نبی ﷺ کی قسم کس طرح کی تھی۔
حضرت سعد نے بیان کیا کہ آنحضرت ﷺ نے والذی نفسی بیدہ فرمایا اور ابوقتادہ نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر نے آنحضرت ﷺ کے پاس لا واللہ کہا، جہاں پر واللہ اور باللہ اور تااللہ کہا جاتا ہے۔
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضِيفٌ ظَهْرَهُ إِلَى قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ يَمَانٍ، إِذْ قَالَ لِأَصْحَابِهِ: أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟، قَالُوا: بَلَى، قَالَ: أَفَلَمْ تَرْضَوْا أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟، قَالُوا: بَلَى، قَالَ: فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ.
مجھ سے احمد بن عثمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شریح بن مسلمہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، کہا کہ میں نے عمرو بن میمون سے سنا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن مسعود ؓ نے بیان کیا کہ ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ جب یمنی چمڑے کے خیمہ سے پشت لگائے ہوئے بیٹھے تھے تو آپ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کیا تم اس پر خوش ہو کہ تم اہل جنت کے ایک چوتھائی رہو؟ انہوں نے عرض کیا، کیوں نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ تم اہل جنت کے ایک تہائی حصہ پاؤ۔ صحابہ نے عرض کیا کیوں نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے اس پر فرمایا، پس اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! مجھے امید ہے کہ جنت میں آدھے تم ہی ہو گے۔
Narrated Abdullah bin Masud (RA) :
While Allahs Apostle ﷺ was sitting, reclining his back against a Yemenite leather tent he said to his companions, "Will you be pleased to be one-fourth of the people of Paradise?" They said, Yes. He said "Wont you be pleased to be one-third of the people of Paradise" They said, "Yes." He said, "By Him in Whose Hand Muhammads soul is, I hope that you will be one-half of the people of Paradise."
نبی ﷺ کی قسم کس طرح کی تھی۔
حضرت سعد نے بیان کیا کہ آنحضرت ﷺ نے والذی نفسی بیدہ فرمایا اور ابوقتادہ نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر نے آنحضرت ﷺ کے پاس لا واللہ کہا، جہاں پر واللہ اور باللہ اور تااللہ کہا جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَجُلًا سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، يُرَدِّدُهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ، جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، وَكَأَنَّ الرَّجُلَ يَتَقَالُّهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّهَا لَتَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری ؓ نے بیان کیا کہ ایک صحابی نے سنا کہ ایک دوسرے صحابی سورة قل ھو اللہ باربار پڑھتے ہیں جب صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور نبی کریم ﷺ سے اس کا ذکر کیا، وہ صحابی اس سورت کو کم سمجھتے تھے لیکن نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ قرآن مجید کے ایک تہائی حصہ کے برابر ہے۔
Narrated Abu Said Al-Khudri (RA) :
A man heard another man reciting: Surat-ul-Ikhlas (The Unity) Say: He is Allah, the One (112) and he was repeating it. The next morning he came to Allahs Apostle ﷺ and mentioned the whole story to him as if he regarded the recitation of that Sura as insufficient On that, Allahs Apostle ﷺ said, "By Him in Whose Hand my soul is! That (Sura No. 112) equals one-third of the Quran."
نبی ﷺ کی قسم کس طرح کی تھی۔
حضرت سعد نے بیان کیا کہ آنحضرت ﷺ نے والذی نفسی بیدہ فرمایا اور ابوقتادہ نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر نے آنحضرت ﷺ کے پاس لا واللہ کہا، جہاں پر واللہ اور باللہ اور تااللہ کہا جاتا ہے۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي إِذَا مَا رَكَعْتُمْ، وَإِذَا مَا سَجَدْتُمْ.
مجھ سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم کو حبان نے خبر دی، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے انس بن مالک ؓ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم کریم ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے کہ رکوع اور سجدہ پورے طور پر ادا کیا کرو۔ اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں اپنی کمر کے پیچھے سے تم کو دیکھ لیتا ہوں جب رکوع اور سجدہ کرتے ہو۔
Narrated Anas bin Malik (RA):
I heard the Prophet ﷺ saying, "Perform the bowing and the prostration properly (with peace of mind), for, by Him in Whose Hand my soul is, I see you from behind my back when you bow and when you prostrate."
نبی ﷺ کی قسم کس طرح کی تھی۔
حضرت سعد نے بیان کیا کہ آنحضرت ﷺ نے والذی نفسی بیدہ فرمایا اور ابوقتادہ نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر نے آنحضرت ﷺ کے پاس لا واللہ کہا، جہاں پر واللہ اور باللہ اور تااللہ کہا جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ، أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهَا أَوْلَادٌ لَهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّكُمْ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ، قَالَهَا ثَلَاثَ مِرَارٍ.
