نماز کا بیان

Sahih Bukhari · Chapter 8 · 156 hadiths · Page 8 of 9

505Sahih Bukhari

باب: دو ستونوں کے بیچ میں نمازی اگر اکیلا ہو تو نماز پڑھ سکتا ہے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَبِلَالٌ، وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْحَجَبِيُّ فَأَغْلَقَهَا عَلَيْهِ وَمَكَثَ فِيهَا، فَسَأَلْتُ بِلَالًاحِينَ خَرَجَ: مَا صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: جَعَلَ عَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ وَعَمُودًا عَنْ يَمِينِهِ وَثَلَاثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَاءَهُ، وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ ثُمَّ صَلَّى، وَقَالَ لَنَا إِسْمَاعِيلُ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، وَقَالَ: عَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ.

ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہمیں امام مالک بن انس نے خبر دی نافع سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر ؓ سے کہ نبی کریم ﷺ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے اور اسامہ بن زید، بلال اور عثمان بن طلحہ حجبی بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھے۔ پھر عثمان ؓ نے کعبہ کا دروازہ بند کردیا۔ اور آپ ﷺ اس میں ٹھہرے رہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے تو میں نے بلال ؓ سے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ نے اندر کیا کیا؟ انہوں نے کہا کہ آپ نے ایک ستون کو تو بائیں طرف چھوڑا اور ایک کو دائیں طرف اور تین کو پیچھے اور اس زمانہ میں خانہ کعبہ میں چھ ستون تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی۔ امام بخاری (رح) نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابی ادریس نے کہا، وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے امام مالک نے یہ حدیث یوں بیان کی کہ آپ ﷺ نے اپنے دائیں طرف دو ستون چھوڑے تھے۔

Narrated Nafi: Abdullah bin Umar said, "Allahs Apostle ﷺ entered the Ka’bah along with Usama bin Zaid, Bilal (RA) and Uthman bin Talha Al-Hajabi and closed the door and stayed there for some time. I asked Bilal (RA) when he came out, What did the Prophet ﷺ do? He replied, He offered prayer with one pillar to his left and one to his right and three behind. In those days the Ka’bah was supported by six pillars." Malik said: "There were two pillars on his (the Prophets) right side."

506Sahih Bukhari

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ، كَانَ إِذَا دَخَلَ الْكَعْبَةَ مَشَى قِبَلَ وَجْهِهِ حِينَ يَدْخُلُ وَجَعَلَ الْبَابَ قِبَلَ ظَهْرِهِ، فَمَشَى حَتَّى يَكُونَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِدَارِ الَّذِي قِبَلَ وَجْهِهِ قَرِيبًا مِنْ ثَلَاثَةِ أَذْرُعٍ صَلَّى يَتَوَخَّى الْمَكَانَ الَّذِي أَخْبَرَهُ بِهِبِلَالٌ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِيهِ، قَالَ: وَلَيْسَ عَلَى أَحَدِنَا بَأْسٌ إِنْ صَلَّى فِي أَيِّ نَوَاحِي الْبَيْتِ شَاءَ.

ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوضمرہ انس بن عیاض نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا انہوں نے نافع سے کہ عبداللہ بن عمر ؓ جب کعبہ میں داخل ہوتے تو سیدھے منہ کے سامنے چلے جاتے۔ دروازہ پیٹھ کی طرف ہوتا اور آپ آگے بڑھتے جب ان کے اور سامنے کی دیوار کا فاصلہ قریب تین ہاتھ کے رہ جاتا تو نماز پڑھتے۔ اس طرح آپ اس جگہ نماز پڑھنا چاہتے تھے جس کے متعلق بلال ؓ نے آپ کو بتایا تھا کہ نبی کریم ﷺ نے یہیں نماز پڑھی تھی۔ آپ فرماتے تھے کہ بیت اللہ میں جس کونے میں ہم چاہیں نماز پڑھ سکتے ہیں۔ اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔

Narrated Nafi: Whenever Abdullah entered the Kabah, he used to go ahead leaving the door of the Kabah behind him. He would proceed on till the remaining distance between him and the opposite wall about three cubits. Then he would off prayer there where the Prophet ﷺ had offered Salat, as Bilal informed me. Ibn Umar said, "It does not matter for any of us to offer prayers at any place inside the Kabah”.

507Sahih Bukhari

باب: اونٹنی، اونٹ، درخت اور پالان کو سامنے کر کے نماز پڑھنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يُعَرِّضُ رَاحِلَتَهُ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا، قُلْتُ: أَفَرَأَيْتَ إِذَا هَبَّتِ الرِّكَابُ، قَالَ: كَانَ يَأْخُذُ هَذَا الرَّحْلَ فَيُعَدِّلُهُ فَيُصَلِّي إِلَى آخِرَتِهِ أَوْ قَالَ مُؤَخَّرِهِ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَفْعَلُهُ.

