زہد کا بیان

Sunan Ibne-Majah · Chapter 38 · 243 hadiths · Page 12 of 13

4319Sunan Ibne-Majah

دوزخ کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا، فَقَالَتْ: يَا رَبِّ، أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا، فَجَعَلَ لَهَا نَفَسَيْنِ نَفَسٌ فِي الشِّتَاءِ، وَنَفَسٌ فِي الصَّيْفِ، فَشِدَّةُ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْبَرْدِ مِنْ زَمْهَرِيرِهَا، وَشِدَّةُ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ مِنْ سَمُومِهَا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جہنم نے اپنے رب سے شکایت کی اور کہا: اے میرے رب! میرے بعض حصہ نے بعض حصے کو کھالیا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اس کو دو سانسیں عطا کیں: ایک سانس سردی میں، دوسری گرمی میں، تو سردی کی جو شدت تم پاتے ہو وہ اسی کی سخت سردی کی وجہ سے ہے، اور جو تم گرمی کی شدت پاتے ہو یہ اس کی گرم ہوا سے ہے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "The Fire complained to Its Lord and said: O Lord, parts of me have consumed other parts. So He gave it two occasions. to exhale, one in winter and one ill summer. The intense cold that you feel (in winter) is part of its severe frost (Zamharir) and the intense heat that you feel in summer is part of its hot wind (Samum)." (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٤١٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المواقیت ٩ (٥٣٦)، صحیح مسلم/المساجد ٣٢ (٦١٥)، سنن ابی داود/الصلاة ٤ (٤٠٢)، سنن الترمذی/الصلاة ٧ (١٥٧)، سنن النسائی/المواقیت ٤ (٥٠١)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة ٧ (٢٩)، مسند احمد (٢/٢٢٩، ٢٣٨، ٢٥٦، ٢٦٦، ٢٤٨، ٣٧٧، ٣٩٣، ٤٠٠، ٤١١، ٤٦٢)، سنن الدارمی/الصلاة ١٤ (١٢٤٣)، الرقاق ١١٩ (٢٨٨٨) (صحیح )
4320Sunan Ibne-Majah

دوزخ کا بیان۔

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أُوقِدَتِ النَّارُ أَلْفَ سَنَةٍ فَابْيَضَّتْ، ثُمَّ أُوقِدَتْ أَلْفَ سَنَةٍ فَاحْمَرَّتْ، ثُمَّ أُوقِدَتْ أَلْفَ سَنَةٍ فَاسْوَدَّتْ، فَهِيَ سَوْدَاءُ كَاللَّيْلِ الْمُظْلِمِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جہنم ہزار برس تک بھڑکائی گئی تو اس کی آگ سفید ہوگئی، پھر ہزار برس بھڑکائی گئی تو وہ سرخ ہوگئی، پھر ہزار برس بھڑکائی گئی تو وہ سیاہ ہوگئی، اب وہ تاریک رات کی طرح سیاہ ہے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said "The Hell-Fire was kindled for one thousand years and turned white. Then it was kindled for another thousand years and it turned red. Then it was kindled for another thousand years and it turned black. So it is black like the darkest night." (Da`if)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/صفة جہنم (٢٥٩١)، (تحفة الأشراف: ١٢٨٠٧) (ضعیف) (سند میں شریک ضعیف راوی ہیں )
4321Sunan Ibne-Majah

دوزخ کا بیان۔

حَدَّثَنَا الْخَلِيلُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُؤْتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَنْعَمِ أَهْلِ الدُّنْيَا مِنَ الْكُفَّارِ، فَيُقَالُ: اغْمِسُوهُ فِي النَّارِ غَمْسَةً، فَيُغْمَسُ فِيهَا، ثُمَّ يُقَالُ لَهُ: أَيْ فُلَانُ، هَلْ أَصَابَكَ نَعِيمٌ قَطُّ، فَيَقُولُ: لَا مَا أَصَابَنِي نَعِيمٌ قَطُّ، وَيُؤْتَى بِأَشَدِّ الْمُؤْمِنِينَ ضُرًّا وَبَلَاءً، فَيُقَالُ: اغْمِسُوهُ غَمْسَةً فِي الْجَنَّةِ: فَيُغْمَسُ فِيهَا غَمْسَةً، فَيُقَالُ لَهُ: أَيْ فُلَانُ، هَلْ أَصَابَكَ ضُرٌّ قَطُّ أَوْ بَلَاءٌ، فَيَقُولُ: مَا أَصَابَنِي قَطُّ ضُرٌّ وَلَا بَلَاءٌ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن کافروں میں سے وہ شخص لایا جائے گا، جس نے دنیا میں بہت عیش کیا ہوگا، اور کہا جائے گا: اس کو جہنم میں ایک غوطہٰ دو، اس کو ایک غوطہٰ جہنم میں دیا جائے گا، پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اے فلاں! کیا تم نے کبھی راحت بھی دیکھی ہے؟ وہ کہے گا: نہیں، میں نے کبھی کوئی راحت نہیں دیکھی اور مومنوں میں سے ایک ایسے مومن کو لایا جائے گا، جو سخت تکلیف اور مصیبت میں رہا ہوگا، اس کو جنت کا ایک غوطہٰ دیا جائے گا، پھر اس سے پوچھا جائے گا: کیا تم نے کبھی کوئی تکلیف یا پریشانی دیکھی؟ وہ کہے گا: مجھے کبھی بھی کوئی مصیبت یا تکلیف نہیں پہنچی ۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "On the Day of Resurrection the disbeliever who lived the most luxurious will be brought, and it will be said: Dip him once in Hell. So he will be dipped in it, then it will said to him: O so-and-so, have you ever enjoyed any pleasure? He will say: No, I have never enjoyed any pleasure: Then the believer who suffered the most hardship and trouble will be brought and it will be said: Dip him once in Paradise: So he will be dipped in it and it will be said to him: O so-and-so, have you ever suffered any hardship or trouble? He will say: I have never suffered any hardship or trouble." (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٤١) (صحیح )
4322Sunan Ibne-Majah

