نماز قصر کا بیان

Sahih Bukhari · Chapter 17 · 148 hadiths · Page 7 of 8

1213Sahih Bukhari

باب: اس بارے میں کہ نماز میں تھوکنا اور پھونک مارنا کہاں تک جائز ہے؟

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَتَغَيَّظَ عَلَى أَهْلِ الْمَسْجِدِ وَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ قِبَلَ أَحَدِكُمْ، فَإِذَا كَانَ فِي صَلَاتِهِ فَلَا يَبْزُقَنَّ أَوْ قَالَ لَا يَتَنَخَّمَنَّ، ثُمَّ نَزَلَ فَحَتَّهَا بِيَدِهِ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: إِذَا بَزَقَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْزُقْ عَلَى يَسَارِهِ.

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک دفعہ مسجد میں قبلہ کی طرف رینٹ دیکھی۔ آپ ﷺ مسجد میں موجود لوگوں پر بہت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے ہے اس لیے نماز میں تھوکا نہ کرو، یا یہ فرمایا کہ رینٹ نہ نکالا کرو۔ پھر آپ ﷺ اترے اور خود ہی اپنے ہاتھ سے اسے کھرچ ڈالا۔ ابن عمر ؓ نے کہا کہ جب کسی کو تھوکنا ضروری ہو تو اپنی بائیں طرف تھوک لے۔

Narrated IbnUmar (RA): The Prophet ﷺ saw some sputum on the wall facing the Qibla of the mosque and became furious with the people of the mosque and said, "During the prayer, Allah is in front of everyone of you and so he should not spit (or said, He should not expectorate)." Then he got down and scratched the sputum with his hand. Ibn Umar (RA) said (after narrating), "If anyone of you has to spit during the prayer, he should spit to his left." ________

1214Sahih Bukhari

13- بَابُ مَنْ صَفَّقَ جَاهِلاً مِنَ الرِّجَالِ فِي صَلاَتِهِ لَمْ تَفْسُدْ صَلاَتُهُ:

باب: اگر کوئی مرد مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے نماز میں دستک دے تو اس کی نماز فاسد نہ ہوگی

فِيهِ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

اس باب میں سہل بن سعد ؓ کی ایک روایت نبی کریم ﷺ سے ہے۔

Narrated Anas: The Prophet said, Whenever anyone of you is in prayer, he is speaking in private to his Lord and so he should neither spit in front of him nor on his right side but to his left side under his left foot.

1215Sahih Bukhari

باب: اس بارے میں کہ اگر نمازی سے کوئی کہے کہ آگے بڑھ جا یا ٹھہر جا اور وہ آگے بڑھ جائے یا ٹھہر جائے تو کوئی قباحت نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّاسُ يُصَلُّونَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ عَاقِدُو أُزْرِهِمْ مِنَ الصِّغَرِ عَلَى رِقَابِهِمْ، فَقِيلَ لِلنِّسَاءِ: لَا تَرْفَعْنَ رُءُوسَكُنَّ حَتَّى يَسْتَوِيَ الرِّجَالُ جُلُوسًا.

ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں ابوحازم نے، ان کو سہل بن سعد ؓ نے بتلایا کہ لوگ نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز اس طرح پڑھتے کہ تہبند چھوٹے ہونے کی وجہ سے انہیں اپنی گردنوں سے باندھے رکھتے اور عورتوں کو (جو مردوں کے پیچھے جماعت میں شریک رہتی تھیں) کہہ دیا جاتا کہ جب تک مرد پوری طرح سمٹ کر نہ بیٹھ جائیں تم اپنے سر (سجدے سے) نہ اٹھانا۔

Narrated Sahl bin Sad (RA): The people used to offer the prayer with the Prophet ﷺ with their waist-sheets tied round their necks because of the shortness of the sheets and the women were ordered not to lift their heads till the men had sat straight. ________

1216Sahih Bukhari

باب: نماز میں سلام کا جواب (زبان سے) نہ دے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنْتُ أُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَيَرُدُّ عَلَيَّ، فَلَمَّا رَجَعْنَا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ وَقَالَ: إِنَّ فِي الصَّلَاةِ لَشُغْلًا.

