باب: لگن، پیالے، لکڑی اور پتھر کے برتن سے غسل اور وضو کرنے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: لَمَّا ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ فِي أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي، فَأَذِنَّ لَهُ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ تَخُطُّ رِجْلَاهُ فِي الْأَرْضِ بَيْنَ عَبَّاسٍ وَرَجُلٍ آخَرَ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: فَأَخْبَرْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: أَتَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الْآخَرُ ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: هُوَ عَلِيُّ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تُحَدِّثُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ بَعْدَمَا دَخَلَ بَيْتَهُ وَاشْتَدَّ وَجَعُهُ: هَرِيقُوا عَلَيَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ لَمْ تُحْلَلْ أَوْكِيَتُهُنَّ لَعَلِّي، أَعْهَدُ إِلَى النَّاسِ، وَأُجْلِسَ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ: زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ طَفِقْنَا نَصُبُّ عَلَيْهِ تِلْكَ حَتَّى طَفِقَ يُشِيرُ إِلَيْنَا أَنْ قَدْ فَعَلْتُنَّ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى النَّاسِ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے زہری سے خبر دی، کہا مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی تحقیق عائشہ ؓ نے فرمایا کہ جب رسول اللہ ﷺ بیمار ہوئے اور آپ ﷺ کی بیماری زیادہ ہوگئی تو آپ ﷺ نے اپنی (دوسری) بیویوں سے اس بات کی اجازت لے لی کہ آپ کی تیمارداری میرے ہی گھر کی جائے۔ انہوں نے آپ کو اجازت دے دی، (ایک روز) رسول اللہ ﷺ دو آدمیوں کے درمیان (سہارا لے کر) گھر سے نکلے۔ آپ کے پاؤں (کمزوری کی وجہ سے) زمین پر گھسٹتے جاتے تھے، عباس ؓ اور ایک آدمی کے درمیان (آپ باہر) نکلے تھے۔ عبیداللہ (راوی حدیث) کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث عبداللہ بن عباس ؓ کو سنائی، تو وہ بولے، تم جانتے ہو دوسرا آدمی کون تھا، میں نے عرض کیا کہ نہیں۔ کہنے لگے وہ علی ؓ تھے۔ پھر عائشہ ؓ بیان فرماتی تھیں کہ جب نبی کریم ﷺ اپنے گھر میں داخل ہوئے اور آپ ﷺ کا مرض بڑھ گیا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا میرے اوپر ایسی سات مشکوں کا پانی ڈالو، جن کے سربند نہ کھولے گئے ہوں۔ تاکہ میں (سکون کے بعد) لوگوں کو کچھ وصیت کروں۔ (چنانچہ) آپ کو حفصہ رسول اللہ ﷺ کی (دوسری) بیوی کے لگن میں (جو تانبے کا تھا) بیٹھا دیا گیا اور ہم نے آپ پر ان مشکوں سے پانی بہانا شروع کیا۔ جب آپ ہم کو اشارہ فرمانے لگے کہ بس اب تم نے اپنا کام پورا کردیا تو اس کے بعد آپ لوگوں کے پاس باہر تشریف لے گئے۔
Narrated Aisha (RA): When the ailment of the Prophet ﷺ became aggravated and his disease became severe, he asked his wives to permit him to be nursed (treated) in my house. So they gave him the permission. Then the Prophet ﷺ came (to my house) with the support of two men, and his legs were dragging on the ground, between Abbas, and another man." Ubaid-Ullah (RA) (the sub narrator) said, "I informed Abdullah bin Abbas (RA) of what Aisha (RA) said. Ibn Abbas (RA) said: Do you know who the other man was? I replied in the negative. Ibn Abbas (RA) said, He was Ali (bin Abi Talib)." Aisha (RA) further said, "When the Prophet ﷺ came to my house and his sickness became aggravated he ordered us to pour seven skins full of water on him, so that he might give some advice to the people. So he was seated in a Mikhdab (brass tub) belonging to Hafsah (RA), the wife of the Prophet ﷺ. Then, all of us started pouring water on him from the water skins till he beckoned to us to stop and that we have done (what he wanted us to do). After that he went out to the people."
