Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 162 of 218

3217Sunan Ibne-Majah

جانور کی زندگی میں ہی اس کا جو حصہ کاٹ لیا جائے

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ يَجُبُّونَ أَسْنِمَةَ الْإِبِلِ، وَيَقْطَعُونَ أَذْنَابَ الْغَنَمِ، أَلَا فَمَا قُطِعَ مِنْ حَيٍّ فَهُوَ مَيِّتٌ.

تمیم داری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اخیر زمانہ میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو اونٹوں کی کوہان اور بکریوں کی دمیں کاٹیں گے، آ گاہ رہو! زندہ جانور کا جو حصہ کاٹ لیا جائے وہ مردار کے (حکم میں) ہے۔

It was narrated that Tamim Dari said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘At the end of time there will be people who will cut off camels’ humps and sheep’s tails. But what is cut from a living animal is dead.’”

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٠٦٠، ومصباح الزجاجة: ١١٠٦) (ضعیف جدا) (سند میں ابوبکر الہذلی سخت ضعیف، اور شہر بن حوشب متکلم فیہ راوی ہیں )
3218Sunan Ibne-Majah

مچھلی اور ٹڈی کا شکار

حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أُحِلَّتْ لَنَا مَيْتَتَانِ، الْحُوتُ وَالْجَرَادُ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہمارے لیے دو مردار: مچھلی اور ٹڈی حلال ہیں ۔

It was narrated from Abdullah bin Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "Two kinds of dead meat have been permitted to us: fish and locusts."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٧٣٨، ومصباح الزجاجة: ١١٠٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٩٧) (صحیح) (عبدالرحمن ضعیف راوی ہیں، لیکن ان کے اخوان اسامہ و عبداللہ نے ان کی متابعت کی ہے، اس لئے حدیث صحیح ہے )
3219Sunan Ibne-Majah

مچھلی اور ٹڈی کا شکار

حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَوَّامِ، عَنْأَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَرَادِ، فَقَالَ: أَكْثَرُ جُنُودِ اللَّهِ لَا آكُلُهُ، وَلَا أُحَرِّمُهُ.

سلمان فارسی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے ٹڈی کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ٹڈی اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا لشکر ہے، نہ تو میں اسے کھاتا ہوں، اور نہ ہی اسے حرام قرار دیتا ہوں ۔

It was narrated that Salman said: "The Messenger of Allah ﷺ was asked about locusts. He said: ‘(They are) the most numerous troops of Allah. I neither eat them nor forbid them.’”

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأطعمة ٣٥ (٣٨١٣، ٣٨١٤)، (تحفة الأشراف: ٤٤٩٥) (ضعیف) (حدیث کے موصول اور مرسل ہونے میں اختلاف ہے، اور اصل یہ ہے کہ یہ مرسل ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٥٣٣ )
3220Sunan Ibne-Majah

مچھلی اور ٹڈی کا شکار

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ سَعْدٍ الْبَقَّالِ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: كُنَّ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَهَادَيْنَ الْجَرَادَ، عَلَى الْأَطْبَاقِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی بیویاں ٹڈیوں کو پلیٹوں میں رکھ کر بطور ہدیہ بھیجتی تھیں۔

It was narrated that Abu (Sa’eed) Baqqal heard Anas bin Malik (RA) say: “The wives of the Prophet ﷺ used to give each other gifts of locusts on trays.”

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٦٤، ومصباح الزجاجة: ١١٠٨) (ضعیف) (سند میں ابوسعید البقال ضعیف ہیں )
3221Sunan Ibne-Majah

مچھلی اور ٹڈی کا شکار

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُلَاثَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا دَعَا عَلَى الْجَرَادِ، قَالَ: اللَّهُمَّ أَهْلِكْ كِبَارَهُ، وَاقْتُلْ صِغَارَهُ، وَأَفْسِدْ بَيْضَهُ، وَاقْطَعْ دَابِرَهُ، وَخُذْ بِأَفْوَاهِهَا عَنْ مَعَايِشِنَا وَأَرْزَاقِنَا، إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَدْعُو عَلَى جُنْدٍ مِنْ أَجْنَادِ اللَّهِ، بِقَطْعِ دَابِرهِ؟، قَالَ: إِنَّ الْجَرَادَ نَثْرَةُ الْحُوتِ فِي الْبَحْرِ، قَالَ هَاشِمٌ: قَالَ زِيَادٌ: فَحَدَّثَنِي مَنْ رَأَى الْحُوتَ يَنْثُرُهُ.

