Sunan Ibne-Majah 2210

تجارت ومعاملات کا بیان

2210Sunan Ibne-Majah

پیوند کیا ہوا کھجور کا درخت یا مال والا غلام بیچنا۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنِ اشْتَرَى نَخْلًا قَدْ أُبِّرَتْ، فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو کوئی تابیر (قلم) کئے ہوئے کھجور کا درخت خریدے، تو اس میں لگنے والا پھل بیچنے والے کا ہوگا، الا یہ کہ خریدار خود پھل لینے کی شرط طے کرلے ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever buys a palm tree that has been pollinated, its fruits belong to the seller, unless the purchaser stipulated a condition." (Sahih) Another chain from Ibn Umar, from the Prophet ﷺ , with similar wording.

Notes · وضاحت
١ ؎: تأبیر کے معنی قلم کرنا یعنی نر کھجور کے گابھے کو مادہ میں رکھنا، جب قلم لگاتے ہیں تو درخت میں کھجور ضرور پیدا ہوتی ہے، لہذا قلم کے بعد جو درخت بیچا جائے وہ اس کا پھل بیچنے والے کو ملے گا۔ البتہ اگر خریدنے والا شرط طے کرلے کہ پھل میں لوں گا تو شرط کے موافق خریدار کو ملے گا، بعضوں نے کہا کہ یہ حکم اس وقت ہے جب درخت میں پھل نکل آیا ہو تو وہ خریدنے والے ہی کا ہوگا۔ اس سند سے بھی ابن عمر ؓ سے اسی طرح مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٩٠ (٢٢٠٣)، ٩٢ (٢٢٠٦)، المساقاة ١٧ (٢٣٧٩)، الشروط ٢ (٢٧١٦)، صحیح مسلم/البیوع ١٥ (١٥٤٣)، سنن النسائی/البیوع ٧٤ (٤٦٤٠)، (تحفة الأشراف: ٨٣٣٠)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/البیوع ٤٤ (٣٤٣٣، ٣٤٣٤)، سنن الترمذی/البیوع ٢٥ (١٢٤٤)، موطا امام مالک/البیوع ٧ (١٠)، مسند احمد (٢/٤، ٥، ٩، ٦٢)، سنن الدارمی/البیوع ٢٧ (٢٦٠٣) (صحیح ) صحیح البخاری/البیوع ٩٢ (٢٢٠٦)، صحیح مسلم/البیوع ١٥ (١٥٤٣)، سنن النسائی/البیوع ٧٣ (٤٦٣٩)، (تحفة الأشراف: ٨٢٧٤) (صحیح )