باب: طشت سے (پانی لے کر) وضو کرنے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ عَمِّي يُكْثِرُ مِنَ الْوُضُوءِ، قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبِرْنِيِ كَيْفَ رَأَيْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ ؟فَدَعَا بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ، فَكَفَأَ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَهُمَا ثَلَاثَ مِرَارٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي التَّوْرِ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مِنْ غَرْفَةٍ وَاحِدَةٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَاغْتَرَفَ بِهَا فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ مَاءً فَمَسَحَ رَأْسَهُ فَأَدْبَرَ بِيَديْهِ وَأَقْبَلَ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ، فَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ.
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سلیمان نے، کہا مجھ سے عمرو بن یحییٰ نے اپنے باپ (یحییٰ ) کے واسطے سے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ میرے چچا بہت زیادہ وضو کیا کرتے تھے (یا یہ کہ وضو میں بہت پانی بہاتے تھے) ایک دن انہوں نے عبداللہ بن زید ؓ سے کہا کہ مجھے بتلائیے رسول اللہ ﷺ کس طرح وضو کیا کرتے تھے۔ انہوں نے پانی کا ایک طشت منگوایا۔ اس کو (پہلے) اپنے ہاتھوں پر جھکایا۔ پھر دونوں ہاتھ تین بار دھوئے۔ پھر اپنا ہاتھ طشت میں ڈال کر (پانی لیا اور) ایک چلو سے کلی کی اور تین مرتبہ ناک صاف کی۔ پھر اپنے ہاتھوں سے ایک چلو (پانی) لیا اور تین بار اپنا چہرہ دھویا۔ پھر کہنیوں تک اپنے دونوں ہاتھ دو دو بار دھوئے۔ پھر ہاتھ میں پانی لے کر اپنے سر کا مسح کیا۔ تو (پہلے اپنے ہاتھ) پیچھے لے گئے، پھر آگے کی طرف لائے۔ پھر اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ہے۔
Narrated Amr bin Yahya (RA): (on the authority of his father) My uncle used to perform ablution extravagantly and once he asked Abdullah bin Zaid (RA) to tell him how he had seen the Prophet ﷺ performing ablution. He asked for an earthen-ware pot containing water, and poured water from it on his hands and washed them thrice, and then put his hand in the earthen-ware pot and rinsed his mouth and washed his nose by putting water in it and then blowing it Out thrice with one handful of water; he again put his hand in the water and took a handful of water and washed his face thrice, then washed his hands up to the elbows twice, and took water with his hand, and passed it over his head from front to back and then from back to front, and then washed his feet (up to the ankles) and said, "I saw the Prophet ﷺ performing ablution in that way."
باب: طشت سے (پانی لے کر) وضو کرنے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِإِنَاءٍ مِنْ مَاءٍ، فَأُتِيَ بِقَدَحٍ رَحْرَاحٍ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ فَوَضَعَ أَصَابِعَهُ فِيهِ، قَالَ أَنَسٌ: فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى الْمَاءِ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ، قَالَ أَنَسٌ: فَحَزَرْتُ مَنْ تَوَضَّأَ مَا بَيْنَ السَّبْعِينَ إِلَى الثَّمَانِينَ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے، وہ ثابت سے، وہ انس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے پانی کا ایک برتن طلب فرمایا۔ تو آپ ﷺ کے لیے ایک چوڑے منہ کا پیالہ لایا گیا جس میں کچھ تھوڑا پانی تھا، آپ ﷺ نے اپنی انگلیاں اس میں ڈال دیں۔ انس کہتے ہیں کہ میں پانی کی طرف دیکھنے لگا۔ پانی آپ ﷺ کی انگلیوں کے درمیان سے پھوٹ رہا تھا۔ انس ؓ کہتے ہیں کہ اس (ایک پیالہ) پانی سے جن لوگوں نے وضو کیا، وہ ستر (70) سے اسی (80) تک تھے۔
Narrated Thabit (RA): Anas (RA) said, "The Prophet ﷺ asked for water and a tumbler with a broad base and no so deep, containing a small quantity of water, was brought to him whereby he put his fingers in it." Anas (RA) further said, noticed the water springing out from amongst his fingers." Anas (RA) added, estimated that the people who performed ablution with it numbered between seventy to eighty."
