فی سبیل اللہ جہاد و قتال اور شہادت
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا. (رواه البخارى ومسلم)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ایک صبح کو راہ خدا میں نکلنا یا ایک شام کو نکلنا دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ راہ خدا میں تھوڑے سے وقت کا نکلنا بھی اللہ کے نزدیک دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے اور یقین کرنا چاہیے کے آخرت میں اس کا جو اجر ملے گا اس کے مقابلے میں یہ ساری دنیا اور جو کچھ اس میں ہے ہیچ ہے دنیاومافیہا فانی ہیں اور وہ اجر لافانی۔
فی سبیل اللہ جہاد و قتال اور شہادت
عَنْ أَبِي عَبْسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا اغْبَرَّتْ قَدَمَا عَبْدٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَمَسَّهُ النَّارُ. (رواه البخارى)
حضرت ابو عبس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے فرمایا یہ نہیں ہو سکتا کہ کسی بندے کے قدم راہ خدا میں چلنے سے گرد آلود ہوئے ہو پھر ان کو دوزخ کی آگ چھو سکے۔ (صحیح بخاری)
تشریح
اس حدیث کا مضمون کسی توضیح و تشریح کا محتاج نہیں البتہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ حضرت ابو عبس کی اس حدیث کو امام ترمذی نے بھی روایت کیا ہے اس میں یہ اضافہ ہے کہ اس حدیث کے ایک راوی یزید بن ابی مریم نے بیان کیا کے میں جمعہ کی نماز پڑھنے کے لیے (جامع مسجد کی طرف) جا رہا تھا تو مجھے عبایہ بن رفاعہ تابعی ملے اور انہوں نے مجھ سے فرمایا:
أَبْشِرْ، فَإِنَّ خُطَاكَ هَذِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ، سَمِعْتُ أَبَا عَبْسٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللهِ فَهُمَا حَرَامٌ عَلَى النَّارِ.
ترجمہ: تم کو بشارت ہو کہ تمہارے یہ قدم (جن سے چل کر تم جامع مسجد کی طرف جا رہے ہو) یہ راہ خدا میں ہیں اور میں نے ابو عبس ؓ سے سنا ہے وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس بندے کے قدم راہ خدا میں گرد آلود ہوئے تو وہ قدم دوزخ پر حرام ہیں (یعنی دوزخ کی آگ ان کو چھو بھی نہ سکے گی)
عبایہ بن رفاعہ تابعی کے اس بیان سے معلوم ہوا کہ ان کے نزدیک فی سبیل اللہ جہاد و قتال ہی سے مخصوص نہیں ہے بلکہ اس میں وسعت ہے نماز ادا کرنے کے لئے جانا اور اسی طرح دین کی خدمت اور اللہ کی مرضیات کے لیے دوڑ دھوپ کرنا بھی اس کے وسیع مفہوم میں شامل ہے اسی طرح اس سے پہلی حضرت انس ؓ والی حدیث (لَغَدْوَةٌ فِىْ سَبِيْلِ اللهِ اَوْ رَوْحَةٌ) کے بارے میں بھی سمجھنا چاہیے کے اللہ کیلئے اور دین کی خدمت کے سلسلہ کی ہر مخلصانہ جدوجہد اور دوڑ دھوپ کرنے والوں کا بھی اس بشارت میں حصہ ہے۔
فی سبیل اللہ جہاد و قتال اور شہادت
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ وَلَمْ يُحَدِّثْ بِهِ نَفْسَهُ مَاتَ عَلَى شُعْبَةٍ مِنْ نِفَاقٍ. (رواه مسلم)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے اس حال میں انتقال کیا کہ نہ تو کبھی جہاد میں عملی حصہ لیا اور نہ کبھی جہاد کو سوچا (نہ اس کی نیت کی) تو اس نے ایک قسم کی منافقت کی حالت میں انتقال کیا۔ (صحیح مسلم)
تشریح
قرآن پاک سورہ حجرات میں فرمایا گیا ہے:
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ (حجرات: 49)
