نماز کے اوقات کا بیان

Sahih Bukhari · Chapter 9 · 79 hadiths · Page 4 of 5

586Sahih Bukhari

باب: اس بارے میں کہ سورج چھپنے سے پہلے قصد کر کے نماز نہ پڑھے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ الْجُنْدَعِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا صَلَاةَ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ.

ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے صالح سے یہ حدیث بیان کی، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے کہا مجھ سے عطاء بن یزید جندعی لیثی نے بیان کیا کہ انہوں نے ابو سعید خدری ؓ سے سنا۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے کہ فجر کی نماز کے بعد کوئی نماز سورج کے بلند ہونے تک نہ پڑھی جائے، اسی طرح عصر کی نماز کے بعد سورج ڈوبنے تک کوئی نماز نہ پڑھی جائے۔

Narrated Abu Said Al-Khudri (RA): I heard Allahs Apostle ﷺ saying, "There is no prayer after the morning prayer till the sun rises, and there is no prayer after the Asr prayer till the sun sets."

587Sahih Bukhari

باب: اس بارے میں کہ سورج چھپنے سے پہلے قصد کر کے نماز نہ پڑھے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَيُحَدِّثُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: إِنَّكُمْ لَتُصَلُّونَ صَلَاةً لَقَدْ صَحِبْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا رَأَيْنَاهُ يُصَلِّيهَا، وَلَقَدْ نَهَى عَنْهُمَا يَعْنِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ.

ہم سے محمد بن ابان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے حدیث بیان کی ابوالتیاح یزید بن حمید سے، کہا کہ میں نے حمران بن ابان سے سنا، وہ معاویہ بن ابی سفیان ؓ سے یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ انھوں نے فرمایا کہ تم لوگ تو ایک ایسی نماز پڑھتے ہو کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی صحبت میں رہے لیکن ہم نے کبھی آپ ﷺ کو وہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔ بلکہ آپ ﷺ نے تو اس سے منع فرمایا تھا۔ معاویہ ؓ کی مراد عصر کے بعد دو رکعتوں سے تھی (جسے آپ کے زمانہ میں بعض لوگ پڑھتے تھے) ۔

Narrated Muawiyahh (RA): You offer a prayer which I did not see being offered by Allahs Apostle ﷺ when we were in his company and he certainly had forbidden it (i.e. two Rakat after the Asr prayer).

588Sahih Bukhari

باب: اس بارے میں کہ سورج چھپنے سے پہلے قصد کر کے نماز نہ پڑھے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ خُبَيْبٍ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاتَيْنِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ.

ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدہ نے بیان کیا، انہوں نے عبیداللہ سے خبر دی، انہوں نے خبیب سے، انہوں نے حفص بن عاصم سے، انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے کہ نبی کریم ﷺ نے دو وقت نماز پڑھنے سے منع فرمایا، نماز فجر کے بعد سورج نکلنے تک اور نماز عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک۔

Narrated Abu Hurairah (RA): Allahs Apostle ﷺ forbade the offering of two prayers: 1. after the morning prayer till the sunrises. 2. after the Asr prayer till the sun sets.

589Sahih Bukhari

باب: اس شخص کی دلیل جس نے فقط عصر اور فجر کے بعد نماز کو مکروہ رکھا ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: أُصَلِّي كَمَا رَأَيْتُ أَصْحَابِي يُصَلُّونَ، لَا أَنْهَى أَحَدًا يُصَلِّي بِلَيْلٍ وَلَا نَهَارٍ مَا شَاءَ، غَيْرَ أَنْ لَا تَحَرَّوْا طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا.

ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے ایوب سے کہا، انہوں نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر ؓ سے، آپ نے فرمایا کہ جس طرح میں نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھتے دیکھا، میں بھی اسی طرح نماز پڑھتا ہوں، کسی کو روکتا نہیں۔ دن اور رات کے جس حصہ میں جی چاہے نماز پڑھ سکتا ہے، البتہ سورج کے طلوع اور غروب کے وقت نماز نہ پڑھا کرو۔

Narrated Ibn Umar (RA): I pray as I saw my companions praying. I do not forbid praying at any time during the day or night except at sunset and sunrise.

590Sahih Bukhari

باب: عصر کے بعد قضاء نمازیں یا اس کے مانند مثلاً جنازہ کی نماز وغیرہ پڑھنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: وَالَّذِي ذَهَبَ بِهِ مَا تَرَكَهُمَا حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ، وَمَا لَقِيَ اللَّهَ تَعَالَى حَتَّى ثَقُلَ عَنِ الصَّلَاةِ، وَكَانَ يُصَلِّي كَثِيرًا مِنْ صَلَاتِهِ قَاعِدًا تَعْنِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا، وَلَا يُصَلِّيهِمَا فِي الْمَسْجِدِ مَخَافَةَ أَنْ يُثَقِّلَ عَلَى أُمَّتِهِ، وَكَانَ يُحِبُّ مَا يُخَفِّفُ عَنْهُمْ.

ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہ کہا ہم سے عبدالواحد بن ایمن نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ ایمن نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے عائشہ ؓ سے سنا، آپ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم! جس نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے یہاں بلا لیا۔ آپ ﷺ نے عصر کے بعد کی دو رکعات کو کبھی ترک نہیں فرمایا، یہاں تک کہ آپ ﷺ ، اللہ پاک سے جا ملے۔ اور آپ ﷺ کو وفات سے پہلے نماز پڑھنے میں بڑی دشواری پیش آتی تھی۔ پھر اکثر آپ ﷺ بیٹھ کر نماز ادا فرمایا کرتے تھے۔ اگرچہ نبی کریم ﷺ انہیں پوری پابندی کے ساتھ پڑھتے تھے لیکن اس خوف سے کہ کہیں (صحابہ بھی پڑھنے لگیں اور اس طرح) امت کو گراں باری ہو، انہیں آپ ﷺ مسجد میں نہیں پڑھتے تھے۔ آپ ﷺ کو اپنی امت کا ہلکا رکھنا پسند تھا۔

Narrated Aishah (RA): By Allah, Who took away the Prophet. The Prophet ﷺ never missed them (two Rakat) after the Asr prayer till he met Allah and he did not meet Allah till it became heavy for him to pray while standing so he used to offer most of the prayers while sitting. (She meant the two Rakat after Asr) He used to pray them in the house and never prayed them in the mosque lest it might be hard for his followers and he loved what was easy for them.

591Sahih Bukhari

باب: عصر کے بعد قضاء نمازیں یا اس کے مانند مثلاً جنازہ کی نماز وغیرہ پڑھنا۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَتْ عَائِشَةُ ابْنَ أُخْتِيمَا تَرَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّجْدَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدِي قَطُّ.

ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے میرے باپ عروہ نے خبر دی، کہا کہ عائشہ ؓ نے فرمایا میرے بھانجے! نبی کریم ﷺ نے عصر کے بعد کی دو رکعات میرے یہاں کبھی ترک نہیں کیں۔

Narrated Hishams father: Aishah (RA) (addressing me) said, "O son of my sister! The Prophet ﷺ never missed two prostrations (i.e. Rakat) after the Asr prayer in my house."

592Sahih Bukhari

باب: عصر کے بعد قضاء نمازیں یا اس کے مانند مثلاً جنازہ کی نماز وغیرہ پڑھنا۔

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: رَكْعَتَانِ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَعُهُمَا سِرًّا وَلَا عَلَانِيَةً، رَكْعَتَانِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَرَكْعَتَانِ بَعْدَ الْعَصْرِ.

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبانی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن اسود نے بیان کیا، انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے عائشہ ؓ سے کہ آپ نے فرمایا کہ دو رکعتوں کو رسول اللہ ﷺ نے کبھی ترک نہیں فرمایا، پوشیدہ ہو یا عام لوگوں کے سامنے، صبح کی نماز سے پہلے دو رکعات اور عصر کی نماز کے بعد دو رکعات۔

Narrated Aisha (RA): Allahs Apostle ﷺ never missed two Rakat before the Fajr prayer and after the Asr prayer openly and secretly.

593Sahih Bukhari

باب: عصر کے بعد قضاء نمازیں یا اس کے مانند مثلاً جنازہ کی نماز وغیرہ پڑھنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ رَأَيْتُ الأَسْوَدَ ، وَمَسْرُوقًا شَهِدَا عَلَى عَائِشَةَ ، قَالَتْ: مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينِي فِي يَوْمٍ بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَّا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ.

ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے ابواسحاق سے بیان کیا، کہا کہ ہم نے اسود بن یزید اور مسروق بن اجدع کو دیکھا کہ انھوں نے عائشہ ؓ کے اس کہنے پر گواہی دی کہ نبی کریم ﷺ جب بھی میرے گھر میں عصر کے بعد تشریف لائے تو دو رکعت ضرور پڑھتے۔

Narrated Aishah (RA): Whenever the Prophet ﷺ come to me after the Asr prayer, he always prayed two Rakat.

594Sahih Bukhari

باب: بادل والے دنوں میں نماز کے لیے جلدی کرنا (یعنی سویرے پڑھنا)۔

حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى هُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، أَنَّ أَبَا الْمَلِيحِ حَدَّثَهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ بُرَيْدَةَ فِي يَوْمٍ ذِي غَيْمٍ، فَقَالَ: بَكِّرُوا بِالصَّلَاةِ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ تَرَكَ صَلَاةَ الْعَصْرِ حَبِطَ عَمَلُهُ.

ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہشام دستوائی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کیا، وہ قلابہ سے نقل کرتے ہیں کہ ابوالملیح عامر بن اسامہ ہذلی نے ان سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم ابر کے دن ایک مرتبہ بریدہ بن حصیب ؓ صحابی کے ساتھ تھے، انہوں نے فرمایا کہ نماز سویرے پڑھا کرو۔ کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے عصر کی نماز چھوڑی اس کا عمل اکارت ہوگیا۔

Narrated Ibn Abu Malih (RA): I was with Buraida on a cloudy day and he said, "Offer the Asr prayer earlier as the Prophet ﷺ said, whoever leaves the Asr prayer will have all his (good) deeds annulled." (See Hadith No. 527 and 528)

595Sahih Bukhari

باب: وقت نکل جانے کے بعد نماز پڑھتے وقت اذان دینا۔

حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْأَبِيهِ ، قَالَ: سِرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: لَوْ عَرَّسْتَ بِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: أَخَافُ أَنْ تَنَامُوا عَنِ الصَّلَاةِ، قَالَ بِلَالٌ: أَنَا أُوقِظُكُمْ، فَاضْطَجَعُوا وَأَسْنَدَ بِلَالٌ ظَهْرَهُ إِلَى رَاحِلَتِهِ فَغَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ فَنَامَ، فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ، فَقَالَ: يَا بِلَالُ، أَيْنَ مَا قُلْتَ ؟ قَالَ: مَا أُلْقِيَتْ عَلَيَّ نَوْمَةٌ مِثْلُهَا قَطُّ، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ قَبَضَ أَرْوَاحَكُمْ حِينَ شَاءَ وَرَدَّهَا عَلَيْكُمْ حِينَ شَاءَ يَا بِلَالُ، قُمْ فَأَذِّنْ بِالنَّاسِ بِالصَّلَاةِ فَتَوَضَّأَ، فَلَمَّا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ وَابْيَاضَّتْ قَامَ فَصَلَّى.

ہم سے عمران بن میسرہ نے روایت کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حصین بن عبدالرحمٰن نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے، انہوں نے اپنے باپ سے، کہا ہم (خیبر سے لوٹ کر) نبی کریم ﷺ کے ساتھ رات میں سفر کر رہے تھے۔ کسی نے کہا کہ یا رسول اللہ! آپ اب پڑاؤ ڈال دیتے تو بہتر ہوتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں نماز کے وقت بھی تم سوتے نہ رہ جاؤ۔ اس پر بلال ؓ بولے کہ میں آپ سب لوگوں کو جگا دوں گا۔ چناچہ سب لوگ لیٹ گئے۔ اور بلال ؓ نے بھی اپنی پیٹھ کجاوہ سے لگا لی۔ اور ان کی بھی آنکھ لگ گئی اور جب نبی کریم ﷺ بیدار ہوئے تو سورج کے اوپر کا حصہ نکل چکا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا بلال! تو نے کیا کہا تھا۔ وہ بولے آج جیسی نیند مجھے کبھی نہیں آئی۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری ارواح کو جب چاہتا ہے قبض کرلیتا ہے اور جس وقت چاہتا ہے واپس کردیتا ہے۔ اے بلال! اٹھ اور اذان دے۔ پھر آپ ﷺ نے وضو کیا اور جب سورج بلند ہو کر روشن ہوگیا تو آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی۔

Narrated Abdullah bin Abi Qatada (RA): My father said, "One night we were traveling with the Prophet ﷺ and some people said, We wish that Allahs Apostle ﷺ would take a rest along with us during the last hours of the night. He said, I am afraid that you will sleep and miss the (Fajr) prayer. Bilal (RA) said, I will make you get up. So all slept and Bilal (RA) rested his back against his Rahila and he too was overwhelmed (by sleep) and slept. The Prophet ﷺ got up when the edge of the sun had risen and said, O Bilal (RA) ! What about your statement? He replied, I have never slept such a sleep. The Prophet ﷺ said, Allah captured your souls when He wished, and released them when He wished. O Bilal (RA) ! Get up and pronounce the Adhan for the prayer. The Prophet ﷺ performed ablution and when the sun came up and became bright, he stood up and prayed."

596Sahih Bukhari

باب: اس کے بارے میں جس نے وقت نکل جانے کے بعد قضاء نماز لوگوں کے ساتھ جماعت سے پڑھی۔

حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ جَاءَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَجَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا كِدْتُ أُصَلِّي الْعَصْرَ حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ تَغْرُبُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ: مَا صَلَّيْتُهَا، فَقُمْنَا إِلَى بُطْحَانَ فَتَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ وَتَوَضَّأْنَا لَهَا فَصَلَّى الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا الْمَغْرِبَ.

ہم سے معاذ بن فضالہ نے حدیث نقل کی، انہوں نے کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا، انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کیا، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے جابر بن عبداللہ ؓ سے کہ عمر بن خطاب ؓ غزوہ خندق کے موقع پر (ایک مرتبہ) سورج غروب ہونے کے بعد آئے اور وہ کفار قریش کو برا بھلا کہہ رہے تھے۔ اور آپ نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! سورج غروب ہوگیا، اور نماز عصر پڑھنا میرے لیے ممکن نہ ہوسکا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نماز میں نے بھی نہیں پڑھی۔ پھر ہم وادی بطحان میں گئے اور آپ ﷺ نے وہاں نماز کے لیے وضو کیا، ہم نے بھی وضو بنایا۔ اس وقت سورج ڈوب چکا تھا۔ پہلے آپ ﷺ نے عصر پڑھائی اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی۔

Narrated Jabir bin Abdullah (RA): On the day of Al-Khandaq (the battle of trench.) Umar bin Al-Khattab (RA) came cursing the disbelievers of Quraish after the sun had set and said, "O Allahs Apostle ﷺ I could not offer the Asr prayer till the sun had set." The Prophet ﷺ said, "By Allah! I, too, have not prayed." So we turned towards Buthan, and the Prophet ﷺ performed ablution and we too performed ablution and offered the Asr prayer after the sun had set, and then he offered the Maghrib prayer.

