Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 45 of 218

881Sunan Ibne-Majah

سجدے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَقْرَمَ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي بِالْقَاعِ مِنْ نَمِرَةَ، فَمَرَّ بِنَا رَكْبٌ فَأَنَاخُوا بِنَاحِيَةِ الطَّرِيقِ، فَقَالَ لِي أَبِي: كُنْ فِي بَهْمِكَ حَتَّى آتِيَ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ فَأُسَائِلَهُمْ، قَالَ: فَخَرَجَ، وَجِئْتُ يَعْنِي: دَنَوْتُ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَضَرْتُ الصَّلَاةَ فَصَلَّيْتُ مَعَهُمْ، فَكُنْتُ أَنْظُرُ إِلَىعُفْرَتَيْ إِبْطَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا سَجَدَ، قَالَ ابْن مَاجَةَ: النَّاسُ يَقُولُونَ: عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، يَقُولُ النَّاسُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَصَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، وَأَبُو دَاوُدَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَقْرَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.

عبداللہ بن اقرم خزاعی ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک بار اپنے والد کے ساتھ نمرہ کے میدان میں تھا کہ ہمارے پاس سے کچھ سوار گزرے، انہوں نے راستے کی ایک جانب اپنی سواریوں کو بٹھایا، مجھ سے میرے والد نے کہا: تم اپنے جانوروں میں رہو تاکہ میں ان لوگوں کے پاس جا کر ان سے پوچھوں (کہ کون لوگ ہیں) ، وہ کہتے ہیں: میرے والد گئے، اور میں بھی قریب پہنچا تو دیکھا کہ نبی اکرم ﷺ تشریف فرما ہیں، میں نماز میں حاضر ہوا اور ان لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی، جب جب رسول اللہ ﷺ سجدہ میں جاتے میں آپ کی دونوں بغلوں کی سفیدی کو دیکھتا تھا ٢ ؎۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: لوگ عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں، اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا کہ لوگ عبداللہ بن عبیداللہ کہتے ہیں۔

It was narrated from (Ubaidullah bin Abdullah) bin Aqram Al-Khuzai that his father said: "I was with my father on the plain in Namiraha when some riders passed us and made their camels kneel down at the side of the road. My father said to me: Stay with your lambs until I go to those people and see what they want. He said: Then he (my father) went out and I come, (i.e, I came near.) then there was the Messenger of Allah ﷺ and the time for prayer came so I prayed with them, and I was looking at the whiteness of the armpits of the Messenger of Allah ﷺ every time he prostrated." (Sahih) Ibn Majah said: The people say Ubdaidullah bin Abdullah, but Abu Bakr (RA) bin Abu Shaibah said: "The people say ,Abdullah bin Ubaidullah." Muhammad bin Bashshar said: "Abdur-Rahman bin Mahdi, Safwan bin Eisa and Abu Dawud all said: Dawud bin Qais narrated to us, from "Ubaidullfih bin Abdullah bin Aqram, from his father, from the Prophet ﷺ ﷺ with similar wording. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: نمرہ: عرفات سے متصل ایک جگہ کا نام ہے، جو عرفات سے پہلے پڑتا ہے۔ ٢ ؎: سجدے میں آپ ﷺ دونوں بازوؤں کو پسلی سے اس قدر دور رکھتے کہ بغل صاف نظر آتی۔ اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مرفوعاً مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٨٩ (٢٧٤)، سنن النسائی/التطبیق ٥١ (١١٠٩)، (تحفة الأشراف: ٥١٤٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٥) (صحیح )
882Sunan Ibne-Majah

سجدے کا بیان

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا سَجَدَ وَضَعَ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ، وَإِذَا قَامَ مِنَ السُّجُودِ رَفَعَ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ.

وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ سجدہ کرتے تو اپنے گھٹنے اپنے ہاتھوں سے پہلے رکھتے، اور جب سجدہ سے اٹھتے تو اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں سے پہلے اٹھاتے ١ ؎۔

