حاجی تلبیہ کہنا کب موقوف کرے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا زِلْتُ أَسْمَعُهُ يُلَبِّي، حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، فَلَمَّا رَمَاهَا قَطَعَ التَّلْبِيَةَ.
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ فضل بن عباس ؓ نے کہا: میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ پیچھے سوار تھا، تو میں برابر آپ کا تلبیہ سنتا رہا یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی، جب آپ نے اس کی رمی کرلی تو لبیک کہنا ترک کردیا۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "Fadl bin Abbas said: I was riding behind the Prophet ﷺ and I continued to hear him reciting the Talbiyah until he stoned Aqabahh Pillar, and when he stoned it, he stopped reciting the Talbiyah."