Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 144 of 317

2861Mishkaat-al-Masabih

متحد القدر چیزوں کے باہمی تبادلہ میں ادھارناجائز ہے

وعن عمر رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الذهب بالذهب ربا إلا هاء وهاء والورق بالورق ربا إلا هاء وهاء والبر بالبر إلا هاء وهاء والشعير بالشعير ربا هاء وهاء والتمر بالتمر ربا إلا هاء وهاء

اور حضرت عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا سونے کا سونے کے ساتھ (برابرسرابر بھی) تبادلہ سود ہے الاّ یہ کہ لین دین دست بدست ہو (یعنی اگر دونوں طرف سے برابر سرابر اور دست بدست لین دین ہو تو پھر سود نہیں ہے) اسی طرح چاندی کا چاندی کے ساتھ تبادلہ سود ہے الاّ یہ کہ لین دین دست بدست ہو گیہوں کا گیہوں کے ساتھ تبادلہ سود ہے الاّ یہ کہ لین دین دست بدست ہو جو کا جو کے ساتھ تبادلہ سود ہے الاّ یہ کہ لین دین دست بدست ہو کھجور کا کھجور کے ساتھ تبادلہ سود ہے الاّ یہ کہ لین دین دست بدست ہو (بخاری ومسلم) تشریح ہم جنس چیزوں میں ایک دوسرے کے ساتھ باہمی تبادلے کے معاملے میں تین صورتیں ہوتی ہیں -1 یا تو دونوں طرف موزون ہوں یا مکیل ہوں -2 دونوں طرف اشیاء نقد ہوں یا دونوں طرف ادھار ہوں -3 ایک طرف نقد ہو اور دوسری طرف کچھ دنوں کے لئے یا زیادہ دنوں کے لئے ادھار ہو ان تینوں صورتوں میں سے پہلی صورت کے مطابق تو لین دین جائز ہوگا بشرطیکہ دونوں طرف مقدار برابر سرابر ہو کہ اگر وہ دونوں چیزیں موزون ہیں تو وزن میں برابر ہوں اور اگر مکیل ہوں تو پیمانہ میں برابر ہوں اور یہ کہ دونوں طرف کی اشیاء نقد ہوں اور بعد کی دونوں صورتوں کے مطابق یعنی دونوں طرف ادھاریا ایک طرف ادھار ہونے کی صورت میں لین دین کا معاملہ جائز نہیں ہوگا اگرچہ مقدار کے اعتبار سے دونوں ہم جنس چیزیں برابر سرابر ہوں

2862Mishkaat-al-Masabih

اچھی اور خراب ہم جنس چیزوں کے تبادلہ میں بھی کمی بیشی کے ساتھ لین دین جائز نہیں

وعن أبي سعيد وأبي هريرة : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم استعمل رجلا على خيبر فجاءه بتمر جنيب فقال : أكل تمر خيبر هكذا ؟ قال : لا والله يا رسول الله إنا لنأخذ الصاع من هذا بالصاعين والصاعين بالثلاث فقال : لا تفعل بع الجمع بالدراهم ثم ابتع بالدراهم جنيبا . وقال : في الميزان مثل ذلك

حضرت ابوسعید اور ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ایک شخص کو خیبر کا عامل بنا کر بھیجا چناچہ جب وہ شخص وہاں سے واپس آیا تو آنحضرت ﷺ کی خدمت میں بہت عمدہ قسم کی کھجوریں لے کر حاصر ہوا آپ ﷺ نے وہ کھجوریں دیکھ کر اس سے پوچھا کہ کیا خیبر کی سب کھجوریں ایسی ہی اچھی ہوتی ہیں اس نے کہا کہ نہیں اللہ کی قسم سب کھجوریں ایسی نہیں ہوتیں بلکہ ہم ایسا کرتے ہیں کہ دو صاع (خراب) کھجوروں کے بدلے میں ایک صاع اچھی کھجوریں اور تین صاع (خراب) کھجوروں کے بدلے دو صاع اچھی کھجوریں لے لیتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا ایسا نہ کرو بلکہ پہلے تمام کھجوروں کو ملا کر درہموں کے عوض فروخت کرو اور پھر ان درہموں کے عوض اچھی کھجوریں خریدو اور پھر فرمایا جو چیزیں ترازو یعنی وزن کے ذریعے لی دی جاتی ہیں ان کا بھی یہی حکم ہے (بخاری ومسلم) تشریح حدیث کے آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح کھجور اور ان چیزوں کے بارے میں کہ جو کیل یعنی پیمانے کے ذریعے لی دی جاتی ہیں یہ حکم بیان کیا گیا ہے اسی طرح ان چیزوں کے بارے میں بھی کہ جو وزن کے ذریعے لی دی جاتی ہیں جیسے سونا اور چاندی وغیرہ یہی حکم ہے کہ اگر ان میں سے ایسی دو ہم جنس چیزوں کا باہمی تبادلہ کیا جائے جن میں سے ایک اچھی ہو اور دوسری خراب تو اس صورت میں یہ طریقہ اختیار کرنا چاہئے کہ پہلے تو خراب چیز کو درہم یا روپیہ کے عوض فروخت کردیا جائے اور پعر اس درہم یا روپیہ سے اچھی چیز خرید لی جائے حضرت ابوسعید کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت بلال نبی کریم ﷺ کی خدمت میں اچھی قسم کی کھجور لے کر آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ کہاں سے لائے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس کچھ خراب کھجوریں تھیں اس میں سے میں نے دو صاع کھجوریں دے کر اس کے بدلے میں ایک صاع یہ اچھی کھجوریں لے لی ہیں آپ ﷺ نے فرمایا اوہ یہ تو باکل سود ہے ایسا نہ کرو البتہ جب تم اچھی کھجوریں بدلنا چاہو تو یہ طریقہ اختیار کرو کہ پہلے اپنی خراب کھجوریں درہم یا روپے کے عوض فروخت کردو پھر ان درہموں یا روپیوں کے ذریعے اچھی کھجوریں خرید لو ( بخاری ومسلم)

2863Mishkaat-al-Masabih

ایک غلام کے بدلے میں دو غلام

وعن جابر قال : جاء عبد فبايع النبي صلى الله عليه و سلم على الهجرة ولم يشعر أنه عبد فجاء سيده يريده فقال له النبي صلى الله عليه و سلم بعينه فاشتراه بعبدين أسودين ولم يبايع أحدا بعده حتى يسأله أعبد هو أو حر . رواه مسلم

حضرت جابر کہتے ہیں کہ ایک غلام نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے آپ ﷺ سے ہجرت پر بیعت کی یعنی اس نے آپ ﷺ سے عہد کیا کہ میں اپنے وطن کو چھوڑ کر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر باش رہوں گا اور آنحضرت ﷺ کو یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ غلام ہے کچھ دنوں کے بعد جب اس کا مالک اس کو تلاش کرتا ہوا آیا تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا کہ اس غلام کو میرے ہاتھ بیچ دو چناچہ آپ ﷺ نے اس غلام کو دو سیاہ رنگ کے غلاموں کے بدلے میں خرید لیا اور پھر اس کے بعد آپ ﷺ نے کسی شخص سے بیعت نہ لی جب تک کہ یہ معلوم نہ کرلیا کہ وہ غلام ہے یا آزاد (مسلم) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک غلام کو دو غلاموں کے بدلے میں لینا دینا جائز ہے نیز یہ حدیث اس بات کی بھی دلیل ہے کہ جو چیزیں مال ربا میں داخل نہیں ان کا لین دین اس طرح کرنا کہ ایک طرف کم ہو اور دوسری طرف زیادہ ہو جائز ہے چناچہ شرح السنۃ میں لکھا ہے کہ علماء نے اسی بنیاد پر یہ مسئلہ بیان کیا ہے کہ ایک جانور کو دو جانوروں کے بدلے میں دست بدست لینا دینا جائز ہے خواہ دونوں طرف سے ایک ہی جنس کے جانور ہوں یا دو جنس کے۔ البتہ اس بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں کہ آیا جانور کا جانور کے بدلے میں ادھار لین دین جائز ہے یا نہیں چناچہ صحابہ میں سے ایک جماعت اس کے عدم جواز کی قائل تھی نیز حضرت عطاء ابن ابی رباح بھی اسی کے قائل تھے اور حضرت امام ابوحنیفہ کا بھی یہی مسلک ہے ان کی دلیل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ سے یہ منقول ہے کہ آپ ﷺ نے جانور کا جانور کے بدلے میں ادھار لین دین کرنے سے منع فرمایا ہے لیکن بعض صحابہ اس کے جواز کے قائل تھے اور حضرت امام شافعی کے مسلک میں بھی یہ جائز ہے۔

2864Mishkaat-al-Masabih

ہم جنس چیزوں کا تفاوت کے ساتھ لین دین جائز نہیں

وعنه قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن بيع الصبرة من التمر لا يعلم مكيلتها بالكيل المسمى من التمر . رواه مسلم

حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کھجور کے کسی ایسے ڈھیر کو کہ جس کی مقدار معلوم نہ ہو ایک معین پیمانے کی کھجوروں کے بدلے میں لینے دینے سے منع فرمایا ہے ( مسلم) تشریح آپ ﷺ نے لین دین کی اس صورت سے منع فرمایا ہے کہ ایک طرف تو کھجوروں کی غیر معین مقدار کا ڈھیر ہو اور دوسری طرف کھجوروں کی ایک مقدار مثلا دس یا بیس پیمانے (یا دس یا بیس من) ہو کیونکہ ایسی صورت میں اس ڈھیر کی کھجوروں کی مقدار غیر معلوم ہوتی ہے ہوسکتا ہے کہ یہ ڈھیر دوسری طرف کی معین مقدار سے کم رہ جائے یا اس سے زیادہ ہوجائے اس کی وجہ سے ان دونوں ہی صورتوں میں سود کی شکل ہوجائے گی تاہم یہ ملحوظ رہے کہ لین دین کی یہ صورت باہم تبادلہ کی جانیوالی ایسی دو چیزوں کے درمیان ممنوع ہے جو ایک ہی جنس سے ہوں جیسا کہ اوپر کھجور کی مثال دی گئی ہے ہاں مختلف الجنس چیزوں کے لین دین میں یہ صورت ممنوع نہیں ہے کیونکہ مختلف الجنس چیزوں کا باہمی لین دین کمی بیشی کے ساتھ بھی جائز ہے۔

