ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے بیت المقدس سے عمرہ کا تلبیہ پکارا یہ اس کے پہلے گناہوں کا کفارہ ہوگا ، تو میں بیت المقدس سے عمرہ کے لیے نکلی۔
It was narrated from Umm Salamah, the wife of the Prophet ﷺ that the Messenger of Allah ﷺ "Whoever begins the Talbiyah for Umrah from Baitul- Maqdis, that will be an expiation for all his previous sins. She said: "So I went out." Meaning, from Baitul-Maqdis for Umrah. (Daif)
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چار عمرے کیے: عمرہ حدیبیہ، عمرہ قضاء جو دوسرے سال کیا، تیسرا عمرہ جعرانہ سے، اور چوتھا جو حج کے ساتھ کیا ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ performed Umrah four times: The Umrah of Hudaibiyah, the Umrah to make up for (the one not completed previously), the third from [iranah and the fourth that he did with his Hajj." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: رسول اکرم ﷺ نے پوری زندگی میں ایک حج اور تین عمرے ادا کئے، اس لیے کہ حدیبیہ کا عمرہ پورا نہیں ہوا تھا، چناچہ دوسرے سال آپ نے اسی عمرے کی قضا کی تھی۔
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یوم الترویہ (آٹھویں ذی الحجہ) کو منیٰ میں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں پڑھیں، پھر نویں (ذی الحجہ) کی صبح کو عرفات تشریف لے گئے۔
It was narrated from Ibn Abbas (RA) that the Messenger of Allah ﷺ prayed in Mina, on the Day of Tarwiyah (the 8th of Dhul-Hijjah), Zuhr, Asr, Maghrib, Isha and Fajr, then he went in the morning to Arafat, (Sahih)
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ وہ پانچ وقت کی نماز منیٰ میں پڑھتے تھے، پھر انہیں بتاتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ ایسا ہی کرتے تھے ١ ؎۔
It was narrated from Ibn "Umar that he used to pray all five prayers in Mina, then he would tell them that the Messenger of Allah ﷺ used to do that, (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: آٹھویں ذی الحجہ کی ظہر، عصر مغرب اور عشاء اور نویں ذی الحجہ کی فجر۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٧٣٧، ومصباح الزجاجة: ١٠٥١)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج ٦٤ (١٩٥) (حسن) (سند میں عبداللہ بن عمر ضعیف راوی ہیں، لیکن سابقہ ابن عباس ؓ کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے لیے منیٰ میں گھر نہ بنادیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، منیٰ اس کی جائے قیام ہے جو پہلے پہنچ جائے ۔
It was narrated that Aisha (RA) said: I said: O Messenger of Allah, should we not build you a house in Mina? He said: No, Mina is just a stopping place for those who get there first:" (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/المناسک ٨٩ (٢٠١٩)، سنن الترمذی/الحج ٥١ (٨٨١)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٦٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٨٧ٕ ٢٠٦)، سنن الدارمی/المناسک ٨٧ (١٩٨٠) (ضعیف) (ام یوسف مسیکہ مجہول العین ہیں، نیز ملاحظہ ہو: ضعیف أبی داود: ٣٤٥ )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم منیٰ میں آپ کے لیے ایک گھر نہ بنادیں جو آپ کو سایہ دے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، منیٰ اس کی جائے قیام ہے جو پہلے پہنچ جائے ١ ؎۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "We said: O Messenger of Allah, should we not build you a house in Mina that will be a means of shade for you? He said: No, Mina is just a stopping place for those who get there first." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی منیٰ کا میدان حاجیوں کے لئے وقف ہے، وہ کسی کی خاص ملکیت نہیں ہے، اگر کوئی وہاں پہلے پہنچے اور کسی جگہ اتر جائے، تو دوسرا اس کو اٹھا نہیں سکتا چونکہ گھر بنانے میں ایک جگہ پر اپنا قبضہ اور حق جما لینا ہے، اس لیے آپ نے اس سے منع فرمایا۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ اس دن ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ منیٰ سے عرفات کے لیے چلے، تو ہم میں سے کچھ لوگ اللہ اکبر کہتے تھے اور کچھ لوگ لبیک پکارتے تھے، تو اس نے نہ اس پر عیب لگایا اور نہ اس نے اس پر، اور بسا اوقات انہوں نے یوں کہا: نہ انہوں نے ان لوگوں پر عیب لگایا، اور نہ ان لوگوں نے ان پر۔
It was narrated that Anas said: "We went in the morning on this, day with the Messenger of Allah ﷺ from Mina to Arafat, Some of us recited the Takbir (Allahu Akbar) and some of us recited ,the Tahlil and neither criticized the other." (Sahih)
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عرفات کی وادی نمرہ میں ٹھہرتے، راوی کہتے ہیں: جب حجاج نے عبداللہ بن زبیر ؓ کو قتل کیا، تو ابن عمر ؓ کے پاس یہ پوچھنے کے لیے آدمی بھیجا کہ نبی اکرم ﷺ آج کے دن کس وقت (نماز اور خطبہ کے لیے) نکلتے تھے؟ انہوں نے کہا: جب یہ وقت آئے گا تو ہم خود چلیں گے، حجاج نے ایک آدمی کو بھیجا کہ وہ دیکھتا رہے کہ ابن عمر ؓ کب نکلتے ہیں؟ جب ابن عمر ؓ نے چلنے کا ارادہ کیا، تو پوچھا: کیا سورج ڈھل گیا؟ لوگوں نے کہا: ابھی نہیں ڈھلا ہے، تو وہ بیٹھ گئے، پھر پوچھا: کیا اب ڈھل گیا؟ لوگوں نے کہا: ابھی نہیں ڈھلا ہے، پھر آپ بیٹھ گئے، پھر آپ نے کہا: کیا اب ڈھل گیا؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو جب لوگوں نے کہا: ہاں، تو وہ چلے۔ وکیع نے ارتحل کا معنی راح (چلے) بتایا ہے۔
It was narrated from lbn Umar that the Messenger of Allah ﷺ used to stop at ‘Arafat in Namirah Valley. When Hajjáj killed Ibn Zubair, he sent word to Ibn ‘Umar asking: “At what hour did the Prophet ﷺ go out on this day?” He said: “When that thne comes, we will go out.” So Hajjäj sent a man to watch for the time when they went out. When Ibn ‘Umar wanted to set out, he said: “Has the sun passed the zenith?” They said: “It has not passed the zenith yet.” So he sat down. Then he said: “Has the sun passed the zenith?” They said: “It has not passed the zenith yet.” So he sat down. Then he said: “Has the sun passed the zenith?” They said: “Yes.” When they said that it had passed the zenith, he set out. (Daif)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/المناسک ٦١ (١٩١٤)، (تحفة الأشراف: ٧٠٧٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج ٨٧ (١٦٦٠)، موطا امام مالک/الحج ٦٤ (١٩٥)، مسند احمد (٢/٢٥) (حسن )
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عرفات میں وقوف کیا، اور فرمایا: یہ جگہ اور سارا عرفات ٹھہرنے کی جگہ ہے ۔
It was narrated that Ali said: "The Messenger of Allah ﷺ sopped at Arafat and said: This is the place of standing, and all Arafat is a place of standing.(Da`if)
یزید بن شیبان ؓ کہتے ہیں کہ ہم عرفات میں ایک جگہ ٹھہرے ہوئے تھے، جس کو ہم موقف (ٹھہرنے کی جگہ) سے دور سمجھ رہے تھے، اتنے میں ہمارے پاس ابن مربع آئے اور کہنے لگے: میں تمہارے پاس رسول اللہ ﷺ کا قاصد بن کر آیا ہوں، آپ فرما رہے ہیں: تم لوگ اپنی اپنی جگہوں پر رہو، کیونکہ تم آج ابراہیم (علیہ السلام) کے وارث ہو ١ ؎۔