ہم سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن فضیل نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا کہ (ابتداء اسلام میں) نبی کریم ﷺ جب نماز میں ہوتے تو میں آپ ﷺ کو سلام کرتا تو آپ ﷺ جواب دیتے تھے۔ مگر جب ہم (حبشہ سے جہاں ہجرت کی تھی) واپس آئے تو میں نے (پہلے کی طرح نماز میں) سلام کیا۔ مگر آپ ﷺ نے کوئی جواب نہیں دیا (کیونکہ اب نماز میں بات چیت وغیرہ کی ممانعت نازل ہوگئی تھی) اور فرمایا کہ نماز میں اس سے مشغولیت ہوتی ہے۔

Narrated Abdullah (RA): I used to greet the Prophet ﷺ while he was in prayer and he would return my greeting, but when we returned (from Ethiopia) I greeted the Prophet ﷺ (while he was praying) but he did not return the greeting, and (after finishing the prayer) he said, "In the prayer one is occupied (with a more serious matter)." ________

1217Sahih Bukhari

باب: نماز میں سلام کا جواب (زبان سے) نہ دے۔

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ شِنْظِير ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ لَهُ فَانْطَلَقْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ وَقَدْ قَضَيْتُهَا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَوَقَعَ فِي قَلْبِي مَا اللَّهُ أَعْلَمُ بِهِ، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي لَعَلَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَيَّ أَنِّي أَبْطَأْتُ عَلَيْهِ، ثُمَّ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَوَقَعَ فِي قَلْبِي أَشَدُّ مِنَ الْمَرَّةِ الْأُولَى، ثُمَّ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيَّ فَقَالَ: إِنَّمَا مَنَعَنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي، وَكَانَ عَلَى رَاحِلَتِهِ مُتَوَجِّهًا إِلَى غَيْرِ الْقِبْلَةِ.

ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے کثیر بن شنظیر نے بیان کیا، ان سے عطاء بن ابی رباح نے ان سے جابر بن عبداللہ ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنی ایک ضرورت کے لیے (غزوہ بنی مصطلق میں) بھیجا۔ میں واپس آیا اور میں نے کام پورا کردیا تھا۔ پھر میں نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ ﷺ کو سلام کیا۔ لیکن آپ ﷺ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ میرے دل میں اللہ جانے کیا بات آئی اور میں نے اپنے دل میں کہا کہ شاید رسول اللہ ﷺ مجھ پر اس لیے خفا ہیں کہ میں دیر سے آیا ہوں۔ میں نے پھر دوبارہ سلام کیا اور جب اس مرتبہ بھی آپ ﷺ نے کوئی جواب نہ دیا تو اب میرے دل میں پہلے سے بھی زیادہ خیال آیا۔ پھر میں نے (تیسری مرتبہ) سلام کیا، اور اب آپ ﷺ نے جواب دیا اور فرمایا کہ پہلے جو دو بار میں نے جواب نہ دیا تو اس وجہ سے تھا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا، اور آپ ﷺ اس وقت اپنی اونٹنی پر تھے اور اس کا رخ قبلہ کی طرف نہ تھا بلکہ دوسری طرف تھا۔

Narrated Jabir bin Abdullah (RA): Allahs Apostle ﷺ sent me for some job and when I had finished it I returned and came to the Prophet ﷺ and greeted him but he did not return my greeting. So I felt so sorry that only Allah knows it and I said to myself,, Perhaps Allahs Apostle ﷺ is angry because I did not come quickly, then again I greeted him but he did not reply. I felt even more sorry than I did the first time. Again I greeted him and he returned the greeting and said, "The thing which prevented me from returning the greeting was that I was praying." And at that time he was on his Rahila and his face was not towards the Qibla. ________