ہم سے محمد بن ابی بکر مقدمی بصریٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا عبیداللہ بن عمر سے، وہ نافع سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر ؓ سے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے کہ آپ ﷺ اپنی سواری کو سامنے عرض میں کرلیتے اور اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے، عبیداللہ بن عمر نے نافع سے پوچھا کہ جب سواری اچھلنے کودنے لگتی تو اس وقت آپ کیا کیا کرتے تھے؟ نافع نے کہا کہ آپ اس وقت کجاوے کو اپنے سامنے کرلیتے اور اس کے آخری حصے کی (جس پر سوار ٹیک لگاتا ہے ایک کھڑی سی لکڑی کی) طرف منہ کر کے نماز پڑھتے اور عبداللہ بن عمر ؓ بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔

Narrated Nafi (RA): "The Prophet ﷺ used to make his she-camel sit across and he would pray facing it (as a Sutra)." I asked, "What would the Prophet ﷺ do if the she-camel was provoked and moved?" He said, "He would take its camel-saddle and put it in front of him and pray facing its back part (as a Sutra). And Ibn Umar (RA) used to do the same." (This indicates that one should not pray except behind a Sutra).

508Sahih Bukhari

باب: چارپائی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا۔

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: أَعَدَلْتُمُونَا بِالْكَلْبِ وَالْحِمَارِ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي مُضْطَجِعَةً عَلَى السَّرِيرِ فَيَجِيءُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَتَوَسَّطُ السَّرِيرَ فَيُصَلِّي، فَأَكْرَهُ أَنْ أُسَنِّحَهُ، فَأَنْسَلُّ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيِ السَّرِيرِ حَتَّى أَنْسَلَّ مِنْ لِحَافِي.

ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا منصور بن معتمر سے، انہوں نے ابراہیم نخعی سے، انہوں نے اسود بن یزید سے، انہوں نے عائشہ ؓ سے آپ نے فرمایا تم لوگوں نے ہم عورتوں کو کتوں اور گدھوں کے برابر بنادیا۔ حالانکہ میں چارپائی پر لیٹی رہتی تھی۔ اور نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور چارپائی کے بیچ میں آجاتے (یا چارپائی کو اپنے اور قبلے کے بیچ میں کرلیتے) پھر نماز پڑھتے۔ مجھے آپ ﷺ کے سامنے پڑا رہنا برا معلوم ہوتا، اس لیے میں پائینتی کی طرف سے کھسک کے لحاف سے باہر نکل جاتی۔

Narrated Aishah (RA): Do you make us (women) equal to dogs and donkeys? While I used to lie in my bed, the Prophet ﷺ would come and pray facing the middle of the bed. I used to consider it not good to stand in front of him in his prayers. So I used to slip away slowly and quietly from the foot of the bed till I got out of my guilt.

509Sahih Bukhari

باب: چاہیے کہ نماز پڑھنے والا اپنے سامنے سے گزرنے والے کو روک دے۔

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ المُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَاحُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ الْعَدَوِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ السَّمَّانُ ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ يُصَلِّي إِلَى شَيْءٍ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ، فَأَرَادَ شَابٌّ مِنْ بَنِي أَبِي مُعَيْطٍ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَدَفَعَ أَبُو سَعِيدٍ فِي صَدْرِهِ فَنَظَرَ الشَّابُّ فَلَمْ يَجِدْ مَسَاغًا إِلَّا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَعَادَ لِيَجْتَازَ فَدَفَعَهُ أَبُو سَعِيدٍ أَشَدَّ مِنَ الْأُولَى فَنَالَ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَى مَرْوَانَ فَشَكَا إِلَيْهِ مَا لَقِيَ مِنْأَبِي سَعِيدٍ، وَدَخَلَ أَبُو سَعِيدٍ خَلْفَهُ عَلَى مَرْوَانَ فَقَالَ: مَا لَكَ وَلِابْنِ أَخِيكَ يَا أَبَا سَعِيدٍ ؟ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى شَيْءٍ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ، فَأَرَادَ أَحَدٌ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلْيَدْفَعْهُ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ.

ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یونس بن عبید نے حمید بن ہلال کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے ابوصالح ذکوان سمان سے کہ ابو سعید خدری ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا (دوسری سند) اور ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن مغیرہ نے، کہا ہم سے حمید بن ہلال عدوی نے، کہا ہم سے ابوصالح سمان نے، کہا میں نے ابو سعید خدری ؓ کو جمعہ کے دن نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔ آپ کسی چیز کی طرف منہ کئے ہوئے لوگوں کے لیے اسے آڑ بنائے ہوئے تھے۔ ابومعیط کے بیٹوں میں سے ایک جوان نے چاہا کہ آپ کے سامنے سے ہو کر گزر جائے۔ ابوسعید ؓ نے اس کے سینہ پر دھکا دے کر باز رکھنا چاہا۔ جوان نے چاروں طرف نظر دوڑائی لیکن کوئی راستہ سوائے سامنے سے گزرنے کے نہ ملا۔ اس لیے وہ پھر اسی طرف سے نکلنے کے لیے لوٹا۔ اب ابوسعید ؓ نے پہلے سے بھی زیادہ زور سے دھکا دیا۔ اسے ابوسعید ؓ سے شکایت ہوئی اور وہ اپنی یہ شکایت مروان کے پاس لے گیا۔ اس کے بعد ابوسعید ؓ بھی تشریف لے گئے۔ مروان نے کہا اے ابوسعید ؓ آپ میں اور آپ کے بھتیجے میں کیا معاملہ پیش آیا۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ جب کوئی شخص نماز کسی چیز کی طرف منہ کر کے پڑھے اور اس چیز کو آڑ بنا رہا ہو پھر بھی اگر کوئی سامنے سے گزرے تو اسے روک دینا چاہیے۔ اگر اب بھی اسے اصرار ہو تو اسے لڑنا چاہیے۔ کیونکہ وہ شیطان ہے۔

Narrated Abu Salih As-Samman (RA): I saw Abu Said Al-Khudri(RA) praying on a Friday, behind something which acted as a Sutra. A young man from Bani Abi Muait, wanted to pass in front of him, but Abu Said repulsed him with a push on his chest. Finding no alternative he again tried to pass but Abu Said pushed him with a greater force. The young man abused Abu Said and went to Marwan and lodged a complaint against Abu Said and Abu Said followed the young man to Marwan who asked him, "O Abu Said! What has happened between you and the son of your brother?" Abu Said said to him, "I heard the Prophet ﷺ saying, If anybody amongst you is praying behind something as a Sutra and somebody tries to pass in front of him, then he should repulse him and if he refuses, he should use force against him for he is a satan. "

510Sahih Bukhari

باب: نمازی کے آگے سے گزرنے کا گناہ کتنا ہے؟

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ أَرْسَلَهُ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ يَسْأَلُهُ، مَاذَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي ؟ فَقَالَ أَبُو جُهَيْمٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ، لَكَانَ أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ أَبُو النَّضْرِ: لَا أَدْرِي، أَقَالَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ شَهْرًا أَوْ سَنَةً.

ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے امام مالک نے عمر بن عبیداللہ کے غلام ابونضر سالم بن ابی امیہ سے خبر دی۔ انہوں نے بسر بن سعید سے کہ زید بن خالد نے انہیں ابوجہیم عبداللہ انصاری ؓ کی خدمت میں ان سے یہ بات پوچھنے کے لیے بھیجا کہ انہوں نے نماز پڑھنے والے کے سامنے سے گزرنے والے کے متعلق نبی کریم ﷺ سے کیا سنا ہے۔ ابوجہیم نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والا جانتا کہ اس کا کتنا بڑا گناہ ہے تو اس کے سامنے سے گزرنے پر چالیس تک وہیں کھڑے رہنے کو ترجیح دیتا۔ ابوالنضر نے کہا کہ مجھے یاد نہیں کہ بسر بن سعید نے چالیس دن کہا یا مہینہ یا سال۔

Narrated Busr bin Said (RA): That Zaid bin Khalid sent him to Abi Juhaim to ask him what he had heard from Allahs Apostle ﷺ about a person passing in front of another person who was praying. Abu Juhaim replied, "Allahs Apostle ﷺ said, If the person who passes in front of another person in prayer knew the magnitude of his sin he would prefer to wait for 40 (days, months or years) rather than to pass in front of him." Abu An-Nadr said, "I do not remember exactly whether he said 4O days, months or years."

511Sahih Bukhari

باب: نماز پڑھتے وقت ایک نمازی کا دوسرے شخص کی طرف رخ کرنا کیسا ہے؟

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ يَعْنِي ابْنَ صُبَيْحٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَهَا مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ، فَقَالُوا: يَقْطَعُهَا الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ، قَالَتْ: قَدْ جَعَلْتُمُونَا كِلَابًا، لَقَدْرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَإِنِّي لَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ وَأَنَا مُضْطَجِعَةٌ عَلَى السَّرِيرِ، فَتَكُونُ لِي الْحَاجَةُ فَأَكْرَهُ أَنْ أَسْتَقْبِلَهُ فَأَنْسَلُّ انْسِلَالًا، وَعَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ نَحْوَهُ.