It was narrated that Yazid bin Sheiban said: "We were standing in a place that was far from the place of standing. Ibn Mirba came to us and said: I am the messenger of the Messenger of Allah ﷺ to you. He says: "Stay where you are for today you are on the legacy of Ibrahim." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ اس روز عرفات میں کہیں بھی ٹھہرنے سے سنت ادا ہوجائے گی، گرچہ رسول اللہ ﷺ کے ٹھہرنے کی جگہ سے دور ہی کیوں نہ ہو، نیز ابراہیم (علیہ السلام) کے وارث ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان جگہوں پر ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ ہی سے بطور وراثت وقوف چلا آ رہا ہے، لہذا تم سب کا وہاں وقوف (یعنی مجھ سے دور) صحیح ہے اور وارث ہونے کے ہم معنی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/المناسک ٦٢ (١٩١٩)، سنن الترمذی/الحج ٥٣ (٨٨٣)، (تحفة الأشراف: ١٥٥٢٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٣٧) (صحیح )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پورا عرفات جائے وقوف ہے، اور بطن عرفہ سے اٹھ جاؤ یعنی وہاں نہ ٹھہرو، اور پورا (مزدلفہ) ٹھہرنے کی جگہ ہے، اور بطن محسر سے اٹھ جاؤ یعنی وہاں نہ ٹھہرو، اور پورا منٰی منحر (مذبح) ہے، سوائے جمرہ عقبہ کے پیچھے کے ١ ؎۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah (RA) that the Messenger ﷺ of Allah ﷺ said: "All of Arafat is the place of standing, but keep away from the interior of Uranah. And all of Muzdalifah is the place of standing but keep away from the interior of Muhassir. And all of Mina is the place of sacrifice, except for what is beyond Aqabahh." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: بطن عرفہ سے اٹھ جاؤ: اس لئے کہ وہ میدان عرفات کی حد سے باہر ہے۔ بطن محسر سے اٹھ جاؤ: اس لئے کہ وہاں منیٰ کی حد ختم ہوجاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٠٦٩، ومصباح الزجاجة: ١٠٥٢)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/المناسک ٦٥ (١٩٣٦)، سنن الدارمی/المناسک ٥٠ (١٩٢١) (صحیح) (سند میں قاسم بن+عبداللہ العمری متروک راوی ہے، اس لئے إلا ما وراء العقبة کے لفظ کے ساتھ یہ صحیح نہیں ہے، اصل حدیث کثرت طرق اور شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ١٦٦٥ - ٦٩٢ ١ - ١٦٩٣ )
عباس بن مرداس سلمی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عرفہ کی شام کو اپنی امت کی مغفرت کی دعا کی، تو آپ ﷺ کو جواب ملا کہ میں نے انہیں بخش دیا، سوائے ان کے جو ظالم ہوں، اس لیے کہ میں اس سے مظلوم کا بدلہ ضرور لوں گا، آپ ﷺ نے فرمایا: اے رب! اگر تو چاہے تو مظلوم کو جنت دے اور ظالم کو بخش دے ، لیکن اس شام کو آپ کو جواب نہیں ملا، پھر جب آپ ﷺ نے مزدلفہ میں صبح کی تو پھر یہی دعا مانگی، آپ کی درخواست قبول کرلی گئی، تو آپ ﷺ ہنسے یا مسکرائے، پھر آپ سے ابوبکرو عمر ؓ نے عرض کیا: ہمارے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، یہ ایسا وقت ہے کہ آپ اس میں ہنستے نہیں تھے تو آپ کو کس چیز نے ہنسایا؟ اللہ آپ کو ہنساتا ہی رہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے دشمن ابلیس کو جب معلوم ہوا کہ اللہ نے میری دعا قبول فرما لی ہے، اور میری امت کو بخش دیا ہے، تو وہ مٹی لے کر اپنے سر پر ڈالنے لگا اور کہنے لگا: ہائے خرابی، ہائے تباہی! جب میں نے اس کا یہ تڑپنا دیکھا تو مجھے ہنسی آگئی ۔