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ہشام بن زید سے اور انہیں انس بن مالک ؓ نے کہ انصاری خاتون نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں، ان کے ساتھ ان کے بچے بھی تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم لوگ بھی مجھے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ عزیز ہو۔ یہ الفاظ نبی کریم ﷺ نے تین مرتبہ فرمائے۔
Narrated Anas bin Malik (RA):
An Ansari woman came to the Prophet ﷺ in the company of her children, and the Prophet ﷺ said to her, "By Him in Whose Hand my soul is, you are the most beloved people to me!" And he repeated the statement thrice.
اپنے باپوں کی قسم نہ کھاؤ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْرَكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَهُوَ يَسِيرُ فِي رَكْبٍ، يَحْلِفُ بِأَبِيهِ، فَقَالَ: أَلَا إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، مَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ، أَوْ لِيَصْمُتْ.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے مالک نے، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ عمر بن خطاب ؓ کے پاس آئے تو وہ سواروں کی ایک جماعت کے ساتھ چل رہے تھے اور اپنے باپ کی قسم کھا رہے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ خبردار تحقیق اللہ تعالیٰ نے تمہیں باپ دادوں کی قسم کھانے سے منع کیا ہے، جسے قسم کھانی ہے اسے (بشرط صدق) چاہیے کہ اللہ ہی کی قسم کھائے ورنہ چپ رہے۔
Narrated Ibn Umar (RA) :
Allahs Apostle ﷺ met Umar bin Al-Khattab (RA) while the latter was going with a group of camel-riders, and he was swearing by his father. The Prophet ﷺ said, "Lo! Allah forbids you to swear by your fathers, so whoever has to take an oath, he should swear by Allah or keep quiet."
اپنے باپوں کی قسم نہ کھاؤ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: قَالَ سَالِمٌ : قَالَ ابْنُ عُمَرَ : سَمِعْتُعُمَرَ ، يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، قَالَ عُمَرُ: فَوَاللَّهِ مَا حَلَفْتُ بِهَا مُنْذُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاكِرًا، وَلَا آثِرًا، قَالَ مُجَاهِدٌ: أَوْ أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ سورة الأحقاف آية 4، يَأْثُرُ عِلْمًا، تَابَعَهُ عُقَيْلٌ ، وَالزُّبَيْدِيُّ ، وَإِسْحَاقُ الْكَلْبِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ ، وَمَعْمَرٌ ، عَنْالزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عُمَرَ.
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سالم نے کہ ابن عمر ؓ نے کہا کہ میں نے عمر ؓ سے سنا کہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں باپ دادوں کی قسم کھانے سے منع کیا ہے۔ عمر ؓ نے بیان کیا واللہ! پھر میں نے ان کی نبی کریم ﷺ سے ممانعت سننے کے بعد کبھی قسم نہیں کھائی نہ اپنی طرف سے غیر اللہ کی قسم کھائی نہ کسی دوسرے کی زبان سے نقل کی۔ مجاہد نے کہا سورة الاحقاف میں جو أثرة من علم ہے اس کا معنی یہ ہے کہ علم کی کوئی بات نقل کرتا ہو۔ یونس کے ساتھ اس حدیث کو عقیل اور محمد بن ولید زبیدی اور اسحاق بن یحییٰ کلبی نے بھی زہری سے روایت کیا اور سفیان بن عیینہ اور معمر نے اس کو زہری سے روایت کیا، انہوں نے سالم سے، انہوں نے ابن عمر ؓ سے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے کہ آپ نے عمر ؓ کو غیر اللہ کی قسم کھاتے سنا۔ روایت میں لفظ اثارة کی تفسیر اثرا کی مناسبت سے بیان کردی کیونکہ دونوں کا مادہ ایک ہی ہے۔
Narrated Ibn Umar (RA) :
Allahs Apostle ﷺ met Umar bin Al-Khattab (RA) while the latter was going with a group of camel-riders, and he was swearing by his father. The Prophet ﷺ said, "Lo! Allah forbids you to swear by your fathers, so whoever has to take an oath, he should swear by Allah or keep quiet."
اپنے باپوں کی قسم نہ کھاؤ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن مسلم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن عمر ؓ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے باپ دادوں کی قسم نہ کھاؤ۔
Narrated Abdullah bin Umar (RA) :
Allahs Apostle ﷺ said, "Do not swear by your fathers."