ہم سے اسماعیل بن خلیل نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا سلیمان اعمش کے واسطہ سے، انہوں نے مسلم بن صبیح سے، انہوں نے مسروق سے، انہوں نے عائشہ ؓ سے کہ ان کے سامنے ذکر ہوا کہ نماز کو کیا چیزیں توڑ دیتی ہیں، لوگوں نے کہا کہ کتا، گدھا اور عورت (بھی) نماز کو توڑ دیتی ہے۔ (جب سامنے آجائے) عائشہ ؓ نے فرمایا کہ تم نے ہمیں کتوں کے برابر بنادیا۔ حالانکہ میں جانتی ہوں کہ نبی کریم ﷺ نماز پڑھ رہے تھے۔ میں آپ ﷺ کے اور آپ ﷺ کے قبلہ کے درمیان (سامنے) چارپائی پر لیٹی ہوئی تھی۔ مجھے ضرورت پیش آتی تھی اور یہ بھی اچھا نہیں معلوم ہوتا تھا کہ خود کو آپ ﷺ کے سامنے کر دوں۔ اس لیے میں آہستہ سے نکل آتی تھی۔ اعمش نے ابراہیم سے، انہوں نے اسود سے، انہوں نے عائشہ سے اسی طرح یہ حدیث بیان کی۔

Narrated Aishah (RA): The things which annul the prayers were mentioned before me. They said, "Prayer is annulled by a dog, a donkey and a woman (if they pass in front of the praying people)." I said, "You have made us (i.e. women) dogs. I saw the Prophet ﷺ praying while I used to lie in my bed between him and the Qibla. Whenever I was in need of something, I would slip away. For I disliked facing him."

512Sahih Bukhari

باب: سوتے ہوئے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا رَاقِدَةٌ مُعْتَرِضَةٌ عَلَى فِرَاشِهِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَنِي فَأَوْتَرْتُ.

ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے باپ نے عائشہ ؓ کے واسطے سے بیان کیا، وہ فرماتی تھیں کہ نبی کریم ﷺ نماز پڑھتے رہتے اور میں (آپ ﷺ کے سامنے) بچھونے پڑ آڑی سوتی ہوئی پڑی ہوتی۔ جب آپ ﷺ وتر پڑھنا چاہتے تو مجھے بھی جگا دیتے اور میں بھی وتر پڑھ لیتی تھی۔

Narrated Aishah (RA): The Prophet ﷺ used to pray while I was sleeping across in his bed in front of him. Whenever he wanted to pray Witr, he would wake me up and I would pray Witr.

513Sahih Bukhari

باب: عورت کے پیچھے نفل نماز پڑھنا۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَايَ فِي قِبْلَتِهِ، فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي فَقَبَضْتُ رِجْلَيَّ، فَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُمَا، قَالَتْ: وَالْبُيُوتُ يَوْمَئِذٍ لَيْسَ فِيهَا مَصَابِيحُ.

ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی عمر بن عبیداللہ کے غلام ابوالنضر سے، انہوں نے ابوسلمہ عبداللہ بن عبدالرحمٰن سے، انہوں نے نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ عائشہ ؓ سے کہ آپ ؓ نے فرمایا، میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے سو جایا کرتی تھی۔ میرے پاؤں آپ ﷺ کے سامنے (پھیلے ہوئے) ہوتے۔ جب آپ ﷺ سجدہ کرتے تو پاؤں کو ہلکے سے دبا دیتے اور میں انہیں سکیڑ لیتی پھر جب قیام فرماتے تو میں انہیں پھیلا لیتی تھی اس زمانہ میں گھروں کے اندر چراغ نہیں ہوتے تھے۔ (معلوم ہوا کہ ایسا کرنا بھی جائز ہے) ۔

Narrated Aishah (RA): The wife of the Prophet ﷺ, "I used to sleep in front of Allahs Apostle ﷺ with my legs opposite his Qibla (facing him); and whenever he prostrated, he pushed my feet and I withdrew them and whenever he stood, I stretched them." Aisha (RA) added, "In those days there were no lamps in the houses."

514Sahih Bukhari

باب: اس شخص کی دلیل جس نے یہ کہا کہ نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی۔

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ . ح قَالَ الْأَعْمَشُ : وَحَدَّثَنِي مُسْلِمٌ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ذُكِرَ عِنْدَهَا مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ، فَقَالَتْ: شَبَّهْتُمُونَا بِالْحُمُرِ وَالْكِلَابِ، وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَإِنِّي عَلَى السَّرِيرِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ مُضْطَجِعَةً، فَتَبْدُو لِي الْحَاجَةُ فَأَكْرَهُ أَنْ أَجْلِسَ فَأُوذِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْسَلُّ مِنْ عِنْدِ رِجْلَيْهِ.

ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا کہا، کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابراہیم نے اسود کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے عائشہ ؓ سے (دوسری سند) اور اعمش نے کہا کہ مجھ سے مسلم بن صبیح نے مسروق کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے عائشہ ؓ سے کہ ان کے سامنے ان چیزوں کا ذکر ہوا۔ جو نماز کو توڑ دیتی ہیں یعنی کتا، گدھا اور عورت۔ اس پر عائشہ ؓ نے فرمایا کہ تم لوگوں نے ہمیں گدھوں اور کتوں کے برابر کردیا۔ حالانکہ خود نبی کریم ﷺ اس طرح نماز پڑھتے تھے کہ میں چارپائی پر آپ ﷺ کے اور قبلہ کے بیچ میں لیٹی رہتی تھی۔ مجھے کوئی ضرورت پیش آئی اور چونکہ یہ بات پسند نہ تھی کہ آپ ﷺ کے سامنے (جب کہ آپ ﷺ نماز پڑھ رہے ہوں) بیٹھوں اور اس طرح آپ ﷺ کو تکلیف ہو۔ اس لیے میں آپ ﷺ کے پاؤں کی طرف سے خاموشی کے ساتھ نکل جاتی تھی۔

Narrated Aishah (RA): The things which annual prayers were mentioned before me (and those were): a dog, a donkey and a woman. I said, "You have compared us (women) to donkeys and dogs. By Allah! I saw the Prophet ﷺ praying while I used to lie in (my) bed between him and the Qibla. Whenever I was in need of something, I disliked sitting and troubling the Prophet. So, I would slip away by the side of his feet."

515Sahih Bukhari

باب: اس شخص کی دلیل جس نے یہ کہا کہ نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی۔

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَمَّهُ عَنِ الصَّلَاةِ يَقْطَعُهَا شَيْءٌ، فَقَالَ: لَا يَقْطَعُهَا شَيْءٌ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ فَيُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ وَإِنِّي لَمُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ عَلَى فِرَاشِ أَهْلِهِ.

ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں یعقوب بن ابراہیم نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے میرے بھتیجے ابن شہاب نے بیان کیا، انہوں نے اپنے چچا سے پوچھا کہ کیا نماز کو کوئی چیز توڑ دیتی ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ نہیں، اسے کوئی چیز نہیں توڑتی۔ کیونکہ مجھے عروہ بن زبیر ؓ نے خبر دی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ عائشہ ؓ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کھڑے ہو کر رات کو نماز پڑھتے اور میں آپ ﷺ کے سامنے آپ ﷺ کے اور قبلہ کے درمیان عرض میں بستر پر لیٹی رہتی تھی۔

Narrated Aishah (RA): (The wife of the Prophet ﷺ) Allahs Apostle ﷺ used to get up at night and pray while I used to lie across between him and the Qibla on his familys bed.

516Sahih Bukhari

باب: اس بارے میں کہ نماز میں اگر کوئی اپنی گردن پر کسی بچی کو اٹھا لے تو کیا حکم ہے؟

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ حَامِلٌ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلِأَبِي الْعَاصِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ، فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا وَإِذَا قَامَ حَمَلَهَا.

ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک نے عامر بن عبداللہ بن زبیر ؓ سے خبر دی، انہوں نے عمرو بن سلیم زرقی سے، انہوں نے ابوقتادہ انصاری ؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ امامہ بنت زینب بنت رسول اللہ ﷺ کو (بعض اوقات) نماز پڑھتے وقت اٹھائے ہوتے تھے۔ ابوالعاص بن ربیعہ بن عبدشمس کی حدیث میں ہے کہ سجدہ میں جاتے تو اتار دیتے اور جب قیام فرماتے تو اٹھا لیتے۔

Narrated Abu Qatada Al-Ansari (RA): Allahs Apostle ﷺ was praying and he was carrying Umama the daughters of Zainab, the daughter of Allahs Apostle ﷺ and she was the daughter of As bin Rabia bin AbduShams. When he prostrated, he put her down and when he stood, he carried her (on his neck).

517Sahih Bukhari

باب: ایسے بستر کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا جس پر حائضہ عورت ہو۔

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي خَالَتِيمَيْمُونَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ ، قَالَتْ: كَانَ فِرَاشِي حِيَالَ مُصَلَّى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرُبَّمَا وَقَعَ ثَوْبُهُ عَلَيَّ وَأَنَا عَلَى فِرَاشِي.

ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشیم نے شیبانی کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن شداد بن ہاد سے، کہا مجھے میری خالہ میمونہ بنت الحارث ؓ نے خبر دی کہ میرا بستر نبی کریم ﷺ کے مصلے کے برابر میں ہوتا تھا۔ اور بعض دفعہ آپ ﷺ کا کپڑا (نماز پڑھتے میں) میرے اوپر آجاتا اور میں اپنے بستر پر ہی ہوتی تھی۔

Narrated Maimuna bint Al-Harith (RA): My bed was beside the praying place (Musalla) of the Prophet ﷺ and sometimes his garment fell on me while I used to lie in my bed.

518Sahih Bukhari

باب: ایسے بستر کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا جس پر حائضہ عورت ہو۔

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَيْمُونَةَ ، تَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ نَائِمَةٌ، فَإِذَا سَجَدَ أَصَابَنِي ثَوْبُهُ وَأَنَا حَائِضٌ، وَزَادَ مُسَدَّدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سليمان الشيبانِي وَأَنَا حَائِضٌ.

ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبانی سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن شداد بن ہاد نے بیان کیا، کہا ہم نے میمونہ ؓ سے سنا، وہ فرماتی تھیں کہ نبی کریم ﷺ نماز پڑھتے ہوتے اور میں آپ ﷺ کے برابر میں سوتی رہتی۔ جب آپ ﷺ سجدہ میں جاتے تو آپ ﷺ کا کپڑا مجھے چھو جاتا حالانکہ میں حائضہ ہوتی تھی۔

Narrated Maimuna (RA): The Prophet ﷺ used to pray while I used to sleep beside him during my periods (menses) and in prostrations his garment used to touch me.

519Sahih Bukhari

باب: اس بیان میں کہ کیا مرد سجدہ کرتے وقت اپنی بیوی کو چھو سکتا ہے؟ (تاکہ وہ سکڑ کر جگہ چھوڑ دے کہ بآسانی سجدہ کیا جا سکے)۔

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: بِئْسَمَا عَدَلْتُمُونَا بِالْكَلْبِ وَالْحِمَارِ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا مُضْطَجِعَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ غَمَزَ رِجْلَيَّ فَقَبَضْتُهُمَا.

ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے قاسم بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے عائشہ ؓ سے، آپ نے فرمایا کہ تم نے برا کیا کہ ہم کو کتوں اور گدھوں کے حکم میں کردیا۔ خود نبی کریم ﷺ نماز پڑھ رہے تھے۔ میں آپ ﷺ کے سامنے لیٹی ہوئی تھی۔ جب سجدہ کرنا چاہتے تو میرے پاؤں کو چھو دیتے اور میں انہیں سکیڑ لیتی تھی۔

Narrated Aishah (RA): It is not good that you people have made us (women) equal to dogs and donkeys. No doubt I saw Allahs Apostle ﷺ praying while I used to lie between him and the Qibla and when he wanted to prostrate, he pushed my legs and I withdrew them.

520Sahih Bukhari

باب: اس بارے میں کہ اگر عورت نماز پڑھنے والے سے گندگی ہٹا دے (تو مضائقہ نہیں ہے)۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ السُّورَمَارِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي عِنْدَ الْكَعْبَةِ وَجَمْعُ قُرَيْشٍ فِي مَجَالِسِهِمْ، إِذْ قَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ: أَلَا تَنْظُرُونَ إِلَى هَذَا الْمُرَائِي، أَيُّكُمْ يَقُومُ إِلَى جَزُورِ آلِ فُلَانٍ فَيَعْمِدُ إِلَى فَرْثِهَا وَدَمِهَا وَسَلَاهَا فَيَجِيءُ بِهِ، ثُمَّ يُمْهِلُهُ حَتَّى إِذَا سَجَدَ وَضَعَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ فَانْبَعَثَ أَشْقَاهُمْ، فَلَمَّا سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، وَثَبَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدًا، فَضَحِكُوا حَتَّى مَالَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ مِنَ الضَّحِكِ، فَانْطَلَقَ مُنْطَلِقٌ إِلَى فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام وَهِيَ جُوَيْرِيَةٌ فَأَقْبَلَتْ تَسْعَى، وَثَبَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدًا، حَتَّى أَلْقَتْهُ عَنْهُ وَأَقْبَلَتْ عَلَيْهِمْ تَسُبُّهُمْ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ، قَالَ: اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ، اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ، اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ، ثُمَّ سَمَّى اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِعَمْرِو بْنِ هِشَامٍ، وَعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ، وَأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ، وَعُمَارَةَ بْنِ الْوَلِيدِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَوَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُمْ صَرْعَى يَوْمَ بَدْرٍ، ثُمَّ سُحِبُوا إِلَى الْقَلِيبِ قَلِيبِ بَدْرٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَأُتْبِعَ أَصْحَابُ الْقَلِيبِ لَعْنَةً.