دوزخ کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْكَافِرَ لَيَعْظُمُ حَتَّى إِنَّ ضِرْسَهُ لَأَعْظَمُ مِنْ أُحُدٍ، فَضِيلَةُ جَسَدِهِ عَلَى ضِرْسِهِ، كَفَضِيلَةِ جَسَدِ أَحَدِكُمْ عَلَى ضِرْسِهِ.

ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کافر جہنم میں اتنا بھاری بھر کم ہوگا کہ اس کا دانت احد پہاڑ سے بڑا ہوجائے گا، اور اس کا باقی بدن دانت سے اتنا ہی بڑا ہوگا جتنا تمہارا بدن دانت سے بڑا ہوتا ہے ۔

It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that the Prophet ﷺ said: "The disbeliever will be made huge so much so that his molar will be bigger than (Mount) Uhud, and the size of his body in relation to his molar will be like the size of the body of anyone of you in relation to his molar.”(Da`if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٢٤٠، ومصباح الزجاجة: ١٥٤٥) (ضعیف) (عطیہ العوفی اور محمد بن عبد الرحمن بن أبی لیلیٰ ضعیف ہیں، لیکن پہلا ٹکڑا ثابت ہے، وفضيلة جسده الخ ثابت نہیں ہے )
4323Sunan Ibne-Majah

دوزخ کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ أَبِي بُرْدَةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا الْحَارِثُ بْنُ أُقَيْشٍ، فَحَدَّثَنَا الْحَارِثُ لَيْلَتَئِذٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِهِ أَكْثَرُ مِنْ مُضَرَ، وَإِنَّ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَعْظُمُ لِلنَّارِ حَتَّى يَكُونَ أَحَدَ زَوَايَاهَا.

عبداللہ بن قیس کہتے ہیں کہ میں ایک رات ابوبردہ ؓ کے پاس تھا، تو ہمارے پاس حارث بن اقیش ؓ آئے، اس رات حارث نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت میں ایسا شخص بھی ہوگا جس کی شفاعت سے مضر قبیلے سے زیادہ لوگ جنت میں جائیں گے، اور میری امت میں سے ایسا شخص ہوگا جو جہنم کے لیے اتنا بڑا ہوجائے گا کہ وہ جہنم کا ایک کونہ ہوجائے گا ۔

Abdullah bin Qais (RA) said: "I was with Abu Burdah one night, and Harith bin Uqaish entered upon us. Harith told us that night that the Messenger of Allah ﷺ said: Among my nation are some by whose intercession more (than the members of the tribe of) Mudar will enter Paradise, and arnong my nation are some who Will be made huge for the Fire until they fill one of its comers." (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٢٧٣، ومصباح الزجاجة: ١٥٤٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣١٢) (ضعیف) (سند میں عبد اللہ بن قیس مجہول راوی ہیں، لیکن حدیث کا پہلا ٹکڑا إن من أمتي من يدخل الجنة بشفاعته أكثر من مضر صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٤٨٢٣ و سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢١٧٨ )
4324Sunan Ibne-Majah

دوزخ کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُرْسَلُ الْبُكَاءُ عَلَى أَهْلِ النَّارِ، فَيَبْكُونَ حَتَّى يَنْقَطِعَ الدُّمُوعُ، ثُمَّ يَبْكُونَ الدَّمَ حَتَّى يَصِيرَ فِي وُجُوهِهِمْ كَهَيْئَةِ الْأُخْدُودِ، لَوْ أُرْسِلَتْ فِيهَا السُّفُنُ لَجَرَتْ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جہنمیوں پر رونا آزاد چھوڑ دیا جائے گا، وہ روئیں گے یہاں تک کہ آنسو ختم ہوجائیں گے، پھر وہ خون روئیں گے یہاں تک کہ ان کے چہروں پر گڑھے بن جائیں گے، اگر ان میں کشتیاں چھوڑ دی جائیں تو وہ تیرنے لگیں ۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "The people of Hell will be made to weep and they will weep until they run out of tears. Then they will weep blood until something like trenches appears on their faces, and if ships were placed in them they would float." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٩٠، ومصباح الزجاجة: ١٥٤٧) (ضعیف) (سند میں یزید الرقاشی ضعیف راوی ہیں، لیکن مختصرا یہ حدیث مستدرک الحاکم میں عبد اللہ بن قیس سے ثابت ہے، ثم يبكون الدم حتى يصير في وجوههم كهيئة ( ٤ /٦٠٥) کا لفظ ثابت نہیں ہے )
4325Sunan Ibne-Majah