ترجمہ: اصلی ایمان والے بس وہی بندے ہیں جو ایمان لائے اللہ اور اس کے رسول پر پھر (ان کے دل میں) کوئی شک شبہ نہیں آیا اور انہوں نے اپنے جان و مال سے راہ خدا میں جہاد کیا وہی سچے پکے ہیں۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ راہ خدا میں جہاد ایمان صادق کے لوازم میں سے ہے اور سچے پکے مومن وہی ہیں جن کی زندگی اور جن کے اعمال نامہ میں جہاد بھی ہو (اگر عملی جہاد نہ ہو تو کم از کم اس کا جذبہ اور اسکی نیت اور تمنا ہو) پس جو شخص دنیا سے اس حال میں گیا کہ نہ تو اس نے جہاد میں عملی حصہ لیا اور نہ جہاد کی نیت اور تمنا ہی کبھی کی تو وہ مومن صادق کی حالت میں دنیا سے نہیں گیا بلکہ ایک درجہ کی منافقت کی حالت میں گیا۔ بس یہی اس حدیث کا پیغام اور مدعا ہے۔
فی سبیل اللہ جہاد و قتال اور شہادت
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ لَقِيَ اللَّهَ بِغَيْرِ أَثَرٍ مِنْ جِهَادٍ لَقِيَ اللَّهَ وَفِيهِ ثُلْمَةٌ. (رواه الترمذى وابن ماجه)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو بندہ اس حال میں اللہ کے حضور پیش ہو گا کہ اس میں جہاد کا کوئی اثر و نشان نہ ہو تو اس کی یہ پیشی ایسی حالت میں ہوگی کہ اس میں (یعنی اس کے دین) نقص اور رکھنا ہوگا۔ (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ)
تشریح
حضرت ابوہریرہؓ ہی کی اوپر والی حدیث کی تشریح میں جو کچھ عرض کیا گیا ہے اسی سے اس حدیث کی بھی تشریح ہوجاتی ہے۔ اس حدیث اور اس طرح کی دوسری حدیثوں کے مطالعہ کے وقت یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ قرآن و سنت کی زبان میں “جہاد” صرف قتال اور مسلح جنگ ہی کا نام نہیں ہے بلکہ دین کی نصرت و خد مت کے سلسلہ میں جس وقت جس قسم کی جدوجہد کا امکان ہو وہی اس وقت کا جہاد ہے اور جو بندے اخلاص و للہیت کے ساتھ اس دور میں وہ جدوجہد کریں اور اس کے سلسلہ میں اپنی جان و مال اور اپنی صلاحیتوں کو قربان کریں وہ عنداللہ “مجاہدین فی سبیل اللہ” ہیں۔ عنقریب انشاءاللہ اس موضوع پر کسی قدر تفصیل سے عرض کیا جائے گا۔
فی سبیل اللہ جہاد و قتال اور شہادت
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَدْ غَزَا، وَمَنْ خَلَفَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِخَيْرٍ فَقَدْ غَزَا. (رواه البخارى ومسلم)
حضرت زید بن خالد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ جس کسی نے راہ خدا میں جہاد کرنے والے کسی غازی کو سامان جہاد فراہم کیا تو (اللہ کے نزدیک) اس نے بھی جہاد اور غزوے میں حصہ لیا اور جس کسی نے جہاد میں جانے والے کسی غازی کے اہل و عیال کی اس کی نیابت میں خدمت کی اور خبر لی اس نے بھی جہاد میں عملی حصہ لیا (یعنی ان دونوں آدمیوں کو بھی جہاد کا ثواب حاصل ہو گا اور اللہ کے دفتر میں وہ بھی مجاہدین نے لکھے جائیں گے)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد سے یہ اصولی بات معلوم ہوئی کے دین کی کسی بڑی خدمت کرنے والوں کے لیے اس کا سامان فراہم کرنے والے اور اسی طرح خدمت دین اور نصرت دین کے سلسلہ میں باہر جانے والوں کے اہل و عیال کی خبر گیری کرنے والے اللہ کے نزدیک دین کی اس خدمت و نصرت میں شریک اور پورے اجر کے مستحق ہیں ہم میں جو لوگ اپنے خاص حالات اور مجبوریوں کی وجہ سے دین کی نصرت و خدمت کے کسی بڑے کام میں براہ راست حصہ نہیں لے سکتے وہ دوسروں کے لئے اس کا سامان فراہم کر کے اور ان کے گھر والوں کی خدمت اور دیکھ بھال اپنے ذمہ لے کے دین کے خدام و انصار کی صف میں شامل ہو سکتے ہیں اللہ تعالی توفیق عطا فرمائے۔