597Sahih Bukhari

باب: جو شخص کوئی نماز بھول جائے تو جب یاد آئے اس وقت پڑھ لے اور فقط وہی نماز پڑھے۔

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّ إِذَا ذَكَرَهَا، لَا كَفَّارَةَ لَهَا إِلَّا ذَلِكَ، وَأَقِمْ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي، قَالَ مُوسَى : قَالَ هَمَّامٌ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ بَعْدُ وَأَقِمْ الصَّلَاةَ للذِّكْرَى، وَقَالَ حَبَّانُ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.

ہم سے ابونعیم فضل بن دکین اور موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ان دونوں نے کہا کہ ہم سے ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک ؓ سے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اگر کوئی نماز پڑھنا بھول جائے تو جب بھی یاد آجائے اس کو پڑھ لے۔ اس قضاء کے سوا اور کوئی کفارہ اس کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ اور (اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ) نماز میرے یاد آنے پر قائم کر۔ موسیٰ نے کہا کہ ہم سے ہمام نے حدیث بیان کی کہ میں نے قتادہ ؓ سے سنا وہ یوں پڑھتے تھے نماز پڑھ میری یاد کے لیے۔ حبان بن ہلال نے کہا، ہم سے ہمام نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے، کہا ہم سے انس ؓ نے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے، پھر ایسی ہی حدیث بیان کی۔

Narrated Anas (RA): The Prophet ﷺ said, "If anyone forgets a prayer he should pray that prayer when he remembers it. There is no expiation except to pray the same." Then he recited: "Establish prayer for my (i.e. Allahs) remembrance." (20.14).

598Sahih Bukhari

باب: اگر کئی نمازیں قضاء ہو جائیں تو ان کو ترتیب کے ساتھ پڑھنا۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى هُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْجَابِرِ ، قَالَ: جَعَلَ عُمَرُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ يَسُبُّ كُفَّارَهُمْ، وَقَالَ: مَا كِدْتُ أُصَلِّي الْعَصْرَ حَتَّى غَرَبَتْ، قَالَ: فَنَزَلْنَا بُطْحَانَ فَصَلَّى بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے، کہا کہ ہم سے ہشام دستوائی نے حدیث بیان کی، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے جو ابی کثیر کے بیٹے ہیں حدیث بیان کی ابوسلمہ سے، انہوں نے جابر ؓ سے، انہوں نے فرمایا کہ عمر ؓ غزوہ خندق کے موقع پر (ایک دن) کفار کو برا بھلا کہنے لگے۔ فرمایا کہ سورج غروب ہوگیا، لیکن میں (لڑائی کی وجہ سے) نماز عصر نہ پڑھ سکا۔ جابر ؓ نے بیان کیا کہ پھر ہم وادی بطحان کی طرف گئے۔ اور (آپ ﷺ نے عصر کی نماز) غروب شمس کے بعد پڑھی اس کے بعد مغرب پڑھی۔

Narrated Jabir (RA): Umar came cursing the disbelievers (of Quraish) on the day of Al-Khandaq (the battle of Trench) and said, "I could not offer the Asr prayer till the sun had set. Then we went to Buthan and he offered the (Asr) prayer after sunset and then he offered the Maghrib prayer.

599Sahih Bukhari

باب: عشاء کی نماز کے بعد «سمر» یعنی دنیا کی باتیں کرنا مکروہ ہے۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْمِنْهَالِ ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي إِلَى أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، فَقَالَ لَهُ: أَبِي حَدِّثْنَا، كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ ؟ قَالَ: كَانَ يُصَلِّي الْهَجِيرَ وَهِيَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْأُولَى حِينَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ وَيُصَلِّي الْعَصْرَ، ثُمَّ يَرْجِعُ أَحَدُنَا إِلَى أَهْلِهِ فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ، قَالَ: وَكَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُؤَخِّرَ الْعِشَاءَ، قَالَ: وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا، وَكَانَ يَنْفَتِلُ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ حِينَ يَعْرِفُ أَحَدُنَا جَلِيسَهُ وَيَقْرَأُ مِنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ.

ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے، کہا ہم سے عوف اعرابی نے، کہا کہ ہم سے ابوالمنہال سیار بن سلامہ نے، انہوں نے کہا کہ میں اپنے باپ سلامہ کے ساتھ ابوبرزہ اسلمی ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ان سے میرے والد صاحب نے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ فرض نمازیں کس طرح (یعنی کن کن اوقات میں) پڑھتے تھے۔ ہم سے اس کے بارے میں بیان فرمائیے۔ انہوں نے فرمایا کہ آپ ﷺ هجير (ظہر) جسے تم صلوٰۃ اولیٰ کہتے ہو سورج ڈھلتے ہی پڑھتے تھے۔ اور آپ ﷺ کے عصر پڑھنے کے بعد کوئی بھی شخص اپنے گھر واپس ہوتا اور وہ بھی مدینہ کے سب سے آخری کنارہ پر تو سورج ابھی صاف اور روشن ہوتا۔ مغرب کے بارے میں آپ نے جو کچھ بتایا مجھے یاد نہیں رہا۔ اور فرمایا کہ عشاء میں آپ ﷺ تاخیر پسند فرماتے تھے۔ اس سے پہلے سونے کو اور اس کے بعد بات کرنے کو پسند نہیں کرتے تھے۔ صبح کی نماز سے جب آپ ﷺ فارغ ہوتے تو ہم اپنے قریب بیٹھے ہوئے دوسرے شخص کو پہچان لیتے۔ آپ ﷺ فجر میں ساٹھ سے سو تک آیتیں پڑھتے تھے۔

Narrated Abu-l-Minhal (RA): My father and I went to Abi Barza Al-Aslami and my father said to him, "Tell us how Allahs Apostle ﷺ used to offer the compulsory congregational prayers." He said, "He used to pray the Zuhr prayer, which you call the first prayer, as the sun declined at noon, the Asr at a time when one of US could go to his family at the farthest place in Madinah while the sun was still hot. (The narrator forgot what Abu Barza had said about the Maghrib prayer), and the Prophet ﷺ preferred to pray the Isha late and disliked to sleep before it or talk after it. And he used to return after finishing the morning prayer at such a time when it was possible for one to recognize the person sitting by his side and he (the Prophet) used to recite 6O to 100 Ayat (verses) of the Quran in it."

600Sahih Bukhari

باب: اس بارے میں کہ مسئلے مسائل کی باتیں اور نیک باتیں عشاء کے بعد بھی کرنا درست ہے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، قال: انْتَظَرْنَا الْحَسَنَ ، وَرَاثَ عَلَيْنَا حَتَّى قَرُبْنَا مِنْ وَقْتِ قِيَامِهِ فَجَاءَ، فَقَالَ: دَعَانَا جِيرَانُنَا هَؤُلَاءِ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ : انتَظَرْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى كَانَ شَطْرُ اللَّيْلِ يَبْلُغُهُ، فَجَاءَ فَصَلَّى لَنَا ثُمَّ خَطَبَنَا، فَقَالَ: أَلَا إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا ثُمَّ رَقَدُوا، وَإِنَّكُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلَاةَ، قَالَ الْحَسَنُ : وَإِنَّ الْقَوْمَ لَا يَزَالُونَ بِخَيْرٍ مَا انْتَظَرُوا الْخَيْرَ، قَالَ قُرَّةُ : هُوَ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ہم سے عبداللہ بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعلی عبیداللہ حنفی نے، کہا ہم سے قرہ بن خالد سدوسی نے، انہوں نے کہا کہ ایک دن حسن بصری (رح) نے بڑی دیر کی۔ اور ہم آپ کا انتظار کرتے رہے۔ جب ان کے اٹھنے کا وقت قریب ہوگیا تو آپ آئے اور (بطور معذرت) فرمایا کہ میرے ان پڑوسیوں نے مجھے بلا لیا تھا (اس لیے دیر ہوگئی) پھر بتلایا کہ انس بن مالک ؓ نے کہا تھا کہ ہم ایک رات نبی کریم ﷺ کا انتظار کرتے رہے۔ تقریباً آدھی رات ہوگئی تو آپ ﷺ تشریف لائے، پھر ہمیں نماز پڑھائی۔ اس کے بعد خطبہ دیا۔ پس آپ نے فرمایا کہ دوسروں نے نماز پڑھ لی اور سو گئے۔ لیکن تم لوگ جب تک نماز کے انتظار میں رہے ہو گویا نماز ہی کی حالت میں رہے ہو۔ امام حسن بصری (رح) نے فرمایا کہ اگر لوگ کسی خیر کے انتظار میں بیٹھے رہیں تو وہ بھی خیر کی حالت ہی میں ہیں۔ قرہ بن خالد نے کہا کہ حسن کا یہ قول بھی انس ؓ کی حدیث کا ہے جو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔

Narrated Qurra bin Khalid (RA): Once he waited for Al-Hasan and he did not show up till it was about the usual time for him to start his speech; then he came and apologized saying, "Our neighbors invited us." Then he added, "Narrated Anas (RA), Once we waited for the Prophet ﷺ till it was midnight or about midnight. He came and led the prayer, and after finishing it, he addressed us and said, All the people prayed and then slept and you had been in prayer as long as you were waiting for it." Al-Hasan said, "The people are regarded as performing good deeds as long as they are waiting for doing good deeds." Al-Hasans statement is a portion of Anass Hadith from the Prophet.

