Mauwatta Imam Malik

All 1,740 hadiths in order · Page 61 of 87

1201Mauwatta Imam Malik

جب تک پھلوں کی پختگی معلوم نہ ہو اس کے بیچنے کی ممانعت

عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّی يَبْدُوَ صَلَاحُهَا نَهَی الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ

ابن عمر سے روایت ہے کہ منع کیا رسول اللہ ﷺ نے پھلوں کے بیچنے سے یہاں تک کہ ان کی پختگی اور بہتری کا یقین ہوجائے منع کیا بائع (بچنے والا) کو اور مشتری (خریدنے والا) کو۔

Yahya related to me from Malik from Nafi from Ibn Umar (RA) that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbade selling fruit until it had started to ripen. He forbade the transaction to both buyer and seller.

1202Mauwatta Imam Malik

جب تک پھلوں کی پختگی معلوم نہ ہو اس کے بیچنے کی ممانعت

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّی تُزْهِيَ فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا تُزْهِيَ فَقَالَ حِينَ تَحْمَرُّ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ إِذَا مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ فَبِمَ يَأْخُذُ أَحَدُکُمْ مَالَ أَخِيهِ

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا پھلوں کے بیچنے سے یہاں تک کہ خوش رنگ ہوجائیں لوگوں نے کہا اس سے کیا مراد ہے یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ نے فرمایا سرخ یا زرد ہوجائیں اور آپ ﷺ نے فرمایا کیا اگر اللہ ان پھلوں کو پکنے نہ دے تو کس چیز کے بدلے میں تم میں سے کوئی اپنی بھائی کا مال لے گا۔

Yahya related to me from Malik from Humayd at-Tawil from Anas ibn Malik that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbade selling fruit until it had become mellow. He was asked, "Messenger ofAllah! What do you mean by become mellow?" He said, "When it becomes rosy." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, added, "Allah may prevent the fruit from maturing, so how can you take payment from your brother for it."

1203Mauwatta Imam Malik

جب تک پھلوں کی پختگی معلوم نہ ہو اس کے بیچنے کی ممانعت

عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّی تَنْجُوَ مِنْ الْعَاهَةِ

عمرہ بنت عبدالرحمن ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا پھلوں کی بیع سے یہاں تک کہ آفت کا خوف جاتا رہے۔

Yahya related to me from Malik from Abur-Rijal Muhammad ibn Abd ar-Rahman ibn Haritha from his mother, Amra bint Abd ar-Rahman that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbade selling fruit until it was clear of blight. Malik said, "Selling fruit before it has begun to ripen is an uncertain transaction (gharar) ."

1204Mauwatta Imam Malik

جب تک پھلوں کی پختگی معلوم نہ ہو اس کے بیچنے کی ممانعت

عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ کَانَ لَا يَبِيعُ ثِمَارَهُ حَتَّی تَطْلُعَ الثُّرَيَّا قَالَ مَالِک وَالْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي بَيْعِ الْبِطِّيخِ وَالْقِثَّائِ وَالْخِرْبِزِ وَالْجَزَرِ إِنَّ بَيْعَهُ إِذَا بَدَا صَلَاحُهُ حَلَالٌ جَائِزٌ ثُمَّ يَکُونُ لِلْمُشْتَرِي مَا يَنْبُتُ حَتَّی يَنْقَطِعَ ثَمَرُهُ وَيَهْلِکَ وَلَيْسَ فِي ذَلِکَ وَقْتٌ يُؤَقَّتُ وَذَلِکَ أَنَّ وَقْتَهُ مَعْرُوفٌ عِنْدَ النَّاسِ وَرُبَّمَا دَخَلَتْهُ الْعَاهَةُ فَقَطَعَتْ ثَمَرَتَهُ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ ذَلِکَ الْوَقْتُ فَإِذَا دَخَلَتْهُ الْعَاهَةُ بِجَائِحَةٍ تَبْلُغُ الثُّلُثَ فَصَاعِدًا کَانَ ذَلِکَ مَوْضُوعًا عَنْ الَّذِي ابْتَاعَهُ

زید بن ثابت اپنے پھلوں کو اس وقت بیچتے جب ثریا کے تارے نکل آتے۔ کہا مالک نے خربوزہ اور ککڑی اور گا جر کا بیچنا درست ہے جب ان کو بہتری کا حال معلوم ہوجائے پھر جو کچھ اگیں وہ فصل کے تمام ہونے تک مشتری (خریدنے والا) کے ہوں گے اس کا کوئی وقت مقرر نہیں ہر جگہ کے دستور اور رواج کے موافق حکم ہوگا اگر قبل اس وقت کے کسی آفت کے سبب نقصان ہو تہائی مال تک تو مشتری (خریدنے والا) کو وہ نقصان مجرادیا جائے گا تہائی سے کم اگر نقصان ہو تو مجرانہ دیا جائے گا۔

Yahya related to me from Malik from Abuz-Zinad from Kharija ibn Zayd ibn Thabit that Zayd ibn Thabit did not sell fruit until the Pleiades were visible, at the end of May.

1205Mauwatta Imam Malik

عریہ کے بیان میں

عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْخَصَ لِصَاحِبِ الْعَرِيَّةِ أَنْ يَبِيعَهَا بِخَرْصِهَا

زید بن ثابت سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رخصت دی عریہ والے اپنا میوہ بیچنے کی اٹکل سے۔

Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar from Zayd ibn Thabit that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, allowed the holder of an ariya to barter the dates on the palm for the amount of dried dates it was estimated that the palms would produce.

1206Mauwatta Imam Malik

عریہ کے بیان میں

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْخَصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ أَوْ فِي خَمْسَةِ أَوْسُقٍ يَشُکُّ دَاوُدُ قَالَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ أَوْ دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ قَالَ مَالِک وَإِنَّمَا تُبَاعُ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا مِنْ التَّمْرِ يُتَحَرَّی ذَلِکَ وَيُخْرَصُ فِي رُئُوسِ النَّخْلِ وَإِنَّمَا أُرْخِصَ فِيهِ لِأَنَّهُ أُنْزِلَ بِمَنْزِلَةِ التَّوْلِيَةِ وَالْإِقَالَةِ وَالشِّرْکِ وَلَوْ کَانَ بِمَنْزِلَةِ غَيْرِهِ مِنْ الْبُيُوعِ مَا أَشْرَکَ أَحَدٌ أَحَدًا فِي طَعَامِهِ حَتَّی يَسْتَوْفِيَهُ وَلَا أَقَالَهُ مِنْهُ وَلَا وَلَّاهُ أَحَدًا حَتَّی يَقْبِضَهُ الْمُبْتَاعُ

ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رخصت دی عریوں کے بیچنے کی اٹکل سے بشرطیکہ پانچ وسق سے کم ہوں یا پانچ وسق کے اندر ہوں۔ کہا مالک نے عریہ کا اندازہ درختوں پر کرلیا جائے گا اور آنحضرت ﷺ نے اس کو جائز رکھا یہ تولیہ یا اقالہ یا شرکت کے مثل ہے اگر یہ اور بیعوں کے مثل ہوتا تو کھانے کی چیزوں کا تولیہ یا اقالہ یا شرکت قبل قبضے کے نا درست ہے یہ بھی درست نہ ہوتا۔

Yahya related to me from Malik from Daud ibn al-Husayn from Abu Sufyan (RA) , the mawla of Ibn Abi Ahmad, from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, allowed the produce of an ariya to be bartered for an estimation of what the produce would be when the crop was less than five awsuq or equal to five awsuq. Daud wasnt sure whether he said five awsuq or less than five.