باب: مد سے وضو کرنے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ جَبْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ أَوْ كَانَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ إِلَى خَمْسَةِ أَمْدَادٍ وَيَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے مسعر نے، کہا مجھ سے ابن جبیر نے، انہوں نے انس ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ جب دھوتے یا (یہ کہا کہ) جب نہاتے تو ایک صاع سے لے کر پانچ مد تک (پانی استعمال فرماتے تھے) اور جب وضو فرماتے تو ایک مد (پانی) سے۔
Narrated Anas (RA): The Prophet ﷺ used to take a bath with one Saor up to five Mudds (1 Sa= Mudds) of water and used to perform ablution with one Mudd of water.
باب: موزوں پر مسح کرنے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ الْمِصْرِيُّ ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَأَنَّهُ مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ، وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ سَأَلَ عُمَرَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: نَعَمْ، إِذَا حَدَّثَكَ شَيْئًا سَعْدٌ عَنِ النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَا تَسْأَلْ عَنْهُ غَيْرَهُ، وَقَالَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ : أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنّ سَعْدًا حَدَّثَهُ، فَقَالَ: عُمَرُ لِعَبْدِ اللَّهِ نَحْوَهُ.
ہم سے اصبغ ابن الفرج نے بیان کیا، وہ ابن وہب سے کرتے ہیں، کہا مجھ سے عمرو نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابوالنضر نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کے واسطے سے نقل کیا، وہ عبداللہ بن عمر سے، وہ سعد بن ابی وقاص سے، وہ رسول اللہ ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے موزوں پر مسح کیا۔ عبداللہ بن عمر ؓ نے اپنے والد ماجد عمر ؓ سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا (سچ ہے اور یاد رکھو) جب تم سے سعد رسول اللہ ﷺ کی کوئی حدیث بیان فرمائیں۔ تو اس کے متعلق ان کے سوا (کسی) دوسرے آدمی سے مت پوچھو اور موسیٰ بن عقبہ کہتے ہیں کہ مجھے ابوالنضر نے بتلایا، انہیں ابوسلمہ نے خبر دی کہ سعد بن ابی وقاص نے ان سے (رسول اللہ ﷺ کی یہ) حدیث بیان کی۔ پھر عمر ؓ نے (اپنے بیٹے) عبداللہ سے ایسا کہا۔
Narrated Abdullah bin Umar (RA): Sad bin Abi Waqqas (RA) said, "The Prophet ﷺ passed wet hands over his Khuffs." Abdullah bin Umar asked Umar about it. Umar replied in the affirmative and added, "Whenever Sad narrates a Hadith from the Prophet, there is no need to ask anyone else about it."
باب: موزوں پر مسح کرنے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ خَرَجَ لِحَاجَتِهِ، فَاتَّبَعَهُ الْمُغِيرَةُ بِإِدَاوَةٍ فِيهَا مَاءٌ فَصَبَّ عَلَيْهِ حِينَ فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ.
ہم سے عمرو بن خالد الحرانی نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے یحییٰ بن سعید کے واسطے سے نقل کیا، وہ سعد بن ابراہیم سے، وہ نافع بن جبیر سے وہ عروہ ابن المغیرہ سے وہ اپنے باپ مغیرہ بن شعبہ سے روایت کرتے ہیں وہ رسول اللہ ﷺ سے نقل کرتے ہیں۔ (ایک دفعہ) آپ ﷺ رفع حاجت کے لیے باہر گئے تو مغیرہ پانی کا ایک برتن لے کر آپ ﷺ کے پیچھے گئے، جب آپ ﷺ قضاء حاجت سے فارغ ہوگئے تو مغیرہ نے (آپ ﷺ کو وضو کراتے ہوئے) آپ ﷺ (کے اعضاء مبارکہ) پر پانی ڈالا۔ آپ ﷺ نے وضو کیا اور موزوں پر مسح فرمایا۔
Narrated Al-Mughlra bin Shuba (RA): Once Allahs Apostle ﷺ went out to answer the call of nature and I followed him with a tumbler containing water, and when he finished, I poured water and he performed ablution and passed wet hands over his Khuffs.
