فضائل قرآن

Sahih Bukhari · Chapter 49 · 82 hadiths · Page 4 of 5

5043Sahih Bukhari

قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ قرآن کریم ٹھہر ٹھہر کر پڑھو اور (اور دوسرا) قول وقرآنا فرقناہ لتقرائہ علی الناس علی مکث ترتیل سے پڑھنے کی دلیل ہے، شعروں کی طرح جلد جلد نہ پڑھا جائے، امام بخاری لفظ یفرق کی تفسیر تفصیل سے کی ہے، اور ابن عباس نے فرقناہ کی تفسیر فصلناہ سے کی ہے

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: غَدَوْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ رَجُلٌ: قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ الْبَارِحَةَ، فَقَالَ: هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ، إِنَّا قَدْ سَمِعْنَا الْقِرَاءَةَ، وَإِنِّي لَأَحْفَظُ الْقُرَنَاءَ الَّتِي كَانَ يَقْرَأُ بِهِنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سُورَةً مِنَ الْمُفَصَّلِ وَسُورَتَيْنِ مِنْ آلِ حم.

ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے مہدی بن میمون نے، کہا ہم سے واصل احدب نے، ان سے ابو وائل نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے بیان کیا کہ ہم ان کی خدمت میں صبح سویرے حاضر ہوئے۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا کہ رات میں نے (تمام) مفصل سورتیں پڑھ ڈالیں۔ اس پر عبداللہ بن مسعود ؓ بولے جیسے اشعار جلدی جلدی پڑھتے ہیں تم نے ویسے ہی پڑھ لی ہوگی۔ ہم سے قرآت سنی ہے اور مجھے وہ جوڑ والی سورتیں بھی یاد ہیں جن کو ملا کر نمازوں میں نبی کریم ﷺ پڑھا کرتے تھے۔ یہ اٹھارہ سورتیں مفصل کی ہیں اور وہ دو سورتیں جن کے شروع میں حم. ہے۔

Narrated Abu Wail (RA) : We went to Abdullah in the morning and a man said, "Yesterday I recited all the Mufassal Suras." On that Abdullah said, "That is very quick, and we have the (Prophets) recitation, and I remember very well the recitation of those Suras which the Prophet ﷺ used to recite, and they were eighteen Suras from the Mufassal, and two Suras from the Suras that start with Ha Mim.

5044Sahih Bukhari

قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ قرآن کریم ٹھہر ٹھہر کر پڑھو اور (اور دوسرا) قول وقرآنا فرقناہ لتقرائہ علی الناس علی مکث ترتیل سے پڑھنے کی دلیل ہے، شعروں کی طرح جلد جلد نہ پڑھا جائے، امام بخاری لفظ یفرق کی تفسیر تفصیل سے کی ہے، اور ابن عباس نے فرقناہ کی تفسیر فصلناہ سے کی ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فِي قَوْلِهِ: لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ سورة القيامة آية 16، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ جِبْرِيلُ بِالْوَحْيِ وَكَانَ مِمَّا يُحَرِّكُ بِهِ لِسَانَهُ وَشَفَتَيْهِ فَيَشْتَدُّ عَلَيْهِ، وَكَانَ يُعْرَفُ مِنْهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ الْآيَةَ الَّتِي فِي لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ سورة القيامة آية 1، لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ 16 إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْءَانَهُ 17 فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْءَانَهُ 18 سورة القيامة آية 16-18 فَإِذَا أَنْزَلْنَاهُ فَاسْتَمِعْ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ سورة القيامة آية 19، قَالَ: إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ نُبَيِّنَهُ بِلِسَانِكَ، قَالَ: وَكَانَ إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ أَطْرَقَ، فَإِذَا ذَهَبَ قَرَأَهُ كَمَا وَعَدَهُ اللَّهُ.

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن ابی عائشہ نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس ؓ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان لا تحرک به لسانک لتعجل به آپ قرآن کو جلدی جلدی لینے کے لیے اس پر زبان کو نہ ہلایا کریں۔ بیان کیا کہ جب جبرائیل (علیہ السلام) وحی لے کر نازل ہوتے تو رسول اللہ ﷺ اپنی زبان اور ہونٹ ہلایا کرتے تھے۔ اس کی وجہ سے آپ کے لیے وحی یاد کرنے میں بہت بار پڑتا تھا اور یہ آپ کے چہرے سے بھی ظاہر ہوجاتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت جو سورة لا أقسم بيوم القيامة میں ہے، نازل کی کہ آپ قرآن کو جلدی جلدی لینے کے لیے اس پر زبان کو نہ ہلایا کریں یہ تو ہمارے ذمہ ہے اس کا جمع کرنا اور اس کا پڑھوانا تو جب ہم اسے پڑھنے لگیں تو آپ اس کے پیچھے پیچھے پڑھا کریں پھر آپ کی زبان سے اس کی تفسیر بیان کرا دینا بھی ہمارے ذمہ ہے۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر جب جبرائیل (علیہ السلام) آتے تو آپ سر جھکا لیتے اور جب واپس جاتے تو پڑھتے جیسا کہ اللہ نے آپ سے یاد کروانے کا وعدہ کیا تھا کہ تیرے دل میں جما دینا اس کو پڑھا دینا ہمارا کام ہے پھر آپ اس کے موافق پڑھتے۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : Regarding His (Allahs) Statement:-- Move not your tongue concerning (the Quran) to make haste therewith. (75.16) And whenever Gabriel (علیہ السلام) descended to Allahs Apostle ﷺ with the Divine Inspiration, Allahs Apostle ﷺ used to move his tongue and lips, and that used to be hard for him, and one could easily recognize that he was being inspired Divinely. So Allah revealed the Verse which occurs in the Surah starting with "I do swear by the Day of Resurrection. (75.1) i.e. Move not your tongue concerning (the Quran) to make haste then with. It is for Us to collect it (in your mind) ( O Muhammad ﷺ ) an give you the ability to recite it by heart. (75.16-17) which means: It is for us to collect it (in your mind) and give you the ability to recite it by heart. And when We have recited it to you ( O Muhammad ﷺ ) through Gabriel (علیہ السلام) then follow you its recital. (75.18) means: When We reveal it (the Quran) to you, Listen to it. for then: It is for Us to explain it and make it clear to you (75.19) i.e. It is up to Us to explain it through your tongue. So, when Gabriel (علیہ السلام) came to him, Allahs Apostle ﷺ would listen to him attentively, and as soon as Gabriel (علیہ السلام) left, he would recite the Revelations, as Allah had promised him.

