ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابوذر! اس وقت تمہاری کیا حالت ہوگی جس وقت لوگوں پر موت کی وبا آئے گی یہاں تک کہ ایک گھر یعنی قبر کی قیمت ایک غلام کے برابر ہوگی ١ ؎، میں نے عرض کیا: جو اللہ اور اس کا رسول میرے لیے پسند فرمائیں (یا یوں کہا: اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں) آپ ﷺ نے فرمایا: اس وقت تم صبر سے کام لینا ، پھر فرمایا: اس وقت تم کیا کرو گے جب لوگ قحط اور بھوک کی مصیبت سے دو چار ہوں گے، حتیٰ کہ تم اپنی مسجد میں آؤ گے، پھر تم میں اپنے بستر تک جانے کی قوت نہ ہوگی اور نہ ہی بستر سے اٹھ کر مسجد تک آنے کی قوت ہوگی، میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، یا کہا (اللہ اور اس کا رسول جو میرے لیے پسند کرے) آپ ﷺ نے فرمایا: (اس وقت) تم اپنے اوپر پاک دامنی کو لازم کرلینا ، پھر فرمایا: تم اس وقت کیا کرو گے جب (مدینہ میں) لوگوں کا قتل عام ہوگا، حتیٰ کہ مدینہ میں ایک پتھریلا مقام حجارة الزيت ٢ ؎ خون میں ڈوب جائے گا ، میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول جو میرے لیے پسند فرمائیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم ان لوگوں سے مل جانا جن سے تم ہو (یعنی اپنے اہل خاندان کے ساتھ ہوجانا) ابوذر ؓ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں اپنی تلوار لے کر ان لوگوں کو نہ ماروں جو ایسا کریں؟ ، آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم ایسا کرو گے تب تو تم بھی انہیں لوگوں میں شریک ہوجاؤ گے، تمہیں چاہیئے کہ (چپ چاپ ہو کر) اپنے گھر ہی میں پڑے رہو ٣ ؎ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر وہ میرے گھر میں گھس آئیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تمہیں ڈر ہو کہ تلوار کی چمک تم پر غالب آجائے گی، تو اپنی چادر کا کنارا منہ پر ڈال لینا، (قتل ہوجانا) وہ قتل کرنے والا اپنا اور تمہارا دونوں کا گناہ اپنے سر لے گا، اور وہ جہنمی ہوگا ۔
It was narrated from Abu Dhar that the Messenger of Allah ﷺ said: "What will you do, O Abu Dharr, when death overwhelms the people to such an that a grave will be equal In value to a slave?" I said: ·Whatever Allah and His Messenger choose for me or and His Messenger know best. He said: "Be patient." He Said What will you do when e strikes the people so that You will go to the place where you pray and will not be able to return to your bed, or you will bed able to get up from your pray,go to the place where you pray? He said: "I said: Allah and Messenger know best, or whatever Allah and His Messenger choose for me." He said: You must refrain forbidden things.” He said: “What will you do when killing befalls the people so that Hijaratuz-Zait is covered with blood?” I said: “Whatever Allah and His Messenger choose for me.” He said: “Stay with those whom you belong to.” He said: “I said: ‘O Messenger of Allah, should I not take my sword and strike those who do that?” He said: “Then you will be just like the people. Rather enter your house.” I said: “O Messenger of Allah, what if they enter my house?” He said: “If you are afraid that the flashing of the sword will dazzle you, then put the edge of your garment over you face, and let him carry his own sin and your sin, and he will be one of the people of Hellfire.” (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایک قبر کی جگہ کے لیے ایک غلام دینا پڑے گا یا ایک قبر کھودنے کے لیے ایک غلام کی قیمت ادا کرنی پڑے گی یا گھر اتنے خالی ہوجائیں گے کہ ہر غلام کو ایک ایک گھر مل جائے گا۔ ٢ ؎: حجارة الزيت مدینہ میں ایک جگہ کا نام ہے۔ ٣ ؎: یعنی اپنے گھر میں بیٹھے رہنا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفة الأشراف: ١١٩٤٧، ومصباح الزجاجة: ١٣٩٠)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الفتن ٢ (٤٢٦١)، بدون ذکر الجوع و العفة، مسند احمد (٥/١٤٩، ١٦٣) (صحیح) (ملا حظہ ہو: الإرواء: ٢٤٥١ )