1218Sahih Bukhari

باب: نماز میں کوئی حادثہ پیش آئے تو ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ بِقُبَاءٍ كَانَ بَيْنَهُمْ شَيْءٌ فَخَرَجَ يُصْلِحُ بَيْنَهُمْ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَحُبِسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَانَتِ الصَّلَاةُ فَجَاءَ بِلَالٌإِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ حُبِسَ وَقَدْ حَانَتِ الصَّلَاةُ، فَهَلْ لَكَ أَنْ تَؤُمَّ النَّاسَ ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنْ شِئْتَ، فَأَقَامَ بِلَالٌ الصَّلَاةَ وَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَكَبَّرَ لِلنَّاسِ، وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي فِي الصُّفُوفِ يَشُقُّهَا شَقًّا حَتَّى قَامَ فِي الصَّفِّ فَأَخَذَ النَّاسُ فِي التَّصْفِيحِ، قَالَ سَهْلٌ: التَّصْفِيحُ هُوَ التَّصْفِيقُ، قَالَ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَا يَلْتَفِتُ فِي صَلَاتِهِ، فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ الْتَفَتَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ يَأْمُرُهُ أَنْ يُصَلِّيَ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَدَهُ فَحَمِدَ اللَّهَ، ثُمَّ رَجَعَ الْقَهْقَرَى وَرَاءَهُ حَتَّى قَامَ فِي الصَّفِّ، وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى لِلنَّاسِ، فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَا لَكُمْ حِينَ نَابَكُمْ شَيْءٌ فِي الصَّلَاةِ أَخَذْتُمْ بِالتَّصْفِيحِ، إِنَّمَا التَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَقُلْ سُبْحَانَ اللَّهِ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ لِلنَّاسِ حِينَ أَشَرْتُ إِلَيْكَ ؟، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَا كَانَ يَنْبَغِي لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے اور ان سے سہل بن سعد ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ کو یہ خبر پہنچی کہ قباء کے قبیلہ بنو عمرو بن عوف میں کوئی جھگڑا ہوگیا ہے۔ اس لیے آپ ﷺ کئی اصحاب کو ساتھ لے کر ان میں صلح کرانے کے لیے تشریف لے گئے۔ وہاں آپ ﷺ صلح صفائی کے لیے ٹھہر گئے۔ ادھر نماز کا وقت ہوگیا تو بلال ؓ نے ابوبکر ؓ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں آئے اور نماز کا وقت ہوگیا، تو کیا آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں گے؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں اگر تم چاہتے ہو تو پڑھا دوں گا۔ چناچہ بلال ؓ نے تکبیر کہی اور ابوبکر ؓ نے آگے بڑھ کر نیت باندھ لی۔ اتنے میں رسول اللہ ﷺ بھی تشریف لے آئے اور صفوں سے گزرتے ہوئے آپ ﷺ پہلی صف میں آ کھڑے ہوئے، لوگوں نے ہاتھ پر ہاتھ مارنے شروع کردیئے۔ (سہل نے کہا کہ تصفيح کے معنی تصفيق کے ہیں) آپ نے بیان کیا کہ ابوبکر ؓ نماز میں کسی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے۔ لیکن جب لوگوں نے بہت دستکیں دیں تو انہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے اشارہ سے ابوبکر کو نماز پڑھانے کے لیے کہا۔ اس پر ابوبکر ؓ نے ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور پھر الٹے پاؤں پیچھے کی طرف چلے آئے اور صف میں کھڑے ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی۔ نماز سے فارغ ہو کر آپ ﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ لوگو! یہ کیا بات ہے کہ جب نماز میں کوئی بات پیش آتی ہے تو تم تالیاں بجانے لگتے ہو۔ یہ مسئلہ تو عورتوں کے لیے ہے۔ تمہیں اگر نماز میں کوئی حادثہ پیش آئے تو سبحان الله کہا کرو۔ اس کے بعد آپ ﷺ ابوبکر ؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ ابوبکر! میرے کہنے کے باوجود تم نے نماز کیوں نہیں پڑھائی؟ ابوبکر ؓ نے عرض کیا کہ ابوقحافہ کے بیٹے کو زیب نہیں دیتا کہ رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں نماز پڑھائے۔

Narrated Sahl bin Sad (RA): The news about the differences amongst the people of Bani Amr bin Auf at Quba reached Allahs Apostle ﷺ and so he went to them along with some of his companions to affect a reconciliation. Allahs Apostle ﷺ was delayed there and the time for the prayer became due. Bilal (RA) came to Abu Bakr! and said, "O Abu Bakr! Allahs Apostle ﷺ is detained (there) and the time for the prayer is due. Will you lead the people in prayer?" Abu Bakr (RA) replied, "Yes, if you wish." So Bilal (RA) pronounced the Iqama and Abu Bakr (RA) went forward and the people said Takbir. In the meantime, Allahs Apostle ﷺ came piercing through the rows till he stood in the (first) row and the people started clapping. Abu Bakr, would never look hither and thither during the prayer but when the people clapped much he looked back and saw Allahs Apostle. The Prophet ﷺ beckoned him to carry on. Abu Bakr (RA) raised both his hands, praised Allah and retreated till he stood in the row and Allahs Apostle ﷺ went forward and led the people in the prayer. When he had finished the prayer, he addressed the people and said, "O people! Why did you start clapping when something happened to you in the prayer? Clapping is for women. Whenever one is confronted with something unusual in the prayer one should say, Sub Han Allah." Then the Prophet ﷺ looked towards Abu Bakr (RA) and asked, "What prevented you from leading the prayer when I beckoned you to carry on?" Abu Bakr (RA) replied, "It does not befit the son of Al Quhafa to lead the prayer in the presence of Allahs Apostle ﷺ ________

