بغیر ولی نکاح صحیح نہ ہونے کے بیان میں، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا انہیں روکو نہیں اس میں بیاہی اور کنواری دونوں داخل ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مشرکوں سے نکاح بغیر ایمان لائے نہ کرو، نیز فرمان الہی ہے کہ رانڈوں کا نکاح کردیا کرو
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُمَرَ حِينَ تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ مِنْ ابْنِ حُذَافَةَ السَّهْمِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ تُوُفِّيَ بِالْمَدِينَةِ، فَقَالَ عُمَرُ: لَقِيتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: إِنْ شِئْتَ، أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ، فَقَالَ: سَأَنْظُرُ فِي أَمْرِي، فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ ثُمَّ لَقِيَنِي، فَقَالَ: بَدَا لِي أَنْ لَا أَتَزَوَّجَ يَوْمِي هَذَا، قَالَ عُمَرُ: فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ، فَقُلْتُ: إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ.
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، کہا ہم سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھے سالم نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عمر ؓ نے خبر دی کہ جب حفصہ بنت عمر ؓ ابن حذافہ سہمی سے بیوہ ہوئیں۔ ابن حذافہ ؓ نبی کریم ﷺ کے اصحاب میں سے تھے اور بدر کی جنگ میں شریک تھے ان کی وفات مدینہ منورہ میں ہوئی تھی تو عمر ؓ نے بیان کیا کہ میں عثمان بن عفان ؓ سے ملا اور انہیں پیش کش کی اور کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں حفصہ کا نکاح آپ سے کروں۔ انہوں نے جواب دیا کہ میں اس معاملہ میں غور کروں گا چند دن میں نے انتظار کیا اس کے بعد وہ مجھ سے ملے اور کہا کہ میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ابھی نکاح نہ کروں۔ عمر ؓ نے بیان کیا کہ پھر میں ابوبکر ؓ سے ملا اور ان سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں حفصہ کا نکاح آپ سے کروں۔
Narrated Abdullah bin Umar (RA) :
When Hafsah (RA), Umars daughter became a widow because of the death of her (husband) Ibn Hudhafa As-Sahmi who was one of the companion of the Prophet ﷺ and the one of the Badr warriors and died at Medina, Umar said, "I met Uthman bin Affan and gave him an offer, saying, If you wish, I will marry Hafsah (RA) to you. He said. I will think it over I waited for a few days, then he met me and said, I have made up my mind not to marry at present "Umar added, "Then I met Abu Bakr (RA) and said to him, If you wish, I will marry Hafsah (RA) to you. "
بغیر ولی نکاح صحیح نہ ہونے کے بیان میں، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا انہیں روکو نہیں اس میں بیاہی اور کنواری دونوں داخل ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مشرکوں سے نکاح بغیر ایمان لائے نہ کرو، نیز فرمان الہی ہے کہ رانڈوں کا نکاح کردیا کرو
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ابْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ، فَلا تَعْضُلُوهُنَّ سورة البقرة آية 232، قَالَ: حَدَّثَنِي مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ: أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِ، قَالَ: زَوَّجْتُ أُخْتًا لِي مِنْ رَجُلٍ، فَطَلَّقَهَا حَتَّى إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا جَاءَ يَخْطُبُهَا، فَقُلْتُ لَهُ: زَوَّجْتُكَ وَفَرَشْتُكَ وَأَكْرَمْتُكَ فَطَلَّقْتَهَا، ثُمَّ جِئْتَ تَخْطُبُهَا، لَا وَاللَّهِ لَا تَعُودُ إِلَيْكَ أَبَدًا، وَكَانَ رَجُلًا لَا بَأْسَ بِهِ وَكَانَتِ الْمَرْأَةُ تُرِيدُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ هَذِهِ الْآيَةَ: فَلا تَعْضُلُوهُنَّ سورة البقرة آية 232، فَقُلْتُ: الْآنَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ.
ہم سے احمد بن عمرو نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد حفص بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے حسن بصری نے آیت فلا تعضلوهن کی تفسیر میں بیان کیا کہ مجھ سے معقل بن یسار ؓ نے بیان کیا کہ یہ آیت میرے ہی بارے میں نازل ہوئی تھی میں نے اپنی ایک بہن کا نکاح ایک شخص سے کردیا تھا۔ اس نے اسے طلاق دے دی لیکن جب عدت پوری ہوئی تو وہ شخص (ابوالبداح) میری بہن سے پھر نکاح کا پیغام لے کر آیا۔ میں نے اس سے کہا کہ میں نے تم سے اس کا (اپنی بہن) کا نکاح کیا اسے تمہاری بیوی بنایا اور تمہیں عزت دی لیکن تم نے اسے طلاق دیدی اور اب پھر تم نکاح کا پیغام لے کر آئے ہو۔ ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! اب میں تمہیں کبھی اسے نہیں دوں گا۔ وہ شخص ابوالبداح کچھ برا آدمی نہ تھا اور عورت بھی اس کے یہاں واپس جانا چاہتی تھی اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی فلا تعضلوهن کہ تم عورتوں کو مت روکو میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اب میں کر دوں گا۔ بیان کیا کہ پھر انہوں نے اپنی بہن کا نکاح اس شخص سے کردیا۔
Narrated Al-Hasan (RA) :
concerning the Verse: Do not prevent them (2.232) Maqil bin Yasar told me that it was revealed in his connection. He said, "I married my sister to a man and he divorced her, and when her days of Idda (three menstrual periods) were over, the man came again and asked for her hand, but I said to him, I married her to you and made her your bed (your wife) and favored you with her, but you divorced her. Now you come to ask for her hand again? No, by Allah, she will never go back to you (again)! That man was not a bad man and his wife wanted to go back to him. So Allah revealed this Verse: Do not prevent them. (2.232) So I said, Now I will do it (let her go back to him), O Allahs Apostle."So he married her to him again.