جابر اور انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی اکرم ﷺ ٹڈیوں کے لیے بد دعا کرتے تو فرماتے: اے اللہ! بڑی ٹڈیوں کو ہلاک کر دے، چھوٹی ٹڈیوں کو مار ڈال، ان کے انڈے خراب کر دے، اور ان کی اصل (جڑ) کو کاٹ ڈال اور ان کے منہ کو ہماری روزیوں اور غلوں سے پکڑ لے (انہیں ان تک پہنچنے نہ دے) ، بیشک تو دعاؤں کا سننے والا ہے ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کیسے اللہ کی ایک فوج کی اصل اور جڑ کاٹنے کے لیے بد دعا فرما رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ٹڈی دریا کی مچھلی کی چھینک ہے ۔ ہاشم کہتے ہیں کہ زیاد (راوی حدیث) نے کہا: تو مجھ سے ایسے شخص نے بیان کیا جس نے مچھلی اسے (ٹڈی کو) چھینکتے دیکھا۔

It was narrated from Jabir and Anas bin Malik (RA) that whenever the Messenger of Allah ﷺ supplicated against the locusts, he said: "O Allah, destroy their large ones and kill their small ones, spoil their eggs and root them out. Take their mouths away from our livelihood and provision, for You are the One Who hears the prayers." A man said: "O Messenger of Allah, are you praying against one of the troops of Allah, that they may be rooted out?" He said: "Locusts were sneezed out by the fish in the sea.” Hashim (one of the narrators) said: “Ziyad (one of the narrators) said: ‘So it was narrated to me by one who saw a fish sneezing them out.’”

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٥١، ٢٥٨٥)، ومصباح الزجاجة: ١١٠٩، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأطعمة ٢٣ (١٨٢٣) (موضوع) (سند میں موسیٰ بن محمد ضعیف اور منکر احادیث والے ہیں، ابن الجوز ی نے حدیث کو الموضوعات میں داخل کیا ہے، اور موسیٰ کو متہم قرار دیا ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١١٢ )
3222Sunan Ibne-Majah

مچھلی اور ٹڈی کا شکار

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ ابْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةٍ أَوْ عُمْرَةٍ فَاسْتَقْبَلَنَا رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ، أَوْ ضَرْبٌ مِنْ جَرَادٍ، فَجَعَلْنَا نَضْرِبُهُنَّ بِأَسْوَاطِنَا وَنِعَالِنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُوهُ فَإِنَّهُ مِنْ صَيْدِ الْبَحْرِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج یا عمرہ کے لیے نکلے، تو ہمارے سامنے ٹڈیوں کا ایک گروہ آیا، یا ایک قسم کی ٹڈیاں آئیں، تو ہم انہیں اپنے کوڑوں اور جوتوں سے مارنے لگے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انہیں کھاؤ یہ دریا کا شکار ہیں ۔

jiat the Messenger of Allah ﷺ w, jd: “Jibra’il came to me and told me to command my Companions to raise their voices when reciting the TaJbiYah” (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/المناسک ٤٢ (١٨٥٤)، سنن الترمذی/الحج ٢٧ (٨٥٠)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٠٦، ٣٦٤، ٣٧٤، ٤٠٧) (ضعیف) (سند میں ابوالمہزم متروک راوی ہیں )
3223Sunan Ibne-Majah

