نماز استسقاء

Sahih Bukhari · Chapter 15 · 33 hadiths · Page 2 of 2

1026Sahih Bukhari

باب: استسقاء کی نماز دو رکعتیں پڑھنا۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، سَمِعَ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْقَى فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَقَلَبَ رِدَاءَهُ.

مجھ سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے عبداللہ بن ابی بکر سے بیان کیا، ان سے عباد بن تمیم نے، ان سے ان کے چچا عبداللہ بن زید ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے دعائے استسقاء کی تو دو رکعت نماز پڑھی اور چادر پلٹی۔

Narrated Abbas bin Tamlm from his uncle, who said, "The Prophet ﷺ invoked Allah for rain and offered a two Rakat prayer and he put his cloak inside out."

1027Sahih Bukhari

باب: عیدگاہ میں بارش کی دعا کرنا۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، سَمِعَ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُصَلَّى يَسْتَسْقِي وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَقَلَبَ رِدَاءَهُ، قَالَ سُفْيَانُ : فَأَخْبَرَنِي المَسْعُودِيُّ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ: جَعَلَ الْيَمِينَ عَلَى الشِّمَالِ.

ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے عبداللہ بن ابی بکر سے بیان کیا، انہوں نے عباد بن تمیم سے سنا اور عباد اپنے چچا عبداللہ بن زید ؓ سے بیان کرتے تھے کہ نبی کریم ﷺ دعائے استسقاء کے لیے عیدگاہ کو نکلے اور قبلہ رخ ہو کر دو رکعت نماز پڑھی پھر چادر پلٹی۔ سفیان ثوری نے کہا مجھے عبدالرحمٰن بن عبداللہ مسعودی نے ابوبکر کے حوالے سے خبر دی کہ آپ ﷺ نے چادر کا داہنا کونا بائیں کندھے پر ڈالا۔

Narrated Abbas bin Tamim from his uncle, who said, "The Prophet ﷺ went out to the Musalla to offer the Istisqa prayer, faced the Qibla and offered a two-Rakat prayer and turned his cloak inside out." Narrated Abu Bakr, "The Prophet ﷺ put the right side of his cloak on his left side."

1028Sahih Bukhari(1030)

باب

قَالَ أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ مِنْ أَهْلِ الْبَدْوِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَتِ الْمَاشِيَةُ هَلَكَ الْعِيَالُ هَلَكَ النَّاسُ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ يَدْعُو، وَرَفَعَ النَّاسُ أَيْدِيَهُمْ مَعَهُ يَدْعُونَ، قَالَ: فَمَا خَرَجْنَا مِنَ الْمَسْجِدِ حَتَّى مُطِرْنَا فَمَا زِلْنَا نُمْطَرُ حَتَّى كَانَتِ الْجُمُعَةُ الْأُخْرَى، فَأَتَى الرَّجُلُ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ بَشِقَ الْمُسَافِرُ وَمُنِعَ الطَّرِيقُ. وَقَالَ الْأُوَيْسِيُّ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ وَشَرِيكٍ، سَمِعَا أَنَسًا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ.

ایوب بن سلیمان نے کہا کہ مجھ سے ابوبکر بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے سلیمان بن بلال سے بیان کیا کہ یحییٰ بن سعید نے کہا کہ میں نے انس بن مالک ؓ سے سنا انہوں نے کہا کہ ایک بدوی (گاؤں کا رہنے والا) جمعہ کے دن رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ! بھوک سے مویشی تباہ ہوگئے، اہل و عیال اور تمام لوگ مر رہے ہیں۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے ہاتھ اٹھائے، اور لوگوں نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ اپنے ہاتھ اٹھائے، دعا کرنے لگے، انس ؓ نے بیان کیا کہ ابھی ہم مسجد سے باہر نکلے بھی نہ تھے کہ بارش شروع ہوگئی اور ایک ہفتہ برابر بارش ہوتی رہی۔ دوسرے جمعہ میں پھر وہی شخص آیا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! (بارش بہت ہونے سے) مسافر گھبرا گئے اور راستے بند ہوگئے۔ عبدالعزیز اویسی نے کہا کہ مجھ سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ان سے یحییٰ بن سعید اور شریک نے، انہوں نے کہا کہ ہم نے انس ؓ سے سنا کہ نبی کریم ﷺ (نے استسقاء میں دعا کرنے کے لیے) اس طرح ہاتھ اٹھائے کہ میں نے آپ ﷺ کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لی۔