2865Mishkaat-al-Masabih

سونے کی خرید وفروخت کا مسئلہ

وعن فضالة بن أبي عبيد قال : اشتريت يوم خيبر قلادة باثني عشر دينارا فيها ذهب وخرز ففصلتها فوجدت فيها أكثر من اثني عشر دينارا فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه و سلم فقال : لا تباع حتى تفصل . رواه مسلم

حضرت فضالہ بن عبید کہتے ہیں کہ میں نے خیبر کے سال ایک ہار بارہ دینار میں خریدا جو سونے کا تھا اور اس میں نگینے جڑے ہوئے تھے پھر جب میں نے انہیں الگ الگ کیا (یعنی نگینوں کو سونے سے نکال ڈالا) تو وہ سونا بارہ دینار سے زائد قیمت کا نکلا میں نے اس کا ذکر رسول کریم ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایسا ہار اس وقت تک فروخت نہ کیا جائے تاوقتیکہ سونا اور نگینہ الگ الگ نہ کر لئے جائیں ( مسلم) تشریح اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اگر مال ربا میں سے دو ایسی ہم جنس چیزوں کا ایک دوسرے کے عوض لین دین کیا جائے کہ ان میں سے ایک طرف کی چیز میں کوئی اور غیر جنس کی چیز بھی شامل ہو تو یہ جائز نہیں ہے چناچہ اگر کوئی شخص مثلا سونے کا جڑاؤ زیور سونے کے عوض میں خریدو فروخت کرے خواہ وہ اشرفیوں کی صورت میں ہو یا کسی اور شکل میں تو لازم ہے کہ پہلے اس زیور میں سے نگینے وغیرہ الگ کر دئے جائیں اور پھر اس زیور کا خالص سونا دوسری طرف کے سونے کے برابر سرابر وزن کے ساتھ لیا دیا جائے یہی حکم چاندی کے بارے میں بھی ہے کہ اگر چاندی کا کوئی ایسا زیور وغیرہ کہ جس میں کوئی اور غیر جنس چیز مخلوط ہو چاندی ہی کے بدلے میں خواہ وہ روپے کی صورت میں ہو یا کسی اور شکل میں خریدو فروخت کیا جائے تو ضروری ہے کہ اس زیور وغیرہ کی چاندی کو الگ کر کے دوسری طرف کی چاندی کے برابر سرابر وزن کے ساتھ خریدا جائے یا فروخت کیا جائے اور یہ حکم اس لئے ہے تاکہ ہم جنس چیزوں کا کمی بیشی کے ساتھ باہمی لین دین ہونے کی وجہ سے سود کی صورت پیدا نہ ہوجائے ہاں اگر سونے کا جڑاؤ زیور وغیرہ چاندی کے بدلے میں خریدو فروخت کیا جائے خواہ وہ چاندی روپے کی صورت میں ہو یا کسی اور شکل میں یا اس کا برعکس ہو کہ چاندی کا جڑاؤ زیور سونے کے بدلے میں خریدو فروخت کیا جائے خواہ وہ سونا اشرفی وغیرہ کی صورت میں ہو یا کسی اور شکل میں تو اس صورت میں اس جڑاؤ زیور سے نگینے وغیرہ اکھاڑ کر الگ کردینا ضروری نہیں ہے کیونکہ مختلف الجنس چیزوں کا باہمی لین دین کمی بیشی کے ساتھ بھی جائز ہے اس میں کمی زیادتی سے سود کی صورت پیدا نہیں ہوتی

2866Mishkaat-al-Masabih

سود کے بارے میں آپ ﷺ کی ایک پیش گوئی

عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ليأتين على الناس زمان لا يبقى أحد إلا أكل الربا فإن لم يأكله أصابه من بخاره . ويروى من غباره . رواه أحمد وأبو داود والنسائي وابن ماجه

حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جب سود کھانیوالوں کے علاوہ اور کوئی باقی نہیں رہے گا اور اگر کوئی شخص ایسا باقی بھی رہے گا تو وہ سود کے بخار میں مبتلا ہوگا نیز (بعض کتابوں میں لفظ من بخارہ کی بجائے) من غبارہ (یعنی وہ سود کے غبار میں مبتلا ہوگا) نقل کیا گیا ہے ( احمد ابوداؤد نسائی ابن ماجہ) تشریح بخار یا غبار سے مراد سود کا اثر ہے مطلب یہ ہے کہ سود کے عام ابتلاء کے زمانے میں اگر کوئی شخص براہ راست سود کے لین دین سے بچ بھی جائے گا تو وہ کسی نہ کسی صورت میں سود کے زیر اثر ضرور ہوگا مثلا وہ کسی سود خور کا ملازم و وکیل ہوگا یا تمسک لکھنے والا ہوگا یا کسی سودی معاملے کا گواہ ہوگا یا سودی کاروبار کے درمیان رابطہ پیدا کرنیوالا ہوگا یا اس کے اپنے دوسرے ذاتی و تجارتی معاملات سود خوروں کے ساتھ استوار ہوں گے اس طرح ایسا شخص بھی بالواسطہ طور پر سود کے مال سے اپنے مال کو ملوث کرے گا یا یہ کہ جب سود کا دائرہ وسیع ہو کر تجارت ومعیشت کے ہر گوشہ پر حاوی ہوگا (جیسا کہ آج کل ہے) تو پھر سود کا مال ہر شخص تک کسی نہ کسی حیثیت میں ضرور پہنچے گا۔ مثال کے طور پر اپنے ہی زمانے کو لے لیجئے آپ ایک متقی شخص کو دیکھتے ہیں جو اتنا دیندار اور اتنا پرہیزگار ہے کہ اس کی اعتقادی وعملی زندگی کا کوئی ایسا گوشہ نہیں ہے جہاں ذرا سا بھی جھول نظر آئے اور واقعۃً اس شخص کی پاکبازی و پرہیزگاری ایک مثالی حیثیت رکھتی ہے مگر جب وہی شخص اپنے بچوں کے لئے ایک آنے کی مونگ پھلی خرید کر لاتا ہے تو کیا وہ شخص بھی اس کا تصور کرتا ہے کہ میں جو یہ ایک کمتر سی چیز اپنے بچوں کو کھلا رہا ہوں یا خود کھا رہا ہوں نہ معلوم یہ کتنے سودی ذرائع اور کتنے سودی لین کے مراحل سے گذر کر میرے ہاتھوں تک پہنچی ہے حدیث کا یہی مفہوم ہے کہ آنیوالے زمانہ میں سود کی لعنت اتنی ہمہ گیر اور وسیع ہوگی کہ ہر شخص شعوری وغیر شعوری طور پر اس میں مبتلا ہوگا کوئی بلاواسطہ سود کھائے گا کوئی بالواسطہ اس کا مرتکب ہوگا اور کوئی بالکل ہی غیر شعوری طور پر اس کے زیر اثر ہوگا۔

2867Mishkaat-al-Masabih

مختلف الجنس چیزوں کے دست بدست باہمی لین دین میں کمی بیشی جائز ہے

وعن عبادة بن الصامت أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا تبيعوا الذهب بالذهب ولا الورق بالورق ولا البر بالبر ولا الشعير بالشعير ولا التمر بالتمر ولا الملح بالملح إلا سواء بسواء عينا بعين يدا بيد ولكن بيعوا الذهب بالورق والورق بالذهب والبر بالشعير والشعير بالبر والتمر بالملح والملح بالتمر يدا بيد كيف شئتم . رواه الشافعي

حضرت عبادہ بن صامت کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا نہ تو سونا سونے کے بدلے میں بیچو نہ چاندی چاندی کے بدلے میں نہ گیہوں گیہوں کے بدلے میں نہ جو جو کے بدلے میں نہ کھجور کھجور کے بدلے میں اور نہ نمک نمک کے بدلے میں ہاں برابر سرابر نقد بہ نقد یعنی دست بدست لین دین جائز ہے چناچہ سونا چاندی کے بدل میں اور چاندی سونے کے بدلے میں گیہوں جو کے بدلے میں اور جو گیہوں کے بدلے میں اور کھجور نمک کے بدلے میں اور نمک کھجور کے بدلے میں دست بدست جس طرح چاہو خریدو فروخت کرو (نسائی) تشریح حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر ایسی دو چیزوں کا آپس میں لین دین کرو جو ہم جنس ہوں (جیسے گیہوں گیہوں کے بدلے میں تو اس صورت میں برابر سرابر اور دست بدست ہونا ضروری ہے اور اگر ایسی دو چیزوں کا آپس میں لین دین کیا جائے جو ہم جنس نہ ہوں بلکہ الگ الگ جنس کی ہوں ( جیسے گیہوں جو کے بدلے میں) تو اس صورت میں صرف دست بدست ہونا ضروری ہے برابر سرابر ہونا ضروری نہیں ہے

2868Mishkaat-al-Masabih

خشک اور تازہ پھلوں کے باہمی لین دین کا مسئلہ

وعن سعد بن أبي وقاص قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم سئل عن شراء التمر بالرطب فقال : أينقص الرطب إذا يبس ؟ فقال : نعم فنهاه عن ذلك . رواه مالك والترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه

حضرت سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں کہ میں نے سنا کہ رسول کریم ﷺ سے جب تازی کھجور کے بدلے میں خشک کھجور خریدنے کا مسئلہ پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تازہ کھجور خشک ہونے کے بعد کم ہوجاتی ہے عرض کیا گیا کہ جی ہاں چناچہ آپ ﷺ نے اس طرح لین دین سے منع فرمایا (مالک ترمذی ابوداؤد نسائی ابن ماجہ تشریح آپ ﷺ نے خشک اور تازہ کھجوروں کے باہم لین دین سے اس لئے منع فرمایا کہ اس صورت میں برابر سرابر ہونے کی شرط فوت ہوجائے گی جس کی وجہ سے وہ سودی معاملہ ہوجائے گا چناچہ حضرت امام مالک ٫ حضرت امام شافعی٫ حضرت امام احمد رحمہم اللہ اور دیگر اکثر علماء کے علاوہ حنفیہ میں سے حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد رحمہما اللہ نے بھی اس حدیث پر عمل کیا ہے جبکہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ نے ہم جنس خشک اور تازہ پھلوں کے باہمی لین دین کو جائز قرار دیا ہے بشرطیکہ دونوں طرف کے پھل مقدار یا وزن میں برابر سرابر ہوں انہوں نے اس حدیث کو نسیہ کی صورت پر محمول کیا ہے یعنی امام اعظم کے نزدیک حدیث میں مذکورہ ممانعت کا تعلق اس صورت سے ہے جبکہ ایک فریق تو نقد دے اور دوسرا فریق بعد میں دینے کا وعدہ کرے چناچہ مذکورہ بالا حدیث سے امام اعظم نے جو مراد اختیار کی ہے اس کی تائید ایک اور روایت سے ہوتی ہے جو یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے تازہ کھجور کے بدلے میں خشک کھجور کا لین دین ادھار کی صورت میں ممنوع قرار دیا ہے نیز اس مسئلہ میں جو حکم خشک وتازہ کھجوروں کا ہے وہی حکم دیگر پھلوں مثلا انگور وغیرہ کا بھی ہے نیز خشک وتازہ گوشت کا معاملہ بھی اسی حکم میں داخل ہے۔

2869Mishkaat-al-Masabih

گوشت اور جانور کے باہمی تبادلہ کا مسئلہ

وعن سعيد بن المسيب مرسلا : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن بيع اللحم بالحيوان قال سعيد : كان من ميسر أهل الجاهلية . رواه في شرح السنة

حضرت سعید بن مسیب بطریق ارسال نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے جانور کے بدلے میں گوشت کا لین دین کرنے سے منع فرمایا ہے نیز حضرت سعد کا بیان ہے کہ جانور کے بدلے میں گوشت کا لین دین زمانہ جاہلیت کے جوئے کی قسم سے تھا ( شرح السنۃ) تشریح زمانہ جاہلیت کے جوئے کی قسم سے مراد یہ ہے کہ جس طرح جوئے کی صورت میں غلط ذرائع سے لوگوں کا مال کھایا جاتا ہے اسی طرح اس میں بھی ایسی ہی صورت پیدا ہوجاتی ہے اگرچہ طریقہ کے اعتبار سے دونوں صورتیں مختلف ہیں کیونکہ اس میں جو کھیلا جاتا ہے اور اس میں لین دین کا ایک معاملہ کیا جاتا ہے۔ حضرت امام شافعی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ جانور کے عوض گوشت کے لین دین کا معاملہ حرام ہے خواہ گوشت اس جانور کی جنس کا ہو یا کسی دوسری جنس کے جانور کا ہو نیز چاہے وہ جانور کھایا جاتا ہو چاہے نہ کھایا جاتا ہو جبکہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے ہاں یہ معاملہ جائز ہے ان کی دلیل یہ ہے کہ اس معاملے میں ایک موزوں چیز (یعنی گوشت کہ اس کا لین دین وزن کے ذریعے ہوتا ہے) کا تبادلہ ایک غیر موزوں چیز یعنی جانور کا اس کا لین دین وزن کے ذریعے نہیں ہوتا کے ساتھ کیا جاتا ہے جس میں دونوں طرف کی چیزوں کا برابر سرابر ہونا ضروری نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ لین دین اور خریدو فروخت کی یہ صورت جائز ہے ہاں اس صورت میں چونکہ لین دین کا دست بدست ہونا ضروری ہے اس لئے حدیث میں مذکورہ بالا ممانعت کا تعلق دراصل گوشت اور جانور کے باہم لین دین کی اس صورت سے ہے جبکہ لین دین دست بدست نہ ہو بلکہ ایک طرف تو نقد ہو اور دوسری طرف وعدہ یعنی ادھار۔

2870Mishkaat-al-Masabih

دوجانوروں کا باہمی تبادلہ ادھار کی صورت میں ناجائز ہے

وعن سمرة بن جندب : أن النبي صلى الله عليه و سلم نهى عن بيع الحيوان بالحيوان نسيئة . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه

حضرت سمرۃ بن جندب کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے جانور کا جانور کے بدلے میں ادھار لین دین کرنے سے منع فرمایا ہے۔

2871Mishkaat-al-Masabih

غیرمثلی چیز کے قرض لینے کا مسئلہ

وعن عبد الله بن عمرو بن العاص : أن النبي صلى الله عليه و سلم أمره أن يجهز جيشا فنفدت الإبل فأمره أن يأخذ على قلائص الصدقة فكان يأخذ البعير بالبعيرين إلى إبل الصدقة . رواه أبو داود

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص کے بارے میں مروی ہے کہ ایک غزوۃ کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا کہ لشکر کا سامان درست کرلو (یعنی لشکر میں شامل ہونے کے لئے سواری اور ہتھیار وغیرہ تیار رکھو) چناچہ جب اونٹوں کی کمی ہوئی (یعنی جتنے اونٹ تھے وہ اکثر لوگوں میں تقسیم ہوگئے اور کچھ لوگ کہ جن میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص بھی شامل تھے اونٹ حاصل نہ کرسکے) تو آنحضرت ﷺ نے عبداللہ کو حکم دیا کہ وہ زکوٰۃ کے اونٹ کے بدلے میں اونٹ قرض لے لیں چناچہ حضرت عبداللہ زکوٰۃ کے اونٹ آنے تک کے وعدے پر دو اونٹ کے عوض ایک اونٹ لے لیا کرتے تھے ( ابوداؤد) تشریح حدیث کا مطلب سمجھنے سے پہلے قرض کے بارے میں ایک بنیادی بات جان لیجئے کہ صرف اسی چیز کا قرض لینا درست ہے جو اپنی مثل رکھنی ہو بایں معنی کہ اسی طرح کی چیز قرض خواہ کو واپس کی جاسکتی ہو جیسے اناج انڈا گوشت اور روپیہ وغیرہ ایسی چیز کو مثلی کہا جاتا ہے اور جو چیز ایسی ہو کہ اسی طرح کی چیز قرض خواہ کو واپس کرنا مشکل ہو تو اس کا قرض درست نہیں ہے جیسے پھل اور جانور وغیرہ ایسی چیز کو غیر مثلی کہتے ہیں۔ اب حدیث کی طرف آئیے حضرت عبداللہ کو آنحضرت ﷺ کے اس حکم کہ وہ زکوٰۃ کے اونٹ کے بدلے میں اونٹ لے لیں کا مطلب یہ تھا کہ وہ کسی شخص سے اس شرط پر بطور قرض اونٹ لے لیں کہ جب زکوٰۃ میں حاصل ہونے والے اونٹ آجائیں گے تو وہ اس کا قرض ادا کردیں گے۔ چناچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک چونکہ غیر مثلی چیز کا قرض لینا جائز نہیں ہے اور اونٹ بھی غیر مثلی ہے اس لئے اس حدیث کے بارے میں حنفیہ یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عبداللہ کو یہ حکم اس وقت دیا تھا جبکہ غیر مثلی چیز کا قرض لینا بھی جائز تھا مگر بعد میں غیر مثلی چیز کے قرض لینے کا جواز چونکہ ختم کردیا گیا تھا اس لئے یہ حدیث گویا منسوخ ہے۔ لیکن شیخ عبد الحق نے اس حدیث کے حکم کو بیع پر محمول کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جانور کا جانور کے بدلے میں ادھار لین دین جائز ہے جبکہ ہمارے (یعنی حنفی) علماء نے حضرت سمرۃ بن جندب حدیث جو اس سے پہلے گذری ہے) کے مطابق اس کو ممنوع قرار دیا ہے چناچہ تورپشتی نے کہا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو کی یہ روایت ضعیف ہے جبکہ حضرت سمرۃ کی روایت اس سے کہیں زیادہ قوی ہے اس لئے حنفیہ نے حضرت سمرۃ کی حدیث پر عمل کیا ہے یا پھر یہ کہ آنحضرت ﷺ نے یہ حکم اس وقت دیا تھا جبکہ وہ ہم جنس چیزوں کا باہمی ادھار لین دین ربا کی قسم میں داخل نہیں تھا لیکن جب لین دین کی یہ صورت ربا قرار پائی تو اس حدیث کا یہ حکم بھی منسوخ قرار پا گیا۔

2872Mishkaat-al-Masabih

ادھارلین دین میں سود کا مسئلہ

عن أسامة بن زيد أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الربا في النسيئة . وفي رواية قال : لا ربا فيما كان يدا بيد

حضرت اسامہ بن زید کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ادھارلین دین میں سود ہوجاتا ہے ایک اور روایت میں یوں ہے کہ اس لین دین میں سود نہیں ہوتا جو دست بدست ہو (بخاری ومسلم) تشریح ادھار لین دین میں سود ہونے کا مطلب یہ ہے کہ سود کی صورت ایسے معاملے میں پیدا ہوتی ہے جس میں دو ہم قدر چیزوں کا باہمی تبادلہ ادھار کی شکل میں ہو کہ ایک فریق تو نقد دے اور دوسرا بعد میں دینے کا وعدہ کرے اگرچہ دونوں میں چیزوں کی جنسیں مختلف ہوں اور برابر سرابر ہوں مثلا اگر کوئی شخص کسی کو جو دے کر اس سے گیہوں لے تو اس لین دین میں کمی بھی جائز ہے بشرطیکہ دست بدست لین دین ہو اگر کسی ایک طرف سے بھی ادھار ہوگا تو پھر یہ معاملہ جائز نہ ہوگا اور سود کی صورت ہوجائے گی اسی طرح اس لین دین میں سود نہیں ہوتا جو دست بدست ہوگا مطلب یہ ہے کہ اگر ایسی دو چیزوں کا باہمی تبادلہ کیا جائے جو ایک جنس کی ہوں اور برابر سرابر ہوں نیز دونوں فریق اپنی اپنی چیز اسی مجلس میں اپنے اپنے قبضے میں کرلیں تو یہ جائز ہوگا اور سود کی صورت نہیں ہوگی اور اگر دونوں چیزیں ایک جنس کی ہوں تو پھر کمی بیشی کے ساتھ لین دین میں بھی یہ معاملہ جائز ہوگا اور سود کی صورت نہیں ہوگی بشرطیکہ لین دین دست بدست ہو۔

