کلمات ذِکر اور ان کی فضیلت و برکت
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ النَّبِىِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ وَبَيْنَ يَدَيْهَا نَوَاةٌ، أَوْ قَالَ: حَصَاةٌ تُسَبِّحُ بِهَا، فَقَالَ: أَلاَ أُخْبِرُكِ بِمَا هُوَ أَيْسَرُ عَلَيْكِ مِنْ هَذَا أَوْ أَفْضَلُ؟ سُبْحَانَ اللهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي السَّمَاءِ، وَسُبْحَانَ اللهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي الأَرْضِ، وَسُبْحَانَ اللهِ عَدَدَ مَا بَيْنَ ذَلِكَ، وَسُبْحَانَ اللهِ عَدَدَ مَا هُوَ خَالِقٌ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ مِثْلَ ذَلِكَ، وَالحَمْدُ لِلَّهِ مِثْلَ ذَلِكَ، وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ مِثْلَ ذَلِكَ. (رواه الترمذى وابوداؤد)
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پہنچے ایک بیوی کے پاس اور ان کے آگے کھجور کی گٹھلیاں تھیں، (یا سنگریزے تھے) وہ ان گٹھلیوں (یا سنگریزوں) پر تسبیح پڑھ رہی تھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: “میں تم کو نہ نہ بتا دوں جو تمہارے لئے اس سے زیادہ آسان ہے۔ (یا فرمایا کہ اس سے افضل ہے) وہ یہ ہے کہ تم اس طرح کہو:
سُبْحَانَ اللهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي السَّمَاءِ، وَسُبْحَانَ اللهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي الأَرْضِ، وَسُبْحَانَ اللهِ عَدَدَ مَا بَيْنَ ذَلِكَ، وَسُبْحَانَ اللهِ عَدَدَ مَا هُوَ خَالِقٌ.
سبحان اللہ ساری مخلوق کی تعداد کے مطابق۔ سبحان اللہ ساری زمینی مخلوق کی تعداد کے مطابق۔ سبحان اللہ زمین و آسمان کے درمیان کی ساری مخلوقات کی تعداد کے مطابق۔ جس کو وہ ابد الآباد تک پیدا فرمانے والا ہے۔
اور (اللهُ أَكْبَرُ) اسی طرح، اور (الْحَمْدُ لِلَّهِ) اسی طرح اور (لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ) اسی طرح اور (لا حول ولا قوة الا بالله) اسی طرح۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد)
تشریح
ان دونوں حدیثوں سے معلو ہوا کہ زیادہ ثواب حاصل کرنے کا ایک طریقہ جس طرح کثرتِ ذکر ہے اسی طرح ایک آسان تر طریقہ یہ بھی ہے کہ اس کے ساتھ ایسے الفاظ شامل کر دئیے جائیں جو کثرتِ تعداد پر دلالت کرنے والے ہوں۔ جیسا کہ مندرجہ بالا دونوں حدیثوں میں حضور ﷺ نے بتلایا ہے۔
یہاں یہ بات ملحوظ رکھنے کی ہے کہ خود رسول اللہ ﷺ نے بعض حدیثوں میں کثرتِ ذکر کی ترغیب دی ہے۔ اور قریب ہی وہ حدیث گزر چکی ہے جس میں آپ ﷺ نے روزینہ سو دفعہ “سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ” کہنے والے کو گناہوں کے معاف کئے جانے کی خوشخبری سنائی ہے۔ اس لئے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کی روایت کردہ اس حدیث، اور اس سے پہلے والی حضرت جویریہؓ کی حدیث سے کثرتِ ذکر کی نفی یا باپسندیدگی سمجھنا ہرگز صحیح نہ ہو گا۔ ان دونوں حدیثوں کا منشاء اور مدعا دراصل یہ ہے کہ زیادہ ثواب حاصل کرنے کا ایک زیادہ آسان طریقہ یہ بھی ہے اور خاص کر وہ لوگ جو اپنے مخصوص حالات کی وجہ سے ذِکر اللہ کے لئے زیادہ وقت فارغ نہ کر سکیں، وہ اس طرح سے بھی بڑا ثواب حاصل کر سکتے ہیں۔
حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس سلسلہ میں فرمایا ہے کہ: “جس شخص کا مقصد اپنے باطن اور اپنی زندگی کو ذکر کے رنگ میں رنگنا ہو اس کو کثرت ذکر کا طریقہ اختیار کرنا ناگزیر ہے، اور جس کا مقصد ذکر سے صرف ثوابِ اُخروی حاصل کرنا ہو اس کو ایسے کلمات ذکر کا انتخاب کرنا چاہئے جو معنوی لحاظ سے زیادہ فائق اور سیع تر ہوں جیسے کہ ان دونوں حدیثوں میں مذکور ہیں۔
حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کی اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عہدِ نبویﷺ میں تسبیح کا رواج تو نہیں تھا لیکن بعض حضرات اس مقصد کے لئے گٹھلیاں یا سنگریزے استعمال کرتے تھے، اور رسول اللہ ﷺ نے ان کو اس سے منع نہیں فرمایا۔ ظاہر ہے کہ اس میں اور تسبیح کے دانوں کے ذریعے شمار میں کوئی فرق نہیں، بلکہ تسبیح دراصل اس کی ترقی یافتہ اور سہل شکل ہے۔ جن حضرات نے تسبیح کو بدعت قرار دیا ہے بلاشبہ انہوں نے شدت اور غلو سے کام لیا ہے۔
لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کی خاص فضیلت
عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْضَلُ الذِّكْرِ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ. (رواه الترمذى وابن ماجه)
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے افضل ذکر “لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ” ہے۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد)
تشریح
حضرت سمرہ بن جندبؓ والی وہ حدیث پہلے گزر چکی ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ سب کلموں میں افضل یہ چار کلمے ہیں: سُبْحَانَ اللهِ اور الْحَمْدُ لِلَّهِ اور لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ اور اللهُ أَكْبَرُ. اور حضرت جابرؓ والی اس حدیث میں لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کو افضل ترین کلمہ فرمایا گیا ہے۔ واقعہ یہی ہے کہ دنیا بھر کے دوسرے سب کلموں اور کلاموں کے مقابلے میں تو یہ چاروں کلمے افضل ہیں، لیکن ان سب میں نسبتاً لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ افضل ہے، کیوں کہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ باقی تینوں کلموں کے مدعا کو بھی ضمنی طور پر اپنے اندر لئے ہوئے ہے۔ جب بندہ یہ کہتا ہے کہ معبود برحق صرف اللہ ہے اس کے سوا کوئی نہیں، تو اس کے ضمن میں یہ بات خود بخود آ جاتی ہے کہ وہ ہر نقص و عیب سے پاک اور منزہ ہے، اور تمام صفاتِ کمال کا وہ جامع ہے اور عظمت و کبریائی میں وہ برتر ہے، کیوں کہ جو لا شریک معبود ہو اس میں یہ سب باتیں ہونا لازمی ہیں۔ اس لئے جس نے صرف لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کہا اس نے گویا وہ سب کچھ بھی کہہ دیا جو سُبْحَانَ اللهِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ اور اللهُ أَكْبَرُ کے ذریعے کہا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں “لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ” کلمہ ایمان ہے۔ اور اسی لئے سب پیغمبروں کی تعلیم کا پہلا سبق ہے۔ نیز اپنے اپنے تجربہ کی بناء پر عرفا اور صوفیاء کا اس پر گویا اتفاق ہے کہ باطن کی تطہیر اور قلب کو ہر طرف سے موڑ کے اللہ تعالیٰ سے وابستہ کرنے مین سب سے زیادہ مؤثر اسی کلمہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کا ذکر ہوتا ہے۔ اسی لئے ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ایمانی کیفیت کو قلب میں تازہ کرنے اور ترقی دینے کے لئے اس کلمہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کی کثرت کا حکم دیا ہے۔
لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کی خاص فضیلت
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصًا مِنْ قَلْبِهِ إِلاَّ فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، حَتَّى تُفْضِيَ إِلَى العَرْشِ، مَا اجْتَنَبَ الكَبَائِرَ. (رواه الترمذى)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “جو بندہ دل کے اخلاص سے کہے لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ اس کے لئے لازماً آسمانوں کے دروازے کھل جائیں گے، یہاں تک کہ وہ کلمہ عرش الٰہی تک پہنچے گا بشرطیکہ وہ آدمی کبیرہ گناہوں سے بچتا رہے۔ (جامع ترمذی)
تشریح
اس حدیث میں کلمہ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ کی ایک خاص فضیلت و خصوصیت یہ بیان کی گئی ہے کہ اگر اخلاص سے یہ کلمہ کہا جائے اور اللہ سے دور کرنے والے بڑے گناہوں سے بچنے کا اہتمام کیا جائے تو یہ کلمہ براہِ راست عرشِ الٰہی تک پہنچتا ہے اور خاص مقبولیت سے نوازا جاتا ہے۔ اور ترمذی ہی کی ایک دوسری حدیث میں ہے:
وَلاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ لَيْسَ لَهَا حِجَابٌ مِنْ دُونِ اللهِ حَتَّى تَخْلُصَ إِلَيْهِ.
