Maarif-ul-Hadith 149

کتاب الرقاق

149Maarif-ul-Hadith

قیامت کے دن بڑے سے بڑا عبادت گزار بھی اپنی عبادت کو ہیچ سمجھے گا

عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، رَفَعَهُ « لَوْ أَنَّ رَجُلًا يَخِرُّ عَلَى وَجْهِهِ ، مِنْ يَوْمِ وُلِدَ إِلَى يَوْمِ يَمُوتُ ، فِي مَرْضَاةِ اللَّهِ ، لَحَقَّرَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ » (رواه احمد)

عتبہ بن عبید سے روایت ہے، وہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا: اگر کوئی شخص اپنی پیدائش کے دن سے، موت کے دن تک برابر اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے سجدہ میں پڑا رہے، تو قیامت کے دن اپنے اس عمل کو بھی وہ حقیر سمجھے گا۔ (مسند احمد) تشریح مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن جب انسان پر وہ حقیقتیں منکشف ہوں گی، اور جزاو وسزا اور عذاب و ثواب کے وہ مناظر آنکھوں کے سامنے آ جائیں گے، جو یہاں پردہ غیب میں ہیں، تو اللہ کے وہ بندے بھی جنہوں نے اپنی زندگی کا زیادہ سے زیادہ حصہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزارا ہو گا یہی محسوس کریں گے کہ ہم نے کچھ بھی نہیں کیا، حتی کہ اگر کوئی بندہ ایسا ہو جو پیدائش کے دن سے موت کی گھڑی تک برابر سجدہ ہی میں پڑا رہا ہو، اُس کا احساس بھی یہی ہو گا اور وہ اپنے اس عمل کو بھی ہیچ سمجھے گا۔