جن جانوروں کو مارنا منع ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ الصُّرَدِ، وَالضِّفْدَعِ، وَالنَّمْلَةِ، وَالْهُدْهُدِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لٹورا (ایک چھوٹا سا پرندہ) ، مینڈک، چیونٹی اور ہُد ہُد کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade killing shrikes, frogs, ants and hoopoes."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٩٤٤، ومصباح الزجاجة: ١١١٠) (صحیح) (ابراہیم بن الفضل ضعیف ہیں، لیکن حدیث آگے کی ابن عباس ؓ کی حدیث سے تقویت پاکر صحیح ہے )
3224Sunan Ibne-Majah

جن جانوروں کو مارنا منع ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ أَرْبَعٍ مِنَ الدَّوَابِّ: النَّمْلَةِ، وَالنَّحْلِ، وَالْهُدْهُدِ، وَالصُّرَدِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چار جانوروں: چیونٹی، شہد کی مکھی، ہد ہد اور لٹورا کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔

It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah ﷺ forbade killing four kinds of animals: Ants, bees, hoopoes and shrikes.”

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأدب ١٦٤ (٥٢٦٧)، (تحفة الأشراف: ٥٨٥٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٣٢، ٣٤٧)، سنن الدارمی/الأضاحي ٢٦ (٢١٤٢) (صحیح )
3225Sunan Ibne-Majah

جن جانوروں کو مارنا منع ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيَّانِ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ قَرَصَتْهُ نَمْلَةٌ، فَأَمَرَ بِقَرْيَةِ النَّمْلِ فَأُحْرِقَتْ، فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ، فِي أَنْ قَرَصَتْكَ نَمْلَةٌ أَهْلَكْتَ أُمَّةً مِنَ الْأُمَمِ تُسَبِّحُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: انبیاء میں سے ایک نبی کو چیونٹی نے کاٹ لیا، تو انہوں نے چیونٹیوں کے گھر جلا دینے کا حکم دیا، تو وہ جلا دیئے گئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس وحی نازل کی کہ آپ نے ایک چیونٹی کے کاٹنے کی وجہ سے امتوں (مخلوقات) میں سے ایک امت (مخلوق) کو تباہ کردیا، جو اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی تھی ؟۔

It was narrated from ‘ Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ of Allah said: “One of the Prophets was bitten by an ant, so he ordered that the ant colony be burned. Then Allah revealed to him: ‘Because one ant bit you, you destroy one of the nations that glorify Allah?’” Another chain with similar wording, and he said (in the beginning): “(An ant) bit…”

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ١٥٣ (٣٠١٩)، بدء الخلق ١٦ (٣٣١٩)، صحیح مسلم/السلام ٣٩ (٢٢٤١)، سنن ابی داود/الأدب ١٧٦ (٥٢٦٦)، سنن النسائی/الصید والذبائح ٣٨ (٤٣٦٣)، (تحفة الأشراف: ١٣٣١٩، ١٥٣٠٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٠٣) (صحیح )
3226Sunan Ibne-Majah(3225)

چھوٹی کنکری مارنے کی ممانعت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ وَقَالَ: قَرَصَتْ.

اس سند سے بھی ابن شہاب نے سابقہ طریق سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے، اس میں قَرَصَتْه کی بجائے قَرَصَتْ کا لفظ وارد ہے۔

It was narrated from Saeed bin Jubair that a relative of Abdullah bin Mughaffal threw some small pebbles. He told him not to do that and said: "The Prophet ﷺ forbade throwing small pebbles and said: They do not kill any game nor hurt the enemy, but they can break a tooth or put out an eye. He did it again, and he (Abdullah) said: "I tell you that the Prophet ﷺ forbade that and then you go and do it again? I will never speak to you again."

3227Sunan Ibne-Majah(3226)

چھوٹی کنکری مارنے کی ممانعت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ: أَنَّ قَرِيبًا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ خَذَفَ، فَنَهَاهُ، وَقَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى، عَنِ الْخَذْفِ، وَقَالَ: إِنَّهَا لَا تَصِيدُ صَيْدًا، وَلَا تَنْكَأُ عَدُوًّا، وَلَكِنَّهَا تَكْسِرُ السِّنَّ، وَتَفْقَأُ الْعَيْنَ، قَالَ: فَعَادَ، فَقَالَ: أُحَدِّثُكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ، ثُمَّ عُدْتَ لَا أُكَلِّمُكَ أَبَدًا.

