وضو کا بیان

Sahih Bukhari · Chapter 4 · 109 hadiths · Page 6 of 6

238Sahih Bukhari

باب: اس بارے میں کہ ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنا منع ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ هُرْمُزَ الْأَعْرَجَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَأَبَا هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ.

ہم سے ابوالیمان بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا مجھے ابوالزناد نے خبر دی کہ ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمزالاعرج نے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے سنا، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرماتے تھے کہ ہم (لوگ) دنیا میں پچھلے زمانے میں آئے ہیں (مگر آخرت میں) سب سے آگے ہیں۔

Narrated Abu Hurairah (RA): Allahs Apostle ﷺ said, "We (Muslims) are the last (people to come in the world) but (will be) the foremost (on the Day of Resurrection)." The same

239Sahih Bukhari

باب: اس بارے میں کہ ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنا منع ہے۔

وَبِإِسْنَادِهِ وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ الَّذِي لَا يَجْرِي، ثُمَّ يَغْتَسِلُ فِيهِ.

اور اسی سند سے (یہ بھی) فرمایا کہ تم میں سے کوئی ٹھہرے ہوئے پانی میں جو جاری نہ ہو پیشاب نہ کرے۔ پھر اسی میں غسل کرنے لگے؟

narrator told that the Prophet ﷺ had said, "You should not pass urine in stagnant water which is not flowing then (you may need to) wash in it."

240Sahih Bukhari

باب: جب نمازی کی پشت پر (اچانک) کوئی نجاست یا مردار ڈال دیا جائے تو اس کی نماز فاسد نہیں ہوتی۔

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ. ح قَالَ: وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍحَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عِنْدَ الْبَيْتِ وَأَبُو جَهْلٍ وَأَصْحَابٌ لَهُ جُلُوسٌ، إِذْ قَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْض، أَيُّكُمْ يَجِيءُ بِسَلَى جَزُورِ بَنِي فُلَانٍ فَيَضَعُهُ عَلَى ظَهْرِ مُحَمَّدٍ، إِذَا سَجَدَ فَانْبَعَثَ أَشْقَى الْقَوْمِ، فَجَاءَ بِهِ، فَنَظَرَ حَتَّى إِذَا سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَهُ عَلَى ظَهْرِهِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ وَأَنَا أَنْظُرُ لَا أُغَيَّرُ شَيْئًا لَوْ كَانَ لِي مَنَعَةٌ، قَالَ: فَجَعَلُوا يَضْحَكُونَ وَيُحِيلُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ لَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ حَتَّى جَاءَتْهُ فَاطِمَةُ، فَطَرَحَتْ عَنْ ظَهْرِهِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَشَقَّ عَلَيْهِمْ إِذْ دَعَا عَلَيْهِمْ، قَالَ: وَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ الدَّعْوَةَ فِي ذَلِكَ الْبَلَدِ مُسْتَجَابَةٌ، ثُمَّ سَمَّى اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِأَبِي جَهْلٍ، وَعَلَيْكَ بِعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ، وَأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ، وَعَدَّ السَّابِعَ، فَلَمْ يَحْفَظْ، قَالَ: فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ رَأَيْتُ الَّذِينَ عَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَرْعَى فِي الْقَلِيبِ قَلِيبِ بَدْرٍ.

ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا مجھے میرے باپ (عثمان) نے شعبہ سے خبر دی، انہوں نے ابواسحاق سے، انہوں نے عمرو بن میمون سے، انہوں نے عبداللہ سے وہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کعبہ شریف میں سجدہ میں تھے۔ (ایک دوسری سند سے) ہم سے احمد بن عثمان نے بیان کیا، کہا ہم سے شریح بن مسلمہ نے، کہا ہم سے ابراہیم بن یوسف نے اپنے باپ کے واسطے سے بیان کیا، وہ ابواسحاق سے روایت کرتے ہیں۔ ان سے عمرو بن میمون نے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے ان سے حدیث بیان کی کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کعبہ کے نزدیک نماز پڑھ رہے تھے اور ابوجہل اور اس کے ساتھی (بھی وہیں) بیٹھے ہوئے تھے تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ تم میں سے کوئی شخص ہے جو قبیلے کی (جو) اونٹنی ذبح ہوئی ہے (اس کی) اوجھڑی اٹھا لائے اور (لا کر) جب محمد ﷺ سجدہ میں جائیں تو ان کی پیٹھ پر رکھ دے۔ یہ سن کر ان میں سے ایک سب سے زیادہ بدبخت (آدمی) اٹھا اور وہ اوجھڑی لے کر آیا اور دیکھتا رہا جب آپ نے سجدہ کیا تو اس نے اس اوجھڑی کو آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان رکھ دیا (عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں) میں یہ (سب کچھ) دیکھ رہا تھا مگر کچھ نہ کرسکتا تھا۔ کاش! (اس وقت) مجھے روکنے کی طاقت ہوتی۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ وہ ہنسنے لگے اور (ہنسی کے مارے) لوٹ پوٹ ہونے لگے اور رسول اللہ ﷺ سجدہ میں تھے (بوجھ کی وجہ سے) اپنا سر نہیں اٹھا سکتے تھے۔ یہاں تک کہ فاطمہ ؓ آئیں اور وہ بوجھ آپ کی پیٹھ سے اتار کر پھینکا، تب آپ ﷺ نے سر اٹھایا پھر تین بار فرمایا۔ یا اللہ! تو قریش کو پکڑ لے، یہ (بات) ان کافروں پر بہت بھاری ہوئی کہ آپ ﷺ نے انہیں بددعا دی۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ وہ سمجھتے تھے کہ اس شہر (مکہ) میں جو دعا کی جائے وہ ضرور قبول ہوتی ہے پھر آپ نے (ان میں سے) ہر ایک کا (جدا جدا) نام لیا کہ اے اللہ! ان ظالموں کو ضرور ہلاک کر دے۔ ابوجہل، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، امیہ بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط کو۔ ساتویں (آدمی) کا نام (بھی) لیا مگر مجھے یاد نہیں رہا۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ جن لوگوں کے (بددعا کرتے وقت) آپ ﷺ نے نام لیے تھے، میں نے ان کی (لاشوں) کو بدر کے کنویں میں پڑا ہوا دیکھا۔

Narrated Abdullah bin Masud (RA): Once the Prophet ﷺ was offering prayers at the Ka’bah. Abu Jahl was sitting with some of his companions. One of them said to the others, "Who amongst you will bring the abdominal contents (intestines, etc.) of a camel of Bani so and so and put it on the back of Muhammad, when he prostrates?" The most unfortunate of them got up and brought it. He waited till the Prophet ﷺ prostrated and then placed it on his back between his shoulders. I was watching but could not do anything. I wish I had some people with me to hold out against them. They started laughing and falling on one another. Allahs Apostle ﷺ was in prostration and he did not lift his head up till Fatima (Prophets daughter) came and threw that (camels abdominal contents) away from his back. He raised his head and said thrice, "O Allah! Punish Quraish." So it was hard for Abu Jahl and his companions when the Prophet ﷺ invoked Allah against them as they had a conviction that the prayers and invocations were accepted in this city (Makkah). The Prophet ﷺ said, "O Allah! Punish Abu Jahl, Utba bin Rabia, Shaiba bin Rabia, Al-Walid bin Utba, Umaiya bin Khalaf, and Uqba bin Al Muit (and he mentioned the seventh whose name I cannot recall). By Allah in Whose Hands my life is, I saw the dead bodies of those persons who were counted by Allahs Apostle ﷺ in the Qalib (one of the wells) of Badr.

241Sahih Bukhari

باب: کپڑے میں تھوک اور رینٹ وغیرہ لگ جانے کے بارے میں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ ، قَالَ: بَزَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَوْبِهِ، طَوَّلَهُ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے حمید کے واسطے سے بیان کیا، وہ انس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (ایک مرتبہ) اپنے کپڑے میں تھوکا۔ ابوعبداللہ (امام بخاری (رح)) نے فرمایا کہ سعید بن ابی مریم نے اس حدیث کو طوالت کے ساتھ بیان کیا انہوں نے کہا ہم کو خبر دی یحییٰ بن ایوب نے، کہا مجھ سے حمید نے بیان کیا، کہا میں نے انس سے سنا، وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔

Narrated Anas (RA): The Prophet ﷺ once spat in his clothes.

242Sahih Bukhari

باب: نبیذ سے اور کسی نشہ والی چیز سے وضو جائز نہیں۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ.

ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، ان سے زہری نے ابوسلمہ کے واسطے سے بیان کیا، وہ عائشہ ؓ سے وہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پینے کی ہر وہ چیز جو نشہ لانے والی ہو حرام ہے۔

Narrated Aisha (RA): The Prophet ﷺ said, "All drinks that produce intoxication are Haram (forbidden to drink).

