باب: جو شخص رات کے شروع میں سو جائے اور اخیر میں جاگے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ ؟ قَالَتْ: كَانَ يَنَامُ أَوَّلَهُ وَيَقُومُ آخِرَهُ فَيُصَلِّي ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى فِرَاشِهِ، فَإِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ وَثَبَ، فَإِنْ كَانَ بِهِ حَاجَةٌ اغْتَسَلَ وَإِلَّا تَوَضَّأَ وَخَرَجَ.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، (دوسری سند) اور مجھ سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق عمرو بن عبداللہ نے، ان سے اسود بن یزید نے، انہوں نے بتلایا کہ میں نے عائشہ صدیقہ ؓ سے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ رات میں نماز کیونکر پڑھتے تھے؟ آپ نے بتلایا کہ شروع رات میں سو رہتے اور آخر رات میں بیدار ہو کر تہجد کی نماز پڑھتے۔ اس کے بعد بستر پر آجاتے اور جب مؤذن اذان دیتا تو جلدی سے اٹھ بیٹھتے۔ اگر غسل کی ضرورت ہوتی تو غسل کرتے ورنہ وضو کر کے باہر تشریف لے جاتے۔
Narrated Al-Aswad (RA):
I asked Aisha (RA) "How is the night prayer of the Prophet?" She replied, "He used to sleep early at night, and get up in its last part to pray, and then return to his bed. When the Muadh-dhin pronounced the Adhan, he would get up. If he was in need of a bath he would take it; otherwise he would perform ablution and then go out (for the prayer)."
________
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رمضان اور غیر رمضان میں رات کو نماز پڑھنا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِأَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ ؟ فَقَالَتْ: مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلَا فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًا، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ ؟ فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ إِنَّ عَيْنَيَّ تَنَامَانِ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک (رح) نے خبر دی، انہیں سعید بن ابوسعید مقبری نے خبر دی، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ ؓ سے انہوں نے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ رمضان میں (رات کو) کتنی رکعتیں پڑھتے تھے۔ آپ نے جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ (رات میں) گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ خواہ رمضان کا مہینہ ہوتا یا کوئی اور۔ پہلے آپ ﷺ چار رکعت پڑھتے۔ ان کی خوبی اور لمبائی کا کیا پوچھنا۔ پھر آپ ﷺ چار رکعت اور پڑھتے ان کی خوبی اور لمبائی کا کیا پوچھنا۔ پھر تین رکعتیں پڑھتے۔ عائشہ ؓ نے فرمایا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ وتر پڑھنے سے پہلے ہی سو جاتے ہیں؟ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔
Narrated Abu Salma bin Abdur Rahman (RA):
I asked Aisha (RA), "How is the prayer of Allahs Apostle ﷺ during the month of Ramadan." She said, "Allahs Apostle ﷺ never exceeded eleven Rakat in Ramadan or in other months; he used to offer four Rakat-- do not ask me about their beauty and length, then four Rakat, do not ask me about their beauty and length, and then three Rakat." Aisha (RA) further said, "I said, O Allahs Apostle ﷺ ! Do you sleep before offering the Witr prayer? He replied, O Aisha (RA)! My eyes sleep but my heart remains awake!"
________
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رمضان اور غیر رمضان میں رات کو نماز پڑھنا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ جَالِسًا حَتَّى إِذَا كَبِرَ قَرَأَ جَالِسًا، فَإِذَا بَقِيَ عَلَيْهِ مِنَ السُّورَةِ ثَلَاثُونَ أَوْ أَرْبَعُونَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَهُنَّ ثُمَّ رَكَعَ.
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا اور انہوں نے کہا کہ ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا کہ مجھے میرے باپ عروہ نے خبر دی کہ عائشہ صدیقہ ؓ نے بتلایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو رات کی کسی نماز میں بیٹھ کر قرآن پڑھتے نہیں دیکھا۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ بوڑھے ہوگئے تو بیٹھ کر قرآن پڑھتے تھے لیکن جب تیس چالیس آیتیں رہ جاتیں تو کھڑے ہوجاتے پھر اس کو پڑھ کر رکوع کرتے تھے۔
Narrated Aisha (RA):
I did not see the Prophet ﷺ reciting (the Quran) in the night prayer while sitting except when he became old; when he used to recite while sitting, and when thirty or forty verses remained from the Sura, he would get up and recite them and then bow.