Narrated Anas bin Malik: A bedouin came to Allahs Messenger ﷺ on a Friday and said, "O Allahs Messenger ! The livestock, the offspring, and the people have perished." So, Allahs Messenger ﷺ raised both his hands invoking Allah (for rain) and the people too raised their hands with Allahs Messenger ﷺ invoking Allah (for rain). We had not left the mosque when it started raining. It rained till the next Friday when the same man came to Allahs Messenger ﷺ and said, "O Allahs Messenger! The travelers are compelled to postpone their journeys (because of excessive rain) and the roads are overflowed”.

1031Sahih Bukhari

باب: امام کا استسقاء میں دعا کے لیے ہاتھ اٹھانا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهِ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ، وَإِنَّهُ يَرْفَعُ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ.

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان اور محمد بن ابراہیم بن عدی بن عروبہ نے بیان کیا، ان سے سعید نے، ان سے قتادہ اور ان سے انس بن مالک ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ دعائے استسقاء کے سوا اور کسی دعا کے لیے ہاتھ (زیادہ) نہیں اٹھاتے تھے اور استسقاء میں ہاتھ اتنا اٹھاتے کہ بغلوں کی سفیدی نظر آجاتی۔

Narrated Anas bin Malik (RA) The Prophet ﷺ never raised his hands for any invocation except for that of Istisqa and he used to raise them so much that the whiteness of his armpits became visible. (Note: It may be that Anas (RA) did not see the Prophet ﷺ raising his hands, but it is narrated that the Prophet ﷺ used to raise his hands for invocations other than Istisqa. See Hadith No. 807 808 and also see Hadith No. 612, Vol. 5).

1032Sahih Bukhari

باب: مینہ برستے وقت کیا کہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِالْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ، قَالَ: اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا، تَابَعَهُ الْقَاسِمُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَعُقَيْلٌ ، وَرَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ نَافِعٍ .

ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا کہ ہمیں عبیداللہ عمری نے نافع سے خبر دی، انہیں قاسم بن محمد نے، انہیں عائشہ ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ جب بارش ہوتی دیکھتے تو یہ دعا کرتے صيبا نافعا اے اللہ! نفع بخشنے والی بارش برسا۔ اس روایت کی متابعت قاسم بن یحییٰ نے عبیداللہ عمری سے کی ہے اور اس کی روایت اوزاعی اور عقیل نے نافع سے کی ہے۔

Narrated Aisha (RA): Whenever Allahs Apostle ﷺ saw the rain, he used to say, "O Allah! Let it be a strong fruitful rain."