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے بیان کیا: قیامت سے پہلے ہرج ہوگا ، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول!ہرج کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: قتل ، کچھ مسلمانوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم تو اب بھی سال میں اتنے اتنے مشرکوں کو قتل کرتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: مشرکین کا قتل مراد نہیں بلکہ تم آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرو گے، حتیٰ کہ آدمی اپنے پڑوسی، اپنے چچا زاد بھائی اور قرابت داروں کو بھی قتل کرے گا ، تو کچھ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اس وقت ہم لوگ عقل و ہوش میں ہوں گے کہ نہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، بلکہ اس زمانہ کے اکثر لوگوں کی عقلیں سلب کرلی جائیں گی، اور ان کی جگہ ایسے کم تر لوگ لے لیں گے جن کے پاس عقلیں نہیں ہوں گی ۔ پھر ابوموسیٰ اشعری ؓ نے کہا: قسم اللہ کی! میں سمجھتا ہوں کہ شاید یہ زمانہ مجھے اور تم کو پالے، اللہ کی قسم! اگر ایسا زمانہ مجھ پر اور تم پر آگیا تو ہمارے اور تمہارے لیے اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہ ہوگا، جیسا کہ ہمارے نبی اکرم ﷺ نے ہمیں وصیت کی ہے، سوائے اس کے کہ ہم اس سے ویسے ہی نکلیں جیسے داخل ہوئے۔
Abu Musa narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: "Before the Hour comes there will be Harj. I said “O Messenger of Allah, what is Harj?” He said: Killing.” Some of the Muslims said: “O Messenger of Allah ﷺ now we kill such and such a number of the idolators in one year.” The Messenger of Allah ﷺ said: “That will not be like killing the idolatorsi rather you will kill one another, until a man will kill his neighbor and son of the cousin and a relative. Some of the people said: “O Messenger of Alla will we be in our right minds that day?” The Messenger of Allah ﷺ said: “No, reason will be taken away from most of the people at that thne, and there will be left the insignificant people who have no reason.” (Sahih) Then Ash’ari said: “By Allah, I think that you and I wifi see that, and by Allah, you and I will have no way out, if we see that which our Prophet ﷺ described to us except the way we entered it.”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٩٨٠، ومصباح الزجاجة: ١٣٩١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٩١، ٣٩٢، ٤٠٦، ٤١٤) (صحیح) (سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٦٨٢ )
عدیسہ بنت اہبان کہتی ہیں کہ جب علی بن ابی طالب ؓ یہاں بصرہ میں آئے، تو میرے والد (اہبان بن صیفی غفاری ؓ) کے پاس تشریف لائے، اور کہا: ابو مسلم! ان لوگوں (شامیوں) کے مقابلہ میں تم میری مدد نہیں کرو گے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور مدد کروں گا، پھر اس کے بعد اپنی باندی کو بلایا، اور اسے تلوار لانے کو کہا: وہ تلوار لے کر آئی، ابو مسلم نے اس کو ایک بالشت برابر (نیام سے) نکالا، دیکھا تو وہ تلوار لکڑی کی تھی، پھر ابو مسلم نے کہا: میرے خلیل اور تمہارے چچا زاد بھائی (محمد ﷺ ) نے مجھے ایسا ہی حکم دیا ہے کہ جب مسلمانوں میں جنگ اور فتنہ برپا ہوجائے تو میں ایک لکڑی کی تلوار بنا لوں ، اگر آپ چاہیں تو میں آپ کے ہمراہ نکلوں، انہوں نے کہا: مجھے نہ تمہاری ضرورت ہے اور نہ تمہاری تلوار کی ١ ؎۔
