کھانے کے بعد کلی کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ، فَلَمَّا كُنَّا بِالصَّهْبَاءِ دَعَا بِطَعَامٍ فَمَا أُتِيَ إِلَّا بِسَوِيقٍ فَأَكَلْنَا فَقَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَتَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا.
قَالَ يَحْيَى: سَمِعْتُ بُشَيْرًا، يَقُولُ: حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ، خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ فَلَمَّا كُنَّا بِالصَّهْبَاءِ، قَالَ يَحْيَى: وَهِيَ مِنْ خَيْبَرَ عَلَى رَوْحَةٍ دَعَا بِطَعَامٍ فَمَا أُتِيَ إِلَّا بِسَوِيقٍ فَلُكْنَاهُ فَأَكَلْنَا مَعَهُ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ. وَقَالَ سُفْيَانُ: كَأَنَّكَ تَسْمَعُهُ مِنْ يَحْيَى.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، انہوں نے یحییٰ بن سعید سے سنا، انہوں نے بشیر بن یسار سے، ان سے سوید بن نعمان نے، کہا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خیبر روانہ ہوئے۔ جب ہم مقام صہبا پر پہنچے تو نبی کریم ﷺ نے کھانا طلب فرمایا۔ کھانے میں ستو کے سوا اور کوئی چیز نہیں لائی گئی، پھر ہم نے کھانا کھایا اور نبی کریم ﷺ کلی کر کے نماز کے لیے کھڑے ہوگئے، ہم نے بھی کلی کی۔
یحییٰ نے بیان کیا کہ میں نے بشیر سے سنا، انہوں نے بیان کیا ہم سے سوید ؓ نے بیان کیا ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے جب ہم مقام صہبا پر پہنچے۔ یحییٰ نے کہا کہ یہ جگہ خیبر سے ایک منزل کی دوری پر ہے تو نبی کریم ﷺ نے کھانا طلب فرمایا لیکن ستو کے سوا اور کوئی چیز نہیں لائی گئی۔ ہم نے اسے آپ ﷺ کے ساتھ کھایا پھر آپ نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی اور نیا وضو نہیں کیا اور سفیان نے کہا گویا کہ تم یہ حدیث یحییٰ ہی سے سن رہے ہو۔
Narrated Suwaid bin An Numan (RA) :
We went out with Allahs Apostle ﷺ to Khaibar, and when we reached As-Sahba, the Prophet ﷺ asked for food, and he was offered nothing but Sawiq. We ate, and then Allahs Apostle ﷺ stood up for the prayer. He rinsed his mouth with water, and we too, rinsed our mouths. Narrated Suwaid; We went out with Allahs Apostle ﷺ to Khaibar. and when we reached As-Sahba, which (Yahya says) is one day journey from Khaibar, the Prophet ﷺ asked for food, and he was offered nothing but Sawiq which we chewed and ate. Then the Prophet ﷺ asked for water and rinsed his mouth, and we too, rinsed our mouths along with him. He then led us in the Maghrib prayer without performing ablution again
رومال سے پونچھنے سے قبل انگلیوں کے چاٹنے اور چوسنے کا بیان
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ agt;، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے عطاء نے اور ان سے ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی شخص کھانا کھائے تو ہاتھ چاٹنے یا کسی کو چٹانے سے پہلے ہاتھ نہ پونچھے۔
Narrated Ibn Abbas (RA) :
The Prophet ﷺ said, When you eat, do not wipe your hands till you have licked it, or had it licked by somebody else."
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ سَأَلَهُ عَنْ الْوُضُوءِ، مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ ؟ فَقَالَ: لَا، قَدْ كُنَّا زَمَانَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَجِدُ مِثْلَ ذَلِكَ مِنَ الطَّعَامِ إِلَّا قَلِيلًا، فَإِذَا نَحْنُ وَجَدْنَاهُ لَمْ يَكُنْ لَنَا مَنَادِيلُ إِلَّا أَكُفَّنَا وَسَوَاعِدَنَا وَأَقْدَامَنَا ثُمَّ نُصَلِّي وَلَا نَتَوَضَّأُ.
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے محمد بن فلیح نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے، ان سے سعید بن الحارث نے اور ان سے جابر بن عبداللہ ؓ نے کہ سعید بن الحارث نے جابر ؓ سے ایسی چیز کے (کھانے کے بعد) جو آگ پر رکھی ہو وضو کے متعلق پوچھا (کہ کیا ایسی چیز کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟ ) تو انہوں نے کہا کہ نہیں۔ نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں ہمیں اس طرح کا کھانا (جو پکا ہوا ہوتا) بہت کم میسر آتا تھا اور اگر میسر آ بھی جاتا تھا تو سوا ہماری ہتھیلیوں بازوؤں اور پاؤں کے کوئی رومال نہیں ہوتا تھا (اور ہم انہیں سے اپنے ہاتھ صاف کر کے) نماز پڑھ لیتے تھے اور وضو۔
Narrated Said bin Al-Harith (RA) :
that he asked Jabir bin Abdullah about performing ablution after taking a cooked meal. He replied, "It is not essential," and added, "We never used to get such kind of food during the lifetime of the Prophet ﷺ except rarely; and if at all we got such a dish, we did not have any handkerchiefs to wipe our hands with except the palms of our hands, our forearms and our feet. We would perform the prayer thereafter with-out performing new ablution."