1207Mauwatta Imam Malik

پھلوں اور کھیتوں کی بیع میں آفت کا بیان

عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَهَا تَقُولُ ابْتَاعَ رَجُلٌ ثَمَرَ حَائِطٍ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَالَجَهُ وَقَامَ فِيهِ حَتَّی تَبَيَّنَ لَهُ النُّقْصَانُ فَسَأَلَ رَبَّ الْحَائِطِ أَنْ يَضَعَ لَهُ أَوْ أَنْ يُقِيلَهُ فَحَلَفَ أَنْ لَا يَفْعَلَ فَذَهَبَتْ أُمُّ الْمُشْتَرِي إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَأَلَّی أَنْ لَا يَفْعَلَ خَيْرًا فَسَمِعَ بِذَلِکَ رَبُّ الْحَائِطِ فَأَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَ لَهُ عَنْ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَضَی بِوَضْعِ الْجَائِحَةِ قَالَ مَالِک وَعَلَی ذَلِکَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا قَالَ مَالِک وَالْجَائِحَةُ الَّتِي تُوضَعُ عَنْ الْمُشْتَرِي الثُّلُثُ فَصَاعِدًا وَلَا يَکُونُ مَا دُونَ ذَلِکَ جَائِحَةً

عمرہ بنت عبدالرحمن ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک شخص نے باغ کے پھل خریدے اور اس کی درستی میں مصروف ہوا مگر ایسی آفت آئی جس سے نقصان معلوم ہوا تو باغ کے مالک سے کہا یا تو پھلوں کی قیمت کچھ کم کردو یا اس بیع کو فسخ کر ڈالو اس نے قسم کھالی میں ہرگز نہ کروں گا تب خریداری کر ڈالو اس نے قسم کھالی میں ہرگز نہ کروں گا تب خریدار کی ماں نے رسول اللہ ﷺ سے آن کر یہ سب قصہ بیان کیا آپ ﷺ نے فرمایا کیا قسم کھالی اس نے کہ میں یہ بہتری کا کام نہ کروں گا جب مالک باغ کو یہ خبر پہنچی وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ جیسا خریدار کہے وہ مجھ کو منظور ہے۔ عمر بن عبدالعزیز نے حکم کیا مشتری (خریدنے والا) کو نقصان دلانے کا جب کھیت یا میوے کو آفت پہنچے۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہی حکم ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ اس آفت سے تہائی مال یا زیادہ نقصان ہوا ہو اگر اس سے کم نقصان ہوگا اس کا شمار نہیں۔

Yahya related to me from Malik that Abur-Rijal Muhammad ibn Abd ar-Rahman heard his mother, Amra bint Abd ar-Rahman say, "A man bought the fruit of an enclosed orchard in the time of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and he tended it while staying on the land. It became clear to him that there was going to be some loss. He asked the owner of the orchard to reduce the price for him or to revoke the sale, but the owner made an oath not to do so. The mother of the buyer went to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and told him about it. The Messengerof Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, By this oath, he has sworn not to do good. The owner of the orchard heard about it and went to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and said, Messenger of Allah, the choice is his. "

1208Mauwatta Imam Malik

کچھ پھل یا میوے کا بیع سے مستثنی کر نیکا بیان

عَنْ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ کَانَ يَبِيعُ ثَمَرَ حَائِطِهِ وَيَسْتَثْنِي مِنْهُ

قاسم بن محمد اپنے باغ کے میووں کو بیچتے پھر اس میں سے کچھ مستثنی کرلیتے۔

Yahya related to me from Malik from Rabia ibn Abd ar-Rahman that al-Qasim ibn Muhammad would sell produce from his orchard and keep some of it aside.

1209Mauwatta Imam Malik

کچھ پھل یا میوے کا بیع سے مستثنی کر نیکا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ أَنَّ جَدَّهُ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ بَاعَ ثَمَرَ حَائِطٍ لَهُ يُقَالُ لَهُ الْأَفْرَقُ بِأَرْبَعَةِ آلَافِ دِرْهَمٍ وَاسْتَثْنَی مِنْهُ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ تَمْرًا

عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ ان کے دادا محمد بن عمرہ بن حزم نے اپنے باغ کا میوہ بیچا چار ہزار درہم کو اس میں سے آٹھ سو درہم کے کھجور مستثنی کر لئے اس باغ کا نام افرق تھا۔

Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Abi Bakr that his grandfather, Muhammad ibn Amr ibn Hazm sold the fruit of an orchard of his called al-Afraq, for 4,00O dirhams, and he kept aside 80O dirhams worth of dry dates.

1210Mauwatta Imam Malik

کچھ پھل یا میوے کا بیع سے مستثنی کر نیکا بیان

عَنْ عَمْرَةَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ کَانَتْ تَبِيعُ ثِمَارَهَا وَتَسْتَثْنِي مِنْهَا قَالَ مَالِک الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا بَاعَ ثَمَرَ حَائِطِهِ أَنَّ لَهُ أَنْ يَسْتَثْنِيَ مِنْ ثَمَرِ حَائِطِهِ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ ثُلُثِ الثَّمَرِ لَا يُجَاوِزُ ذَلِکَ وَمَا کَانَ دُونَ الثُّلُثِ فَلَا بَأْسَ بِذَلِکَ قَالَ مَالِک فَأَمَّا الرَّجُلُ يَبِيعُ ثَمَرَ حَائِطِهِ وَيَسْتَثْنِي مِنْ ثَمَرِ حَائِطِهِ ثَمَرَ نَخْلَةٍ أَوْ نَخَلَاتٍ يَخْتَارُهَا وَيُسَمِّي عَدَدَهَا فَلَا أَرَی بِذَلِکَ بَأْسًا لِأَنَّ رَبَّ الْحَائِطِ إِنَّمَا اسْتَثْنَی شَيْئًا مِنْ ثَمَرِ حَائِطِ نَفْسِهِ وَإِنَّمَا ذَلِکَ شَيْئٌ احْتَبَسَهُ مِنْ حَائِطِهِ وَأَمْسَکَهُ لَمْ يَبِعْهُ وَبَاعَ مِنْ حَائِطِهِ مَا سِوَی ذَلِکَ