باب: موزوں پر مسح کرنے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ ، أَنَّ أَبَاهُأَخْبَرَهُ، أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ، وَتَابَعَهُ حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ ، وَأَبَانُ ، عَنْ يَحْيَى .
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے یحییٰ کے واسطے سے نقل کیا، وہ ابوسلمہ سے، انہوں نے جعفر بن عمرو بن امیہ الضمری سے نقل کیا، انہیں ان کے باپ نے خبر دی کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔ اس حدیث کی متابعت میں حرب اور ابان نے یحییٰ سے حدیث نقل کی ہے۔
Narrated Jafar bin Amr bin Umaiya Ad-Damri (RA): My father said, "I saw the Prophet ﷺ passing wet hands over his Khuffs."
باب: موزوں پر مسح کرنے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى عِمَامَتِهِ وَخُفَّيْهِ، وَتَابَعَهُ مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہمیں عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو اوزاعی نے یحییٰ کے واسطے سے خبر دی، وہ ابوسلمہ سے، وہ جعفر بن عمرو سے، وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے عمامے اور موزوں پر مسح کرتے دیکھا۔ اس کو روایت کیا معمر نے یحییٰ سے، وہ ابوسلمہ سے، انہوں نے عمرو سے متابعت کی اور کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا (آپ واقعی ایسا ہی کیا کرتے تھے) ۔
Narrated Jafar bin Amr (RA): My father said, "I saw the Prophet ﷺ passing wet hands over his turban and Khuffs (leather socks)."
باب: وضو کر کے موزے پہننے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَهْوَيْتُ لِأَنْزِعَ خُفَّيْهِ، فَقَالَ: دَعْهُمَا، فَإِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا طَاهِرَتَيْنِ، فَمَسَحَ عَلَيْهِمَا.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا نے یحییٰ کے واسطے سے نقل کیا، وہ عامر سے وہ عروہ بن مغیرہ سے، وہ اپنے باپ (مغیرہ) سے روایت کرتے ہیں کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا، تو میں نے چاہا (کہ وضو کرتے وقت) آپ ﷺ کے موزے اتار ڈالوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ انہیں رہنے دو۔ چونکہ جب میں نے انہیں پہنا تھا تو میرے پاؤں پاک تھے۔ (یعنی میں وضو سے تھا) پس آپ ﷺ نے ان پر مسح کیا۔
Narrated Urwa bin Al-Mughira (RA): My father said, "Once I was in the company of the Prophet ﷺ on a journey and I dashed to take off his Khuffs. He ordered me to leave them as he had put them after performing ablution. So he passed wet hands or them.
باب: بکری کا گوشت اور ستو کھا کر نیا وضو نہ کرنا ثابت ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ كَتِفَ شَاةٍ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں امام مالک نے زید بن اسلم سے خبر دی، وہ عطاء بن یسار سے، وہ عبداللہ بن عباس ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بکری کا شانہ کھایا۔ پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
Narrated Abdullah bin Abbas (RA): Allahs Apostle ﷺ ate a piece of cooked mutton from the shoulder region and prayed without repeating ablution.
باب: بکری کا گوشت اور ستو کھا کر نیا وضو نہ کرنا ثابت ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ، فَدُعِيَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَأَلْقَى السِّكِّينَ، فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہمیں لیث نے عقیل سے خبر دی، وہ ابن شہاب سے روایت کرتے ہیں، انہیں جعفر بن عمرو بن امیہ نے اپنے باپ عمرو سے خبر دی کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ بکری کے شانہ سے کاٹ کاٹ کر کھا رہے تھے، پھر آپ ﷺ نماز کے لیے بلائے گئے تو آپ ﷺ نے چھری ڈال دی اور نماز پڑھی، نیا وضو نہیں کیا۔
Narrated Jafar bin Amr bin Umaiya (RA): My father said, "I saw Allahs Apostle ﷺ taking a piece of (cooked) mutton from the shoulder region and then he was called for prayer. He put his knife down and prayed without repeating ablution."