جب کھانے سے فارغ ہو تو کیا کہے
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَفَعَ مَائِدَتَهُ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ثور نے، ان سے خالد بن معدان نے اور ان سے ابوامامہ ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ کے سامنے سے جب کھانا اٹھایا جاتا تو آپ یہ دعا پڑھتے الحمد لله كثيرا طيبا مبارکا فيه، غير مكفي، ولا مودع ولا مستغنى عنه، ربنا تمام تعریفیں اللہ کے لیے، بہت زیادہ پاکیزہ برکت والی، ہم اس کھانے کا حق پوری طرح ادا نہ کرسکے اور یہ ہمیشہ کے لیے رخصت نہیں کیا گیا ہے (اور یہ اس لیے کہا تاکہ) اس سے ہم کو بےپرواہی کا خیال نہ ہو، اے ہمارے رب!۔
Narrated Abu Umama (RA) :
Whenever the dining sheet of the Prophet ﷺ was taken away (i.e., whenever he finished his meal), he used to say: "Al-hamdu lillah kathiran taiyiban mubarakan fihi ghaira makfiy wala muwada wala mustaghnaanhu Rabbuna."
جب کھانے سے فارغ ہو تو کیا کہے
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَإِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ، وَقَالَ مَرَّةً: إِذَا رَفَعَ مَائِدَتَهُ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَفَانَا وَأَرْوَانَا غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مَكْفُورٍ، وَقَالَ مَرَّةً: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّنَا غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى رَبَّنَا.
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے ثور بن یزید نے بیان کیا، ان سے خالد بن معدان نے اور ان سے ابوامامہ ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ جب کھانے سے فارغ ہوتے اور ایک مرتبہ بیان کیا کہ جب نبی کریم ﷺ اپنا دستر خوان اٹھاتے یہ دعا پڑھتے الحمد لله الذي کفانا وأروانا، غير مكفي، ولا مکفور، وقال مرة الحمد لله ربنا، غير مكفي، ولا مودع، ولا مستغنى، ربنا. تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہماری کفایت کی اور ہمیں سیراب کیا۔ ہم اس کھانے کا حق پوری طرح ادا نہ کرسکے ورنہ ہم اس نعمت کے منکر نہیں ہیں۔ اور ایک مرتبہ فرمایا تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں اے ہمارے رب! اس کا حق ادا نہیں کرسکے اور نہ یہ ہمیشہ کے لیے رخصت کیا گیا ہے۔ (یہ اس لیے کہا تاکہ) اس سے ہم کو بےنیازی کا خیال نہ ہو۔ اے ہمارے رب! ۔
Narrated Abu Umama (RA) :
Whenever the Prophet ﷺ finished his meals (or when his dining sheet was taken away), he used to say. "Praise be to Allah Who has satisfied our needs and quenched our thirst. Your favor cannot by compensated or denied." Once he said, upraise be to You, O our Lord! Your favor cannot be compensated, nor can be left, nor can be dispensed with, O our Lord!"
56- بَابُ الطَّاعِمُ الشَّاكِرُ مِثْلُ الصَّائِمِ الصَّابِرِ:
باب: شکر گزار کھانے والا ( ثواب میں) صابر روزہ دار کی طرح ہے
فِيهِ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اس مسئلہ میں ابوہریرہ ؓ نے ایک حدیث نبی کریم ﷺ سے روایت کی ہے۔
Narrated .Abu Huraira: The Prophet said, When your servant brings your food to you, if you do not ask him to join you, then at least ask him to take one or two handfuls, for he has suffered from its heat (while cooking it) and has taken pains to cook it nicely.