________
باب: دن اور رات میں باوضو رہنے کی فضیلت اور وضو کے بعد رات اور دن میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال لِبِلَالٍ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ: يَا بِلَالُ حَدِّثْنِي بِأَرْجَى عَمَلٍ عَمِلْتَهُ فِي الْإِسْلَامِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ دَفَّ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الْجَنَّةِ، قَالَ: مَا عَمِلْتُ عَمَلًا أَرْجَى عِنْدِي أَنِّي لَمْ أَتَطَهَّرْ طَهُورًا فِي سَاعَةِ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ إِلَّا صَلَّيْتُ بِذَلِكَ الطُّهُورِ مَا كُتِبَ لِي أَنْ أُصَلِّيَ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: دَفَّ نَعْلَيْكَ يَعْنِي تَحْرِيكَ.
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابواسامہ حماد بن اسابہ نے بیان کیا، ان سے ابوحیان یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے ابوزرعہ نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے بلال ؓ سے فجر کے وقت پوچھا کہ اے بلال! مجھے اپنا سب سے زیادہ امید والا نیک کام بتاؤ جسے تم نے اسلام لانے کے بعد کیا ہے کیونکہ میں نے جنت میں اپنے آگے تمہارے جوتوں کی چاپ سنی ہے۔ بلال ؓ نے عرض کیا میں نے تو اپنے نزدیک اس سے زیادہ امید کا کوئی کام نہیں کیا کہ جب میں نے رات یا دن میں کسی وقت بھی وضو کیا تو میں اس وضو سے نفل نماز پڑھتا رہتا جتنی میری تقدیر لکھی گئی تھی۔
Narrated Abu Hurairah (RA):
At the time of the Fajr prayer the Prophet ﷺ asked Bilal (RA) , "Tell me of the best deed you did after embracing Islam, for I heard your footsteps in front of me in Paradise." Bilal (RA) replied, "I did not do anything worth mentioning except that whenever I performed ablution during the day or night, I prayed after that ablution as much as was written for me."
________
باب: عبادت میں بہت سختی اٹھانا مکروہ ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا حَبْلٌ مَمْدُودٌ بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ، فَقَالَ: مَا هَذَا الْحَبْلُ ؟، قَالُوا: هَذَا حَبْلٌ لِزَيْنَبَ فَإِذَا فَتَرَتْ تَعَلَّقَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا حُلُّوهُ لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ فَإِذَا فَتَرَ فَلْيَقْعُدْ.
ہم سے ابو معمرعبداللہ بن عمرو نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ مسجد میں تشریف لے گئے۔ آپ ﷺ کی نظر ایک رسی پر پڑی جو دو ستونوں کے درمیان تنی ہوئی تھی۔ دریافت فرمایا کہ یہ رسی کیسی ہے؟ لوگوں نے عرض کی کہ یہ زینب ؓ نے باندھی ہے جب وہ (نماز میں کھڑی کھڑی) تھک جاتی ہیں تو اس سے لٹکی رہتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ نہیں یہ رسی نہیں ہونی چاہیے اسے کھول ڈالو، تم میں ہر شخص کو چاہیے جب تک دل لگے نماز پڑھے، تھک جائے تو بیٹھ جائے۔
Narrated Anas bin Malik (RA)
Once the Prophet ﷺ entered the Mosque and saw a rope hanging in between its two pillars. He said, "What is this rope?" The people said, "This rope is for Zainab who, when she feels tired, holds it (to keep standing for the prayer.)" The Prophet ﷺ said, "Dont use it. Remove the rope. You should pray as long as you feel active, and when you get tired, sit down."
باب: عبادت میں بہت سختی اٹھانا مکروہ ہے۔
وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَتْ عِنْدِي امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَنْ هَذِهِ ؟، قُلْتُ: فُلَانَةُ لَا تَنَامُ بِاللَّيْلِ فَذُكِرَ مِنْ صَلَاتِهَا، فَقَالَ: مَهْ عَلَيْكُمْ مَا تُطِيقُونَ مِنَ الْأَعْمَالِ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا.