باب: اس بارے میں کہ کوئی شخص ستو کھا کر صرف کلی کرے اور نیا وضو نہ کرے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ، أَنَّسُوَيْدَ بْنَ النُّعْمَانِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالصَّهْبَاءِ وَهِيَ أَدْنَى خَيْبَرَ، فَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ دَعَا بِالْأَزْوَادِ فَلَمْ يُؤْتَ إِلَّا بِالسَّوِيقِ، فَأَمَرَ بِهِ فَثُرِّيَ، فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلْنَا، ثُمَّ قَامَ إِلَى الْمَغْرِبِ فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھے امام مالک نے یحییٰ بن سعید کے واسطے سے خبر دی، وہ بشیر بن یسار بنی حارثہ کے آزاد کردہ غلام سے روایت کرتے ہیں کہ سوید بن نعمان ؓ نے انہیں خبر دی کہ فتح خیبر والے سال وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صہبا کی طرف، جو خیبر کے قریب ایک جگہ ہے پہنچے۔ آپ ﷺ نے عصر کی نماز پڑھی، پھر ناشتہ منگوایا گیا تو سوائے ستو کے اور کچھ نہیں لایا گیا۔ پھر آپ ﷺ نے حکم دیا تو وہ بھگو دیے گئے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے کھایا اور ہم نے (بھی) کھایا۔ پھر مغرب (کی نماز) کے لیے کھڑے ہوگئے۔ آپ ﷺ نے کلی کی اور ہم نے (بھی) پھر آپ ﷺ نے نماز پڑھی اور نیا وضو نہیں کیا۔
Narrated Suwaid bin Al-Numan (RA): In the year of the conquest of Khaibar I went with Allahs Apostle ﷺ till we reached Sahba, a place near Khaibar, where Allahs Apostle ﷺ offered the Asr prayer and asked for food. Nothing but Sawrq was brought. He ordered it to be moistened with water. He and all of us ate it and the Prophet ﷺ got up for the evening prayer (Maghrib prayer), rinsed his mouth with water and we did the same, and he then prayed without repeating the ablution.
باب: اس بارے میں کہ کوئی شخص ستو کھا کر صرف کلی کرے اور نیا وضو نہ کرے۔
وحَدَّثَنَا أَصْبَغُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ عِنْدَهَا كَتِفًا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ.
ہم سے اصبغ نے بیان کیا، کہا مجھے ابن وہب نے خبر دی، کہا مجھے عمرو نے بکیر سے، انہوں نے کریب سے، ان کو میمونہ ؓ زوجہ رسول اللہ ﷺ نے بتلایا کہ آپ ﷺ نے ان کے یہاں (بکری کا) شانہ کھایا پھر نماز پڑھی اور نیا وضو نہیں فرمایا۔
Narrated Maimuna (RA): The Prophet ﷺ ate (a piece of) mutton from the shoulder region and then prayed without repeating the ablution.
باب: اس بارے میں کہ کیا دودھ پی کر کلی کرنی چاہیے؟
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ وَقُتَيْبَةُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ لَبَنًا فَمَضْمَضَ، وَقَالَ: إِنَّ لَهُ دَسَمًا، تَابَعَهُ يُونُسُ، وَصَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ .
ہم سے یحییٰ بن بکیر اور قتیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، وہ عقیل سے، وہ ابن شہاب سے، وہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے، وہ عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دودھ پیا، پھر کلی کی اور فرمایا اس میں چکنائی ہوتی ہے۔ اس حدیث میں عقیل کی یونس اور صالح بن کیسان نے زہری سے متابعت کی ہے۔
Narrated Ibn Abbas (RA): Allahs Apostle ﷺ drank milk, rinsed his mouth and said, "It has fat."