‘Udaisah bint Uhbãn said: "When Ali bin Abu Tâlib came to Basrah, he entered upon my father and said: ‘O Abu Muslim,wll you not help me against these people? He said: ‘Of course.’ So he called a slave woman of his and said: ‘O slave woman, bring me my sword.’ So she brought it, and he unsheathed it a span, and (I saw that) it was made of wood. He said: ‘My close Mend and your cousin ﷺ advised me, if tribulation (Fitnah) arose among the Muslims, that I should take a sword of wood. If you wish I will go out with you.’ He said: ‘I have no need of you or of your sword.” (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: اور ان کو لڑائی سے معاف کردیا، نبی اکرم ﷺ کا یہ حکم کہ لکڑی کی تلوار بنا لو، اس صورت میں ہے جب مسلمانوں میں فتنہ ہو اور حق و صواب معلوم نہ ہو تو بہتر یہی ہے کہ آدمی خاموش رہے کسی جماعت کے ساتھ نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الفتن ٣٣ (٢٢٠٣)، (تحفة الأشراف: ١٧٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٦٩، ٦/٣٩٣) (حسن صحیح )
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے قریب ایسے فتنے ہوں گے جیسے اندھیری رات کے حصے، ان میں آدمی صبح کو مومن ہوگا، تو شام کو کافر ہوگا اور شام کو مومن ہوگا تو صبح کو کافر ہوگا، اس میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے، کھڑا ہونے والا چلنے والے سے، اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا، اور ان فتنوں میں تم اپنی کمانوں کو توڑ ڈالنا، کمان کے تانت کاٹ ڈالنا، اپنی تلواریں پتھر پر مار کر کند کرلینا، اور اگر تم میں سے کسی کے پاس کوئی گھس جائے تو آدم کے دونوں بیٹوں میں سے نیک بیٹے کی طرح ہوجا نا ١ ؎۔
It was narrated from Abu Musa Al-Ash’ari that the Messenger of Allah ﷺ said: “Before the Hour comes, there wifi be tribulation like pieces of black night, when a man will wake up as a believer but be a disbeliever by evening, or he will be a believer in the evening but will be a disbeliever by morning. And the one who is sitting will be better than the one who is standing, and the one who is standing will be better than the one who is walking, and the one who is walking will be better than the one who is running. So break your bows, cut their strings and strike your swords against rocks, and if anyone enters upon anyone oyf you, let him be like the better of the two sons of Adam. (i.e. the one killed, not the killer).”(Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: جنہوں نے اپنے بھائی قابیل سے کہا: تو مجھے اگر مارے گا تب بھی تجھے نہیں ماروں گا، مطلب آپ کا یہ ہے کہ ان فتنوں میں لڑنا اور مسلمانوں کو مارنا گویا فتنہ کی تائید کرنا ہے، پس گھر میں خاموشی سے بیٹھے رہنا مناسب ہے، اور جس قدر کوئی زیادہ حرکت کرے گا اتنا ہی وہ برا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الفتن ٢ (٤٢٥٩)، سنن الترمذی/الفتن ٣٣ (٢٢٠٤)، (تحفة الأشراف: ٩٠٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٠٨، ٤١٦) (صحیح )
ابوبردہ ؓ کہتے ہیں کہ میں محمد بن مسلمہ ؓ کے پاس آیا، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بہت جلد ایک فتنہ ہوگا، فرقہ بندی ہوگی اور اختلاف ہوگا، جب یہ زمانہ آئے تو تم اپنی تلوار لے کر احد پہاڑ پر آنا، اور اس پر اسے مارنا کہ وہ ٹوٹ جائے، اور پھر اپنے گھر بیٹھ جانا یہاں تک کہ کوئی خطاکار ہاتھ تمہیں قتل کر دے، یا موت آجائے جو تمہارا کام تمام کر دے ۔ محمد بن مسلمہ ؓ نے کہا: یہ فتنہ آگیا ہے، اور میں نے وہی کیا جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا۔
It was narrated that Abu Burdah said: "I entered upon Muhammad bin Maslamah and he said that the Messenger of Allah ﷺ said: There will be tribulation, division and dissension, When that comes, take your sword to Uhud and strike it .
