہر مقرر کیا اس کے بعد انہوں نے وہ چار سو دینار لوگوں کے سامنے پیش کردیئے اس کے بعد حضرت خالد بن سعید نے یہ خطبہ پڑھا پھر یہ الفاظ کہے بعد ازاں میں نے اس چیز کو قبول کیا جو رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے اور میں نے ابوسفیان کی بیٹی ام حبیبہ سے آنحضرت ﷺ کا نکاح کردیا اللہ تعالیٰ رسول کریم ﷺ کو یہ نکاح مبارک کرے۔ اس ایجاب و قبول کے بعد مہر کے وہ چار سو دینار حضرت خالد بن سعید کو دے دیئے گئے جنہیں انہوں نے رکھ لیا پھر جب لوگوں نے اٹھنے کا ارادہ کیا تو ناشی نے کہا کہ ابھی آپ لوگ بیٹھے رہیں کیونکہ نکاح کے وقت کھانا کھلانا انبیاء کی سنت ہے چناچہ انہوں نے کھانا منگوایا اور سب لوگ کھانا کھا کر اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے یہ سن ٧ ھ کا واقعہ ہے اس وقت حضرت ام حبیبہ کے والد ابوسفیان مشرک تھے اور آنحضرت ﷺ کے سخت دشمن تھے پھر بعد میں انہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا۔

3220Mishkaat-al-Masabih

قبولیت اسلام مہرکا قائم مقام

وعن أنس قال : تزوج أبو طلحة أم سليم فكان صداق ما بينهما الإسلام أسلمت أم سليم قبل أبي طلحة فخطبها فقالت : إني قد أسلمت فإن أسلمت نكحتك فأسلم فكان صداق ما بينهما . رواه النسائي

اور حضرت انس کہتے ہیں کہ ابوطلحہ نے جب ام سلیم سے نکاح کیا تو قبولیت اسلام آپس میں مہر قرار پایا۔ ام سلیم نے ابوطلحہ سے پہلے اسلام قبول کرلیا تھا اور پھر جب ابوطلحہ نے ام سلیم کے پاس نکاح کا پیغام بھیجا تو ام سلیم نے کہا کہ میں نے اسلام قبول کرلیا ہے اگر تم بھی مسلمان ہوجاؤ تو میں تم سے نکاح کرلوں گی۔ اور تم سے مہر نہیں لوں گی) چناچہ ابوطلحہ نے اسلام قبول کرلیا اور اسلام قبول کرلینا ہی آپس میں مہر قرار پایا ( نسائی) تشریح حضرت ام سلیم ملحان کی بیٹی اور حضرت انس بن مالک کی ماں ہیں۔ پہلے ان کی شادی مالک بن نضر کے ساتھ ہوئی تھی جس سے حضرت انس پیدا ہوئے مالک کو قبولیت اسلام کی توفیق نہیں ہوئی اور وہ حالت شرک میں مارا گیا پھر ام سلیم نے اسلام قبول کرلیا اور ابوطلحہ نے جو اس وقت مشرک تھے ان کو اپنے نکاح کا پیغام دیا ام سلیم سے ان کا نکاح ہوگیا۔ لہذا حدیث کے الفاظ اور اسلام قبول کرلینا ہی مہر قرار پایا کی وضاحت حنفیہ کے مسلک کے مطابق یہ ہے کہ ام سلیم کے ساتھ ابوطلحہ کا نکاح تو مہر کے ساتھ ہی ہوا لیکن ام سلیم نے اپنے وعدہ کے مطابق ابوطلحہ کے اسلام لانے کی وجہ سے اپنا مہر بخش دیا گویا ابوطلحہ کا اسلام قبول کرنا ان کے آپس کے نکاح کا سبب ہوا نہ یہ کہ قبولیت اسلام ان کا مہر تھا ہاں دوسرے ائمہ اس حدیث کو ظاہری معنی پر محمول کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ابوطلحہ کا اسلام قبول کرنا ہی ان کا مہر تھا۔