کتاب الایمان

Maarif-ul-Hadith · Chapter 1 · 140 hadiths · Page 6 of 7

101Maarif-ul-Hadith

امت محمدیہﷺ کی بہت بڑی تعدادکا حساب کے بغیر جنت میں داخلہ

عَنْ أَبِىْ أُمَامَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «وَعَدَنِي رَبِّي أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا، لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ، وَلَا عَذَابَ، مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا، وَثَلَاثُ حَثَيَاتٍ مِنْ حَثَيَاتِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ» (رواه احمد والترمذى وابن ماجه)

حضرت ابو امامہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور ﷺ سے سنا، آپ فرماتے تھے کہ ”میرے پروردگار نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ میری اُمت میں سے ستر ہزار کو وہ بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں بھیجے گا، اور ان میں سے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہی ہزار ہوں گے۔ اور تین حثیےاور میرے پروردگار کے حثیات میں سے (میری امت میں سے بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں بھیجے جائیں گے) “۔ تشریح جب دونوں ہاتھ بھر کر کسی کو کوئی چیز دی جائے، تو عربی میں اُس کو حثیہ کہتے ہیں، جس کو اردو اور ہندی میں لپ بھر کے دینا کہتے ہیں، تو حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی امت میں سے ستر ہزار کو بلا حساب اور بلا عذاب جنت میں داخل کرے گا، اور پھر ان میں سے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہی اور اسی طرح بلا حساب و عذاب جنت میں جائیں گے۔ اور اس سب کے علاوہ اللہ تعالیٰ اپنی خاص شانِ رحمت سے اس امت کی بہت بڑی تعداد کو تین دفعہ کر کے اور جنت میں بھیجے گا، اور یہ سب وہی ہوں گے جو بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ يَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ انتباہ۔۔۔ اس قسم کی حدیثوں کی پوری حقیقت اسی وقت کھلے گی، جب یہ سب باتیں عملی طور پر سامنے آئیں گی، اس دنیا میں تو ہمارا علم و ادراک اتنا ناقص ہے کہ بہت سے ان واقعات کو صحیح طور پر سمجھنے سے بھی ہم قاصر رہتے ہیں، جن کی خبریں ہم اخباروں میں پڑھتے ہیں، مگر اس قسم کے واقعات کا بھی ہم نے تجربہ اور مشاہدہ کیا ہوا نہیں ہوتا۔ وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ العِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا.

102Maarif-ul-Hadith

حوض وکثر ، صراط اور میزان

عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَيْنَا أَنَا أَسِيرُ فِي الجَنَّةِ، إِذَا أَنَا بِنَهَرٍ، حَافَتَاهُ قِبَابُ الدُّرِّ المُجَوَّفِ، قُلْتُ: مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَذَا الكَوْثَرُ، الَّذِي أَعْطَاكَ رَبُّكَ، فَإِذَا طِينُهُ مِسْكٌ أَذْفَرُ ".(رواه البخارى)

انس سے روایت ہے کہتے ہیں، کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس اثنا میں کہ میں جنت میں چلا جا رہا تھا، میرا گذر ایک (عجیب و غریب) نہر پر ہوا، اس کے دونوں جانب ”در مجوف“ سے (یعنی اندر سے خالی کئے ہوئے موتیوں سے) تیار کئے ہوئے قبے تھے، میں نے جبرئیل سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟جبرئیل نے بتلایا یہ وہ کوثر ہے جو آپ کے رب نے آپ کو عطا فرمایا ہے، میں نے دیکھا کہ اس کی مٹی (جو اس کی تہہ میں تھی) وہ نہایت مہکنے والے مشک کی طرح خوشبو دار تھی۔ (بخاری) تشریح حدیثوں میں آخرت کی جن چیزوں کا نام کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے ان میں سے یہ تین چیزیں بھی ہیں، ایک حوضِ کوثر، دوسری صِراط اور تیسری میزان۔ پھر کوثر کر بعض احادیث میں حوض کے لفظ سے بھی ذکر کیا گیا ہے اور بعض میں نہر کے لفظ سے۔ پھر بعض حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوثر جنت کے اندر واقع ہے، اور اکثر احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہاس کا محل وقوع جنت سے باہر ہے اور اہل ایمان جنت میں جانے سے پہلے اس حوض پر رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں باریاب ہو کر آپ کے دستِ کرم سے اس کا نہایت سفید و شفاف اور بے انتہا لذیذہ و شیریں پانی نوش جان کریں گے، اور تحقیق یہ ہے کہ کوثر کا اصل مرکزی چشمہ جنت کے اندر ہے، اور جنت کے طور و عرض میں اس کی شاخیں نہروں کی شکل میں ہرطرف جاری ہین۔ اور جس کو حوضِ کوثر کہا جاتا ہے وہ سینکڑوں میل کے طول و عرض میں ایک نہایت حسین و جمیل تالاب ہے جو جنت سے باہر ہے لیکن اس کا تعلق اسی جنت کے اندر کے چشمہ سے ہے، گویا اس میں جو پانی ہو گا وہ جنت ہی کے اس چشمہ سے نہروںکے ذریعہ آئے گا۔ آج کل کے متمدن شہروں میں واٹر ورکس جو نظام ہے اس نے کوثر کی اس نوعیت کا سمجھنا الحمد للہ سب کے لیے آسان کر دیا ہے۔ یہاں ایک چیز بھی قابلِ لحاظ ہے کہ حوض کے لفظ سے عموماً لوگوں کا ذہن اسی قسم کے حوضوں کی طرف جاتا ہے جس قسم کے حوض انہوں نے عموماً دنیا میں دیکھے ہوتے ہیں، لیکن حوض کوثر اپنی معنوی کیفیات اور اپنی خوش منظری میں تو دنیا کے حوضوں سے اتنا ممتاز اور فائق ہو گا ہی جتنا کہ جنت کی کسی چیز کو دنیا کی چیزوں کے مقابلے میں ہونا چاہئے، مگر اس کے علاوہ حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا رقبہ اور علاقہ بھی اتنا ہو گا، کہ ایک راہروا سکے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک کی مسافت ایک مہینے میں طے کر سکے گا اور ایک حدیث میں اس کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے کا فاصلہ عدن اور عمان کے فاصلے کے برابر بتلایا گیا ہے۔ بہر حال آخرت کی چیزوں کے متعلق احادیث میں جو کچھ ذکر کیا جاتا ہے اس کی روشنی میں بھی ان چیزوں کا صحیح تصور اس دنیا میں نہیں کیا جا سکتا، ان چیزوں کی جو واقعی نوعیت اور صورت ہے وہ صحیح طور پر تو سامنے آنے کے بعد ہی معلوم ہو گی۔ یہی بات صراط اور میزان وغیرہ کے بارے میں بھی ملحوظ رہنی چاہیے۔ تشریح۔۔۔ اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے جنت میں سیر کرتے ہوئے نہر کوثر پر گذرنے کا جو واقعہ ذکر فرمایا ہے، غالباً یہ شب معراج کا ہے، اور حضرت جبرئیل نے رسول اللہ ﷺ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے جو یہ فرمایا کہ ”یہ وہ کوثر ہے جو آپ کے رب نے آپ کو عطا کیا ہے“۔ تو یہ قرآن مجید کی آیت “إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الكَوْثَرَ”کی طرف اشارہ ہے، اس آیت میں فرمایا گیا ہے کہ ”ہم نے آپ کو کوثر دیا“ کوثر کے اصل معنی خیر کثیر کے ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو خیر کے جو خزانے عطا فرمائے، مثلاً قرآن و شریعت اور اعلیٰ روحانی صفات، اور دنیا اور آخرت میں آپ کی رفعتِ شان وغیرہ، سو یہ سب بھی کوثر کے عموم میں اگرچہ داخل ہیں، لیکن جنت کی یہ نہر اور اس سے متعلق وہ حوض جو میدانِ حشر میں ہو گا (جس سے اللہ کے بےشمار بندے سیراب ہوں گے) لفظِ کوثر کا خاص مصداق ہیں، یا یوں سمجھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دین و ایمان کے سلسلہ کی جو بیش بہا نعمتیں عطا فرمائی تھیں، جو آپ کے ذریعے سے اللہ کے بے شمار بندوں تک پہنچیں، آخرت میں ان کا ظہور اس نہر کوثر اور حوضِ کوثر کی شکل میں ہو گا، جن سے اللہ کے بے شمار بندے فیضیاب اور سیراب ہوں گے۔