فی سبیل اللہ جہاد و قتال اور شہادت
عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: جَاهِدُوا الْمُشْرِكِينَ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَأَلْسِنَتِكُمْ. (رواه ابوداؤد والنسائى والدارمى)
حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ جہاد کرو مشرکوں سے اپنے جان و مال اور اپنی زبانوں سے (سنن ابی داؤد سنن نسائی سنن دارمی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ کفار و مشرکین کو توحید اور دین حق کے راستہ پر لانے اور ان کا زور توڑ کے دعوت حق کا راستہ صاف کرنے کے لئے جیسا موقع اور وقت کا تقاضہ ہو اپنے جان و مال سے جدوجہد کرو اور ان کی قربانی دو اور زبان و بیان سے بھی کام لو۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دعوت حق کے راستہ میں پیسے خرچ کرنا اور زبان و بیان (اور اسی طرح قلم) سے کام لینا بھی جہاد کے وسیع مفہوم میں شامل ہیں۔
جہاد کے بارے میں ضروری وضاحت
ہماری اردو زبان میں جہاد اس مسلح جنگ ہی کو کہتے ہیں جو اللہ و رسول کے حکم کے مطابق دین کے حفاظت و نصرت کے لئے دشمنان حق سے کی جائے لیکن اصل عربی زبان اور قرآن و حدیث کی اصطلاح میں جہاد کے معنیٰ حریف کے مقابلہ میں کسی مقصد کے لئے پوری جدوجہد اور امکانی طاقت صرف کرنے کے ہیں جو احوال و ظروف کے لحاظ سے جنگ و قتال کی شکل میں بھی ہوسکتی ہے اور دوسرے طریقوں سے بھی۔ (قرآن مجید میں جہاد کا لفظ جابجا اسی وسیع معنی میں استعمال ہوا ہے)
رسول اللہ ﷺ منصب نبوت پر سرفراز ہونے کے بعد قریبا 13 برس مکہ معظمہ میں رہے اس پوری مدت میں دین کے دشمنوں، کافروں، مشرکوں سے نہ صرف یہ کہ جہاد بالسیف اور جنگ و قتال کی اجازت نہیں تھی بلکہ اس کی ممانعت تھی اور حکم تھا “كُفُّوْا اَيْدِيَكُمْ” (یعنی جنگ اور قتال سے اپنے ہاتھ روکے رکھو) سورۃالفرقان اسی مکی دور میں نازل ہوئی ہے اس میں رسول اللہ ﷺ کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا ہے “ فَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ وَجَاهِدْهُم بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا ” (آیت نمبر 52) مطلب یہ ہے کہ اے ہمارے نبی و رسول آپ ان منکروں کی بات نہ مانئے اور ہمارے نازل کئے ہوئے قرآن کے ذریعہ ان سے بڑا جہاد کرتے رہیے! ظاہر ہے کہ اس آیت میں جس جہاد کا حکم ہے اس سے مراد جہاد بالسیف اور جنگ و قتال نہیں ہے بلکہ قرآن کے ذریعہ دعوت و تبلیغ کی جدوجہد ہی مراد ہے اور اسی کو اس آیت میں صرف “جہاد” نہیں بلکہ “جہاد کبیر” اور “جہاد عظیم” فرمایا گیا ہے۔
اسی طرح سورۃ “عنکبوت” بھی ہجرت سے پہلے مکہ معظمہ ہی کے زمانہ قیام میں نازل ہوئی ہے اس میں فرمایا گیا ہے “وَمَن جَاهَدَ فَإِنَّمَا يُجَاهِدُ لِنَفْسِهِ” (آیت نمبر 6) مطلب یہ ہے کہ جو بندہ (راہ خدا میں) جہاد کرے گا وہ اپنے ہی نفع کے لئے کرے گا (خدا کو اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا) خدا سب سے بے نیاز ہے۔