کلمہ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ کے اور اللہ کے درمیان کوئی حجاب نہیں، یہ کلمہ سیدھا اللہ کے پاس پہنچتا ہے۔
معلوم ہوا کہ ذکر اللہ کے دوسرے کلموں کے مقابلے میں اس کلمہ کی یہ ایک مخصوص فضیلت اور خصوصیت ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہؒ “حجۃ اللہ البالغہ” میں فرماتے ہیں “لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ” میں بہت سے خواص ہیں۔ پہلی خاصیت یہ ہے کہ وہ شرکِ جلی کو ختم کر دیتا ہے۔ دوسری خاصیت یہ ہے کہ وہ شرکِ خفی کو بھی ختم کرتا ہے، اور تیسری خاصیت یہ ہے کہ وہ بندے کے اور معرفتِ الہٰی کے درمیان حجابات کو سوخت کر کے حصول معرفت اور قرب کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کی خاص فضیلت
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ مُوسَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَبِّ عَلِّمْنِي شَيْئًا أَذْكُرُكَ بِهِ، أَوْ أَدْعُوكَ بِهِ. فَقَالَ: يَا مُوسَى، قُلْ: لَا إِلَهَ إِلا اللَّهُ. فَقَالَ: يَا رَبِّ، كُلُّ عِبَادِكَ يَقُولُ هَذَا، إِنَّمَا أُرِيدُ شَيْئًا تَخُصُّنِي بِهِ. قَالَ: يَا مُوسَى، لَوْ أَنَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعَ وَعَامِرَهُنَّ غَيْرِي، وَالأَرَضِينَ السَّبْعَ وُضِعْنَ فِي كِفَّةٍ، وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ فِي كِفَّةٍ، لَمَالَتْ بِهِنَّ لَا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ". (رواه البغوى فى شرح السنة)
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا کہ: “اللہ کے نبی موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حضور میں عرض کیا کہ اے میرے رب مجھ کو کوئی کلمہ تعلیم فرما جس کے ذریعے میں تیرا ذکر کروں (یا کہا کہ جس کے ذریعے میں تجھے پکاروں) تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ
کہ اے موسیٰؑ! لاالہ الا اللّٰہ کہا کرو۔ انہوں نے عرض کیا کہ اے میرے رب! یہ کلمہ تو تیرے سارے ہی بندے کہتے ہیں، میں تو وہ کلمہ چاہتا ہوں جو آپ خصوصیت سے مجھے ہی بتائیں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ: اے موسیٰؑ! اگر ساتوں آسمان اور میرے سواوہ سب کائنات جس سے آسمانوں کی آبادی ہے اور ساتوں زمینیں ایک پلڑے میں رکھی جائیں اور لاالہ الا اللّٰہ دوسرے پلڑے میں تو لاالہ الا اللّٰہ کا وزن ان سب سے زیادہ ہوگا۔ (شرح السنہ للبغوی)
تشریح
موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بندگی اور محبت کا جو خاص تعلق تھا اور اس کی بناء پر قربِ خصوصی کی جو قدرتی خواہش تھی اسی کی وجہ سے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے استدعا کی کہ مجھے ذکر کا کوئی خاص کلمہ تعلیم فرمایا جائے، اللہ تعالیٰ نے ان کو لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ بتایا جو افضل الذکر ہے۔ انہوں نے عرض کیا کہ میری استدعا کسی خاص کلمہ کے لئے ہے جس سے مجھے ہی نوازا جائے۔ الغرض کلمہ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ کا عموم اس کی قدر و قیمت اور عظمت کے بارے میں ان کے لئے حجاب بن گیا۔ اس لئے ان کو بتایا گیا کہ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ کی حقیقت زمین و آسمان کی ساری کائنات کے مقابلے میں زیادہ قیمتی اور بھاری ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت عامہ ہے کہ اس نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ یہ نعمت عظمیٰ ہر عامی کو بھی پہنچا دی ہے۔ بہرکیف انبیاء و مرسلینؑ کے لئے بھی کوئی کلمہ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ سے زیادہ قیمتی اور بابرکت نہیں ہے۔
اس بے بہا نعمتِ خداوندی کا شکر یہی ہے کہ اس کلمہ پاک کو اپنا ورد بنایا جائے اور اس کی کثرت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے خاص رابطہ قائم کیا جائے۔
کلمہ توحید کی خاص عظمت و برکت
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَالَ: لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ، كَانَتْ لَهُ عَدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ، وَكُتِبَتْ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ، وَمُحِيَتْ عَنْهُ مِائَةُ سَيِّئَةٍ، وَكَانَتْ لَهُ حِرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ يَوْمَهُ ذَلِكَ حَتَّى يُمْسِيَ، وَلَمْ يَأْتِ أَحَدٌ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ، إِلَّا أَحَدٌ عَمِلَ أَكْثَرَ مِنْهُ" (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے سو دفعہ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے، وہ اکیلا ہے، کوئی اس کا شریک ساجھی نہیں، فرمانروائی اسی کی ہے اور اس کے لئے ہر قسم کی ستائش ہے اور ہر چیز پر اس کی قدرت ہے) تو وہ دس غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب کا مستحق ہو گا اور اس کے لئے سو نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس کی سو غلط کاریاں محو کر دی جائی گی، اور یہ عمل اس کے لئے اس دن شام تک شیطان کے حملہ سے حفاظت کا ذریعہ ہو گا،ا ور کسی آدمی کا عمل اس کے عمل سے افضل نہ ہو گا سوائے اس آدمی کے جس نے اس سے بھی زیادہ عمل کیا ہو۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
بےشک کلمہ توحید جس میں کلمہ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ پر کچھ اور اضافہ ہے جس سے اس کے منفی و مثبت مضمون کی مزید تشریح اور وضاحت ہوتی ہے اتنا ہی عظیم القدر اور بابرکت ہے جتنا کہ اس حدیث شریف میں بتایا گیا ہے۔ مرنے کے بعد ان شاء اللہ یہ چیز ہم سب کے مشاہدے میں آ جائے گی۔ بعض لوگوں کو ایسی حدیثوں کے بارے میں شکوک و شبہات ہوتے ہیں جن میں کسی کلمہ کا اتنا بڑا ثواب بتایا جائے۔ حالانکہ خود انہیں اپنی زندگی میں بارہا اس کا تجربہ ہوا ہو گا کہ برائی اور فساد کا ایک کلمہ آگ لگا دیتا ہے، اور اس کے منحوس اثرات برسہا برس تک کے لئے خاندانوں اور گروہوں کی زندگیوں کو جہنم بنا دیتے ہیں۔ اسی طرح کبھی خلوص سے نکلا ہوا ایک اصلاحی کلمہ خیر و فساد کی بھڑکتی آگ کو بجھانے میں ٹھنڈے پانی کا کام کرتا ہے اور بےچینیوں اور تلخیوں کو دور کر کے زندگیوں کو باغ و بہار بنا دیتا ہے۔ انسان کی زبان سے نکلے ہوئے ایک ایک کلمہ کے جو اثرات ہماری اس دنیا میں ہوتے ہیں ان میں غور و فکر کر کے آخرت کے ان سے بڑے اور دور رس نتائج و ثمرات کا سمجھنا زیادہ مشکل نہیں رہتا۔
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ کی خاص فضیلت
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ فَقُلْتُ: بَلَى، فَقَالَ: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ»
حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ایک دن فرمایا: “میں تمہیں وہ کلمہ بتاؤں جو جنت کے خزانوں میں سے ہے؟ میں نے عرض کیا کہ: “ہاں حضرت ﷺ! ضرور بتائیں”۔ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ ہے “لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ” (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اس کلمہ کے “خزائن جنت” میں سے ہونے کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جو شخص یہ کلمہ اخلاص کے ساتھ پڑھے گا اس کے لئے اس کلمہ کے بےبہا اجر و ثواب کا خزانہ اور ذخیرہ جنت میں محفوظ کیا جائے گا جس سے وہ آخرت میں ویسا ہی فائدہ اُٹھا سکے گا جیسا کہ ضرورت کے موقعوں پر محفوظ خزانوں سے اٹھایا جاتا ہے۔ اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ حضور ﷺ کا منشا اس لفظ سے اس کلمہ کی صرف عظمت اور قدر و قیمت بتانا ہے، یعنی یہ کہ جنت کے خزانوں کے جواہرات میں سے یہ ایک جوہر ہے۔ کسی چیز کو بہت قیمتی بتانےکے لئے یہ بہترین تعبیر ہو سکتی ہے۔ واللہ اعلم۔
“لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ” کا مطلب یہ ہے کہ کہ کسی کام کے لئے سعی و حرکت اور اس کے کرنے کی قوت و طاقت بس اللہ ہی سے مل سکتی ہے، کوئی بندہ خود کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ دوسرا ایک مطلب جو اس کے قریب ہی قریب ہے یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ “گناہ سے باز آنا اور طاعت کا بجا لانا اللہ کی مدد و توفیق کے بغیر بندے سے ممکن نہیں”۔
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ کی خاص فضیلت
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثِرْ مِنْ قَوْلِ: لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ، فَإِنَّهَا مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ. (رواه الترمذى)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ: “لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ” زیادہ پڑھا کرو، کیوں کہ یہ خزائن جنت میں سے ہے۔ (جامع ترمذی)
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ کی خاص فضیلت
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، يَقُولُ اللهُ تَعَالَى: أَسْلَمَ عَبْدِي وَاسْتَسْلَمَ " (رواه البيهقى فى الدعوات الكبير)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: “میں تم کو وہ کلمہ بتاؤں جو عرش کے نیچے سے اُترا ہے اور خزانہ جنت میں سے ہے، وہ ہے “لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ” (جب بندہ دل سے یہ کلمہ پڑھتا ہے تو) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: “یہ بندہ (اپنی انانیت سے دستبردار ہو کر) میرا تابعدار اور بالکل فرمانبردار ہو گیا۔” (دعوات کبیر للبیہقی)
تشریح
اس حدیث میں کلمہ “لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ” کو “مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ” کے علاوہ “مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ” بھی فرمایا گیا ہے۔ یہ بھی دراصل اس کلمہ کی عظمت کے اظہار کا ایک عنوان ہے، اور مطلب یہ ہے کہ مجھ پر اس کا نزول عرشِ الہٰی سے ہوا ہے۔ واللہ اعلم۔
فائدہ ........ بعض مشائخ طریقت کا ارشاد ہے کہ: “جس طرح شرکِ جلی و خفی اور قلب نفس کی دوسری کدورتیں دور کرنے اور ایمان و معرفت کا نور حاصل کرنے میں کلمہ “لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ” خاص اثر کرتا ہے۔ اسی طرح عملی زندگی درست کرنے یعنی معصیات اور منکرات سے بچنے اور نیکی کی راہ پر چلنے میں یہ کلمہ “لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ” خاص اثر رکھتا ہے۔”
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِلَّهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا مِائَةً إِلَّا وَاحِدًا، مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الجَنَّةَ. (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام یعنی ایک کم سو نام ہیں، جس نے ان کو محفوظ کیا اور ان کی نگہداشت کی وہ جنت میں جائے گا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
حقیقی معنی میں اللہ پاک کا نام یعنی اسم ذات صرف ایک ہی ہے، اور وہ ہے “اللہ” البتہ اس کے صفاتی نام سینکڑوں ہیں جو قرآن مجید اور احادیث مین وارد ہوئے ہیں، انہی کو اسماء حسنیٰ کہا جاتا ہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے فتح الباری شرح صحیح بخاری میں امام جعفر بن محمد صادق اور سفیان بن عیینہ اور بعض دوسرے اکابر امت سے نقل کیا ہے کہ: “اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام تو صرف قرآن مجید ہی میں مذکور ہیں۔ اور پھر انہی حضرات سے ان کی تفصیل اور تعیین بھی نقل ہے۔ اس کے بعد حافظ ممدوحؒ نے ان میں سے بعض اسماء کے متعلق یہ تبصرہ کر کے کہ یہ اپنی خاص شکل میں قرآن مجید میں مذکور نہیں ہیں بلکہ استخراج اور اشتقاق کے طور پر وضع کئے گئے ہیں، ان کے بجائے دوسرے اسماء قرآن مجید ہی سے نکال کے بتایا ہے کہ یہ ننانوے اسماء الٰہیہ قرآن مجید میں اپنی اصل شکل میں مذکور ہیں اور ان کی پوری فہرست دی ہے جو ان شاء اللہ عنقریب نقل ہو گی”۔
ہمارے ہی زمانہ کے بعض علماء نے اللہ تعالیٰ کے صفاتی اسماء کا تتبع احادیث سے کیا تو دو سو سے زائد ان کو ملے۔ یہ سارے صفاتی اسماء حسنیٰ اللہ تعالیٰ کے صفاتِ کمال کے عنوانات اور اس کی معرفت کے دروازے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کے ذکر کی ایک بڑی جامع اور تفصیلی شکل یہ بھی ہے کہ بندہ عظمت اور محبت کے ساتھ ان اسماء کے ذریعے اللہ تعالیٰ کو یاد کرے اور ان کو اپنا وظیفہ بنائے۔ اس تمہید کے بعد اس سلسلہ کی چند احادیث ذیل میں پڑھئے۔
تشریح ..... صحیحین کی روایت میں صرف اتنا ہی ہے، ان ننانوے ناموں کی تفصیل اور تعین اس روایت میں نہیں کی گئی ہے۔ عنقریب ہی ان شاء اللہ جامع ترمذی وغیرہ کی اس روایت کا ذکر آئے گا جس میں تفصیل کے ساتھ یہ ننانوے نام بیان کئے گئے ہیں۔ شارحین حدیث اور علماء کا اس پر قریب قریب اتفاق ہے کہ اسماء الہیہ صرف ننانوے پر منحصر نہیں ہیں اور یہ ان کی پوری تعداد نہیں ہے، کیوں کہ تتبع اور تلاش کے بعد احادیث میں اس سے بہت زیادہ تعداد مل جاتی ہے۔ اس لئے حضرت ابو ہریرہ ؓ کی اس حدیث کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس کا مطلب اور مدعا صرف یہ ہے کہ جو بندہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے ناموں کو یاد کرے گا اور ان کی نگہداشت کرے گا وہ جنت میں جائے گا۔ یعنی صرف ننانوے ناموں کا احصاء کر لینے پر بندہ اس بشارت کا مستحق ہو جائے گا۔
حدیث پاک کے جملہ “مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الجَنَّةَ” کی تشریح میں علماء اور شارحین نے مختلف باتیں لکھیں ہیں۔ ایک مطلب اس کا یہ بیان کیا گیا ہے کہ جو بندہ اسماء الہیہ کے مطالب سمجھ کر اور ان کی معرفت حاصل کر کے اللہ تعالیی کی ان صفات پر یقین کرے گا جن کے یہ اسماء عنوانات ہیں وہ جنت میں جائے گا۔