2873Mishkaat-al-Masabih

سود کھانے پر وعید

وعن عبد الله بن حنظلة غسيل الملائكة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : درهم ربا يأكله الرجل وهو يعلم أشد من ستة وثلاثين زنية . رواه أحمد والدراقطني وروى البيهقي في شعب الإيمان عن ابن عباس وزاد : وقال : من نبت لحمه من السحت فالنار أولى به

حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائکہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا سود کا ایک درہم یہ جاننے کے باوجود کھانا کہ یہ سود ہے چھتیس مرتبہ زنا کرنے سے بھی زیادہ بڑا گنا ہے (احمد دارقطنی) اس روایت کو بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے نیز بیہقی نے اس روایت میں حضرت ابن عباس کے یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ جس شخص کا گوشت حرام مال سے پیدا ہوا ہو (یعنی جس شخص کی جسمانی نشو و نما حرام مال مثلًا سود و رشوت وغیرہ سے ہوئی ہو وہ شخص دوزخ ہی کے لائق ہے۔ تشریح جس طرح مذکورہ بالا وعید اس شخص کے بارے میں فرمائی گئی ہے جو سود کا مال یہ جاننے کے باوجود کھائے کہ یہ مال سودی ذریعے سے حاصل شدہ ہے اسی طرح اس وعید کا تعلق اس شخص سے بھی ہے جس نے لاعلمی میں سود کا مال کھایا بشرطیکہ اس لاعلمی میں خود اس کی اپنی کوتاہی یا لاپرواہی کا دخل ہو۔ علماء کہتے ہیں کہ سود کھانے کے گناہ کو زنا کے گناہ سے بھی زیادہ سخت اور بڑا گناہ اس لئے کہا گیا ہے کہ سود کھانے والے کے حق میں اللہ تعالیٰ نے جتنی سخت اور غضب ناک تنبیہہ فرمائی ہے اتنی سخت اور غضب ناک تنبیہہ زنا کی کسی بھی گناہ کے بارے میں نہیں فرمائی ہے چناچہ سود کھانے والوں کو اللہ تعالیٰ نے یوں متنبہ کیا ہے ا یت (فاذنوا بحرب من اللہ ورسول) اعلان جنگ سن لو اللہ اور اس کے رسول کا یہ بات ہر ذی شعور شخص جانتا ہے کہ کسی کے خلاف اعلان جنگ کا کیا مطلب ہوتا ہے ظاہر ہے کہ اللہ اور اس کا رسول جس شخص کے خلاف اعلان جنگ کرے یا جو شخص اللہ اور اس کے رسول سے برسر جنگ ہو اس کی محرومی شقاوت بدبختی اور دنیا وآخرت کی مکمل تباہی و بربادی کا کیا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ علماء یہ بھی لکھتے ہیں کہ سود کھانے والے کے حق میں اتنی سخت وعید اور اتنی شدید وغضب ناک تنبیہہ کا سبب یہ ہے کہ سود کے بارے میں عملی طور پر ہی گمراہی کا صدور نہیں ہوتا بلکہ سود کی پہچان مشکل ہونے کی وجہ سے عموماً اعتقادی گمراہی میں بھی لوگ مبتلا ہوتے ہیں جس کا تنیجہ یہ ہوتا ہے کہ اکثر لوگ سود کو حرام بھی نہیں سمجھتے بلکہ ان کے ذہن وفکر اور قلب و دماغ پر گمراہی وکجروی کی اتنی ظلمت چھائی ہوئی ہے کہ وہ سود کو حلال سمجھتے ہیں اور یہ معلوم ہی ہے کہ سود کی حرمت کا اعتقاد رکھتے ہوئے اس کا مرتکب ہونا عملی گمراہی یعنی گناہ کبیرہ ہے جس پر معافی بھی ممکن ہے مگر سود کی حرمت کا اعتقاد نہ رکھنا بلکہ اس کو حلال سمجھنا اعتقادی گمراہی وکجروی ہے جس کا آخری نتیجہ کفر ہے اور اس کی معافی و بخشش ناممکن ہے جبکہ زنا ایک فعل ہے جس کی حرمت و برائی سے کوئی بھی انکار نہیں کرتا جو شخص اس فعل میں مبتلا ہوتا ہے وہ بھی اس کی برائی کا بہرصورت اعتقاد رکھتا ہے یہاں تک کہ اسلام ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر مذہب وفرقے میں زنا ایک برائی ہی تصور کی جاتی ہے کوئی بھی اسے جائز اور حلال نہیں سمجھتا۔ اب رہی یہ بات کہ چھتیس کا عدد بطور خاص کیوں ذکر کیا گیا ہے تو ہوسکتا ہے کہ اس کا مقصد محض سود کی حرمت کی اہمیت جتانا ہے یا اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا سود کے گناہ کے ستر درجے ہیں اور ان میں جو سب سے ادنیٰ درجہ ہے وہ ایسا جیسا کہ کوئی شخص اپنی ماں سے صحبت کرے۔ حضرت ابن مسعود کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا سود (سے حاصل شدہ مال خواہ کتنا ہی زیادہ ہو مگر آخر کار اس میں کمی یعنی بےبرکتی آجاتی ہے ان دونوں روایتوں کو ابن ماجہ نے اور شعب الایمان میں بیہقی نے نقل کیا ہے نیز دوسری روایت کو امام احمد نے بھی نقل کیا ہے۔ تشریح سودی ذرائع سے حاصل ہونیوالا مال بظاہر تو بہت زیادہ محسوس ہوتا ہے مگر چونکہ سودی مال میں خیر و برکت کا کوئی جزء نہیں ہوتا اس لئے انجام کار وہ مال اس طرح تباہ و برباد اور ختم ہوجاتا ہے کہ اس کا نام ونشان تک باقی نہیں رہتا یہ محض ایک وعیدی بات نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو روزانہ نظروں کے سامنے آتی رہتی ہے چناچہ اسی حقیقت کو قرآن کریم نے بھی ان الفاظ میں واضح کیا ہے ا یت (يَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَيُرْبِي الصَّدَقٰتِ ) 2۔ البقرۃ 276) اللہ تعالیٰ سود کو مٹا دیتا ہے اور صدقات کو بڑھا دیتا ہے اس آیت کا مطلب یہی ہے کہ انسان جو مال سود کے ذریعے حاصل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے نیست ونابود کردیتا ہے مگر انسان اپنی جائز محنت و حلال ذریعہ سے جو مال کما کر اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا ہے اسے اللہ تعالیٰ بڑھا دیتا ہے گویا اس آیت میں سود اور صدقہ کو ایک ساتھ ذکر کر کے جہاں یہ واضح کیا گیا ہے کہ ان دونوں کی حقیقت میں تضاد ہے وہیں ان دونوں کے متضاد نتائج کی نشان دہی بھی کی گئی ہے چناچہ ان دونوں کی حقیقت میں تضاد تو یہ ہے کہ صدقہ میں بغیر کسی معاوضے اور بغیر کسی لالچ کے انسان اپنا مال محض اللہ کی خوشنودی کے لئے دوسروں کو دیتا ہے جبکہ سود میں بغیر کسی معاوضہ کے انسان محض مال وزر کی ہوس اور دولت کی فراوانی کے جذبے کے تحت دوسرے سے مال حاصل کرتا ہے اس طرح دونوں کاموں کے کرنے والوں کی نیت اور غرض بالکل جدا جدا ہوتی ہے کہ صدقہ کرنیوالا محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور آخرت کے ثواب کے لئے اپنے مال کو ختم کرنے یا کم کرنے کا فیصلہ کر کے ایک زبردست ایثار کرتا ہے اور سود لینے والا محض دنیاوی حرص وطمع کی بناء پر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے غصہ و ناراضگی سے بالکل بےپرواہ ہو کر اپنے موجودہ مال میں ناجائز زیادتی کا خواہش مند ہوتا ہے یہ تو سود اور صدقہ کی حقیقت کا تضاد تھا دونوں کے نتائج کا تضاد یہ ہے کہ جو مال اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی پرواہ کئے بغیر ناجائز طریقے یعنی سود سے حاصل کیا جاتا ہے اسے اللہ تعالیٰ مٹا دیتا ہے یا اس میں سے برکت اٹھا لیتا ہے اس کے برخلاف جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا مندی و خوشنودی کی خاطر اپنا مال دوسروں کو دیتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے مال کو بڑھا دیتا ہے بایں طور کہ اس کے موجودہ مال میں خیر و برکت عطاء فرماتا ہے۔ اس آیت کے ذمن میں دونوں کے نتائج میں تضاد کا مطلب مفسرین نے اس انداز میں بیان کیا ہے کہ سود کو مٹانے اور صدقہ کو بڑھانے کا تعلق آخرت سے ہے یعنی سود خوار کو اس کا مال آخرت میں کچھ نفع نہیں پہنچائے گا بلکہ عذاب ہی کا موجب بنے گا جبکہ صدقہ کرنیوالے کا مال آخرت میں اس کے لئے ابدی سعادتوں اور راحتوں کا ذریعہ بنے گا پھر سود کا مٹایا جانا اور صدقہ کا بڑھایا جانا آخرت سے تو تعلق رکھتا ہی ہے مگر اس کے کچھ آثار دنیا ہی میں مشاہدہ ہوجاتے ہیں چناچہ سود جس مال میں شامل ہوجاتا ہے بعض اوقات وہ مال اس طرح تباہ و برباد ہوجاتا ہے کہ اس کا وہم و گمان بھی نہیں جیسا کہ سود اور سٹہ کے بازاروں میں عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ بڑے بڑے کروڑ پتی اور سرمایہ دار دیکھتے دیکھتے دیوالیہ ہوجاتے ہیں اگرچہ بےسود کی تجارتوں میں بھی نفع ونقصانات کے احتمال ضرور ہیں اور اسی وجہ سے بعض مرتبہ بےسود کی تجارت کرنیوالوں کو بھی کسی تجارت میں نقصان ہوجاتا ہے لیکن ایسا تاجر جو کل کروڑ پتی تھا اور آج ایک ایک پیسہ کی بھیک کا محتاج ہے یہ صرف سود اور سٹہ کے بازاروں ہی میں نظر آتا ہے۔ بہرکیف جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے سودی مال کا وقتی طور پر بڑھنا اور آخر میں تباہ و برباد ہوجانا محض ایک شرعی وعید کے درجے کی بات نہیں ہے بلکہ اہل تجربہ کے بیانات بھی اس پر شاہد ہیں کہ سود کا مال فوری اور وقتی طور پر کتنا ہی بڑھ جائے لیکن وہ عمومًا ایسا دیر پا نہیں ہوتا کہ اس کا فائدہ نسلوں تک پہنچے اگر ایسی کوئی نہ کوئی صورت پیش آجاتی ہے جو سودی مال کو ختم یا کم کردیتی ہے۔