ولی خود عورت سے نکاح کرنا چاہے تو جائز ہے، مغیرہ بن شعبہ نے ایک عورت سے منگنی کی، جس کا وہ ولی قریب تھا اور ایک شخص کو حکم دیا، جس نے ان کا نکاح پڑھا دیا اور عبدالرحمن بن عوف نے ام حکیم دخترقارظ سے کہا کہ تو مجھے مختار بناتی ہے، اس نے کہا جی ہاں، عبدالرحمن نے کہا، پھر تو اس حالت میں میں تجھ سے نکاح کئے لیتا ہوں، عطاء کہتے ہیں کہ گواہ کرکے یوں کہئے کہ میں نے تجھ سے نکاح کرلیا یا پھر اس کے کنبہ والوں میں سے کسی کو اجازت دے، سہل کہتے کہ ایک عورت نے آپ ﷺ سے کہا کہ میں اپنا نفس آپ کو دیتی ہوں، ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ! اگر آپ کو اس کی ضرورت نہ ہو تو مجھ سے اس کا نکاح کردیجئے
حَدَّثَنَا ابْنُ سَلَامٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فِي قَوْلِهِ: وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ سورة النساء آية 127 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، قَالَتْ: هِيَ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ الرَّجُلِ قَدْ شَرِكَتْهُ فِي مَالِه فَيَرْغَبُ عَنْهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا وَيَكْرَهُ أَنْ يُزَوِّجَهَا غَيْرَهُ، فَيَدْخُلَ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ، فَيَحْبِسُهَا، فَنَهَاهُمُ اللَّهُ عَنْ ذَلِكَ.
ہم سے ابن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی، کہا ہم سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ ؓ نے آیت ويستفتونک في النساء قل الله يفتيكم فيهن اور آپ سے عورتوں کے بارے میں مسئلہ پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجئیے کہ اللہ ان کے بارے میں تمہیں مسئلہ بتاتا ہے۔ آخر آیت تک فرمایا کہ یہ آیت یتیم لڑکی کے بارے میں نازل ہوئی، جو کسی مرد کی پرورش میں ہو۔ وہ مرد اس کے مال میں بھی شریک ہو اور اس سے خود نکاح کرنا چاہتا ہو اور اس کا نکاح کسی دوسرے سے کرنا پسند نہ کرتا ہو کہ کہیں دوسرا شخص اس کے مال میں حصہ دار نہ بن جائے اس غرض سے وہ لڑکی کو روکے رکھے تو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اس سے منع کیا ہے۔
Narrated Aisha (RA) :
(regarding His Statement): They ask your instruction concerning the women. Say: Allah instructs you about them ... (4.127) It is about the female orphan who is under the guardianship of a man with whom she shares her property and he does not want to marry her and dislikes that someone else should marry her, lest he should share the property with him, so he prevents her from marrying. So Allah forbade such a guardian to do so (i.e. to prevent her from marrying).
ولی خود عورت سے نکاح کرنا چاہے تو جائز ہے، مغیرہ بن شعبہ نے ایک عورت سے منگنی کی، جس کا وہ ولی قریب تھا اور ایک شخص کو حکم دیا، جس نے ان کا نکاح پڑھا دیا اور عبدالرحمن بن عوف نے ام حکیم دخترقارظ سے کہا کہ تو مجھے مختار بناتی ہے، اس نے کہا جی ہاں، عبدالرحمن نے کہا، پھر تو اس حالت میں میں تجھ سے نکاح کئے لیتا ہوں، عطاء کہتے ہیں کہ گواہ کرکے یوں کہئے کہ میں نے تجھ سے نکاح کرلیا یا پھر اس کے کنبہ والوں میں سے کسی کو اجازت دے، سہل کہتے کہ ایک عورت نے آپ ﷺ سے کہا کہ میں اپنا نفس آپ کو دیتی ہوں، ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ! اگر آپ کو اس کی ضرورت نہ ہو تو مجھ سے اس کا نکاح کردیجئے
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسًا فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ تَعْرِضُ نَفْسَهَا عَلَيْهِ فَخَفَّضَ فِيهَا النَّظَرَ وَرَفَعَهُ، فَلَمْ يُرِدْهَا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ: زَوِّجْنِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: أَعِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ ؟ قَالَ: مَا عِنْدِي مِنْ شَيْءٍ. قَالَ: وَلَا خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ ؟ قَالَ: وَلَا خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ، وَلَكِنْ أَشُقُّ بُرْدَتِي هَذِهِ فَأُعْطِيهَا النِّصْفَ، وَآخُذُ النِّصْفَ، قَالَ: لَا، هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اذْهَبْ فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ.