103Maarif-ul-Hadith

حوض وکثر ، صراط اور میزان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حَوْضِي مَسِيرَةُ شَهْرٍ، وَزَوَايَاهُ سَوَاءٌ مَاؤُهُ أَبْيَضُ مِنَ اللَّبَنِ، وَرِيحُهُ أَطْيَبُ مِنَ المِسْكِ، وَكِيزَانُهُ كَنُجُومِ السَّمَاءِ، مَنْ يَشْرَبُ مِنْهَا فَلاَ يَظْمَأُ أَبَدًا» (رواه البخارى ومسلم)

عبد اللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے حوض کی مسافت ایک مہینہ کی ہے (یعنی اللہ تعالیٰ نے جو حوضِ کوثر مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس قدر طویل و عریض ہے کہ اس کی ایک جانب سے دوسری جانب تک ایک مہینہ کی مسافت ہے) اور اس کے زاویے (یعنی گوشے) بالکل برابر ہیں (اس کا مطلب بظاہر یہ ہے کہ وہ مربع ہے، اس کا طول و عرض یکساں ہے) اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید ہے، اور اس کی خوشبو مشک سے بھی بہتر ہے، اور اس کے کوزے آسمان کے تاروں کی طرح ہیں (غالباًاس کا مطلب یہ ہے کہ آسمان کے ستارے جیسے حسین اور چمکدار ہیں، اور ان کی کثرت کی وجہ سے جس طرح انہیں گنا نہیں جا سکتا، اسی طرح میرے حوض کے کوزے بھی بے شمار اور حسین اور چمکدار ہیں) جو اس کا پانی پئیے گا، وہ کبھی پیاس میں مبتلا نہیں ہو گا۔ (بخاری و مسلم)

104Maarif-ul-Hadith

حوض وکثر ، صراط اور میزان

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الحَوْضِ، مَنْ مَرَّ عَلَيَّ شَرِبَ، وَمَنْ شَرِبَ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا، سَيَرِدَنَّ عَلَيَّ أَقْوَامٌ أَعْرِفُهُمْ وَيَعْرِفُونِي، ثُمَّ يُحَالُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ فَأَقُولُ إِنَّهُمْ مِنِّي، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ، فَأَقُولُ: سُحْقًا سُحْقًا لِمَنْ غَيَّرَ بَعْدِي» (رواه البخارى ومسلم)

حضرت سہل بن سعد سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں حوض کوثر پر تمہارا میرِ ساماں ہوں (اور تم سے آگے جا کے تمہاری پیاس کا انتظام کرنے والا ہوں) جو میرے پاس پہنچے گا، وہ آبِ کوثر سے پئیے گا، اور جو اس کو پی لے گا پھر کبھی وہ پیاس میں مبتلا نہ ہو گا، اور وہاں کچھ لوگ جن کو میں بھی پہچانوں گا، اور وہ بھی مجھے پہنچانیں گے میری طرف آئیں گے، لیکن میرے اور ان کے درمیان رکاوٹ ڈال دی جائے گی (اور انہیں میرے پاس آنے سے روک دیا جائے گا) تو میں کہوں گا کہ یہ آدمی تو میرے ہیں، پس مجھے جواب دیا جائے گا کہ تمہیں معلوم نہیں ہے کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا نئی نئی باتیں نکالیں (اور کیا کیا رخنے ڈالے) تو میں کہوں گا کہ بربادی اور دوری ہو ان کے لئے جنہوں نے میرے بعد دین میں فرق ڈالا اور اس کو گڑ بڑ کیا۔ (بخاری و مسلم) تشریح حدیث میں جن لوگوں کے متعلق خبر دی گئی ہے کہ وہ حوض کوثر پر رسول اللہصﷺ کے پاس جانے سے روک دئیے جائیں گے، اس کا تعین مشکل ہے، کہ یہ کون اور کس طبقے کے لوگ ہوں گے اور نہ اس کا معلوم کرنا ہمارے لیے ضروری ہے، اس حدیث کا خاص سبق ہمارے لیے تو بس یہ ہے کہ اگر ہم کوثر پر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے آرزو مند ہیں تو مضبوطی سے اس دین پر قائم رہیں، جو رسول اللہ ﷺ ہمارے لیے لائے تھے اور اس میں اپنی طرف سے کوئی ایجاد اور کوئی رد و بدل نہ کریں۔

105Maarif-ul-Hadith

حوض وکثر ، صراط اور میزان

عَنْ ثَوْبَانَ عَنِ النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : «حَوْضِي مِنْ عَدَنَ إِلَى عَمَّانَ الْبَلْقَاءِ، مَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، وَأَكْوَابُهُ عَدَدُ نُجُومِ السَّمَاءِ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ شَرْبَةً لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا. أَوَّلُ النَّاسِ وُرُودًا فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ الشُّعْثُ رُءُوسًا الدُّنْسُ ثِيَابًا الَّذِينَ لَا يَنْكِحُونَ الْمُتَنَعِّمَاتِ، وَلَا تُفْتَحُ لَهُمْ السُّدَدِ»(رواه احمد والترمذى وابن ماجه)

ثوبان سے روایت ہے، وہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ میرے حوض کی مسافت (اتنی ہے جتنی کہ) عَدَن سے عمانِ بلقاء تک، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اورشہد سے زیادہ شیریں ہے، اور اس کے گلاس گنتی میں آسمان کے ستاروں کی طرح (بےشمار) ہیں (اس کے پانی کی یہ صفت ہے کہ) جو اس میں سے ایک دفعہ پی لے گا، اسے اس کے بعد کبھی پیاس کی تکلیف نہیں ہو گی، اس حوض پر سب لوگوں سے پہلے میرے پاس پہنچنے والے فقراء مہاجرین ہوں گے، پریشان و پراگندہ سروں والے، میلے کچیلے کپڑوں والے، جن کا نکاح خوش حال و خوش عیش عورتوں سے نہیں ہو سکتا، اور جن کے لیے دورازے نہیں کھولے جاتے (یعنی جن کو خوس آمدید نہیں کہا جاتا)۔ (احمد، ترمذی، ابن ماجہ) تشریح عَدَن مشہور مقام ہے، اور عمان بھی شام کے علاقہ کا مشہور شہر ہے، بلقاء عمان کے قریب ایک بستی تھی، بطور امتیاز اور نشانی کے اس حدیث میں ”عمان بلقاء“ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، اور مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں عدن اور بلقاء کے قریب والے عمان کے درمیان جتنا فاصلہ ہے، آخرت میں حوض کوثر کی مسافت اتنی ہو گی، اور واضح رہے کہ یہ بھی کوئی ناپی ہوئی مسافت نہیں ہے، کہ ٹھیک اتنے ہی میل اور اتنے ہی فرلانگ اور اتنے ہی فٹ ہوں۔ بلکہ حوض کی وسعت کو سمجھانے کے لیے عرف کے مطابق یہ ایک تقریبی بات کہی گئی ہے، اور مطلب یہ ہے کہ حوض کی مسافت سینکڑوں میل کی ہو گی۔ آخر میں فرمایا گیا کہ سب سے پہلے حوض پر پہنچنے والے اور اس سے سیراب ہونے والے وہ غریب مہاجرین ہوں گے جو اپنے فقر و تنگدستی اور دنیا کی بے رغبتی کی وجہ سے اس حال میں رہتے ہیں کہ، ان کے سروں کے بال بنے سنورے نہیں رہتے، بلکہ بکھرے ہوئے اور الجھے ہوئے رہتے ہیں اور کپڑے بھی ان کے اچھے اجلے نہیں رہتے، بلکہ میلے کچیلے رہتے ہیں، جو اگر نکاح کرنا چاہیں تو ان کی اس حالت کی وجہ سے خوش عیش اور خوش حال گھرانوں کی بیٹیاں ان کے نکاحوں میں نہ دی جائیں، اور وہ کسی کے گھر پر جائیں، تو ان کے میلے کچیلے کپڑے، اور ان کی شکل و صورت کی وجہ سے کوئی ان کے لیے اپنا دروازہ نہ کھولے، اور ان کی خوش آمدید نہ کہے۔ معلوم ہوا کہ اللہ کے جن بندوں کا حال یہ ہو، کہ دنیا کی بےرغبتی اور دین میں انہماک اور فکر آخرت کے غلبہ کی وجہ سے اس دنیا میں وہ غریب و تنگدست ہو کر رہیں، نہ اپنی صورتوں کے بناؤ سنگار کی فکر رکھیں، نہ لباس پوشاک کی، وہ اپنی غربت اور دینوی عیش کی اس قربانی کی وجہ سے آخرت کے انعامات میں مقدم اور فائق رہیں گے، ہمارے اس زمانہ کے جو حضرات اس طرزِ عمل کو کسی غلط فہمی کی وجہ سے ’تقثف‘ اور رہبانیت پسندی اور دین کے غلط تصور کا نتیجہ سمجھتے ہیں، چاہیے کہ وہ اس قوم کی حدیثوں پر غور کریں۔ ہر زمانہ کے کچھ امراض ہوتے ہٰن جس طرح پہلے کسی زمانہ میں واقعی رہبانیت اور ترک دنیا کی غلط اور غیر اسلامی صورتوں کو اسلام کا پسندیدہ زُہد بعض حلقوں میں سمجھا اور سمجھایا جاتا تھا، اسی طرح ہمارے اس زمانے میں (شاید اس کے ردِ عمل میں) بعض حلقوں کا مستقل رجحان یہ ہے کہ اسلام کو اور اس کی تعلیمات کو اس دور کے مادہ پرستانہ اور نفس پرستانہ تقاضوں سے زیادہ سے زیادہ ہم آہنگ کیا جائے۔ وَاللَّهُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ

106Maarif-ul-Hadith

حوض وکثر ، صراط اور میزان

عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوْضًا وَإِنَّهُمْ لَيَتَبَاهَوْنَ أَيُّهُمْ أَكْثَرُ وَارِدَةً، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ وَارِدَةً» (رواه الترمذى)

حضرت سمرہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آخرت میں ہر نبی کا ایک حوض ہو گا، اور ان کے درمیان اس پر فخر ہو گا کہ ان میں سے کس کے پاس پینے والے زیادہ آتے ہیں،اور میں امید رکھتا ہوں کہ سب سے زیادہ لوگ پینے کے لیے میرے پاس آئیں گے (اور میرے حوض سے سیراب ہوں گے)۔ (ترمذی)

107Maarif-ul-Hadith

حوض وکثر ، صراط اور میزان

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَشْفَعَ لِي يَوْمَ القِيَامَةِ، فَقَالَ: «أَنَا فَاعِلٌ» قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيْنَ أَطْلُبُكَ؟ قَالَ: «اطْلُبْنِي أَوَّلَ مَا تَطْلُبُنِي عَلَى الصِّرَاطِ». قَالَ: قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَلْقَكَ عَلَى الصِّرَاطِ؟ قَالَ: «فَاطْلُبْنِي عِنْدَ المِيزَانِ». قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَلْقَكَ عِنْدَ المِيزَانِ؟ قَالَ: «فَاطْلُبْنِي عِنْدَ الحَوْضِ فَإِنِّي لَا أُخْطِئُ هَذِهِ الثَّلَاثَ المَوَاطِنَ» (رواه الترمذى)

حضرت انس (خادم رسول ﷺ) روایت ہے کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ قیامت کے روز آپ میری سفارش فرمائیے گا! آپ نے فرمایا، کہ میں تمہارا یہ کام کروں گا، میں نے عرض کیا تو (قیامت کے روز) میں آپ کو کہاں تلاش کروں؟ آپ نے فرمایا سب سے پہلے جب تمہیں میری تلاش ہو، تو صراط پر مجھے دیکھنا میں نے عرض کیا اگر میںآپ کو صراط پر نہ پا سکوں، تو پھر کہاں تلاش کروں؟ آپ نے فرمایا، تو پھر مجھے میزان کے پاس تلاش کرنا! میں نے عرض کیا، اور اگر میں میزان کے پاس بھی آپ کو نہ پا سکوں، تو پھر کہاں تلاش کروں؟ آپ نے فرمایا، تو پھر مجھے حوض کے پاس دیکھنا! کیوں کہ میں اس وقت ان تین مقامات سے دور کہیں نہ جاؤں گا۔ (ترمذی) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آخرت کی شفاعت ایسی چیز ہے جس کی رسول ﷺ سے درخواست کی جا سکتی ہے اور اگرچہ اس حدیث میں حضور نے اپنے ملنے کے مقامات حضرت انسؓ کو بتلائے ہیں، لیکن دراصل شفاعت کے سب حاجت مندوں کے لیے حضور نے اپنے ملنے کے یہ پتے بتلائے ہیں۔

108Maarif-ul-Hadith

حوض وکثر ، صراط اور میزان

عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: شِعَارُ الْمُؤْمِنِ عَلَى الصِّرَاطِ، رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ. (رواه الترمذى)

حضرت مغیرہ بن شعبہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، کہ قیامت کے دن صراط پر اہلِ ایمان کا شعار (یعنی ان کا امتیازی وظیفہ) یہ دعائی کلمہ ہو گا۔”رب سلم سلم“ (اے ہمارے پروردگار ہمیں سلامت رکھ، اور سلامتی کے ساتھ پار لگا)۔

109Maarif-ul-Hadith

شفاعت

عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ مَاجَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَيَأْتُونَ آدَمَ فَيَقُولُونَ لَهُ: اشْفَعْ لِذُرِّيَّتِكَ، فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَإِنَّهُ خَلِيلُ اللهِ، فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَإِنَّهُ كَلِيمُ اللهِ، فَيُؤْتَى مُوسَى، فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِعِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ ، فَإِنَّهُ رُوحُ اللهِ وَكَلِمَتُهُ، فَيُؤتَى عِيسَى، فَيَقُولُ: لَسْتُ لَهَا، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُوتَى، فَأَقُولُ: أَنَا لَهَا، فَأَنْطَلِقُ فَأَسْتَأْذِنُ عَلَى رَبِّي، فَيُؤْذَنُ لِي، فَأَقُومُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَأَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ الْآنَ، يُلْهِمُنِيهِ اللهُ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا، فَيُقَالُ لِي: يَا مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ: يُسْمَعْ لَكَ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُولُ: رَبِّ، أُمَّتِي أُمَّتِي، فَيُقَالُ: انْطَلِقْ، فَمَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ بُرَّةٍ، أَوْ شَعِيرَةٍ مِنْ إِيمَانٍ، فَأَخْرِجْهُ مِنْهَا، فَأَنْطَلِقُ فَأَفْعَلُ، ثُمَّ أَرْجِعُ إِلَى رَبِّي فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا، فَيُقَالُ لِي: يَا مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ يُسْمَعْ لَكَ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُولُ: أُمَّتِي أُمَّتِي، فَيُقَالُ لِي: انْطَلِقْ فَمَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجْهُ مِنْهَا، فَأَنْطَلِقُ فَأَفْعَلُ، ثُمَّ أَعُودُ إِلَى رَبِّي فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا، فَيُقَالُ لِي: يَا مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ يُسْمَعْ لَكَ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، أُمَّتِي أُمَّتِي، فَيُقَالُ لِي: انْطَلِقْ فَمَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ أَدْنَى أَدْنَى أَدْنَى مِنْ مِثْقَالِ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجْهُ مِنَ النَّارِ فَأَنْطَلِقُ فَأَفْعَلُ "، هَذَا حَدِيثُ أَنَسٍ الَّذِي أَنْبَأَنَا بِهِ، فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ، فَلَمَّا كُنَّا بِظَهْرِ الْجَبَّانِ، قُلْنَا: لَوْ مِلْنَا إِلَى الْحَسَنِ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ وَهُوَ مُسْتَخْفٍ فِي دَارِ أَبِي خَلِيفَةَ، قَالَ: فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ، فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ، فَقُلْنَا: يَا أَبَا سَعِيدٍ، جِئْنَا مِنْ عِنْدِ أَخِيكَ أَبِي حَمْزَةَ، فَلَمْ نَسْمَعْ مِثْلَ حَدِيثٍ حَدَّثَنَاهُ فِي الشَّفَاعَةِ، قَالَ: هِيَهِ، فَحَدَّثْنَاهُ الْحَدِيثَ، فَقَالَ: هِيَهِ قُلْنَا: مَا زَادَنَا، قَالَ: قَدْ حَدَّثَنَا بِهِ مُنْذُ عِشْرِينَ سَنَةً وَهُوَ يَوْمَئِذٍ جَمِيعٌ، وَلَقَدْ تَرَكَ شَيْئًا مَا أَدْرِي أَنَسِيَ الشَّيْخُ، أَوْ كَرِهَ أَنْ يُحَدِّثَكُمْ، فَتَتَّكِلُوا، قُلْنَا لَهُ: حَدِّثْنَا، فَضَحِكَ وَقَالَ: {خُلِقَ الْإِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ} ، مَا ذَكَرْتُ لَكُمْ هَذَا إِلَّا وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُحَدِّثَكُمُوهُ، " ثُمَّ أَرْجِعُ إِلَى رَبِّي فِي الرَّابِعَةِ، فَأَحْمَدُهُ بِتِلْكَ الْمَحَامِدِ، ثُمَّ أَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا، فَيُقَالُ لِي: يَا مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ يُسْمَعْ لَكَ، وَسَلْ تُعْطَ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، ائْذَنْ لِي فِيمَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، قَالَ: لَيْسَ ذَاكَ لَكَ - أَوْ قَالَ: لَيْسَ ذَاكَ إِلَيْكَ - وَلَكِنْ وَعِزَّتِي وَكِبْرِيَائِي وَعَظَمَتِي وَجِبْرِيَائِي، لَأُخْرِجَنَّ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، " (رواه البخارى ومسلم)