2874Mishkaat-al-Masabih

سود خوروں کی ظاہری خوشحالی سے دھوکہ نہ کھائیے :

آج کل سود کا کاروبار عام ہے چپہ چپہ پر سود خوروں کا لین دین جاری ہے ان کے یہاں ظاہری طور پر مال و دولت کی ریل پیل نظر آتی ہے اسباب عیش و عشرت کی فراوانی ہر طرف رقصاں دیکھی جاتی ہے اسی لئے عام سطح میں لوگوں کو یہ شبہ ہوتا ہے کہ آج کل تو سود خوروں کو بڑی سے بڑی راحت حاصل ہے وہ کوٹھیوں بنگلوں اور عالیشان عمارتوں کے مالک ہیں نوکر چاکر اور شان و شوکت کے تمام سامان موجود ہیں اس لئے یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ سود خوروں کو دنیا میں بھی راحت حاصل نہیں ہوتی اور ان کا مال وزر ان کا ساتھ نہیں دیتا حالانکہ غور کیا جائے تو یہ بات بالکل واضح نظر آئے گی کہ سامان راحت اور راحت میں بڑا فرق ہے سامان راحت تو آپ کارخانوں اور فیکٹریوں اور بازاروں سے حاصل کرسکتے ہیں وہ سونے چاندی اور سکون کے عوض مل سکتا ہے لیکن جس چیز کا نام راحت ہے وہ نہ کسی فیکٹری میں بنتی ہے اور نہ کسی بازار سے دستیاب ہوتی ہے بلکہ وہ ایک ایسے روحانی اطمینان اور قلب و دماغ کے ایسے سکون کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کی صورت میں براہ راست انسان کو عطا ہوتا ہے جو بعض اوقات بالکل بےسروسامان انسان اور جانوروں تک کو میسر آجاتا ہے اور بعض اوقات ہزاروں اسباب عیش و عشرت اور سامان راحت رکھنے کے باوجود حاصل نہیں ہوسکتا ایک نیند کو لے لیجئے یہ نیند کیا ہے ایک راحت و سکون کا نام ہے اس کو حاصل کرنے کے لئے آپ یہ تو کرسکتے ہیں کہ ایک اعلی قسم کی خواب گاہ بنوا لیں جس میں ہوا روشنی کا پورا انتظام ہو عمدہ قسم کے اور آرام دہ پلنگ ہوں دلفریب ودل کش گدیلے بستر اور ملائم تکیے ہوں لیکن آپ خود بتائیے کیا ان سامانوں کے مہیا ہوجانے پر نیند کا آجانا لازمی ہے اگر آپ کو خود اس کا تجربہ نہیں ہے تو وہ ہزاروں آدمی اس کا جواب نفی میں دیں گے جنہیں کسی عارضے کی وجہ سے نیند نہیں آتی ان کے لئے یہ سامان دھرے رہ جاتے ہیں یہاں تک کہ خواب آور دوائیاں بھی جواب دے دیتی ہیں چناچہ نیند کے سامان تو بازار سے آگئے لیکن نیند کسی بازار سے کسی بھی قیمت پر نہیں لائی جاسکتی اسی طرح دوسری لذتوں اور راحتوں کا حال ہے ان کے اسباب تو روپیہ پیسہ کے ذریعے حاصل ہوسکتے ہیں مگر ان راحتوں اور لذتوں کا حاصل ہونا ان اسباب کے باوجود بھی ضروری نہیں ہے یہ بات سمجھ لینے کے بعد سود خوروں کے حالات کا جائزہ لیجئے تو ان کے پاس آپ کو سب کچھ ملے گا مگر راحت اور اطمینان کا نام نہ پائیں گے وہ اپنی حرص وہوس میں اپنی تجوریوں کو بھرنے اور اپنے ایک کروڑ کو ڈیڑھ کروڑ دو کروڑ بنانے میں ایسے مست نظر آتے ہیں کہ نہ ان کو اپنے کھانے پینے کا ہوش رہتا ہے نہ اپنی بیوی بچوں کا خیال ایمانداری سے بتائیے کیا اطمینان و راحت اسی طرح حاصل ہوتا ہے صبح سے شام تک اور شام سے صبح تک مال و دولت کو بڑھانے کی ادھیڑ بن میں اپنے آپ کو فنا کردینے کا نام راحت ہے؟ کتنے بیوقوف ہیں وہ لوگ جنہوں نے اسباب راحت کا نام راحت رکھ لیا ہے اور جو حقیقی راحت ہے اس سے کوسوں دور ہیں۔

2875Mishkaat-al-Masabih

سود خوروں کمی حقیق عزت حاصل نہیں ہوتی

ایک دنیادار انسان مال و دولت کے انبار اسی لئے جمع کرتا ہے کہ اسے دنیا کا اطمیان سکون اور راحت حاصل ہو اور وہ سماج و معاشرہ میں عزت ووقار کی زندگی بسر کرسکے لیکن سود خوروں کی راحت کا حال تو معلوم ہوا کہ ان کے ہاں ظاہری طور پر مال و دولت کی فراوانی اور عیش و عشرت اور راحت و آرام کے تمام تر اسباب کی موجودگی کے باوجود ان بدنصیبوں کو حقیقی راحت و اطمینان کی دولت نصیب نہیں ہوتی اور سکون قلب و دماغ جیسی اعلی نعمت میں مسلسل مبتلا رہنے کی وجہ سے طبعی طور پر بھی بےرحم اور سنگ دل بن جاتا ہے اور اس کا پیشہ ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ مصیبت زدہ اور افلاس کے مارے لوگوں کی مصیبت ومفلسی سے اور کم مایہ انسانوں کی کم مائیگی سے فائدہ اٹھائے اور ان کا خون چوس کر اپنے بدن کو سیم وزر سے پالے اس مقصد کے لئے وہ بھوک سے بلکتے معصوم بچوں کے ہاتھ سے سوکھی روٹی کا ٹکڑا چھیننے اور افلاس زدہ کی ستائی ہوئی باحیا عورت کے جسم پر لپٹے ہوئے کپڑے کا آخری چیتھڑا اتار لینے سے بھی دریغ نہیں کرتا اس شقاوت اور سنگ دلی کی موجودگی میں یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ لوگوں کے دلوں میں سود خور کی عزت اور وقار کے لئے کوئی گوشہ ہو آپ اپنی آبادی کے کسی بھی بڑے سے بڑے سود خور پر نظر ڈالئے اس کی تجوریاں سونے چاندی اور روپیوں کے کتنے ہی بڑے ذخیروں سے بھری پڑی ہوں اس کے گھر میں مال و دولت کے کتنے ہی خزانے محفوظ ہوں لیکن کیا لوگوں کی نظروں میں اس کی ادنیٰ بھی وقعت ہوتی ہے بےکس و مجبور لوگ بھلے ہی اپنی ضرورت و احتیاج کی بناء پر اس کے آگے ہاتھ جوڑتے ہیں مگر ان کے دلوں میں بھی اس کے لئے عزت و احترام کا کوئی ادنیٰ سا جذبہ نہیں ہوتا معاشرہ میں اس کی حیثیت اس درندے کے برابر نہیں ہوتی جو اپنے پنجوں سے انسانوں کے جسم سے گوشت کے ٹکڑے نوچ کر انہیں ہڈیوں کے ڈھانچے میں تبدیل کردیتا ہے اس کا تنیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ انسانوں کے ہر طبقہ میں اس انسانی شرف و احترام سے بھی محروم رہتا ہے جو ایک انسان کو دوسرے انسان کے سامنے عزت ووقار کا پیکر بنا کر پیش کرتا ہے۔