اپنے باپوں کی قسم نہ کھاؤ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، وَالْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ زَهْدَمٍ ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ هَذَا الْحَيِّ مِنْ جَرْمٍ، وَبَيْنَ الْأَشْعَرِيِّينَ وُدٌّ وَإِخَاءٌ، فَكُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ فِيهِ لَحْمُ دَجَاجٍ، وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ أَحْمَرُ كَأَنَّهُ مِنَ الْمَوَالِي، فَدَعَاهُ إِلَى الطَّعَامِ، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُهُ يَأْكُلُ شَيْئًا فَقَذِرْتُهُ، فَحَلَفْتُ أَنْ لَا آكُلَهُ، فَقَالَ: قُمْ فَلَأُحَدِّثَنَّكَ عَنْ ذَاكَ، إِنِّي أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنَ الْأَشْعَرِيِّينَ نَسْتَحْمِلُهُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكُمْ وَمَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَهْبِ إِبِلٍ، فَسَأَلَ عَنَّا، فَقَالَ: أَيْنَ النَّفَرُ الْأَشْعَرِيُّونَ، فَأَمَرَ لَنَا بِخَمْسِ ذَوْدٍ غُرِّ الذُّرَى، فَلَمَّا انْطَلَقْنَا، قُلْنَا: مَا صَنَعْنَا حَلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحْمِلُنَا وَمَا عِنْدَهُ مَا يَحْمِلُنَا، ثُمَّ حَمَلَنَا، تَغَفَّلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينَهُ، وَاللَّهِ لَا نُفْلِحُ أَبَدًا، فَرَجَعْنَا إِلَيْهِ، فَقُلْنَا لَهُ: إِنَّا أَتَيْنَاكَ لِتَحْمِلَنَا، فَحَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنَا وَمَا عِنْدَكَ مَا تَحْمِلُنَا، فَقَالَ: إِنِّي لَسْتُ أَنَا حَمَلْتُكُمْ، وَلَكِنَّ اللَّهَ حَمَلَكُمْ، وَاللَّهِ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَتَحَلَّلْتُهَا.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے، ان سے ایوب نے، ان سے ابوقلابہ اور قاسم تیمی نے اور ان سے زہدم نے بیان کیا کہ ان قبائل، جرم اور اشعر کے درمیان بھائی چارہ تھا۔ ہم ابوموسیٰ اشعری ؓ کی خدمت میں موجود تھے تو ان کے لیے کھانا لایا گیا۔ اس میں مرغی بھی تھی۔ ان کے پاس بنی تیم اللہ کا ایک سرخ رنگ کا آدمی بھی موجود تھا۔ غالباً وہ غلاموں میں سے تھا۔ ابوموسیٰ اشعری ؓ نے اسے کھانے پر بلایا تو اس نے کہا کہ میں نے مرغی کو گندگی کھاتے دیکھا تو مجھے گھن آئی اور پھر میں نے قسم کھالی کہ اب میں اس کا گوشت نہیں کھاؤں گا۔ ابوموسیٰ اشعری ؓ نے کہا کہ کھڑے ہوجاؤ تو میں تمہیں اس کے بارے میں ایک حدیث سناؤں۔ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس قبیلہ اشعر کے چند لوگوں کے ساتھ آیا اور ہم نے نبی کریم ﷺ سے سواری کا جانور مانگا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں تمہیں سواری نہیں دے سکتا اور نہ میرے پاس ایسا کوئی جانور ہے جو تمہیں سواری کے لیے دے سکوں، پھر نبی کریم ﷺ کے پاس کچھ مال غنیمت کے اونٹ آئے تو نبی کریم ﷺ نے پوچھا کہ اشعری لوگ کہاں ہیں پھر آپ نے ہم کو پانچ عمدہ قسم کے اونٹ دئیے جانے کا حکم فرمایا۔ جب ہم ان کو لے کر چلے تو ہم نے کہا یہ ہم نے کیا کیا رسول اللہ ﷺ تو قسم کھاچکے تھے کہ ہم کو سواری نہیں دیں گے اور درحقیقت آپ ﷺ کے پاس اس وقت سواری موجود بھی نہ تھی پھر آپ نے ہم کو سوار کرا دیا۔ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو آپ کی قسم سے غافل کردیا۔ قسم اللہ کی ہم اس حرکت کے بعد کبھی فلاح نہیں پاسکیں گے۔ پس ہم آپ کی طرف لوٹ کر آئے اور آپ سے ہم نے تفصیل بالا کو عرض کیا کہ ہم آپ کے پاس آئے تھے تاکہ آپ ہم کو سواری پر سوار کرا دیں پس آپ نے قسم کھالی تھی کہ آپ ہم کو سوار نہیں کرائیں گے اور درحقیقت اس وقت آپ کے پاس سواری موجود بھی نہ تھی۔ آپ ﷺ نے یہ سب سن کر فرمایا کہ میں نے تم کو سوار نہیں کرایا بلکہ اللہ نے تم کو سوار کرا دیا۔ اللہ کی قسم جب میں کوئی قسم کھا لیتا ہوں بعد میں اس سے بہتر اور معاملہ دیکھتا ہوں تو میں وہی کرتا ہوں جو بہتر ہوتا ہے اور اس قسم کا کفارہ ادا کردیتا ہوں۔
Narrated Zahdam (RA) :