It was narrated that Wail bin Hujr said: "I saw the Prophet ﷺ when he prostrated and put his knees on the ground before his hands, and when he stood up after prostrating, he took his hands off the ground before his knees." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: امام دارقطنی فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو عاصم سے شریک کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا ہے، اور شریک تفرد کی صورت میں قوی نہیں ہیں، علامہ البانی فرماتے ہیں کہ اس حدیث کے متن کو عاصم بن کلیب سے ثقات کی ایک جماعت نے روایت کیا ہے، اور رسول اللہ ﷺ کے طریقہ نماز کو شریک کی نسبت زیادہ تفصیل سے بیان کیا ہے، اس کے باوجود ان ثقہ راویوں نے سجدہ میں جانے اور اٹھنے کی کیفیت کا ذکر نہیں کیا ہے، خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس حدیث میں شریک کو وہم ہوا ہے، اور یہ حدیث انتہائی ضعیف ہے جو قطعاً قابل استدلال نہیں، اور صحیح حدیث ابوداود میں ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے جس میں ہے کہ دونوں ہاتھ کو دونوں گھٹنوں سے پہلے رکھے، علامہ ابن القیم نے ابوہریرہ ؓ کی اس حدیث کو مقلوب کہا ہے کہ اصل حدیث یوں ہے: وليضع رکبتيه قبل يديه یعنی نمازی دونوں ہاتھوں سے پہلے اپنے گھٹنے زمین پر رکھے، لیکن محدث عبدالرحمن مبارکپوری، علامہ احمد شاکر، شیخ ناصر الدین البانی نے ابن القیم کے اس رائے کی تردید کی ہے، اور ابن خزیمہ نے کہا ہے کہ گھٹنوں سے پہلے ہاتھ رکھنے والی روایت کو منسوخ کہنا صحیح نہیں ہے، کیونکہ سعد بن ابی وقاص ؓ کی یہ روایت: كنا نضع اليدين قبل الرکبتين فأمرنا بالرکبتين قبل اليدين یعنی: پہلے ہم گھٹنوں سے قبل ہاتھ رکھتے تھے، پھر ہمیں ہاتھوں سے قبل گھٹنے رکھنے کا حکم دیا گیا انتہائی ضعیف ہے، اور قطعاً قابل استدلال نہیں۔ مسئلے کی مزید تنقیح اور کے لیے ہم یہاں پر اہل علم کے اقوال نقل کرتے ہیں: اہل حدیث کا مذہب ہے کہ سجدے میں جانے کے لیے گھٹنے سے پہلے دونوں ہاتھوں کو زمین پر رکھا جائے گا، یہی صحیح ہے اس لیے کہ یہ نبی اکرم ﷺ کے فعل اور حکم دونوں سے ثابت ہے، رہا فعل تو ابن عمر ؓ کی حدیث میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب سجدہ کرتے تو گھٹنے سے پہلے اپنے ہاتھ زمین پر رکھتے اس حدیث کی تخریج ایک جماعت نے کی ہے جن میں حاکم بھی ہیں، حاکم کہتے ہیں کہ یہ حدیث مسلم کی شرط پر صحیح ہے، اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے، اور جیسا کہ ان دونوں نے کہا ایسا ہی ہے، اس کی تصحیح ابن خزیمہ ( ٦٢٧ ) نے بھی کی ہے (ملاحظہ ہو: ارواء الغلیل ٢ /٧٧-٧٨)، رہ گیا امر نبوی تو وہ ابوہریرہ ؓ کی مرفوع حدیث سے ثابت ہے: إذا سجد أحدکم فلا يبرك كما يبرک البعير و ليضع يديه قبل رکبتيه یعنی: جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اونٹ کے بیٹھنے کی طرح زمین پر نہ بیٹھے، گھٹنوں سے پہلے اپنے ہاتھوں کو زمین پر رکھے، اس حدیث کی تخریج ابوداود، نسائی اور جماعت نے کی ہے، اور اس کی سند نووی اور زرقانی کے بقول جید ہے، اور یہی حافظ ابن حجر کا قول ہے، اور ان دونوں حدیثوں کے معارض صرف وائل بن حجر کی حدیث ہے، اور یہ راوی حدیث شریک بن عبداللہ القاضی کی وجہ سے ضعیف ہے، اس لیے کہ وہ سیٔ الحفظ (کمزور حافظہ کے) ہیں، تو جب وہ تفرد کی حالت میں ناقابل حجت ہیں تو جب ثقات کی مخالفت کریں گے تو کیا حال ہوگا، اسی لیے حافظ ابن حجر بلوغ المرام میں فرماتے ہیں کہ ابوہریرہ کی حدیث وائل کی حدیث سے زیادہ قوی ہے، اور اس کو عبدالحق اشبیلی نے ذکر کیا ہے۔ طحاوی شرح معانی الآثار ( ١ /١٥٠) میں فرماتے ہیں کہ اونٹ کے گھٹنے اس کے ہاتھ میں ہوتے ہیں، ایسی ہی دوسرے چوپایوں کے اور انسان کا معاملہ ایسے نہیں تو ارشاد نبوی ہوا کہ نمازی اپنے گھٹنوں پر نہ بیٹھے جو کہ اس کے پاؤں میں ہوتے ہیں، جیسا کہ اونٹ اپنے گھٹنوں پر (جو اس کے ہاتھ میں ہوتے ہیں) بیٹھتا ہے، لیکن بیٹھنے کی ابتداء ایسے کرے کہ پہلے اپنے دونوں ہاتھوں کو زمین پر رکھے جس میں اس کے گھٹنے نہیں ہیں پھر اپنے گھٹنوں کو رکھے تو اپنے اس فعل میں وہ اونٹ کے بیٹھنے کے خلاف کرے گا، البانی صاحب کہتے ہیں کہ اس سنت میں وارد حکم بظاہر واجب ہے، ابن حزم نے محلی میں اس کو واجب کہا ہے ( ٤ /١٢٨)، واجب کہنے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اس کے الٹا ناجائز ہے، اور اس میں اس اتفاق کی تردید ہے جس کو شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے فتاویٰ میں نقل کیا ہے کہ دونوں طرح جائز ہے، (فتاوی ابن تیمیہ ١ /٨٨)، البانی صاحب کہتے ہیں کہ اس متروک سنت پر تنبیہ ہونی چاہیے تاکہ اس پر عمل کرنے کا اہتمام ہو، اور یہی چیز ابوحمید ساعدی ؓ کی دس صحابہ رسول کے ساتھ حدیث میں ہے کہ رسول اکرم ﷺ زمین کی طرف جاتے تھے اور آپ کے دونوں ہاتھ پہلو سے دور ہوتے تھے پھر سجدہ کرتے تھے، اور سبھی نے ابوحمید سے کہا کہ آپ نے سچ فرمایا، نبی اکرم ﷺ ایسے ہی نماز پڑھتے تھے، اس کی روایت ابن خزیمہ (صحیح ابن خزیمہ ١ /٣١٧-٣١٨) وغیرہ نے صحیح سند سے کی ہے۔ جب آپ کو یہ معلوم ہوگیا اور آپ نے میرے ساتھ لفظ هوى کے معنی پر غور کیا جس کے معنی یہ ہیں کہ پہلو سے دونوں ہاتھ کو الگ کرتے ہوئے زمین پر جانا تو آپ پر بغیر کسی غموض کے یہ واضح ہوجائے گا کہ ایسا عادۃً اسی وقت ممکن ہے جب کہ دونوں ہاتھ کو آدمی زمین پر لے جائے نہ کہ گھٹنوں کو اور اس میں وائل ؓ کی حدیث کے ضعف پر ایک دوسری دلیل ہے، اور یہی مالک، اوزاعی، ابن حزم اور ایک روایت میں احمد کا ہے، (ملاحظہ ہو: الاختیارات الفقہیہ للإمام الالبانی، ٩٠ -٩١) البانی صاحب صفۃ صلاۃ النبی ﷺ میں دونوں ہاتھوں کو زمین پر سجدہ کے لیے آگے کرنے کے عنوان کے تحت فرماتے ہیں: نبی اکرم ﷺ سجدہ میں جاتے وقت اپنے دونوں ہاتھ زمین پر گھٹنوں سے پہلے رکھتے تھے، اور اس کے کرنے کا حکم دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اونٹ کی طرح نہ بیٹھے، بلکہ اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں سے پہلے زمین پر رکھے۔ پہلی حدیث کی تخریج میں فرماتے ہیں کہ اس کی تخریج ابن خزیمہ، دارقطنی اور حاکم نے کی ہے، اور حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے، اور اس کے خلاف وارد حدیث صحیح نہیں ہے، اس کے قائل مالک ہیں، اور احمد سے اسی طرح مروی ہے کمافی التحقیق لابن الجوزی، اور مروزی نے مسائل میں امام اوزاعی سے صحیح سند سے یہ روایت کی ہے کہ میں نے لوگوں کو اپنے ہاتھ زمین پر گھٹنوں سے پہلے رکھتے پایا ہے۔ اور دوسری حدیث جس میں دونوں ہاتھوں کو پہلے زمین پر رکھنے کا حکم ہے، اس کی تخریج میں لکھتے ہیں: ابوداود، تمام فی الفوائد، سنن النسائی صغریٰ و کبریٰ صحیح سند کے ساتھ، عبدالحق نے احکام کبریٰ میں اس کی تصحیح کی ہے اور کتاب التہجد میں کہا کہ یہ اس سے پہلی یعنی اس کی مخالف وائل والی حدیث کی سند سے زیادہ بہتر ہے، بلکہ وائل کی حدیث اس صحیح حدیث اور اس سے پہلے کی حدیث کے مخالف ہونے کے ساتھ ساتھ سند کے اعتبار سے بھی ضعیف ہے، اور اس معنی کی جو حدیثیں ہیں، وہ بھی ضعیف ہیں جیسا کہ میں نے سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ ( ٩٢٩ ) اور ارواء الغلیل ( ٣٥٧ ) میں اس کی کی ہے، اس کے بعد فرماتے ہیں کہ جان لیں کہ اونٹ کی مخالفت کی صورت یہ ہے کہ سجدے میں جاتے وقت دونوں ہاتھوں کو زمین پر گھٹنوں سے پہلے رکھا جائے، کیونکہ سب سے پہلے اونٹ بیٹھتے وقت اپنے گھٹنے کو جو اس کے ہاتھوں (یعنی اس کے دونوں پیر) میں ہوتے ہیں، زمین پر رکھتا ہے، جیسا کہ لسان العرب وغیرہ میں آیا ہے، اور امام طحاوی نے مشکل الآثار اور شرح معانی الآثار میں ایسے ہی ذکر کیا ہے، اور ایسے ہی امام قاسم سرقسطی (رح) کا قول ہے، چناچہ انہوں نے غریب الحدیث میں صحیح سند کے ساتھ ابوہریرہ ؓ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ کوئی شخص نماز میں اڑیل اونٹ کی طرح قطعاً نہ بیٹھے، (امام سرقسطی کہتے ہیں کہ یہ سجدہ میں جانے کی صورت میں ہے) یعنی وہ اپنے آپ کو زمین پر اس طرح نہ پھینکے جس طرح اڑیل اونٹ بےاطمینانی سے بیٹھتا ہے، بلکہ اطمینان کے ساتھ نیچے جائے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو زمین پر رکھے، پھر اس کے بعد اپنے گھٹنوں کو، اس سلسلے میں ایک مرفوع حدیث مروی ہے جس میں یہ تفصیل موجود ہے، پھر قاسم سرقسطی نے اوپر والی حدیث ذکر کی، ابن القیم کا یہ کہنا عجیب ہے کہ یہ بات عقل سے دور ہے، اور اہل زبان کے یہاں غیر معروف بھی ہے۔ ہم نے جن مراجع کی طرف اشارہ کیا ہے اور اس کے علاوہ دوسرے بہت سارے مراجع میں ان کی تردید ہے، جس کی طرف رجوع کیا جانا چاہیے، ہم نے اس مسئلہ کو شیخ حمود تویجری پر اپنے رد میں تفصیل سے بیان کیا ہے (ملاحظہ ہو: صفۃ الصلاۃ، ١٤٠ -١٤١ )
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٤١ (٨٣٨)، سنن الترمذی/الصلاة ٨٥ (٢٦٨)، سنن النسائی/التطبیق ٣٨ (١٠٩٠)، (تحفة الأشراف: ١١٧٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٨١)، سنن الدارمی/الصلاة ٧٤ (١٣٥٩) (ضعیف) (سند میں شریک القاضی ضعیف ہیں، نیز: ملاحظہ ہو: الإرواء: ٣٥٧ ، و ضعیف أبی داود: ١٥١ )
883Sunan Ibne-Majah