2876Mishkaat-al-Masabih

آج کی بین الاقوامی بے چینی اور اقتصادی بدحالی سود خوروں ہی کی مسلط کی ہوئی ہے

بات جب چل نکلی ہے تو پھر سود خوری کے ایک اور پہلو پر بھی نظر ڈال لیجئے۔ بڑی مصیبت یہ ہے کہ سائنسی ارتقاء اور مادی عروج نے انسان کو یہ لینے کا سلیقہ کیا بخشا کہ سوچنے سمجھنے کے ڈھنگ تک بدل گئے آج کا انسانی ذہن علم و دانش کی فراوانی اور فہم و فراست کی پختگی کے دعوے کے باوجود غور وفکر کے ایک مخصوص نہج سے آگے نہیں بڑھ سکا آج کی دنیا نے انسان کے گرد خالص مادی سانچے میں ڈھلے ذہن جدید کے مصنوعی نظریات کا جو حصار کھینچ دیا ہے اس نے سوجھ بوجھ کی تمام صلاحیتوں کو سیم وزر کے ایک خالص ماحول میں مقید کردیا ہے اور احساسات فکر ونظر کو حقیقی اچھائی اور برائی کی قوت امتیاز سے محروم کر کے صرف دینا کے وقتی اور ظاہری فائدوں اور تن آسانیوں کا اسیربنا دیا ہے اسی لئے آج ہمیشہ کی تسلیم شدہ صداقتیں قابل انکار ہوگئی ہیں اور ہزاروں سال پرانے اٹل اور حقیقی نظریات قابل شکست وریخت سمجھے جانے لگے ہیں۔ اسلام کی یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ سود حرام ہے ہر فرد کے لئے ہر طبقہ کے لئے ہر زمانہ کے لئے اور ہر حالت میں لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اگرچہ بظاہر پڑھے لکھے ہیں لیکن عہد حاضر کے مصنوعی افکار ونظریات نے انہیں دین و شریعت کے حقیقی راستے سے دور کر رکھا ہے اور ان کے ذہن وفکر پر موجودہ دور کی مخصوص چھاپ نے انہیں جہالت کی وادیوں میں بھٹکا رکھا ہے ان کے نزدیک نہ صرف حرمت سود جیسی مسلمہ حقیقت آج کے زمانہ میں ایک ناقبل عمل چیز ہے بلکہ مادی خوشحالی اور تجارتی کامیابیوں کی راہ میں ایک رکاوٹ بھی ہے ان کے نقطہ نظر سے آج کا معاشی نظام جو سود کی جکڑ بندیوں میں محصور ہے صرف ایک فرد ایک قوم ملک ہی کے لئے نہیں بلکہ پوری دنیا کے اقتصادی استحکام اور بنی نوع انسان کی معاشی خوشحالی کا ضامن ہے وہ بڑے بڑے سرمایہ دار ملک جنہوں نے سود کی شکل میں غریب قوموں اور ترقی پذیر ملکوں کی اقتصادیات ومعاشیات کی روح کھینچ کر ان کو دنیا کا گرویدہ بنادیا ہے ان دیوانوں کی نظر میں بنی نوع انسان کی معاشی فلاح و بہبود اور ان کے اقتصادی اطمینان کے واحد سہارے ہیں یہ لوگ اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ سرمایہ دار طاقتوں نے غریب ملکوں اور اقتصادی بدحالی کی شکار قوموں کے لئے اپنے خزانوں کے جو منہ کھول رکھے ہیں وہ درحقیقت عالمی بھائی چارگی اور بین الاقوامی اقتصادی خوشحالی کے تئیں ان کے حقیقی جذبات ایثار و ہمدردی کا مظہر ہیں حالانکہ اگر ذرا بھی غور وفکر سے کام لیا جائے تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہو کر سامنے آجائیگی کہ یہ سب کچھ اسی ہوس و عیاری کا ترقی یافتہ راستہ ہے جس پر چل کر پہلے تو ایک انسان نے دوسرا انسان کا خون چوسا ہے اور اب اسی راستہ پر گامزن ایک قوم اور ایک ملک دوسری قوموں اور دوسرے ملکوں کا خون چوس رہے ہیں بس فرق اتنا ہی ہے کہ پہلے ایک فرد یا ایک طبقہ سود کی اقتصادی تباہ کاری کا شکار ہوا کرتا تھا اور اسے محسوس بھی کرتا تھا لیکن آج پورے پورے ملک اور پوری پوری قومیں سود کی اقتصادی تباہ کاری کا غیر محسوس طور پر شکار ہو کر اپنے باوقار وجود کو سود خوروں کے پاس رہن رکھ چکی ہیں۔ جن دانشوروں کی نظر دنیا کے ان اقتصادی منصوبوں پر ہے جن کے تحت سرمایہ دار ممالک پسماندہ قوموں اور ترقی پذیر ملکوں کو ہر سال اربوں ڈالروں کے امدادی قرض دیتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ ممالک کس طرح سودی شکل میں ان غریب ملکوں کی اقتصادی دولت کو دونوں ہاتھو سے لوٹ کر اپنے ملک کے خزانے بھر رہے ہیں۔ اس حقیقت سے کون باخبر اور با ہوش انسان انکار کرسکتا ہے کہ ان سود خور ملکوں کی سود خوری نے دنیا کے ان تمام غریب ملکوں کے اقتصادی نظام میں جو شومی قسمت سے اپنے وسائل اور اپنے دست وبازو کی قوت محنت پر بھروسہ نہ کر کے سرمایہ دار ملکوں کے جال فریب میں پھنس گئے ہیں غربت و افلاس اور مالی بدحالی کا ایسا زہر گھول دیا ہے کہ ان تمام ترمعاشی ڈھانچہ اپنی جگہ چھوڑ چکا ہے اور اقتصادی موت کے دروازے پر پہنچ گیا ہے۔ اس صورت حال نے دنیا کے امن و سکون کو بھی متزلزل کر کے رکھ دیا ہے آج آپ کو کتنے ہی ایسے ملک نظر آئیں گے جو ان کی سیاسی اور ملکی پالیسیوں کی بھینٹ پڑھ گئے ہیں کہ ان کی اقتصادی زندگی کا تمام دارومدار انہیں سود خوروں کے امدادی اور سودی قرضوں پر ہے ان مسائل کا حل چونکہ ان کی سیاسی اور اقتصادی پالیسی کے خلاف ہے اس لئے وہ ان کو دنیا پر اس طرح معلق کئے ہوئے کہ آج ان کی وجہ سے قوموں کی قومیں اور ملک کے ملک اپنی داخلی بےچینیوں بےاطمینانیوں اور مایوسیوں کا شکار ہو کر موت وحیات کی کش مکش میں مبتلا ہیں اس لئے بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ آج پوری دنیا پر سیاسی بےاطمینانی اور اتقصادی بےچینی کا جو مہیب بادل چھایا ہوا ہے وہ دراصل سود خوروں کا مسلط کیا ہوا ہے جس سے کوندنے والی برق کسی بھی لمحہ بنی نوع انسان کے پورے وجود کو بھسم کرسکتی ہے۔