1219Sahih Bukhari

باب: نماز میں کمر پر ہاتھ رکھنا کیسا ہے؟

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: نُهِيَ عَنْ الْخَصْرِ فِي الصَّلَاةِ، وَقَالَ هِشَامٌ وَأَبُو هِلَالٍ : عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ نماز میں پہلو پر ہاتھ رکھنے سے منع کیا گیا تھا۔ ہشام اور ابوہلال محمد بن سلیم نے، ابن سیرین سے اس حدیث کو روایت کیا، وہ ابوہریرہ ؓ سے اور وہ نبی کریم ﷺ سے۔

Narrated Abu Hurairah (RA): It was forbidden to keep the hands on the hips during the prayer. (This is narrated by Abu Hurairah (RA) from the Prophet.)

1220Sahih Bukhari

باب: نماز میں کمر پر ہاتھ رکھنا کیسا ہے؟

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: نُهِيَ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ مُخْتَصِرًا.

ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن حسان فردوسی نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے پہلو پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنے سے منع فرمایا۔

Narrated Abu Hurairah (RA): It was forbidden to pray with the hands over ones hips.

1221Sahih Bukhari

باب: آدمی نماز میں کسی بات کی فکر کرے تو کیسا ہے؟

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ سَرِيعًا دَخَلَ عَلَى بَعْضِ نِسَائِهِ، ثُمَّ خَرَجَ وَرَأَى مَا فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ مِنْ تَعَجُّبِهِمْ لِسُرْعَتِهِ، فَقَالَ: ذَكَرْتُ وَأَنَا فِي الصَّلَاةِ تِبْرًا عِنْدَنَا فَكَرِهْتُ أَنْ يُمْسِيَ أَوْ يَبِيتَ عِنْدَنَا، فَأَمَرْتُ بِقِسْمَتِهِ.

ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے روح بن عبادہ نے، کہا کہ ہم سے عمر نے جو سعید کے بیٹے ہیں، انہوں نے کہا کہ مجھے ابن ابی ملیکہ نے خبر دی عقبہ بن حارث ؓ سے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ عصر کی نماز پڑھی۔ آپ ﷺ سلام پھیرتے ہی بڑی تیزی سے اٹھے اور اپنی ایک بیوی کے حجرہ میں تشریف لے گئے، پھر باہر تشریف لائے۔ آپ ﷺ نے اپنی جلدی پر اس تعجب و حیرت کو محسوس کیا جو صحابہ کے چہروں سے ظاہر ہو رہا تھا، اس لیے آپ ﷺ نے فرمایا کہ نماز میں مجھے سونے کا ایک ڈلا یاد آگیا جو ہمارے پاس تقسیم سے باقی رہ گیا تھا۔ مجھے برا معلوم ہوا کہ ہمارے پاس وہ شام تک یا رات تک رہ جائے۔ اس لیے میں نے اسے تقسیم کرنے کا حکم دے دیا۔

Narrated Uqba bin Al-Harith (RA): I offered the Asr prayer with the Prophet ﷺ and after finishing the prayer with Taslim he got up quickly and went to some of his wives and then came out. He noticed the signs of astonishment on the faces of the people caused by his speed. He then said, "I remembered while I was in my prayer that a piece of gold was Lying in my house and I disliked that it should remain with us throughout the night, and so I have ordered it to be distributed." ________

1222Sahih Bukhari

باب: آدمی نماز میں کسی بات کی فکر کرے تو کیسا ہے؟

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أُذِّنَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ التَّأْذِينَ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ أَقْبَلَ فَإِذَا ثُوِّبَ أَدْبَرَ، فَإِذَا سَكَتَ أَقْبَلَ فَلَا يَزَالُ بِالْمَرْءِ يَقُولُ لَهُ اذْكُرْ مَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ حَتَّى لَا يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: إِذَا فَعَلَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَسَمِعَهُ أَبُو سَلَمَةَ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے، ان سے جعفر بن ربیعہ نے اور ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ موڑ کر ریاح خارج کرتا ہوا بھاگتا ہے تاکہ اذان نہ سن سکے۔ جب مؤذن چپ ہوجاتا ہے تو مردود پھر آجاتا ہے اور جب جماعت کھڑی ہونے لگتی ہے (اور تکبیر کہی جاتی ہے) تو پھر بھاگ جاتا ہے۔ لیکن جب مؤذن چپ ہوجاتا ہے تو پھر آجاتا ہے۔ اور آدمی کے دل میں وسواس پیدا کرتا رہتا ہے۔ کہتا ہے کہ (فلاں فلاں بات) یاد کر۔ کم بخت وہ باتیں یاد دلاتا ہے جو اس نمازی کے ذہن میں بھی نہ تھیں۔ اس طرح نمازی کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں۔ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے کہا کہ جب کوئی یہ بھول جائے (کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں) تو بیٹھے بیٹھے (سہو کے) دو سجدے کرلے۔ ابوسلمہ نے یہ ابوہریرہ ؓ سے سنا تھا۔