There was a relation of love and brotherhood between this tribe of Jarm and Al-Ashariyin. Once we were with Abu Musa Al-Ashari (RA), and then a meal containing chicken was brought to Abu Musa (RA), and there was present, a man from the tribe of Taimillah who was of red complexion as if he were from non-Arab freed slaves. Abu Musa (RA) invited him to the meal. He said, "I have seen chickens eating dirty things, so I deemed it filthy and took an oath that I would never eat chicken." On that, Abu Musa (RA) said, "Get up, I will narrate to you about that. Once a group of the Ashariyin and I went to Allahs Apostle ﷺ and asked him to provide us with mounts; he said, By Allah, I will never give you any mounts nor do I have anything to mount you on. Then a few camels of war booty were brought to Allahs Apostle ﷺ , and he asked about us, saying, Where are the Ash-ariyin? He then ordered five nice camels to be given to us, and when we had departed, we said, What have we done? Allahs Apostle ﷺ had taken the oath not to give us any mounts, and that he had nothing to mount us on, and later he gave us that we might ride? Did we take advantage of the fact that Allahs Apostle ﷺ had forgotten his oath? By Allah, we will never succeed. So we went back to him and said to him, We came to you to give us mounts, and you took an oath that you would not give us any mounts and that you had nothing to mount us on. On that he said, I did not provide you with mounts, but Allah did. By Allah, if I take an oath to do something, and then find something else better than it, I do that which is better and make expiation for the dissolution of the oath. "
کوئی شخص لات وعزی کے بتوں کی قسم نہ کھائے۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ حَلَفَ، فَقَالَ فِي حَلِفِهِ: بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ: تَعَالَ أُقَامِرْكَ: فَلْيَتَصَدَّقْ.
مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے زہری نے بیان کیا، انہیں حمید بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس نے قسم کھائی اور کہا کہ لات و عزیٰ کی قسم تو اسے پھر کلمہ لا إله إلا الله کہہ لینا چاہیے اور جو شخص اپنے ساتھی سے کہے کہ آؤ جوا کھیلیں تو اسے چاہیے کہ (اس کے کفارہ میں) صدقہ کرے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
The Prophet ﷺ said, "Whoever swears saying in his oath. By Al-Lat and AlUzza, should say, None has the right to be worshipped but Allah; and whoever says to his friend, Come, let me gamble with you, should give something in charity."
بغیر قسم کھلائے قسم کھانے کا بیان
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اصْطَنَعَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، وَكَانَ يَلْبَسُهُ فَيَجْعَلُ فَصَّهُ فِي بَاطِنِ كَفِّهِ، فَصَنَعَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ، ثُمَّ إِنَّهُ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَنَزَعَهُ، فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ أَلْبَسُ هَذَا الْخَاتِمَ، وَأَجْعَلُ فَصَّهُ مِنْ دَاخِلٍ فَرَمَى بِهِ، ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا، فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی اور نبی کریم ﷺ اسے پہنتے تھے، اس کا نگینہ ہتھیلی کے حصے کی طرف رکھتے تھے۔ پھر لوگوں نے بھی ایسی انگوٹھیاں بنوا لیں اس کے بعد ایک دن نبی کریم ﷺ منبر پر بیٹھے اور اپنی انگوٹھی اتار دی اور فرمایا کہ میں اسے پہنتا تھا اور اس کا نگینہ اندر کی جانب رکھتا تھا، پھر آپ ﷺ نے اسے اتار کر پھینک دیا اور فرمایا کہ اللہ کی قسم میں اب اسے کبھی نہیں پہنوں گا۔ پس لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں اتار کر پھینک دیں۔
Narrated Ibn Umar (RA) :
Allahs Apostle ﷺ had a gold ring made for himself, and he used to wear it with the stone towards the inner part of his hand. Consequently, the people had similar rings made for themselves. Afterwards the Prophet; sat on the pulpit and took it off, saying, "I used to wear this ring and keep its stone towards the palm of my hand." He then threw it away and said, "By Allah, I will never wear it." Therefore all the people threw away their rings as well.