601Sahih Bukhari

باب: اس بارے میں کہ مسئلے مسائل کی باتیں اور نیک باتیں عشاء کے بعد بھی کرنا درست ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَأَبُو بَكْرٍ ابْنُ أَبِي حَثْمَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ فِي آخِرِ حَيَاتِهِ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَكُمْ لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ فَإِنَّ رَأْسَ مِائَةٍ لَا يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ، فَوَهِلَ النَّاسُ فِي مَقَالَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَا يَتَحَدَّثُونَ مِنْ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ عَنْ مِائَةِ سَنَةٍ، وَإِنَّمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ، يُرِيدُ بِذَلِكَ أَنَّهَا تَخْرِمُ ذَلِكَ الْقَرْنَ.

ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب بن ابی حمزہ نے زہری سے خبر دی، کہا کہ مجھ سے سالم بن عبداللہ بن عمر ؓ اور ابوبکر بن ابی حثمہ نے حدیث بیان کی کہ عبداللہ بن عمر ؓ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے عشاء کی نماز پڑھی اپنی زندگی کے آخری زمانے میں۔ سلام پھیرنے کے بعد آپ کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ اس رات کے متعلق تمہیں کچھ معلوم ہے؟ آج اس روئے زمین پر جتنے انسان زندہ ہیں۔ سو سال بعد ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا۔ لوگوں نے نبی کریم ﷺ کا کلام سمجھنے میں غلطی کی اور مختلف باتیں کرنے لگے۔ (ابومسعود ؓ نے یہ سمجھا کہ سو برس بعد قیامت آئے گی) حالانکہ آپ ﷺ کا مقصد صرف یہ تھا کہ جو لوگ آج (اس گفتگو کے وقت) زمین پر بستے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی آج سے ایک صدی بعد باقی نہیں رہے گا۔ آپ ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ سو برس میں یہ قرن گزر جائے گا۔

Narrated Abdullah bin Umar (RA): The Prophet ﷺ prayed one of the lsha prayer in his last days and after finishing it with Taslim, he stood up and said, "Do you realize (the importance of) this night? Nobody present on the Surface of the earth to-night would be living after the completion of one hundred years from this night." The people made a mistake in grasping the meaning of this statement of Allahs Apostle ﷺ and they indulged in those things which are said about these narrators (i.e. some said that the Day of Resurrection will be established after 10O years etc.) But the Prophet ﷺ said, "Nobody present on the surface of earth tonight would be living after the completion of 10O years from this night"; he meant "When that century (people of that century) would pass away."

602Sahih Bukhari

باب: اپنی بیوی یا مہمان سے رات کو (عشاء کے بعد) گفتگو کرنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّ أَصْحَابَ الصُّفَّةِ كَانُوا أُنَاسًا فُقَرَاءَ، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ كَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ اثْنَيْنِ فَلْيَذْهَبْ بِثَالِثٍ، وَإِنْ أَرْبَعٌ فَخَامِسٌ أَوْ سَادِسٌ، وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ بِثَلَاثَةٍ، فَانْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَشَرَةٍ، قَالَ: فَهُوَ أَنَا وَأَبِي وَأُمِّي، فَلَا أَدْرِي، قَالَ: وَامْرَأَتِي وَخَادِمٌ بَيْنَنَا وَبَيْنَ بَيْتِ أَبِي بَكْرٍ، وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ تَعَشَّى عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ لَبِثَ حَيْثُ صُلِّيَتِ الْعِشَاءُ، ثُمَّ رَجَعَ فَلَبِثَ حَتَّى تَعَشَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ بَعْدَ مَا مَضَى مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ، قَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ: وَمَا حَبَسَكَ عَنْ أَضْيَافِكَ أَوْ قَالَتْ ضَيْفِكَ، قَالَ: أَوَمَا عَشَّيْتِيهِمْ، قَالَتْ: أَبَوْا حَتَّى تَجِيءَ، قَدْ عُرِضُوا فَأَبَوْا، قَالَ: فَذَهَبْتُ أَنَا فَاخْتَبَأْتُ، فَقَالَ: يَا غُنْثَرُ، فَجَدَّعَ وَسَبَّ، وَقَالَ كُلُوا لَا هَنِيئًا، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا أَطْعَمُهُ أَبَدًا وَايْمُ اللَّهِ مَا كُنَّا نَأْخُذُ مِنْ لُقْمَةٍ إِلَّا رَبَا مِنْ أَسْفَلِهَا أَكْثَرُ مِنْهَا، قَالَ: يَعْنِي حَتَّى شَبِعُوا وَصَارَتْ أَكْثَرَ مِمَّا كَانَتْ قَبْلَ ذَلِكَ، فَنَظَرَ إِلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ فَإِذَا هِيَ كَمَا هِيَ أَوْ أَكْثَرُ مِنْهَا، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: يَا أُخْتَ بَنِي فِرَاسٍ، مَا هَذَا ؟ قَالَتْ: لَا وَقُرَّةِ عَيْنِي، لَهِيَ الْآنَ أَكْثَرُ مِنْهَا قَبْلَ ذَلِكَ بِثَلَاثِ مَرَّاتٍ، فَأَكَلَ مِنْهَا أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ: إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ يَعْنِي يَمِينَهُ، ثُمَّ أَكَلَ مِنْهَا لُقْمَةً، ثُمَّ حَمَلَهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصْبَحَتْ عِنْدَهُ، وَكَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمٍ عَقْدٌ فَمَضَى الْأَجَلُ فَفَرَّقَنَا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا مَعَ كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ أُنَاسٌ اللَّهُ أَعْلَمُ كَمْ مَعَ كُلِّ رَجُلٍ، فَأَكَلُوا مِنْهَا أَجْمَعُونَ أَوْ كَمَا قَالَ.

ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ سلیمان بن طرخان نے، کہا کہ ہم سے ابوعثمان نہدی نے عبدالرحمٰن بن ابی بکر ؓ سے یہ حدیث بیان کی کہ اصحاب صفہ نادار مسکین لوگ تھے اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس کے گھر میں دو آدمیوں کا کھانا ہو تو وہ تیسرے (اصحاب صفہ میں سے کسی) کو اپنے ساتھ لیتا جائے۔ اور جس کے ہاں چار آدمیوں کا کھانا ہے تو وہ پانچویں یا چھٹے آدمی کو سائبان والوں میں سے اپنے ساتھ لے جائے۔ پس ابوبکر ؓ تین آدمی اپنے ساتھ لائے۔ اور نبی کریم ﷺ دس آدمیوں کو اپنے ساتھ لے گئے۔ عبدالرحمٰن بن ابی بکر ؓ نے بیان کیا کہ گھر کے افراد میں اس وقت باپ، ماں اور میں تھا۔ ابوعثمان راوی کا بیان ہے کہ مجھے یاد نہیں کہ عبدالرحمٰن بن ابی بکر نے یہ کہا یا نہیں کہ میری بیوی اور ایک خادم جو میرے اور ابوبکر ؓ دونوں کے گھر کے لیے تھا یہ بھی تھے۔ خیر ابوبکر ؓ نبی کریم ﷺ کے یہاں ٹھہر گئے۔ (اور غالباً کھانا بھی وہیں کھایا۔ صورت یہ ہوئی کہ) نماز عشاء تک وہیں رہے۔ پھر (مسجد سے) نبی کریم ﷺ کے حجرہ مبارک میں آئے اور وہیں ٹھہرے رہے تاآنکہ نبی کریم ﷺ نے بھی کھانا کھالیا۔ اور رات کا ایک حصہ گزر جانے کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے چاہا تو آپ گھر تشریف لائے تو ان کی بیوی (ام رومان) نے کہا کہ کیا بات پیش آئی کہ مہمانوں کی خبر بھی آپ نے نہ لی، یا یہ کہ مہمان کی خبر نہ لی۔ آپ نے پوچھا، کیا تم نے ابھی انہیں رات کا کھانا نہیں کھلایا۔ ام رومان نے کہا کہ میں کیا کروں آپ کے آنے تک انہوں نے کھانے سے انکار کیا۔ کھانے کے لیے ان سے کہا گیا تھا لیکن وہ نہ مانے۔ عبدالرحمٰن بن ابی بکر ؓ نے بیان کیا کہ میں ڈر کر چھپ گیا۔ ابوبکر ؓ نے پکارا اے غنثر! (یعنی او پاجی) آپ نے برا بھلا کہا اور کو سنے دئیے۔ فرمایا کہ کھاؤ تمہیں مبارک نہ ہو! اللہ کی قسم! میں اس کھانے کو کبھی نہیں کھاؤں گا۔ (آخر مہمانوں کو کھانا کھلایا گیا) (عبدالرحمٰن ؓ نے کہا) اللہ گواہ ہے کہ ہم ادھر ایک لقمہ لیتے تھے اور نیچے سے پہلے سے بھی زیادہ کھانا ہوجاتا تھا۔ بیان کیا کہ سب لوگ شکم سیر ہوگئے۔ اور کھانا پہلے سے بھی زیادہ بچ گیا۔ ابوبکر ؓ نے دیکھا تو کھانا پہلے ہی اتنا یا اس سے بھی زیادہ تھا۔ اپنی بیوی سے بولے۔ بنوفراس کی بہن! یہ کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا کہ میری آنکھ کی ٹھنڈک کی قسم! یہ تو پہلے سے تین گنا ہے۔ پھر ابوبکر ؓ نے بھی وہ کھانا کھایا اور کہا کہ میرا قسم کھانا ایک شیطانی وسوسہ تھا۔ پھر ایک لقمہ اس میں سے کھایا۔ اور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بقیہ کھانا لے گئے اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ وہ صبح تک آپ کے پاس رکھا رہا۔ عبدالرحمٰن نے کہا کہ ہم مسلمانوں کا ایک دوسرے قبیلے کے لوگوں سے معاہدہ تھا۔ اور معاہدہ کی مدت پوری ہوچکی تھی۔ (اس قبیلہ کا وفد معاہدہ سے متعلق بات چیت کرنے مدینہ میں آیا ہوا تھا) ہم نے ان میں سے بارہ آدمی جدا کئے اور ہر ایک کے ساتھ کتنے آدمی تھے اللہ کو ہی معلوم ہے ان سب نے ان میں سے کھایا۔ عبدالرحمٰن ؓ نے کچھ ایسا ہی کہا۔