سعید بن جبیر ؓ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مغفل ؓ کے ایک رشتہ دار نے کنکری ماری، تو انہوں نے اسے منع کیا اور کہا کہ نبی اکرم ﷺ نے کنکری مارنے سے منع فرمایا ہے، اور فرمایا ہے: نہ اس (کنکری مارنے) سے شکار ہوتا ہے، اور نہ یہ دشمن کو زخمی کرتی ہے، ہاں البتہ اس سے دانت ٹوٹ جاتا ہے، اور آنکھ پھوٹ جاتی ہے ، اس شخص نے پھر کنکری ماری تو عبداللہ بن مغفل ؓ نے کہا: میں تم سے حدیث بیان کر رہا ہوں کہ نبی اکرم ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے، اور تم پھر وہی کام کر رہے ہو، اب میں تم سے کبھی بھی بات چیت نہیں کروں گا ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah bin Mughaffal said: "The Prophet ﷺ forbade throwing small pebbles and said: They do not kill any game or hurt the enemy, but they can break a tooth or put out an eye.

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ عبداللہ بن مغفل ؓ نے غصہ سے کہا، معلوم ہوا کہ جو کوئی حدیث کو سن کر یا جان کر بھی اس کے خلاف پر اصرار کرے اس سے ترک تعلق صحابہ کرام ؓ کا طریقہ ہے، اور ابن عمر ؓ نے حدیث کے خلاف ایک بات کہنے پر اپنے بیٹے کی سرزنش کی، اور ساری عمر اس سے بات نہ کرنے کی بات کہی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الذبائح ٥ (٥٤٧٩)، الأدب ١٢٢ (٦٢٢٠)، صحیح مسلم/الصید ٥٤ (١٩٥٤)، سنن ابی داود/الأدب ١٦٨ (٥٢٧٠)، (تحفة الأشراف: ٩٦٥٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٨٤، ٥/٥٤)، سنن الدارمی/المقدمة ٤٠ (٤٥٤) (صحیح )
3228Sunan Ibne-Majah(3227)

گرگٹ (اور چھپکلی) کو مار ڈالنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ صُهْبَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَذْفِ، وَقَالَ: إِنَّهَا لَا تَقْتُلُ الصَّيْدَ، وَلَا تَنْكِي الْعَدُوَّ، وَلَكِنَّهَا تَفْقَأُ الْعَيْنَ، وَتَكْسِرُ السِّنَّ.

عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کنکری مارنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے: اس سے نہ تو شکار مرتا ہے، اور نہ ہی یہ دشمن کو زخمی کرتی ہے، ہاں البتہ اس سے آنکھ پھوٹ جاتی ہے، اور دانت ٹوٹ جاتا ہے ۔

It was narrated from Umm Sharik that the Prophet ﷺ told her to kill house lizards.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التفسیر ٥ (٤٨٤١)، الأدب ١٢٢ (٦٢٢٠)، صحیح مسلم/الصید ١٠ (١٩٥٤)، سنن ابی داود/الأدب ١٧٨ (٥٢٧٠)، (تحفة الأشراف: ٩٦٦٣)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/القسامة ٣٣ (٤٨١٩)، مسند احمد (٤/٨٦، ٥/٤٦، ٥٤، ٥٥، ٥٦، ٥٧) (صحیح )
3229Sunan Ibne-Majah(3228)

گرگٹ (اور چھپکلی) کو مار ڈالنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْأُمِّ شَرِيكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا، بِقَتْلِ الْأَوْزَاغِ.

ام شریک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چھپکلیوں کے مارنے کا حکم دیا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever kills a house lizard with one blow will have such and such a reward. Whoever kills it with two blows will have such and such reward," less than the first. "And whoever kills it with three blows will have such and such reward," less than that mentioned the second time.