دوسرا ایک مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ جو بندہ ان اسماء حسنیٰ کے تقاضوں پر عمل پیرا ہو گا وہ جنت میں جائے گا۔
تیسرا ایک مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ جو بندہ ننانوے ناموں سے اللہ تعالیٰ کو یاد کرے گا اور ان کے ذریعے اس سے دعا کرے گا وہ جنت میں جائے گا۔ امام بخاریؒ نے “مَنْ أَحْصَاهَا” کی تشریح “مَنْ حَفِظَهَا” سے کی ہے، بلکہ اس حدیث کی بعض روایات میں “مَنْ أَحْصَاهَا” کی جگہ “مَنْ حَفِظَهَا” کے الفاظ بھی وارد ہوئے ہیں، اس لئے اس تشریح کو ترجیح دی گئی ہے، اور اسی لئے ترجمہ میں اس عاجز نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔ اس بناء پر حدیث کا مطلب یہ ہو گا کہ جو بندہ ایمان اور عقیدت کے ساتھ اللہ تعالیی کا قرب اور اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے اس کے ننانوے نام محفوظ کر لے اور ان کے ذریعہ اس کو یاد کرے وہ جنت میں جائے گا۔ واللہ اعلم۔
ننانوے اسماءِ حسنیٰ جو سب کے سب قرآن مجید میں ہیں
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِلَّهِ تَعَالَى تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا، مِائَةً إِلَّا وَاحِدَةً مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ هُوَ اللَّهُ الَّذِي لا إِلَهَ إِلا هُوَ الرَّحْمَنُ، الرَّحِيمُ، الْمَلِكُ، الْقُدُّوسُ، السَّلامُ، الْمُؤْمِنُ، الْمُهَيْمِنُ، الْعَزِيزُ، الْجَبَّارُ، الْمُتَكَبِّرُ، الْخَالِقُ، الْبَارِئُ، الْمُصَوِّرُ، الْغَفَّارُ، الْقَهَّارُ، الْوَهَّابُ، الرَّزَّاقُ، الْفَتَّاحُ، الْعَلِيمُ، الْقَابِضُ، الْبَاسِطُ، الْخَافِضُ، الرَّافِعُ، الْمُعِزُّ، الْمُذِلُّ، السَّمِيعُ، الْبَصِيرُ، الْحَكَمُ، الْعَدْلُ، اللَّطِيفُ، الْخَبِيرُ، الْحَلِيمُ، الْعَظِيمُ، الْغَفُورُ، الشَّكُورُ، الْعَلِيُّ، الْكَبِيرُ، الْحَفِيظُ، الْمُقِيتُ، الْحَسِيبُ، الْجَلِيلُ، الْكَرِيمُ، الرَّقِيبُ، الْمُجِيبُ، الْوَاسِعُ، الْحَكِيمُ، الْوَدُودُ، الْمَجِيدُ، الْبَاعِثُ، الشَّهِيدُ، الْحَقُّ، الْوَكِيلُ، الْقَوِيُّ، الْمَتِينُ، الْوَلِيُّ، الْحَمِيدُ، الْمُحْصِي، الْمُبْدِئُ، الْمُعِيدُ، الْمُحْيِي، الْمُمِيتُ، الْحَيُّ، الْقَيُّومُ، الْوَاجِدُ، الْمَاجِدُ، الْوَاحِدُ، الصَّمَدُ، الْقَادِرُ، الْمُقْتَدِرُ، الْمُقَدِّمُ، الْمُؤَخِّرُ، الأَوَّلُ، الآخِرُ، الظَّاهِرُ، الْبَاطِنُ، الْوَالِي، الْمُتَعَالِي، الْبَرُّ، التَّوَّابُ، الْمُنْتَقِمُ، الْعَفُوُّ، الرَّءُوفُ، مَالِكُ الْمُلْكِ، ذُو الْجَلالِ وَالإِكْرَامِ، الْمُقْسِطُ، الْجَامِعُ، الْغَنِيُّ، الْمُغْنِي، الْمَانِعُ، الضَّارُّ، النَّافِعُ، النُّورُ، الْهَادِي، الْبَدِيعُ، الْبَاقِي، الْوَارِثُ، الرَّشِيدُ، الصَّبُورُ. (رواه الترمذى والبيهقى فى الدعوات الكبير)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں (ایک کم سو) جس نے ان کو محفوظ کیا اور ن کی نگہداشت کی وہ جنت میں جائے گا۔ (ان ناموں کی تفصیل یہ ہے)۔
وہ اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ الرَّحْمَنُ (بڑی رحمت والا) الرَّحِيمُ (نہایت مہرباب) الْمَلِكُ (حقیقی بادشاہ) الْقُدُّوسُ (نہایت مقدس اور پاک) السَّلامُ (جس کی ذاتی صفت سلامتی ہے) الْمُؤْمِنُ (امن و امان عطا فرمانے والا) الْمُهَيْمِنُ (پوری نگہبانی فرمانے والا) الْعَزِيزُ (غلبہ اور عزت جس کی ذاتی صفت ہے، اور جو سب پر غالب ہے) الْجَبَّارُ (صاحب جبروت ہے، ساری مخلوق اس کے زیر تصرف ہے،) الْمُتَكَبِّرُ (کبریائی اور بڑائی اس کا حق ہے) الْخَالِقُ (پیدا فرمانے والا) الْبَارِئُ (ٹھیک بنانے والا) الْمُصَوِّرُ (صورت گری کرنے والا) الْغَفَّارُ (گناہوں کا بہت زیادہ بخشنے والا) الْقَهَّارُ (سب پر پوری طرح غالب اور قابو یافتہ جس کے سامنے سب عاجز اور مغلوب ہیں) الْوَهَّابُ (بغیر کسی عوض اور منفعت کے خوب عطا فرمانے والا) الرَّزَّاقُ (سب کو روزی دینے والا) الْفَتَّاحُ (سب کے لئے رحمت اور رزق کے دروازے کھولنے والا) الْعَلِيمُ (سب کچھ جاننے والا) الْقَابِضُ، الْبَاسِطُ (تنگی کرنے والا، فراخی کرنے والا۔ یعنی اس کی شان یہ ہے کہ اپنی حکمت اور مشیت کے مطابق کبھی کسی کے حالات میں تنگی پیدا کرتا ہے اور کبھی فراخی کر دیتا ہے) الْخَافِضُ، الرَّافِعُ (پست کرنے والا، بلند کرنے والا) الْمُعِزُّ، الْمُذِلُّ (عزت دینے والا، ذلت دینے والا) (یعنی کسی کو نیچا اور کسی کو اونچا کرنا، کسی کو عزت دے کر سرفراز کرنا اور کسی کو قعر مذلت میں گرا دینا اس کے قبضہ و اختیار میں ہے، اور یہ سب کچھ اسی کی طرف سے ہوتا ہے) السَّمِيعُ، الْبَصِيرُ (سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا) الْحَكَمُ، الْعَدْلُ (حاکم حقیقی، سراپا عدل و انصاف) اللَّطِيفُ (لطافت اور لطف و کرم جس کی ذاتی صفت ہے) الْخَبِيرُ (ہر بات سے باخبر) الْحَلِيمُ (نہایت بردبار) الْعَظِيمُ (بڑی عظمت والا، سب سے بزرگ و برتر) الْغَفُورُ (بہت بخشنے والا) الشَّكُورُ (حسن عمل کی قدر کرنے والا اور بہتر سے بہتر جزا دینے والا) الْعَلِيُّ، الْكَبِيرُ (سب سے اعلیٰ، سب سے بڑا) الْحَفِيظُ (سب کا نگہبان) الْمُقِيتُ (سب کو سامانِ حیات فراہم کرنے والا) الْحَسِيبُ (سب کے لئے کفایت کرنے والا) الْجَلِيلُ (عظیم القدر) الْكَرِيمُ (صاحب کرم) الرَّقِيبُ (نگہدار اور محافظ) الْمُجِيبُ (قبول فرمانے والا) الْوَاسِعُ (وسعت رکھنے والا) الْحَكِيمُ (سب کام حکمت سے کرنے والا) الْوَدُودُ (اپنے بندوں کو چاہنے والا) الْمَجِيدُ (بزرگی والا) الْبَاعِثُ (اٹھانے والا، موت کے بعد مُردوں کو جلانے والا) الشَّهِيدُ (حاضر جو سب کچھ دیکھتا ہے اور جانتا ہے) الْحَقُّ (جس کی ذات اور جس کا وجود اصلاً حق ہے) الْوَكِيلُ (کارسازِ حقیقی) الْقَوِيُّ، الْمَتِينُ (صاحب قوت اور بہت مضبوط) الْوَلِيُّ (سرپرست مددگار) الْحَمِيدُ (مستحق حمد و ستائش) الْمُحْصِي (سب مخلوقات کے بارے میں پوری معلومات رکھنے والا) الْمُبْدِئُ، الْمُعِيدُ (پہلا وجود بخشنے والا، دوبارہ زندگی دینے والا) الْمُحْيِي، الْمُمِيتُ (زندگی بخشنے والا، موت دینے والا) الْحَيُّ (زندہ جاوید، زندگی جس کی ذاتی صفت ہے) الْقَيُّومُ (خود قائم رہنے والا اور سب مخلوق کو اپنی مشیت کے مطابق قائم رکھنے والا) الْوَاجِدُ (سب کچھ اپنے پاس رکھنے والا) الْمَاجِدُ (بزرگی اور عظمت والا) الْوَاحِدُ، الاحد (ایک اپنی ذات میں، یکتا اپنی صفات میں) الصَّمَدُ (سب سے بےنیاز اور سب اس کے محتاج) الْقَادِرُ، الْمُقْتَدِرُ (قدرت والا، سب پر کامل اقتدار رکھنے والا) الْمُقَدِّمُ، الْمُؤَخِّرُ (جسے چاہے آگے کر دینے والا اور جسے چاہہے پیچھے کر دینے والا) الأَوَّلُ، الآخِرُ (سب سے پہلے اور سب سے پیچھے) (یعنی جب کوئی نہ تھا، کچھ نہ تھا، جب بھی وہ موجود تھا اور جب کوئی نہ رہے گا کچھ نہ رہے گا وہ اس وقت اور اس کے بعد بھی موجود رہے گا) الظَّاهِرُ، الْبَاطِنُ (بالکل آشکار اور بالکل مخفی) الْوَالِي (مالک و کارساز) الْمُتَعَالِي (بہت بلند و بالا) الْبَرُّ (بڑا محسن) التَّوَّابُ (توبہ کی توفیق دینے والا اور توبہ قبول کرنے والا) الْمُنْتَقِمُ (مجرمین کو کیفر کردار کو پہنچانے والا) الْعَفُوُّ (بہت معافی دینے والا) الرَّءُوفُ (بہت مہربان) مَالِكُ الْمُلْكِ (سارے جہان کا مالک) ذُو الْجَلالِ وَالإِكْرَامِ (صاحب جلال اور بہت کرم فرمانے والا۔ جس کے جلال سے بندہ ہمیشہ خائف رہے اور جس کے کرم سے ہمیشہ امید رکھے) الْمُقْسِطُ (حقدار کا حق ادا کرنے والا عادل و منصف) الْجَامِعُ (ساری مخلوق کو قیامت کے دن یکجا کرنے والا) الْغَنِيُّ، الْمُغْنِي (خود بےنیاز جس کو کسی سے کوئی حاجت نہیں، اور اپنی عطا کر ذریعہ بندوں کو بےنیاز کر دینے والا) الْمَانِعُ (روک دینے والا ہر اس چیز کو جس کو روکنا چاہے) الضَّارُّ، النَّافِعُ (اپنی حکمت اور مشیت کے تحت ضرر پہنچانے والا اور نفع پہنچانے والا) النُّورُ (سراپا نور) الْهَادِي (ہدایت دینے والا) الْبَدِيعُ (بغیر مثالِ سابق کے مخلوق کا پیدا فرمانے والا) الْبَاقِي (ہمیشہ رہنے والا جس کو کبھی فنا نہیں) الْوَارِثُ (سب کے فنا ہو جانے کے بعد باقی رہنے والا) الرَّشِيدُ (صاحبِ رُشد و حکمت جس کا ہر فعل اور فیصلہ درست ہے) الصَّبُورُ (بڑا صابر کہ بندوں کی بڑی سے بڑی نافرمانیاں دیکھتا ہے اور فوراً عذاب بھیج کر ان کو تہس نہس نہیں کر دیتا) . (جامع ترمذی، دعوات کبیر للبیہقی)
تشریح
حضرت ابو ہریرہ ؓ کی اس حدیث کا ابتدائی حصہ بالکل وہی ہے جو صحیحین کے حوالے سے ابھی اوپر نقل ہو چکا ہے۔ البتہ اس میں ننانوے ناموں کی تفصیل بھی ہے جو صحیحین کی روایت میں نہیں ہے۔ اس بناء پر بعض محدثین اور شارحینِ حدیث کی یہ رائے ہے کہ حدیث مرفوع یعنی رسول اللہ ﷺ کا اصل ارشاد بس اسی قدر ہے جتنا صحیحین کی روایت میں ہے یعنی: “إِنَّ لِلَّهِ تَعَالَى تِسْعَةً وَتِسْعِينَ اسْمًا، مِئَةً غَيْرَ وَاحِدَةٍ، مَنْ أَحْصَاهَا دَخَلَ الجَنَّةَ” (اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جس نے ان کا احصاء کیا وہ جنت میں جائے گا) اور ترمذی کی اس روایت میں اور اسی طرح ابن ماجہ اور حاکم وغیرہ کی روایتوں میں جو ننانوے نام بہ تفصیل ذکر کئے گئے ہیں وہ ارشادِ نبویﷺ کا جز نہیں ہیں، بلکہ حضرت ابو ہریرہؓ کے بلاواسطہ یا بالواسطہ کسی شاگرد نے حدیث کے اجمال کی تفصیل اور ابہام کی تفسیر کے طور پر قرآن و حدیث میں وارد شدہ اسماءِ الہٰیہ ذکر کر دئیے ہیں، گویا محدثین کی اصطلاح میں یہ اسماء حسنیٰ مدرج ہیں۔ اس کا ایک قرینہ یہ بھی ہے کہ ترمذی اور ابنِ ماجہ اور حاکم کی روایات میں ننانوے ناموں کی جو تفصیل ذکر کی گئی ہے اس میں بہت بڑا فرق اور اختلاف ہے۔ اگر یہ ننانوے اسماء حسنیٰ رسول اللہ ﷺ کے تعلیم فرمائے ہوئے ہوتے تو ان میں اتنا اختلاف اور فرق ناممکن تھا۔
بہرحال یہ تو فنِ حدیث و روایت کی ایک بحث ہے، مگر اتنی بات سب کے نزدیک مسلم ہے کہ ترمذی کی مندرجہ بالا روایت مین اور اسی طرح ابنِ ماجہ وغیرہ کی روایات میں جو ننانوے اسماءِ حسنیٰ ذکر کئے گئے ہیں وہ سب قرآن مجید اور احادیث میں وارد ہوئے ہیں، اور رسول اللہ ﷺ نے ننانوے اسماء الٰہیہ کے احصاء پر (محفوظ کرنے پر) جو بشارت سنائی ہے اس کے وہ بندے یقیناً مستحق ہیں جو اخلاص اور عظمت کے ساتھ ان اسماءِ حسنیٰ کو محفوظ کریں اور ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کو یاد کرے۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ نے اس کی لِم اور اس کے سبب پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا ہے کہ: “جو صفاتِ کمال حق تعالیٰ کے لئے ثابت کی جانی چاہئیں اور جن چیزوں کی اس کی ذاتِ پاک سے نفی کی جانی چاہئے، ان ننانوے اسماءِ حسنیٰ میں وہ سب کچھ آ جاتا ہے، اس بناء پر یہ اسماءِ حسنیٰ اللہ تعالیٰ کی معرفت کا مکمل اور صالح نصاب ہیں، اور اسی وجہ سے ان کے مجموعہ میں غیر معمولی برکت ہے، اور عالمِ قدس میں ان کو خاص قبولیت حاصل ہے اور جب کسی بندے کے اعمال نامہ میں یہ اسماءِ الٰہیہ ثبت ہوں تو یہ اس کے حق میں رحمتِ الٰہی کے فیصلہ کے موجب ہوں گے۔ واللہ اعلم۔
ترمذی کی مندرجہ بالا روایت میں جو ننانوے اسماءِ حسنیٰ ذکر کئے گئے ہیں ان میں سے دو تہائی قرآن مجید میں مذکور ہیں باقی احادیث میں وارد ہوئے ہیں۔
حضرت امام جعفر صادق وغیرہ جن حضرات نے دعویٰ کیا ہے کہ اللہ تعایلٰ کے ننانوے نام قرآن مجید میں موجود ہیں ان کا ذِکر ابھی اوپر کیا جا چکا ہے، اور اس سلسلہ میں حافظ ابن حجرؒ کی آخری کاوش کا بھی حوالہ دیا جا چکا ہے کہ انہوں نے صرف قرآن مجید سے وہ ننانوے اسماءِ الٰہیہ نکالے ہیں جو اپنی اصل شکل میں قرآن پاک میں موجود ہیں۔
اگر ان محدثین اور شارحین کی بات مان لی جائے جن کی رائے ہے کہ ترمذی کی مندرجہ بالا روایت میں جو اسماءِ حسنیٰ ذکر کئے گئے ہیں یہ حدیث مرفوع کا جزو نہیں ہیں بلکہ کسی راوی کی طرف سے مُدرج ہیں (1) یعنی حدیث کے اجمال کی تفصیل کے طور پر انہوں نے قرآن و حدیث میں وارد شدہ ان ناموں کا اضافہ کر دیا ہے تو پھر حافظ ابن، حجر کی پیش کردہ وہ فہرست قابلِ ترجیح ہونی چاہئے جس کے سب اسماء بغیر کسی خاص تصرف کے قرآن مجید ہی سے لئے گئے ہین۔ ہم ذیل میں ان کی وہ فہرست فتح الباری سے نقل کرتے ہیں، انہوں نے اسم ذات اللہ کو بھی ان ننانوے ناموں مین شمار کیا ہے، بلکہ اسی سے اپنی فہرست کا آغاز کیا ہے۔
اللَّهُ الرَّحْمَنُ، الرَّحِيمُ، الْمَلِكُ، الْقُدُّوسُ، السَّلامُ، الْمُؤْمِنُ، الْمُهَيْمِنُ، الْعَزِيزُ، الْجَبَّارُ، الْمُتَكَبِّرُ، الْخَالِقُ، الْبَارِئُ، الْمُصَوِّرُ، الْغَفَّارُ، الْقَهَّارُ، التَّوَّابُ، الْوَهَّابُ، الْخَلَّاقُ، الرَّزَّاقُ، الْفَتَّاحُ، الْعَلِيمُ، الْحَلِيْمُ، الْعَظِيْمُ، الْوَاسِعُ، الْحَكِيمُ، الْحَيُّ، الْقَيُّومُ، السَّمِيعُ، الْبَصِيرُ، اللَّطِيفُ، الْخَبِيرُ، الْعَلِيُّ، الْكَبِيرُ، الْمُحِيْطُ، الْقَدِيْرُ، الْمَوْلَى، النَّصِيْرُ، الْكَرِيمُ، الرَّقِيبُ، الْقَرِيْبُ، الْمُجِيبُ، الْوَكِيْلُ، الْحَسِيبُ، الْحَفِيظُ، الْمُقِيتُ، الْوَدُودُ، الْمَجِيدُ، الْوَارِثُ، الشَّهِيدُ، الْوَلِيُّ، الْحَمِيدُ، الْحَقُّ، الْمُبِيْنُ، الْقَوِيُّ، الْمَتِينُ، الْغَنِيُّ، الْمَالِكُ، الشَّدِيْدُ، الْقَادِرُ، الْمُقْتَدِرُ، الْقَاهِرُ، الْكَافِىُ، الْمُسْتَعَانُ، الْفَاطِرُ، الْبَدِيْعُ، الْغَافِرُ، الأَوَّلُ، الآخِرُ، الظَّاهِرُ، الْبَاطِنُ، الْكَفِيْلُ، الْغَالِبُ، الْحَكَمُ، الْعَالِمُ، الرَّفِيْعُ، الْحَافِظُ، الْمُنْتَقِمُ، الْقَائِمُ، الْمُحْيِي، الْجَامِعُ، الْمَلِيْكُ، الْمُتَعَال، النُّورُ، الْهَادِي، الْغَفُورُ، الشَّكُورُ، الْعَفُوُّ، الرَّءُوفُ، الْاَكْرَمُ، الْاَعْلَى، الْبِرُّ، الْحَفِىُّ، الرَّبُّ، الْاِلَهُ. الْوَاحِدُ، الْأَحَدُ، الصَّمَدُ، الَّذِي، لَمْ يَلِدْ، وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ، كُفُوًا أَحَدٌ.