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماحہ، (تحفة الأشراف: ١١٢٣٤، ومصباح الزجاجة: ١٣٩٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٩٣، ٤/٢٢٦) (صحیح) (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں، لیکن دوسرے طرق اور شواہد سے یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٣٨٠ )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب دو مسلمان تلوار لے کر باہم لڑ پڑیں تو قاتل اور مقتول دونوں جہنمی ہوں گے ۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Prophet ﷺ said: "There are no two Muslims who confromt one another with their swords, but both the killer and the slain will be in Hell." (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٦١، ومصباح الزجاجة: ١٣٩٣) (صحیح) (سند میں مبارک بن سحیم متروک راوی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر اصل حدیث صحیح ہے، کما سیاتی )
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب دو مسلمان تلوار لے کر باہم لڑ پڑیں، تو قاتل اور مقتول دونوں جہنمی ہوں گے ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو قاتل ہے (قتل کرنے کی وجہ سے جہنم میں جائے گا) مگر مقتول کا کیا گناہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ بھی تو اپنے ساتھی کے قتل کا ارادہ رکھتا تھا ۔
It was narrated from Abu Musa that tte Messenger of Allah ﷺ said: ‘When two Muslims confront onr another with their swords, both the killer and the slain will be in Hell.” They said: “O Messenger of Allah, (we understand about) this killer, but what is wrong with the one who is slain?” He said: “He wanted to kill his Companion.” (Sahih)
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/تحریم الدم ٢٥ (٤١٢٣)، (تحفة الأشراف: ٨٩٨٤، ومصباح الزجاجة: ١٣٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٠١، ٤٠٣، ٤١٠، ٤١٨) (صحیح )
ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب دو مسلمان ایک دوسرے پر ہتھیار اٹھاتے ہیں تو وہ جہنم کے کنارے پر ہوتے ہیں، پھر جب ان میں سے کوئی ایک دوسرے کو قتل کر دے تو قاتل اور مقتول دونوں ایک ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Bakrah that the Prophet ﷺ said: “When Muslim wields his weapon against his brother, both of them are at the edge of Hell, and if one of them kills the other, they will both enter it.(sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ صورت اس وقت ہے جب دونوں ایک ساتھ ہتھیار لے کر ایک دوسرے کو قتل کرنے کے لئے اٹھیں گے لیکن اگر کوئی شخص ہتھیار لے کر قتل کرنے آئے تو اپنی حفاظت صحیح ہے اور اگر مدافعت میں حملہ کرنے والا مارا جائے تو وہی جہنم میں جائے گا مدافعت کرنے والے کا کوئی قصور نہیں۔
ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے برباد اور خراب مقام اس شخص کا ہوگا جس نے اپنی آخرت دوسرے کی دنیا کے لیے برباد کی ۔
It was narrated from Abu Umamah that the Messenger of Allah ﷺ said: "Among the worst people in status before Allah on the Day of Resurrection will be a person who loses his Hereafter for the sake of this world: (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٨٩١، ومصباح الزجاجة: ١٣٩٥) (ضعیف) (سند میں سوید اور شہر بن حوشب مختلف فیہ راوی ہیں، اور عبدالحکم بن ذکوان مجہول، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٩١٥ )
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک فتنہ ایسا ہوگا جو سارے عرب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا، اس میں قتل ہونے والے سب جہنمی ہوں گے، اس فتنہ میں زبان تلوار کی کاٹ سے زیادہ موثر ہوگی ١ ؎۔