اور امام بخاری (رح) نے فرمایا کہ ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے مالک (رح) نے، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ ؓ نے فرمایا کہ میرے پاس بنو اسد کی ایک عورت بیٹھی تھی، نبی کریم ﷺ تشریف لائے تو ان کے متعلق پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ میں نے کہا کہ یہ فلاں خاتون ہیں جو رات بھر نہیں سوتیں۔ ان کی نماز کا آپ ﷺ کے سامنے ذکر کیا گیا۔ لیکن آپ ﷺ نے فرمایا کہ بس تمہیں صرف اتنا ہی عمل کرنا چاہیے جتنے کی تم میں طاقت ہو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تو (ثواب دینے سے) تھکتا ہی نہیں تم ہی عمل کرتے کرتے تھک جاؤ گے۔
Narrated Aishah:
A woman from the tribe of Bani Asad was sitting with me and Allahs Apostle (p.b.u.h) came to my house and said, "Who is this?" I said, "(She is) so and so. She does not sleep at night because she is engaged in prayer." The Prophet ﷺ said disapprovingly: Do (good) deeds which is within your capacity as Allah never gets tired of giving rewards till you get tired of doing good deeds”.
باب: جو شخص رات کو عبادت کیا کرتا تھا وہ اگر اسے چھوڑ دے تو اس کی یہ عادت مکروہ ہے۔
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْحُسَيْنِ ، حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَاعَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: حَدَّثَنِيعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ لَا تَكُنْ مِثْلَ فُلَانٍ، كَانَ يَقُومُ اللَّيْلَ فَتَرَكَ قِيَامَ اللَّيْلِ، وَقَالَ هِشَامٌ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الْعِشْرِينَ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ مِثْلَهُ، وَتَابَعَهُ عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِالْأَوْزَاعِيِّ .
ہم سے عباس بن حسین نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے مبشر بن اسماعیل حلبی نے، اوزاعی سے بیان کیا (دوسری سند) اور مجھ سے محمد بن مقاتل ابوالحسن نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں امام اوزاعی نے خبر دی کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ نے بیان کیا، کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عبداللہ! فلاں کی طرح نہ ہوجانا وہ رات میں عبادت کیا کرتا تھا پھر چھوڑ دی۔ اور ہشام بن عمار نے کہا کہ ہم سے عبدالحمید بن ابوالعشرین نے بیان کیا، ان سے امام اوزاعی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن حکم بن ثوبان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے، اسی طرح پھر یہی حدیث بیان کی، ابن ابی العشرین کی طرح عمرو بن ابی سلمہ نے بھی اس کو امام اوزاعی سے روایت کیا۔
Narrated Abdullah bin Amr bin Al-As (RA):
Allahs Apostle ﷺ said to me, "O Abdullah! Do not be like so and so who used to pray at night and then stopped the night prayer."
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ، قُلْتُ: إِنِّي أَفْعَلُ ذَلِكَ، قَالَ: فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتْ عَيْنُكَ وَنَفِهَتْ نَفْسُكَ، وَإِنَّ لِنَفْسِكَ حَقٌّ وَلِأَهْلِكَ حَقٌّ، فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَقُمْ وَنَمْ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے ابو العباس سائب بن فروخ نے کہا میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے سنا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے نبی کریم ﷺ نے پوچھا کہ کیا یہ خبر صحیح ہے کہ تم رات بھر عبادت کرتے ہو اور پھر دن میں روزے رکھتے ہو؟ میں نے کہا کہ جی ہاں، یا رسول اللہ! میں ایسا ہی کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ لیکن اگر تم ایسا کرو گے تو تمہاری آنکھیں (بیداری کی وجہ سے) بیٹھ جائیں گی اور تیری جان ناتواں ہوجائے گی۔ یہ جان لو کہ تم پر تمہارے نفس کا بھی حق ہے اور بیوی بچوں کا بھی۔ اس لیے کبھی روزہ بھی رکھو اور کبھی بلا روزے کے بھی رہو، عبادت بھی کرو اور سوؤ بھی۔
Narrated Abdullah bin Amr:
Once Allahs Messenger ﷺ said to me, "I have been informed that you offer Salat (prayer) all the night and observe Saum (fast) during the day." I said, "(Yes) I do so." He said, "If you do so, your eye sight will become weak and you will become weak. No doubt, your body has right on you, and your family has right on you, so observe Saum (for some days) and do not observe it (for some days), offer Salat (for sometime) and then sleep."
باب: جس شخص کی رات کو آنکھ کھلے پھر وہ نماز پڑھے اس کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ ، حَدَّثَنِي عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، الْحَمْدُ لِلَّهِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي أَوْ دَعَا اسْتُجِيبَ لَهُ، فَإِنْ تَوَضَّأَ وَصَلَّى قُبِلَتْ صَلَاتُهُ.