1033Sahih Bukhari

باب: اس شخص کے بارے میں جو بارش میں قصداً اتنی دیر ٹھہرا کہ بارش سے اس کی داڑھی (بھیگ گئی اور اس) سے پانی بہنے لگا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: أَصَابَتِ النَّاسَ سَنَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَامَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَ الْمَالُ وَجَاعَ الْعِيَالُ فَادْعُ اللَّهَ لَنَا أَنْ يَسْقِيَنَا، قَالَ: فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَمَا فِي السَّمَاءِ قَزَعَةٌ، قَالَ: فَثَارَ سَحَابٌ أَمْثَالُ الْجِبَالِ، ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ عَنْ مِنْبَرِهِ حَتَّى رَأَيْتُ الْمَطَرَ يَتَحَادَرُ عَلَى لِحْيَتِهِ، قَالَ: فَمُطِرْنَا يَوْمَنَا ذَلِكَ وَفِي الْغَدِ وَمِنْ بَعْدِ الْغَدِ وَالَّذِي يَلِيهِ إِلَى الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى، فَقَامَ ذَلِكَ الْأَعْرَابِيُّ أَوْ رَجُلٌ غَيْرُهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تَهَدَّمَ الْبِنَاءُ وَغَرِقَ الْمَالُ فَادْعُ اللَّهَ لَنَا، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَقَالَ: اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا، قَالَ: فَمَا جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ السَّمَاءِ إِلَّا تَفَرَّجَتْ حَتَّى صَارَتْ الْمَدِينَةُ فِي مِثْلِ الْجَوْبَةِ حَتَّى سَالَ الْوَادِي وَادِي قَنَاةَ شَهْرًا، قَالَ: فَلَمْ يَجِئْ أَحَدٌ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلَّا حَدَّثَ بِالْجَوْدِ.

ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام اوزاعی نے خبر دی، کہا کہ ہم سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ انصاری نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے انس بن مالک ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں لوگوں پر ایک دفعہ قحط پڑا۔ انہی دنوں آپ ﷺ جمعہ کے دن منبر پر خطبہ دے رہے تھے کہ ایک دیہاتی نے کھڑے ہو کر کہا یا رسول اللہ! جانور مرگئے اور بال بچے فاقے پر فاقے کر ہے ہیں، اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ پانی برسائے۔ انس ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ سن کر دعا کے لیے دونوں ہاتھ اٹھا دیئے۔ آسمان پر دور دور تک ابر کا پتہ تک نہیں تھا۔ لیکن (آپ ﷺ کی دعا سے) پہاڑوں کے برابر بادل گرجتے ہوئے آگئے ابھی نبی کریم ﷺ منبر سے اترے بھی نہیں تھے کہ میں نے دیکھا کہ بارش کا پانی آپ ﷺ کی داڑھی سے بہہ رہا ہے۔ انس نے کہا کہ اس روز بارش دن بھر ہوتی رہی۔ دوسرے دن تیسرے دن، بھی اور برابر اسی طرح ہوتی رہی۔ اس طرح دوسرا جمعہ آگیا۔ پھر یہی بدوی یا کوئی دوسرا شخص کھڑا ہوا اور کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! (کثرت باراں سے) عمارتیں گرگئیں اور جانور ڈوب گئے، ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے پھر دونوں ہاتھ اٹھائے اور دعا کی اللهم حوالينا ولا علينا کہ اے اللہ! ہمارے اطراف میں برسا اور ہم پر نہ برسا۔ انس نے کہا کہ نبی کریم ﷺ اپنے ہاتھوں سے آسمان کی جس طرف بھی اشارہ کردیتے ابر ادھر سے پھٹ جاتا، اب مدینہ حوض کی طرح بن چکا تھا اور اسی کے بعد وادی قناۃ کا نالہ ایک مہینہ تک بہتا رہا۔ انس نے بیان کیا کہ اس کے بعد مدینہ کے اردگرد سے جو بھی آیا اس نے خوب سیرابی کی خبر لائی۔

Narrated Anas bin Malik (RA): In the life-time of Allahs Apostle ﷺ the people were afflicted with a (famine) year. While the Prophet ﷺ was delivering the Khutba (sermon) on the pulpit on a Friday, a Bedouin stood up and said, "O Allahs Apostle ﷺ ! The livestock are dying and the families (offspring) are hungry: please pray to Allah to bless us with rain." Allahs Apostle ﷺ raised both his hands towards the sky and at that time there was not a trace of cloud in the sky. Then the clouds started gathering like mountains. Before he got down from the pulpit I saw rain-water trickling down his beard. It rained that day, the next day, the third day, the fourth day and till the next Friday, when the same Bedouin or some other person stood up (during the Friday Khutba) and said, "O Allahs Apostle ﷺ ! The houses have collapsed and the livestock are drowned. Please invoke Allah for us." So Allahs Apostle ﷺ raised both his hands and said, "O Allah! Around us and not on us." Whichever side the Prophet ﷺ directed his hand, the clouds dispersed from there till a hole (in the clouds) was formed over Medina. The valley of Qanat remained flowing (with water) for one month and none, came from outside who didnt talk about the abundant rain.