دوزخ کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلا تَمُوتُنَّ إِلا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ سورة آل عمران آية 102، وَلَوْ أَنَّ قَطْرَةً مِنَ الزَّقُّومِ قَطَرَتْ فِي الْأَرْضِ، لَأَفْسَدَتْ عَلَى أَهْلِ الدُّنْيَا مَعِيشَتَهُمْ، فَكَيْفَ بِمَنْ لَيْسَ لَهُ طَعَامٌ غَيْرُهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت: يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو (آل عمران: ١٠٢ ) تلاوت کی اور فرمایا: زقوم (تھوہڑ) کا ایک قطرہ (جہنمیوں کی خوراک) زمین پر ٹپک جائے، تو ساری دنیا والوں کی زندگی تباہ کر دے، تو پھر ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جن کے پاس اس کے سوا کوئی کھانا نہ ہوگا ۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ recited: "O you who believe! Have fear of Allah as is His due, and die not except as Muslims. (Then he said): If a drop of Zaqqum were to be dropped on the earth, it would ruin the livelihood of the people of this world, so how about those who have no food other than it (i.e, Zaqqum)?" (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/صفة جہنم ٤ (٢٥٨٤)، (تحفة الأشراف: ٦٣٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٠١، ٣٣٨) (ضعیف) (سلیمان الأعمش مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٧٨٢ و ضعیف الترغیب و الترھیب: ٢١٥٩ )
4326Sunan Ibne-Majah

دوزخ کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْعَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تَأْكُلُ النَّارُ ابْنَ آدَمَ إِلَّا أَثَرَ السُّجُودِ، حَرَّمَ اللَّهُ عَلَى النَّارِ أَنْ تَأْكُلَ أَثَرَ السُّجُودِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جہنم کی آگ ابن آدم کے سارے بدن کو کھائے گی سوائے سجدوں کے نشان کے، اللہ تعالیٰ نے آگ پر یہ حرام کیا ہے کہ وہ سجدوں کے نشان کو کھائے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: The Fire will consume all of the son of Adam except the mark of prostration. Allah has forbidden the Fire to consume the mark of prostration." (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٢١٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ١٢٩ (٨٠٦)، الرقاق ٥٢ (٦٥٧٣)، التوحید ٢٦ (٧٤٣٧)، صحیح مسلم/الإیمان ٨١ (١٨٢)، مسند احمد (٢/٢٧٦، ٢٩٣، ٥٣٤، ٣/٩٤) (صحیح )
4327Sunan Ibne-Majah

دوزخ کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُؤْتَى بِالْمَوْتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُوقَفُ عَلَى الصِّرَاطِ، فَيُقَالُ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، فَيَطَّلِعُونَ خَائِفِينَ وَجِلِينَ أَنْ يُخْرَجُوا مِنْ مَكَانِهِمُ الَّذِي هُمْ فِيهِ، ثُمَّ يُقَالُ: يَا أَهْلَ النَّارِ، فَيَطَّلِعُونَ مُسْتَبْشِرِينَ فَرِحِينَ أَنْ يُخْرَجُوا مِنْ مَكَانِهِمُ الَّذِي هُمْ فِيهِ، فَيُقَالُ: هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا؟ قَالُوا: نَعَمْ، هَذَا الْمَوْتُ، قَالَ: فَيُؤْمَرُ بِهِ فَيُذْبَحُ عَلَى الصِّرَاطِ، ثُمَّ يُقَالُ لِلْفَرِيقَيْنِ كِلَاهُمَا: خُلُودٌ فِيمَا تَجِدُونَ، لَا مَوْتَ فِيهَا أَبَدًا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن موت کو لایا جائے گا، اور پل صراط پر کھڑا کیا جائے گا، پھر کہا جائے گا: اے جنت والو! تو وہ خوف زدہ اور ڈرے ہوئے اوپر چڑھیں گے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کو ان کے مقام سے نکال دیا جائے، پھر پکارا جائے گا: اے جہنم والو! تو وہ خوش خوش اوپر آئیں گے کہ وہ اپنے مقام سے نکالے جا رہے ہیں، پھر کہا جائے گا: کیا تم اس کو جانتے ہو؟ وہ کہیں گے: ہاں، یہ موت ہے، فرمایا: پھر حکم ہوگا تو وہ پل صراط پر ذبح کردی جائے گی، پھر دونوں گروہوں سے کہا جائے گا: اب دونوں گروہ اپنے اپنے مقام میں ہمیشہ رہیں گے، اور موت کبھی نہیں آئے گی ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: Death will be brought on the Day of Resurrection and made to stand on the Sirat (the Bridge over Hell). It will be said: "O people of Paradise!" And they will look. Anxious and afraid lest they be brought out of the place they are in. Then it will be said: "O people of Hell" and they will look, hoping that they will be brought out of the place they are in. Then it will be said: "Do you know what this is?" They will say: "Yes, this is Death." Then the command will be given for it to be slaughtered on the Sirat and it will be said to both groups: "It is eternal wherever you are, and there will never be any death therein." (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥١٠٢، ومصباح الزجاجة: ١٥٤٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الرقاق ٥٠ (٦٥٤٥)، مسند احمد (٢/٢٦١، ٣٧٧، ٥١٣)، سنن الدارمی/الرقاق ٩٠ (٢٨٥٣) (حسن صحیح )
4328Sunan Ibne-Majah