Narrated Abu Hurairah (RA) , Allahs Apostle ﷺ said, "When the Adhan for the prayer is pronounced, then Satan takes to his heels passing wind so that he may not hear the Adhan and when the Muadh-dhin finishes, he comes back; and when the Iqama is pronounced he again takes to his heels and when it is finished, he again comes back and continues reminding the praying person of things that he used not to remember when not in prayer till he forgets how much he has prayed." Abu Salama bin Abdur-Rahman said, "If anyone of you has such a thing (forgetting the number of Rakat he has prayed) he should perform two prostrations of Sahu (i.e. forgetfulness) while sitting." Abu Salama narrates this from Abu Hurairah (RA) . ________

1223Sahih Bukhari

باب: آدمی نماز میں کسی بات کی فکر کرے تو کیسا ہے؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَقُولُ النَّاسُ أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ، فَلَقِيتُ رَجُلًا، فَقُلْتُ: بِمَا قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَارِحَةَ فِي الْعَتَمَةِ ؟ فَقَالَ: لَا أَدْرِي، فَقُلْتُ: لَمْ تَشْهَدْهَا ؟ قَالَ: بَلَى، قُلْتُ: لَكِنْ أَنَا أَدْرِي، قَرَأَ سُورَةَ كَذَا وَكَذَا.

ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عثمان بن عمر نے کہا کہ مجھے ابن ابی ذئب نے خبر دی، انہیں سعید مقبری نے کہ ابوہریرہ ؓ نے کہا لوگ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ بہت زیادہ حدیثیں بیان کرتا ہے (اور حال یہ ہے کہ) میں ایک شخص سے ایک مرتبہ ملا اور اس سے میں نے (بطور امتحان) دریافت کیا کہ گزشتہ رات نبی کریم ﷺ نے عشاء میں کون کون سی سورتیں پڑھی تھیں؟ اس نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم۔ میں نے پوچھا کہ تم نماز میں شریک تھے؟ کہا کہ ہاں شریک تھا۔ میں نے کہا لیکن مجھے تو یاد ہے کہ آپ ﷺ نے فلاں فلاں سورتیں پڑھی تھیں۔

Narrated Abu Hurairah (RA): People say that I narrate too many narrations of the Prophet; once I met a man (during the life-time of the Prophet) and asked him, "Which Sura did Allahs Apostle ﷺ s recite yesterday in the Isha prayer?" He said, "I do not know." I said, "Did you not attend the prayer?" He said, "Yes, (I did)." I said, "I know. He recited such and such Sura." ________

1224Sahih Bukhari

باب: اگر چار رکعت نماز میں پہلا قعدہ نہ کرے اور بھولے سے اٹھ کھڑا ہو تو سجدہ سہو کرے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ مِنْ بَعْضِ الصَّلَوَاتِ، ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَجْلِسْ فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ وَنَظَرْنَا تَسْلِيمَهُ كَبَّرَ قَبْلَ التَّسْلِيمِ، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ ثُمَّ سَلَّمَ.

ہم سے عبداللہ یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک بن انس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عبدالرحمٰن اعرج نے اور ان سے عبداللہ بن بحینہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کسی (چار رکعت) نماز کی دو رکعت پڑھانے کے بعد (قعدہ تشہد کے بغیر) کھڑے ہوگئے، پہلا قعدہ نہیں کیا۔ اس لیے لوگ بھی آپ ﷺ کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ جب آپ ﷺ نماز پوری کرچکے تو ہم سلام پھیرنے کا انتظار کرنے لگے۔ لیکن آپ ﷺ نے سلام سے پہلے بیٹھے بیٹھے الله اکبر کہا اور سلام ہی سے پہلے دو سجدے بیٹھے بیٹھے کیے پھر سلام پھیرا۔

Narrated Abdullah bin Buhaina : Allahs Apostle ﷺ once led us in a prayer and offered two Rakat and got up (for the third Raka) without sitting (after the second Raka). The people also got up with him, and when he was about to finish his prayer, we waited for him to finish the prayer with Taslim but he said Takbir before Taslim and performed two prostrations while sitting and then finished the prayer with Taslim. ________

1225Sahih Bukhari

باب: اگر چار رکعت نماز میں پہلا قعدہ نہ کرے اور بھولے سے اٹھ کھڑا ہو تو سجدہ سہو کرے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ مِنَ اثْنَتَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ لَمْ يَجْلِسْ بَيْنَهُمَا، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ.

ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک (رح) نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن سعید انصاری نے خبر دی، انہیں عبدالرحمٰن اعرج نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن بحینہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ظہر کی دو رکعت پڑھنے کے بعد بیٹھے بغیر کھڑے ہوگئے اور قعدہ اولیٰ نہیں کیا، جب نماز پوری کرچکے تو دو سجدے کئے، پھر ان کے بعد سلام پھیرا۔

Narrated Abdullah bin Buhaina : Allahs Apostle ﷺ got up after the second Raka of the Zuhr prayer without sitting in between (the second and the third Rakat). When he finished the prayer he performed two prostrations (of Sahu) and then finished the prayer with Tasllm. ________

1226Sahih Bukhari

باب: اگر کسی نے پانچ رکعت نماز پڑھ لی تو کیا کرے؟

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ خَمْسًا، فَقِيلَ لَهُ: أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ ؟ فَقَالَ: وَمَا ذَاكَ، قَالَ: صَلَّيْتَ خَمْسًا، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ.

ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے ظہر میں پانچ رکعت پڑھ لیں۔ اس لیے آپ ﷺ سے پوچھا گیا کہ کیا نماز کی رکعتیں زیادہ ہوگئی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا بات ہے؟ کہنے والے نے کہا کہ آپ ﷺ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے سلام کے بعد دو سجدے کئے۔

Narrated Abdullah (RA): Once Allahs Apostle ﷺ offered five Rakat in the Zuhr prayer, and somebody asked him whether there was some increase in the prayer. Allahs Apostle ﷺ said, "What is that?" He said, "You have offered five Rakat." So Allahs Apostle ﷺ performed two prostrations of Sahu after Taslim. ________

1227Sahih Bukhari

باب: دو رکعتیں یا تین رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دے تو نماز کے سجدوں کی طرح یا ان سے لمبے سہو کے دو سجدے کرے۔

حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ فَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ: الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَقَصَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ أَحَقٌّ مَا يَقُولُ ؟، قَالُوا: نَعَمْ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، قَالَ سَعْدٌ: وَرَأَيْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ صَلَّى مِنَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ فَسَلَّمَ وَتَكَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى مَا بَقِيَ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، وَقَالَ: هَكَذَا فَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سعد بن ابراہیم نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی جب آپ ﷺ نے سلام پھیرا تو ذوالیدین کہنے لگا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! کیا نماز کی رکعتیں کم ہوگئی ہیں؟ (کیونکہ آپ ﷺ نے بھول کر صرف رکعتوں پر سلام پھیر دیا تھا) نبی کریم ﷺ نے اپنے اصحاب سے دریافت کیا کہ کیا یہ سچ کہتے ہیں؟ صحابہ نے کہا جی ہاں، اس نے صحیح کہا ہے۔ تب نبی کریم ﷺ نے دو رکعت اور پڑھائیں پھر دو سجدے کئے۔ سعد نے بیان کیا کہ عروہ بن زبیر کو میں نے دیکھا کہ آپ نے مغرب کی دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا اور باتیں بھی کیں۔ پھر باقی ایک رکعت پڑھی اور دو سجدے کئے اور فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے اسی طرح کیا تھا۔

Narrated Abu Hurairah (RA): The Prophet ﷺ led us in the Asr or the Zuhr prayer and finished it with Taslim. Dhul-Yadain said to him, "O Allahs Apostle ﷺ ! Has the prayer been reduced?" The Prophet ﷺ asked his companions in the affirmative. So Allahs Apostle ﷺ I offered two more Rakat and then performed two prostrations (of Sahu). Sad said, "I saw that Ursa bin Az-Zubair had offered two Rakat in the Maghrib prayer and finished it with Taslim. He then talked (and when he was informed about it) he completed the rest of his prayer and performed two prostrations, and said, The Prophet ﷺ prayed like this. " ________

1228Sahih Bukhari

اس شخص کا بیان جس نے سجدہ سہو میں تشہد نہیں پڑھا اور سلام پھیر لیا، انس اور حسن نے سلام پھیر لیا اور تشہد نہیں پڑھا اور بیان کیا کہ قتادہ تشہد نہیں پڑھتے تھے۔

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبً ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: قُلْتُ لِمُحَمَّدٍ فِي سَجْدَتَيِ: السَّهْوِ تَشَهُّدٌ، قَالَ: لَيْسَ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ.