Abdullah bin Kinanah bin Abbas bin Mirdas As-Sulami narrated that his father told him, from his father, that the Messenger of Allah ﷺ prayed for forgiveness for his nation in the evening at I Ar afat, and the response came: I have forgiven them, except for the wrongdoer I with whom I will settle the score in favor of the one whom he wronged." He said: "O Lord, if You will, then grant Paradise to the one who is wronged, and forgive the wrongdoer." No response came (that evening). The next day at Muzdalifah he repeated the supplication, and received a response to what he asked for. He (the narrator) said: "The Messenger of Allah ﷺ laughed," or he said, "He smiled. Abu Balerand Umar said to him: May my father and mother be ransomed for you, this is not a time when you usually laugh. What made you laugh, may Allah make your years filled with laughter? He said: The enemy of Allah, Iblis, when he came to know that Allah has answered my prayer and forgiven my nation, took some dust and started to sprinkle it on his head uttering cries of woe and doom and what I saw of his anguish made me laugh. (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥١٤٠، ومصباح الزجاجة: ١٠٥٣)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأدب ١٦٨ (٥٢٣٤)، مسند احمد (٤/١٤) (ضعیف) (عبد اللہ بن کنانہ مجہول ہیں، اور ان کی حدیث صحیح نہیں ہے، ملاحظہ ہو: المشکاة: ٢٦٠٣ )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جتنا عرفہ کے دن اپنے بندوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہے اتنا کسی اور دن نہیں، اللہ تعالیٰ قریب ہوجاتا ہے، اور ان کی وجہ سے فرشتوں پر فخر کرتا ہے، اور فرماتا ہے: میرے ان بندوں نے کیا چا ہا ؟ ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Musayyab that Aisha (RA) said that Messenger of Allah ﷺ said: There is no day on which Allah ransoms more slaves from the slaves from the Fire than the Day of Arafah. He draws closer and closer, then He boasts about them before the angels and says: What do these people Want? (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کس چیز کی خواہش اور طلب میں اس قدر لوگ اس میدان میں جمع ہیں؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: تیری مغفرت چاہتے ہیں، اور تیرے عذاب سے پناہ مانگتے ہیں، ارشاد ہوتا ہے میں نے ان کو بخش دیا۔
عبدالرحمن بن یعمر دیلی ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھا، آپ عرفات میں وقوف فرما تھے، اہل نجد میں سے کچھ لوگوں آپ کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! حج کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: حج عرفات میں وقوف ہے، جو مزدلفہ کی رات فجر سے پہلے عرفات میں آجائے اس کا حج پورا ہوگیا، اور منیٰ کے تین دن ہیں (گیارہ بارہ اور تیرہ ذی الحجہ) ، جو جلدی کرے اور دو دن کے بعد بارہ ذی الحجہ ہی کو چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، اور جو تیسرے دن بھی رکا رہے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ، پھر آپ ﷺ نے ایک شخص کو اپنے پیچھے سوار کرلیا، وہ ان باتوں کا اعلان کر رہا تھا ١ ؎۔
Sufyan bin Bukair bin Ata said: "I heard Abdur-Rahman bin Yamur Dili say: I saw the Messenger of Allah ﷺ when he was standing at Arafat, and some people from Najd came to him and said: "O Messenger of Allah, what is Hajj?" He said: "Hajj is Arafah. Whoever comes before Fajr prayer on the night of Jam, he has completed his Hajj. The days at Mina are three. But whosoever hastens to leave in two days, there is no sin on him and whosoever stays on, there is no sin on him. Then he seated a man behind him on his mount and he started calling out these words." (Sahih) Another chain with similar wording. Muhammad bin Yahya said: I have not been shown any Hadith reported by Thawri more noble than it (i.e., this one).