جنت کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَمِنْ بَلْهَ مَا قَدْ أَطْلَعَكُمُ اللَّهُ عَلَيْهِ، اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ سورة السجدة آية 17، قَالَ وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقْرَؤُهَا مِنْ قُرَّاتِ أَعْيُنٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے: میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ نعمت تیار کر رکھی ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا، اور نہ کسی آدمی کے دل میں اس کا خیال آیا۔ ابوہریرہ ؓ نے کہا کہ ان نعمتوں کے علاوہ جو تم کو اللہ تعالیٰ نے بتائی ہیں اور بھی نعمتیں ہیں، اگر تم چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھو: فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين جزاء بما کانوا يعملون کوئی نفس نہیں جانتا ہے کہ اس کے لیے کیا آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے، یہ بدلہ ہے اس کے نیک اعمال کا (سورۃ السجدۃ: ١٧ ) ۔ ابوہریرہ ؓ اس کو قرآت أعين (یعنی جمع کا صیغہ) پڑھتے تھے۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Allah says. I have prepared for My righteous slaves that which no eye has seen. no ear has heard, and it has never crossed the mind of man."(Sahih) Abu Hurairah (RA) said. "And there is more than what Allah has told you. Recite, if you wish: No person knows what is kept hidden for them of joy as a reward for what they used to do. He (the narrator) said: Abu Hurairah (RA) used to recite it as: Qurrati Ayunin, i.e., joys.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ٨ (٣٢٤٤)، صحیح مسلم/الجنة (٢٨٢٤)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٠٩)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر القرآن ٣٣ (٣١٩٧) (صحیح )
4329Sunan Ibne-Majah

جنت کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَشِبْرٌ فِي الْجَنَّةِ، خَيْرٌ مِنَ الْأَرْضِ وَمَا عَلَيْهَا.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جنت میں ایک بالشت کی جگہ زمین یا زمین پر موجود تمام چیزوں میں یعنی دنيا وما فيها سے بہتر ہے ۔

It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that the Prophet ﷺ said. "A hand span in Paradise is better than the earth and everything on it." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤١٩٢، ومصباح الزجاجة: ١٥٤٩) (ضعیف) (سند میں حجاج اور عطیہ العوفی ضعیف ہیں )
4330Sunan Ibne-Majah

جنت کا بیان۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ مَنْظُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا.

سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنت میں ایک کوڑے کی جگہ دنيا وما فيها سے بہتر ہے ۔

It was narrated from Sahl bin Sad that the Messenger of Allah ﷺ said. "A place the size of a whip in Paradise is better than this world and everything in it." (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ (تحفة الأشراف: ٤٦٧٤، ومصباح الزجاجة: ١٥٥٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد ٧٣ (٢٨٩٢)، بدء الخلق ٨ (٣٢٥٠)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد ١٧ (١٦٤٨) (صحیح) (سند میں زکریا ضعیف ہیں لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، کما فی التخریج )
4331Sunan Ibne-Majah

جنت کا بیان۔

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْجَنَّةُ مِائَةُ دَرَجَةٍ، كُلُّ دَرَجَةٍ مِنْهَا مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَإِنَّ أَعْلَاهَا الْفِرْدَوْسُ، وَإِنَّ أَوْسَطَهَا الْفِرْدَوْسُ، وَإِنَّ الْعَرْشَ عَلَى الْفِرْدَوْسِ، مِنْهَا تُفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ، فَإِذَا مَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَسَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ.

معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جنت کے سو درجے ہیں، ہر درجے کا فاصلہ زمین و آسمان کے فاصلے کے برابر ہے، اور اس کا سب سے اونچا درجہ فردوس ہے، اور سب سے عمدہ بھی فردوس ہے اور عرش بھی فردوس پر ہے، اسی میں سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں، تو جب تم اللہ تعالیٰ سے مانگو تو فردوس مانگو ۔

Muadh bin Jabal said. "I heard the Messenger of Allah ﷺ say. Paradise has one hundre-d grades, each of which is as big as the distance between heaven and earth. The highest of them is Firdaws and the best of them is Firdaws. The Throne is above Firdaws and from it spring forth the rivers of Paradise. If you ask of Allah, ask Him for Firdaws." (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٣٥٠)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/صفة الجنة ٤ (٢٥٣٠)، مسند احمد (٥/٢٣٢، ٢٤٠) (صحیح )
4332Sunan Ibne-Majah

جنت کا بیان۔

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِيالضَّحَّاكُ الْمَعَافِرِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ لِأَصْحَابِهِ: أَلَا مُشَمِّرٌ لِلْجَنَّةِ، فَإِنَّ الْجَنَّةَ لَا خَطَرَ لَهَا، هِيَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ نُورٌ يَتَلَأْلَأُ، وَرَيْحَانَةٌ تَهْتَزُّ، وَقَصْرٌ مَشِيدٌ، وَنَهَرٌ مُطَّرِدٌ، وَفَاكِهَةٌ كَثِيرَةٌ، نَضِيجَةٌ وَزَوْجَةٌ، حَسْنَاءُ جَمِيلَةٌ، وَحُلَلٌ كَثِيرَةٌ فِي مَقَامٍ أَبَدًا، فِي حَبْرَةٍ وَنَضْرَةٍ فِي دُارٍ عَالِيَةٍ سَلِيمَةٍ بَهِيَّةٍ، قَالُوا: نَحْنُ الْمُشَمِّرُونَ لَهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: قُولُوا: إِنْ شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ ذَكَرَ الْجِهَادَ وَحَضَّ عَلَيْهِ.

اسامہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن اپنے صحابہ سے فرمایا: کیا کوئی جنت کے لیے کمر نہیں باندھتا؟ اس لیے کہ جنت جیسی کوئی اور چیز نہیں ہے، رب کعبہ کی قسم، وہ چمکتا ہوا نور ہے، خوشبودار پھول ہے جو جھوم رہا ہے، مضبوط محل ہے، بہتی نہر ہے، وہاں بہت سارے پکے ہوئے میوے اور تیار پھل ہیں، خوبصورت اور خوش اخلاق بیویاں ہیں، کپڑوں کے بہت سارے جوڑے ہیں، ہمیشگی کا مقام ہے، جہاں سدا بہار اور تازگی ہے، اونچا، محفوظ اور روشن محل ہے۔ صحابہ کرام ؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم اس کے لیے کمر باندھتے ہیں، تو آپ نے فرمایا: کہو، انشاء اللہ، پھر جہاد کا ذکر کیا، اور اس کی رغبت دلائی ۔

Usamah bin Zaid said: "The Messenger of Allah ﷺ said one day to his Companions: Who will strive hard with sincerity for Paradise? For there is nothing like Paradise. By the Lord of the Ka’bahh, it is sparkling light, sweet basil waving in the breeze, a lofty palace, a flowing river, abundant ripe fruit, a beautiful wife and many fine garments, in a place of eternal abode, in ease and luxury, in beautiful, strongly-built, lofty houses. They said: We will strive hard for it, a Messenger of Allah. He said: Say: In sha Allah (if Allah wills). Then he mentioned Jihad and encouraged them to engage in it." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٨، ومصباح الزجاجة: ١٥٥١) (ضعیف) (سند میں ضحاک معافری لین الحدیث یعنی ضعیف ہیں )
4333Sunan Ibne-Majah

جنت کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ، عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى ضَوْءِ أَشَدِّ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ إِضَاءَةً، لَا يَبُولُونَ، وَلَا يَتَغَوَّطُونَ، وَلَا يَمْتَخِطُونَ، وَلَا يَتْفُلُونَ، أَمْشَاطُهُمُ الذَّهَبُ، وَرَشْحُهُمُ الْمِسْكُ، وَمَجَامِرُهُمُ الْأَلُوَّةُ، أَزْوَاجُهُمُ الْحُورُ الْعِينُ، أَخْلَاقُهُمْ عَلَى خُلُقِ رَجُلٍ وَاحِدٍ، عَلَى صُورَةِ أَبِيهِمْ آدَمَ سِتُّونَ ذِرَاعًا. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پہلی جماعت جو جنت میں داخل ہوگی وہ چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوگی، پھر جو لوگ ان کے بعد آئیں گے آسمان میں سب سے زیادہ روشن تارے کی طرح چمکتے ہوں گے، نہ وہ پیشاب کریں گے نہ پاخانہ، نہ وہ ناک صاف کریں گے نہ تھوکیں گے، ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی اور پسینہ مشک کا ہوگا، ان کی انگیٹھیاں عود کی ہوں گی، ان کی بیویاں بڑی آنکھوں والی حوریں ہوں گی، سارے جنتیوں کی عادت ایک شخص جیسی ہوگی، سب اپنے والد آدم (علیہ السلام) کی شکل و صورت پر ہوں گے، ساٹھ ہاتھ کے لمبے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "The first group to enter Paradise will enter. with (faces)like the moon in the night when it is full. Then those who follow them will be shining with a light brighter than the brightest star in the sky. They will not urinate or defecate, or blow their noses or spit. Their combs will be of gold, their sweat will be musk, their braziers* will be pearls and their wives will be houris. Their form will be that of a single man, the form of their father Adam, sixty forearms length tall. (Sahih) *Brazier: Receptacle for holding live coals for burning incense. Another narration with similar meaning. (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ٨ (٣٣٢٧)، صحیح مسلم/الجنة وصفة نعیمہا ٦ (٢٨٣٤)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٠٣)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/صفة الجنة ٧ (٢٥٣٧) (صحیح ) اس سند سے بھی ابوہریرہ ؓ سے عمارہ کی حدیث کے مثل مروی ہے۔ صحیح مسلم/الجنة وصفة نعیمہا ٦ (٢٨٣٤)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٢٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٣١، ٢٥٣) (صحیح )
4334Sunan Ibne-Majah

جنت کا بیان۔

حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْكَوْثَرُ نَهَرٌ فِي الْجَنَّةِ، حَافَّتَاهُ مِنْ ذَهَبٍ، مَجْرَاهُ عَلَى الْيَاقُوتِ وَالدُّرِّ، تُرْبَتُهُ أَطْيَبُ مِنَ الْمِسْكِ، وَمَاؤُهُ أَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، وَأَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ الثَّلْجِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوثر جنت میں ایک نہر ہے، اس کے دونوں کنارے سونے کے ہیں، اور اس کی پانی بہنے کی نالی یا قوت و موتی پر ہوگی، اس کی مٹی مشک سے زیادہ خوشبودار ہے، اور اس کا پانی شہد سے زیادہ میٹھا اور برف سے زیادہ سفید ہے۔

It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: If Kauthar is a river in Paradise whose banks are of gold and its bed is of rubies and pearls. Its soil is more fragrant than musk, its water is sweeter than honey and whiter than snow." (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/تفسیر القرآن ٨٩ (٣٣٦١)، (تحفة الأشراف: ٧٤١٢) (صحیح )
4335Sunan Ibne-Majah