باب: سونے کے بعد وضو کرنے کے بیان میں اور بعض علماء کے نزدیک ایک یا دو مرتبہ کی اونگھ سے یا (نیند کا) ایک جھونکا آ جانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى وَهُوَ نَاعِسٌ لَا يَدْرِي لَعَلَّهُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبُّ نَفْسَهُ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا مجھ کو مالک نے ہشام سے، انہوں نے اپنے باپ سے خبر دی، انہوں نے عائشہ ؓ سے نقل کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب نماز پڑھتے وقت تم میں سے کسی کو اونگھ آجائے، تو چاہیے کہ وہ سو رہے یہاں تک کہ نیند (کا اثر) اس سے ختم ہوجائے۔ اس لیے کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے لگے اور وہ اونگھ رہا ہو تو وہ کچھ نہیں جانے گا کہ وہ (اللہ تعالیٰ سے) مغفرت طلب کر رہا ہے یا اپنے نفس کو بددعا دے رہا ہے۔
Narrated Aisha (RA): Allahs Apostle ﷺ said, "If anyone of you feels drowsy while praying he should go to bed (sleep) till his slumber is over because in praying while drowsy one does not know whether one is asking for forgiveness or for a bad thing for oneself."
باب: سونے کے بعد وضو کرنے کے بیان میں اور بعض علماء کے نزدیک ایک یا دو مرتبہ کی اونگھ سے یا (نیند کا) ایک جھونکا آ جانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَنَمْ حَتَّى يَعْلَمَ مَا يَقْرَأُ.
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے، کہا ہم سے ایوب نے ابوقلابہ کے واسطے سے نقل کیا، وہ انس ؓ سے روایت کرتے ہیں، وہ رسول اللہ ﷺ سے آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم نماز میں اونگھنے لگو تو سو جانا چاہیے۔ پھر اس وقت نماز پڑھے جب جان لے کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے۔
Narrated Anas (RA): The Prophet ﷺ said, "If anyone of you feels drowsy while praying, he should sleep till he understands what he is saying (reciting)."
باب: بغیر حدث کے بھی نیا وضو کرنا جائز ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا . ح قَالَ: وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، قُلْتُ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ ؟ قَالَ: يُجْزِئُ أَحَدَنَا الْوُضُوءُ مَا لَمْ يُحْدِثْ.
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے عمرو بن عامر کے واسطے سے بیان کیا، کہا میں نے انس ؓ سے سنا۔ (دوسری سند سے) ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے، وہ سفیان سے روایت کرتے ہیں، ان سے عمرو بن عامر نے بیان کیا، وہ انس ؓ سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ ہر نماز کے لیے نیا وضو فرمایا کرتے تھے۔ میں نے کہا تم لوگ کس طرح کرتے تھے، کہنے لگے ہم میں سے ہر ایک کو اس کا وضو اس وقت تک کافی ہوتا، جب تک کوئی وضو توڑنے والی چیز پیش نہ آجاتی۔ (یعنی پیشاب، پاخانہ، یا نیند وغیرہ) ۔
Narrated Amr bin Amir (RA): Anas (RA) said, "The Prophet ﷺ used to perform ablution for every prayer." I asked Anas (RA), "what you used to do? Anas (RA) replied, "We used to pray with the same ablution until we break it with Hadath."
باب: بغیر حدث کے بھی نیا وضو کرنا جائز ہے۔
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُوَيْدُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالصَّهْبَاءِ صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ، فَلَمَّا صَلَّى دَعَا بِالْأَطْعِمَةِ فَلَمْ يُؤْتَ إِلَّا بِالسَّوِيقِ، فَأَكَلْنَا وَشَرِبْنَا، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَغْرِبِ فَمَضْمَضَ، ثُمَّ صَلَّى لَنَا الْمَغْرِبَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ.