1034Sahih Bukhari

باب: جب ہوا چلتی۔

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا ، يَقُولُ: كَانَتْ الرِّيحُ الشَّدِيدَةُ إِذَا هَبَّتْ عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں محمد بن جعفر نے خبر دی، انہوں نے کہا مجھے حمید طویل نے خبر دی اور انہوں نے انس بن مالک ؓ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ جب تیز ہوا چلتی تو نبی کریم ﷺ کے چہرہ مبارک پر ڈر محسوس ہوتا تھا۔

Narrated Anas (RA): Whenever a strong wind blew, anxiety appeared on the face of the Prophet ﷺ (fearing that wind might be a sign of Allahs wrath).

1035Sahih Bukhari

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ پروا ہوا کے ذریعہ مجھے مدد پہنچائی گئی۔

حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ.

ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے حکم سے بیان کیا، ان سے مجاہد نے، ان سے عبداللہ بن عباس ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے پروا ہوا کے ذریعہ مدد پہنچائی گئی اور قوم عاد پچھوا کے ذریعہ ہلاک کردی گئی تھی۔

Narrated Ibn Abbas (RA): The Prophet ﷺ said, "I was granted victory with As-Saba and the nation of Ad was destroyed by Ad-Dabur (westerly wind).

1036Sahih Bukhari

باب: بھونچال اور قیامت کی نشانیوں کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقْبَضَ الْعِلْمُ وَتَكْثُرَ الزَّلَازِلُ وَيَتَقَارَبَ الزَّمَانُ وَتَظْهَرَ الْفِتَنُ وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ وَهُوَ الْقَتْلُ حَتَّى يَكْثُرَ فِيكُمُ الْمَالُ فَيَفِيضُ.

ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی، کہا کہ ہم سے ابوالزناد (عبداللہ بن ذکوان) نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک نہ آئے گی جب تک علم دین نہ اٹھ جائے گا اور زلزلوں کی کثرت نہ ہوجائے گی اور زمانہ جلدی جلدی نہ گزرے گا اور فتنے فساد پھوٹ پڑیں گے اور هرج کی کثرت ہوجائے گی اور هرج سے مراد قتل ہے۔ قتل اور تمہارے درمیان دولت و مال کی اتنی کثرت ہوگی کہ وہ ابل پڑے گا۔

Narrated Abu Hurairah (RA): The Prophet ﷺ said, "The Hour (Last Day) will not be established until (religious) knowledge will be taken away (by the death of religious learned men), earthquakes will be very frequent, time will pass quickly, afflictions will appear, murders will increase and money will overflow amongst you." (See Hadith No. 85 Vol 1).

1037Sahih Bukhari

باب: بھونچال اور قیامت کی نشانیوں کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا وَفِي يَمَنِنَا، قَالَ: قَالُوا: وَفِي نَجْدِنَا، قَالَ: قَالَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا وَفِي يَمَنِنَا، قَالَ: قَالُوا: وَفِي نَجْدِنَا، قَالَ: قَالَ: هُنَاكَ الزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ وَبِهَا يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ.

مجھ سے محمد بن مثنی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حسین بن حسن نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن عون نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے فرمایا اے اللہ! ہمارے شام اور یمن پر برکت نازل فرما۔ اس پر لوگوں نے کہا اور ہمارے نجد کے لیے بھی برکت کی دعا کیجئے لیکن آپ نے پھر وہی کہا اے اللہ! ہمارے شام اور یمن پر برکت نازک فرما پھر لوگوں نے کہا اور ہمارے نجد میں؟ تو آپ نے فرمایا کہ وہاں تو زلزلے اور فتنے ہوں گے اور شیطان کا سینگ وہی سے طلوع ہوگا۔

Narrated Ibn Umar (RA): (The Prophet) said, "O Allah! Bless our Sham and our Yemen." People said, "Our Najd as well." The Prophet ﷺ again said, "O Allah! Bless our Sham and Yemen." They said again, "Our Najd as well." On that the Prophet ﷺ said, "There will appear earthquakes and afflictions, and from there will come out the side of the head of Satan."