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن علقمہ نے، انہوں کہا کہ میں نے محمد بن سیرین سے پوچھا کہ کیا سجدہ سہو میں تشہد ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں تو اس کا ذکر نہیں ہے۔

Narrated Salama bin Alqama (RA): I asked Muhammad (bin Sirin) whether Tashah-hud should be recited after the two prostrations of Sahu. He replied, "It is not (mentioned) in Abu Hurairah (RA) s narration . " ________

1229Sahih Bukhari

باب: سہو کے سجدوں میں تکبیر کہنا۔

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَأَكْثَرُ ظَنِّي الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى خَشَبَةٍ فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا، وَفِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ وَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَهَابَا أَنْ يُكَلِّمَاهُ وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ، فَقَالُوا: أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ، وَرَجُلٌ يَدْعُوهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: أَنَسِيتَ أَمْ قَصُرَتْ ؟ فَقَالَ: لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرْ، قَالَ: بَلَى قَدْ نَسِيتَ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَكَبَّرَ، ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ فَكَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ.

ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا، کہ نبی کریم ﷺ نے تیسرے پہر کی دو نمازوں (ظہر یا عصر) میں سے کوئی نماز پڑھی۔ میرا غالب گمان یہ ہے کہ وہ عصر ہی کی نماز تھی۔ اس میں آپ ﷺ نے صرف دو ہی رکعت پر سلام پھیر دیا۔ پھر آپ ﷺ ایک درخت کے تنے سے جو مسجد کی اگلی صف میں تھا، ٹیک لگا کر کھڑے ہوگئے۔ آپ ﷺ اپنا ہاتھ اس پر رکھے ہوئے تھے۔ حاضرین میں ابوبکر اور عمر ؓ بھی تھے لیکن انہیں بھی کچھ کہنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ جو (جلد باز قسم کے) لوگ نماز پڑھتے ہی مسجد سے نکل جانے کے عادی تھے۔ وہ باہر جا چکے تھے۔ لوگوں نے کہا کیا نماز کی رکعتیں کم ہوگئیں۔ ایک شخص جنہیں نبی کریم ﷺ ذوالیدین کہتے تھے۔ وہ بولے یا رسول اللہ! آپ بھول گئے یا نماز میں کمی ہوگئی؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز کی رکعتیں کم ہوئیں۔ ذوالیدین بولے کہ نہیں آپ بھول گئے ہیں۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے دو رکعت اور پڑھی اور سلام پھیرا پھر تکبیر کہی اور معمول کے مطابق یا اس سے بھی طویل سجدہ کیا۔ جب سجدہ سے سر اٹھایا تو پھر تکبیر کہی اور پھر تکبیر کہہ کر سجدہ میں گئے۔ یہ سجدہ بھی معمول کی طرح یا اس سے طویل تھا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے سر اٹھایا اور تکبیر کہی۔

Narrated Abu Hurairah (RA): The Prophet ﷺ offered one of the evening prayers (the sub-narrator Muhammad said, "I think that it was most probably the Asr prayer") and he finished it after offering two Rakat only. He then stood near a price of wood in front of the Mosque and put his hand over it. Abu Bakr (RA) and Umar were amongst those who were present, but they dared not talk to him about that (because of excessive respect for him), and those who were in a hurry went out. They said, "Has the prayer been reduced?" A man who was called DhulYadain by the Prophet ﷺ said (to the Prophet), "Has the prayer been reduced or have you forgotten?" He said, "Neither have I forgotten, nor has the prayer been reduced." He said, "Certainly you have forgotten." So the Prophet ﷺ offered two more Rakat and performed Tashm and then said Takbir and performed a prostration of Sahu like his ordinary prostration or a bit longer and then raised his head and said Takbir and then put his head down and performed a prostration like his ordinary prostration or a bit longer, and then raised his head and said Takbir. ________

1230Sahih Bukhari

باب: سہو کے سجدوں میں تکبیر کہنا۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ الْأَسْدِيِّ حَلِيفِ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ، فَلَمَّا أَتَمَّ صَلَاتَهُ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ فَكَبَّرَ فِي كُلِّ سَجْدَةٍ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ وَسَجَدَهُمَا النَّاسُ مَعَهُ مَكَانَ مَا نَسِيَ مِنَ الْجُلُوسِتَابَعَهُ ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ فِي التَّكْبِيرِ.