اگر کسی شخص کو کھانے پر مدعو کیا جائے (اور کوئی دوسرا بھی آجائے) تو کہہ دے کہ یہ میرے ساتھ آگیا ہے اور انس نے کہا کہ جب تم کسی مسلمان کے پاس جاؤ اور وہ متہم نہ ہو تو اس کے کھانے میں سے کھاؤ اور پینے کی چیز میں سے کھالو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا شَقِيقٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُكْنَى أَبَا شُعَيْبٍ وَكَانَ لَهُ غُلَامٌ لَحَّامٌ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي أَصْحَابِهِ فَعَرَفَ الْجُوعَ فِي وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَهَبَ إِلَى غُلَامِهِ اللَّحَّامِ، فَقَالَ: اصْنَعْ لِي طَعَامًا يَكْفِي خَمْسَةً لَعَلِّي أَدْعُو النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمْسَةٍ، فَصَنَعَ لَهُ طُعَيِّمًا، ثُمَّ أَتَاهُ فَدَعَاهُ، فَتَبِعَهُمْ رَجُلٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَبَا شُعَيْبٍ، إِنَّ رَجُلًا تَبِعَنَا فَإِنْ شِئْتَ أَذِنْتَ لَهُ وَإِنْ شِئْتَ تَرَكْتَهُ، قَالَ: لَا، بَلْ أَذِنْتُ لَهُ.
ہم سے عبداللہ بن ابی اسود نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے، ان سے اعمش نے، ان سے شقیق نے، اور ان سے ابومسعود انصاری ؓ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ جماعت انصار کے ایک صحابی ابوشعیب ؓ کے نام سے مشہور تھے۔ ان کے پاس ایک غلام تھا جو گوشت بیچا کرتا تھا۔ وہ صحابی نبی کریم ﷺ کی مجلس میں حاضر ہوئے تو نبی کریم ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف رکھتے تھے۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے چہرہ مبارک سے فاقہ کا اندازہ لگا لیا۔ چناچہ وہ اپنے گوشت فروش غلام کے پاس گئے اور کہا کہ میرے لیے پانچ آدمیوں کا کھانا تیار کر دو۔ میں نبی کریم ﷺ کو چار دوسرے آدمیوں کے ساتھ دعوت دوں گا۔ غلام نے کھانا تیار کردیا۔ اس کے بعد ابوشعیب ؓ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں گئے اور آپ کو کھانے کی دعوت دی۔ ان کے ساتھ ایک اور صاحب بھی چلنے لگے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اے ابوشعیب! یہ صاحب بھی ہمارے ساتھ آگئے ہیں، اگر تم چاہو تو انہیں بھی اجازت دے دو اور اگر چاہو تو چھوڑ دو۔ انہوں نے عرض کیا نہیں بلکہ میں انہیں بھی اجازت دیتا ہوں۔
Narrated Abu Masud Al-Ansari (RA) :
There was an Ansari man nicknamed, Abu Shuaib, who had a slave who was a butcher. He came to the Prophet ﷺ while he was sitting with his companions and noticed the signs of hunger on the face of the Prophet ﷺ . So he went to his butcher slave and said, "Prepare for me a meal sufficient for five persons so that I may invite the Prophet ﷺ along with four other men." He had the meal prepared for him and invited him. A (sixth) man followed them. The Prophet ﷺ said, "O Abu Shuaib! Another man has followed us. If you wish, you may invite him; and if you wish, you may refuse him." Abu Shuaib said, "No, I will admit him."
رات کا کھانا سامنے آجائے تو عشاء کی نماز میں عجلت نہ کرے
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّ أَبَاهُ عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُرَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ فِي يَدِهِ فَدُعِيَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَلْقَاهَا وَالسِّكِّينَ الَّتِي كَانَ يَحْتَزُّ بِهَا ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے اور لیث نے بیان کیا، کہا انہوں نے کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں جعفر بن عمرو بن امیہ ؓ نے خبر دی، انہیں ان کے والد عمرو بن امیہ نے خبر دی کہ انہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے ہاتھ سے بکری کے شانے کا گوشت کاٹ کاٹ کر کھا رہے تھے، پھر آپ کو نماز کے لیے بلایا گیا تو آپ گوشت اور چھری جس سے آپ کاٹ رہے تھے، چھوڑ کر کھڑے ہوگئے اور نماز پڑھائی اور اس نماز کے لیے نیا وضو نہیں کیا۔
Narrated Amr bin Umaiyya (RA) :
that he saw Allahs Apostle ﷺ cutting a piece of mutton from its shoulder part he was carrying in his hand. When he was called for prayer, he put it down and the knife with which he was cutting it. Then he stood up and offered the prayer without performing new ablution
رات کا کھانا سامنے آجائے تو عشاء کی نماز میں عجلت نہ کرے
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ. وَعَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
وَعَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ تَعَشَّى مَرَّةً وَهُوَ يَسْمَعُ قِرَاءَةَ الْإِمَامِ.