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھے یحییٰ بن سعید نے خبر دی، انہیں بشیر بن یسار نے خبر دی، انہوں نے کہا مجھے سوید بن نعمان ؓ نے بتلایا انہوں نے کہا کہ ہم خیبر والے سال رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ جب صہباء میں پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی۔ جب نماز پڑھ چکے تو آپ ﷺ نے کھانے منگوائے۔ مگر (کھانے میں) صرف ستو ہی لایا گیا۔ سو ہم نے (اسی کو) کھایا اور پیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ مغرب کی نماز کے لیے کھڑے ہوگئے۔ تو آپ ﷺ نے کلی کی، پھر ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی اور (نیا) وضو نہیں کیا۔
Narrated Suwaid bin Numan (RA): In the year of the conquest of Khaibar I went with Allahs Apostle ﷺ till we reached As-Sahba where Allahs Apostle ﷺ led the Asr prayer and asked for the food. Nothing but Sawiq was brought and we ate it and drank (water). The Prophet ﷺ got up for the (Maghrib) Prayer, rinsed his mouth with water and then led the prayer without repeating the ablution.
باب: پیشاب کے چھینٹوں سے نہ بچنا کبیرہ گناہ ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ أَوْ مَكَّةَ، فَسَمِعَ صَوْتَ إِنْسَانَيْنِ يُعَذَّبَانِ فِي قُبُورِهِمَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، ثُمَّ قَالَ: بَلَى، كَانَ أَحَدُهُمَا لَا يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ، وَكَانَ الْآخَرُ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ، ثُمَّ دَعَا بِجَرِيدَةٍ فَكَسَرَهَا كِسْرَتَيْنِ فَوَضَعَ عَلَى كُلِّ قَبْرٍ مِنْهُمَا كِسْرَةً، فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ فَعَلْتَ هَذَا، قَالَ: لَعَلَّهُ أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ تَيْبَسَا أَوْ إِلَى أَنْ يَيْبَسَا.، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَاحِب الْقَبْرِ: كَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ سِوَى بَوْلِ النَّاسِ.
ہم سے عثمان نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے منصور کے واسطے سے نقل کیا، وہ مجاہد سے وہ ابن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دفعہ مدینہ یا مکے کے ایک باغ میں تشریف لے گئے۔ (وہاں) آپ ﷺ نے دو شخصوں کی آواز سنی جنھیں ان کی قبروں میں عذاب کیا جا رہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان پر عذاب ہو رہا ہے اور کسی بہت بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں پھر آپ ﷺ نے فرمایا بات یہ ہے کہ ایک شخص ان میں سے پیشاب کے چھینٹوں سے بچنے کا اہتمام نہیں کرتا تھا اور دوسرا شخص چغل خوری کیا کرتا تھا۔ پھر آپ ﷺ نے (کھجور کی) ایک ڈالی منگوائی اور اس کو توڑ کر دو ٹکڑے کیا اور ان میں سے (ایک ایک ٹکڑا) ہر ایک کی قبر پر رکھ دیا۔ لوگوں نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! یہ آپ ﷺ نے کیوں کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا اس لیے کہ جب تک یہ ڈالیاں خشک ہوں شاید اس وقت تک ان پر عذاب کم ہوجائے۔
Narrated Ibn Abbas (RA): Once the Prophet, while passing through one of the grave-yards of Madinah or Makkah heard the voices of two persons who were being tortured in their graves. The Prophet ﷺ said, "These two persons are being tortured not for a major sin (to avoid)." The Prophet ﷺ then added, "Yes! (They are being tortured for a major sin). Indeed, one of them never saved himself from being soiled with his urine while the other used to go about with calumnies (to make enmiy between friends). The Prophet ﷺ then asked for a green leaf of a date-palm tree, broke it into two pieces and put one on each grave. On being asked why he had done so, he replied, "I hope that their torture might be lessened, till these get dried."
باب: پیشاب کو دھونے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَبَرَّزَ لِحَاجَتِهِ أَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فَيَغْسِلُ بِهِ.
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو اسماعیل بن ابراہیم نے خبر دی، کہا مجھے روح بن القاسم نے بتلایا، کہا مجھ سے عطاء بن ابی میمونہ نے بیان کیا، وہ انس بن مالک ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب رفع حاجت کے لیے باہر تشریف لے جاتے تو میں آپ ﷺ کے پاس پانی لاتا۔ آپ ﷺ اس سے استنجاء فرماتے۔
Narrated Anas bin Malik (RA): Whenever the Prophet ﷺ went to answer the call of nature, I used to bring water with which he used to clean his private parts.