جنت کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ سَنَةٍ لَا يَقْطَعُهَا، وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: وَظِلٍّ مَمْدُودٍ 30 وَمَاءٍ مَسْكُوبٍ 31 سورة الواقعة آية 30-31.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنت میں ایک درخت ہے، اس کے سائے میں سوار سو برس تک چلتا رہے گا لیکن وہ ختم نہ ہوگا، اگر تم چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھو: وظل ممدود جنت میں دراز اور لمبا سایہ ہے (سورة الواقعة: 3) ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "In Paradise there is a tree under whose shade a is rider could travel for one hundred years and never leave it." "Recite, if you wish: And in shade long-extended.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٠٣٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تفسیر القرآن ٥٦ (٤٨٨١)، صحیح مسلم/الجنة ١ (٢٨٢٦)، سنن الترمذی/صفة الجنة ١ (٢٥٢٣)، سنن الدارمی/الرقاق ١١٤ (٢٨٨٠) (صحیح )
4336Sunan Ibne-Majah

جنت کا بیان۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ أَبِي الْعِشْرِينَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ لَقِيَ أَبَا هُرَيْرَةَ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ فِي سُوقِ الْجَنَّةِ، قَالَ سَعِيدٌ: أَوَ فِيهَا سُوقٌ، قَالَ: نَعَمْ، أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ إِذَا دَخَلُوهَا نَزَلُوا فِيهَا بِفَضْلِ أَعْمَالِهِمْ، فَيُؤْذَنُ لَهُمْ فِي مِقْدَارِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا، فَيَزُورُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَيُبْرِزُ لَهُمْ عَرْشَهُ، وَيَتَبَدَّى لَهُمْ فِي رَوْضَةٍ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، فَتُوضَعُ لَهُمْ مَنَابِرُ مِنْ نُورٍ، وَمَنَابِرُ مِنْ لُؤْلُؤٍ، وَمَنَابِرُ مِنْ يَاقُوتٍ، وَمَنَابِرُ مِنْ زَبَرْجَدٍ، وَمَنَابِرُ مِنْ ذَهَبٍ، وَمَنَابِرُ مِنْ فِضَّةٍ، وَيَجْلِسُ أَدْنَاهُمْ وَمَا فِيهِمْ دَنِيءٌ عَلَى كُثْبَانِ الْمِسْكِ وَالْكَافُورِ، مَا يُرَوْنَ أَنَّ أَصْحَابَ الْكَرَاسِيِّ بِأَفْضَلَ مِنْهُمْ مَجْلِسًا، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ نَرَى رَبَّنَا؟ قَالَ: نَعَمْ، هَلْ تَتَمَارَوْنَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، قُلْنَا: لَا، قَالَ: كَذَلِكَ لَا تَتَمَارَوْنَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَا يَبْقَى فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ أَحَدٌ إِلَّا حَاضَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مُحَاضَرَةً، حَتَّى إِنَّهُ يَقُولُ لِلرَّجُلِ مِنْكُمْ: أَلَا تَذْكُرُ يَا فُلَانُ يَوْمَ عَمِلْتَ كَذَا وَكَذَا، يُذَكِّرُهُ بَعْضَ غَدَرَاتِهِ فِي الدُّنْيَا، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أَفَلَمْ تَغْفِرْ لِي، فَيَقُولُ: بَلَى، فَبِسَعَةِ مَغْفِرَتِي بَلَغْتَ مَنْزِلَتَكَ هَذِهِ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ، غَشِيَتْهُمْ سَحَابَةٌ مِنْ فَوْقِهِمْ، فَأَمْطَرَتْ عَلَيْهِمْ طِيبًا لَمْ يَجِدُوا مِثْلَ رِيحِهِ شَيْئًا قَطُّ، ثُمَّ يَقُولُ: قُومُوا إِلَى مَا أَعْدَدْتُ لَكُمْ مِنَ الْكَرَامَةِ، فَخُذُوا مَا اشْتَهَيْتُمْ، قَالَ: فَنَأْتِي سُوقًا قَدْ حُفَّتْ بِهِ الْمَلَائِكَةُ، فِيهِ مَا لَمْ تَنْظُرِ الْعُيُونُ إِلَى مِثْلِهِ، وَلَمْ تَسْمَعِ الْأَذَانُ، وَلَمْ يَخْطُرْ عَلَى الْقُلُوبِ، قَالَ: فَيُحْمَلُ لَنَا مَا اشْتَهَيْنَا، لَيْسَ يُبَاعُ فِيهِ شَيْءٌ، وَلَا يُشْتَرَى، وَفِي ذَلِكَ السُّوقِ يَلْقَى أَهْلُ الْجَنَّةِ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، فَيُقْبِلُ الرَّجُلُ ذُو الْمَنْزِلَةِ الْمُرْتَفِعَةِ فَيَلْقَى مَنْ هُوَ دُونَهُ، وَمَا فِيهِمْ دَنِيءٌ، فَيَرُوعُهُ مَا يَرَى عَلَيْهِ مِنَ اللِّبَاسِ، فَمَا يَنْقَضِي آخِرُ حَدِيثِهِ حَتَّى يَتَمَثَّلَ لَهُ عَلَيْهِ أَحْسَنُ مِنْهُ، وَذَلِكَ أَنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَحْزَنَ فِيهَا، قَالَ: ثُمَّ نَنْصَرِفُ إِلَى مَنَازِلِنَا، فَتَلْقَانَا أَزْوَاجُنَا فَيَقُلْنَ مَرْحَبًا وَأَهْلًا، لَقَدْ جِئْتَ وَإِنَّ بِكَ مِنَ الْجَمَالِ وَالطِّيبِ أَفْضَلَ مِمَّا فَارَقْتَنَا عَلَيْهِ، فَنَقُولُ: إِنَّا جَالَسْنَا الْيَوْمَ رَبَّنَا الْجَبَّارَ عَزَّ وَجَلَّ، وَيَحِقُّنَا أَنْ نَنْقَلِبَ بِمِثْلِ مَا انْقَلَبْنَا.