سجدے کا بیان

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔

It was narrated from Ibn ,Abbas that the Prophet ﷺ said: "I have been commanded to prostrate on seven bones." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٣٣ (٨٠٩)، ١٣٤ (٨١٠)، ١٣٧ (١١٥)، ١٣٨ (٨١٦)، صحیح مسلم/الصلاة ٤٤ (٤٩٠)، سنن ابی داود/الصلاة ١٥٥ (٨٨٩، ٨٩٠)، سنن الترمذی/الصلاة ٨٨ (٢٧٣)، سنن النسائی/التطبیق ٤٠ (١٠٩٤)، ٤٣ (١٠٩٧)، ٤٥ (١٠٩٩)، ٥٦ (١١١٤)، ٥٨ (١١١٦)، (تحفة الأشراف: ٥٧٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢١، ٢٢٢، ٢٥٥، ٢٧٠، ٢٧٩، ٢٨٠، ٢٨٥، ٢٨٦، ٢٩٠، ٣٠٥، ٣٢٤)، سنن الدارمی/الصلاة ٧٣ (١٣٥٧) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ١٠٤٠) (صحیح )
884Sunan Ibne-Majah

سجدے کا بیان

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعٍ، وَلَا أَكُفَّ شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا، قَالَ ابْنُ طَاوُسٍ: فَكَانَ أَبِي يَقُولُ: الْيَدَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ، وَكَانَ يَعُدُّ الْجَبْهَةَ وَالْأَنْفَ وَاحِدًا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات (اعضاء) پر سجدہ کروں، اور بالوں اور کپڑوں کو نہ سمیٹوں ۔ ابن طاؤس کہتے ہیں کہ (وہ سات اعضاء یہ ہیں) : دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے، دونوں قدم، اور وہ پیشانی و ناک کو ایک شمار کرتے تھے۔

It was narrated that Ibn Abbas said: The Messenger of Allah ﷺ said: "I have been commanded to prostrate on seven, and not to tuck up my hair or my garment." (Sahih) Ibn Tawus said: My father used to say: The two palms, two knees and two feet, and he used to count the forehead and nose as one.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٣٤ (٨١٢)، صحیح مسلم/الصلاة ٤٤ (٤٩٠)، سنن النسائی/التطبیق ٤٣ (١٠٩٧)، ٤٥ (١٠٩٩)، (تحفة الأشراف: ٥٧٠٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢٢، ٢٩٢، ٣٠٥) (صحیح )
885Sunan Ibne-Majah

سجدے کا بیان

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِذَا سَجَدَ الْعَبْدُ سَجَدَ مَعَهُ سَبْعَةُ آرَابٍ: وَجْهُهُ، وَكَفَّاهُ، وَرُكْبَتَاهُ، وَقَدَمَاهُ.

عباس بن عبدالمطلب ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ سات اعضاء سجدہ کرتے ہیں: اس کا چہرہ، اس کی دونوں ہتھیلیاں، دونوں گھٹنے اور دونوں قدم ۔

It was narrated from Abbas bin Abdul-Muttalib that he heard the Prophet ﷺ say: "When a person prostrates, seven parts of his body proslrate with him: His face, his two hands, his two knees, and his two feet." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٤ (٤٩٠)، سنن ابی داود/الصلاة ١٥٥ (٨٩١)، سنن الترمذی/الصلاة ٨٨ (٢٧٢)، سنن النسائی/التطبیق ٤١ (١٠٩٥)، ٤٦ (١١٠٠)، (تحفة الأشراف: ٥١٢٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١ /٢٠٦، ٢٠٨، ١٠٩٨) (صحیح )
886Sunan Ibne-Majah

سجدے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا أَحْمَرُ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنْ كُنَّا لَنَأْوِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا يُجَافِي بِيَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ إِذَا سَجَدَ.

صحابی رسول احمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سجدہ کرتے تو ہاتھوں (اور بازوؤں) کو پہلووں سے اتنا دور کرتے کہ ہمیں (اس مشقت کی کیفیت کو دیکھ کر) ترس آتا۔

Ahmar, the Companion of the Messenger of Allah ﷺ narrated to us: “We used to feel sorry for the Messenger of Allah ﷺ because he took pains to keep his arms away from his sides when he prostrated.” (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ الگ رکھنے کی وجہ سے آپ کو کافی مشقت اٹھانی پڑتی تھی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٥٨ (٩٠٠)، (تحفة الأشراف: ٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٤٢، ٥/٣١) (صحیح )
887Sunan Ibne-Majah

رکوع اور سجدہ میں تسبیح

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ الْبَجَلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَيُّوبَ الْغَافِقِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمِّيإِيَاسَ بْنَ عَامِرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، يَقُولُ: لَمَّا نَزَلَتْ: فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ سورة الواقعة آية 74، قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اجْعَلُوهَا فِي رُكُوعِكُمْ، فَلَمَّا نَزَلَتْ: سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى سورة الأعلى آية 1، قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اجْعَلُوهَا فِي سُجُودِكُمْ.