2877Mishkaat-al-Masabih

سود کے بارے میں ایک شبہ اور اس کا جواب

بعض پڑھے لکھے لوگ اس شبہ میں بھی مبتلا ہیں کہ قرآن کریم نے جس ربا کو حرام قرار دیا ہے وہ ایک خاص قسم کا ربا تھا جو زمانہ جاہلیت میں رائج تھا کہ کوئی غریب مصیبت زدہ شخص اپنی مصیبت دور کرنے کے لئے کسی سے قرض لے لیتا تھا اور قرض خواہ اس پر ایک متعین نفع سود لیا کرتا تھا یہ بیشک ایک سنگدلی کی بات تھی کہ کوئی شخص کسی کی مصیبت میں اس کی مدد کرنے کی بجائے الٹا اس کی مصیبت سے فائدہ اٹھائے۔ قرآن نے سود کی اس صورت کو حرام قرار دیا۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس حرمت کا اطلاق آج کے زمانہ میں بھی سود کی اس صورت پر ہوسکتا ہے جو مہاجنوں اور دوسرے سود خوروں کے ہاں شخصی اور انفرادی طور پر رائج ہے کہ کوئی ضرورت مند و غریب اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے خواہ کوئی چیز رہن وگروی رکھ کر یا اور کسی اعتماد پر ان سے قرض لیتا ہے اور اس پر حسب شرط و تعیین سود ادا کرتا ہے لیکن آ جکل تجارتوں بینکوں کمپنیوں اور اجتماعی اداروں کے ذریعہ جو سودی کاروبار ہوتا ہے اس کی صورت بالکل مختلف ہے جس کی وجہ سے اب سود دینے والے مصیبت زدہ لوگ نہیں رہے بلکہ متمول اور سرمایہ دار تجار ہیں جو غریبوں سے سود لینے کی بجائے خود ان کو دیتے ہیں ظاہر ہے کہ اس صورت میں غریبوں کا ہی فائدہ ہے کہ بہت سے قلیل سرمایہ والے لوگ مذکورہ بالا ذرائع سے کچھ نہ کچھ حاصل کرلیتے ہیں لہذا موجودہ دور کے تجارتی سود پر حرمت کا اطلاق نہیں ہونا چاہئے۔ اس کے جواب کے سلسلے میں پہلے تو ایک بنیادی بات یہ جان لین چاہئے کہ شریعت کے کسی بھی حکم کا تعلق اصول اور کلیہ سے ہوتا ہے جو نیات اور اقسام کے اختلاف سے اس حکم کے نفاذ پر اثر انداز نہیں ہوتے۔ شریعت نے جس چیز کو اصولی طور پر حرام قرار دیا ہے وہ چیز اپنے تمام اجزاء اور اپنی تمام اقسام کے ساتھ حرام ہوگی یہ حق کسی کو حاصل نہیں ہوگا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں اس چیز کے کسی جزء یا کسی قسم کو محض اپنے خیال سے مستثنی کر دے یا اس حکم کے اطلاق کو بلا کسی شرعی دلیل کے مقید و محدود کرسکے۔ اگر کوئی شخص یہ کہنے لگے کہ اس حرمت کا تعلق اس شراب سے ہے جو پہلے زمانہ میں خراب قسم کے برتنوں میں سڑا کر بنائی جاتی تھی اب تو چونکہ صفائی ستھرائی کا بڑا اہتمام ہے مشینوں کے ذریعے سب کام ہوتا ہے اعلي درجہ کی شرابیں بنتی ہیں لہذا موجودہ دور کی شراب پر حرمت کا اطلاق نہیں ہونا چاہئے تو ظاہر ہے کہ یہ بات وہی شخص کہہ سکتا ہے جو اسلامی شریعت کا ذرا سا بھی علم نہ رکھتا ہے یا اسلامی شریعت کے مزاج سے قطعًا ناواقف ہو۔ اس کے علاوہ اس پر بھی غور کیجئے کہ اس طرح احکام قرآن کو اپنے خیالات کے تابع کرنے کا دروازہ کھل جائے تو پھر کس چیز کی حرمت باقی رہ جائے گی قمار جوا چوری ڈاکہ زنا فواحش ان میں سے کون سی برائی ایسی ہے جس کی موجودہ صورت پہلے زمانہ کی صورت سے مختلف نہیں ہے اس کا مطلب تو یہ ہوگا کہ ان سبھی برائیوں کو جائز کہنا پڑے گا لہذا جب محض چولہ بدلنے سے کسی شخص کی حقیقت نہیں بدلا کرتی تو کوئی بھی برائی خواہ وہ کتنی صورت اختیار کے اس کا حکم بھی کی حال میں نہیں بدلے گا۔ اس بات کو سمجھ لینے کے بعد اب ربا کا جائزہ لیجئے تو معلوم ہوگا کہ قرآن کریم میں ربا کی مخالفت کا ذکر ایک جگہ نہیں مختلف سورتوں کی کئی آیتوں میں آیا ہے اور چالیس سے زائد احادیث میں مختلف عنوان سے اس کی حرمت بیان کی گئی ہے ان میں سے کسی ایک جگہ کسی ایک لفظ میں بھی یہ اشارہ نہیں ہے کہ حرمت کا یہ حکم کسی خاص صورت یا کسی خاص مصلحت کے پیش نظر ہے۔ حرمت ربا کی کسی بھی آیت یا کسی بھی حدیث سے یہ اشارہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ یہ حرمت صرف اس ربا کی ہے جو شخصی اغراض کے لئے لیا دیا جاتا تھا تجارتی سود اس سے مستثنی ہے بلکہ اگر اس مسئلہ پر تاریخی نقطہ نظر سے غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ سرے سے یہ خیال ہی غلط ہے کہ نزول قرآن کے زمانہ میں سود کی صرف یہی صورت رائج تھی کہ کوئی مصیبت زدہ شخص یا غریب آدمی اپنی ضرورت پوری کرنے کے لے سود پر قرض کا معاملہ کرتا تھا اور تجارتی معاملات کے لئے سود پر روپیہ لینے دینے کا رواج نہیں تھا بلکہ آیات ربا کا شان نزول دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حرمت ربا جب نزول ہوا ہے تو اس وقت شخصی اغراض کے لئے سودی لین دین کے علاوہ تجارتی معاملات کے لئے بھی سود کا لین دین رائج تھا کیونکہ عرب اور بالخصوص قریش تجارت پیشہ لوگ تھے جو تجارتی اغراض ہی کے لئے سود کا لین دین کرتے تھے چناچہ حضرت عباس اور حضرت خالد بن ولید کے بارے میں امام بغوی نے لکھا ہے کہ یہ دونوں شرکت میں کاروبار کرتے تھے اور ان کا لین دین طائف کے بنوثقیف کے ساتھ تھا۔ حضرت عباس کی ایک بڑی رقم سود کے طور پر بنوثقیف کے ذمہ واجب الادا تھی انہوں نے بنو ثقیف سے اپنی سابقہ رقم کا مطالبہ کیا تو آنحضرت ﷺ نے قرآن کے اس حکم کے تحت کہ ربا حرام قرار دیدیا گیا ہے اپنے چچا حضرت عباس کو سود کی اپنی اتنی بڑی رقم چھوڑ دینے کا حکم دیدیا جس کا اعلان آپ ﷺ نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں بھی یوں فرمایا حدیث (وربا الجاہلیۃ موضوع واول ربا اضع من ربانا ربا عباس بن عبدالمطلب) زمانہ جاہلیت کا سود چھوڑ دیا گیا ہے اور سب سے پہلا سود جسے میں اپنے سودوں میں سے چھوڑتا ہوں عباس بن عبد المطلب کا سود ہے اس کے علاوہ اور بہت سے ایسے واقعات منقول ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک قبیلہ کا دوسرے قبیلہ کے ساتھ اور ایک خاندان کے ساتھ سودی لین دین تھا پھر اس کے ساتھ یہ بات بھی قابل نظر ہے کہ جن قبائل یا خاندان کے باہمی سودی لین دین کا ذکر منقول ہے وہ کسی فوری ضرورت یا مصیبت کے تحت قرض لینے کی حیثیت سے نہیں تھا بلکہ اس اندازے سے تھا کہ ان کے درمیان یہ لین دین کاروباری اور تجارتی حیثیت سے مسلسل جاری تھا جیسے ایک تاجر سے یا ایک کمپنی دوسری کمپنی سے معاملہ کیا کرتی ہے بلکہ سودی کاروبار کرنے والے لوگ ربا کو بھی ایک قسم کی تجارت ہی سمجھا کرتے تھے جس کی تردید قرآن کو کرنی پڑی اور خریدو فروخت کے معاملات کو سود ہی کی ایک قسم سمجھنے والوں کے لئے سخت تہدید ووعید نازل ہوئی۔ اب رہی یہ بات کہ بینکوں کے سودی کاروبار سے غریب عوام کا نفع ہے کہ انہیں اپنی رقموں پر کچھ نہ کچھ مل جاتا ہے تو یاد رکھئے کہ یہی وہ حسین فریب ہے جس کی بنیاد پر یورپین اقوام نے سود جیسی بدیہی اور ہمیشہ کی مسلم لعنت کو کاروبار کا ایک خوب صورت جام پہنایا اور عوام نے اس فریب میں مبتلا ہو کر سود کے چند ٹکوں کے لالچ میں اپنی پونجی کو بینکوں کے حوالہ کردیا اس طرح پوری قوم کا سرمایہ سمٹ کر بینکوں میں آگیا اور ادھر اس سرمایہ کو بڑے بڑے تاجروں اور بیوپاریوں نے بینکوں سے بطور قرض لے کر اپنے اپنے کاروبار کو وسعت دی اور اس سے جو عظیم الشان نفع حاصل ہوا اس میں سے چند ٹکے بینکوں کو دے کر باقی سب اپنی تجوریوں میں بھر لیا بینک والوں نے ان ٹکوں میں کچھ حصہ پوری قوم کے ان لوگوں کو بانٹ دیا جنہوں نے اپنی پونجی بینک کے حوالہ کی تھی اس طرح سرمایہ دار نے تو اپنے دس ہار روپیہ سے ایک لاکھ روپیہ کما لیا اور بےچارے غریبوں کے حصہ میں کیا آیا صرف چند ٹکے اب بتائیے کہ ان بینکوں سے بھی اصل فائدہ کسے حاصل ہوا ہے؟ سرمایہ دار کو یا غریب کو؟ فریب خوردہ غریب تو اس متوقع فائدہ سے بھی محروم رہا جو وہ اپنی پونجی کو بینک کے حوالے کردینے کی بجائے کسی چھوٹی موٹی تجارت میں لگا دینے حاصل کرتا اسے تو اتنی بھی سہولت نہ ملی کہ وہ بینک سے کوئی بڑی رقم قرض لے کر کاروبار کرسکتا کیونکہ بینک تو کسی غریب کو پیسہ دینے سے رہا وہ تو بڑے بڑے سرمایہ داروں اور ساکھ والوں کو قرض دیتا ہے لیکن اس کے برخلاف سرمایہ دار نے بینک سے کیا فائدہ حاصل کیا اس نے بینک سے بڑی بڑی رقمیں قرض کے نام پر لیں ان رقموں سے تجارت وصنعت کی بڑی بڑی منڈیوں پر اپنا اجارہ جمایا اور ہر قسم کے کاروبار پر قابض ہوگیا۔ کسی کم سرمایہ والے کو مقابلہ ومسابقت (Competion) کے ذریعہ تجارت کے کسی میدان میں جمنے نہیں دیا اور انجام کار تجارت کا کاروبار جو پوری قوم کے لئے فائدہ مند اور ترقی کا ذریعہ تھا چند مخصوص لوگوں میں محدود ہو کر رہ گیا اور پھر آخر میں جا کر اس سودی کاروبار کی تان غریبوں ہی پر اس طرح ٹوٹی کہ جب تجارت کے اڈوں پر مخصوص سرمایہ دار ناگ بن کر بیٹھ گئے تو اشیاء کے نرخ بھی ان کے رحم و کرم پر رہ گئے جس کا نتیجہ وہ ہے جو آج ہر جگہ سامنے آ رہا ہے کہ سامان معیشت میں روز بروز گرانی بڑھتی ہی جا رہی ہے اور اشیاء کی قیمتیں اس طرح چڑھ رہی ہیں کہ حکومتوں کی تمام تر کوششوں کے باوجود قابو میں نہیں آرہی ہیں اور انجام کا فریب خود وہ عوام کو سود کے نام پر جو چند ٹکے ملے تھے ان کے تنیجہ میں سامان معیشت دوگنی تگنی قیمتوں تک پہنچا تو ان غریبوں کی جیب سے سود کے وہ چند ٹکے کچھ اور سود لے کر نکل گئے اور پھر لوٹ پھر کر انہیں سرمایہ داروں کی جیب میں پہنچ گئے لہذا بینکوں اور تجارتی اداروں کے سودی کاروبار کے اس فریب کا پردہ اٹھا کر دیکھئے تو معلوم ہوگا کہ سودی کاروبار کا عام نتیجہ کسی بھی طرح غریبوں کے حق میں مفید نہیں ہوتا بلکہ یہ درحقیقت پوری قوم کی غربت و افلاس اور چند سرمایہ داروں کے سرمایہ میں بےپناہ اضافہ کا ذریعہ ہے اور یہی وہ معاشی بےاعتدالی اور اقتصادی تباہ کاری ہے جو پوری قوم اور پورے ملک کی تباہی کا سبب بنتی ہے اس لئے اسلام نے سود کے ہر طریقہ اور ہر ذریعہ پر قدغن لگائی ہے خواہ وہ انفرادی و شخص اغراض کے لئے قرض لینے کی صورت میں ہو یا اجتماعی تجارت اور بینکوں کے کاروبار کی شکل میں کیونکہ دونوں ہی صورتوں میں غریب کا خون سود خوروں کی غذا بنتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا معراج کی رات میرا گزر کچھ ایسے لوگوں پر ہوا جن کے پیٹ گھروں مکانوں کی مانند بڑے بڑے تھے اور ان کے پیٹوں میں سانپ بھرے ہوئے تھے جو پیٹوں کے باہر سے بھی نظر آ رہے تھے میں نے انہیں دیکھ کر بڑی حیرت کے ساتھ جبرائیل (علیہ السلام) سے پوچھا کہ جبرائیل یہ کون لوگ ہیں انہوں بتایا کہ یہ سود خور ہیں (احمد ابن ماجہ)

2878Mishkaat-al-Masabih

سود خور پر آپ ﷺ کی لعنت

وعن علي رضي الله عنه أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم لعن آكل الربا وموكله وكاتبه ومانع الصدقة وكان ينهى عن النوح . رواه النسائي