Notes · وضاحت
١ ؎: ہرچند یہ جانور کسی کو کاٹتے نہیں نہ ایذا دیتے ہیں، لیکن ان سے دل کو نفرت پیدا ہوتی ہے، اور بعضوں نے کہا: یہ زہریلی ہوتی ہیں، بعضوں نے کہا: وہ عرب کے ملک میں اونٹنی کا تھن پکڑ کر دودھ چوس لیتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ١٥ (٣٣٠٧)، أحادیث الأنبیاء ٨ (٣٣٥٩)، صحیح مسلم/السلام ٣٨ (٢٢٣٧)، سنن النسائی/الحج ١١٥ (٢٨٨٨)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٢٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٢١، ٤٦٢)، سنن الدارمی/الأضاحی ٢٧ (٢٠٤٣) (صحیح )
3230Sunan Ibne-Majah(3229)

گرگٹ (اور چھپکلی) کو مار ڈالنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ قَتَلَ وَزَغًا فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً، وَمَنْ قَتَلَهَا فِي الثَّانِيَةِ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا أَدْنَى مِنَ الْأُولَى، وَمَنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّالِثَةِ فَلَهُ كَذَا وَكَذَا حَسَنَةً، أَدْنَى مِنَ الَّذِي ذَكَرَهُ فِي الْمَرَّةِ الثَّانِيَةِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص چھپکلی ایک ہی وار میں مار ڈالے تو اس کے لیے اتنی اور اتنی نیکیاں ہیں، اور جس نے دوسرے وار میں ماری تو اس کے لیے اتنی اور اتنی (پہلے سے کم) نیکیاں ہیں، اور جس نے تیسرے وار میں ماری تو اس کے لیے اتنی اور اتنی (دوسرے سے کم) ہیں۔

It was narrated from Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said concerning house lizards: "Vermin."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفةالأشراف: ١٢٧٣١)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/السلام ٣٨ (٢٢٤٠)، سنن ابی داود/الأدب ١٧٥ (٥٢٦٣)، سنن الترمذی/الأحکام ١ (١٤٨٢)، مسند احمد (٢/٣٥٥) (صحیح )
3231Sunan Ibne-Majah(3230)

گرگٹ (اور چھپکلی) کو مار ڈالنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لِلْوَزَغِ الْفُوَيْسِقَةُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چھپکلی کو فویسقہ چھوٹا فاسق (یعنی موذی) کہا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Saibah, the freed slave woman of Fakih bin Mughirah, that she entered upon Aisha (RA) and saw a spear in her house. She said: "O Mother of the Believers, what do you do with this?" She said: "We kill these house lizards with it, for the Prophet ﷺ of Allah told us that when Ibrahim was thrown into the fire, there was no beast on earth that did not try to put it out, apart from the house lizard that blew on it. So the Messenger of Allah ﷺ commanded that they should be killed."

Notes · وضاحت
١ ؎: فویسقہ اس کی تحقیر اور تذلیل کے لئے کہا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/جزاء الصید ٧ (١٨٣١)، بدء الخلق ١٥ (٣٣٠٦)، صحیح مسلم/السلام ٣٨ (٢٢٤٠)، سنن النسائی/الحج ١١٥ (٢٨٨٩)، (تحفة الأشراف: ١٦٦٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٨٧، ١٥٥، ٢٧١، ٢٧٩) (صحیح )
3232Sunan Ibne-Majah(3231)

ہر دانت والا درندہ حرام ہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سَائِبَةَ مَوْلَاةِ الْفَاكِهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ فَرَأَتْ فِي بَيْتِهَا رُمْحًا مَوْضُوعًا، فَقَالَتْ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، مَا تَصْنَعِينَ بِهَذَا؟، قَالَتْ: نَقْتُلُ بِهِ هَذِهِ الْأَوْزَاغَ، فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَنَا: أَنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمَّا أُلْقِيَ فِي النَّارِ، لَمْ تَكُنْ فِي الْأَرْضِ دَابَّةٌ إِلَّا أَطْفَأَتِ النَّارَ غَيْرَ الْوَزَغِ، فَإِنَّهَا كَانَتْ تَنْفُخُ عَلَيْهِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهِ.