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ولید بن مسلم نے امام اوزاعی سے خبر دی، کہا کہ مجھ کو عمیر بن ہانی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے جنادہ بن ابی امیہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبادہ بن صامت نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص رات کو بیدار ہو کر یہ دعا پڑھے لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملک، وله الحمد، وهو على كل شىء قدير. الحمد لله، و سبحان الله، ولا إله إلا الله، والله أكبر، ولا حول ولا قوة إلا بالله (ترجمہ) اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ملک اسی کے لیے ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کے لیے ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اللہ کی ذات پاک ہے، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کی مدد کے بغیر نہ کسی کو گناہوں سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی ہمت پھر یہ پڑھے اللهم اغفر لي (ترجمہ) اے اللہ! میری مغفرت فرما ۔ یا (یہ کہا کہ) کوئی دعا کرے تو اس کی دعا قبول ہوتی ہے۔ پھر اگر اس نے وضو کیا (اور نماز پڑھی) تو نماز بھی مقبول ہوتی ہے۔
Narrated Ubadahh bin As-Samit (RA):
The Prophet ﷺ "Whoever gets up at night and says: -- La ilaha il-lallah Wahdahu la Sharika lahu Lahu-l-mulk, waLahu-l-hamd wahuwa ala kullishaiin Qadir. Alhamdu lil-lahi wa subhanal-lahi wa la-ilaha il-lal-lah wa-l-lahu akbar wa la hawla Wala Quwata il-la-bil-lah. (None has the right to be worshipped but Allah. He is the Only One and has no partners . For Him is the Kingdom and all the praises are due for Him. He is Omnipotent. All the praises are for Allah. All the glories are for Allah. And none has the right to be worshipped but Allah, And Allah is Great And there is neither Might nor Power Except with Allah). And then says: -- Allahumma, Ighfir li(O Allah! Forgive me). Or invokes (Allah), he will be responded to and if he performs ablution (and prays), his prayer will be accepted."
________
باب: جس شخص کی رات کو آنکھ کھلے پھر وہ نماز پڑھے اس کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي الْهَيْثَمُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ ، أَنَّهُ سَمِعَأَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَقُصُّ فِي قَصَصِهِ وَهُوَ يَذْكُرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّ أَخًا لَكُمْ لَا يَقُولُ الرَّفَثَ يَعْنِي بِذَلِكَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ: وَفِينَا رَسُولُ اللَّهِ يَتْلُو كِتَابَهُ إِذَا انْشَقَّ مَعْرُوفٌ مِنَ الْفَجْرِ سَاطِعُ أَرَانَا الْهُدَى بَعْدَ الْعَمَى فَقُلُوبُنَا بِهِ مُوقِنَاتٌ أَنَّ مَا قَالَ وَاقِعُ يَبِيتُ يُجَافِي جَنْبَهُ عَنْ فِرَاشِهِ إِذَا اسْتَثْقَلَتْ بِالْمُشْرِكِينَ الْمَضَاجِعُ، تَابَعَهُ عُقَيْلٌ ، وَقَالَ الزُّبَيْدِيُّ : أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدٍ وَالْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے، انہوں نے کہا کہ مجھ کو ہیثم بن ابی سنان نے خبر دی کہ انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے سنا، آپ اپنے وعظ میں رسول اللہ ﷺ کا ذکر کر رہے تھے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ تمہارے بھائی نے (اپنے نعتیہ اشعار میں) یہ کوئی غلط بات نہیں کہی۔ آپ کی مراد عبداللہ بن رواحہ ؓ اور ان کے اشعار سے تھی جن کا ترجمہ یہ ہے: ہم میں اللہ کے رسول موجود ہیں، جو اس کی کتاب اس وقت ہمیں سناتے ہیں جب فجر طلوع ہوتی ہے۔ ہم تو اندھے تھے آپ ﷺ نے ہمیں گمراہی سے نکال کر صحیح راستہ دکھایا۔ ان کی باتیں اسی قدر یقینی ہیں جو ہمارے دلوں کے اندر جا کر بیٹھ جاتی ہیں اور جو کچھ آپ نے فرمایا وہ ضرور واقع ہوگا۔ آپ ﷺ رات بستر سے اپنے کو الگ کر کے گزارتے ہیں جبکہ مشرکوں سے ان کے بستر بوجھل ہو رہے ہوتے ہیں ۔ یونس کی طرح اس حدیث کو عقیل نے بھی زہری سے روایت کیا اور زبیدی نے یوں کہا سعید بن مسیب اور اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے۔
Narrated Abu Hurairah (RA)
That once Allahs Apostle ﷺ said, "Your brother, i.e. Abdullah bin Rawaha does not say obscene (referring to his verses): Amongst us is Allahs Apostle, who recites His Book when it dawns. He showed us the guidance, after we were blind. We believe that whatever he says will come true. And he spends his nights in such a way as his sides do not touch his bed. While the pagans were deeply asleep."
