حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ قَالَ مَكْتُوبٌ فِي التَّوْرَاةِ صِفَةُ مُحَمَّدٍ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ يُدْفَنُ مَعَهُ. (رواه الترمذى و مشكوة المصابيح)
عبداللہ بن سلام ؓ نے بیان فرمایا کہ تورات میں حضرت محمد ﷺ کا حال بیان کیا گیا ہے (اس میں یہ بھی ہے) کہ عیسی بن مریم علیہ السلام ان کے ساتھ (یعنی ان کے قریب ہی) دفن کئے جائیں گے۔
تشریح
امام ترمذی کی سند میں اس حدیث کے راویوں میں ایک ابو مودود ہیں امام ترمذی نے اس حدیث کے ساتھ ان ابو مودود کا یہ بیان بھی نقل کیا ہے وقد بقی فی البیت موضع قبر (یعنی حجرہ شریفہ میں (جواب روضہ مقدسہ ہے) ایک قبر کی جگہ باقی ہے۔
کیا عجب بلکہ قرین قیاس ہے کہ اللہ تعالی کی طرف سے ایک قبر کی جگہ خالی رہنے کا تکوینی انتظام اسی لئے ہوا ہو کہ اس جگہ حضرت مسیح علیہ السلام کا مدفون ہونا مقدر ہو چکا ہے۔ واللہ اعلم۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَدْرَكَ مِنْكُمْ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ فَلْيُقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ. (رواه الحاكم فى المستدرك)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے جو کوئی عیسی بن مریم علیہ السلام کو پائے وہ ان کو میرا سلام پہنچائے۔ (مستدرک حاکم)
تشریح
اس مضمون کی ایک اور حدیث مسند احمد میں حضرت ابو ہریرہ ؓ سے بھی روایت کی گئی ہے اور مسند احمد ہی کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابوہریرہؓ لوگوں سے فرمایا کرتے تھے کہ “إِقْرَءُوْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ السَّلَامَ” (تم لوگ اگر عیسی علیہ السلام کو پاؤ تو ان کو رسول اللہ ﷺ کا سلام پہنچائیو) اور مستدرک حاکم میں ایک روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے ایک مجلس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے متعلق رسول اللہ ﷺ کا ایک ارشاد بیان کرنے کے بعد حاضرین مجلس کو مخاطب کرتے ہوئے اپنی طرف سے فرمایا “اے بنى اخى ان رايتموه فقولوا ابو هريرة يقرئك السلام” (اے میرے بھتیجو (1) اگر تم عیسی علیہ السلام کو دیکھو تو میری طرف سے ان سے عرض کیجیو کے ابوہریرہ ؓ نے آپ کو سلام کہا ہے)
حضرت مسیح علیہ السلام کے نزول سے متعلق یہاں صرف سات حدیثیں نقل کی گئی ہیں اور ان کی بقدر ضرورت ہی وضاحت اور تشریح کی گئی ہے (جیساکہ اس سلسلہ معارف الحدیث میں راقم السطور کا عام معمول رہا ہے)
ابتدائی تمہیدی سطروں میں استاذنا امام العصر حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے رسالہ “التصریح بما تواتر فی نزول المسیح” کا ذکر کیا جاچکا ہے اس میں حضرت استاذ رحمۃ اللہ علیہ نے اس مسئلہ نزول مسیح علیہ السلام سے متعلق تحدیث کی صرف مطبوعہ کتابوں سے مختلف صحابہ کرامؓ کی روایت کی ہوئ پچھتر حدیثیں جمع فرمائیں۔
یہ مختلف اوقات اور مختلف مجلسوں میں فرمائے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے ارشادات ہیں جن میں آپ ﷺ نے آخری زمانے میں قیامت سے پہلے جبکہ دجال کا خروج ہوگا جو آپ ﷺ کی امت کے لئے عظیم ترین فتنہ ہوگا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کی اور ان کے ان اہم اقدامات اور کارناموں کی امت کو خبر دی ہے جن کا خاص تعلق آپ ﷺ کی امت سے ہوگا اس رسالہ میں حضرت استاد رحمۃ اللہ علیہ نے احادیث نبویہ کے علاوہ اسی مسئلہ نزول مسیح علیہ السلام سے متعلق حضرات صحابہ و تابعین کے 26 ارشادات بھی حدیث کی کتابوں سے جمع فرما دیئے ہیں اس کتاب کے مطالعہ سے یہ بات آفتاب نیمروز کی طرح سامنے آجاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا آخری زمانے میں حضرت مسیح بن مریم علیہ السلام کے نازل ہونے کی امت کو خبر دینا ایسے تواتر سے ثابت ہے کہ اس میں کسی تاویل اور شک و شبہ کی گنجائش نہیں نیز یہ کہ حضرات صحابہ کرامؓ اور ان کے بعد حضرات تابعین کا عقیدہ بھی یہی تھا اور انہوں نے قرآنی آیات اور رسول اللہ ﷺ کے ارشادات سے یہی سمجھا تھا۔ جاری بلاشبہ حضرت استاذ کا یہ رسالہ اس مسئلہ میں حجت قاطعہ ہے۔ وَلِلهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