فاکہ بن مغیرہ کی لونڈی سائبہ کہتی ہیں کہ وہ ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس آئیں تو انہوں نے آپ کے گھر ایک برچھا رکھا ہوا دیکھا، تو عرض کیا: ام المؤمنین! آپ اس برچھے سے کیا کرتی ہیں؟ کہا: ہم اس سے ان چھپکلیوں کو مارتے ہیں، کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں بتایا ہے کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا گیا تو روئے زمین کے تمام جانوروں نے آگ بجھائی سوائے چھپکلی کے کہ یہ اسے (مزید) پھونک مارتی تھی، اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے اس کے قتل کا حکم دیا ١ ؎۔

It was narrated from Abu Thalabah Al-Khushani that the Prophet ﷺ forbade eating any predatory animal that has fangs. Az-Zuhri said: "I did not hear about that until I entered Sham.”

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ چھپکلی کا قتل مذہبی عداوت کی وجہ سے ہے، چونکہ وہ ابراہیم (علیہ السلام) کی دشمن تھی، تو سارے مسلمانوں کو اس کا دشمن ہونا چاہیے، اور بعضوں نے کہا: شیطان چھپکلی کی شکل بن کر آگ پھونکتا تھا، اس لئے آپ ﷺ نے اس شکل کو برا جانا، اور اس کے ہلاک کرنے کا حکم دیا، حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دشمن کے برے کام کرنے سے کبھی اس کی ساری قوم مطعون ہوجاتی ہے، اور وہ مکروہ سمجھی جاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٨٤٣، ومصباح الزجاجة: ١١١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٨٣، ١٠٩) (صحیح )
3233Sunan Ibne-Majah(3232)

ہر دانت والا درندہ حرام ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَلَمْ أَسْمَعْ بِهَذَا حَتَّى دَخَلْتُ الشَّامَ.

ابوثعلبہ خشنی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہر کچلی (نوک دار دانت) والے درندے کے کھانے سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔ زہری کہتے ہیں کہ شام جانے سے پہلے میں نے یہ حدیث نہیں سنی۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "Eating any predatory animal that has fangs is unlawful."

Notes · وضاحت
١ ؎: ناب اس دانت کو کہتے ہیں جو رباعیہ کے پیچھے ہوتا ہے، اور رباعیہ ثنایا کے ساتھ ہوتے ہیں، ناب کو ہم کچلی (نوک دار اور کتا دانت) کہتے ہیں، کچلیوں والے جانور سے مراد وہ درندہ ہے جس کی کچلیاں ہوں جو شکار کرنے میں قوت کا باعث بنیں مثلاً شیر، بھیڑیا، چیتا اور تندوا وغیرہ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصید ٢٩ (٥٥٣٠)، الطب ٥٧ (٥٧٨٠)، صحیح مسلم/الصید ٣ (١٩٣٢)، سنن ابی داود/الاطعمة ٣٣ (٣٨٠٢)، سنن الترمذی/الصید ١١ (١٤٧٧)، سنن النسائی/الصید ٢٨ (٤٣٣٠)، (تحفة الأشراف: ١١٨٧٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصید ٤ (١٣)، مسند احمد (٤/١٩٣، ١٩٤)، سنن الدارمی/الأضاحي ١٨ (٢٠٢٣) (صحیح )
3234Sunan Ibne-Majah(3233)

ہر دانت والا درندہ حرام ہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ عَبِيدَةَ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَكْلُ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ حَرَامٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہر کچلی (نوک دار دانت) والے درندے کا کھانا حرام ہے ۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "On the Day of Khaibar, the Messenger of Allah ﷺ forbade eating any predatory animal that has fangs and any bird that has talons."