انسؓ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا کہ: جب قیامت کا دن ہو گا (اور سب اولین و آخرین میدانِ حشر میں جمع ہوں گے) تو لوگوں میں سخت اضطراب اور اژدحام کی کیفیت ہو گی، پس وہ لوگ (یعنی اہلِ محشر کے کچھ نمائندے) آدم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے، کہ اپنے رب سے ہماری سفارش کر دیجئے (کہ ہمیں اس حالت سے چھٹکارا ملے) آدم علیہ السلام فرمائیں گے کہ میں اس کام کے لائق اور اس مرتبہ کا نہیں ہوں، لیکن تم کو چاہئے کہ ابراہیم کے پاس جاؤ وہ اللہ کے خلیل ہیں (شاید وہ تمہارے کام آ سکیں) پس وہ لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور ان کےسامنے شفاعت کا اپنا سوال رکھیں گے وہ بھی فرمائیں گے کہ میں اس کام کے لائق نہیں ہوں، لیکن تمہیں موسیٰ کے پاس جانا چاہیے وہ اللہ کے کلیم ہیں (جنہیں اللہ نے بلا واسطہ اپنی ہم کلامی کا شرف بخشا ہے) شاید وہ تمہارا کام کر سکیں، پس وہ لوگ موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے (اور اپنی وہی عرض ان کے سامنے رکھیں گے) وہ بھی یہی فرمائیں گے کہ میں اس کام کے لائق نہیں ہوں، لیکن تمہیں عیسیٰ کے پاس جانا چاہیے وہ کلمۃ اللہ ہیں (یعنی اللہ نے ان کو انسانی پیدائش کے عام مقررہ اسباب کے بغیر صرف اپنے حکم سے پیدا کیا ہے، اور ان کو غیر معمولی قسم کی روح اور روحانیت بخشی ہے) تم ان کی خدمت میں جاؤ شاید وہ تمہارے لئے حق تعالیٰ سے عرض کرنے کی جرأت کر سکیں، پس یہ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے (اور ان سے شفاعت کی درخواست کریں گے) وہ بھی یہی فرمائیں گے کہ میں اس کام کا اور اس مرتبہ کا نہیں ہوں، تم کو (اللہ کے آخری نبی) محمدﷺ کی خدمت میں حاضر ہونا چاہیے (رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ) پھر وہ لوگ میرے پاس آئیں گے، (اور شفاعت کے لیے مجھ سے کہیں گے) پس میں کہوں گا، کہ میں اس کام کا ہوں (اور یہ میرا ہی کام ہے) پس میں اپنے رب کریم کی بارگاہِ خاص میں حاضری کی اجازت طلب کروں گا، مجھے اجازت دے دی جائے گی (میں وہاں حاضر ہو جاؤں گا) اور اللہ تعالیٰ اس وقت مجھے اپنی خاص تعریفیں اپنی حمد کے لیے الہام فرمائیں گے (جو اس وقت مجھے معلوم نہیں ہیں) تو اس وقت میں انہی الہامی محامد کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کروں گا، اور اس کے آگے سجدہ میں گر جاؤں گا (مسند احمد کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ےہ کہ آپ وہاں ایک ہفتہ تک سجدہ میں پڑے رہیں گے، اس کے بعد) اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو فرمایا جائے گا، کہ اے محمد! سر اُٹھاؤ، اورجو کہنا ہو کہو، تمہاری سنی جائے گی، اور جو مانگنا ہو مانگو تم کو دیا جائے گا، اور جو سفارش کرنا چاہو کرو، تمہاری مانی جائے گی، پس میں کہوں گا اے پروردگار! میری امت، میری امت! (یعنی میری امت پر آج رحم فرمایا جائے اور اس کو بخش دیا جائے) پس مجھ سے کہا جائے گا، جاؤ اور جس کے دل میں جَو کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو، اس کو نکال لو، پس میں جاؤں گا، اور ایسا کروں گا (یعنی جن کے دل میں جَو کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو گا، اس کو نکال لاؤں گا) اور پھر اللہ تعالیٰ کی بارگاہِ کرم کی طرف لوٹوں گا اور پھر ان ہی الہامی محامد کے ذریعے اس کی حمد و ثنا کروں گا، اور اس کے آگے پھر سجدہ میں گر جاؤں گا۔ پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرمایا جائے گا، اسے محمد! سر اُٹھاؤ، اور جو کہنا ہو کہو تمہاری بات سنی جائے گی، اور جو مانگنا ہو مانگو تم کو دیا جائے گا، اور جو سفارش کرنا چاہو کرو، تمہاری شفاعت مانی جائے گی، پس میں عرض کروں گا اے پروردگار! میری امت، میری امت! تو مجھ سے فرمایا جائے گا، کہ جاؤ اور جن کے دل میں ایک ذرہ کے بقدر (یا فرمایا، کہ رائی کے دانہ کے بقدر) بھی ایمان ہو، ان کو بھی نکال لو، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں، کہ میں جاؤں گا اور ایسا کروں گا (یعنی جن کے دلوں میں ذرہ برابر، یا رائی کے دانہ کے برابر نورِ ایمان ہو گا، ان کو بھی نکال لاؤں گا) اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہِ کرم کی طرف پھر لوٹوں گا اور پھر ان ہی الہامی محامد کے ذریعہ اُس کی حمد و ثنا کروں گ، اور اس کے آگے پھر سجدہ میں گر جاؤں گا پس مجھ سے فرمایا جائے گا، اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ، اور جو کہنا ہو کہو تمہاری سنی جائے گی، اور جو مانگنا چاہو مانگو، تم کو دیا جائے گا، اور جو سفارش کرنا چاہو کرو، تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی، پس میں عرض کروں گا میرے رب! میری امت، میری امت! پس مجھ سے فرمایا جائے گا، جاؤ اور جن کے دل میں رائی کے دانہ سے کم سے کمتر بھی ایمان ہو، ان کو بھی نکال لو، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ پس میں جاؤں گا اور ایسا کروں گا (یعنی جن کے دل میں رائی کے دانہ سے کم سے کمتر بھی ایمان کا نور ہو گا، ان کو بھی نکال لاؤں گا) اور اس کے بعد چوتھی دفعہ پھر اللہ تعالیٰ کی بارگاہِ کرم کی طرف لوٹ آؤں گا، اور ان ہی الہامی محامد کے ذریعے اس کی حمد کروں گا پھر اس کے آگے سجدہ میں گر جاؤں گا، پس مجھ سے فرمایا جائے گا اے محمد! اپنا سر سجدہ سے اٹھاؤ، اور جو کہنا ہو کہا، تمہاری سنی جائے گی، اور جو مانگنا چاہو مانگو تم کو دیا جائے گا، اور جو سفارش کرنا چاہو کرو، تمہاری سفارش مانی جائے گی، پس میں عرض کروں گا کہ اے پروردگار! مجھے اجازت دیجئے کہ ان سب کے حق میں جنہوں نے لا الہ الا اللہ کہا ہو، اللہ تعالیٰ فرمائے گا، یہ کام تمہارا نہیں ہے، لیکن میری عزت و جلال اور میری عظمت و کبریائی کی قسم، میں خود دوزخ سے ان سب کو نکال لوں گا، جنہوں نے لا الہ الا اللہ کہا ہو۔ (بخاری و مسلم) تشریح شفاعت محشر میں پیش آنے والے جن واقعات کی اطلاع احادیث میں صراحت کے ساتھ دی گئی ہے اور جن پر ایک مومن کو یقین لانا ضروری ہے، ان میں سے ایک رسول اللہ ﷺ کی شفاعت بھی ہے، شفاعت کے متعلق حدیثیں اتنی کثرت سے وارد ہوئی ہیں کہ سب ملا کر تواتر کی حد کو پہنچ جاتی ہیں۔ پھر شفاعت کی ان حدیثوں کے مجموعہ سے سمجھ کر شارحین نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی شفاعت کئی قسم کی ہو گی، اور بار بار ہو گی، سب سے پہلے جب کہ سارے اہلِ محشر اللہ کے جلال سے سراسیمہ اور خوفزدہ ہوں گے اور کسی کو لب ہلانے کی جرأت نہیں ہو گی، اور آدمؑ سے لیکر عیسیٰؑ تک تمام اولولعزم پیغمبر بھی ”نفسی نفسی“ کے عالم میں ہوں گے اور کسی کے لیے شفاعت کی جرأت نہ کر سکیں گے، تو اس وقت عام اہلِ محشر کی درخواست پر، اور ان کی تکلیف سے متاثر ہو کر رسول اللہ نیاز مندی اور حسن ادب کے ساتھ (جو آپ کے شایان شان ہے) بارگاہِ رب العزت میں اہل محشر کے لیے سفارش کریں گے، کہ ان کو اس کی فکر اور بےچینی کی حالت سے نجات دی جائے، اور ان کا حساب کتاب اور فیصلہ فرما دیا جائے۔ بارگاہِ جلالت میں اس دن یہ سب سے پہلی شفاعت ہو گی، اور یہ شفاعت صرف آپ ہی فرمائیں گے۔ اس کے بعد ہی حساب اور فیصلہ کا کام شروع ہو جائے گا، یہ شفاعت جیسا کہ عرض کیا گیا عام اہلِ محشر کے لیے ہو گی، اس لیے اس کو ”شفاعت عظمیٰ“ بھی کہتے ہیں، اس کے بعد آپ اپنی امت کے مختلف درجہ کے ان گنہگاروں کے بارے میں جو اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے جہنم کے سزاوار ہوں گے، یا جو جہنم میں ڈالے جا چکے ہوں گے، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کریں گے کہ ان کو معاف کر دیا جائے، اور جہنم سے ان کو نکالنے کی اجازت دے دی جائے، آپ کی یہ شفاعت بھی قبول ہو گی، اور اس کی وجہ سے خطا کار امتیوں کی بہت بڑی تعداد جہنم سے نکالی جائے گی، اس کے علاوہ کچھ صالحین امت کے لیے آپ اس کی بھیشفاعت کریں گے کہ ان کے لیے بغیر حساب کے داخلہ جنت کا حکم دے دیا جائے۔ اسی طرح اپنے بہت سے امتیوں کے حق میں آپ ترقی درجات کی بھی اللہ تعالیٰ سے استدعا کریں گے، حدیثوں میں شفاعت کے ان تمام اقسام اور واقعات کی تفصیل وارد ہوئی ہے۔ پھر حدیثوں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ شفاعت کا دروازہ کھل جانے کے بعد اور انبیاء علیہم السلام، ملائکہ عظام اور اللہ کے دوسرے صالح اور مقرب بندے بھی اپنے سے تعلق رکھنے والے اہلِ ایمان کے حق میں شفارشیں کریں گے، یہاں تک کہ کم عمر میں فوت ہونے والے اہلِ ایمان کے معصوم بچے بھی اپنے ماں باپ کے لئے سفارشیں کریں گے، اسی طرح بعض اعمال صالحہ بھی اپنے عاملوں کے لیے سفارش کریں گے۔ اور یہ سفارشیں بھی قبول فرمائی جائیں گی، اور بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہو گی جن کی نجات اور بخشش ان ہی سفارشوں ہی کے بہانہ ہو گی۔ مگر لحاظ رہے کہ یہ سب شفاعتیں اللہ کے اذن سے اور اس کی مرضی اور اجازت سے ہوں گی، ورنہ کسی نبی اور کسی فرشتہ کی بھی یہ مجال نہیں ہے کہ وہ اللہ کی مرضی کے بغیر کسی ایک آدمی کو بھی دوزخ سے نکال سکے۔ یا اس کا اذن اور ایما پائے بغیر کسی کے حق میں سفارش کے لیے زبان کھول سکے۔ قرآن پاک میں ہے: مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ، إِلَّا بِإِذْنِهِ کون ہے جو اس کی بارگاہ میں بغیر اس کی اجازت کے کسی کی سفارش کر سکے۔ دوسرے موقع پر فرمایا گیا: وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَى اور وہ نہیں سفارش کر سکیں گے مگر صرف اس کے لیے جس کے لیے اس کی رضا ہو۔ بلکہ علماء کرام نے جیسا کہ فرمایا ہے، شفاعت در اصل شفاعت کرنے والوں کی عظمت و مقبولیت کے اظہار کے لیے اور ان کے اکرام و اعزاز کے واسطے ہو گی، ورنہ حق تعالیٰ کے کاموں اور اس کے فیصلوں میں دخل دینے کی کسے مجال ہے۔ “يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ، وَيَحْكُمُ مَا يُرِيدُ”اس کی شان یہ ہے۔ اس تمہید کے بعد ذیل میں بابِ شفاعت کی حدیثیں پڑھیئے! اس حدیث میں چند باتیں تشریح طلب ہیں: ۱۔ حدیث میں جو کے برابر، رائی کے دانہ کے برابر، اور رائی کے دانہ سے کم سے کمتر، دل میں ایمان ہونے کا جو ذکر ہے، اس سے مراد نورِ ایمان اور ثمرات ایمان کے خاص خاص درجے ہیں۔ جن کا ادراک ہم کو تو نہیں ہوتا، لیکن حضور ﷺ کی بصیرت اس وقت اس کا ادراک کر لے گی، اور آپ ان درجوں والوں کو اللہ کے حکم سے نکال لائیں گے۔ ۲۔ حدیث کے آخری حصے میں مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی امت کے لیے تین دفعہ شفاعت فرمانے کے بعد چوتھی دفعہ حق تعالیٰ سے درخواست کریں گے کہ مجھے ان لوگوں کے بارے میں اجازت دی جائے جنہوں نے لا الہ الا اللہ کہا ہو، اس کا مطلب بظاہر یہ ہے جن لوگوں نے آپ کی دعوتِ توحید کو تو قبول کر لیا، اور ایمان لے آئے، لیکن دوزخ سے نجات پانے اور جنت میں جانے کے لیے جو اور اعمال کرنا چاہئے تھے، وہ انہوں نے بالکل نہیں کئے، تو مطلب یہ ہواکہ رسول اللہ ﷺ آخر میں ایسے لوگوں کو بھی دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کرنے کی اجازت چاہیں گے جن کے پاس کسی درجہ کا مجرد ایمان اور توحید اعتقاد تو ہو گا لیکن عمل خیر سے وہ بالکل خالی ہوں گے (بخاری و مسلم ہی کی ابو سعید خدریؓ کی حدیث میں غالباً اسی گروہ کے حق میں “لَمْ يَعْمَلُوْا خَيْرًا قَطُّ” کے الفاظ آئے ہیں، جن کا مطلب یہی ہے کہ انہوں نے کبھی کوئی نیک عمل نہیں کیا ہو گا) اللہ تعالیٰ فرمائیں گے “لَيْسَ ذَالِكَ لَكَ” یعنی ان مسکینوں کو جہنم سے نکالنے کا کام میں نے آپ کے لیے نہیں رکھا، یا مطلب یہ ہے کہ آپ کے لیے یہ سزا وار اور مناسب نہیں ہے، بلکہ یہ کام میری عزت و جلال اور میری عظمت و کبریائی اور شان “فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ” کے لیے ہی سزاوار ہے، اس لیے اس کو میں خود ہی کروں گا۔ اس عاجز کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے ایمان لا کر احکام کی تعمیل بالکل نہیں کی، ایسوں کو دوزخ سے نکالنا پیغمبر کے لئے مناسب نہیں ہے، اس درجہ کا عفو و درگزر اللہ ہی کے لئے سزاوار ہے۔ واللہ اعلم۔ ۴۔ معلوم ہوتا ہے اس روایت میں آدمؑ کے بعد اور ابراہیمؑ سے پہلے اہلِ محشر کے نوح علیہ السلام کی خدمت میں بھی حاضر ہونے کا ذکر ہے جو اس میں نہیں ہے۔ نیز اس میں صرف اپنی امت کے حق میں رسول اللہ ﷺ کی شفاعت کا ذکر ہے، حالانکہ قرین قیاس یہ ہے کہ پہلے آپ عام اہلِ محشر کے لیے حساب اور فیصلہ کی شفاعت فرمائیں گے جس کو “شفاعتِ کبریٰ” کہتے ہیں، پھر جب حساب کے نتیجہ میں بہت سے آپ کے امتی اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے دوزخ کی طرف بھیج دئیے جائیں گے، تو آپ ان کو دوزخ سے نکالنے اور جنت میں داخل کرانے کے لئے شفاعت فرمائیں گے۔ واللہ اعلم۔ ۴۔ اہلِ محشر کے جو نمائندے کسی شفیع کی تلاش میں نکلیں گے، اس وقت اللہ تعالیٰ ان کے دل میں یہی ڈالے گا، کہ وہ پہلے آدم علیہ السلام کی خدمت میں اور پھر ان کی رہنمائی اور مشورہ سے نوح علیہ السلام کی خدمت میںإ اور پھر اسی طرح ابراہیم اور موسیٰ و عیسیٰ (علیہم السلام) کی خدمت میں حاضر ہوں یہ سب منجانب اللہ اس دن اس لئے ہو گا کہ عملی طور پر سب کو معلوم ہو جائے کہ اس شفاعت کا منصب اور “مقام محمود” اس کے آخری نبی کے لیے مخصوص ہے۔ بہر حال اس دن یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کی عظمت اور رفعتِ مقام کے برسرِ محشر اظہار کے لئے ہو گا۔