عمرہ بنت عبدالرحمن اپنے پھلوں کو بیچتیں اور اس میں سے کچھ نکال لیتیں۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ جو آدمی اپنے باغ کا میوہ بچے اس کو اختیار ہے کہ تہائی مال تک مستثنیٰ کرے اس سے زیادہ درست نہیں اور جو سارے باغ میں سے ایک درخت یا درخت کے پھل مستثنی کرلے اور اس کو معین کر دے تو بھی کچھ قباحت نہیں ہے کیونکہ گویا مالک نے سوائے ان درختوں کے باقی کو بیچا اور ان کو نہ بیچا اس امر کا مالک کو اختیار ہے۔

Yahya related to me from Malik from Abur-Rijal, Muhammad ibn Abdar-Rahman ibn Haritha that his mother, Amra bint Abd ar-Rahman used to sell her fruit and keep some of it aside.

1211Mauwatta Imam Malik

جو بیع کھجوروں کی مکروہ ہے اس کا بیان

عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّمْرُ بِالتَّمْرِ مِثْلًا بِمِثْلٍ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ عَامِلَکَ عَلَی خَيْبَرَ يَأْخُذُ الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادْعُوهُ لِي فَدُعِيَ لَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَأْخُذُ الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا يَبِيعُونَنِي الْجَنِيبَ بِالْجَمْعِ صَاعًا بِصَاعٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعْ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا

عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کھجور کو کھجور کے بدلے میں برابر برابر بیچو ایک شخص بولا یا رسول اللہ ﷺ آپ کو عامل خبری پر ایک صاع کھجور لے کردو صاع دیتا ہے کھجور دے کر ایک صاع لیتا ہے وہ بولا یا رسول اللہ ﷺ ایک صاع بہتر کھجور اور ایک صاع بری کھجور کے بدلے میں نہیں آتی آپ ﷺ نے فرمایا پہلے بری کھجور کو روپوں کے بدلے میں بیچ کر پھر عمدہ کھجور کو خرید کرلے۔

Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam that Ata ibn Yasar said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Dried dates for dried dates is like for like. It was said to him, Your agent in Khaybar takes one sa for two. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, all him to me. So he was called for. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, asked, Do you take one sa for two? He replied, Messengerof Allah! Why should they sell me good dates for assorted low quality dates, sa for sa! The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Sell the assorted ones for dirhams, and then buy the good ones with those dirhams. "

1212Mauwatta Imam Malik

جو بیع کھجوروں کی مکروہ ہے اس کا بیان

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَی خَيْبَرَ فَجَائَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَکُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَکَذَا فَقَالَ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلَاثَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَفْعَلْ بِعْ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا

ابو سعید اور ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو عامل مقرر کیا خیبر پر وہ عمدہ کھجور لے کر آیا آپ ﷺ نے پوچھا سب کھجوریں خبیر کی ایسی ہی ہوتی ہیں وہ بولا نہیں یا رسول اللہ ﷺ ہم اس کھجور میں سے ایک صاع دو صاع کے بدلے میں یا دو صاع تین صاع کے بدلے میں خرید کیا کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا ایسا نہ کرے پہلے بری کھجور کو روپوں کے بدلے میں بیچ کر پھر عمدہ کھجور روپے دے کر خرید لے۔

Yahya related to me from Malik from Abdul Hamid ibn Suhayl ibn Abd ar-Rahman ibn Awf from Said ibn al-Musayyab from Abu Said al-Khudri and from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, appointed a man as an agent in Khaybar, and he brought him some excellent dates. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to him, "Are all the dates of Khaybar like this?" He said,"No. By Allah, Messenger of Allah! ﷺ We take a sa of this kind for two sa or two sa for three." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Do not do that. Sell the assorted ones for dirhams and then buy the good ones with the dirhams."

1213Mauwatta Imam Malik

جو بیع کھجوروں کی مکروہ ہے اس کا بیان

عَنْ زَيْدًا أَبَا عَيَّاشٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَأَلَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ الْبَيْضَائِ بِالسُّلْتِ فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ أَيَّتُهُمَا أَفْضَلُ قَالَ الْبَيْضَائُ فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِکَ وَقَالَ سَعْدٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ عَنْ اشْتِرَائِ التَّمْرِ بِالرُّطَبِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ فَقَالُوا نَعَمْ فَنَهَی عَنْ ذَلِکَ

زید بن ابوعیاش سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا سعد بن ابی وقاص سے کہ جو کے غور اور حجاز میں پیدا ہوتا ہے کے بدلے میں بیچ سکتے ہیں انہوں نے کہا دونوں میں کونسا اچھا ہے بولے جو تو منع کیا اس سے اور سعد نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ نے لوگوں سے پوچھا کہ خشک کھجور کو رطب بدلے میں بیچنا کیسا ہے آپ ﷺ نے فرمایا رطب جب سوکھ جاتا ہے تو وزن اس کا کم ہوجاتا ہے لوگوں نے کہا ہاں آپ ﷺ نے منع فرمایا۔

Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Yazid that Zayd ibn Ayyash told him that he had once asked Sad ibn Abi Waqqas about selling white wheat for a type of good barley. Sad asked him which was the better and when he told him the white wheat, he forbade the transaction. Sad said, "I heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, being asked about selling dried dates for fresh dates, and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, Do the dates diminish in size when they become dry? When he was told that they did, he forbade that."

1214Mauwatta Imam Malik

مزابنہ اور محاقلہ کا بیان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ کَيْلًا وَبَيْعُ الْکَرْمِ بِالزَّبِيبِ کَيْلًا

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا مزابنہ اس کو کہتے ہیں کہ درخت پر پھل کھجور یا انگور اندزہ کر کے خشک کھجور یا انگور کے بدلے میں فروخت کی جائیں۔

Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbade muzabana. Muzabana was selling fresh dates for dried dates by measure, and selling grapes for raisins by measure.

1215Mauwatta Imam Malik

مزابنہ اور محاقلہ کا بیان

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةُ اشْتِرَائُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ فِي رُئُوسِ النَّخْلِ وَالْمُحَاقَلَةُ کِرَائُ الْأَرْضِ بِالْحِنْطَةِ

ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا مزابنہ اور محاقلہ سے مزابنہ کے معنی اوپر بیان ہوئے اور محاقلہ اس کو کہتے ہیں کہ گہیوں کا کھیت بدلے میں خشک گہیوں کے بیچے۔

Yahya related to me from Malik from Daud ibn al-Husayn from Abu Sufyan (RA) , the mawla of Ibn Abi Ahmad, from Abu Said al-Khudri that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbade muzabana and muhaqala. Muzabana was selling fresh dates for dried dates while they were still on the trees. Muhaqala was renting land in exchange for wheat.