243Sahih Bukhari

باب: عورت کا اپنے باپ کے چہرے سے خون دھونا جائز ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ وَسَأَلَهُ النَّاسُ، وما بيني وبينه أحد بأي شيء دووي جرح النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا بَقِيَ أَحَدٌ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، كَانَ عَلِيٌّ يَجِيءُ بِتُرْسِهِ فِيهِ مَاءٌ، وَفَاطِمَةُ تَغْسِلُ عَنْ وَجْهِهِ الدَّمَ، فَأُخِذَ حَصِيرٌ فَأُحْرِقَ فَحُشِيَ بِهِ جُرْحُهُ.

ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ابن ابی حازم کے واسطے سے نقل کیا، انہوں نے سہل بن سعد الساعدی سے سنا کہ لوگوں نے ان سے پوچھا، اور (میں اس وقت سہل کے اتنا قریب تھا کہ) میرے اور ان کے درمیان کوئی دوسرا حائل نہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے (احد کے) زخم کا علاج کس دوا سے کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا جاننے والا (اب) مجھ سے زیادہ کوئی نہیں رہا۔ علی ؓ اپنی ڈھال میں پانی لاتے اور فاطمہ ؓ آپ ﷺ کے منہ سے خون دھوتیں پھر ایک بوریا کا ٹکڑا جلایا گیا اور آپ ﷺ کے زخم میں بھر دیا گیا۔

Narrated Abu Hazim (RA): Sahl bin Sad As-Saidi, was asked by the people, "With what was the wound of the Prophet ﷺ treated? Sahl replied, "None remains among the people living who knows that better than I. Ah used to bring water in his shield and Fatima used to wash the blood off his face. Then straw mat was burnt and the wound was filled with it."

244Sahih Bukhari

باب: مسواک کرنے کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُهُ يَسْتَنُّ بِسِوَاكٍ بِيَدِهِ، يَقُولُ: أُعْ أُعْ، وَالسِّوَاكُ فِي فِيهِ كَأَنَّه يَتَهَوَّعُ.

ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے غیلان بن جریر کے واسطے سے نقل کیا، وہ ابوبردہ سے وہ اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں کہ میں (ایک مرتبہ) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ کو اپنے ہاتھ سے مسواک کرتے ہوئے پایا اور آپ ﷺ کے منہ سے اع اع کی آواز نکل رہی تھی اور مسواک آپ ﷺ کے منہ میں تھی جس طرح آپ ﷺ قے کر رہے ہوں۔

Narrated Abu Burda (RA): My father said, "I came to the Prophet ﷺ and saw him carrying a Siwak in his hand and cleansing his teeth, saying, U U," as if he was retching while the Siwak was in his mouth."

245Sahih Bukhari(246)

باب: مسواک کرنے کا بیان۔

وَقَالَ عَفَّانُ: حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ نَافِعٍ 63، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَرَانِي أَتَسَوَّكُ بِسِوَاكٍ فَجَاءَنِي رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الْآخَرِ، فَنَاوَلْتُ السِّوَاكَ الْأَصْغَرَ مِنْهُمَا، فَقِيلَ لِي: كَبِّرْ، فَدَفَعْتُهُ إِلَى الْأَكْبَرِ مِنْهُمَا، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: اخْتَصَرَهُ نُعَيْمٌ، عَنْ ابْن الْمُبَارَكِ، عَنْ أُسَامَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ

عفان نے کہا کہ ہم سے صخر بن جویریہ نے نافع کے واسطے سے بیان کیا، وہ ابن عمر ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے دیکھا کہ (خواب میں) مسواک کر رہا ہوں تو میرے پاس دو آدمی آئے۔ ایک ان میں سے دوسرے سے بڑا تھا، تو میں نے چھوٹے کو مسواک دے دی پھر مجھ سے کہا گیا کہ بڑے کو دو۔ تب میں نے ان میں سے بڑے کو دی۔ ابوعبداللہ (امام بخاری (رح)) کہتے ہیں کہ اس حدیث کو نعیم نے ابن المبارک سے، وہ اسامہ سے، وہ نافع سے، انہوں نے ابن عمر ؓ سے مختصر طور پر روایت کیا ہے۔

Narrated Hudhaifa: Whenever the Prophet got up at night, he used to clean his mouth with Siwak.

247Sahih Bukhari

باب: رات کو وضو کر کے سونے والے کی فضیلت کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْالْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَتَيْتَ مَضْجَعَكَ فَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ قُلْ: اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، اللَّهُمَّ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، فَإِنْ مُتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ فَأَنْتَ عَلَى الْفِطْرَةِ، وَاجْعَلْهُنَّ آخِرَ مَا تَتَكَلَّمُ بِهِ، قَالَ: فَرَدَّدْتُهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا بَلَغْتُ اللَّهُمَّ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ قُلْتُ: وَرَسُولِكَ، قَالَ: لَا، وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ.

ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہمیں سفیان نے منصور کے واسطے سے خبر دی، انہوں نے سعد بن عبیدہ سے، وہ براء بن عازب ؓ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم اپنے بستر پر لیٹنے آؤ تو اس طرح وضو کرو جس طرح نماز کے لیے کرتے ہو۔ پھر داہنی کروٹ پر لیٹ کر یوں کہو اللهم أسلمت وجهي إليك، وفوضت أمري إليك، وألجأت ظهري إليك، رغبة ورهبة إليك، لا ملجأ ولا منجا منک إلا إليك، اللهم آمنت بکتابک الذي أنزلت، وبنبيك الذي أرسلت اے اللہ! میں نے اپنا چہرہ تیری طرف جھکا دیا۔ اپنا معاملہ تیرے ہی سپرد کردیا۔ میں نے تیرے ثواب کی توقع اور تیرے عذاب کے ڈر سے تجھے ہی پشت پناہ بنا لیا۔ تیرے سوا کہیں پناہ اور نجات کی جگہ نہیں۔ اے اللہ! جو کتاب تو نے نازل کی میں اس پر ایمان لایا۔ جو نبی تو نے بھیجا میں اس پر ایمان لایا۔ تو اگر اس حالت میں اسی رات مرگیا تو فطرت پر مرے گا اور اس دعا کو سب باتوں کے اخیر میں پڑھ۔ براء ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس دعا کو دوبارہ پڑھا۔ جب میں اللهم آمنت بکتابک الذي أنزلت پر پہنچا تو میں نے ورسولک (کا لفظ) کہہ دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں (یوں کہو) ونبيك الذي أرسلت۔

Narrated Al-Bara bin Azib (RA): The Prophet ﷺ said to me, "Whenever you go to bed perform ablution like that for the prayer, lie or your right side and say, "Allahumma aslamtu wajhi ilaika, wa fauwadtu amri ilaika, wa aljatu Zahri ilaika raghbatan wa rahbatan ilaika. La Malja wa la manja minka illa ilaika. Allahumma amantu bikitabika-l-ladhi anzalta wa bina-biyika-l ladhi arsalta" (O Allah! I surrender to you and entrust all my affairs to you and depend upon you for Your Blessings both with hope and fear of you. There is no fleeing from you, and there is no place of protection and safety except with You O Allah! I believe in Your Book (the Quran) which you have revealed and in Your Prophet ﷺ (Muhammad) whom you have sent). Then if you die on that very night, you will die with faith (i.e. or the religion of Islam). Let the aforesaid words be your last utterance (before sleep)." I repeated it before the Prophet ﷺ and when I reached "Allahumma amantu bikitabika-l-ladhi anzalta (O Allah I believe in Your Book which you have revealed)." I said, "Wa-rasulika (and your Apostle)." The Prophet ﷺ said, "No, (but say): Wanabiyika-l-ladhi arsalta (Your Prophet ﷺ whom you have sent), instead."

160Sahih Bukhari

باب: وضو میں ہر عضو کو تین تین بار دھونا (سنت ہے)۔

وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : قَالَ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَلَكِنْ عُرْوَةُ يُحَدِّثُ ، عَنْ حُمْرَانَ ، فَلَمَّا تَوَضَّأَ عُثْمَانُ ، قَالَ : أَلَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا لَوْلَا آيَةٌ مَا حَدَّثْتُكُمُوهُ ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لَا يَتَوَضَّأُ رَجُلٌ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ وَيُصَلِّي الصَّلَاةَ ، إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلَاةِ حَتَّى يُصَلِّيَهَا . قَالَ عُرْوَةُ الْآيَةَ : إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ سورة البقرة آية 159 .

اور روایت کی عبدالعزیز نے ابراہیم سے، انہوں نے صالح بن کیسان سے، انہوں نے ابن شہاب سے، لیکن عروہ حمران سے روایت کرتے ہیں کہ` جب عثمان ؓ نے وضو کیا تو فرمایا میں تم کو ایک حدیث سناتا ہوں، اگر قرآن پاک کی ایک آیت (نازل) نہ ہوتی تو میں یہ حدیث تم کو نہ سناتا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ آپ ﷺ فرماتے تھے کہ جب بھی کوئی شخص اچھی طرح وضو کرتا ہے اور (خلوص کے ساتھ) نماز پڑھتا ہے تو اس کے ایک نماز سے دوسری نماز کے پڑھنے تک کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ عروہ کہتے ہیں وہ آیت یہ ہے إن الذين يكتمون ما أنزلنا من البينات (جس کا ترجمہ یہ ہے کہ) جو لوگ اللہ کی اس نازل کی ہوئی ہدایت کو چھپاتے ہیں جو اس نے لوگوں کے لیے اپنی کتاب میں بیان کی ہے۔ ان پر اللہ کی لعنت ہے اور (دوسرے) لعنت کرنے والوں کی لعنت ہے۔