________
باب: جس شخص کی رات کو آنکھ کھلے پھر وہ نماز پڑھے اس کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: رَأَيْتُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّ بِيَدِي قِطْعَةَ إِسْتَبْرَقٍ فَكَأَنِّي لَا أُرِيدُ مَكَانًا مِنَ الْجَنَّةِ إِلَّا طَارَتْ إِلَيْهِ، وَرَأَيْتُ كَأَنَّ اثْنَيْنِ أَتَيَانِي أَرَادَا أَنْ يَذْهَبَا بِي إِلَى النَّارِ، فَتَلَقَّاهُمَا مَلَكٌ، فَقَالَ: لَمْ تُرَعْ خَلِّيَا عَنْهُ.
فَقَصَّتْ حَفْصَةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى رُؤْيَايَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ.
وَكَانُوا لَا يَزَالُونَ يَقُصُّونَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرُّؤْيَا، أَنَّهَا فِي اللَّيْلَةِ السَّابِعَةِ مِنَ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرَى رُؤْيَاكُمْ قَدْ تَوَاطَأَتْ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، فَمَنْ كَانَ مُتَحَرِّيهَا فَلْيَتَحَرَّهَا مِنَ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ.
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے زمانے میں یہ خواب دیکھا کہ گویا ایک گاڑھے ریشمی کپڑے کا ایک ٹکڑا میرے ہاتھ ہے۔ جیسے میں جنت میں جس جگہ کا بھی ارادہ کرتا ہوں تو یہ ادھر اڑا کے مجھ کو لے جاتا ہے اور میں نے دیکھا کہ جیسے دو فرشتے میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے دوزخ کی طرف لے جانے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ ایک فرشتہ ان سے آ کر ملا اور (مجھ سے) کہا کہ ڈرو نہیں (اور ان سے کہا کہ ) اسے چھوڑ دو۔
میری بہن (ام المؤمنین) حفصہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے میرا ایک خواب بیان کیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ عبداللہ بڑا ہی اچھا آدمی ہے کاش رات کو بھی نماز پڑھا کرتا۔ عبداللہ ؓ اس کے بعد ہمیشہ رات کو نماز پڑھا کرتے تھے۔
بہت سے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے نبی کریم ﷺ سے اپنے خواب بیان کئے کہ شب قدر (رمضان کی) ستائیسویں رات ہے۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ تم سب کے خواب رمضان کے آخری عشرے میں (شب قدر کے ہونے پر) متفق ہوگئے ہیں۔ اس لیے جسے شب قدر کی تلاش ہو وہ رمضان کے آخری عشرے میں ڈھونڈے۔
Narrated Nafi (RA):
Ibn Umar (RA) said, "In the life-time of the Prophet ﷺ I dreamt that a piece of silk cloth was in my hand and it flew with me to whichever part of Paradise I wanted. I also saw as if two persons (i.e. angels) came to me and wanted to take me to Hell. Then an angel met us and told me not to be afraid. He then told them to leave me. Hafsah (RA) narrated one of my dreams to the Prophet ﷺ and the Prophet ﷺ said, "Abdullah is a good man. Would that he offer the night prayer (Tahajjud)!" So after that day Abdullah (bin Umar (RA)) started offering Tahajjud. The companions of the Prophet ﷺ used to tell him their dreams that (Laila-tul-Qadr) was on the 27th of the month of Ramadan. The Prophet ﷺ said, "I see that your dreams agree on the last ten nights of Ramadan and so whoever is in search of it should seek it in the last ten nights of Ramadan."
________
باب: فجر کی سنتوں کو ہمیشہ پڑھنا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ صَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ وَرَكْعَتَيْنِ جَالِسًا وَرَكْعَتَيْنِ بَيْنَ النِّدَاءَيْنِ، وَلَمْ يَكُنْ يَدَعْهُمَا أَبَدًا.