ہم سے احمد بن مقدام نے بیان کیا، کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوحازم نے بیان کیا، کہا ہم سے سہل بن سعد ؓ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک خاتون آئیں اور اپنے آپ کو نبی کریم ﷺ کے لیے پیش کیا۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں نظر نیچی اوپر کر کے دیکھا اور کوئی جواب نہیں دیا پھر آپ کے صحابہ میں سے ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ان کا نکاح مجھ سے کرا دیجئیے۔ نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس تو کچھ نہیں۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں؟ انہوں نے عرض کیا کہ لوہے کی ایک انگوٹھی بھی نہیں ہے۔ البتہ میں اپنی یہ چادر پھاڑ کے آدھی انہیں دے دوں گا اور آدھی خود رکھوں گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ نہیں، تمہارے پاس کچھ قرآن بھی ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر جاؤ میں نے تمہارا نکاح ان سے اس قرآن مجید کی وجہ سے کیا جو تمہارے ساتھ ہے۔
Narrated Sahl bin Sad (RA) :
While we were sitting in the company of the Prophet ﷺ a woman came to him and presented herself (for marriage) to him. The Prophet ﷺ looked at her, lowering his eyes and raising them, but did not give a reply. One of his companions said, "Marry her to me O Allahs Apostle! ﷺ " The Prophet ﷺ asked (him), "Have you got anything?" He said, "I have got nothing." The Prophet ﷺ said, "Not even an iron ring?" He Sad, "Not even an iron ring, but I will tear my garment into two halves and give her one half and keep the other half." The Prophet; said, "No. Do you know some of the Quran (by heart)?" He said, "Yes." The Prophet ﷺ said, "Go, I have agreed to marry her to you with what you know of the Quran (as her Mahr)." And for those who have no courses (i.e. they are still immature). (65.4) And the Iddat for the girl before puberty is three months (in the above Verse).
اپنی چھوٹی بچیوں کا خود نکاح کردینے کا بیان، اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان اللائی لم یحضن اس کی دلیل ہے، کیوں کہ نابالغہ کی عدت (اس آیت میں) تین ماہ قرار پائی ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهِيَ بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ، وَأُدْخِلَتْ عَلَيْهِ وَهِيَ بِنْتُ تِسْعٍ، وَمَكَثَتْ عِنْدَهُ تِسْعًا.
ہم سے محمد بن یوسف بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے جب ان کا نکاح کیا تو ان کی عمر چھ سال تھی اور جب ان سے صحبت کی تو اس وقت ان کی عمر نو برس کی تھی اور وہ نو برس آپ کے پاس رہیں۔
Narrated Aisha (RA) :
that the Prophet ﷺ married her when she was six years old and he consummated his marriage when she was nine years old, and then she remained with him for nine years (i.e., till his death).
والد کا امام سے اپنی بیٹی بیاہنے کا بیان، حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میرے پاس آپ ﷺ نے حفصہ کا پیغام بھیجا، میں نے آپ سے حفصہ کا نکاح بلاتامل کردیا
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهِيَ بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ، وَبَنَى بِهَا وَهِيَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ، قَالَ هِشَامٌ: وَأُنْبِئْتُ أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَهُ تِسْعَ سِنِينَ.
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے نکاح کیا تو ان کی عمر چھ سال تھی اور جب ان سے صحبت کی تو ان کی عمر نو سال تھی۔ ہشام بن عروہ نے کہا کہ مجھے خبر دی گئی ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ نو سال تک رہیں۔
Narrated Aisha (RA) :
that the Prophet ﷺ married her when she was six years old and he consummated his marriage when she was nine years old. Hisham said: I have been informed that Aisha (RA) remained with the Prophet ﷺ for nine years (i.e. till his death)." what you know of the Quran (by heart)
بادشاہ کے ولی ہونے کا بیان، آپ ﷺ کا یہ قول کہ زوجنا کھا بمامعک من القرآن اس کا ثبوت ہے
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي وَهَبْتُ مِنْ نَفْسِي فَقَامَتْ طَوِيلًا، فَقَالَ رَجُلٌ: زَوِّجْنِيهَا إِنْ لَمْ تَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ، قَالَ: هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ تُصْدِقُهَا ؟ قَالَ: مَا عِنْدِي إِلَّا إِزَارِي، فَقَالَ: إِنْ أَعْطَيْتَهَا إِيَّاهُ جَلَسْتَ لَا إِزَارَ لَكَ، فَالْتَمِسْ شَيْئًا ؟ فَقَالَ: مَا أَجِدُ شَيْئًا، فَقَالَ: الْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، فَلَمْ يَجِدْ، فَقَالَ: أَمَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ ؟ قَالَ: نَعَمْ، سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا لِسُوَرٍ سَمَّاهَا، فَقَالَ: قَدْ زَوَّجْنَاكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے خبر دی، انہیں ابوحازم مسلم بن دینار نے اور ان سے سہل بن سعد ساعدی ؓ نے بیان کیا کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہا کہ میں اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کرتی ہوں۔ پھر وہ دیر تک کھڑی رہی۔ اتنے میں ایک مرد نے کہا کہ اگر نبی کریم ﷺ کو اس کی ضرورت نہ ہو تو اس کا نکاح مجھ سے فرما دیں۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس انہیں مہر میں دینے کے لیے کوئی چیز ہے؟ اس نے کہا کہ میرے پاس اس تہمد کے سوا اور کچھ نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم اپنا یہ تہمد اس کو دے دو گے تو تمہارے پاس پہننے کے لیے تہمد بھی نہیں رہے گا۔ کوئی اور چیز تلاش کرلو۔ اس مرد نے کہا کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کچھ تو تلاش کرو، ایک لوہے کی انگوٹھی ہی سہی! اسے وہ بھی نہیں ملی تو نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا۔ کیا تمہارے پاس کچھ قرآن مجید ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں! فلاں فلاں سورتیں ہیں، ان سورتوں کا انہوں نے نام لیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر ہم نے تیرا نکاح اس عورت سے ان سورتوں کے کے بدلے کیا جو تم کو یاد ہیں۔
Narrated Sahl bin Sad (RA) :
A woman came to Allahs Apostle ﷺ and said, "I present myself (to you) (for marriage). She stayed for a long while, then a man said, "If you are not in need of her then marry her to me." The Prophet ﷺ said, "Have you got anything m order to pay her Mahr?" He said, "I have nothing with me except my Izar (waist sheet)." The Prophet ﷺ said, "If you give her your Izar, you will have no Izar to wear, (so go) and search for something. He said, "I could not find anything." The Prophet ﷺ said, "Try (to find something), even if it were an iron ring But he was not able to find (even that) The Prophet ﷺ said (to him). "Do you memorize something of the Quran?" "Yes. he said, "such Sura and such Sura," naming those Suras The Prophet ﷺ said, "We have married her to you for what you know of the Quran (by heart)."
کسی شخص یا والد کے لئے بالغہ یا کسی بیوہ عورت کا بغیر اس کی مرضی حاصل کیے نکاح نہ کرسکنے کا بیان
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُمْ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تُنْكَحُ الْأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَلَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ إِذْنُهَا ؟ قَالَ: أَنْ تَسْكُتَ.
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے، ان سے یحییٰ بن ابی بشیر نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بیوہ عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ لی جائے اور کنواری عورت کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ مل جائے۔ صحابہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! کنواری عورت اذن کیونکر دے گی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس کی صورت یہ ہے کہ وہ خاموش رہ جائے۔ یہ خاموشی اس کا اذن سمجھی جائے گی۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
The Prophet ﷺ said, "A matron should not be given in marriage except after consulting her; and a virgin should not be given in marriage except after her permission." The people asked, "O Allahs Apostle ﷺ ! How can we know her permission?" He said, "Her silence (indicates her permission)."
کسی شخص یا والد کے لئے بالغہ یا کسی بیوہ عورت کا بغیر اس کی مرضی حاصل کیے نکاح نہ کرسکنے کا بیان
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى عَائِشَةَ، عَنْعَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحِي، قَالَ: رِضَاهَا صَمْتُهَا.
ہم سے عمرو بن ربیع بن طارق نے بیان کیا، کہا کہ مجھے لیث بن سعد نے خبر دی، انہیں ابن ابی ملیکہ نے، انہیں عائشہ ؓ کے غلام ابوعمرو ذکوان نے اور ان سے عائشہ ؓ نے کہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کنواری لڑکی (کہتے ہوئے) شرماتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس کا خاموش ہوجانا ہی اس کی رضا مندی ہے۔
Narrated Aisha (RA) :
I said, "O Allahs Apostle ﷺ ! A virgin feels shy." He said, "Her consent is (expressed by) her silence."
بیٹی اگر نکاح سے ناراض ہو تو نکاح کے ناجائز ہونے کا بیان
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُجَمِّعٍ ابْنَيْ يَزِيدَ بْنِ جَارِيَةَ، عَنْ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِذَامٍ الْأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهْيَ ثَيِّبٌ، فَكَرِهَتْ ذَلِكَ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَدَّ نِكَاحَهُ.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے عبدالرحمٰن اور مجمع نے جو دونوں یزید بن حارثہ کے بیٹے ہیں، ان سے خنساء بنت خذام انصاریہ ؓ نے کہ ان کے والد نے ان کا نکاح کردیا تھا، وہ ثیبہ تھیں، انہیں یہ نکاح منظور نہیں تھا، اس لیے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں، نبی کریم ﷺ نے اس نکاح کو فسخ کردیا۔
Narrated Khansa bint Khidam Al-Ansariya (RA) :
that her father gave her in marriage when she was a matron and she disliked that marriage. So she went to Allahs Apostle ﷺ and he declared that marriage invalid.
بیٹی اگر نکاح سے ناراض ہو تو نکاح کے ناجائز ہونے کا بیان
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ،أَخْبَرَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ، وَمُجَمِّعَ بْنَ يَزِيدَحَدَّثَاهُ، أَنَّ رَجُلًا يُدْعَى خِذَامًا أَنْكَحَ ابْنَةً لَهُ، نَحْوَهُ.
ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو یزید بن ہارون نے خبر دی، کہا ہم کو یحییٰ بن سعید انصاری نے خبر دی، ان سے قاسم بن محمد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن یزید اور مجمع بن یزید نے بیان کیا کہ خذام نامی ایک صحابی نے اپنی لڑکی کا نکاح کردیا تھا۔ پھر پچھلی حدیث کی طرح بیان کیا۔
Narrated Abdur-Rahman bin Yazid and Majammi bin Yazid.
the same ,Hadith above: A man called Khidam married a daughter of his (to somebody) against her consent. If you fear that you shall not be able to deal justly with the orphan girls then marry (other) women of your choice. (4.3) And if somebody says to the guardian (of a woman), "Marry me to so-and-so," and the guardian remained silent or said to him, "What have you got?" And the other said, "I have so much and so much (Mahr)," or kept quiet, and then the guardian said, "I have married her to you," then the marriage is valid (legal). This narration was told by Sahl on the authority of the Prophet
یتیم لڑکی کے نکاح کرنے کا بیان، وان خفتم الاتقسطوا فی الیتمامی، یتیم لڑکی کے نکاح پر دلیل ہے، اگر کوئی شخص ولی سے کہے کہ فلاں عورت سے میرا نکاح کردے اور وہ خاموش ہو رہے یا کہے تیرے پاس کیا ہے، پھر وہ جواب دے کہ اتنا اور اتنا ہے، یا دونوں رکے رہیں، پھر ولی کہے کہ میں نے تجھ سے اس عورت کا نکاح کردیا، تو یہ جائز ہے، اس میں سہل کی حدیث آپ ﷺ سے روایت کی گئی ہے
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَ لَهَا: يَا أُمَّتَاهْ، وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى إِلَى قَوْلِهِ: مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ سورة النساء آية 3، قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا ابْنَ أُخْتِي، هَذِهِ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا فَيَرْغَبُ فِي جَمَالِهَا وَمَالِهَا وَيُرِيدُ أَنْ يَنْتَقِصَ مِنْ صَدَاقِهَا، فَنُهُوا عَنْ نِكَاحِهِنَّ إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ فِي إِكْمَالِ الصَّدَاقِ، وَأُمِرُوا بِنِكَاحِ مَنْ سِوَاهُنَّ مِنَ النِّسَاءِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: اسْتَفْتَى النَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ إِلَى قَوْلِهِ: وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمْ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: أَنَّ الْيَتِيمَةَ إِذَا كَانَتْ ذَاتَ مَالٍ وَجَمَالٍ رَغِبُوا فِي نِكَاحِهَا وَنَسَبِهَا وَالصَّدَاقِ، وَإِذَا كَانَتْ مَرْغُوبًا عَنْهَا فِي قِلَّةِ الْمَالِ وَالْجَمَالِ تَرَكُوهَا وَأَخَذُوا غَيْرَهَا مِنَ النِّسَاءِ، قَالَتْ: فَكَمَا يَتْرُكُونَهَا حِينَ يَرْغَبُونَ عَنْهَا، فَلَيْسَ لَهُمْ أَنْ يَنْكِحُوهَا إِذَا رَغِبُوا فِيهَا إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَهَا وَيُعْطُوهَا حَقَّهَا الْأَوْفَى مِنَ الصَّدَاقِ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے اور (دوسری سند) اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب زہری نے، کہا مجھ کو عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ انہوں نے عائشہ ؓ سے سوال کیا کہ اے ام المؤمنین! اس آیت میں کیا حکم بیان ہوا ہے؟ وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى اور اگر تمہیں خوف ہو کہ تم یتیموں کے بارے میں انصاف نہ کرسکو گے۔ ما ملکت أيمانکم تک۔ عائشہ ؓ نے کہا: میرے بھانجے! اس آیت میں اس یتیم لڑکی کا حکم یبان ہوا ہے جو اپنے ولی کی پرورش میں ہو اور ولی کو اس کے حسن اور اس کے مال کی وجہ سے اس کی طرف توجہ ہو اور وہ اس کا مہر کم کر کے اس سے نکاح کرنا چاہتا ہو تو ایسے لوگوں کو ایسی یتیم لڑکیوں سے نکاح سے ممانعت کی گئی ہے سوائے اس صورت کے کہ وہ ان کے مہر کے بارے میں انصاف کریں (اور اگر انصاف نہیں کرسکتے تو انہیں ان کے سوا دوسری عورتوں سے نکاح کا حکم دیا گیا ہے۔ عائشہ ؓ نے کہا کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے بعد مسئلہ پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے آیت ويستفتونک في النساء اور آپ سے عورتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں سے وترغبون تک نازل کی۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ حکم نازل کیا کہ یتیم لڑکیاں جب صاحب مال اور صاحب جمال ہوتی ہیں تب تو مہر میں کمی کر کے اس سے نکاح کرنا رشتہ لگانا پسند کرتے ہیں اور جب دولت مندی یا خوبصورتی نہیں رکھتی اس وقت اس کو چھوڑ کر دوسری عورتوں سے نکاح کردیتے ہیں (یہ کیا بات) ان کو چاہیے کہ جیسے مال و دولت اور حسن و جمال نہ ہونے کی صورت میں اس کو چھوڑ دیتے ہیں ایسے ہی اس وقت بھی چھوڑ دیں جب وہ مالدار اور خوبصورت ہو البتہ اگر انصاف سے چلیں اور اس کا پورا مہر مقرر کریں تو خیر نکاح کرلیں۔
Narrated Ursa bin Az-Zubair (RA) :
that he asked Aisha (RA), saying to her, "O Mother! (In what connection was this Verse revealed):
If you fear that you shall not be able to deal justly with orphan girls (to the end of the verse) that your right hands possess?" (4.3) Aisha (RA) said, "O my nephew! It was about the female orphan under the protection of her guardian who was interested in her beauty and wealth and wanted to marry her with a little or reduced Mahr. So such guardians were forbidden to marry female orphans unless they deal with them justly and give their full Mahr; and they were ordered to marry women other than them." Aisha (RA) added, "(Later) the people asked Allahs Apostle, for instructions, and then Allah revealed: They ask your instruction concerning the women . . . And yet whom you desire to marry. (4.127) So Allah revealed to them in this Verse that-if a female orphan had wealth and beauty, they desired to marry her and were interested in her noble descent and the reduction of her Mahr; but if she was not desired by them because of her lack in fortune and beauty they left her and married some other woman. So, as they used to leave her when they had no interest in her, they had no right to marry her if they had the desire to do so, unless they deal justly with her and gave her a full amount of Mahr."