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے اعرج نے، ان سے عبداللہ بن بحینہ اسدی نے جو بنو عبدالمطلب کے حلیف تھے کہ رسول اللہ ﷺ ظہر کی نماز میں قعدہ اولیٰ کئے بغیر کھڑے ہوگئے۔ حالانکہ اس وقت آپ ﷺ کو بیٹھنا چاہیے تھا۔ جب آپ ﷺ نے نماز پوری کی تو آپ ﷺ نے بیٹھے بیٹھے ہی سلام سے پہلے دو سجدے سہو کے کئے اور ہر سجدے میں الله اکبر کہا۔ مقتدیوں نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ یہ دو سجدے کئے۔ آپ ﷺ بیٹھنا بھول گئے تھے، اس لیے یہ سجدے اسی کے بدلہ میں کئے تھے۔ اس روایت کی مطابعت ابن جریج نے ابن شہاب سے تکبیر کے ذکر میں کی ہے۔

Narrated Abdullah bin Buhaina Al-Asdi (RA): (the ally of Bani Abdul Muttalib) Allahs Apostle ﷺ stood up for the Zuhr prayer and he should have sat (after the second Raka but he stood up for the third Raka without sitting for Tashah-hud) and when he finished the prayer he performed two prostrations and said Takbir on each prostration while sitting, before ending (the prayer) with Taslim; and the people too performed the two prostrations with him instead of the sitting he forgot. ________

1231Sahih Bukhari

باب: اگر کسی نمازی کو یہ یاد نہ رہے کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار تو وہ سلام سے پہلے بیٹھے بیٹھے ہی دو سجدے کر لے۔

حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الدَّسْتَوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا نُودِيَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ الْأَذَانَ، فَإِذَا قُضِيَ الْأَذَانُ أَقْبَلَ فَإِذَا ثُوِّبَ بِهَا أَدْبَرَ، فَإِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ حَتَّى يَخْطِرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ، يَقُولُ اذْكُرْ كَذَا وَكَذَا مَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ إِنْ يَدْرِي كَمْ صَلَّى، فَإِذَا لَمْ يَدْرِ أَحَدُكُمْ كَمْ صَلَّى ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ.

ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ہشام بن ابی عبداللہ دستوائی نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب نماز کے لیے اذان ہوتی ہے تو شیطان ہوا خارج کرتا ہوا بھاگتا ہے تاکہ اذان نہ سنے، جب اذان پوری ہوجاتی ہے تو پھر آجاتا ہے۔ جب اقامت ہوتی ہے تو پھر بھاگ پڑتا ہے۔ لیکن اقامت ختم ہوتے ہی پھر آجاتا ہے اور نمازی کے دل میں طرح طرح کے وسوسے ڈالتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں فلاں بات یاد کرو، اس طرح اسے وہ باتیں یاد دلاتا ہے جو اس کے ذہن میں نہیں تھیں۔ لیکن دوسری طرف نمازی کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ کتنی رکعتیں اس نے پڑھی ہیں۔ اس لیے اگر کسی کو یہ یاد نہ رہے کہ تین رکعت پڑھیں یا چار تو بیٹھے ہی بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے۔

Narrated Abu Hurairah (RA): Allahs Apostle ﷺ said, "When the call for prayer is made, Satan takes to his heels passing wind so that he may not hear the Adhan and when the call is finished he comes back, and when the Iqama is pronounced, Satan again takes to his heels, and when the Iqama is finished he comes back again and tries to interfere with the person and his thoughts and say, "Remember this and that (which he has not thought of before the prayer)", till the praying person forgets how much he has prayed. If anyone of you does not remember whether he has offered three or four Rakat then he should perform two prostrations of Sahu while sitting. ________

1232Sahih Bukhari

باب: سجدہ سہو فرض اور نفل دونوں نمازوں میں کرنا چاہیے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي جَاءَ الشَّيْطَانُ فَلَبَسَ عَلَيْهِ حَتَّى لَا يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى، فَإِذَا وَجَدَ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ.

ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک (رح) نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور انہیں ابوہریرہ ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے جب کوئی نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان آ کر اس کی نماز میں شبہ پیدا کردیتا ہے پھر اسے یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ کتنی رکعتیں پڑھیں۔ تم میں سے جب کسی کو ایسا اتفاق ہو تو بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرلے۔

Narrated Abu Hurairah (RA): Allahs Apostle ﷺ said, "When anyone of you stands for the prayers, Satan comes and puts him in doubts till he forgets how many Rakat he has prayed. So if this happens to anyone of you, he should perform two prostrations of Sahu while sitting. ________