ہم سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سعید بن ابی ایوب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا، ان سے عراک بن مالک نے، ان سے ابوسلمہ نے، ان سے عائشہ صدیقہ ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے عشاء کی نماز پڑھی پھر رات کو اٹھ کر آپ ﷺ نے تہجد کی آٹھ رکعتیں پڑھیں اور دو رکعتیں صبح کی اذان و اقامت کے درمیان پڑھیں جن کو آپ ﷺ کبھی نہیں چھوڑتے تھے (فجر کی سنتوں پر مداومت ثابت ہوئی) ۔
Narrated Aisha (RA);
Allahs Apostle ﷺ offered the Isha prayer (and then got up at the Tahajjud time) and offered eight Rakat and then offered two Rakat while sitting. He then offered two Rakat in between the Adhan and Iqama (of the Fajr prayer) and he never missed them.
________
باب: فجر کی سنتیں پڑھ کر داہنی کروٹ پر لیٹ جانا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ.
ہم سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سعید بن ابی ایوب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوالاسود محمد بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے عروہ بن زبیر ؓ نے اور ان سے عائشہ صدیقہ ؓ نے، انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ فجر کی دو سنت رکعتیں پڑھنے کے بعد دائیں کروٹ پر لیٹ جاتے۔
Narrated Aisha (RA):
The Prophet ﷺ used to lie down on his right side, after offering two Rakat (Sunna) of the Fajr prayer.
باب: فجر کی سنتیں پڑھ کر باتیں کرنا اور نہ لیٹنا۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى سُنَّةَ الْفَجْرِ فَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي، وَإِلَّا اضْطَجَعَ حَتَّى يُؤْذَنَ بِالصَّلَاةِ.
ہم سے بشر بن حکم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے سالم ابوالنضر نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے بیان کیا اور ان سے عائشہ ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ جب فجر کی سنتیں پڑھ چکتے تو اگر میں جاگتی ہوتی تو آپ ﷺ مجھ سے باتیں کرتے ورنہ لیٹ جاتے جب تک نماز کی اذان ہوتی۔
Narrated Aisha (RA):
After offering the Sunna of the Fajr prayer, the Prophet ﷺ used to talk to me, if I happen to be awake; otherwise he would lie down till the Iqama call was proclaimed (for the Fajr prayer).
________
باب: نفل نمازیں دو دو رکعتیں کر کے پڑھنا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا، كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، يَقُولُ: إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالْأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ، ثُمَّ لِيَقُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي أَوْ قَالَ عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ، وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي أَوْ قَالَ فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ، وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ أَرْضِنِي، قَالَ: وَيُسَمِّي حَاجَتَهُ.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن ابی الموال نے بیان کیا، ان سے محمد بن منکدر نے اور ان سے جابر بن عبداللہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں اپنے تمام معاملات میں استخارہ کرنے کی اسی طرح تعلیم دیتے تھے جس طرح قرآن کی کوئی سورت سکھلاتے۔ آپ ﷺ فرماتے کہ جب کوئی اہم معاملہ تمہارے سامنے ہو تو فرض کے علاوہ دو رکعت نفل پڑھنے کے بعد یہ دعا پڑھے اللهم إني أستخيرک بعلمک وأستقدرک بقدرتک، وأسألک من فضلک العظيم، فإنک تقدر ولا أقدر و تعلم ولا أعلم وأنت علام الغيوب، اللهم إن كنت تعلم أن هذا الأمر خير لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري ( أو قال ) عاجل أمري وآجله فاقدره لي ويسره لي ثم بارک لي فيه، وإن كنت تعلم أن هذا الأمر شر لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري أو قال في عاجل أمري وآجله فاصرفه عني واصرفني عنه، واقدر لي الخير (ترجمہ) اے میرے اللہ! میں تجھ سے تیرے علم کی بدولت خیر طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کی بدولت تجھ سے طاقت مانگتا ہوں اور تیرے فضل عظیم کا طلبگار ہوں کہ قدرت تو ہی رکھتا ہے اور مجھے کوئی قدرت نہیں۔ علم تجھ ہی کو ہے اور میں کچھ نہیں جانتا اور تو تمام پوشیدہ باتوں کو جاننے والا ہے۔ اے میرے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام جس کے لیے استخارہ کیا جا رہا ہے میرے دین دنیا اور میرے کام کے انجام کے اعتبار سے میرے لیے بہتر ہے یا (آپ نے یہ فرمایا کہ) میرے لیے وقتی طور پر اور انجام کے اعتبار سے یہ (خیر ہے) تو اسے میرے لیے نصیب کر اور اس کا حصول میرے لیے آسان کر اور پھر اس میں مجھے برکت عطا کر اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے دین، دنیا اور میرے کام کے انجام کے اعتبار سے برا ہے۔ یا (آپ ﷺ نے یہ کہا کہ) میرے معاملہ میں وقتی طور پر اور انجام کے اعتبار سے (برا ہے) تو اسے مجھ سے ہٹا دے اور مجھے بھی اس سے ہٹا دے۔ پھر میرے لیے خیر مقدر فرما دے، جہاں بھی وہ ہو اور اس سے میرے دل کو مطمئن بھی کر دے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کام کی جگہ اس کام کا نام لے۔