It was narrated from Abdullah bin Amr that the Messenger of Allah ﷺ said: "There will be a tribulation which will utterly destroy the Arabs, and those who are slain will be in Hell. At that time the tongue will be worse than a blow of the sword." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: ایسا نہ ہو زبان سے ناحق بات نکلے اور مفت گنہگار ہو یا فتنے میں شریک سمجھا جائے یا اس کی بات سے فتنہ کو بڑھاوا ملے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الفتن والملاحم ٣ (٤٢٦٥)، سنن الترمذی/الفتن ١٦ (٢١٧٨)، (تحفة الأشراف: ٨٦٣١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢١١، ٢١٢) (ضعیف) (سند میں لیث بن أبی سلیم اور زیاد ضعیف ہیں )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم فتنوں سے بچے رہنا کیونکہ اس میں زبان ہلانا تلوار چلانے کے برابر ہے ۔
It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "Beware of tribulations, for at that time the tongue will be like the blow of a sword," (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٦٧٩، ومصباح الزجاجة: ١٣٩٧) (ضعیف جدا) (سند میں محمد بن الحارث متروک، اور محمد بن عبد الرحمن بن أبی لیلیٰ ضعیف ہیں، نیز عبدالرحمن بن أبی لیلیٰ کا کسی صحابی سے سماع ثابت نہیں ہے )
علقمہ بن وقاص ؓ کہتے ہیں کہ ان کے سامنے سے ایک معزز شخص کا گزر ہوا، تو انہوں نے اس سے عرض کیا: آپ کا مجھ سے (دہرا رشتہ ہے) ایک تو قرابت کا، دوسرے مسلمان ہونے کا، میں آپ کو دیکھتا ہوں کہ آپ ان امراء کے پاس آتے جاتے اور ان سے حسب منشا باتیں کرتے ہیں، میں نے صحابی رسول بلال بن حارث مزنی ؓ کو یہ کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایسی بات بولتا ہے جس سے اللہ خوش ہوتا ہے، اور اس کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس بات کا اثر کیا ہوگا، لیکن اس بات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے حق میں قیامت تک کے لیے اپنی خوشنودی اور رضا مندی لکھ دیتا ہے، اور تم میں سے کوئی ایسی بات بولتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ہوتی ہے، اور اس کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا کیا اثر ہوگا، لیکن اللہ تعالیٰ اس کے حق میں اپنی ناراضگی اس دن تک کے لیے لکھ دیتا ہے جس دن وہ اس سے ملے گا ۔ علقمہ ؓ نے کہا: دیکھو افسوس ہے تم پر! تم کیا کہتے اور کیا بولتے ہو، بلال بن حارث ؓ کی حدیث نے بعض باتوں کے کہنے سے مجھے روک دیا ہے، خاموش ہوجاتا ہوں ١ ؎۔
It was narrated that ‘Alqamah bin Waqqás said that a man passed by him, who held a prominent position, and ‘Alqamah said to him: “You have kinship and rights, and I see you entering upon these rulers and spealdng to them as Allah wills you should speak. But I heard Bilâl bin Hârith Al-Muzani, the Companion of the Messenger of Allah ﷺ , say that the Messenger of Allah ﷺ said: ‘One of you may speak a word that pleases Allah, and not know how far it reaches, but Allah will record for him his pleasure, until the Day of Resurrection due to that word. And one of you may speak a word that angers Allah, and not know how far it reaches, but Allah will record against him his anger until the Day he meets Him due to that word.” Alqamah said: “So look, woe to you at what you say and what you speak about, for there is something that I wanted to say but I refrained because of what I heard from Bilâl bin Hârith.” (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: علقمہ ؓ کا مقصد یہ تھا کہ بات کہنے میں احتیاط اور غور لازم ہے، یہ نہیں کہ جو منہ میں آیا کہہ دیا، غیر محتاط لوگوں کی زبان سے اکثر ایسی بات نکل جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کو ناگوار ہوتی ہے، پس وہ ایک بات کی وجہ سے جہنمی ہوجاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٠٢٨، ومصباح الزجاجة: ١٣٩٨)، وقد أخر جہ: سنن الترمذی/الزہد ١٢ (٢٣١٩)، موطا امام مالک/الکلام ٢ (٥)، مسند احمد (٣/٤٦٩) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی اپنی زبان سے اللہ کی ناراضگی کی بات کہتا ہے، اور وہ اس میں کوئی حرج نہیں محسوس کرتا، حالانکہ اس بات کی وجہ سے وہ ستر برس تک جہنم کی آگ میں گرتا چلا جاتا ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "A man may speak a Wordthat angers Allah and not anything wrong with it, but it Will cause him to sink down in Hell the depth of seventy aUlumns." (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ، (تحفة الأشراف: ١٤٩٩٥، ومصباح الزجاجة: ١٣٩٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الرقاق ٢٣ (٦٤٧٨)، صحیح مسلم/الزہد والرقاق ٦ (٢٩٨٨)، سنن الترمذی/الزہد ١٠ (٢٣١٤)، موطا امام مالک/الکلام ٢ (٦)، مسند احمد (٢/٢٣٦، ٥٣٣) (صحیح) (سند میں ابن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، کمافی التخریج )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیئے کہ وہ اچھی بات کہے، یا خاموش رہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever believes in Allah and the Last Day, let him say something good, or else remain silent: (Sahih)