ہم سے احمد بن اسحاق سرماری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے اسرائیل نے ابواسحاق کے واسطہ سے بیان کیا۔ انہوں نے عمرو بن میمون سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے، کہا کہ رسول اللہ ﷺ کعبہ کے پاس کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ قریش اپنی مجلس میں (قریب ہی) بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں ان میں سے ایک قریشی بولا اس ریاکار کو نہیں دیکھتے؟ کیا کوئی ہے جو فلاں قبیلہ کے ذبح کئے ہوئے اونٹ کا گوبر، خون اور اوجھڑی اٹھا لائے۔ پھر یہاں انتظار کرے۔ جب یہ (نبی کریم ﷺ ) سجدہ میں جائے تو گردن پر رکھ دے (چنانچہ اس کام کو انجام دینے کے لیے) ان میں سے سب سے زیادہ بدبخت شخص اٹھا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں گئے تو اس نے آپ ﷺ کی گردن مبارک پر یہ غلاظتیں ڈال دیں۔ نبی کریم ﷺ سجدہ ہی کی حالت میں سر رکھے رہے۔ مشرکین (یہ دیکھ کر) ہنسے اور مارے ہنسی کے ایک دوسرے پر لوٹ پوٹ ہونے لگے۔ ایک شخص (غالباً ابن مسعود ؓ) فاطمہ ؓ کے پاس آئے۔ وہ ابھی بچہ تھیں۔ آپ ؓ دوڑتی ہوئی آئیں۔ نبی کریم ﷺ اب بھی سجدہ ہی میں تھے۔ پھر (فاطمہ ؓ نے) ان غلاظتوں کو آپ ﷺ کے اوپر سے ہٹایا اور مشرکین کو برا بھلا کہا۔ نبی کریم ﷺ نے نماز پوری کر کے فرمایا یا اللہ قریش پر عذاب نازل کر۔ یا اللہ قریش پر عذاب نازل کر۔ یا اللہ قریش پر عذاب نازل کر۔ پھر نام لے کر کہا یا اللہ! عمرو بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، امیہ بن خلف، عقبہ بن ابی معیط اور عمارہ ابن ولید کو ہلاک کر۔ عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا، اللہ کی قسم! میں نے ان سب کو بدر کی لڑائی میں مقتول پایا۔ پھر انہیں گھسیٹ کر بدر کے کنویں میں پھینک دیا گیا۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کنویں والے اللہ کی رحمت سے دور کر دئیے گئے۔

Narrated Amr bin Maimuin (RA): Abdullah bin Masud (RA) said, "While Allahs Apostle ﷺ was praying beside the Ka’bah, there were some Quraish people sitting in a gathering. One of them said, Dont you see this (who does deeds just to show off)? Who amongst you can go and bring the dung, blood and the abdominal contents (intestines, etc). Of the slaughtered camels of the family of so and so and then wait till he prostrates and put that in between his shoulders? The most unfortunate amongst them (Uqba bin Abi Muait) went (and brought them) and when Allahs Apostle ﷺ prostrated, he put them between his shoulders. The Prophet ﷺ remained in prostration and they laughed so much so that they fell on each other. A passerby went to Fatima, who was a young girl in those days. She came running and the Prophet ﷺ was still in prostration. She removed them and cursed upon the Quraish on their faces. When Allahs Apostle ﷺ completed his prayer, he said, O Allah! Take revenge on Quraish. He said so thrice and added, O Allah! take revenge on Amr bin Hisham, Utba bin Rabia, Shaiba bin Rabia, Al-Walid binUtba, Umaiya bin Khalaf, Uqba bin Abi Muait and Umar a bin Al-Walid." Abdullah added, "By Allah! I saw all of them dead in the battle field on the day of Badr and they were dragged and thrown in the Qalib (a well) at Badr: Allahs Apostle ﷺ then said, Allahs curse has descended upon the people of the Qalib (well).

393Sahih Bukhari

باب: قبلہ کی طرف منہ کرنے کی فضیلت۔

قَالَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، قَالَ: سَأَلَ مَيْمُونُ بْنُ سِيَاهٍ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، مَا يُحَرِّمُ دَمَ الْعَبْدِ وَمَالَهُ؟ فَقَالَ: مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا، وَصَلَّى صَلَاتَنَا، وَأَكَلَ ذَبِيحَتَنَا، فَهُوَ الْمُسْلِمُ لَهُ مَا لِلْمُسْلِمِ وَعَلَيْهِ مَا عَلَى الْمُسْلِمِ.