پیغام دینے والا اگر ولی سے کہے کہ فلاں عورت سے میرا نکاح کردو، جواب میں ولی کہے کہ اتنے مہر کے عوض میں نے تجھ سے نکاح کردیا تو نکاح جائز ہے، اگرچہ اس کے بعد شوہر سے دریافت نہ کرے کہ قبول کرلیا یا تو راضی ہے
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ نَفْسَهَا، فَقَالَ: مَا لِي الْيَوْمَ فِي النِّسَاءِ مِنْ حَاجَةٍ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، زَوِّجْنِيهَا، قَالَ: مَا عِنْدَكَ ؟ قَالَ: مَا عِنْدِي شَيْءٌ، قَالَ: أَعْطِهَا وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، قَالَ: مَا عِنْدِي شَيْءٌ، قَالَ: فَمَا عِنْدَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ؟ قَالَ: عِنْدِي كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَقَدْ مَلَّكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ.
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے، ان سے سہل بن سعد ساعدی ؓ نے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئی اور اس نے اپنے آپ کو آپ ﷺ سے نکاح کے لیے پیش کیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے اب عورت کی ضرورت نہیں ہے۔ اس پر ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ان کا نکاح مجھ سے کر دیجئیے۔ نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس عورت کو کچھ دو، خواہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہی سہی۔ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ نے پوچھا تمہیں قرآن کتنا یاد ہے؟ عرض کیا فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر میں نے انہیں تمہارے نکاح میں دیا۔ اس قرآن کے بدلے جو تم کو یاد ہے۔
Narrated Sahl (RA) :
A woman came to the Prophet,, and presented herself to him (for marriage). He said, "I am not in need of women these days." Then a man said, "O Allahs Apostle ﷺ ! Marry her to me." The Prophet ﷺ asked him, "What have you got?" He said, "I have got nothing." The Prophet ﷺ said, "Give her something, even an iron ring." He said, "I have got nothing." The Prophet ﷺ asked (him), "How much of the Quran do you know (by heart)?" He said, "So much and so much." The Prophet ﷺ said, "I have married her to you for what you know of the Quran."
اپنے مسلمان بھائی کی منگنی (پیغام نکاح) پر نکاح کا پیغام نہ بھیجے، جب تک کہ پہلی منگنی کا معاملہ ختم نہ ہوجائے یا وہ نکاح کرلے
حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا يُحَدِّثُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، كَانَ يَقُولُ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَلَا يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَتْرُكَ الْخَاطِبُ قَبْلَهُ، أَوْ يَأْذَنَ لَهُ الْخَاطِبُ.
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے جریج نے بیان کیا، کہا کہ میں نے نافع سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے کہ ہم کسی کے بھاؤ پر بھاؤ لگائیں اور کسی شخص کو اپنے کسی (دینی) بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام بھیجیں یہاں تک کہ پیغام بھیجنے والا اپنا ارادہ بدل دے یا اسے پیغام نکاح بھیجنے کی اجازت دے دے تو جائز ہے۔
Narrated Ibn Umar (RA) :
The Prophet ﷺ decreed that one should not try to cancel a bargain already agreed upon between some other persons (by offering a bigger price). And a man should not ask for the hand of a girl who is already engaged to his Muslim brother, unless the first suitor gives her up, or allows him to ask for her hand.
اپنے مسلمان بھائی کی منگنی (پیغام نکاح) پر نکاح کا پیغام نہ بھیجے، جب تک کہ پہلی منگنی کا معاملہ ختم نہ ہوجائے یا وہ نکاح کرلے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ الْأَعْرَجِ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَأْثُرُ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، وَلَا تَجَسَّسُوا، وَلَا تَحَسَّسُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَكُونُوا إِخْوَانًا.
وَلَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَنْكِحَ أَوْ يَتْرُكَ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیس بن سعد نے بیان کیا، ان سے جعفر بن ربیعہ، ان سے اعرج نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا وہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ بدگمانی سے بچتے رہو کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے (اور لوگوں کے رازوں کی) کھود کرید نہ کیا کرو اور نہ (لوگوں کی نجی گفتگووں کو) کان لگا کر سنو، آپس میں دشمنی نہ پیدا کرو بلکہ بھائی بھائی بن کر رہو۔
اور کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ بھیجے یہاں تک کہ وہ نکاح کرے یا چھوڑ دے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
The Prophet ﷺ said, "Beware of suspicion (about others), as suspicion is the falsest talk, and do not spy upon each other, and do not listen to the evil talk of the people about others affairs, and do not have enmity with one another, but be brothers. And none should ask for the hand of a girl who is already engaged to his (Muslim) brother, but one should wait till the first suitor marries her or leaves her."
منگنی چھوڑنے کی وضاحت کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُحَدِّثُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حِينَ تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ، قَالَ عُمَرُ: لَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ، فَقُلْتُ: إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ، فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ، ثُمَّ خَطَبَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرْجِعَ إِلَيْكَ فِيمَا عَرَضْتَ إِلَّا أَنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ ذَكَرَهَا فَلَمْ أَكُنْ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَوْ تَرَكَهَا لَقَبِلْتُهَا. تَابَعَهُ يُونُسُ، وَمُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، وَابْنُ أَبِي عَتِيقٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زھری نے، کہا کہ مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن عمر ؓ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ عمر ؓ نے بیان کیا کہ میری بیٹی حفصہ ؓ بیوہ ہوئیں تو میں ابوبکر صدیق ؓ سے ملا اور ان سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کا نکاح عزیزہ حفصہ بنت عمر ؓ سے کر دوں۔ پھر کچھ دنوں کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ان کے نکاح کا پیغام بھیجا اس کے بعد ابوبکر ؓ مجھ سے ملے اور کہا آپ نے جو صورت میرے سامنے رکھی تھی اس کا جواب میں نے صرف اس وجہ سے نہیں دیا تھا کہ مجھے معلوم تھا رسول اللہ ﷺ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ آپ کا راز کھولوں ہاں نبی کریم ﷺ انہیں چھوڑ دیتے تو میں ان کو قبول کرلیتا۔ شعیب کے ساتھ اس حدیث کو یونس بن یزید اور موسیٰ بن عقبہ اور محمد بن ابی عتیق نے بھی زہری سے روایت کیا ہے۔
Narrated Abdullah bin Umar (RA) :
"When Hafsah (RA) became a widow," Umar said, "I met Abu Bakr (RA) and said to him, If you wish I will marry Hafsah Bint Umar (RA) to you. I waited for a few days then Allahs Apostle ﷺ asked for her hand. Later Abu Bakr (RA) met me and said, Nothing stopped me from returning to you concerning your offer except that I knew that Allahs Apostle ﷺ had mentioned (his wish to marry) her, and I could never let out the secret of Allahs Apostle ﷺ . If he had left her, I would have accepted her. "
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلَانِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَخَطَبَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا.
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے زید بن اسلم نے کہا کہ میں نے ابن عمر ؓ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ دو آدمی مدینہ کے مشرق کی طرف سے آئے، وہ مسلمان ہوگئے اور خطبہ دیا، نہایت فصیح و بلیغ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ بعض تقریر جادو کی اثر کرتی ہے۔
Narrated Ibn Umar (RA) :
Two men came from the east and delivered speeches, and the Prophet ﷺ said, "Some eloquent speech has the in fluency of magic (e.g., some people refuse to do something and then a good eloquent speaker addresses them and then they agree to do that very thing after his speech). "
ولیمہ اور نکاح میں دف بجانے کا بیان
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ ذَكْوَانَ، قَالَ: قَالَتْ الرُّبَيِّعُ بِنْتُ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ: جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ حِينَ بُنِيَ عَلَيَّ، فَجَلَسَ عَلَى فِرَاشِي كَمَجْلِسِكَ مِنِّي، فَجَعَلَتْ جُوَيْرِيَاتٌ لَنَا يَضْرِبْنَ بِالدُّفِّ وَيَنْدُبْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ آبَائِي يَوْمَ بَدْرٍ، إِذْ قَالَتْ إِحْدَاهُنَّ: وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ، فَقَالَ: دَعِي هَذِهِ، وَقُولِي بِالَّذِي كُنْتِ تَقُولِينَ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن ذکوان نے بیان کیا، کہ ربیع بنت معوذ ابن عفراء ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور جب میں دلہن بنا کر بٹھائی گئی نبی کریم ﷺ اندر تشریف لائے اور میرے بستر پر بیٹھے اسی طرح جیسے تم اس وقت میرے پاس بیٹھے ہوئے ہو۔ پھر ہمارے یہاں کی کچھ لڑکیاں دف بجانے لگیں اور میرے باپ اور چچا جو جنگ بدر میں شہید ہوئے تھے، ان کا مرثیہ پڑھنے لگیں۔ اتنے میں، ان میں سے ایک لڑکی نے پڑھا، اور ہم میں ایک نبی ہے جو ان باتوں کی خبر رکھتے ہے جو کچھ کل ہونے والی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ چھوڑ دو۔ اس کے سوا جو کچھ تم پڑھ رہی تھیں وہ پڑھو۔
Narrated Ar-Rabi:
(the daughter of Muawwidh bin Afra) After the consummation of my marriage, the Prophet ﷺ came and sat on my bed as far from me as you are sitting now, and our little girls started beating the tambourines and reciting elegiac verses mourning my father who had been killed in the battle of Badr. One of them said, "Among us is a Prophet ﷺ who knows what will happen tomorrow." On that the Prophet ﷺ said, "Leave this (saying) and keep on saying the verses which you had been saying before."