اور اسی سورہ عنکبوت کی آخری آیت ہے “وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ۚ وَإِنَّ اللَّـهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ ” یعنی جو بندہ ہماری راہ میں یعنی ہماری رضا حاصل کرنے کے لیے جہاد و مجاہدہ کریں گے اور مشقتیں جھیلیں گے ان کو ہم اپنے راستوں (یعنی اپنے قرب و رضا کے راستوں) کی ہدایت کی نعمت سے نوازیں گے۔ ظاہر ہے کہ سورۃ عنکبوت کی ان دونوں آیتوں میں بھی جہاد سے جہاد باسیف مراد نہیں لیا جاسکتا بلکہ راہ خدا میں اور اس کے قرب و رضا کے لیے جدوجہد اور محنت و مشقت ہی مراد ہے جس صورت میں بھی ہو۔ بہرحال دین کی راہ میں اور اللہ کے لئے ہر مخلصانہ جدوجہد اور جان و مال اور عیش و آرام کی قربانی اور اللہ تعالی کی عطا فرمائی ہوئی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال، یہ سب بھی اپنے اپنے درجہ میں جہاد فی سبیل اللہ کی شکلیں ہیں اور ان کا راستہ ہر وقت اور دنیا کے ہر حصے میں آج بھی کھلا ہوا ہے۔
ہاں جہاد بالسیف اور قتال فی سبیل اللہ بعض پہلوؤں سے اعلی درجہ کا جہاد ہے اور اس راہ میں جان کی قربانی اور شہادت مومن کی سب سے بڑی سعادت ہے جس کے لیے خود رسول اللہ ﷺ نے اپنے دلی شوق اور تمنا کا اظہار فرمایا ہے جیسا کہ گزر چکا ہے۔
آگے درج ہونے والی حضرت فضالہ بن عبیدؓ کی حدیث بھی جہاد کے مفہوم کی اس وسعت کی ایک مثال ہے۔
فی سبیل اللہ جہاد و قتال اور شہادت
عَنْ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ. (رواه الترمذى)
حضرت فضالہ بن عبید ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ارشاد فرماتے تھے کہ مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس کے خلاف جہاد کرے۔ (جامع ترمذی)
تشریح
قرآن پاک میں فرمایا گیا “إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ” (یعنی انسان کا نفس برائی اور گناہ کا تقاضہ کرتا ہے) پس اللہ کا جو بندہ اپنی نفسانی خواہشات سے جنگ کرے ان کی پیروی کے بجائے احکام الہی کی تابعداری کرے اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں فرمایا کہ وہ اصل “مجاہد” ہے۔ اسی طرح اس سلسلہ معارف الحدیث کتاب المعاشرہ میں والدین کی خدمت کے بیان میں وہ حدیث ذکر کی جاچکی ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے والدین کی خدمت کو بھی جہاد قرار دیا ہے۔ (ففيهما فجاهد)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا تَعُدُّونَ الشَّهِيدَ فِيكُمْ. قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ قَالَ: إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ. مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ مَاتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ مَاتَ فِي الطَّاعُونِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ مَاتَ فِي الْبَطْنِ فَهُوَ شَهِيدٌ. (رواه مسلم)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (ایک روز صحابہؓ کو مخاطب کرکے) فرمایا کہ تم لوگ اپنے میں کس کو “شہید” شمار کرتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ حضرت (ہمارے نزدیک تو) جو بندہ راہ خدا میں قتل کیا گیا وہی شہید ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اس صورت میں تو میری امت کے شہداء تھوڑے ہی ہونگے۔ (سنو!) جو بندہ راہ خدا میں شہید کیا گیا وہ شہید ہے، اور جس بندہ کا انتقال راہ خدا میں ہوا (یعنی جہاد کے سفر میں جس کو موت آ گئی) وہ بھی شہید ہے، اور جس بندہ کا طاعون میں انتقال ہوا وہ بھی شہید ہے، اور جس بندہ کا پیٹ کے مرض میں مبتلا ہو کر انتقال ہوا (جیسے کہ ہیضہ، تخمہ، اسہال، استسقاء وغیرہ) وہ بھی شہید ہے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