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الصید ٢٨ (٤٣٢٩)، (تحفة الأشراف: ١٤١٣٢)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصید ٤ (١٤)، صحیح مسلم/الصید ٣ (١٩٣٣)، سنن الترمذی/الصید ٣ (١٤٦٧)، مسند احمد (٢/٤١٨) (صحیح )
3235Sunan Ibne-Majah(3234)

بھیڑیئے اور لومڑی کا بیان

حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَعَنْ كُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن ہر کچلی (نوک دار دانت) والے درندے اور پنجہ والے پرندے کے کھانے سے منع فرما دیا ١ ؎۔

It was narrated that Khuzaimah bin Jaz’ said: “I said: ‘O Messenger of Allah ﷺ , I have come to ask you about the vermin of the earth. What do you say about foxes?’ He said: ‘Who eats foxes?’ I said: ‘O Messenger of Allah, what do you say about wolves?’ He said: ‘Does anyone in whom there is anything good eat wolves?” (Da`if)

Notes · وضاحت
١ ؎: پنجہ والے پرندے سے مراد وہ پرندے ہیں جو پنجہ سے شکار کرتے ہیں، جیسے باز بحری، شکرہ، عقاب، چیل، گدھ وغیرہ، اور الو بھی پنجہ سے شکار کرتا ہے پس وہ اس قاعدے کے موافق حرام ہوگا، لیکن افسوس ہے کہ بعض فقہا حنفیہ کو اس کی خبر نہیں ہوئی، اور انہوں نے اپنی کتابوں میں الو کو حلال لکھا ہے، چناچہ فتاویٰ عالم گیری میں ہے کہ الو کھایا جائے گا، روضہ ندیہ میں ہے کہ کبوتر بھی پنجہ رکھتا ہے لیکن وہ حلال ہے، اسی طرح چڑیا کیونکہ وہ پاک اور نفیس ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأطعمة ٣٣ (٣٨٠٥)، سنن النسائی/الصید ٣٣ (٤٣٥٣)، (تحفة الأشراف: ٥٦٣٩)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصید ٣ (١٩٣٤)، مسند احمد (١/٢٤٤)، سنن الدارمی/الأضاحی ١٨ (٢٠٢٥) (صحیح )
3236Sunan Ibne-Majah(3235)

بجو کا حکم

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ، عَنْ حِبَّانَ بْنِ جَزْءٍ، عَنْ أَخِيهِ خُزَيْمَةَ بْنِ جَزْءٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِئْتُكَ، لِأَسْأَلَكَ عَنْ أَحْنَاشِ الْأَرْضِ، مَا تَقُولُ فِي الثَّعْلَبِ؟، قَالَ: وَمَنْ يَأْكُلُ الثَّعْلَبَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَقُولُ فِي الذِّئْبِ؟، قَالَ: وَيَأْكُلُ الذِّئْبَ أَحَدٌ فِيهِ خَيْرٌ؟!.

خزیمہ بن جزء ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آپ کی خدمت میں زمین کے کیڑوں کے متعلق سوال کرنے آیا ہوں، آپ لومڑی کے سلسلے میں کیا فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: لومڑی کون کھاتا ہے ؟ پھر میں نے عرض کیا: آپ بھیڑئیے کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کہیں کوئی آدمی جس میں خیر ہو بھیڑیا کھاتا ہے ؟ ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Abu Ammar, who is ‘Abdur-Rahman, said: "I asked Jabir bin Abdullah about hyenas: ‘Are they game (that can be hunted)? He said: ‘Yes.’ I said: Can I eat them? He said: ‘Yes.’ I said: Is this something that you heard from the Messenger of Allah? ﷺ He said: Yes."

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث تو ضعیف ہے لیکن لومڑی شکار کرتی ہے، تو وہ دانت والے درندوں میں سے ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٥٣٣، ومصباح الزجاجة: ١١١٢)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأطعمة ٤ (١٧٩٢)، مقتصراً علی الجملة الأخیرة) (ضعیف) (سند میں ابن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، نیز عبد الکریم ضعیف ہیں )