عقبہ بن عامر جہنی ؓ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ: فسبح باسم ربک العظيم نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا: اسے اپنے رکوع میں کہا کرو ، پھر جب سبح اسم ربک الأعلى نازل ہوئی تو ہم سے فرمایا: اسے اپنے سجدے میں کہا کرو ١ ؎۔

Uqbah bin Amir Al-juhani said: "When the following was revealed: So glorify the Name of your Lord, the Most Great, the Messenger of Allah ﷺ said to us: Say this in your Ruku. And when the following was revlealed: Glorify the Name of your Lord, the Most High. pI the Messenger of Allah ﷺ said to us: Say this in your prostrations. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی رکوع میں سبحان ربي العظيمِ اور سجدہ میں سبحان ربي الأعلى کہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٥١ (٨٧٥، ٨٧٦)، (تحفة الأشراف: ٩٩٠٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٥٥)، سنن الدارمی/الصلاة ٦٩ (١٣٤٤) (ضعیف) (سند میں موسیٰ بن ایوب منکر الحدیث، اور ایاس بن عامر غیر قوی ہیں اس لئے یہ ضعیف ہے )
888Sunan Ibne-Majah

رکوع اور سجدہ میں تسبیح

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي الْأَزْهَرِ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِذَا رَكَعَ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَإِذَا سَجَدَ قَالَ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ.

حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو رکوع میں سبحان ربي العظيم تین بار، اور سجدہ میں سبحان ربي الأعلى تین بار کہتے سنا۔

It was narrated from Hudhaifah bin Al-Yaman that he heard the Messenger of Allah ﷺ say when he bowed: "Subhiina Rabbiyal-Azim (Glory is to my Lord, the Most Great)" three times, and when he prostrated he said: " Subhana Rabbiyal-Ala (Glory is to my Lord the Most High)" three times. (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ادنی درجہ ہے، کم سے کم تین بار کہنا چاہیے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٣٩١)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین ٢٧ (٧٧٢)، سنن ابی داود/الصلاة ١٥١ (٨٧٤)، سنن الترمذی/الصلاة ٧٩ (٢٦٢)، سنن النسائی/الافتتاح ٧٧ (١٠٠٩)، التطبیق ٧٤ (١١٣٤)، مسند احمد (٥/٣٨٢، ٣٨٤، ٣٩٤)، سنن الدارمی/الصلاة ٦٩ (١٣٤٥) (صحیح )
889Sunan Ibne-Majah

رکوع اور سجدہ میں تسبیح

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِييَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ قرآن کی عملی تفسیر کرتے ہوئے اکثر اپنے رکوع میں سبحانک اللهم وبحمدک اللهم اغفر لي اے اللہ! تو پاک ہے، اور سب تعریف تیرے لیے ہے، اے اللہ! تو مجھے بخش دے پڑھتے ١ ؎۔

It was narrated that Alshah said: "The Messenger of Allah ﷺ often used to say when bowing and prostrating: Subhanaka Allahumma wa bihamdika , Allahummaghfir li (Glory is to You, o Allah, and praise; O Allah forgive me): following the command given by the Quran: (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: قرآن شریف میں ہے فسبح بحمد ربک واستغفره، اس کا مطلب یہی ہے کہ نماز میں یوں کہو: سبحانک اللهم وبحمدک اللهم اغفرلي، اور جو لفظ نبی اکرم ﷺ سے ثابت ہے اس کا اہتمام بہتر ہے، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رکوع اور سجدے میں دعا کرنا درست ہے، اور نماز میں جہاں تک اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور دعا ہو سکے کرے، اور دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی مانگے، اور جو دعائیں حدیث میں وارد ہیں ان کے سوا بھی جو دعا چاہے کرے کوئی ممانعت نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٢٣ (٧٩٤)، ١٣٩ (٨١٧)، المغازي ٥١ (٤٢٩٣)، تفسیر سورة النصر ١ (٤٩٦٨)، ٢ (٤٩٦٨)، صحیح مسلم/الصلاة ٤٢ (٤٨٤)، سنن ابی داود/الصلاة ١٥٢ (٨٧٧)، سنن النسائی/التطبیق ١٠ (١٠٤٨)، ٦٤ (١١٢٣)، ٦٥ (١١٢٤)، (تحفة الأشراف: ١٧٦٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٣، ٤٩، ١٩٠) (صحیح )
890Sunan Ibne-Majah