110Maarif-ul-Hadith

شفاعت

عَنْ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنْ اُمَّتِىْ مِنَ النَّارِ بِشَفَاعَتِىْ يُسَمَّوْنَ الجَهَنَّمِيِّينَ» (رواه البخارى)

عمران بن حصین سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: ایک گروہ میری امت میں سے میری شفاعت سے دوزخ سے نکالا جائے گا، جن کو ”جہنمیوں “ کے نام سے یاد کیا جائے گا۔ (بخاری) تشریح ان کی توہین و تنقیص نہ ہو گی، بلکہ جہنم سے نکالے جانے کی وجہ سے ان کا یہ نام پڑ جائے گا، جو ان کے لئے خوشی کا باعث ہو گا، کیوں کہ یہ اللہ کے کرم کو یاد دلائے گا۔

111Maarif-ul-Hadith

شفاعت

عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَانِي آتٍ مِنْ عِنْدِ رَبِّي فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يُدْخِلَ نِصْفَ أُمَّتِي الجَنَّةَ وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ، فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ، وَهِيَ لِمَنْ مَاتَ لاَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا. (رواه الترمذى وابن ماجه)

حضرت عوف بن مالک سے روایت ہے کہتے ہیں، کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا پیغام لے کر آیا، اس میں میرے رب نے مجھے اختیار دیا کہ میں ان دو باتوں میں سے کوئی ایک بات اختیار کر لوں، یا یہ کہ اللہ تعالیٰ میری نصف امت کو جنت میں داخل فرما دیں، یا یہ کہ مجھے شفاعت کا موقع ملے، تو میں نے حقِ شفاعت کو اختیار کر لیا اور میری شفاعت ان لوگوں کے لیے ہو گی، جو (ایمان اور توحید کی میری دعوت کو قبول کر کے) اس حال میں مرے، کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے تھے۔

112Maarif-ul-Hadith

شفاعت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِي يَوْمَ القِيَامَةِ مَنْ قَالَ: لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، خَالِصًا مِنْ قَلْبِهِ، أَوْ نَفْسِهِ» (رواه البخارى)

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: قیامت کے دن میری شفاعت سے بہرہ مند وہی ہوں گے جنہوں نے خلوصِ قلب سے لا الہ الا اللہ کہا ہو۔ (بخاری) تشریح اس حدیث کا بھی مطلب وہی ہے جو اوپر والی حدیث میں دوسرے لفظوں میں فرمایا گیا، یعنی جو شرک کی بیماری میں مبتلا ہو گا اس کو شفاعت سے فائدہ نہ ہو گا، ہاں اگر شرک سے پاک ہو گیا ہے، اور دوسرے قسم کے گناہ ہیں، تو اس کو رسول اللہ ﷺ کی شفاعت سے فائدہ ہو گا۔

113Maarif-ul-Hadith

شفاعت

عَنْ أَنَسِ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي» (رواه الترمذى و ابو داؤد وابن ماجه عن جابر)

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری شفاعت میری امت کے ان لوگوں کے حق میں ہو گی جو کبیرہ گناہوں کے مرتکب ہوئے ہوں گے، (ترمذی و ابو داؤد) اس حدیث کو ابن ماجہ نے بجائے حضرت انسؓ کے حضرت جابر سے روایت کیا ہے۔ تشریح اس قسم کی حدیثوں سے نڈر اور بے خوف ہو کر گناہوں پر اور زیادہ جری ہو جانابڑا کمینہ پن ہے، حضور ﷺ کے اس قسم کے ارشادات کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جن لوگوں سے شامتِ نفس سے گناہ ہو جائیں، وہ بھی مایوس اور نا امید نہ ہوں، میں ان کی شفاعت کروں گا اس لئے وہ شفاعت کا استحقاق پیدا کرنے کے لیے اللہ کے ساتھ اپنے بندگی کے تعلق کو، اور میرے امتی ہونے کے تعلق کو درست کرنے کی فکر کریں۔

114Maarif-ul-Hadith

شفاعت

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَلَا قَوْلَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي إِبْرَاهِيمَ: {رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي} وَقَالَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ: {إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ: «اللهُمَّ أُمَّتِي أُمَّتِي»، وَبَكَى، فَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: «يَا جِبْرِيلُ اذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ، وَرَبُّكَ أَعْلَمُ، فَسَلْهُ مَا يُبْكِيكَ؟» فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، فَسَأَلَهُ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا قَالَ، وَهُوَ أَعْلَمُ، فَقَالَ اللهُ: " يَا جِبْرِيلُ، اذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ، فَقُلْ: إِنَّا سَنُرْضِيكَ فِي أُمَّتِكَ، وَلَا نَسُوءُكَ " (رواه مسلم)

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قرآن پاک میں حضرت ابراہیمؑ کے متعلق یہ آیت تلاوت فرمائی: “رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي” (میرے پروردگار! ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا ہے، یعنی ان کی وجہ سے بہت سے آدمی گمراہ ہوئے، پس جو لوگ میری پیروی کریں وہی میرے ہیں، پس ان کے لیے تو میں تجھ سے عرض کرتا ہوں کہ ان کو تو بخش ہی دے) اور عیسیٰ کا یہ قول بھی تلاوت فرمایا، جو قرآن پاک میں ہے: “إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ” (اے اللہ! اگر میری امت کے ان لوگوں کو عذاب دیں، تو یہ آپ کے بندے ہیں، یعنی آپ کو عذاب و سزا کا پورا حق ہے) یہ دونوں آیتیں تلاوت فرما کر رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو یاد کیا، اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے، اور کہا: ”اے میرے اللہ! میری امت، میری امت! اور آپ اس دعا میں روئے، اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل کو فرمایا، تم محمد کے پاس جاؤ۔ اور اگرچہ تمہارا رب سب کچھ خوب جانتا ہے مگر پھر بھی تم جا کر ہماری طرف سے پوچھو، کہ ان کے اس رونے کا کیا سبب ہے۔ پس جبرئیل آپ کے پاس آئے، اور آپ سے پوچھا، آپ نے جبرئیل کو وہ بتلا دیا جو اللہ سے عرض کیا تھا (یعنی یہ کہ اس وقت میرے رونے کا سبب امت کی فکر ہے، جبرئیل نے جا کر اللہ تعالیٰ سے عرض کیا) تو اللہ تعالیٰ نے جبرئیل کو فرمایا، کہ محمد کے پاس جاؤ، اور ان کو ہماری طرف سے کہو، کہ تمہاری امت کے بارہ میں ہم تمہیں راضی اور خوش کر دیں گ اور تمہیں رنجیدہ اور غمگین نہیں کریں گے“۔ (مسلم) تشریح حاصل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قرآن مجید کی دو آیتوں کی تلاوت فرمائی، ایک سورہ ابراہیم کی آیت، جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ کے متعلق ذکر فرمایا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے اپنی قوم اور اپنی امت کے بارے میں عرض کیا، کہ “فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي، وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ” (یعنی ان میں سے جن لوگوں نے میری بات مانی وہ تو میرے ہیں (اور میں ان کے لیے آپ سے مغفرت کی درخواست کرتا ہوں) اور جنہوں نے میری نافرمانی کی، تو آپ غفور رحیم ہیں، چاہیں تو ان کو بھی بخش سکتے ہیں)۔ اور دوسری آیت سورہ مائدہ کی، جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ذکر ہے، کہ وہ اپنے گمراہ امتیوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے عرض کریں گے، کہ “إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ” (اگر آپ ان کو عذاب دیں، تو یہ آپ کے بندے ہیں، اور آپ کو عذاب دینے کا پورا حق ہے، اور اگر آپ ان کو بخش دیں تو آپ غالب ہیں (سب کچھ کر سکتے ہیں) اور حکیم ہیں (جو کچھ کریں گے حکمت کے مطابق ہی ہو گا)۔ ان دونوں آیتوں میں اللہ کے دونوں جلیل القدر پیغمبروں نے پورے ادب، اور بڑی احتیاط کے ساتھ اپنی اپنی امتوں کے خطاکار لوگوں کے لیے دے لفظوں میں سفارش کی ہے۔ ان آیتوں کی تلاوت نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی امت کا مسئلہ یاد دلایا، اور آپ نے ہاتھ اٹھا کر اور رو کر بارگاہِ الہی میں اپنی فکر کو عرض کیا، جس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اطمینان دلایا، کہ آپ کی امت کا مسئلہ آپ کی مرضی اور خوشی کے مطابق ہی طے کر دیا جائے گا اور اس معاملہ کی وجہ سے آپ کو رنجیدہ اور غمگین ہونا نہیں پڑے گا۔ واقعہ یہ ہے کہ ہر پیغمبر کو اپنی امت کے، بلکہ ہر مقتدا کو اپنے متبعین اور منتسبین کے ساتھ ایک خاص قسم کی شفقت کا تعلق ہوتا ہے جس طرح کہ ہر شخص کو اپنی اولاد کے ساتھ ایک خاص تعلق ہوتا ہے جو دوسرے انسانوں کے ساتھ نہیں ہوتا، اور اس تعلق کی وجہ سے ان کی قدرتی خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ اللہ کے عذاسب سے چھٹکارا پائیں، اور اس شفقت اور رأفت میں رسول اللہ ﷺ سب پیغمبروں سے بڑھے ہوئے ہیں اور اس لیے قدرتی طور پر آپ کی یہ بڑی خواہش ہے، جو مختلف موقعوں پر بار بار آپ سے ظاہر ہوئی کہ آپ کی امت دوزخ میں نہ جائے، اور جن کی بدعملی اس درجہ کی ہو، کہ ان کا دوزخ میں ڈالا جانا، اور کچھ عذاب پانا ناگزری ہو ان کو کچھ سزا پانے کے بعد نکال لیا جائے، چنانچہ مندرجہ بالا احادیث سے معلوم ہو چکا کہ اللہ تعالیٰ آپ کی اس خواہش کو پورا فرمائیں گے، اور آپ کی شفاعت سے بہت سے لوگ جہنم سے بچ جائیں گے، اور بہت سے ڈالے جانے کے بعد نکال لئے جائیں گے۔ شفاعت کے سلسلے کی حدیثوں میں صحیح مسلم کی یہ حدیث ہم جیسے خطاکاروں، گنہگاروں کے لیے بڑا سہارا ہے اور اس میں بڑی بشارت ہے، بعض روایات میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ ے جبرئیل سے اللہ تعالیٰ کا یہ پیغام سن کر فرمایا: میں تو جب مطمئن اور خوش ہوں گا جب میرا کوئی امتی بھی دوزخ میں نہیں رہے گا۔ ع بریں مژدہ گرجاں فشانم رواست ف۔۔۔ اللہ تعالیٰ کو بطور خود سب کچھ معلوم ہونے کے باوجود رونے کا سبب پوچھنے کے لیے حضرت جبرئیل کو رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجنا صرف آپ کے اکرام و اعزاز کے طور پر تھا، کہ اپنے مقربین کے ساتھ بادشاہوں کا یہی طرز ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔

115Maarif-ul-Hadith

شفاعت

عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَشْفَعُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَةٌ: الْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الْعُلَمَاءُ، ثُمَّ الشُّهَدَاءُ "(رواه ابن ماجه)

حضرت عثمان سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت میں تین طرح کے لوگ (خصوصیت سے) شفاعت کریں گے، انبیاءؑ، پھر دین کا علم رکھنے والے، اور پھر شہداء “۔ (ابن ماجہ) تشریح حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان تین گروہوں سے باہر کا کوئی شخص کسی کی سفارش نہیں کر سکے گا، بلکہ مطلب یہ ہے کہ خاص شفاعت انہی تین گروہ والوں کی ہو گی، لیکن ان کے علاوہ بعض ان صالحین کو بھی اذن شفاعت ملے گا جو ان تینوں میں سے کسی گروہ میں بھی نہیں ہوں گے، بلکہ جیسا کہ دوسری احادیث سے معلوم ہوتا ہے چھوٹے بچے بھی اپنے ماں باپ کی سفارش کریں گے، اور اعمالِ صالحہ کی بھی شفاعت کریں گے۔

116Maarif-ul-Hadith

شفاعت

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَشْفَعُ لِلْفِئَامِ مِنَ النَّاسِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَشْفَعُ لِلْقَبِيلَةِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَشْفَعُ لِلْعَصَبَةِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَشْفَعُ لِلرَّجُلِ حَتَّى يَدْخُلُوا الجَنَّةَ. (رواه الترمذى)

حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، کہ: میری امت میں بعض افراد وہ ہوں گے، جو جماعتوں اور قوموں کی شفاعت کریں گے (یعنی ان کا مقام یہ ہو گا، کہ اللہ تعالیٰ ان کو قوموں کی شفاعت کی اجازت دے گا اور قوموں کے حق میں ان کی سفارش قبول فرمائے گا) اور بعض وہ ہوں گے جو عصبہ (یعنی دس سے چالیس تک کی تعداد والی کسی پارٹی) کے بارے میں شفاعت کریں گے، اور بعض وہ ہوں گے جو ایک آدمی کی سفارش کر سکیں گے (اور اللہ تعالیٰ ان سب کی شفاعتیں قبول فرمائے گا) یہاں تک کہ سب جنت میں پہنچ جائیں گے۔ (ترمذی)

117Maarif-ul-Hadith

شفاعت

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَصُفُّ أَهْلُ النَّارِ فَيَمُرُّ بِهِمُ الرَّجُلُ مِنْ اَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَقُوْلُ الرَّجُلُ مِنْهُمْ يَا فُلَانُ اَمَا تَعْرِفْنِىْ اَنَا الَّذِىْ سَقَيْتُكَ شَرْبَةً وَقَالَ بَعْضُهُمْ اَنَا الَّذِىْ وَهَبْتُ لَكَ وَضُوْءً فَيَشْفَعُ لَهُ فَيُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ . (رواه ابن ماجه)

حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: آخرت میں صف باندھے کھڑے کیے جائیں گے اہلِ دوزخ (یعنی اہلِ ایمان میں سے کچھ گنہگار لوگ جو اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے دوزخ میں سزا پانے کے مستحق ہوں گے، وہ آخرت میں کسی موقع پر صف باندھے کھڑے ہوں گے) پس ایک شخص اہلِ جنت میں اس کے پاس سے گذرے گا، تو صف والوں میں سے ایک شخص اس گذرنے والے جنتی کو پکار کر کہے گا اے فلاں! کیا تم مجھے نہیں پہچانتے؟ میں وہ ہوں، کہ ایک دفعہ میں نے تم کو پانی پلایا تھا (یا شربت وغیرہ، پینے کی کوئی اچھی چیز پلائی تھی) اور اسی صف والوں میں سے کوئی اور کہے گا، کہ میں نے تمہیں وضو کے لیے پانی دیا تھا، پس یہ شخص ان لوگوں کے حق میں اللہ تعالیٰ سے سفارش کرے گا اور ان کو جنت میں داخل کرا دے گا۔ (ابن ماجہ) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا، کہ دنیا میں صالحین سے محبت اور قربت کا تعلق اپنی عملی کوتاہیوں کے باوجود بھی ان شاء اللہ بہت کچھ کام آنے والا ہے، بشرطیکہ ایمان نصیب ہو، افسوس! ان چیزوں میں جس طرح بہت سے جاہل عوام سخت غلو اور افراط میں مبتلا ہو کر گمراہ ہوئے ہیں، اسی طرح ہمارے زمانے کے بعض اچھے خاصے پڑھے لکھے سخت تفریط میں مبتلا ہیں۔ جنت اور اس کی نعمتیں! عالمِ آخرت کی جن حقیقتوں پر ایمان لانا ایک مومن کے لیے ضروری ہے اور جن پر ایمان لائے بغیر کوئی شخص مومن و مسلم نہیں ہو سکتا، ان ہی میں سے جنت و دوزخ بھی ہیں، اور یہی دونوں مقام انسانوں کا آخری اور پھر ابدی ٹھکانا ہیں، قرآن مجید میں بھی جنت اور اس کی نعمتوں کا اور دوزخ اور اس کی تکلیفوں کا ذخر اتنی کثرت سے کیا گیا ہے اور ان دونوں کے متعلق اتنا کچھ بیان فرمایا گیا ہے کہ اگر اس سلسلے کی سب آیتوں کو ایک جگہ جمع کر دیا جائے تو صرف انہی سے اچھی خاصی ایک کتاب تیار ہو جائے۔ اسی طرح کتبِ حدیث میں بھی جنت و دوزخ کے متعلق رسول اللہ ﷺ کی صدہا حدیثیں محفوظ ہیں جن سے ان دونوں کے متعلق کافی معلومات مل جاتی ہیں، پھر بھی یہ ملحوظ رہنا چاہیے کہ قرآن مجید میں اور اسی طرح احادیث میں جنت و دوزخ کے متعلق جو کچھ بیان فرمایا گیا ہے اس کی پوری اور اصلی حقیقت کا علم وہان پہنچ کر، اور مشاہدہ کے بعد ہی حاصل ہو سکے گا، جنت تو جنت ہے، اگر کوئی شخص ہماری اس دنیا ہی کے کسی بارونق شہر کے بازاروں کا اور وہاں کے باغوں اورگلزاروں کا ذکر ہمارے سامنے کرے، تو اس کے بیان سے جو تصور ہمارے ذہنوں میں قائم ہوتا ہے، ہمیشہ کا تجربہ ہے کہ وہ اصل کے مقابلہ میں ہمیشہ بہت ناقص ہوتا ہے، بہر حال اس نفل الامری حقیقت کو ذہن میں رکھتے ہوئے قرآن و حدیث میں جنت یا دوزخ کے بیان کو پڑھنا چاہیے۔ دراصل آیات یا احادیث میں جنت اور دوزخ کا جو ذخر فرمایا گیا ہے، اس کا یہ مقصد ہی نہیں ہے، کہ لوگوں کے سامنے وہاں کا مکمل جغرافیہ اور وہاں کے احوال کا پورا نقشہ آ جائے بلکہ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ لوگوں میں دوزخ اور اس کے عذاب کا خوف پیدا ہو، اور وہ ان برائیوں سے بچیں جو دوزخ میں لے جانے والی ہیں اور جنت اور اس کی بہاروں اور لذتوں کا شوق ابھرے، تا کہ وہ اچھے اعمال اختیار کریں، جو جنت میں پہنچانے والے ہیں، اور وہاں کی نعمتوں کا مستحق بنانے والے ہیں، پس اس سلسلہ کی آیات اور احادیث کا اصلی حق یہی ہے کہ ان کے پڑھنے اور سننے سے شوق اورخوف کی یہ کیفیتیں پیدا ہوں۔