1216Mauwatta Imam Malik

مزابنہ اور محاقلہ کا بیان

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةُ اشْتِرَائُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ وَالْمُحَاقَلَةُ اشْتِرَائُ الزَّرْعِ بِالْحِنْطَةِ وَاسْتِکْرَائُ الْأَرْضِ بِالْحِنْطَةِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَسَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ عَنْ اسْتِکْرَائِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَقَالَ لَا بَأْسَ بِذَلِک قَالَ مَالِك نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَتَفْسِيرُ الْمُزَابَنَةِ أَنَّ كُلَّ شَيْءٍ مِنْ الْجِزَافِ الَّذِي لَا يُعْلَمُ كَيْلُهُ وَلَا وَزْنُهُ وَلَا عَدَدُهُ ابْتِيعَ بِشَيْءٍ مُسَمًّى مِنْ الْكَيْلِ أَوْ الْوَزْنِ أَوْ الْعَدَدِ وَذَلِكَ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ يَكُونُ لَهُ الطَّعَامُ الْمُصَبَّرُ الَّذِي لَا يُعْلَمُ كَيْلُهُ مِنْ الْحِنْطَةِ أَوْ التَّمْرِ أَوْ مَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِنْ الْأَطْعِمَةِ أَوْ يَكُونُ لِلرَّجُلِ السِّلْعَةُ مِنْ الْحِنْطَةِ أَوْ النَّوَى أَوْ الْقَضْبِ أَوْ الْعُصْفُرِ أَوْ الْكُرْسُفِ أَوْ الْكَتَّانِ أَوْ الْقَزِّ أَوْ مَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِنْ السِّلَعِ لَا يُعْلَمُ كَيْلُ شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ وَلَا وَزْنُهُ وَلَا عَدَدُهُ فَيَقُولُ الرَّجُلُ لِرَبِّ تِلْكَ السِّلْعَةِ كِلْ سِلْعَتَكَ هَذِهِ أَوْ مُرْ مَنْ يَكِيلُهَا أَوْ زِنْ مِنْ ذَلِكَ مَا يُوزَنُ أَوْ عُدَّ مِنْ ذَلِكَ مَا كَانَ يُعَدُّ فَمَا نَقَصَ عَنْ كَيْلِ كَذَا وَكَذَا صَاعًا لِتَسْمِيَةٍ يُسَمِّيهَا أَوْ وَزْنِ كَذَا وَكَذَا رِطْلًا أَوْ عَدَدِ كَذَا وَكَذَا فَمَا نَقَصَ مِنْ ذَلِكَ فَعَلَيَّ غُرْمُهُ لَكَ حَتَّى أُوفِيَكَ تِلْكَ التَّسْمِيَةَ فَمَا زَادَ عَلَى تِلْكَ التَّسْمِيَةِ فَهُوَ لِي أَضْمَنُ مَا نَقَصَ مِنْ ذَلِكَ عَلَى أَنْ يَكُونَ لِي مَا زَادَ فَلَيْسَ ذَلِكَ بَيْعًا وَلَكِنَّهُ الْمُخَاطَرَةُ وَالْغَرَرُ وَالْقِمَارُ يَدْخُلُ هَذَا لِأَنَّهُ لَمْ يَشْتَرِ مِنْهُ شَيْئًا بِشَيْءٍ أَخْرَجَهُ وَلَكِنَّهُ ضَمِنَ لَهُ مَا سُمِّيَ مِنْ ذَلِكَ الْكَيْلِ أَوْ الْوَزْنِ أَوْ الْعَدَدِ عَلَى أَنْ يَكُونَ لَهُ مَا زَادَ عَلَى ذَلِكَ فَإِنْ نَقَصَتْ تِلْكَ السِّلْعَةُ عَنْ تِلْكَ التَّسْمِيَةِ أَخَذَ مِنْ مَالِ صَاحِبِهِ مَا نَقَصَ بِغَيْرِ ثَمَنٍ وَلَا هِبَةٍ طَيِّبَةٍ بِهَا نَفْسُهُ فَهَذَا يُشْبِهُ الْقِمَارَ وَمَا كَانَ مِثْلُ هَذَا مِنْ الْأَشْيَاءِ فَذَلِكَ يَدْخُلُهُ قَالَ مَالِك وَمِنْ ذَلِكَ أَيْضًا أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ لَهُ الثَّوْبُ أَضْمَنُ لَكَ مِنْ ثَوْبِكَ هَذَا كَذَا وَكَذَا ظِهَارَةَ قَلَنْسُوَةٍ قَدْرُ كُلِّ ظِهَارَةٍ كَذَا وَكَذَا لِشَيْءٍ يُسَمِّيهِ فَمَا نَقَصَ مِنْ ذَلِكَ فَعَلَيَّ غُرْمُهُ حَتَّى أُوفِيَكَ وَمَا زَادَ فَلِي أَوْ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ أَضْمَنُ لَكَ مِنْ ثِيَابِكَ هَذِي كَذَا وَكَذَا قَمِيصًا ذَرْعُ كُلِّ قَمِيصٍ كَذَا وَكَذَا فَمَا نَقَصَ مِنْ ذَلِكَ فَعَلَيَّ غُرْمُهُ وَمَا زَادَ عَلَى ذَلِكَ فَلِي أَوْ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ لَهُ الْجُلُودُ مِنْ جُلُودِ الْبَقَرِ أَوْ الْإِبِلِ أُقَطِّعُ جُلُودَكَ هَذِهِ نِعَالًا عَلَى إِمَامٍ يُرِيهِ إِيَّاهُ فَمَا نَقَصَ مِنْ مِائَةِ زَوْجٍ فَعَلَيَّ غُرْمُهُ وَمَا زَادَ فَهُوَ لِي بِمَا ضَمِنْتُ لَكَ وَمِمَّا يُشْبِهُ ذَلِكَ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ عِنْدَهُ حَبُّ الْبَانِ اعْصُرْ حَبَّكَ هَذَا فَمَا نَقَصَ مِنْ كَذَا وَكَذَا رِطْلًا فَعَلَيَّ أَنْ أُعْطِيَكَهُ وَمَا زَادَ فَهُوَ لِي فَهَذَا كُلُّهُ وَمَا أَشْبَهَهُ مِنْ الْأَشْيَاءِ أَوْ ضَارَعَهُ مِنْ الْمُزَابَنَةِ الَّتِي لَا تَصْلُحُ وَلَا تَجُوزُ وَكَذَلِكَ أَيْضًا إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ لَهُ الْخَبَطُ أَوْ النَّوَى أَوْ الْكُرْسُفُ أَوْ الْكَتَّانُ أَوْ الْقَضْبُ أَوْ الْعُصْفُرُ أَبْتَاعُ مِنْكَ هَذَا الْخَبَطَ بِكَذَا وَكَذَا صَاعًا مِنْ خَبَطٍ يُخْبَطُ مِثْلَ خَبَطِهِ أَوْ هَذَا النَّوَى بِكَذَا وَكَذَا صَاعًا مِنْ نَوًى مِثْلِهِ وَفِي الْعُصْفُرِ وَالْكُرْسُفِ وَالْكَتَّانِ وَالْقَضْبِ مِثْلَ ذَلِكَ فَهَذَا كُلُّهُ يَرْجِعُ إِلَى مَا وَصَفْنَا مِنْ الْمُزَابَنَةِ

سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا مزابنہ اور محاقلہ سے دونوں کے معنی اوپر گزرے۔ ابن شہاب نے کہا میں نے سعید بن مسیب سے پوچھا کہ زمین کو کرایہ پر دینا سونے اور چاندی کے عوض میں درست ہے بولے ہاں درست ہے کچھ قباحت نہیں ہے۔ کہا مالک نے جو چیز ڈھیر لگا کر بیچی جائے اور اس کا وزن اور کیل معلوم نہ ہو تولی اور ناپی ہوئی چیز کے بدلے میں وہ مزابنہ میں داخل ہے (بشرطیکہ ایک جنس ہو) اگر ایک شخص دوسرے سے کہے کہ یہ جو تیرا ڈھیر پڑا ہے گیہوں یا کھجور یا چارہ یا گٹھلیوں یا گھاس یا کسم یا روئی یا ریشم کا اس کو ناپ تول یا شمار اگر قدر سے نکلے تو میں تجھ کو مجرا دوں گا اور جو زیادہ نکلے تو میں لے لوں گا اس قسم کی بیع درست نہیں ہے بلکہ یہ جوئے کے مشابہ ہے۔ کہا مالک نے اسی طرح اگر کوئی شخص دوسرے سے کہے کہ یہ کپڑا اتنی ٹوپیوں کو کافی ہے اگر پڑے تو میں دوں گا اور جو بڑھے میں لے لوں گا یا اس کپڑے میں اتنے کرتے بنیں گے اگر کم پڑے میں دے دوں گا اور جو زیادہ ہو لے لوں گا یا اس قدر کھا لوں میں اتنی جوتیاں بنیں گی اگر کم پڑے میں دوں گا زیادہ ہو تو لے لوں گا یا اس قدر دانوں میں اتنا تیل نکلے گا اگر کم نکلے تو میں دوں گا زیادہ نکلے تو میرا ہے یہ سب مزابنہ میں داخل ہے جائز نہیں یا یوں کہے کہ تیرے اس ڈھیر کے بدلے میں پتوں یا گٹھلیوں یا روئی یا تر کاری یا کسم کے اس قدر پتے گٹھلیاں یا روئی یا ترکاری یا کسم تول ناپ کردیتا ہوں ہر ایک کو اس کی جنس کے ساتھ بیچے تو بھی نادرست ہے۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Said ibn al-Musayyab that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbade muzabana and muhaqala. Muzabana was selling fresh dates for dried dates. Muhaqala was buying unharvested wheat in exchange for threshed wheat and renting land in exchange for wheat.