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ وہ ابوہریرہ ؓ سے ملے تو انہوں نے کہا: میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے اور تمہیں جنت کے بازار میں ملا دے، سعید بن مسیب نے کہا: کیا وہاں بازار بھی ہوگا؟ فرمایا: ہاں، مجھے رسول اللہ ﷺ نے بتایا ہے کہ اہل جنت جب جنت میں داخل ہوں گے تو ان کے مراتب اعمال کے مطابق ان کو جگہ ملے گی، پھر ان کو دنیا کے دنوں میں سے جمعہ کے دن کے برابر اجازت دی جائے گی، وہ اللہ عزوجل کی زیارت کریں گے، اللہ تعالیٰ ان کے لیے اپنا عرش ظاہر کرے گا، اور ان کے سامنے جنت کے باغات میں سے ایک باغ میں جلوہ افروز ہوگا، ان کے لیے منبر رکھے جائیں گے، نور کے منبر، موتی کے منبر، یاقوت کے منبر، زبرجد کے منبر، سونے اور چاندی کے منبر اور ان میں سے کم تر درجے والا (حالانکہ ان میں کم تر کوئی نہ ہوگا) مشک و کافور کے ٹیلوں پر بیٹھے گا، اور ان کو یہ خیال نہ ہوگا کہ کرسیوں والے ان سے زیادہ اچھی جگہ بیٹھے ہیں ۔ ابوہریرہ ؓ نے کہا کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟ فرمایا: ہاں، کیا تم سورج اور چودھویں کے چاند کو دیکھنے میں جھگڑتے ہو ؟ ہم نے کہا: نہیں، فرمایا: اسی طرح تم اپنے رب عزوجل کو دیکھنے میں جھگڑا نہیں کرو گے اور اس مجلس میں کوئی شخص نہیں بچے گا مگر اللہ تعالیٰ ہر شخص سے گفتگو کرے گا، یہاں تک کہ وہ ان میں سے ایک شخص سے کہے گا: اے فلاں! کیا تمہیں یاد نہیں کہ ایک دن تم نے ایسا ایسا کیا تھا؟ (اس کو دنیا کی بعض غلطیاں یاد دلائے گا) تو وہ کہے گا: اے میرے رب! کیا تم نے مجھے معاف نہیں کیا؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیوں نہیں، میری وسیع مغفرت ہی کی وجہ سے تو اس درجے کو پہنچا ہے، وہ سب اسی حالت میں ہوں گے کہ ان کو اوپر سے ایک بادل ڈھانپ لے گا، اور ایسی خوشبو برسائے گا جو انہوں نے کبھی نہ سونگھی ہوگی، پھر فرمائے گا: اب اٹھو اور جو کچھ تمہاری مہمان نوازی کے لیے میں نے تیار کیا ہے اس میں سے جو چاہو لے لو، فرمایا: پھر ہم ایک بازار میں آئیں گے جس کو فرشتوں نے گھیر رکھا ہوگا، اس میں وہ چیزیں ہوں گی جن کے مثل نہ آنکھوں نے دیکھا، نہ کانوں نے سنا، اور نہ دلوں نے سوچا، (فرمایا) ہم جو چاہیں گے ہمارے لیے پیش کردیا جائے گا، اس میں کسی چیز کی خریدو فروخت نہ ہوگی، اس بازار میں اہل جنت ایک دوسرے سے ملیں گے، ایک اونچے مرتبے والا شخص آگے بڑھے گا اور اپنے سے نیچے درجے والے سے ملے گا (حالانکہ ان میں کوئی کم درجے کا نہ ہوگا) وہ اس کے لباس کو دیکھ کر مرعوب ہوگا، لیکن یہ دوسرا شخص اپنی گفتگو پوری نہ کر پائے گا کہ اس پر اس سے بہتر لباس آجائے گا، ایسا اس لیے ہے کہ جنت میں کسی کو کسی چیز کا غم نہ رہے ۔ ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں: پھر ہم اپنے گھروں کو لوٹیں گے، تو ہماری بیویاں ہم سے ملیں گی، اور خوش آمدید کہیں گی، اور کہیں گی کہ تم آگئے اور تمہاری خوبصورتی اور خوشبو اس سے کہیں عمدہ ہے جس میں تم ہمیں چھوڑ کر گئے تھے، تو ہم کہیں گے: آج ہم اپنے رب کے پاس بیٹھے، اور یہ ضروری تھا کہ ہم اسی حال میں لوٹتے۔