ابن ابی مریم نے کہا، ہمیں یحییٰ بن ایوب نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے حمید نے حدیث بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے انس بن مالک ؓ نے نبی کریم ﷺ سے نقل کر کے حدیث بیان کی۔ علی بن عبداللہ بن مدینی نے فرمایا کہ ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حمید طویل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میمون بن سیاہ نے انس بن مالک ؓ سے پوچھا کہ اے ابوحمزہ! آدمی کی جان اور مال پر زیادتی کو کیا چیزیں حرام کرتی ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ جس نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کیا اور ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی اور ہمارے ذبیحہ کو کھایا تو وہ مسلمان ہے۔ پھر اس کے وہی حقوق ہیں جو عام مسلمانوں کے ہیں اور اس کی وہی ذمہ داریاں ہیں جو عام مسلمانوں پر ہیں۔

Narrated Maimun bin Siyah that he asked Anas bin Malik, "O Abu Hamza! What makes the life and property of a person sacred?" He replied, "Whoever says, 'None has the right to be worshipped but Allah', faces our Qibla during the prayers, prays like us and eats our slaughtered animal, then he is a Muslim, and has got the same rights and obligations as other Muslims have."

396Sahih Bukhari

باب: اللہ عزوجل کا ارشاد ہے کہ ”مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ“۔

وَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: لَا يَقْرَبَنَّهَا حَتَّى يَطُوفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ.

عمرو بن دینار نے کہا، ہم نے جابر بن عبداللہ ؓ سے بھی یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے بھی یہی فرمایا کہ وہ بیوی کے قریب بھی اس وقت تک نہ جائے جب تک صفا اور مروہ کی سعی نہ کر لے۔

Then we put the same question to Jabir bin `Abdullah and he too replied, "He should not go near his wife (for sexual relation) till he has finished the Tawaf of Safa and Marwa."

409Sahih Bukhari(408-409)

باب: مسجد میں رینٹ کو کنکری سے کھرچ ڈالنا۔

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَأَبَا سَعِيدٍ حَدَّثَاهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي جِدَارِ الْمَسْجِدِ، فَتَنَاوَلَ حَصَاةً فَحَكَّهَا، فَقَالَ: إِذَا تَنَخَّمَ أَحَدُكُمْ، فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ قِبَلَ وَجْهِهِ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى.

ہم سے سعید بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں ابن شہاب نے حمید بن عبدالرحمٰن کے واسطہ سے بیان کیا کہ ابوہریرہ اور ابو سعید خدری ؓ نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد کی دیوار پر بلغم دیکھا، پھر رسول اللہ ﷺ نے ایک کنکری لی اور اسے صاف کردیا۔ پھر فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص تھوکے تو اسے اپنے منہ کے سامنے یا دائیں طرف نہیں تھوکنا چاہیے، البتہ بائیں طرف یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوک لے۔

Narrated Abd Hurairah and Abu Said (RA): Allahs Apostle ﷺ saw some expectoration on the wall of the mosque; he took gravel and scraped it off and said, "If anyone of you wanted to spit he should neither spit in front of him nor on his right but he could spit either on his left or under his left foot."

411Sahih Bukhari(410-411)

باب: اس بارے میں کہ نماز میں اپنے دائیں طرف نہ تھوکنا چاہیے۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَأَبَا سَعِيدٍ أَخْبَرَاهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي حَائِطِ الْمَسْجِدِ، فَتَنَاوَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصَاةً فَحَتَّهَا، ثُمَّ قَالَ: إِذَا تَنَخَّمَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَنَخَّمْ قِبَلَ وَجْهِهِ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى.

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے عقیل بن خالد کے واسطے سے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے حمید بن عبدالرحمٰن سے کہ ابوہریرہ اور ابو سعید خدری ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک کنکری سے اسے کھرچ ڈالا اور فرمایا اگر تم میں سے کسی کو تھوکنا ہو تو اسے اپنے چہرے کے سامنے یا اپنے دائیں طرف نہ تھوکا کرو، البتہ اپنے بائیں طرف یا اپنے بائیں قدم کے نیچے تھوک سکتے ہو۔

Narrated Abd Hurairah and Abu Said (RA): Allahs Apostle ﷺ saw some expectoration on the wall of the mosque; he took gravel and scraped it off and said, "If anyone of you wanted to spit, he should neither spit in front of him nor on his right but could spit either on his left or under his left foot."