ماہ رمضان کی آخری دس راتوں کی فضیلت
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَتِ الْعَشْرُ أَحْيَا اللَّيْلَ، وَشَدَّ الْمِئْزَرَ، وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ .
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ (دہا) آتا تو نبی اکرم ﷺ رات کو جاگتے اور کمر کس لیتے، اور اپنے گھر والوں کو جگاتے ١ ؎۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "When the last ten days of Ramadan began, the Prophet ﷺ used to stay up at night, tighten his waist wrap, and wake up his family (to pray)." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ یا عبادت کے لیے کمر کس لینے یا عورتوں سے بچنے اور دور رہنے سے کنایہ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/لیلة القدر ٥ (٢٠٢٤)، صحیح مسلم/الاعتکاف ٣ (١١٧٤)، سنن ابی داود/الصلاة ٣١٨ (١٣٧٦)، سنن النسائی/قیام اللیل ١٥ (١٦٤٠)، (تحفة الأشراف: ١٧٦٣٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤١) (صحیح )