1217Mauwatta Imam Malik

پھلوں اور میووں کی بیع کے مختلف مسائل کا بیان

بَاب جَامِعِ بَيْعِ الثَّمَرِ قَالَ مَالِك مَنْ اشْتَرَى ثَمَرًا مِنْ نَخْلٍ مُسَمَّاةٍ أَوْ حَائِطٍ مُسَمًّى أَوْ لَبَنًا مِنْ غَنَمٍ مُسَمَّاةٍ إِنَّهُ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ إِذَا كَانَ يُؤْخَذُ عَاجِلًا يَشْرَعُ الْمُشْتَرِي فِي أَخْذِهِ عِنْدَ دَفْعِهِ الثَّمَنَ وَإِنَّمَا مَثَلُ ذَلِكَ بِمَنْزِلَةِ رَاوِيَةِ زَيْتٍ يَبْتَاعُ مِنْهَا رَجُلٌ بِدِينَارٍ أَوْ دِينَارَيْنِ وَيُعْطِيهِ ذَهَبَهُ وَيَشْتَرِطُ عَلَيْهِ أَنْ يَكِيلَ لَهُ مِنْهَا فَهَذَا لَا بَأْسَ بِهِ فَإِنْ انْشَقَّتْ الرَّاوِيَةُ فَذَهَبَ زَيْتُهَا فَلَيْسَ لِلْمُبْتَاعِ إِلَّا ذَهَبُهُ وَلَا يَكُونُ بَيْنَهُمَا بَيْعٌ وَأَمَّا كُلُّ شَيْءٍ كَانَ حَاضِرًا يُشْتَرَى عَلَى وَجْهِهِ مِثْلُ اللَّبَنِ إِذَا حُلِبَ وَالرُّطَبِ يُسْتَجْنَى فَيَأْخُذُ الْمُبْتَاعُ يَوْمًا بِيَوْمٍ فَلَا بَأْسَ بِهِ فَإِنْ فَنِيَ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوْفِيَ الْمُشْتَرِي مَا اشْتَرَى رَدَّ عَلَيْهِ الْبَائِعُ مِنْ ذَهَبِهِ بِحِسَابِ مَا بَقِيَ لَهُ أَوْ يَأْخُذُ مِنْهُ الْمُشْتَرِي سِلْعَةً بِمَا بَقِيَ لَهُ يَتَرَاضَيَانِ عَلَيْهَا وَلَا يُفَارِقُهُ حَتَّى يَأْخُذَهَا فَإِنْ فَارَقَهُ فَإِنَّ ذَلِكَ مَكْرُوهٌ لِأَنَّهُ يَدْخُلُهُ الدَّيْنُ بِالدَّيْنِ وَقَدْ نُهِيَ عَنْ الْكَالِئِ بِالْكَالِئِ فَإِنْ وَقَعَ فِي بَيْعِهِمَا أَجَلٌ فَإِنَّهُ مَكْرُوهٌ وَلَا يَحِلُّ فِيهِ تَأْخِيرٌ وَلَا نَظِرَةٌ وَلَا يَصْلُحُ إِلَّا بِصِفَةٍ مَعْلُومَةٍ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى فَيَضْمَنُ ذَلِكَ الْبَائِعُ لِلْمُبْتَاعِ وَلَا يُسَمَّى ذَلِكَ فِي حَائِطٍ بِعَيْنِهِ وَلَا فِي غَنَمٍ بِأَعْيَانِهَا و سُئِلَ مَالِك عَنْ الرَّجُلِ يَشْتَرِي مِنْ الرَّجُلِ الْحَائِطَ فِيهِ أَلْوَانٌ مِنْ النَّخْلِ مِنْ الْعَجْوَةِ وَالْكَبِيسِ وَالْعَذْقِ وَغَيْرِ ذَلِكَ مِنْ أَلْوَانِ التَّمْرِ فَيَسْتَثْنِي مِنْهَا ثَمَرَ النَّخْلَةِ أَوْ النَّخَلَاتِ يَخْتَارُهَا مِنْ نَخْلِهِ فَقَالَ مَالِك ذَلِكَ لَا يَصْلُحُ لِأَنَّهُ إِذَا صَنَعَ ذَلِكَ تَرَكَ ثَمَرَ النَّخْلَةِ مِنْ الْعَجْوَةِ وَمَكِيلَةُ ثَمَرِهَا خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا وَأَخَذَ مَكَانَهَا ثَمَرَ نَخْلَةٍ مِنْ الْكَبِيسِ وَمَكِيلَةُ ثَمَرِهَا عَشَرَةُ أَصْوُعٍ أَوْ أَخَذَ الْعَجْوَةَ الَّتِي فِيهَا خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا وَتَرَكَ الَّتِي فِيهَا عَشْرَةُ أَصْوُعٍ مِنْ الْكَبِيسِ فَكَأَنَّهُ اشْتَرَى الْعَجْوَةَ بِالْكَبِيسِ مُتَفَاضِلًا وَذَلِكَ مِثْلُ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ بَيْنَ يَدَيْهِ صُبَرٌ مِنْ التَّمْرِ قَدْ صَبَّرَ الْعَجْوَةَ فَجَعَلَهَا خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا وَجَعَلَ صُبْرَةَ الْكَبِيسِ عَشَرَةَ آصُعٍ وَجَعَلَ صُبْرَةَ الْعَذْقِ اثْنَيْ عَشَرَ صَاعًا فَأَعْطَى صَاحِبَ التَّمْرِ دِينَارًا عَلَى أَنَّهُ يَخْتَارُ فَيَأْخُذُ أَيَّ تِلْكَ الصُّبَرِ شَاءَ قَالَ مَالِك فَهَذَا لَا يَصْلُحُ و سُئِلَ مَالِك عَنْ الرَّجُلِ يَشْتَرِي الرُّطَبَ مِنْ صَاحِبِ الْحَائِطِ فَيُسْلِفُهُ الدِّينَارَ مَاذَا لَهُ إِذَا ذَهَبَ رُطَبُ ذَلِكَ الْحَائِطِ قَالَ مَالِك يُحَاسِبُ صَاحِبَ الْحَائِطِ ثُمَّ يَأْخُذُ مَا بَقِيَ لَهُ مِنْ دِينَارِهِ إِنْ كَانَ أَخَذَ بِثُلُثَيْ دِينَارٍ رُطَبًا أَخَذَ ثُلُثَ الدِّينَارِ الَّذِي بَقِيَ لَهُ وَإِنْ كَانَ أَخَذَ ثَلَاثَةَ أَرْبَاعِ دِينَارِهِ رُطَبًا أَخَذَ الرُّبُعَ الَّذِي بَقِيَ لَهُ أَوْ يَتَرَاضَيَانِ بَيْنَهُمَا فَيَأْخُذُ بِمَا بَقِيَ لَهُ مِنْ دِينَارِهِ عِنْدَ صَاحِبِ الْحَائِطِ مَا بَدَا لَهُ إِنْ أَحَبَّ أَنْ يَأْخُذَ تَمْرًا أَوْ سِلْعَةً سِوَى التَّمْرِ أَخَذَهَا بِمَا فَضَلَ لَهُ فَإِنْ أَخَذَ تَمْرًا أَوْ سِلْعَةً أُخْرَى فَلَا يُفَارِقْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَ ذَلِكَ مِنْهُ قَالَ مَالِك وَإِنَّمَا هَذَا بِمَنْزِلَةِ أَنْ يُكْرِيَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ رَاحِلَةً بِعَيْنِهَا أَوْ يُؤَاجِرَ غُلَامَهُ الْخَيَّاطَ أَوْ النَّجَّارَ أَوْ الْعَمَّالَ لِغَيْرِ ذَلِكَ مِنْ الْأَعْمَالِ أَوْ يُكْرِيَ مَسْكَنَهُ وَيَسْتَلِفَ إِجَارَةَ ذَلِكَ الْغُلَامِ أَوْ كِرَاءَ ذَلِكَ الْمَسْكَنِ أَوْ تِلْكَ الرَّاحِلَةِ ثُمَّ يَحْدُثُ فِي ذَلِكَ حَدَثٌ بِمَوْتٍ أَوْ غَيْرِ ذَلِكَ فَيَرُدُّ رَبُّ الرَّاحِلَةِ أَوْ الْعَبْدِ أَوْ الْمَسْكَنِ إِلَى الَّذِي سَلَّفَهُ مَا بَقِيَ مِنْ كِرَاءِ الرَّاحِلَةِ أَوْ إِجَارَةِ الْعَبْدِ أَوْ كِرَاءِ الْمَسْكَنِ يُحَاسِبُ صَاحِبَهُ بِمَا اسْتَوْفَى مِنْ ذَلِكَ إِنْ كَانَ اسْتَوْفَى نِصْفَ حَقِّهِ رَدَّ عَلَيْهِ النِّصْفَ الْبَاقِيَ الَّذِي لَهُ عِنْدَهُ وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ أَوْ أَكْثَرَ فَبِحِسَابِ ذَلِكَ يَرُدُّ إِلَيْهِ مَا بَقِيَ لَهُ قَالَ مَالِك وَلَا يَصْلُحُ التَّسْلِيفُ فِي شَيْءٍ مِنْ هَذَا يُسَلَّفُ فِيهِ بِعَيْنِهِ إِلَّا أَنْ يَقْبِضَ الْمُسَلِّفُ مَا سَلَّفَ فِيهِ عِنْدَ دَفْعِهِ الذَّهَبَ إِلَى صَاحِبِهِ يَقْبِضُ الْعَبْدَ أَوْ الرَّاحِلَةَ أَوْ الْمَسْكَنَ أَوْ يَبْدَأُ فِيمَا اشْتَرَى مِنْ الرُّطَبِ فَيَأْخُذُ مِنْهُ عِنْدَ دَفْعِهِ الذَّهَبَ إِلَى صَاحِبِهِ لَا يَصْلُحُ أَنْ يَكُونَ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ تَأْخِيرٌ وَلَا أَجَلٌ قَالَ مَالِك وَتَفْسِيرُ مَا كُرِهَ مِنْ ذَلِكَ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ أُسَلِّفُكَ فِي رَاحِلَتِكَ فُلَانَةَ أَرْكَبُهَا فِي الْحَجِّ وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْحَجِّ أَجَلٌ مِنْ الزَّمَانِ أَوْ يَقُولَ مِثْلَ ذَلِكَ فِي الْعَبْدِ أَوْ الْمَسْكَنِ فَإِنَّهُ إِذَا صَنَعَ ذَلِكَ كَانَ إِنَّمَا يُسَلِّفُهُ ذَهَبًا عَلَى أَنَّهُ إِنْ وَجَدَ تِلْكَ الرَّاحِلَةَ صَحِيحَةً لِذَلِكَ الْأَجَلِ الَّذِي سَمَّى لَهُ فَهِيَ لَهُ بِذَلِكَ الْكِرَاءِ وَإِنْ حَدَثَ بِهَا حَدَثٌ مِنْ مَوْتٍ أَوْ غَيْرِهِ رَدَّ عَلَيْهِ ذَهَبَهُ وَكَانَتْ عَلَيْهِ عَلَى وَجْهِ السَّلَفِ عِنْدَهُ قَالَ مَالِك وَإِنَّمَا فَرَقَ بَيْنَ ذَلِكَ الْقَبْضُ مَنْ قَبَضَ مَا اسْتَأْجَرَ أَوْ اسْتَكْرَى فَقَدْ خَرَجَ مِنْ الْغَرَرِ وَالسَّلَفِ الَّذِي يُكْرَهُ وَأَخَذَ أَمْرًا مَعْلُومًا وَإِنَّمَا مَثَلُ ذَلِكَ أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ الْعَبْدَ أَوْ الْوَلِيدَةَ فَيَقْبِضَهُمَا وَيَنْقُدَ أَثْمَانَهُمَا فَإِنْ حَدَثَ بِهِمَا حَدَثٌ مِنْ عُهْدَةِ السَّنَةِ أَخَذَ ذَهَبَهُ مِنْ صَاحِبِهِ الَّذِي ابْتَاعَ مِنْهُ فَهَذَا لَا بَأْسَ بِهِ وَبِهَذَا مَضَتْ السُّنَّةُ فِي بَيْعِ الرَّقِيقِ قَالَ مَالِك وَمَنْ اسْتَأْجَرَ عَبْدًا بِعَيْنِهِ أَوْ تَكَارَى رَاحِلَةً بِعَيْنِهَا إِلَى أَجَلٍ يَقْبِضُ الْعَبْدَ أَوْ الرَّاحِلَةَ إِلَى ذَلِكَ الْأَجَلِ فَقَدْ عَمِلَ بِمَا لَا يَصْلُحُ لَا هُوَ قَبَضَ مَا اسْتَكْرَى أَوْ اسْتَأْجَرَ وَلَا هُوَ سَلَّفَ فِي دَيْنٍ يَكُونُ ضَامِنًا عَلَى صَاحِبِهِ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ

کہا مالک نے جو شخص کسی معین درختوں کے پھلوں کو خریدے یا ایک باغ کے میووں کو خریدے یا معین بکریوں کے دودھ کو خریدے تو کچھ قباحت نہیں ہے بشرطیکہ خریدار قیمت ادا کرتے ہی اپنا مال وصول کرنا شروع کر دے اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی روپیہ دے کر ایک کپہ میں سے کسی قدر گھی مول لے اس میں کچھ قباحت نہیں ہے اگر کپہ قبل گھی لینے کے پھٹ جائے اور گھی بہہ جائے تو خریدار اپنے روپے پھیر لے گا۔ کہا مالک نے مثال اس کی یہ ہے کہ ایک شخص تین ڈھیر کھجور کے لگائے ایک عجوہ کا جو پندرہ صاع ہے اور ایک بیس کا جو دس صاع ہے اور ایک عذق کا جو بارہ صاع ہے پھر مشتری (خریدنے والا) نے کھجور والے دینار دے یا اس شرط سے کہ ان تینوں ڈھیروں میں سے جو میں چاہوں لے لوں گا تو یہ جائز نہیں۔ کہا مالک نے اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص اپنے اونٹ یا غلام کو جو درزی یا بڑھئی یا اور کوئی کام کرتا ہو کرایہ کو دے یا مکان کرایہ پردے اور زر کرایہ پیشگی لے لے بعد اس کے اونٹ یا غلام مرجائے اور گھر گرجائے تو اونٹ والا اسی طرح غلام یا مکان والا حساب کر کے جس قدر اجرت اس کے ذمہ پر باقی رہ گئی ہو واپس کر دے گا فرض کیجئیے کہ اگر مستاجر نے اپنا نصف حق وصول کیا تھا تو نصف اجرت اس کو واپس ملے گی۔ کہا مالک نے ان سب صورتوں میں سلف کرنا یعنی اجرت پیشگی دے دینا جب ہی درست ہے کہ اجرت دیتے ہی غلام یا اونٹ یا گھر پر قبضہ کرلے یا رطب توڑنا شروع کر دے یہ نہیں کہ اس میں دیر کرے یا کوئی میعاد ٹھہرائے۔ کہا مالک نے یہ سلف مکروہ ہے کہ کوئی شخص اونٹ کا کرایہ دے دے اونٹ والے سے یہ کہے کہ حج کے دنوں میں تیرے اونٹ پر سوار ہوں گا اور ابھی حج میں ایک عرصہ باقی ہو یا ایسا ہی غلام اور گھر میں کہے تو یہ صورت گویا اس طرح پر ہوئی کہ اگر وہ اونٹ یا غلام یا گھر اس وقت تک باقی رہے تو اسی کرایہ سے اس سے منفعت اٹھا لے اور اگر وہ اونٹ یا غلام یا لونڈی واپس کی جائے تو اپنے کرایہ کے پیسے پھیر لے۔ کہا مالک نے اگر وہ شخص کرایہ دیتے ہی اونٹ یا غلام یا گھر پر قبضہ کرلیتا تو کراہت جاتی رہتی اس کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص غلام یا لونڈی خرید کر اپنے قبضے میں لائے اور قیمت ان کی ادا کرے بعد اس کے کسی عیب کی وجہ سے وہ غلام یا لونڈی واپس کی جائے تو مشتری (خریدنے والا) اپنا زر ثمن بائع (بچنے والا) سے پھیر لے اور اس میں کچھ قباحت نہیں ہے۔ کہا مالک نے جو شخص کسی معین غلام یا اونٹ کو کرایہ پر لے اور قبضے کی ایک میعاد مقرر کر دے یعنی یہ کہہ دے کہ فلاں تاریخ سے میں اونٹ یا غلام کو اپنے قبضے و تصرت میں لوں گا تو یہ جائز نہیں کیونکہ نہ مستاجر نے قبضہ کیا اس اونٹ یا غلام پر نہ موجر نے ایسے دین میں سلف کی جس کا دینا مستاجر پر واجب ہے۔

Malik said, "There is no harm in buying dates from specified trees or a specified orchard or buying milk from specified sheep when the buyer starts to take them as soon as he has payed the price. That is like buying oil from a container. A man buys some of it for a dinar or two and gives his gold and stipulates that it be measured out for him. There is no harm in that. If the container breaks and the oil is wasted, the buyer has his gold back and there is no transaction between them."