(فتح الباری، صفحہ ۸۳، جز ۲۶)
ننانوے اسماءِ حسنیٰ جو ترمذی کی روایت میں مذکور ہیں اور اسی طرح یہ جو حافظ ابن حجرؒ نے قرآن مجید سے نکالے ہیں، بلاشبہ ان میں سے ہر ایک معرفتِ الٰہی کا دروازہ ہے۔ علمائے اُمت نے مختلف زمانوں میں ان کی شرح میں مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ مہمات میں ان کے ذریعہ دعا کرنا بہت سے اہل اللہ کے خاص معمولات میں سے ہے اور اس کی قبولیت مجرب ہے۔
عَنْ بُرَيْدَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ، الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ، الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى، وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ» (رواه الترمذى وابوداؤد)
حضرت بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو اس طرح دُعا کرتے ہوئے سنا، وہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں عرض کر رہا تھا: “اے اللہ! میں اپنی حاجت تجھ سے مانگتا ہوں بوسیلہ اس کے کہ بس تو اللہ ہے، تیرے سوا کوئی مالک و معبود نہیں، ایک اور یکتا ہے، بالکل بےنیاز ہے، اور سب تیرے محتاج ہیں، نہ کوئی تیری اولاد، نہ تو کسی کی اولاد اور نہ تیرا کوئی ہمسر” رسول اللہ ﷺ نے (جب اس بندے کو یہ دُعا کرتے سنا تو) فرمایا کہ: اس بندے نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے وسیلہ سے دعا کی ہے جب اس کے وسیلہ سے اس سے مانگا جائے تو وہ دیتا ہے، اور جب اس کے وسیلہ سے دعا کی جائے تو وہ قبول کرتا ہے۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد)
تشریح
احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسماءِ حسنیٰ میں سے بعض وہ ہیں جن کو اس لحاظ سے خاص عظمت و امتیاز حاصل ہے کہ جب ان کے ذریعہ دعا کی جائے تو قبولیت کی زیادہ امید کی جا سکتی ہے۔
ان اسماڑ کو حدیث میں “اسم اعظم” کہا گیا ہے، لیکن صفائی اور صراحت کے ساتھ ان کو متعین نہیں کیا گیا ہے، بلکہ کسی درجہ میں ان کو مبہم رکھا گیا ہے، اور یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ لیلۃ القدر کو اور جمعہ کے دن قبولیت دعا کے خاص وقت کو مبہم رکھا گیا ہے۔ احادیث سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی ایک ہی اسمِ پاک “اسمِ اعظم” نہیں ہے جیسا کہ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں، بلکہ متعدد اسماءِ حسنیٰ کو “اسمِ اعظم” کہا گیا ہے۔ نیز انہی احادیث سے یہ بات بھی صاف ہو جاتی ہے کہ عوام میں اسمِ اعظم کا جو تصور ہے اور اس کے بارے میں جو باتیں مشہور ہین وہ بالکل بےاصل ہیں، اصل حقیقت وہی ہے جو اوپر عرض کی گئی ہے۔ اس کے بعد اس سلسلہ کی احادیث ذیل میں پڑھی جائیں:
عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِى الْمَسْجِدِ وَرَجُلٌ يُصَلِّي، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْحَنَّانُ الْمَنَّانُ، بَدِيعُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ، أَسْأَلُكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ دَعَا اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ، الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ، وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى» (رواه الترمذى وابوداؤد والنسائى وابن ماجه)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ میں ایک دن مسجد میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا اور ایک بندہ وہاں نماز پڑھ رہا تھا، اس نے اپنی دعا میں عرض کیا: “اے اللہ! میں تجھ سے اپنی حاجت مانگتا ہوں بوسیلہ اس کے کہ ساری حمد و ستائش تیرے ہی لئے سزاوار ہے، کوئی معبود نہیں تیرے سوا، تو نہایت مہربان اور بڑا محسن ہے، زمین و آسمان کا پیدا فرمانے والا ہے، میں تجھ ہی سے مانگتا ہوں، اے ذوالجلال والاکرام! اے حی اے قیوم! تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: “اس بندے نے اللہ کے اُس اسمِ اعظم کے وسیلہ سے دعا کی ہے کہ اس نے وسیلہ سے جب خدا سے دعا کی جائے تو وہ قبول فرماتا ہے، اور جب اس کے وسیلہ سے مانگا جائے تو عطا فرماتا ہے”۔ (جامع ترمذی، سنن ابو داؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ)
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اسْمُ اللهِ الأَعْظَمُ فِي هَاتَيْنِ الآيَتَيْنِ {وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ} وَفَاتِحَةِ آلِ عِمْرَانَ {الم اللَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الحَيُّ القَيُّومُ}. (رواه الترمذى وابوداؤد وابن ماجه والدارمى)
اسماء بنت یزید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: “اسْمُ اللهِ الأَعْظَمُ” ان دو آیتوں میں موجود ہے۔ ایک “وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ”اور دوسری آل عمران کی ابتدائی آیت “الم اللَّهُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ الحَيُّ القَيُّومُ” (جامع ترمذی، سنن ابو داؤد، سنن ابن ماجہ، سنن دارمی)
تشریح
ان احادیث میں غور کرنے سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کسی ایک مخصوص نام پاک کو اسم اعظم نہیں فرمایا گیا ہے، بلکہ یہ بات زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتی ہے کہ آخری حدیث میں جن دو آیتوں کا حوالہ دیا گیا، اور اس سے پہلی دونوں حدیثوں مین دو شخصوں کی جو دو دُعائیں نقل کی گئی ہیں ان میں سے ہر ایک میں متعدد اسماءِ الٰہیہ کی خاص ترکیب سے اللہ تعالیٰ کا جو مرکب اور جامع وصف مفہوم ہوتا ہے اس کو “اسم اعظم” سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ جن کو اللہ تعالیٰ نے اس نوع کے علوم و معارف سے خاص طور پر نوازا ہے، انہوں نے ان احادیث سے یہی سمجھا ہے۔ واللہ اعلم۔
قرآن مجید کی عظمت و فضیلت
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُولُ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: مَنْ شَغَلَهُ الْقُرْآنُ عَنْ ذِكْرِي وَمَسْأَلَتِي أَعْطَيْتُهُ أَفْضَلَ مَا أُعْطِي السَّائِلِينَ، وَفَضْلُ كَلاَمِ اللهِ عَلَى سَائِرِ الكَلاَمِ كَفَضْلِ اللهِ عَلَى خَلْقِهِ. (رواه الترمذى والدارمى والبيهقى فى شعب الايمان)
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جس شخص کو قرآن نے مشغول رکھا میرے ذکر سے اور مجھ سے سوال اور دعا کرنے سے میں اس کو اس سے افضل عطا کروگا جو سائلوں اور دعاکرنے والوں کوعطا کرتاہوں،اور دوسرے اور کلاموں کے مقابلے میں اللہ کے کلام کو ویسی ہی عظمت و فضلیت حاصل ہے جیسی اپنی مخلوق کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کو۔ (جامع ترمذی، سنن دارمی، شعب الایمان للبیہقی)
تشریح
ذکر کیا جا چکا ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت بھی “ذکراللہ” کی ایک قسم ہے، اور بعض حیثیتوں سے سب سے افضل اور اعلیٰ قسم ہے۔ اس میں بندے کی مشغولیت اللہ تعالیٰ کو بےحد محبوب ہے۔
بلاشبہ اللہ تعالیٰ تشبیہ اور مثال سے وراء الورا ہے، لیکن ناچیز راقم سطور نے اس حقیقت کو اپنے اس ذاتی تجربہ سے خوب سمجھا ہے کہ جب کبھی کسی کو اس حال میں دیکھا کہ وہ میری لکھی ہوئی کوئی کتاب قدر اور توجہ سے پڑھ رہا ہے تو دل سرور سے بھر گیا اور اس شخص سے ایک خاص تعلق اور لگاؤ پیدا ہو گیا، ایسا تعلق اور لگاؤ جو بہت سے قریبی عزیزوں، دوستوں سے بھی نہیں ہوتا۔ بہرحال میں نے تو اپنے اسی تجربہ سے یہ سمجھا کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کو اپنے پاک کلام قرآن مجید کی تلاوت کرتے سنتا اور دیکھتا ہو گا، تو اس بندہ پر اس کو کیسا پیار آتا ہو گا (الا یہ کہ اپنے کسی شدید جرم کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کے پیار اور نظرِ کرم کا مستحق ہی نہ ہو)
رسول اللہ ﷺ نے امت کو قرآن مجید کی عظمت سے آشنا کرنے اور اس کی تلاوت وغیرہ کی ترغیب دینے کے لئے مختلف عنوانات استعمال فرمائے ہیں۔ ہم نے بھی اسی سلسلہ کی احادیث کو مختلف عنوانات میں تقسیم کر دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کے ان ارشادات سے وہ نفع اٹھانے کی توفیق دے جو ان کا اصل مقصد ہے۔
قرآن مجید کی عظمت و فضیلت