رکوع اور سجدہ میں تسبیح

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ يَزِيدَ الْهُذَلِيِّ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا رَكَعَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ فِي رُكُوعِهِ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ ثَلَاثًا، فَإِذَا فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ تَمَّ رُكُوعُهُ، وَإِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ فِي سُجُودِهِ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى ثَلَاثًا، فَإِذَا فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ تَمَّ سُجُودُهُ، وَذَلِكَ أَدْنَاهُ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص رکوع کرے تو اپنے رکوع میں تین بار سبحان ربي العظيم کہے، جب اس نے ایسا کرلیا تو اس کا رکوع مکمل ہوگیا، اور جب کوئی شخص سجدہ کرے تو اپنے سجدہ میں تین بار سبحان ربي الأعلى کہے، جب اس نے ایسا کرلیا تو اس کا سجدہ مکمل ہوگیا، اور یہ کم سے کم تعداد ہے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Mas ud said: "The Messenger of Allah ﷺ said: When anyone of you bows, let him say In his bowing: "Subhana Rabbiyal-Azim (Glory is to my Lord, the Most Great)" three times; if he does that his bowing will be complete. And when anyone of you prostrates, let him say. in his prostration, Subhana Rabbiyal-Ala (Glory is to my Lord, the Most High)" three times; if he does that, his prostration will be complete, and that is the minimum. ", (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: امام ترمذی نے کہا: مستحب ہے کہ آدمی تین بار سے کم تسبیح نہ کرے، اور ابن المبارک نے کہا کہ امام کو پانچ بار کہنا مستحب ہے، تاکہ مقتدی تین بار کہہ سکیں، اور اس سے زیادہ جہاں تک چاہے کہہ سکتا ہے، بشرطیکہ اکیلا نماز پڑھتا ہو، کیونکہ جماعت میں ہلکی نماز پڑھنا سنت ہے، تاکہ لوگوں کو تکلیف نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ١٥٤ (٨٨٦)، سنن الترمذی/الصلاة ٧٩ (٢٦١)، (تحفة الأشراف: ٩٥٣٠) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں اسحاق بن یزید الہذلی مجہول ہیں )
891Sunan Ibne-Majah

سجدہ میں اعتدال

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَعْتَدِلْ، وَلَا يَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ.

جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں کا کوئی شخص سجدہ کرے تو اعتدال سے کرے ١ ؎، اور اپنے دونوں بازوؤں کو کتے کی طرح نہ بچھائے ۔

It was narrated that Jabir said: The Messenger of Allah ﷺ said: "When anyone of you prostrates let him be balanced in prostration, and not spread his arms as a dog does." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: سجدہ میں اعتدال یہ ہے کہ دونوں ہتھیلیوں کو زمین پر رکھے، اور دونوں کہنیاں زمین سے اٹھائے رکھے، اور پیٹ کو ران سے جدا رکھے، حافظ ابن حجر نے کہا: بازوؤں کو بچھانا مکروہ ہے کیونکہ خشوع اور آداب کے خلاف ہے، البتہ اگر کوئی دیر تک سجدے میں رہے تو وہ اپنے گھٹنے پر بازو ٹیک سکتا ہے، کیونکہ حدیث میں ہے کہ صحابی نے نبی اکرم ﷺ سے سجدے کی مشقت کی شکایت کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: گھٹنوں سے مدد لو۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/المواقیت ٨٩ (٢٧٥)، (تحفة الأشراف: ٢٣١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٠٥، ٣١٥، ٣٨٩) (صحیح )
892Sunan Ibne-Majah

سجدہ میں اعتدال

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ، وَلَا يَسْجُدْ أَحَدُكُمْ وَهُوَ بَاسِطٌ ذِرَاعَيْهِ كَالْكَلْبِ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سجدوں میں اعتدال کرو، اور تم میں سے کوئی اپنے بازو کتے کی طرح بچھا کر سجدہ نہ کرے ۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Prophet ﷺ said: "Be balanced in prostration; none of you should prostrate with his arms spread out like a dog." (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الافتتاح ٨٩ (١٠٢٩)، التطبیق ٥٣ (١١١١)، (تحفة الأشراف: ١١٩٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المواقیت ٨ (٥٣٢)، الأذان ١٤١ (٨٢٢)، صحیح مسلم/الصلاة ٤٥ (٤٩٣)، سنن ابی داود/الصلاة ١٥٨ (٩٨٧)، سنن الترمذی/المواقیت ٩٠ (٢٧٦)، مسند احمد (٣/١١٥، ١٧٧، ١٧٩، ١٩١، ٢١٤، ٢٧٤، ٢٩١)، سنن الدارمی/الصلاة ٧٥ (١٣٦١) (صحیح )
893Sunan Ibne-Majah

دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَة، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ بُدَيْلٍ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنْعَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا، فَإِذَا سَجَدَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ جَالِسًا، وَكَانَ يَفْتَرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو اس وقت تک سجدہ نہ کرتے، جب تک کہ سیدھے کھڑے نہ ہوجاتے، اور جب سجدہ کر کے اپنا سر اٹھاتے تو اس وقت تک دوسرا سجدہ نہ کرتے جب تک کہ سیدھے بیٹھ نہ جاتے، اور بیٹھنے میں اپنا بایاں پاؤں بچھا دیتے۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "When the Messenger of Allah ﷺ raised his head from bowing, he would not prostrate until he had stood up straight. When he prostrated, he would raise his head and not prostrate again until he had sat up straight. And he used to spread ou t his left leg." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٤٦ (٤٩٨)، سنن ابی داود/الصلاة ١٢٤ (٧٨٣)، (تحفة الأشراف: ١٦٠٤٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/ ٢١، ١٩٤) (صحیح )
894Sunan Ibne-Majah

دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُقْعِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: تم دونوں سجدوں کے درمیان اقعاء نہ کرو ١ ؎۔

It was narrated that Ali said: The Messenger of Allah ﷺ said to me: "Do not squat between the two prostrations." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: اقعاء: دونوں پنڈلیاں کھڑی کر کے سرین اور دونوں ہاتھ زمین پر رکھ کر بیٹھنے کو اقعاء کہتے ہیں، اور دونوں قدم کھڑا کر کے اس پر بیٹھنے کو بھی اقعاء کہا جاتا ہے، ممانعت پہلی صورت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٩٣ (٢٨٢)، (تحفة الأشراف: ١٠٠٤١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٨٢، ١٤٦) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں الحارث روای ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٤٧٨٧ )
895Sunan Ibne-Majah

دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوَابٍ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ النَّخَعِيُّ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، وَأَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَلِيُّ: لَا تُقْعِ إِقْعَاءَ الْكَلْبِ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: يا علي لا تقع إقعاء الکلب ١ ؎۔

It was narrated that Ali said: "The Prophet ﷺ said: O Ali, do not squat like a dog.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس طرح نماز میں بیٹھنا ہمیشہ مکروہ ہے، کیونکہ اس میں ستر کھلنے کا ڈر ہوتا ہے، اگر یہ ڈر نہ ہو تو نماز کے باہر مکروہ نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
حدیث أبي اسحاق عن الحارث تقدم فيحدیث (٨٩٤)، وحدیث أبي موسیٰ عن الحارث، قد تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٠٢٨) (حسن) (شواہد کے بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں أبو مالک ضعیف ہیں )
896Sunan Ibne-Majah

دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا۔

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا الْعَلَاءُ أَبُو مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ فَلَا تُقْعِ كَمَا يُقْعِي الْكَلْبُ، ضَعْ أَلْيَتَيْكَ بَيْنَ قَدَمَيْكَ وَأَلْزِقْ ظَاهِرَ قَدَمَيْكَ بِالْأَرْضِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم سجدہ سے اپنا سر اٹھاؤ تو کتے کی طرح نہ بیٹھو، بلکہ اپنی سرین اپنے دونوں قدموں کے درمیان رکھو، اور اپنے قدموں کے اوپری حصہ کو زمین سے ملا دو ۔

It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Prophet ﷺ said to me: When you raise your head from prostration, do not squat like a dog. Put your buttocks between your feet and let the tops of your feet touch the ground.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٢١، ومصباح الزجاجة: ٣٢٦) (موضوع) (علاء بن زید انس ؓ سے موضوع احادیث روایت کرتا ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٢٦١٤ )
897Sunan Ibne-Majah

دونوں سجدوں کے درمیان کی دعا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ حُذَيْفَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الْأَحْنَفِ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: يَقُولُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ: رَبِّ اغْفِرْ لِي، رَبِّ اغْفِرْ لِي.

حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ دونوں سجدوں کے درمیان (جلسہ میں) رب اغفر لي رب اغفر لي اے میرے رب! مجھے بخش دے، اے میرے رب! مجھے بخش دے پڑھتے تھے۔

It was narrated from Hudhaifah that the Prophet ﷺ used to say between the two prostrations: "Rabbighfir u, Rabbighfir li (O Lord forgive me, o Lord forgive me)." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٢٧ (٧٧٢)، سنن ابی داود/الصلاة ١٥١ (٨٧٤)، سنن الترمذی/الصلاة ٧٩ (٢٦٢، ٢٦٣)، سنن النسائی/الافتتاح ٧٧ (١٠٠٩)، التطبیق ٧٤ (١١٣٤)، (تحفة الأشراف: ٣٣٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤٠٠، ٣٨٢، ٣٨٤، ٣٨٩، ٣٩٤، ٣٩٧)، سنن الدارمی/الصلاة ٧٦ (١٣٦٣) (صحیح )
898Sunan Ibne-Majah

دونوں سجدوں کے درمیان کی دعا۔

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ صَبِيحٍ، عَنْ كَامِلٍ أَبِي الْعَلَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ حَبِيبَ بْنَ أَبِي ثَابِتٍ يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُولُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ: رَبِّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاجْبُرْنِي، وَارْزُقْنِي، وَارْفَعْنِي.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تہجد کی نماز میں دونوں سجدوں کے درمیان رب اغفر لي وارحمني واجبرني وارزقني وارفعني اے میرے رب! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم کر، مجھ کو ضائع شدہ چیزوں کا بدلہ دیدے، مجھے رزق دے، اور مجھے بلندی عطا فرما پڑھتے تھے۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "When praying at night (Qiydmul-Lail), the Messenger of Allah ﷺ used to say between the two prostrations: RabbighfirIi war hamni wajburni warzuqni warfani (O Lord, forgive me, have mercy on me, i.mprove my situation, grant me provision and raise me in status). (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٤٧٥، ومصباح الزجاجة: ٥٢٧)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ١٤٥ (٨٥٠)، سنن الترمذی/الصلاة ٩٥ (٢٨٤، ٢٨٥)، مسند احمد (١/٣١٥، ٣٧١) (فلم يقولا: في صلاة الليل وقالا: اهدني بدل وارفعني ) (صحیح ابی داود: ٧٩٦) (صحیح )
899Sunan Ibne-Majah