اس شخص کا بیان جو ملت اسلام کے سوا دوسرے مذہب کی قسم کھائے۔ اور نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص لات و عزی کی قسم کھائے تو اسے لاالہ الااللہ کہنا چاہیے اور اس کو کفر کی طرف منسوب نہیں کیا گیا۔
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ مِلَّةِ الْإِسْلَامِ، فَهُوَ كَمَا قَالَ، قَالَ: وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ، عُذِّبَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، وَلَعْنُ الْمُؤْمِنِ، كَقَتْلِهِ، وَمَنْ رَمَى مُؤْمِنًا بِكُفْرٍ، فَهُوَ كَقَتْلِهِ.
ہم سے معلی بن اسعد نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، انہوں نے ایوب سے روایت کیا، انہوں نے ابوقلابہ سے، انہوں نے ثابت بن ضحاک سے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو اسلام کے سوا کسی اور مذہب پر قسم کھائے پس وہ ایسا ہی ہے جیسی کہ اس نے قسم کھائی ہے اور جو شخص اپنے نفس کو کسی چیز سے ہلاک کرے وہ دوزخ میں اسی چیز سے عذاب دیا جاتا رہے گا اور مومن پر لعنت بھیجنا اس کو قتل کرنے کے برابر ہے اور جس نے کسی مومن پر کفر کا الزام لگایا پس وہ بھی اس کے قتل کرنے کے برابر ہے۔
Narrated Thabit bin Ad-Dahhak (RA) :
The Prophet ﷺ said, "Whoever swears by a religion other than Islam, is, as he says; and whoever commits suicide with something, will be punished with the same thing in the (Hell) Fire; and cursing a believer is like murdering him; and whoever accuses a believer of disbelief, then it is as if he had killed him."
8- بَابُ لاَ يَقُولُ مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ. وَهَلْ يَقُولُ أَنَا بِاللَّهِ ثُمَّ بِكَ؟
باب: یوں کہنا منع ہے کہ جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں ( وہ ہوگا) اور کیا کوئی شخص یوں کہہ سکتا ہے کہ مجھ کو اللہ کا آسرا ہے پھر آپ کا؟
وَقَالَ عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّ ثَلَاثَةً فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَبْتَلِيَهُمْ، فَبَعَثَ مَلَكًا فَأَتَى الْأَبْرَصَ فَقَالَ: تَقَطَّعَتْ بِيَ الْحِبَالُ، فَلَا بَلَاغَ لِي إِلَّا بِاللَّهِ، ثُمَّ بِكَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
اور عمرو بن عاصم نے کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسحاق بن عبداللہ نے، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ نے، ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرماتے تھے کہ بنی اسرائیل میں تین شخص تھے اللہ نے ان کو آزمانا چاہا (پھر سارا قصہ بیان کیا) فرشتے کو کوڑھی کے پاس بھیجا وہ اس سے کہنے لگا میری روزی کے سارے ذریعے کٹ گئے ہیں اب اللہ ہی کا آسرا ہے پھر تیرا (یا اب اللہ ہی کی مدد درکار ہے پھر تیری) پھر پوری حدیث کو ذکر کیا۔
Narrated Abu Hurairah (RA) that he heard the Prophet ﷺ saying, "Allah decided to test three people from Bani Israil. So, He sent an angel who came first to the leper and said, (I am a traveller) who has run short of all means of living, and I have nobody to help me except Allah, and then with your help." Abu Hurairah (RA) then mentioned the complete narration.
اللہ تعالیٰ کا قول کہ ان لوگوں نے پکی پکی قسمیں کھائیں۔
اور ابن عباس نے بیان کیا حضرت ابوبکر نے عرض کیا کہ بخدا یارسول اللہ ﷺ آپ مجھے بتلادیں جو میں نے خواب کی تعبیر میں غلطی کی ہے، آپ نے فرمایا کہ قسم نہ دو۔
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ.
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے، انہوں نے اشعث بن ابی الشعثاء سے، انہوں نے معاویہ بن سوید بن مقرن سے، انہوں نے براء بن عازب سے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے (دوسری سند) امام بخاری (رح) نے کہا اور مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر محمد بن جعفر نے، کہا ہم سے شعبہ نے، انہوں نے اشعث سے، انہوں نے معاویہ بن سوید بن مقرن سے، انہوں نے براء ؓ سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے قسم کھانے والے کو سچا کرنے کا حکم فرمایا۔
Narrated Al-Bara (RA) :
The Prophet ﷺ ordered us to help others to fulfill the oaths.