1038Sahih Bukhari

باب: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی «وتجعلون رزقكم أنكم تكذبون»۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ عَلَى إِثْرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلَةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ؟ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ، فَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَرَحْمَتِهِ فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ.

ہم سے اسماعیل بن ایوب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، انہوں نے صالح بن کیسان سے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے بیان کیا، ان سے زید بن خالد جہنی ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے حدیبیہ میں ہم کو صبح کی نماز پڑھائی۔ رات کو بارش ہوچکی تھی نماز کے بعد آپ ﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا معلوم ہے تمہارے رب نے کیا فیصلہ کیا ہے؟ لوگ بولے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پروردگار فرماتا ہے آج میرے دو طرح کے بندوں نے صبح کی۔ ایک مومن ہے ایک کافر۔ جس نے کہا اللہ کے فضل و رحم سے پانی پڑا وہ تو مجھ پر ایمان لایا اور ستاروں کا منکر ہوا اور جس نے کہا فلاں تارے کے فلاں جگہ آنے سے پانی پڑا اس نے میرا کفر کیا، تاروں پر ایمان لایا۔

Narrated Zaid bin Khalid Al-Juhani (RA): Allahs Apostle ﷺ led the Morning Prayer in Al-Hudaibiya and it had rained the previous night. When the Prophet ﷺ had finished the prayer he faced the people and said, "Do you know what your Lord has said?" They replied, "Allah and His Apostle ﷺ know better." (The Prophet ﷺ said), "Allah says, In this morning some of My worshipers remained as true believers and some became non-believers; he who said that it had rained with the blessing and mercy of Allah is the one who believes in Me and does not believe in star, but he who said it had rained because of such and such (star) is a disbeliever in Me and is a believer in star. "

1039Sahih Bukhari

باب: اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کو معلوم نہیں کہ بارش کب ہو گی۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِفْتَاحُ الْغَيْبِ خَمْسٌ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا اللَّهُ، لَا يَعْلَمُ أَحَدٌ مَا يَكُونُ فِي غَدٍ، وَلَا يَعْلَمُ أَحَدٌ مَا يَكُونُ فِي الْأَرْحَامِ، وَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا، وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ، وَمَا يَدْرِي أَحَدٌ مَتَى يَجِيءُ الْمَطَرُ.

ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، اور ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ غیب کی پانچ کنجیاں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ کسی کو نہیں معلوم کہ کل کیا ہونے والا ہے، کوئی نہیں جانتا کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے، کل کیا کرنا ہوگا، اس کا کسی کو علم نہیں۔ نہ کوئی یہ جانتا ہے کہ اسے موت کس جگہ آئے گی اور نہ کسی کو یہ معلوم کہ بارش کب ہوگی۔

Narrated Ibn Umar (RA): Allahs Apostle ﷺ said, "Keys of the unseen knowledge are five which nobody knows but Allah . . . nobody knows what will happen tomorrow; nobody knows what is in the womb; nobody knows what he will gain tomorrow; nobody knows at what place he will die; and nobody knows when it will rain."

1009Sahih Bukhari

باب: قحط کے وقت لوگ امام سے پانی کی دعا کرنے کے لیے کہہ سکتے ہیں۔

وَقَالَ عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ حَدَّثَنَا سَالِمٌ، عَنْ أَبِيهِ، رُبَّمَا ذَكَرْتُ قَوْلَ الشَّاعِرِ"وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَسْقِي، فَمَا يَنْزِلُ حَتَّى يَجِيشَ كُلُّ مِيزَابٍ وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ ثِمَالُ الْيَتَامَى عِصْمَةٌ لِلْأَرَامِلِ"، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي طَالِبٍ.