حضرت علی کرمہ اللہ وجہہ کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے سنا کہ رسول کریم ﷺ سود لینے والے سود دینے والے سود کا تمسک لکھنے والے سود کا حساب کتاب لکھنے والے اور صدقہ سے منع کرنیوالے پر لعنت فرماتے تھے نیز آپ ﷺ نوحہ کرنے سے منع فرماتے تھے (نسائی) تشریح صدقہ سے منع کرنیوالے سے مراد یا تو وہ شخص ہے جو کسی دوسرے کو صدقہ و خیرات کرنے سے منع کرے اور روکے چناچہ آپ ﷺ نے ایسے شخص پر لعنت فرمائی ہے یا پھر اس سے وہ شخص مراد ہے جو واجب صدقہ یعنی زکوٰۃ وغیرہ ادا نہ کرتا ہو۔ کسی مردہ شخص کے اوصاف بیان کر کے اور چلا چلا کر رونا نوحہ کہلاتا ہے چونکہ یہ ایک انتہائی نازیبا اور خلاف وقار و دانش فعل ہے اس لئے شریعت نے اس سے منع فرمایا ہے۔

2879Mishkaat-al-Masabih

ربا کی تشریح کے متعلق حضرت عمر کا ارشاد

وعن عمر بن الخطاب رضي الله عنه إن آخر ما نزلت آية الربا وإن رسول الله صلى الله عليه و سلم قبض ولم يفسرها لنا فدعوا الربا والريبة . رواه ابن ماجه والدارمي

حضرت عمر فاروق ؓ کا یہ ارشاد منقول ہے کہ جو چیز نازل ہوئی یعنی قرآن کریم اس کا معاملات سے متعلق جو حصہ سب سے آخر میں نازل ہوا ہے وہ ربا کی آیت ہے چناچہ آپ ﷺ اس دنیا سے اس حالت میں تشریف لے گئے کہ آپ ﷺ نے اس کی تفصیل بیان نہیں فرمائی لہذا سود کو بھی چھوڑ دو اور جس چیز میں سود کا شبہ ہو اسے بھی چھوڑ دو ( ابن ماجہ دارمی) تشریح یہ بات ابتداء میں بتائی جا چکی ہے کہ سود کی مروجہ شکل یعنی قرض وادھار پر متعین نفع لینا اسلام سے قبل زمانہ جاہلیت میں بھی رائج تھی اور لوگوں میں اس طرح کے سود کا بہت زیادہ رواج تھا چناچہ قرآن کریم نے جب ربا کی حرمت بیان کی اور آیت ربا نازل ہوئی تو آنحضرت ﷺ نے حرمت کے اس حکم کو نہ صرف اس وقت کے رائج و متعارف سود پر نافذ کیا بلکہ ربا کے مفہوم کو وسعت دیکر اشیاء کے باہمی لین دین اور خریدو فروخت کی بعض صورتوں کو بھی ربا کے حکم میں داخل فرمایا جس کی تفصیل گذشتہ صفحات میں ذکر کی جا چکی ہے لیکن صورت یہ ہوئی کہ آیت ربا نازل ہونے کے بعد آنحضرت ﷺ اس دنیا میں بہت کم عرصہ تشریف فرما رہے اس تھوڑی مدت میں دیگر دینی وضروی مصروفیات میں اتنا انہماک رہا کہ آپ ﷺ نے لین دین کی ان صورتوں کو زیادہ تفصیل سے بیان نہیں فرمایا یہاں تک آپ واصل بحق ہوگئے چناچہ حضرت فاروق اعظم کے اس ارشاد میں تفصیل سے مراد انہیں صورتوں کی تشریح و تفصیل ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جن چھ چیزوں (سونا چاندی گیہوں جو کھجور نمک) کے باہمی لین دین کی بعض صورتوں کو ربا کے حکم میں داخل فرمایا تھا آیا یہ حکم ان چھ چیزوں کے ساتھ مخصوص ہے یا یہ چیزیں بطور مثال کے بیان فرمائیں اور بقیہ چیزوں کو قیاس و اجتہاد پر موقوف رکھا؟ یہی وجہ ہے کہ بعد میں آنیوالے ائمہ مجتہدین امام ابوحنیفہ امام شافعی امام مالک امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ نے اپنے اپنے اجتہاد سے ان چیزوں کا ایک ضابطہ بنایا اور دوسری چیزوں کو بھی اس ضابطہ کے ماتحت اس حکم میں داخل قرار دیا اس کی تفصیل بھی گذشتہ صفحات میں ذکر کی جا چکی ہے۔ حاصل یہ کہ نزول قرآن سے سود کا ایک مخصوص معاملہ یعنی قرض دے کر اس پر نفع لینا عربی زبان میں لفظ ربا کے ساتھ متعارف چلا آرہا تھا اور پورے عرب میں اس کا رواج تھا چناچہ اہل عرب صرف اسی خاص معاملہ کو ربا کہتے اور سمجھتے تھے اسی ربا کو قرآن کریم نے حرام فرمایا لہذا ربا کی اس صورت میں نہ کوئی ابہام تھا نہ اجمال اور اسی لئے جب قرآن کریم نے ربا کی حرمت کا ذکر کیا تو نہ کسی کو اس کے سمجھنے میں دقت ہوئی اور نہ کسی کو اس پر عمل کرنے میں ایک منٹ کا بھی تامل وتردد ہوا البتہ جب رسول کریم ﷺ نے باشارات وحی الٰہی ربا کے مفہوم میں اور چند معاملات کا اضافہ فرمایا تو چونکہ وہ معاملات اہل عرب کے متعارف مفہوم سے الگ اور ان کے مروجہ سود سے ایک زائد چیز تھی اور پھر اتفاق کی بات کہ آنحضرت ﷺ ربا کے اس وسیع مفہوم کی تفصیلات پوری تشریح کے ساتھ بیان فرمانے سے پہلے اس دنیا سے تشریف لے گئے اسی وجہ سے اس کی تشریحات میں حضرت فاروق اعظم کو کچھ اشکالات پیش آئے بالآخر انہوں نے اپنے اجتہاد سے احتیاط کا پہلو اختیار کرتے ہوئے فرمایا کہ ربا کی جو صورتیں بالکل واضح اور متعین ہیں جیسی مروجہ سود یا اشیاء کے باہمی لین دین کی وہ صورتیں جو آنحضرت ﷺ نے بیان فرما دی ہیں ان کو بھی ترک کردو اور ان سے مکمل اجتناب کرو اور جس چیز میں سود کا شبہ اور شائبہ بھی محسوس ہوجائے ازارہ ورع و احتیاط اسے بھی چھوڑ دو اور اس سے پرہیز کرو۔

2880Mishkaat-al-Masabih

ایک شبہ اور غلط فہمی :

سود کے بارے میں بعض لوگوں نے حضرت فاروق اعظم کے اس ارشاد کو آڑ بنا لیا جو سود کی اس خاص قسم کے بارے میں تھا جس کا مروجہ سود کے مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں یعنی چھ چیزوں کا باہمی بیع وشراء اور لین دین ان لوگوں نے اس ارشاد کا یہ نتیجہ نکالا کہ ربا کی حقیقت ہی مبہم رہ گئی تھی۔ اس کے متعلق علماء اور فقہاء نے جو کچھ لکھا ہے وہ صرف ان کا اپنے اجتہاد تھا لیکن جیسا کہ ابھی اوپر بتایا گیا حضرت فاروق اعظم کو ربا کی صرف اس قسم کے بارے میں تردد پیش آیا جو قرآن کے الفاظ سے ثابت نہیں تھا بلکہ آنحضرت ﷺ نے اپنے ارشاد کے ذریعہ اس کی حرمت کو بیان فرمایا تھا اور وہ چھ چیزوں کی آپس میں خریدو فروخت کا معاملہ تھا جو سود آج کل رائج ہے اور جو ایام جاہلیت میں بھی عام تھا۔ اس سے حضرت عمر کے اس ارشاد کا دور کا تعلق بھی نہ تھا اور ہو بھی کیسے سکتا ہے جب کہ زمانہ جاہلیت ہی سے اس کے معاملات رائج اور جاری تھے پھر اس ارشاد کہ ان چھ چیزوں کے سود کے بارے میں حضرت عمر کو جو اشکال پیش آیا وہ بھی اس بات میں نہیں تھا کہ انہیں ان چھ چیزوں کے لین دین میں سود کو حرام سمجھنے میں تردد تھا بلکہ اشکال صرف یہ تھا کہ یہ حکم شاید ان چھ چیزوں (یعنی سونا چاندی اور گیہوں وغیرہ) تک ہی محدود نہ ہو بلکہ اس کے حکم کا دائرہ ان چھ چیزوں کے علاوہ دیگر اشیاء تک بھی وسیع ہو اس صورت میں ہوسکتا ہے کہ لوگ یہ خیال کر کے کہ آنحضرت ﷺ نے صرف چھ چیزوں کے بارے میں یہ حکم فرمایا ہے دیگر اشیاء کے لین دین میں وہی صورتیں اختیار کر کے سود میں مبتلا ہوجائیں جنہیں آپ ﷺ نے چھ چیزوں کے لئے واضح طور پر ربا کہا ہے اس تردد کے پیش نظر آپ نے لوگوں کو حکم دیا کہ سود کے ساتھ ساتھ ان چیزوں کو بھی قطعًا چھوڑ دو جن میں سود کا شائبہ تک نہ پایا جائے لہذا یہ ستم ظریقی نہیں تو اور کیا ہے کہ حضرت عمر نے اپنے اشکال کا نتیجہ تو یہ ظاہر فرمایا کہ منصوص چیزوں میں بھی ایسے معاملات سے پرہیز کیا جائے جن میں سود کا شبہ بھی پایا جائے اور ان لوگوں نے حضرت عمر کے اس ارشاد کا تعلق اس سود کی اس مخصوص قسم سے منقطع کر کے عام سود وربا کے معاملات سے جوڑ دیا اور پھر اس پر اکتفاء نہ کیا بلکہ مزید ستم یہ کیا کہ محض اپنی نافہمی کی وجہ سے حضرت عمر کے ارشاد کی روشنی میں سرے سے سود کی حرمت ہی کو ایک مشتبہ مسئلہ قرار دیدیا۔