Narrated Abu Uthman (RA): Abdur Rahman bin Abi Bakr said, "The Suffa Companions were poor people and the Prophet ﷺ said, Whoever has food for two persons should take a third one from them (Suffa companions). And whosoever has food for four persons he should take one or two from them Abu Bakr (RA) took three men and the Prophet ﷺ took ten of them." Abdur Rahman added, my father my mother and I were there (in the house). (The sub-narrator is in doubt whether Abdur Rahman also said, My wife and our servant who was common for both my house and Abu Bakrs house). Abu Bakr (RA) took his supper with the Prophet ﷺ and remained there till the Isha prayer was offered. Abu Bakr (RA) went back and stayed with the Prophet ﷺ till the Prophet ﷺ took his meal and then Abu Bakr (RA) returned to his house after a long portion of the night had passed. Abu Bakrs wife said, What detained you from your guests (or guest)? He said, Have you not served them yet? She said, They refused to eat until you come. The food was served for them but they refused." Abdur Rahman added, "I went away and hid myself (being afraid of Abu Bakr) and in the meantime he (Abu Bakr) called me, O Ghunthar (a harsh word)! and also called me bad names and abused me and then said (to his family), Eat. No welcome for you. Then (the supper was served). Abu Bakr (RA) took an oath that he would not eat that food. The narrator added: By Allah, whenever any one of us (myself and the guests of Suffa companions) took anything from the food, it increased from underneath. We all ate to our fill and the food was more than it was before its serving. Abu Bakr (RA) looked at it (the food) and found it as it was before serving or even more than that. He addressed his wife (saying) O the sister of Bani Firas! What is this? She said, O the pleasure of my eyes! The food is now three times more than it was before. Abu Bakr (RA) ate from it, and said, That (oath) was from Satan meaning his oath (not to eat). Then he again took a morsel (mouthful) from it and then took the rest of it to the Prophet. So that meal was with the Prophet. There was a treaty between us and some people, and when the period of that treaty had elapsed the Prophet ﷺ divided us into twelve (groups) (the Prophets companions) each being headed by a man. Allah knows how many men were under the command of each (leader). So all of them (12 groups of men) ate of that meal."

522Sahih Bukhari

باب: نماز کے اوقات اور ان کے فضائل۔

قَالَ عُرْوَةُ: وَلَقَدْ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ، "أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ".

عروہ رحمہ اللہ علیہ نے کہا کہ مجھ سے عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ عصر کی نماز اس وقت پڑھ لیتے تھے جب ابھی دھوپ ان کے حجرہ میں موجود ہوتی تھی اس سے بھی پہلے کہ وہ دیوار پر چڑھے۔

Urwa added, "Aisha told me that Allah's Apostle used to pray `Asr prayer when the sunshine was still inside her residence (during the early time of `Asr).

534Sahih Bukhari(533-534)

باب: اس بارے میں کہ سخت گرمی میں ظہر کو ذرا ٹھنڈے وقت پڑھنا۔

حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ : حَدَّثَنَا الْأَعْرَجُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَغَيْرُهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَنَافِعٌ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ.

ہم سے ایوب بن سلیمان مدنی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر عبدالحمید بن ابی اویس نے سلیمان بن بلال کے واسطہ سے کہ صالح بن کیسان نے کہا کہ ہم سے اعرج عبدالرحمٰن وغیرہ نے حدیث بیان کی۔ وہ ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے تھے اور عبداللہ بن عمر ؓ کے مولیٰ نافع عبداللہ بن عمر ؓ سے اس حدیث کی روایت کرتے تھے کہ ان دونوں صحابہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب گرمی تیز ہوجائے تو نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھو، کیونکہ گرمی کی تیزی جہنم کی آگ کی بھاپ سے ہوتی ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) and Abdullah bin Umar (RA): Allahs Apostle ﷺ said, "If it is very hot, then pray the Zuhr prayer when it becomes (a bit) cooler, as the severity of the heat is from the raging of the Hell-fire."

537Sahih Bukhari

باب: اس بارے میں کہ سخت گرمی میں ظہر کو ذرا ٹھنڈے وقت پڑھنا۔

وَاشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا، فَقَالَتْ: يَا رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا، فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ، فَهُوَ أَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ، وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الزَّمْهَرِيرِ".

دوزخ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ اے میرے رب! (آگ کی شدت کی وجہ سے) میرے بعض حصہ نے بعض حصہ کو کھا لیا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی، ایک سانس جاڑے میں اور ایک سانس گرمی میں۔ اب انتہائی سخت گرمی اور سخت سردی جو تم لوگ محسوس کرتے ہو وہ اسی سے پیدا ہوتی ہے۔

The Hell-fire of Hell complained to its Lord saying: O Lord! My parts are eating (destroying) one another. So Allah allowed it to take two breaths, one in the winter and the other in the summer. The breath in the summer is at the time when you feel the severest heat and the breath in the winter is at the time when you feel the severest cold."