After performing the ablution 'Uthman said, "I am going to tell you a Hadith which I would not have told you, had I not been compelled by a certain Holy Verse (the sub narrator 'Urwa said: This verse is: "Verily, those who conceal the clear signs and the guidance which we have sent down...)" (2:159). I heard the Prophet saying, 'If a man performs ablution perfectly and then offers the compulsory congregational prayer, Allah will forgive his sins committed between that (prayer) and the (next) prayer till he offers it.

174Sahih Bukhari

باب: جب کتا برتن میں پی لے (تو کیا کرنا چاہیے)۔

وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَتِ الْكِلَابُ تَبُولُ وَتُقْبِلُ وَتُدْبِرُ فِي الْمَسْجِدِ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَكُونُوا يَرُشُّونَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ.

احمد بن شبیب نے کہا کہ ہم سے میرے والد نے یونس کے واسطے سے بیان کیا، وہ ابن شہاب سے نقل کرتے ہیں، انہوں نے کہا مجھ سے حمزہ بن عبداللہ نے اپنے باپ (یعنی عبداللہ بن عمر ؓ) کے واسطے سے بیان کیا۔ وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں کتے مسجد میں آتے جاتے تھے لیکن لوگ ان جگہوں پر پانی نہیں چھڑکتے تھے۔

And narrated Hamza bin 'Abdullah: My father said. "During the lifetime of Allah's Apostle, the dogs used to urinate, and pass through the mosques (come and go), nevertheless they never used to sprinkle water on it (urine of the dog.)"

188Sahih Bukhari

باب: لوگوں کے وضو کا بچا ہوا پانی استعمال کرنا۔

وَقَالَ أَبُو مُوسَى: دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ فِيهِ، وَمَجَّ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ لَهُمَا: اشْرَبَا مِنْهُ وَأَفْرِغَا عَلَى وُجُوهِكُمَا وَنُحُورِكُمَا".

(اور ایک دوسری حدیث میں) ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک پیالہ منگوایا۔ جس میں پانی تھا۔ اس سے آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ دھوئے اور اسی پیالہ میں منہ دھویا اور اس میں کلی فرمائی، پھر فرمایا، تو تم لوگ اس کو پی لو اور اپنے چہروں اور سینوں پر ڈال لو۔

Abu Musa said: The Prophet asked for a tumbler containing water and washed both his hands and face in it and then threw a mouthful of water in the tumbler and said to both of us (Abu Musa and Bilal), "Drink from the tumbler and pour some of its water on your faces and chests."

246Sahih Bukhari

باب: بڑے آدمی کو مسواک دینا (ادب کا تقاضا ہے)۔

وَقَالَ عَفَّانُ: حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ نَافِعٍ 63، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "أَرَانِي أَتَسَوَّكُ بِسِوَاكٍ فَجَاءَنِي رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الْآخَرِ، فَنَاوَلْتُ السِّوَاكَ الْأَصْغَرَ مِنْهُمَا، فَقِيلَ لِي: كَبِّرْ، فَدَفَعْتُهُ إِلَى الْأَكْبَرِ مِنْهُمَا"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: اخْتَصَرَهُ نُعَيْمٌ، عَنْ ابْن الْمُبَارَكِ، عَنْ أُسَامَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ

عفان نے کہا کہ ہم سے صخر بن جویریہ نے نافع کے واسطے سے بیان کیا، وہ ابن عمر ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے دیکھا کہ (خواب میں) مسواک کر رہا ہوں تو میرے پاس دو آدمی آئے۔ ایک ان میں سے دوسرے سے بڑا تھا، تو میں نے چھوٹے کو مسواک دے دی پھر مجھ سے کہا گیا کہ بڑے کو دو۔ تب میں نے ان میں سے بڑے کو دی۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) کہتے ہیں کہ اس حدیث کو نعیم نے ابن المبارک سے، وہ اسامہ سے، وہ نافع سے، انہوں نے ابن عمر ؓ سے مختصر طور پر روایت کیا ہے۔

Narrated Ibn 'Umar: The Prophet (saws) said, "I dreamt that I was cleaning my teeth with a Siwak and two persons came to me. One of them was older than the other and I gave the Siwak to the younger. I was told that I should give it to the older and so I did."