اللہ تعالیٰ کا قول کہ ان لوگوں نے پکی پکی قسمیں کھائیں۔
اور ابن عباس نے بیان کیا حضرت ابوبکر نے عرض کیا کہ بخدا یارسول اللہ ﷺ آپ مجھے بتلادیں جو میں نے خواب کی تعبیر میں غلطی کی ہے، آپ نے فرمایا کہ قسم نہ دو۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ ، يُحَدِّثُ، عَنْ أُسَامَةَ ، أَنَّ بِنْتًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَيْهِ، وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وسَعْدٌ، وأُبَيٌّ: أَنَّ ابْنِي قَدِ احْتُضِرَ فَاشْهَدْنَا، فَأَرْسَلَ يَقْرَأُ السَّلَامَ، وَيَقُولُ: إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَمَا أَعْطَى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ مُسَمًّى، فَلْتَصْبِرْ وَتَحْتَسِبْ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ، تُقْسِمُ عَلَيْهِ، فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَهُ، فَلَمَّا قَعَدَ رُفِعَ إِلَيْهِ، فَأَقْعَدَهُ فِي حَجْرِهِ، وَنَفْسُ الصَّبِيِّ جُئِّثُ، فَفَاضَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ سَعْدٌ: مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: هَذِهِ رَحْمَةٌ يَضَعُهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، کہا ہم کو عاصم الاحول نے خبر دی، کہا میں نے ابوعثمان سے سنا، وہ اسامہ سے نقل کرتے تھے کہ نبی کریم ﷺ کی ایک صاحبزادی (زینب) نے آپ کو بلا بھیجا اس وقت آپ کے پاس اسامہ بن زید اور سعد بن عبادہ اور ابی بن کعب ؓ بھی بیٹھے تھے۔ صاحبزادی صاحبہ نے کہلا بھیجا کہ ان کا بچہ مرنے کے قریب ہے آپ تشریف لائیے۔ آپ نے ان کے جواب میں یوں کہلا بھیجا میرا سلام کہو اور کہو سب اللہ کا مال ہے جو اس نے لے لیا اور جو اس نے عنایت فرمایا اور ہر چیز کا اس کے پاس وقت مقرر ہے، صبر کرو اور اللہ سے ثواب کی امید رکھو۔ صاحبزادی صاحبہ نے قسم دے کر پھر کہلا بھیجا کہ نہیں آپ ضرور تشریف لائیے۔ اس وقت آپ اٹھے، ہم لوگ بھی ساتھ اٹھے جب آپ صاحبزادی صاحبہ کے گھر پر پہنچے اور وہاں جا کر بیٹھے تو بچے کو اٹھا کر آپ کے پاس لائے۔ آپ نے اسے گود میں بٹھا لیا وہ دم توڑ رہا تھا۔ یہ حال پر ملال دیکھ کر آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ سعد بن عبادہ ؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ رونا کیسا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ رونا رحم کی وجہ سے ہے اور اللہ اپنے جس بندے کے دل میں چاہتا ہے رحم رکھتا ہے یا یہ ہے کہ اللہ اپنے ان ہی بندوں پر رحم کرے گا جو دوسروں پر رحم کرتے ہیں۔
Narrated Usama (RA) :
Once a daughter of Allahs Apostle ﷺ sent a message to Allahs Apostle ﷺ while Usama, Sad, and my father or Ubai were (sitting there) with him. She said, (in the message); My child is going to die; please come to us." Allahs Apostle ﷺ returned the messenger and told him to convey his greetings to her, and say, "Whatever Allah takes, is for Him and whatever He gives is for Him, and everything with Him has a limited fixed term (in this world): so she should be patient and hope for Allahs reward." Then she again sent for him swearing that he should come; so The Prophet ﷺ got up, and so did we. When he sat there (at the house of his daughter), the child was brought to him, and he took him into his lap while the childs breath was disturbed in his chest. The eyes of Allahs Apostle ﷺ started shedding tears. Sad said, "What is this, O Allahs Apostle?" The Prophet ﷺ said, "This is the mercy which Allah has lodged in the hearts of whoever He wants of His slaves, and verily Allah is merciful only to those of His slaves who are merciful (to others).
اللہ تعالیٰ کا قول کہ ان لوگوں نے پکی پکی قسمیں کھائیں۔
اور ابن عباس نے بیان کیا حضرت ابوبکر نے عرض کیا کہ بخدا یارسول اللہ ﷺ آپ مجھے بتلادیں جو میں نے خواب کی تعبیر میں غلطی کی ہے، آپ نے فرمایا کہ قسم نہ دو۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَمُوتُ لِأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ، تَمَسُّهُ النَّارُ، إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے امام مالک نے، انہوں نے ابن شہاب سے روایت کیا، انہوں نے سعید بن مسیب سے روایت کیا، انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس مسلمان کے تین بچے مرجائیں تو اس کو دوزخ کی آگ نہیں چھوئے گی مگر صرف قسم اتارنے کے لیے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
Allahs Apostle ﷺ said, "Any Muslim who has lost three of his children will not be touched by the Fire except that which will render Allahs oath fulfilled."