اور عمر بن حمزہ نے بیان کیا کہ ہم سے سالم نے اپنے والد سے بیان کیا وہ کہا کرتے تھے کہ اکثر مجھے شاعر (ابوطالب) کا شعر یاد آ جاتا ہے۔ میں نبی کریم ﷺ کے منہ کو دیکھ رہا تھا کہ آپ دعا استسقاء (منبر پر) کر رہے تھے اور ابھی (دعا سے فارغ ہو کر) اترے بھی نہیں تھے کہ تمام نالے لبریز ہو گئے۔ وأبيض يستسقى الغمام بوجهه ثمال اليتامى عصمة للأرامل (ترجمہ) گورا رنگ ان کا، وہ حامی یتیموں، بیواؤں کے لوگ ان کے منہ کے صدقے سے پانی مانگتے ہیں۔

Salim's father (Ibn `Umar) said, "The following poetic verse occurred to my mind while I was looking at the face of the Prophet (p.b.u.h) while he was praying for rain. He did not get down till the rain water flowed profusely from every roof-gutter: And a white (person) who is requested to pray for rain and who takes care of the orphans and is the guardian of widows . . . And these were the words of Abu Talib."

1029Sahih Bukhari

قَالَ أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ مِنْ أَهْلِ الْبَدْوِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَتِ الْمَاشِيَةُ هَلَكَ الْعِيَالُ هَلَكَ النَّاسُ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ يَدْعُو، وَرَفَعَ النَّاسُ أَيْدِيَهُمْ مَعَهُ يَدْعُونَ، قَالَ: فَمَا خَرَجْنَا مِنَ الْمَسْجِدِ حَتَّى مُطِرْنَا فَمَا زِلْنَا نُمْطَرُ حَتَّى كَانَتِ الْجُمُعَةُ الْأُخْرَى، فَأَتَى الرَّجُلُ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ بَشِقَ الْمُسَافِرُ وَمُنِعَ الطَّرِيقُ.

ایک بدوی ( گاؤں کا رہنے والا ) جمعہ کے دن رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ! بھوک سے مویشی تباہ ہو گئے، اہل و عیال اور تمام لوگ مر رہے ہیں۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے ہاتھ اٹھائے، اور لوگوں نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ اپنے ہاتھ اٹھائے، دعا کرنے لگے، انس ؓ نے بیان کیا کہ ابھی ہم مسجد سے باہر نکلے بھی نہ تھے کہ بارش شروع ہو گئی اور ایک ہفتہ برابر بارش ہوتی رہی۔ دوسرے جمعہ میں پھر وہی شخص آیا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! ( بارش بہت ہونے سے ) مسافر گھبرا گئے اور راستے بند ہو گئے۔

Narrated Anas bin Malik: A bedouin came to Allah's Messenger (saws) on a Friday and said, O Allah's Messenger ! The livestock, the offspring, and the people have perished. So, Allah's Messenger (saw) raised both his hands invoking Allah (for rain) and the people too raised their hands with Allah's Messenger (saws) invoking Allah (for rain). We had not left the mosque when it started raining. It rained till the next Friday when the same man came to Allah's Messenger (saws) and said, O Allah's Messenger! The travelers are compelled to postpone their journeys (because of excessive rain) and the roads are overflowed.

1030Sahih Bukhari

وَقَالَ الْأُوَيْسِيُّ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ وَشَرِيكٍ، سَمِعَا أَنَسًا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ.

نبی کریم ﷺ ( نے استسقاء میں دعا کرنے کے لیے ) اس طرح ہاتھ اٹھائے کہ میں نے آپ ﷺ کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لی۔

The narrator Anas added that the Prophet (saws) raised his hands (during the invocation) to such an extent that the whiteness of his armpits was visible.