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس بن مالک ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب رات کا کھانا سامنے رکھ دیا گیا ہو اور نماز بھی کھڑی ہوگئی ہو تو پہلے کھانا کھاؤ۔ اور ایوب سے روایت ہے، ان سے نافع نے، ان سے ابن عمر ؓ نے اور ان سے نبی کریم ﷺ نے اسی کے مطابق۔
اور ایوب سے روایت ہے، ان سے نافع نے کہ ابن عمر ؓ نے ایک مرتبہ رات کا کھانا کھایا اور اس وقت آپ امام کی قرآت سن رہے تھے۔
Narrated Anas bin Malik (RA):
The Prophet ﷺ said, If supper is served and the Iqama for (Isha) prayer is proclaimed, start with you supper first."Narrated Nafi (RA) :
Once Ibn Umar (RA) was taking his supper while he was listening to the recitation of (Quran by) the Imam (in the Isha prayer).
رات کا کھانا سامنے آجائے تو عشاء کی نماز میں عجلت نہ کرے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَحَضَرَ الْعَشَاءُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ. قَالَ وُهَيْبٌ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: عَنْ هِشَامٍ: إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ.
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب نماز کھڑی ہوچکے اور رات کا کھانا بھی سامنے ہو تو کھانا کھاؤ۔ وہیب اور یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے ہشام نے کہ جب رات کا کھانا رکھا جا چکے۔
Narrated Aisha (RA) :
The Prophet ﷺ said, "If the Iqama for (Isha) prayer is proclaimed and supper is served, take your supper first "
اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ جب تم کھانا کھالو تو منتشر ہوجاؤ
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَنَسًا، قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِالْحِجَابِ كَانَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يَسْأَلُنِي عَنْهُ، أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرُوسًا بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَكَانَ تَزَوَّجَهَا بِالْمَدِينَةِ، فَدَعَا النَّاسَ لِلطَّعَامِ بَعْدَ ارْتِفَاعِ النَّهَارِ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَلَسَ مَعَهُ رِجَالٌ بَعْدَ مَا قَامَ الْقَوْمُ حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَشَى وَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى بَلَغَ بَابَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ ثُمَّ ظَنَّ أَنَّهُمْ خَرَجُوا، فَرَجَعْتُ مَعَهُ فَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ مَكَانَهُمْ، فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ بَابَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ فَإِذَا هُمْ قَدْ قَامُوا، فَضَرَبَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ سِتْرًا وَأُنْزِلَ الْحِجَابُ.
مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے انس ؓ نے بیان کیا کہ میں پردہ کے حکم کے بارے میں زیادہ جانتا ہوں۔ ابی بن کعب ؓ بھی مجھ سے اس کے بارے میں پوچھا کرتے تھے۔ زینب بنت جحش ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی شادی کا موقع تھا۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے نکاح مدینہ منورہ میں کیا تھا۔ دن چڑھنے کے بعد نبی کریم ﷺ نے لوگوں کی کھانے کی دعوت کی تھی۔ آپ بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے ساتھ بعض اور صحابہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ اس وقت تک دوسرے لوگ (کھانے سے فارغ ہو کر) جا چکے تھے۔ آخر آپ بھی کھڑے ہوگئے اور چلتے رہے۔ میں بھی آپ کے ساتھ چلتا رہا۔ آپ عائشہ ؓ کے حجرے پر پہنچے پھر آپ نے خیال کیا کہ وہ لوگ (بھی جو کھانے کے بعد گھر بیٹھے رہ گئے تھے) جا چکے ہوں گے (اس لیے آپ واپس تشریف لائے) میں بھی آپ کے ساتھ واپس آیا لیکن وہ لوگ اب بھی اسی جگہ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ پھر واپس آگئے۔ میں بھی آپ کے ساتھ دوبارہ واپس آیا۔ آپ عائشہ ؓ کے حجرہ پر پہنچے پھر آپ وہاں سے واپس ہوئے۔ میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔ اب وہ لوگ جا چکے تھے۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے اپنے اور میرے درمیان پردہ لٹکایا اور پردہ کی آیت نازل ہوئی۔
Narrated Anas (RA) :
I know (about) the Hijab (the order of veiling of women) more than anybody else. Ubai bin Kab (RA) used to ask me about it. Allahs Apostle ﷺ became the bridegroom of Zainab bint Jahsh whom he married at Medina. After the sun had risen high in the sky, the Prophet ﷺ invited the people to a meal. Allahs Apostle ﷺ remained sitting and some people remained sitting with him after the other guests had left. Then Allahs Apostle ﷺ got up and went away, and I too, followed him till he reached the door of Aishas room. Then he thought that the people must have left the place by then, so he returned and I also returned with him. Behold, the people were still sitting at their places. So he went back again for the second time, and I went along with him too. When we reached the door of Aishas room, he returned and I also returned with him to see that the people had left. Thereupon the Prophet ﷺ hung a curtain between me and him and the Verse regarding the order for (veiling of women) Hijab was revealed.