Saeed bin AI-Musayyab said that he met Abu Hurairah (RA) h, and Abu Hurairah (RA) said: "I supplicate Allah to bring you and I together in the marketplace of Paradise," Sa eed said: "Is there a marketplace there?" He said: "Yes. The Messenger of Allah ﷺ told me that when the people of Paradise enter it, they will take their places according to their deeds, and they will be given permission for a length of time equivalent to Friday on earth, when they will visit Allah. His Throne will be shown to them and He will appear to them in one of the gardens of Paradise. Chairs of light and chairs of pearls and chairs of rubies and chairs o! chrysolite and chairs of gold and chairs of silver will be placed for them. Those who are of a lower status than them, and none of them will be regarded as insignificant, will sit on sandhills of musk and camphor, and they will not feel that those who are sitting on chairs are seated better than them." Abu Hurairah (RA) said: "I said: O Messenger of Allah, will we see our Lord? He said: Yes. Do you dispute that you see the sun and the moon on the night when it is full? We said: No. He said: Likewise, you will not dispute tha t you see your Lord, the Glorified. There will be no one left in that gathering with whom Allah does not speak face to face, until He will say to a man among you: Do you not remember, O so-and-so, the day you did such and such?" And He will remind him of some of his sins in this world. He will say: "O Lord, have You not forgiven me?" He will say: "Yes, it is by the vastness of My forgiveness that You have reached the position you are in."While they are like that, a cloud will cover them from above and will rain down on them perfume the like of whose fragrance they have never smelled before. Then He will say: "Get up and go to the honor that has been prepared for you, and take whatever you desire." So we will go to a marketplace surrounded by the angels, in which will be such things as eyes have never seen, ears have never heard and it has not entered the heart of man. Whatever we desire will be carried for us. Nothing will be bought or sold therein. In that marketplace the peopIe of paradise will meet one another. A man of elevated status will meet those who are of lower status than him, but none shall be regarded as insignificant, and he will be dazzled by the clothes that he sees on him. He will not finish the last of his conversation before better clothes appear on him. That is because no one should be sad there." "He said: Then we will go back to our homes where we will be met by our wives, and they will say: Welcome. You have come looking more handsome and with a better fragrance than when you left us. And we will say: Today we sat with our Lord, the Compeller, the Glorified. and we deserve to come back as we have come back." (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/صفة الجنة ١٥ (٢٥٤٩)، (تحفة الأشراف: ١٣٠٩١) (ضعیف) (سند میں عبد الحمید ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٧٢٢ )
4337Sunan Ibne-Majah

جنت کا بیان۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْرَقُ أَبُو مَرْوَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ أَحَدٍ يُدْخِلُهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ، إِلَّا زَوَّجَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ زَوْجَةً، ثِنْتَيْنِ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ، وَسَبْعِينَ مِنْ مِيرَاثِهِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، مَا مِنْهُنَّ وَاحِدَةٌ إِلَّا وَلَهَا قُبُلٌ شَهِيٌّ، وَلَهُ ذَكَرٌ لَا يَنْثَنِي، قَالَ هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ: مِنْ مِيرَاثِهِ مِنْ أَهْلِ النَّارِيَعْنِي: رِجَالًا دَخَلُوا النَّارَ فَوَرِثَ أَهْلُ الْجَنَّةِ نِسَاءَهُمْ، كَمَا وُرِثَتِ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ.

ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص بھی جنت میں جائے گا اللہ تعالیٰ بہتر ( ٧٢ ) بیویوں سے اس کی شادی کر دے گا، دو بڑی آنکھوں والی حوریں اور ستر ( ٧٠ ) اہل جہنم کی میراث میں سے ہوں گی، ان میں سے ہر ایک کی شرمگاہ خوب شہوت والی ہوگی، اور اس کا ذکر ایسا ہوگا جس میں کبھی کجی نہیں ہوگی ، ہشام بن خالد نے کہا: اہل جہنم کی میراث سے مراد یہ ہے کہ جو لوگ جہنم میں جائیں گے اہل جنت ان کی بیویوں کے وارث ہوجائیں گے مثلا ً فرعون کی بیوی کے وارث جنتی ہوں گے۔

It was narrated from Abu Umâmah that the Messenger of Allâh ﷺ said: “There is no one whom Allah will admit to Paraidise but Allah will marry him seventy-two wives, two from and seventy from his inheritence from the people of of whom will have desirable front passages and he have a male member that never becomes flaccid (i.e., soft and limp).": (Daif) Hisham bin Khalid said: "From his inheritance from the people of Hell" means: "Men who enter Hell, and the people of Paradise will inherit their wives, just as the wife of Pharaoh will be inherited."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٨٥٩، ومصباح الزجاجة: ١٥٥٢) (ضعیف جدا) (سند میں خالد بن یزید ضعیف ہیں )
4338Sunan Ibne-Majah

جنت کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُؤْمِنُ إِذَا اشْتَهَى الْوَلَدَ فِي الْجَنَّةِ، كَانَ حَمْلُهُ وَوَضْعُهُ فِي سَاعَةٍ وَاحِدَةٍ كَمَا يَشْتَهِي.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مومن جب جنت میں اولاد کی خواہش کرے گا، تو حمل اور وضع حمل اس کی خواہش کے موافق سب ایک گھڑی میں ہوجائے گا ۔

It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that the Messenger of Allah ﷺ said: "When the believer wants a child in Paradise, he will be conceived and born and grown up, in a short while, according to his desire." (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/صفة الجنة ٢٣ (٢٥٦٣)، (تحفة الأشراف: ٣٩٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٨٠٠٩)، سنن الدارمی/الرقاق ١١٠ (٢٨٧٦) (صحیح )