تشہد میں پڑھنے کی دعا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ. ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ قَبْلَ عِبَادِهِ، السَّلَامُ عَلَى جِبْرَائِيلَ وَمِيكَائِيلَ، وَعَلَى فُلَانٍ وَفُلَانٍ يَعْنُونَ: الْمَلَائِكَةَ، فَسَمِعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: لَا تَقُولُوا: السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ، فَإِذَا جَلَسْتُمْ فَقُولُوا: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، فَإِنَّهُ إِذَا قَالَ ذَلِكَ أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَالْأَعْمَشِ، وُحُصَيْنٍ، وَأَبِي هَاشِمٍ، وَحَمَّادٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، وَعَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الأَسْوَدِ، وَأَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، وَمَنْصُورٍ، وَحُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ . ح قَالَ: وحَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، وَالْأَسْوَدِ، وَأَبِي الأَحْوَصِ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمُ التَّشَهُّدَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ جب ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تو کہتے: السلام على الله قبل عباده السلام على جبرائيل وميكائيل وعلى فلان وفلان سلام ہو اللہ پر اس کے بندوں سے پہلے، اور سلام ہو جبرائیل و میکائیل اور فلاں فلاں پر ، اور وہ مراد لیتے تھے (فلاں اور فلاں سے) فرشتوں کو، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں کہتے سنا تو فرمایا: تم السلام على الله نہ کہو، کیونکہ اللہ ہی سلام ہے، لہٰذا جب تم تشہد کے لیے بیٹھو تو کہو التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبرکاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين عمدہ آداب و تسلیمات اللہ کے لیے ہیں اور نماز اور اچھی باتیں سب اسی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، ہم پر سلام ہو، اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی جب بندہ یہ کہتا ہے تو یہ دعا ہر اس نیک بندے کو پہنچ جاتی ہے جو آسمان و زمین میں ہے، أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں ۔

It was narrated that Abdullah bin Masud said: "When we performed prayer with the Prophet ﷺ we said: Peace be upon Allah from His slaves, peace be upon Jibrail and Mikail and so-and-so and so-and-so. The Messenger of Allah ﷺ heard us and said: Do not say peace (Salam) be upon Allah, for He is As-Salam. When you sit (during prayer) say: At-Tahiyyatu lillahi was-salawatu wat-tayyibatu; assalamu alayka ayyuhan-Nabiyyu wa rahmatullahi wa barakatuhu; assalamu alayna wa ala ibadillahissalihin (All compliments, prayers and good words are due to Allah; peace be upon you, O Prophet, and the mercy of Allah and His blessings; peace be upon us and upon the righteous slaves of Allah)." For if you say that it will reach every righteous slave in the heavens and on earth. (Then say:) "Ashhadu an la ilaha ….iilallah wa ashhadu anna Muhammadan abduhu wa Rasuluhu (I bear witness that none has the right to be worshiped but Allah, and I bear witness that Muhammad ﷺ : His slave and Messenger). (Sahih) (Another chain) with similar wording. (Another chain) that Abdullah bin Masud said: "The Prophet ﷺ used to teach us the Tashah-hud." And he mentioned similarly.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٤٨ (٨٣١)، ١٥٠ (٨٣٥)، العمل في الصلاة ٤ (٢٣٩٧)، الاستئذان ٣ (٦٢٣٠)، ٢٨ (٦٢٦٠)، الدعوات ١٧ (٦٣٢٨)، التوحید ٥ (٧١٢٩)، صحیح مسلم/الصلاة ١٦ (٤٠٢)، سنن ابی داود/الصلاة ١٨٢ (٩٦٨)، سنن النسائی/التطبیق ١٠٠ (١١٦٣)، السہو ٤١ (١٢٧٨)، ٤٣ (١٢٨٠)، ٥٦ (١٢٩٩)، (تحفة الأشراف: ٩٢٤٢، ٩٢٤٥، ٩٢٩٦، ٩٣١٤)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ١٠٠ (٢٨٩)، النکاح ١٦ (١١٠٥)، مسند احمد (١/٣٧٦، ٣٨٢، ٤٠٨، ٤١٣، ٤١٤، ٤٢٢، ٤٢٣، ٤٢٨، ٤٣١، ٤٣٧، ٤٣٩، ٤٤٠، ٤٥٠، ٤٦٤، ٤٦٩) (صحیح ) اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مرفوعاً مروی ہے۔ اس سند سے بھی عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ انہیں تشہد سکھاتے تھے، پھر آگے پہلی حدیث کے مانند بیان کیا۔
900Sunan Ibne-Majah

تشہد میں پڑھنے کی دعا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَطَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، فَكَانَ يَقُولُ: التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں تشہد سکھاتے جس طرح قرآن کی سورت سکھاتے، آپ کہتے: التحيات المبارکات الصلوات الطيبات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبرکاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله بابرکت دعائیں اور پاکیزہ نمازیں سب اللہ کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ used to teach us the Tashah-hud as he used to teach us a Surah of the Quran. He used to say: At-Tahiyyatul-Mubarakatus salawatut-tayyibatu lillah ; Assalamu alayka ayyuhan-Nabiyyu wa rahmaiullahi wa barakdtuhu ; assalamu alayna wa ala ibadillahissalihin. Ashhadu an la ilaha illaliah wa ashhadu anna Muhammadan abduhu wa Rasuluhu (All blessed compliments and good prayers are due to Allah: peace be upon you, O Prophet, and the mercy of Allah and His blessings; peace be upon us and upon the righteous slaves of Allah. I bear witness that none has the righ t to be worshiped but Allah and I bear witness that Muhammad is His slave and Messenger). (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ١٦ (٤٠٣)، سنن ابی داود/الصلاة ١٨٢ (٩٧٤)، سنن الترمذی/الصلاة ١٠١ (٢٩٠)، سنن النسائی/التطبیق ١٠٣ (١١٧٥)، السہو ٤٢ (١٢٧٩)، (تحفة الأشراف: ٥٧٥٠، ٥٦٠٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٩٢) (صحیح )