اللہ تعالیٰ کا قول کہ ان لوگوں نے پکی پکی قسمیں کھائیں۔
اور ابن عباس نے بیان کیا حضرت ابوبکر نے عرض کیا کہ بخدا یارسول اللہ ﷺ آپ مجھے بتلادیں جو میں نے خواب کی تعبیر میں غلطی کی ہے، آپ نے فرمایا کہ قسم نہ دو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ كُلُّ ضَعِيفٍ، مُتَضَعَّفٍ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ، وَأَهْلِ النَّارِ ؟ كُلُّ جَوَّاظٍ، عُتُلٍّ، مُسْتَكْبِرٍ.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا مجھ سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے معبد بن خالد نے، کہا میں نے حارثہ بن وہب سے سنا، کہا میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرماتے تھے کہ میں تم کو بتلاؤں بہشتی کون لوگ ہیں، ہر ایک غریب ناتواں جو اگر اللہ کے بھروسے پر قسم کھا بیٹھے تو اللہ اس کو سچا کرے (اس کی قسم پوری کر دے) اور دوزخی کون لوگ ہیں ہر ایک موٹا، لڑاکا، مغرور، فسادی۔
Narrated Haritha bin Wahb (RA) :
I heard the Prophet ﷺ saying, "Shall I tell you of the people of Paradise? They comprise every poor humble person, and if he swears by Allah to do something, Allah will fulfill it; while the people of the fire comprise every violent, cruel arrogant person."
جب کوئی شخص کہے کہ میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں یا میں نے اللہ کو گواہ کیا
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ ؟ قَالَ: قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ، وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: وَكَانَ أَصْحَابُنَا يَنْهَوْنَا وَنَحْنُ غِلْمَانٌ، أَنْ نَحْلِفَ بِالشَّهَادَةِ وَالْعَهْدِ.
ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے عبیدہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ کون لوگ اچھے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میرا زمانہ، پھر وہ لوگ جو اس سے قریب ہوں گے پھر وہ لوگ جو اس سے قریب ہوں گے۔ اس کے بعد ایک ایسی قوم پیدا ہوگی جس کی گواہی قسم سے پہلے زبان پر آ جایا کرے گی اور قسم گواہی سے پہلے۔ ابراہیم نے کہا کہ ہمارے اساتذہ جب ہم کم عمر تھے تو ہمیں قسم کھانے سے منع کیا کرتے تھے کہ ہم گواہی یا عہد میں قسم کھائیں۔
Narrated Abdullah (RA) :
The Prophet ﷺ was asked, "Who are the best people?" He replied: The people of my generation, and then those who will follow (come after) them, and then those who will come after the later; after that there will come some people whose witness will precede their oaths and their oaths will go ahead of their witness." Ibrahim (a sub-narrator) said, "When we were young, our elder friends used to prohibit us from taking oaths by saying, I bear witness swearing by Allah, or by Allahs Covenant."
اللہ بزرگ وبرتر کا عہد کا بیان۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، وَمَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ، يَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ، أَوْ قَالَ: أَخِيهِ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَصْدِيقَهُ: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ سورة آل عمران آية 77.
قَالَ سُلَيْمَانُ فِي حَدِيثِهِ: فَمَرَّ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ، فَقَالَ: مَا يُحَدِّثُكُمْ عَبْدُ اللَّهِ ؟ قَالُوا لَهُ: فَقَالَ الْأَشْعَثُ : نَزَلَتْ فِيَّ، وَفِي صَاحِبٍ لِي، فِي بِئْرٍ كَانَتْ بَيْنَنَا.
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے سلیمان و منصور نے بیان کیا، ان سے ابو وائل نے بیان کیا، اور ان سے عبداللہ بن مسعود ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس نے جھوٹی قسم اس مقصد سے کھائی کہ کسی مسلمان کا مال اس کے ذریعہ ناجائز طریقے پر حاصل کرے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضب ناک ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق نازل کی (قرآن مجید میں کہ) إن الذين يشترون بعهد الله بلاشبہ وہ لوگ جو اللہ کے عہد کے ذریعہ خریدتے ہیں۔
سلیمان نے بیان کیا کہ پھر اشعث بن قیس ؓ وہاں سے گزرے اور پوچھا کہ عبداللہ تم سے کیا بیان کر رہے تھے۔ ہم نے ان سے بیان کیا تو اشعث ؓ نے کہا کہ یہ آیت میرے اور میرے ایک ساتھی کے بارے میں نازل ہوئی تھی، ایک کنویں کے سلسلے میں ہم دونوں کا جھگڑا تھا۔
Narrated Abdullah (RA) :
The Prophet ﷺ said, "Whoever swears falsely in order to grab the property of a Muslim (or of his brother), Allah will be angry with him when he meets Him." Allah then revealed in confirmation of the above statement:--Verily those who purchase a small gain at the cost of Allahs Covenant and their own oaths. (3.77) Al-Ashath said, "This Verse was revealed regarding me and a companion of mine when we had a dispute about a well."