پھر جس طرح جہاد کے مفہوم میں یہ وسعت ہے اور جہاد بالسیف میں محدود نہیں ہے اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے اطلاع دی ہے کہ شہادت کا دائرہ بھی وسیع ہے اور بہت سے وہ بندے بھی اللہ کے نزدیک شہیدوں میں شامل ہیں جو جہاد بالسیف اور قتال کے میدان میں اہل کفر و شرک کی تلواروں یا گولیوں سے شہید ہوتے بلکہ ان کی موت کا سبب کوئی ناگہانی حادثہ یا کوئی غیرمعمولی مرض ہوتا ہے۔
تشریح ..... واقعہ یہ ہے کہ حقیقی “شہید” تو وہی خوش نصیب بندے ہیں جو میدان جہاد میں اہل کفر و شرک کے ہاتھوں شہید ہوں (شریعت میں ان کے لیے خاص احکام ہیں مثلا یہ کہ ان کو غسل نہیں دیا جاتا اور وہ اپنے ان کپڑوں ہی میں دفن کیے جاتے ہیں جن میں وہ شہید ہوئے) لیکن اللہ تعالی کی رحمت نے بعض غیر معمولی امراض یا حادثوں سے مرنے والوں کو بھی آخرت میں شہید کا درجہ دینے کا وعدہ فرمایا ہے جن میں سے کچھ کا ذکر اس حدیث میں اور بعض کہ آئندہ درج ہونے والی حدیثوں میں کیا گیا ہے امتیاز کے لیے پہلی قسم کے شہید کو “شہید حقیقی” اور دوسری قسم والوں کو “شہید حکمی” کہا جاتا ہے غسل اور کفن کے معاملہ میں ان کا حکم وہ نہیں ہے جو حقیقی شہداء کا ہے بلکہ عام اموات کی طرح ان کو غسل بھی دیا جائے گا اور کفن بھی۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الشُّهَدَاءُ خَمْسَةٌ الْمَطْعُونُ وَالْمَبْطُونُ وَالْغَرِيْقُ وَصَاحِبُ الْهَدْمِ وَالشَّهِيدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا “شہداء” پانچ (قسم) ہیں، طاعون میں مرنے والا اور پیٹ کی بیماری میں مرنے والا اور ڈوب کے مرنے والا اور عمارت وغیرہ ڈھے جانے کے نتیجہ میں مرنے والا اور راہ خدا میں (یعنی میدان جہاد میں) شہید ہونے والا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَوْتُ غُرْبَةٍ شَهَادَةٌ. (رواه ابن ماجه)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسافرت کی موت شہادت ہے۔ (سنن ابن ماجہ)
تشریح
ان حدیثوں میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جن بندوں کی موت کسی بھی ناگہانی حادثہ میں یا کسی درد ناک اور قابل ترحم مرض میں ہو ان سب کو اللہ تعالی اپنے خاص رحم و کرم سے کسی درجہ میں شہادت کا اجر عطا فرمائے گا۔ ظاہر ہے کہ اس میں اس طرح مرنے والوں کے لیے بڑی بشارت اور انکے متعلقین اور پسماندگان کے لیے تسلی کا بڑا سامان ہے اللہ تعالیٰ یقین نصیب فرمائے۔ ہمارے اس زمانے میں موٹروں وغیرہ کے ایکسیڈنٹ میں یا ریلوں ہوائی جہازوں کے حادثوں میں اسی طرح قلبی دورے جیسے مفاجاتی امراض کے نتیجہ میں بندگان خدا کی زندگیاں ختم ہوتی ہیں، اللہ تعالی کی رحمت سے پوری امید ہے کہ ان سب کے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کا معاملہ یہی ہوگا بلاشبہ اللہ تعالی کی رحمت بے حد وسیع ہے۔