Narrated Jabir bin Abdullah :
The Prophet ﷺ used to teach us the way of doing Istikhara (Istikhara means to ask Allah to guide one to the right sort of action concerning any job or a deed), in all matters as he taught us the Suras of the Quran. He said, "If anyone of you thinks of doing any job he should offer a two Rakat prayer other than the compulsory ones and say (after the prayer): -- Allahumma inni astakhiruka biilmika, Wa astaqdiruka bi-qudratika, Wa asalaka min fadlika al-azlm Fa-innaka taqdiru Wala aqdiru, Wa talamu Wala alamu, Wa anta allamu l-ghuyub. Allahumma, in kunta talam anna hadha-l-amra Khairun li fi dini wa maashi waaqibati amri (or ajili amri waajilihi) Faqdirhu wa yas-sirhu li thumma barik li Fihi, Wa in kunta talamu anna hadha-lamra shar-run li fi dini wa maashi waaqibati amri (or fiajili amri wa ajilihi) Fasrifhu anni was-rifni anhu. Waqdir li al-khaira haithu kana Thumma ardini bihi. (O Allah! I ask guidance from Your knowledge, And Power from Your Might and I ask for Your great blessings. You are capable and I am not. You know and I do not and You know the unseen. O Allah! If You know that this job is good for my religion and my subsistence and in my Hereafter--(or said: If it is better for my present and later needs)--Then You ordain it for me and make it easy for me to get, And then bless me in it, and if You know that this job is harmful to me In my religion and subsistence and in the Hereafter--(or said: If it is worse for my present and later needs)--Then keep it away from me and let me be away from it. And ordain for me whatever is good for me, And make me satisfied with it). The Prophet ﷺ added that then the person should name (mention) his need.
________
باب: نفل نمازیں دو دو رکعتیں کر کے پڑھنا۔
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، سَمِعَ أَبَا قَتَادَةَ بْنَ رِبْعِيٍّ الْأنْصَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلَا يَجْلِسْ حَتَّى يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ.
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن سعید نے، ان سے عامر بن عبداللہ بن زبیر نے بیان کیا، انہوں نے عمرو بن سلیم زرقی سے، انہوں نے ابوقتادہ بن ربعی انصاری صحابی ؓ سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب کوئی تم میں سے مسجد میں آئے تو نہ بیٹھے جب تک دو رکعت (تحیۃ المسجد کی) نہ پڑھ لے۔
Narrated Abu Qatada bin Rabi Al-Ansari;
The Prophet ﷺ said, "If anyone of you enters a Mosque, he should not sit until he has offered a two-Rakat prayer."
باب: نفل نمازیں دو دو رکعتیں کر کے پڑھنا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہیں اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور انہیں انس بن مالک ؓ نے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے (ہمارے گھر میں جب دعوت میں آئے تھے) دو رکعت نماز پڑھائی اور پھر واپس تشریف لے گئے۔
Narrated Anas bin Malik (RA)
Allahs Apostle ﷺ led us and offered a two Rakat prayer and then went away.
باب: نفل نمازیں دو دو رکعتیں کر کے پڑھنا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث نے عقیل سے بیان کیا، عقیل سے ابن شہاب نے، انہوں نے کہا کہ مجھے سالم نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عمر ؓ نے، آپ نے بتلایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ظہر سے پہلے دو رکعت سنت پڑھی اور ظہر کے بعد دو رکعت اور جمعہ کے بعد دو رکعت اور مغرب کے بعد دو رکعت اور عشاء کے بعد بھی دو رکعت (نماز سنت) پڑھی ہے۔
Narrated Abdullah bin Umar Abu,
I offered with Allahs Apostle ﷺ a two Rakat prayer before the Zuhr prayer and two Rakat after the Zuhr prayer, two Rakat after Jumua, Maghrib and Isha prayers.