اللہ تعالیٰ کا حکم کہ عورتوں کو ہنسی خوشی مہردو اور زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم کتنا مہر جائز ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اگر تم کسی عورت کو ( مہر میں) بے انتہا مال دے دو تو اس میں سے کچھ واپس نہ لو اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد اوتفرضوا لھن فریضۃ ( وجوب مہر پر) دلیل ہے، سہل فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا (مہر ضرور دو) اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہو
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ، فَرَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشَاشَةَ الْعُرْسِ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ. وَعَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا اور ان سے انس ؓ نے کہ عبدالرحمٰن بن عوف ؓ نے ایک خاتون سے ایک گٹھلی کے وزن کے برابر (سونے کے مہر پر) نکاح کیا۔ پھر نبی کریم ﷺ شادی کی خوشی ان میں دیکھی تو ان سے پوچھا۔ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے ایک عورت سے ایک گٹھلی کے برابر نکاح کیا ہے اور قتادہ ؓ نے انس ؓ سے یہ روایت اس طرح نقل کی ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف ؓ نے ایک عورت سے۔ ایک گٹھلی کے وزن کے برابر سونے پر نکاح کیا تھا۔
Narrated Anas (RA) :
Abdur Rahman bin Auf married a woman and gave her gold equal to the weight of a date stone (as Mahr). When the Prophet ﷺ noticed the signs of cheerfulness of the marriage (on his face) and asked him about it, he said, "I have married a woman and gave (her) gold equal to a date stone in weight (as Mahr)."
بعوض تعلیم قرآن نکاح کرنے اور بغیر ادائے مہر کے شادی کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، يَقُولُ: إِنِّي لَفِي الْقَوْمِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَامَتِ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا قَدْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لَكَ، فَرَ فِيهَا رَأْيَكَ ؟ فَلَمْ يُجِبْهَا شَيْئًا، ثُمَّ قَامَتْ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا قَدْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لَكَ، فَرَ فِيهَا رَأْيَكَ ؟ فَلَمْ يُجِبْهَا شَيْئًا، ثُمَّ قَامَتِ الثَّالِثَةَ، فَقَالَتْ: إِنَّهَا قَدْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لَكَ، فَرَ فِيهَا رَأْيَكَ ؟ فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْكِحْنِيهَا، قَالَ: هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: اذْهَبْ فَاطْلُبْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، فَذَهَبَ فَطَلَبَ، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: مَا وَجَدْتُ شَيْئًا وَلَا خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، فَقَالَ: هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ ؟ قَالَ: مَعِي سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا، قَالَ: اذْهَبْ فَقَدْ أَنْكَحْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، کہا میں نے ابوحازم سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے سہل بن سعد ساعدی سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں لوگوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا اس میں ایک خاتون کھڑی ہوئیں اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کرتی ہوں آپ اب جو چاہیں کریں۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ پھر کھڑی ہوئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں نے اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کردیا ہے آپ جو چاہیں کریں۔ نبی کریم ﷺ نے اس مرتبہ بھی کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ تیسری مرتبہ کھڑی ہوئیں اور کہا کہ انہوں نے اپنے آپ کو آپ ﷺ کے لیے ہبہ کردیا، آپ جو چاہیں کریں۔ اس کے بعد ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ان کا نکاح مجھ سے کر دیجئیے۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس کچھ ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جاؤ اور تلاش کرو ایک لوہے کی انگوٹھی بھی اگر مل جائے لے آؤ۔ وہ گئے اور تلاش کیا، پھر واپس آ کر عرض کیا کہ میں نے کچھ نہیں پایا، لوہے کی ایک انگوٹھی بھی نہیں ملی۔ نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس کچھ قرآن ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ میرے پاس فلاں فلاں سورتیں ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر جاؤ میں نے تمہارا نکاح ان سے اس قرآن پر کیا جو تم کو یاد ہے۔
Narrated Sahl bin Sad As-Saidi (RA) :
While I was (sitting) among the people in the company of Allahs Apostle ﷺ a woman stood up and said, "O Allahs Apostle ﷺ ! She has given herself in marriage to you; please give your opinion of her." The Prophet ﷺ did not give her any reply. She again stood up and said, "O Allahs Apostle ﷺ ! She has given herself (in marriage) to you; so please give your opinion of her. The Prophet ﷺ did not give her any reply. She again stood up for the third time and said, "She has given herself in marriage to you: so give your opinion of her." So a man stood up and said, "O Allahs Apostle ﷺ ! Marry her to me." The Prophet ﷺ asked him, "Have you got anything?" He said, "No." The Prophet ﷺ said, "Go and search for something, even if it were an iron ring." The man went and searched and then returned saying, "I could not find anything, not even an iron ring." Then the Prophet ﷺ said, "Do you know something of the Quran (by heart)?" He replied, "I know (by heart) such Sura and such Sura." The Prophet ﷺ said, "Go! I have married her to you for what you know of the Quran (by heart)."