قرآن مجید کی بےانتہا عظمت کے لئے بس اتنا کافی ہے کہ وہ کلام اللہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی حقیقی صفت ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اس دنیا میں جو کچھ بھی ہے، یہاں تک کہ زمینی مخلوقات میں کعبۃ اللہ اور انبیاء علیہم السلام کی مقدس ہستیاں، اور عالم بالا و عالم غیب کی مخلوقات میں عرش، کرسی، لوح و قلم، جنت اور جنت کی نعمتیں اور اللہ کےئ مقرب ترین فرشتے، یہ سب اپنی معلوم و مسلم عظمت کے باوجود غیراللہ اور مخلوق ہیں۔ لیکن قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی اور اس سے الگ اور اس سے الگ کی کوئی چیز نہیں ہے، بلکہ اس کی حقیقی صفت ہے جو اس کی ذاتِ عالی کے ساتھ قائم ہے۔ یہ اللہ پاک کا بےانتہا کرم اور اس کی عظیم تر نعمت ہے کہ اس نے اپنے رسولِ امین کے ذریعے وہ کلام ہم تک پہنچایا اور ہمیں اس لائق بنایا کہ اس کی تلاوت کر سکیں اور اپنی زبان سے اس کو پڑھ سکیں پھر اس کو سمجھ کر اپنی زندگی کا راہنما بنا سکیں۔
قرآن مجید مین ہے کہ اللہ تعالیٰ نے طویٰ کی مقدس وادی میں ایک مبارک درخت سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنا کلام سنوایا تھا۔ کتنا خوشقسمت تھا وہ بےجان درخت جس کو حق تعالیٰ نے اپنا کلام سنوانے کے لئے بطور آلہ کے استعمال فرمایا تھا۔ جو بندہ اخلاص اور عظمت و احترام کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہے اس کو اس وقت شجرہ موسوی والا یہ شرف نصیب ہوتا ہے، اور گویا وہ اس وقت اللہ تعالیٰ کے کلامِ مقدس کا ریکارڈ ہوتا ہے۔ حق یہ ہے کہ انسان اس سے آگے کسی شرف کا تصور بھی نہیںٰ کر سکتا۔
اس مختصر تمہید کے بعد قرآن مجید کی عظمت و فضیلت کے بیان میں رسول اللہ ﷺ کی مندرجہ ذیل چند حدیثیں پڑھئے:
تشریح ..... اس سلسلہ معارف الحدیث میں پہلے بھی ذکر کیا جا چکا ہے کہ جب کسی حدیث میں رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے حوالہ سے کوئی بات فرمائیں اور وہ بات قرآن مجید میں نہ ہو تو خاص عرف و اصطلاح میں ایسی حدیثوں کو “حدیث قدسی” کہتے ہیں۔ حضرت ابو سعید خدریؓ کی یہ حدیث بھی اسی طرح کی ہے۔ اس میں دو باتیں فرمائی گئی ہیں: ایک یہ لہ اللہ کے جس بندے کو اللہ تعالیٰ کے کلام پاک سے ایسا شغف ہو کہ وہ دن رات اسی میں لگا لپٹا رہتا ہو، یعنی اس کی تلاوت میں اس کے یاد کرنے میں، اس کے تدبر اور تفکر میں، یا اس کے سیکھنے سکھانے میں اخلاص کے ساتھ مشغول رہتا ہو، اور قرآن پاک میں اس ہمہ وقتی مشغولیت کی وجہ سے اس کے علاوہ اللہ کے ذکر اس کی حمد و تسبیح اور اس سے دعائیں کرنے کا موقع ہی اس کو نہ ملتا ہو، تو وہ یہ نہ سمجھے کہ وہ کچھ خسارے مین رہے گا اور ذکر و دعا کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ جو کچھ عطا فرماتا ہے وہ اس کو نہ پا سکے گا۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: “اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ ایسے بندوں کو میں اس سے زیادہ اور اس سے بہتر دوں گا جو ذکر کرنے والے اور دعائین مانگنے والے اپنے بندوں کو دیتا ہوں۔دوسری بات اس حدیث میں یہ فرمائی گئی ہے کہ اللہ کے کلام کو دوسرے کلاموں کے مقابلے میں ویسی ہی عظمت و فضیلت حاصل ہے جیسی کہ خود اللہ تعالیٰ کو اپنی مخلوق کے مقابلہ میں، اور اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا کلام اور اس کی صفتِ قائمہ ہے۔
قرآن مجید کی عظمت و فضیلت
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: إِنِّي قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ. قُلْتُ: مَا الْمَخْرَجُ مِنْهَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: كِتَابُ اللهِ فِيهِ نَبَأُ مَا قَبْلَكُمْ وَخَبَرُ مَا بَعْدَكُمْ، وَحُكْمُ مَا بَيْنَكُمْ، وَهُوَ الفَصْلُ لَيْسَ بِالهَزْلِ، مَنْ تَرَكَهُ مِنْ جَبَّارٍ قَصَمَهُ اللَّهُ، وَمَنْ ابْتَغَى الهُدَى فِي غَيْرِهِ أَضَلَّهُ اللَّهُ، وَهُوَ حَبْلُ اللهِ الْمَتِينُ، وَهُوَ الذِّكْرُ الحَكِيمُ، وَهُوَ الصِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ، هُوَ الَّذِي لاَ تَزِيغُ بِهِ الأَهْوَاءُ، وَلاَ تَلْتَبِسُ بِهِ الأَلْسِنَةُ، وَلاَ يَشْبَعُ مِنْهُ العُلَمَاءُ، وَلاَ يَخْلَقُ عَلَى كَثْرَةِ الرَّدِّ، وَلاَ تَنْقَضِي عَجَائِبُهُ، هُوَ الَّذِي لَمْ تَنْتَهِ الجِنُّ إِذْ سَمِعَتْهُ حَتَّى قَالُوا: {إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ} مَنْ قَالَ بِهِ صَدَقَ، وَمَنْ عَمِلَ بِهِ أُجِرَ، وَمَنْ حَكَمَ بِهِ عَدَلَ، وَمَنْ دَعَا إِلَيْهِ هَدَى إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ. (رواه الترمذى والدارمى)
حضرت علی مرتضی ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے ایک دن فرمایا: “آگاہ ہو جاؤ ایک بڑا فتنہ آنے والا ہے۔” میں نے عرض کیا: “یا رسول اللہ! اس فتنہ کے سر سے بچنے اور نجات پانے کا ذریعہ کیا ہے؟ ” آپ ﷺ نے فرمایا: “کتاب اللہ، اس میں تم سے پہلے امتوں کے (سبق آموز) واقعات ہیں، اور تمہارے بعد کی اس میں اطلاعات ہیں، (یعنی اعمال و اخلاق کے جو دنیوی و اخروی نتائج و ثمرات مستقبل میں سامنے آنے والے ہیں، قرآن مجید میں ان سب سے بھی آگاہی دے دی گئی ہے) اور تمہارے درمیان جو مسائل پیدا ہوں قرآن میں ان کا حکم اور فیصلہ موجود ہے (حق و باطل اور صحیح و غلط کے بارے میں) وہ قول فیصل ہے، وہ فضو بات اوریا وہ گوئی نہیں ہے۔ جو کوئی جابر و سرکش اس کو چھوڑے گا (یعنی غرور و سرکشی کی راہ سے قرآن سے منہ موڑے گا) اللہ تعالیٰ اس کو توڑ کے رکھ دے گا، اور جو کوئی ہدایت کو قرآن کے بغیر تلاش کرے گا اس کے حصہ میں اللہ کی طرف سے صرف گمراہی آئے گی (یعنی وہ ہدایتِ حق سے محروم رہے گا) قرآن ہی حبل اللہ المتین یعنی اللہ سے تعلق کا مضبوط وسیلہ ہے، اور محکم نصیحت نامہ ہے، اور وہی صراطِ مستقیم ہے۔ وہی وہ حق مبین ہے جس کے اتباع سے خیالات کجی سے محفوظ رہتے ہیں اور زبانیں اس کو گڑ بڑ نہیں کر سکتیں (یعنی جس طرح اگلی کتابوں میں زبانوں کی راہ سے تحریف داخل ہو گئی اور محرفین نے کچھ کا کچھ پڑھ کے اس کو محرف کر دیا اس طرح قرآن مین کوئی تحریف نہیں ہو سکے گی، اللہ تعالیی نے تا قیامت اس کے محفوظ رہنے کا انتظام فرما دیا ہے) اور علم والے بھی اس کے علم سے سیر نہیں ہوں گے (یعنی قرآن میں تدبر کا عمل اور اس کے حقائق و معارف کی تلاش کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا اور کبھی ایسا وقت نہیں آئے گا کہ قرآن کا علم حاصل کرنے والے محسوس کریں کہ ہم نے علم قرآن پر پورا عبور حاصل کر لیا اور اب ہمارے حاصل کرنے کے لئے کچھ باقی نہیں رہا، بلکہ قرآن کے طالبین علم کا حال ہمیشہ یہ رہے گا کہ وہ علم قرآن میں جتنے آگے بڑھتے رہین گے اتنی ہی ان کی طلب ترقی کرتی رہے گی اور ان کا احساس یہ ہو گا کہ جو کچھ ہم نے حاصل کیا ہے وہ اس کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں ہے جو ابھی ہم کو حاصل نہیں ہوا ہے) اور وہ قرآن کثرت مزاولت سے کبھی پرانا نہیں ہو گا (یعنی جس طرح دنیا کی دوسری کتابوں کا حال ہے کہ بار بار پڑھنے کے بعد ان کے پڑھنے میں آدمی کو لطف نہیں آتا، قرآن مجید کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے وہ جتنا پڑھا جائے گا اور جتنا اس میں تفکر و تدبر کیا جائے گا اتنا ہی اس کے لطف و لذت میں اضافہ ہو گا) اور اس کے عجائب (یعنی اس کے دقیق و لطیف حقائق و معارف) کبھی ختم نہیں ہوں گے۔ قرآن کی یہ شان ہے کہ جب جنوں نے اس کو سنا تو بےاختیار بول اٹھے۔
إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ (الجن، 1،2:72)
ہم نے قرآن سنا جو عجیب ہے، رہنمائی کرتا ہے بھلائی کی، پس ہم اس پر ایمان لے آئے۔
جس نے قرآن کے موافق بات کہی اس نے سچی بات کہی، اور جس نے قرآن پر عمل کیا وہ مستحقِ اجر و ثواب ہوا اور جس نے قرآن کے موافق فیصلہ کیا اس نے عدل و انصاف کیا اور جس نے قرآن کی طرف دعوت دی اس کو صراطِ مستقیم کی ہدایت نصیب ہو گئی۔ (جامع ترمذی، سنن دارمی)
تشریح
یہ حدیث قرآن کریم کی عظمت و فضیلت کے بیان میں بلاشبہ نہایت جامع حدیث ہے۔ اس میں جو کلمات اور جو جملے وضاحت طلب تھے ان کی وضاحت ترجمہ ہی میں کر دی گئی ہے۔
عَنْ عُثْمَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ القُرْآنَ وَعَلَّمَهُ» (رواه البخارى)
حضرت عثمان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “تم میں سب سے بہتر اور افضل بندہ وہ ہے جو قرآن کا علم حاصل کرے اور دوسروں کو اس کی تعلیم دے”۔ (صحیح بخاری)
تشریح