سفیان بن عبداللہ ثقفی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جس کو میں مضبوطی سے تھام لوں، آپ ﷺ نے فرمایا: کہو: اللہ میرا رب (معبود برحق) ہے اور پھر اس پر قائم رہو ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو ہم پر کس بات کا زیادہ ڈر ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا: اس کا ۔
Sufy an bin Abdullah Thaqafi said: "I said: O Messenger of Allah, tell me of something that I can adhere to: He said: Say: "Allah is my Lord," then stand straight (adhere steadfastly to Islam). He said: O Messenger of Allah, what is the thing that you fear most for me? The Messenger of Allah ﷺ took hold of his own tongue, then he said: This:" (Sahih)
معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا، ایک دن میں صبح کو آپ سے قریب ہوا، اور ہم چل رہے تھے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے کوئی عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے، اور جہنم سے دور رکھے، آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے ایک بہت بڑی چیز کا سوال کیا ہے، اور بیشک یہ عمل اس شخص کے لیے آسان ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ آسان کر دے، تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک مت کرو، نماز قائم کرو، زکاۃ دو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں بھلائی کے دروازے نہ بتاؤں؟ روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہوں کو ایسے ہی مٹاتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھاتا ہے، اور آدھی رات میں آدمی کا نماز (تہجد) ادا کرنا ، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت:تتجافى جنوبهم عن المضاجع (سورة السجدة: 16) تلاوت فرمائی یہاں تک کہ جزاء بما کانوا يعملون تک پہنچے، پھر فرمایا: کیا میں تمہیں دین کی اصل، اس کا ستون اور اس کی چوٹی نہ بتادوں؟ وہ اللہ کی راہ میں جہاد ہے ، پھر فرمایا: کیا ان تمام باتوں کا جس چیز پر دارومدار ہے وہ نہ بتادوں ؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں ضرور بتائیے، تو آپ ﷺ نے اپنی زبان مبارک پکڑی اور فرمایا: اسے اپنے قابو میں رکھو ، میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! کیا ہم جو بولتے ہیں اس پر بھی ہماری پکڑ ہوگی؟، آپ ﷺ نے فرمایا: معاذ! تیری ماں تجھ پر روئے! لوگ اپنی زبانوں کی کارستانیوں کی وجہ سے ہی اوندھے منہ جہنم میں ڈالے جائیں گے ۔
It was narrated that Muadh bin Jabal said: I was with the Messenger of Allah ﷺ on a journey. One morning I drew close to him when we were on the move and said: O Messenger of Allah ﷺ tell me of an action that will gain me admittance to Paradise and keep me far away from Hell. He said: You have asked for something great, but It is easy for the one for whom Allah makes it easy. Worship Allah and do not associate anything in worship with Him, establish prayer, pay charity, fast Ramadan,and perform Hajj to the House. Then he said: Shall I not tell you of the means of goodness? Fasting is a shield, and charity extinguishes sin as water extinguishes fire, and a mans prayer in the middle of the night. Then he recited: "Their sides forsake their beds" until he reached: "As a reward for what they used to do." Then he said: Shall I not tell you of the head of the matter, and its pillar and pinnacle? (It is) Jihad: Then he said: Shall I not tell you of the basis of all of that? I said: Yes. He took hold of his tongue then : Restrain this. I said: O Prohet of Allah, will we be brought to account for what we say? He said: May your mother not found you, O Muadh Are people thrown onto their faces in Hell for anything other than the harvest of their tongues?"(Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الإیمان ٧ (٢٦١٦)، (تحفة الأشراف: ١١٣١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٣١) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: ٢٤٦ )