اللہ کی عزت اور اس کی صفات اور کلمات کی قسم کھانے کا بیان۔
اور ابن عباس نے بیان کیا کہ نبی ﷺ فرماتے تھے، اعوذبعزتک،، تیری عزت کے ذریعے پناہ مانگتا ہوں اور ابوہریرہ (رض) نے نبی ﷺ سے نقل کیا ہے کہ ایک شخص جنت اور دوزخ کے درمیان باقی رہ جائے گا تو وہ عرض کرے گا کہ اے میرے پروردگار میرا چہرہ دوزخ کی طرف پھیر دے، قسم ہے تیری عزت کی اس کے علاوہ میں تجھ سے کچھ نہیں مانگوں گا، اور ابوسعید نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرمائے گا تیرے لئے یہ ہے اور اس جیسی دس ہیں اور ایوب نے کہا کہ قسم ہے تیری عزت کی مجھے تیری برکت سے بے نیازی نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَزَالُ جَهَنَّمُ، تَقُولُ: هَلْ مِنْ مَزِيدٍ ؟ حَتَّى يَضَعَ رَبُّ الْعِزَّةِ فِيهَا قَدَمَهُ، فَتَقُولُ: قَطْ قَطْ وَعِزَّتِكَ، وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ، رَوَاهُشُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ .
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جہنم برابر یہی کہتی رہے گی کہ کیا کچھ اور ہے کیا کچھ اور ہے؟ آخر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھ دے گا تو وہ کہہ اٹھے گی بس بس میں بھر گئی، تیری عزت کی قسم! اور اس کا بعض حصہ بعض کو کھانے لگے گا۔ اس روایت کو شعبہ نے قتادہ سے نقل کیا۔
Narrated Anas bin Malik (RA):
The Prophet ﷺ said, "The Hell Fire will keep on saying: Are there anymore (people to come)? Till the Lord of Power and Honor will put His Foot over it and then it will say, Qat! Qat! (sufficient! sufficient!) by Your Power and Honor. And its various sides will come close to each other (i.e., it will contract). "
کسی شخص کا لعمر اللہ کہنے کا بیان ابن عباس نے کہا لعمرک یعنی تیری زندگی کی قسم
حَدَّثَنَا الْأُوَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ . ح وحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ النُّمَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، وَعَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ ، وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الْإِفْكِ مَا قَالُوا، فَبَرَّأَهَا اللَّهُ، وَكُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ، وَفِيهِ: فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَعْذَرَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ، فَقَامَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ، فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ: لَعَمْرُ اللَّهِ لَنَقْتُلَنَّهُ.
ہم سے اویسی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے (دوسری سند) اور ہم سے حجاج نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن عمر نمیری نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زہری سے سنا، کہا کہ میں نے عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ ؓ سے نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ صدیقہ ؓ کی بات کے متعلق سنا کہ جب تہمت لگانے والے نے ان پر تہمت لگائی تھی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے بری قرار دیا تھا۔ اور ہر شخص نے مجھ سے پوری بات کا کوئی ایک حصہ ہی بیان کا۔ پھر نبی کریم ﷺ کھڑے ہوئے اور عبداللہ بن ابی کے بارے میں مدد چاہی۔ پھر اسید بن حضیر ؓ کھڑے ہوئے اور سعد بن عبادہ ؓ سے کہا کہ اللہ کی قسم! ( لعمر الله ) ہم ضرور اسے قتل کردیں گے (مفصل حدیث پیچھے گزر چکی ہے) ۔
Narrated Az-Zuhri (RA) :
I heard Urwa bin Az-Zubair, Said bin Al-Musaiyab, Alqama bin Waqqas and Ubaidullah bin Abdullah narrating from Aisha (RA), the wife of the Prophet, the story about the liars who said what they said about her and how Allah revealed her innocence afterwards. Each one of the above four narrators narrated to me a portion of her narration. (It was said in it), "The Prophet ﷺ stood up, saying, Is there anyone who can relieve me from Abdullah bin Ubai? On that, Usaid bin Hudair got up and said to Sad bin Ubadah, Laamrullahi (By the Eternity of Allah), we will kill him! "