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی دسویں ذی الحجہ کے طلوع فجر سے پہلے ایک گھڑی کے لئے بھی عرفات کا وقوف پالے تو اس کا حج ہوگیا۔
عبدالرحمن بن یعمر دیلی ؓ کہتے ہیں کہ میں عرفات میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اتنے میں اہل نجد کے کچھ لوگ آپ کے پاس آئے، پھر انہوں نے اسی جیسی حدیث بیان کی۔ محمد بن یحییٰ کہتے ہیں کہ میں تو ثوری کی کوئی حدیث اس سے بہتر نہیں سمجھتا۔
عروہ بن مضرس طائی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے عہد میں حج کیا، تو اس وقت پہنچے جب لوگ مزدلفہ میں تھے، وہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اپنی اونٹنی کو لاغر کردیا اور اپنے آپ کو تھکا ڈالا، اور قسم اللہ کی! میں نے کوئی ایسا ٹیلہ نہیں چھوڑا، جس پر نہ ٹھہرا ہوں، تو کیا میرا حج ہوگیا؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص ہمارے ساتھ نماز میں حاضر رہا ہو، اور عرفات میں ٹھہر کر دن یا رات میں لوٹے، تو اس نے اپنا میل کچیل دور کرلیا، اور اس کا حج پورا ہوگیا ١ ؎۔
It was narrated from Urwah bin Mudarris At-Tai that he performed Hajj during the time of the Messenger of Allah ﷺ , and he did not catch up with the people until they were at Jam (AIMuzdalifah). He said: "I came to the Prophet ﷺ and said: O Messenger of Allah, I have made my camel lean (because of the long journey) and I have worn myself out. By Allah, there is no sand hill on which I did not stand. Have I performed Hajj? The Prophet ﷺ said: Whoever atended the prayer (i.e., Fajr at Muzdalifah) with us and departed from Arafat, by night or day, may remove the dirt and has Completed his Hajj. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی حالت احرام میں پراگندہ رہنے کی مدت اس نے پوری کرلی، اب وہ اپنا سارا میل کچیل جو چھوڑ رکھا تھا دور کرسکتا ہے۔
اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہے کہ ان سے پوچھا گیا: عرفات سے لوٹتے وقت رسول اللہ ﷺ کیسے چلتے تھے؟ کہا: آپ ﷺ عنق کی چال (تیز چال) چلتے، اور جب خالی جگہ پاتے تو نص کرتے یعنی دوڑتے۔ وکیع کہتے ہیں کہ عنق سے زیادہ تیز چال کو نص کہتے ہیں۔
It was narrated from Usamah bin Zaid that he was asked: "How did the Messenger of Allah ﷺ travel when he departed from Arafat?" He said: "He moved at a quick pace, and when he reached an open space he would make his camel run." (Sahih)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں: قریش کہتے تھے کہ ہم بیت اللہ کے رہنے والے ہیں، حرم کے باہر نہیں جاتے ١ ؎، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ: ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس پھر تم بھی وہیں سے لوٹو جہاں سے اور لوگ لوٹتے ہیں (یعنی عرفات سے) اتاری۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "The Quraish said: We are the neighbors of the House and we do not leave the sanctuary. Allah said: Then depart from the place whence all the people depart." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اسی وجہ سے وہ عرفات میں وقوف نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ حل میں واقع ہے، یعنی حرم سے باہر۔
اسامہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عرفات سے لوٹا، جب آپ اس گھاٹی پر آئے جہاں امراء اترتے ہیں، تو آپ نے اتر کر پیشاب کیا، پھر وضو کیا، تو میں نے عرض کیا: نماز (پڑھ لی جائے) ، آپ ﷺ نے فرمایا: نماز تمہارے آگے (پڑھی جائے گی) پھر جب مزدلفہ میں پہنچے تو اذان دی، اقامت کہی، اور مغرب پڑھی، پھر کسی نے اپنا کجاوہ بھی نہیں کھولا کہ آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور عشاء پڑھی۔
It was narrated that Usamah bin Zaid said: "I departed from Arafat with the Messenger of Allah ﷺ and when he reached the mountain path at which the chiefs would dismount, he dismounted and urinated, then performed ablution. I said: (Is it time for) prayer? He said: The prayer is still ahead of you. When he reached Jam (Muzdalifah) he called the Adhan and lqamah, then he prayed Maghrib. Then no one among the people unloaded (the camels) (Sahih)
ابوایوب انصاری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مغرب اور عشاء مزدلفہ میں پڑھی۔
It was narrated from Abdullah bin Yazid Al-Khatmi that he heard Abu Ayyub AI·Ansari say: "I prayed Maghrib and Isha with the Messenger of Allah ﷺ during the Farewell Pilgrimage, at Muzdalifah." (Sahih)
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مغرب مزدلفہ میں پڑھی، پھر جب ہم نے اپنے اونٹوں کو بٹھا دیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اقامت کہہ کر عشاء پڑھو ۔
It was narrated from Ubaidullah, from Salim, from his father, that the Prophet ﷺ prayed Maghrib at Muzdalifah. When we halted he said: "Prayer should be done with Iqamah."(sahih)