ام المؤمنین ام حبیبہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: انسان کی ہر بات کا اس پر وبال ہوگا، اور کسی بات سے فائدہ نہ ہوگا سوائے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور ذکر الٰہی کے ۔
It was narrated from Umm Habibah, the wife of the Prophet ﷺ ,that the Prophet ﷺ said: "The words of the son of Adam count against him, not for him, except enjoining what is good and forbidding what is evil, and remembering Allah." (Daif)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الزہد ٦٢ (٢٤١٢)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٧٧) (ضعیف) (سند میں ام صالح مجہول الحال ہیں )
ابوالشعثاء کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ سے سوال کیا گیا کہ ہم امراء (حکمرانوں) کے پاس جاتے ہیں، تو وہاں کچھ اور باتیں کرتے ہیں اور جب وہاں سے نکلتے ہیں تو کچھ اور باتیں کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اس کو نفاق سمجھتے تھے۔
It was narrated that Abu Sha`tha` said: “It was said to Ibn Umar (RA): ‘We enter upon our rulers and say one thing, when we leave them we say something else. He said: At the time of Messenger of Allah ﷺ , we used to regard that as hypocrisy.(sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٠٩٠، ومصباح الزجاجة: ١٤٠٠)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/ الأحکام ٢٧ (٧١٧٨)، مسند احمد (٢/١٥) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی شخص کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ جس بات کا تعلق اس سے نہ ہو اسے وہ چھوڑ دے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Part of a persons goodness in Islam is his leaving alone that which does not concern him." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کی ٹوہ اور جستجو میں نہ لگے، جو چیز حرام یا مکروہ ہو اس کا چھوڑنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے، خواہ اس کا اسلام عمدہ ہو یا نہ ہو لیکن عمدہ اور اچھا مسلمان وہ ہے جو بیکار اور غیر مفید بات کو بھی چھوڑ دے، اگرچہ وہ حرام یا مکروہ نہ ہو یعنی مباح بات ہو لیکن اس کے کرنے میں آخرت کا فائدہ نہ ہو۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: لوگوں میں سب سے اچھی زندگی والا وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے ہوئے اس کی پشت پر اڑ رہا ہو، اور جہاں دشمن کی آواز سنے یا مقابلے کا وقت آئے تو فوراً مقابلہ کے لیے اس جانب رخ کرتا ہو، اور موت یا قتل کی جگہیں تلاش کرتا پھرتا ہو اور وہ آدمی ہے جو اپنی بکریوں کو لے کر تنہا کسی پہاڑ کی چوٹی پر رہتا ہو، یا کسی وادی میں جا بسے، نماز قائم کرتا ہو، زکاۃ دیتا ہو، اور اپنے رب کی عبادت کرتا ہو حتیٰ کہ اس حالت میں اسے موت آجائے کہ وہ لوگوں کا خیرخواہ ہو ۔
It was narrated from Abu "The!rah that the Prophet ﷺ said: best lifestyle is that of a man who holds onto the reins of his horse for the sake of Allah, riding on its back. Every time he hears a conunotion he rushes towards it, seeking death wherever he thinks he can find it; and a man who tends sheep at the top of one of these peaks, or in the bottom of one of these valleys, establishing the prayer, paying the charity, and worshipping his Lord until the inevitable (death) comes to him and there is nothing between him and the people except good." (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٣٤ (١٨٨٩)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٤٣) (صحیح )