Sunan Ibne-Majah 3007

حج کا بیان

3007Sunan Ibne-Majah

منی میں اترنا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْيُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ أُمِّهِ مُسَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا نَبْنِي لَكَ بِمِنًى بُنْيَانًا يُظِلُّكَ؟، قَالَ: لَا مِنًى مُنَاخُ مَنْ سَبَقَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم منیٰ میں آپ کے لیے ایک گھر نہ بنادیں جو آپ کو سایہ دے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، منیٰ اس کی جائے قیام ہے جو پہلے پہنچ جائے ١ ؎۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "We said: O Messenger of Allah, should we not build you a house in Mina that will be a means of shade for you? He said: No, Mina is just a stopping place for those who get there first." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی منیٰ کا میدان حاجیوں کے لئے وقف ہے، وہ کسی کی خاص ملکیت نہیں ہے، اگر کوئی وہاں پہلے پہنچے اور کسی جگہ اتر جائے، تو دوسرا اس کو اٹھا نہیں سکتا چونکہ گھر بنانے میں ایک جگہ پر اپنا قبضہ اور حق جما لینا ہے، اس لیے آپ نے اس سے منع فرمایا۔
Takhrij · تخریج
أنظر ما قبلہ (ضعیف )