قرآن مجید کو کلام اللہ ہونے کی حیثیت سے جب دوسرے کلاموں پر اس طرح کی فوقیت اور فضیلت حاصل ہے جس طرح کی اللہ تعالیٰ کو اپنی مخلوق پر حاصل ہے تو ظاہر ہے کہ اس کا سیکھنا، سکھانا دوسرے تمام اچھے کاموں سے افضل و اشرف ہو گا۔ علاوہ ازیں یہ ایک حقیقت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا سب سے اہم پیغمبرانہ وظیفہ وحی کے ذریعہ قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ سے لینا، اس کی حکمت کو سمجھنا اور دوسروں تک اس کو پہنچانا اور اس کو سکھانا تھا اس لئے اب قیامت تک جو بندہ قرآن مجید کے سیکھنے سکھانے کو اپنا شغل اور وظیفہ بائے گا وہ گویا رسول اللہ ﷺ کے خاص مشن کا علمبردار اور خادم ہو گا۔ اور اس کو آنحضرت ﷺ سے خاص الخاص نسبت حاصل ہو گی۔ اس بناء پر قرآن پاک کے متعلم اور معلم کو سب سے افضل و اشرف ہونا ہی چاہئے۔ لیکن یہ اسی صورت میں ہے جب کہ قرآن مجید کا یہ سیکھنا سکھانا اخلاص کے ساتھ اور اللہ کے لئے ہو، اگر بدقسمتی سے کسی دنیوی غرض کے لئے قرآن سیکھنے سکھانے کو کوئی اپنا پیشہ بنائے تو حدیث پاک میں ہے کہ: وہ ان بدنصیبوں میں سے ہو گا جو سب سے پہلے جہنم میں جھونکے جائیں گے اور اس کا اولین ایندھن بنیں گے۔ اَللَّهُمَّ احْفَظْنَا
(یہ حدیث صحیح مسلم کے حوالہ سے معارف جلد دوم کے بالکل آخر میں درج ہو چکی ہے)
عَنِ ابْنِ عُمَرَ " لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ: رَجُلٌ آتَاهُ اللهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ، وَآنَاءَ النَّهَارِ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللهُ مَالًا، فَهُوَ يُنْفِقُهُ آنَاءَ اللَّيْلِ، وَآنَاءَ النَّهَارِ " (رواه البخارى ومسلم)
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ صرف دو آدمی قابل رشک ہیں۔ (اور ان پر رشک آنا برحق ہے) ایک وہ جس کو اللہ نے قرآن کی نعمت عطا فرمائی پھر وہ دن اور رات کے اوقات میں اس میں لگا رہتا ہے.اور دوسرا وہ خوش نصیب آدمی جس کو اللہ نے مال و دولت سے نوازا،اور وہ دن اور رات کے اوقات میں راہ خدا میں اس کو خرچ کرتا رہتا ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
دن اور رات میں قرآن پاک میں مشغول ہونے اور رہنے کی مختلف شکلیں ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ اس کے سیکھنے سکھانے میں لگا رہتا ہے۔ دوسرے یہ کہ نماز میں اور بیرونِ نماز اس کی تلاوت کرتا رہتا ہے۔ تیسرے یہ کہ فکر و اہتمام کے ساتھ اس کے احکام و ہدایات پر عمل کرتا رہتا ہے۔ حدیث کے الفاظ: فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ، وَآنَاءَ النَّهَارِ اس طرح کی سب شکلوں پر حاوی ہیں۔ قرآن پاک کی عظیم نعمت کا شکر یہی ہے کہ بندہ اس کو اپنا شغل اور اپنی زندگی کا دستور بنا لے۔
عَنْ عُبَيْدَةَ الْمُلَيْكِيِّ، اَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ، لَا تَتَوَسَّدُوا الْقُرْآنَ وَاتْلُوهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَأَفْشُوهُ، وَتَغَنَّوْهُ وَتَدَبَّرُوا مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ، وَلَا تَعْجَلُوا تِلَاوَتَهُ فَإِنَّ لَهُ ثَوَابًا " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)
حضرت عبیدہ ملیکی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے قرآن والوں! قرآن کو اپنا تکیہ اور سہارا نہ بنا لو، بلکہ دن اور رات کے اوقات میں اس کی تلاوت کیا کرو جیسا کہ اس کا حق ہے، اور اس کو پھیلاؤ اور اس کو دلچسپی سے اور مزہ لے لے کر پڑھا کرو، اور اس میں تدبر کرو، امید رکھو کہ تم اس سے فلاح پا جاؤ گے، اور اس کا عاجل معاوضہ لینے کی فکر نہ کرو، اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا عظیم ثواب اور معاوضہ (اپنے وقت پر) ملنے والا ہے۔ (شعب الایمان للبیہقی)
تشریح
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جن بندوں کو قرآن کی دولت نصیب فرمائی ہے وہ اسی پر تکیہ کر کے نہ بیٹھ جائیں کہ ہمارے پاس قرآن ہے اور ہم قرآن والے ہیں، بلکہ انہیں چاہئے کہ قرآن مجید کے حقوق ادا کریں، رات اور دن کے اوقات میں اس کے حق کے مطابق اس کی تلاوت کیا کریں، اس کو اور اس کے پیغامِ ہدایت کو دوسروں تک پہنچائیں، اس کو م زہ لے لے کے پڑھیں، اس کے احکام، اس کی ہدایات، اس کے قصص اور نصائح پر غور و فکر کیا کریں۔ اگر انہوں نے ایسا کیا تو ان کی فلاح کی پوری امید ہے۔ اور انہیں چاہئے کہ وہ قرآن کے اس پڑھنے اور پڑھانے اور اس کی خدمت کا معاوضہ دنیا ہی میں نہ چاہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو اپنے وقت پر اس کا بڑا غیر معمولی معاوضہ اور عظیم صلہ ملنے والا ہے۔
قرآن اور قوموں کا عروج و زوال
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«إِنَّ اللهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا، وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ». (رواه مسلم)
حضرت عمر بن الخطاب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ اس کتابِ پاک (قرآن مجید) کی وجہ سے بہت سوں کو اونچا کرے گا اور بہت سوں کو نیچے گرائے گا۔ (صحیح مسلم)
تشریح
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی صفتِ قائمہ اور بندوں کے لئے اس کا فرمان اور عہد نامہ ہے۔ اس کی وفاداری اور تابعداری اللہ تعالیٰ کی وفاداری اور تابعداری ہے۔ اسی طرح اس سے انحراف اور بغاوت اللہ تعالیی سے انحراف اور سرکشی ہے، اور اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ جو قوم اور جو اُمت خواہ وہ کسی نسل سے ہو، اس کا کوئی بھی رنگ اور کوئی بھی زبان ہو، قرآن مجید کو اپنا راہنما بنا کر اپنے کو اس کا تابعدار بنا دے گی اور اس کے ساتھ وہ تعلق رکھے گی جو کلام اللہ ہونے کی حیثیت سے اس کا حق ہے، اللہ تعالیٰ اس کو دنیا اور آخرت میں سربلند کرے گا۔ اور اس کے برعکس جو قوم اور امت اس سے انحراف اور سرکشی کرے گی وہ اگر بلندیوں کے آسمان پر بھی ہو گی تو نیچی گرا دی جائے گی۔
اسلام اور مسلمانون کی پوری تاریخ اس حدیث کی گواہ اور اللہ تعالیٰ کے اس فیصلہ کی آئینہ دار ہے۔ اس حدیث میں “اَقْوَامًا” کے لفظ سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ عروج و زوال کے اس الٰہی قانون کا تعلق افراد سے نہیں بلکہ قوموں اور امتوں سے ہے۔ واللہ اعلم۔
تلاوت قرآن کا اجر و ثواب
عَنِ ابْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللهِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ، وَالحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، لاَ أَقُولُ الم حَرْفٌ، وَلَكِنْ أَلِفٌ حَرْفٌ وَلاَمٌ حَرْفٌ وَمِيمٌ حَرْفٌ. (رواه الترمذى والدارمى)
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے قرآن پاک کا ایک حرف پڑھا اس نے ایک نیکی کما لی، اور یہ کہ ایک نیکی اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق دس نیکیوں کے برابر ہے۔ (مزید وجاحت کے لئے آپ نے فرمایا) میں نہیں کہتا (یعنی میرا مطلب یہ نہیں ہے) کہ الم ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔ (اس طرح الم پڑھنے والا بندہ تیس نیکیوں کے برابر ثواب حاصل کرنے کا مستحق ہو گا۔) (جامع ترمذی، سنن دارمی)
تشریح
اللہ تعالیٰ کا یہ کریمانہ قانون کہ ایک نیکی کرنے والے کو دس نیکیوں کے برابر ثواب عطا ہو گا۔
واضح طور پر قرآن مجید میں بھی بیان فرمایا گیا ہے۔ سورہ انعام میں ارشاد ہے:
مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا(الانعام ع: 20)
جو بندہ ایک نیکی لے کر آئے گا اس کو اس جیسی دس نیکیوں کا ثواب دیا جائے گا۔
مندرجہ بالا حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے اُمت کو یہ خوشخبری سنائی ہے کہ جو بندہ اخلاص کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کرے گا تو حروف تہجی کے ہر حرف کی تلاوت ایک نیکی شمار ہو گی جو اجر و ثواب کے لحاظ سے دس نیکیوں کے برابر ہو گی۔ اسی حدیث کی بیہقی کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ: “بسم اللہ” ایک حرف ہے بلکہ “ب” ایک حرف ہے “س” ایک حرف ہے “م” ایک حرف ہے۔ اور میں یہ نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے بلکہ “ا، ل، م” الگ الگ حروف ہیں۔ اللہ پاک یقین کی دولت نصیب فرمائے۔ اس حدیث میں کلام پاک کی تلاوت کرنے والوں کے لئے بڑی ہی خوشخبری ہے۔ فَطُوْبىٰ لَهُمْ
اس حدیث سے ایک واضح اشارہ یہ بھی ملا کہ قرآن مجید کی تلاوت پر ثواب کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ تلاوت معنی مفہوم سمجھ کر ہی ہو۔ کیوں کہ “الم” اور سارے حروف مقطعات کی تلاوت معنی مفہوم سمجھے بغیر ہی کی جاتی ہے، اور حدیث نے صراحۃً بتلایا کہ ان حروف کی تلاوت کرنے والوں کو بھی ہر حرف پر دس نیکیوں کا ثواب ملے گا۔ واللہ اعلم۔