باب: نفل نمازیں دو دو رکعتیں کر کے پڑھنا۔
حَدَّثَنَا آدَمُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ: إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ أَوْ قَدْ خَرَجَ فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں شعبہ نے خبر دی، انہیں عمرو بن دینار نے خبر دی، کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ انصاری ؓ سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص بھی (مسجد میں) آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو یا خطبہ کے لیے نکل چکا ہو تو وہ دو رکعت نماز (تحیۃ المسجد کی) پڑھ لے۔
Narrated Jabir bin Abdullah :
While delivering a sermon, Allahs Apostle ﷺ said, "If anyone of you comes while the Imam is delivering the sermon or has come out for it, he should offer a two Rakat prayer."
________
باب: نفل نمازیں دو دو رکعتیں کر کے پڑھنا۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَكِّيُّ ، سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يَقُولُ: أُتِيَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي مَنْزِلِهِ فَقِيلَ لَهُ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ دَخَلَ الْكَعْبَةَ، قَالَ: فَأَقْبَلْتُ فَأَجِدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ وَأَجِدُ بِلَالًا عِنْدَ الْبَابِ قَائِمًا، فَقُلْتُ: يَابِلَالُ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَةِ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: فَأَيْنَ ؟ قَالَ: بَيْنَ هَاتَيْنِ الْأُسْطُوَانَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فِي وَجْهِ الْكَعْبَةِ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَوْصَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَكْعَتَيِ الضُّحَى، وَقَالَ عِتْبَانُ: غَدَا عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعْدَ مَا امْتَدَّ النَّهَارُ وَصَفَفْنَا وَرَاءَهُ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سیف بن سلیمان نے بیان کیا کہ میں نے مجاہد سے سنا، انہوں نے فرمایا کہ عبداللہ بن عمر ؓ (مکہ شریف میں) اپنے گھر آئے۔ کسی نے کہا بیٹھے کیا ہو نبی کریم ﷺ یہ آگئے بلکہ کعبہ کے اندر بھی تشریف لے جا چکے ہیں۔ عبداللہ نے کہا یہ سن کر میں آیا۔ دیکھا تو نبی کریم ﷺ کعبہ سے باہر نکل چکے ہیں اور بلال ؓ دروازے پر کھڑے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ اے بلال! رسول اللہ ﷺ نے کعبہ میں نماز پڑھی؟ انہوں نے کہا کہ ہاں پڑھی تھی۔ میں نے پوچھا کہ کہاں پڑھی تھی؟ انہوں نے بتایا کہ یہاں ان دو ستونوں کے درمیان۔ پھر آپ باہر تشریف لائے اور دو رکعتیں کعبہ کے دروازے کے سامنے پڑھیں اور ابوہریرہ ؓ نے کہا کہ مجھے نبی کریم ﷺ نے چاشت کی دو رکعتوں کی وصیت کی تھی اور عتبان نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر اور عمر ؓ صبح دن چڑھے میرے گھر تشریف لائے۔ ہم نے آپ ﷺ کے پیچھے صف بنا لی اور نبی کریم ﷺ نے دو رکعت نماز پڑھائی۔
Narrated Mujahid (RA):
Somebody came to the house of Ibn Umar (RA) and told him that Allahs Apostles had entered the Ka’bah. Ibn Umar (RA) said, "I went in front of the Ka’bah and found that Allahs Apostle ﷺ had come out of the Ka’bah and I saw Bilal (RA) standing by the side of the gate of the Ka’bah. I said, O Bilal (RA) ! Has Allahs Apostle ﷺ prayed inside the Ka’bah? Bilal (RA) replied in the affirmative. I said, Where (did he pray)? He replied, (He prayed) Between these two pillars and then he came out and offered a two Rakat prayer in front of the Ka’bah. " Abu Abdullah said: Abu Hurairah (RA) said, "The Prophet ﷺ advised me to offer two Rakat of Duha prayer (prayer to be offered after sunrise and before midday). " Itban (bin Malik) said, "Allahs Apostle ﷺ
( ﷺ ) and Abu Bakr, came to me after sunrise and we aligned behind the Prophet ﷺ and offered two Rakat."
________