1218Mauwatta Imam Malik

میووں کی بیع کا بیان

بَاب بَيْعِ الْفَاكِهَةِ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ مَنْ ابْتَاعَ شَيْئًا مِنْ الْفَاكِهَةِ مِنْ رَطْبِهَا أَوْ يَابِسِهَا فَإِنَّهُ لَا يَبِيعُهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ وَلَا يُبَاعُ شَيْءٌ مِنْهَا بَعْضُهُ بِبَعْضٍ إِلَّا يَدًا بِيَدٍ وَمَا كَانَ مِنْهَا مِمَّا يَيْبَسُ فَيَصِيرُ فَاكِهَةً يَابِسَةً تُدَّخَرُ وَتُؤْكَلُ فَلَا يُبَاعُ بَعْضُهُ بِبَعْضٍ إِلَّا يَدًا بِيَدٍ وَمِثْلًا بِمِثْلٍ إِذَا كَانَ مِنْ صِنْفٍ وَاحِدٍ فَإِنْ كَانَ مِنْ صِنْفَيْنِ مُخْتَلِفَيْنِ فَلَا بَأْسَ بِأَنْ يُبَاعَ مِنْهُ اثْنَانِ بِوَاحِدٍ يَدًا بِيَدٍ وَلَا يَصْلُحُ إِلَى أَجَلٍ وَمَا كَانَ مِنْهَا مِمَّا لَا يَيْبَسُ وَلَا يُدَّخَرُ وَإِنَّمَا يُؤْكَلُ رَطْبًا كَهَيْئَةِ الْبِطِّيخِ وَالْقِثَّاءِ وَالْخِرْبِزِ وَالْجَزَرِ وَالْأُتْرُجِّ وَالْمَوْزِ وَالرُّمَّانِ وَمَا كَانَ مِثْلَهُ وَإِنْ يَبِسَ لَمْ يَكُنْ فَاكِهَةً بَعْدَ ذَلِكَ وَلَيْسَ هُوَ مِمَّا يُدَّخَرُ وَيَكُونُ فَاكِهَةً قَالَ فَأَرَاهُ حَقِيقًا أَنْ يُؤْخَذَ مِنْهُ مِنْ صِنْفٍ وَاحِدٍ اثْنَانِ بِوَاحِدٍ يَدًا بِيَدٍ فَإِذَا لَمْ يَدْخُلْ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ الْأَجَلِ فَإِنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ

کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے جو شخص کوئی میوہ تر یا خشک خریدے اس کو نہ بیچے یہاں تک کہ اس پر قبضہ کرلے اور میوے کو میوے سے بدلیں اگر بیچے تو اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے اور جو میوہ لیا ایسا ہے کہ سوکھا کر کھایا جاتا ہے اور رکھا جاتا ہے اس کو اگر میوے کے بدلے میں بیچے اور ایک جنس ہو تو اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے اور برابر بیچے کمی بیشی اس میں درست نہیں البتہ اگر جنس مختلف ہو تو کمی بیشی درست ہے مگر نقدا نقد بیچنا چاہیے اس میں میعاد لگانا درست نہیں اور جو میوہ سوکھایا نہیں جاتا بلکہ تر کھایا جاتا ہے۔ جیسے خربوزہ ککڑی، ترنج، کیلا، گا جر، انار وغیرہ اس کو ایک دوسرے کے بدلے میں اگرچہ جنس ایک ہو کمی بیشی کے ساتھ بھی درست ہے جب اس میں میعاد نہ ہو نقدا نقد ہو۔

Malik said, "The generally agreed on way of doing things among us is that some one who buys some fruit, fresh or dry, should not resell it until he gets full possession of it. He should not barter things of the same type, except hand to hand. Whatever can be made into dry fruit to be stored and eaten, should not be bartered for its own kind, except hand to hand, like for like, when it is the same kind of fruit. In the case of two different kinds of fruit, there is no harm in bartering two of one kind for one of another, hand to hand on the spot. It is not good to set delayed terms. As for produce which is not dried and stored but is eaten fresh like water melon, cucumber, melon, carrots, citron, medlars, pomegranates, and soon, which when dried no longer counts as fruit, and is not a thing which is stored up as is fruit, I think that it is quite proper to barter such things two for one of the same variety hand to hand. If no term enters into it, there is no harm in it."

1219Mauwatta Imam Malik

سونے اور چاندی کی بیع کا بیان مسکوک ہو یا غیر مسکوک۔

عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّعْدَيْنِ أَنْ يَبِيعَا آنِيَةً مِنْ الْمَغَانِمِ مِنْ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ فَبَاعَا کُلَّ ثَلَاثَةٍ بِأَرْبَعَةٍ عَيْنًا أَوْ کُلَّ أَرْبَعَةٍ بِثَلَاثَةٍ عَيْنًا فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَيْتُمَا فَرُدَّا

یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ حکم کیا رسول اللہ ﷺ نے دونوں سعد کو کہ جتنے برتن سونے اور چاندی کے مال غنیمت میں آئے ہیں

Yahya related to me from Malik that Yahya ibn Said said, "The Messenger of Allah, mayAllah bless him and grant him peace, ordered the two Sads to sell a vessel made of either gold or silver from the booty. They either sold each three units of weight for four units of weight of coins or each four units of weight for three units of weight or coins. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to them, You have taken usury, so return it. "

1220Mauwatta Imam Malik

سونے اور چاندی کی بیع کا بیان مسکوک ہو یا غیر مسکوک۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا

ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دینار کو ایک دینار کے بدلے میں بیچو اور ایک درہم کو ایک درہم کے بدلے میں نہ زیادہ کے بدلے میں۔

Yahya related to me from Malik from Musa ibn Abi Tamim from Abul Hubab Said ibn Yasar from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "A dinar for a dinar, a dirham for a dirham, no excess between the two."