118Maarif-ul-Hadith

شفاعت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ «أَعْدَدْتُ لِعِبَادِي الصَّالِحِينَ مَا لاَ عَيْنٌ رَأَتْ، وَلاَ أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلاَ خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ، فَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ» (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ چیزیں تیار کی ہیں جن کو نہ کسی آنکھ نہ دیکھا ہے، نہ کسی کان نے سنا ہے، اور نہ کسی بشر کے دل میں کبھی ان کا خطرہ یا خیال ہی گذرا ہے، اور اگر تم چاہو تو پڑھو قرآن کی یہ آیت “فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ” (جس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی آدمی بھی ان نعمتوں کو نہیں جانتا جو ان بندوں کے لیے (جو راہ خدا میں اپنا محبوب مال خرچ کرنے والے ہیں، اور راتوں کو عبادتِ خداوندی میں مصروف رہنے والے ہیں) چھپا کے اور محفوظ کر کے رکھی گئی ہیں جن میں ان کی آنکھوں کے لیے ٹھنڈک کا سامان ہے۔ (بخاری و مسلم) تشریح یہ حدیثِ قدسی ہے، رسول اللہ ﷺ جب کوئی بات اس تصریح کے ساتھ فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے (اور وہ قرآن مجید کی آیت نہ ہو) تو ایسی حدیث کو “حدیث قدسی” کہتے ہیں، یہ حدیث شریف بھی اسی قسم کی ہے، اس میں اللہ کے بندوں کے لیے بشارت اور خوشی کا ایک عام اور ظاہر پہلو تو یہ ہے کہ دارِ آخرت میں ان کو ایسی اعلیٰ قسم کی نعمتیں ملیں گی جو دنیا میں کبھی کسی کو نصیب نہیں ہوئیں، بلکہ کسی آنکھ نے بھی ان کو نہیں دیکھا، اور نہ کسی کان نے ان کا حال سنا، اور نہ کبھی کسی انسان کے دل میں ان کا خیال ہی آیا، اور بشارت و مسرت کا دوسرا خاص پہلو، محبت و شفقتاور عنایت و کرم سے بھرے ہوئے رب کریم کے انالفاظ میں ہے کہ ”“ (میں نے اپنے بندوں کے لیے ایسی ایسی نعمتیں تیار کر کے رکھی ہوئی ہے، الخ) قربان ہوں بندے اپنے رب کریم کے اس کرم پر۔

119Maarif-ul-Hadith

شفاعت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «مَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا» (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: ”جنت میں ایک کوڑے کی جگہ دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے“۔ (بخاری و مسلم) تشریح عرب کا یہ رواج تھا، کہ جب چند سواروں کا قافلہ چلتا، تو جو سوار منزل پر اترتے وقت جہاں قیام کرنا چاہتا، وہاں اپنا کوڑا ڈال دیتا، پھر وہ جگہ اس کی سمجھی جاتی، اور کوئی دوسرا اس پر قبضہ نہ کرتا، تو اس حدیث میں کوڑے کی جگہ سے مراد دراصل اتنی مختصر سی جگہ ہے، جو کوڑے ڈال دینے سے کوڑا والے سوار کے لیے مخصوص ہو جاتی ہے، جس میں وہ اپنا بستر لگفا لے، یا خیمہ ڈال لے، تو حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ جنت کی تھوڑی سے تھوڑی جگہ بھی دنیا و ما فیہا سے بہتر اور زیادہ قیمتی ہے۔ اور اس میں کیا شبہ ہے، دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے فانی ہے اور جنت اور اس کی ہر نعمت باقی ہے، اور فانی اور باقی کا کیا مقابلہ۔

120Maarif-ul-Hadith

شفاعت

عَنْ اَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَلَوْ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الجَنَّةِ اطَّلَعَتْ إِلَى الأَرْضِ لَأَضَاءَتْ مَا بَيْنَهُمَا، وَلَمَلَأَتْ مَا بَيْنَهُمَا رِيحًا، وَلَنَصِيفُهَا عَلَى رَأْسِهَا خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا» (رواه البخارى)

حضرت انسؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: راہ خدا میں ایک دف عہ صبح کا نکلنا یا شام کا نکلنا دنیا وما فیہا سے بہتر ہے، اور اگر اہلِ جنت کی بیویوں میں سے کوئی عورت زمین کی طرف جھانکے تو ان دونوں کے درمیان (یعنی جنت سے لے کر زمین تک) روشنی ہی روشنی ہو جائے، اور مہک اور خوشبو سے بھر جائے اور اس کے سر کی صرف اوڑھنی بھی دنیا وما فیہا سے بہتر ہے۔ (بخاری) تشریح حدیث کے ابتدائی حصے میں راہِ خدامیں نکلنے کی یعنی خدمتِ دین کے کسی سلسلہ میں سفر کرنے اور چلنے پھرنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے کہ ایک دفعہ صبح کا یا شام کا نکلنا بھی دنیا وما فیہا سے بہتر ہے، اور یہاں صبح شام کا ذکر غالباً صرف اس لیے کردیا گیا ہے کہ صبح یا شام ہی کو سفر پر روانہ ہونے کا دستور تھا، ورنہ اگر کوئی شخص مثلاً دن کے درمیانی حصے میں خدمتِ دین کے کسی سلسلے میں جائے، تو یقیناً اس کے اس جانے کی بھی وہی فضیلت ہے پھر حدیث کے دوسرے حصے میں اہلِ جنت کی جنتی بیویوں کے غیر معمولی حسن و جمال اور ان کے لباس کی قدر و قیمت کا ذکر کیا گیا ہے۔ اور اس موقع پر اس کے ذکر کرنے کا مقصد غالباً اہلِ ایمانکو خدمتِ دین کے سلسلے کے کاموں کے لیے گھر چھوڑ کر نکلنے کی ترغیب دینا، اور یہ بتلانا ہے کہاگر تم اپنے گھروں اور گھر والیوں کوعارضی طور پر چھوڑ کر تھوڑے سے وقت کے لیے بھی راہِ خدامیں نکلو گے تو جنت میں ایسی بیویاں ہمیشہ ہمیشہ تمہاری رفیق اور زندگی کی شریک رہیں گی، جن کے حسن و جمال کا یہ عالم ہے کہ اگر ان میں سے کوئی اس زمین کی طرف ذرا جھانکے تو زمین اور آسمان کے درمیان کی ساری فضا روشن اور معطر ہو جائے، اور جن کا لباس اس قدر قیمتی ہے، کہ صرف سر کی اوڑھنی اس دنیا وما فیہا سے بہتر اور بیش قیمت ہے۔