5045Sahih Bukhari

الفاظ کھینچ کر تلاوت کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ قِرَاءَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ: كَانَ يَمُدُّ مَدًّا.

ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم ازدی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے قتادہ نے بیان کہ میں نے انس بن مالک ؓ سے نبی کریم ﷺ کی تلاوت قرآن مجید کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے بتلایا کہ نبی کریم ﷺ ان الفاظ کو کھینچ کر پڑھتے تھے جن میں مد ہوتا تھا۔

Narrated Qatada (RA) : I asked Anas bin Malik (RA) about the recitation of the Prophet. He said, "He used to pray long (certain sounds) very much.

5046Sahih Bukhari

الفاظ کھینچ کر تلاوت کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ: كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ: كَانَتْ مَدًّا، ثُمَّ قَرَأَ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، يَمُدُّ بِبِسْمِ اللَّهِ، وَيَمُدُّ بِالرَّحْمَنِ، وَيَمُدُّ بِالرَّحِيمِ.

ہم سے عمرو بن عاصم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے کہ انس ؓ سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ ﷺ کی قرآت کیسی تھی؟ انہوں نے بیان کیا کہ مد کے ساتھ۔ پھر آپ نے بسم الله الرحمن الرحيم پڑھا اور کہا کہ بسم الله (میں اللہ کی لام) کو مد کے ساتھ پڑھتے الرحمن (میں میم) کو مد کے ساتھ پڑھتے اور الرحيم. (میں حاء کو) مد کے ساتھ پڑھتے۔

Narrated Qatada (RA) : Anas was asked, "How was the recitation (of the Quran) of the Prophet? He replied, "It was characterized by the prolongation of certain sounds." He then recited: In the Name of Allah, the Most Beneficent, the Most Merciful prolonging the pronunciation of In the Name of Allah, the most Beneficent, and the Most Merciful.

5047Sahih Bukhari

آواز کو گھما کر قرآن مجید کی تلاوت کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو إِيَاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ أَوْ جَمَلِهِ وَهِيَ تَسِيرُ بِهِ وَهُوَ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفَتْحِ، أَوْ مِنْ سُورَةِ الْفَتْحِ قِرَاءَةً لَيِّنَةً يَقْرَأُ وَهُوَ يُرَجِّعُ.

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوایاس نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن مغفل ؓ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ اپنی اونٹنی یا اونٹ پر سوار ہو کر تلاوت کر رہے تھے سواری چل رہی تھی اور آپ ﷺ سورة الفتح پڑھ رہے تھے یا (راوی نے یہ بیان کیا کہ) سورة الفتح میں سے پڑھ رہے تھے نرمی اور آہستگی کے ساتھ قرآت کر رہے تھے اور آواز کو حلق میں دہراتے تھے۔

Narrated Abdullah bin Mughaffal (RA) : I saw the Prophet ﷺ reciting (Quran) while he was riding on his she camel or camel which was moving, carrying him. He was reciting Surat Fath or part of Surat Fath very softly and in an Attractive vibrating tone.

5048Sahih Bukhari

خوش الحانی سے قرآن شریف پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُ: يَا أَبَا مُوسَى، لَقَدْ أُوتِيتَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ.

ہم سے محمد بن خلف ابوبکر عسقلانی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابویحییٰ حمانی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے برید بن عبداللہ بن ابی بردہ نے بیان کیا، ان سے ان کے دادا ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابوموسیٰ! تجھے داؤد (علیہ السلام) جیسی بہترین آواز عطا کی گئی ہے۔

Narrated Abu Musa (RA) : That the Prophet ﷺ said to him "O Abu Musa! You have been given one of the musical wind-instruments of the family of David .

5049Sahih Bukhari

دوسرے شخص سے قرآن شریف پڑھوا کر سننے کا بیان

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْرَأْ عَلَيَّ الْقُرْآنَ، قُلْتُ: أَأَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ، قَالَ: إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي.

ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے عبیدہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود ؓ نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے قرآن مجید پڑھ کر سناؤ۔ میں نے عرض کیا میں آپ کو قرآن سناؤں آپ پر تو قرآن نازل ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں قرآن مجید دوسرے سے سننا محبوب رکھتا ہوں۔

Narrated Abdullah (RA) : That the Prophet ﷺ said to him, "Recite the Quran to me." Abdullah said, "Shall I recite (the Quran) to you while it has been revealed to you?" He said, "I like to hear it from others."

5050Sahih Bukhari

قرآن کریم پڑھوا کر سننے والے کو بس بس کہنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْرَأْ عَلَيَّ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَأَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ، قَالَ: نَعَمْ. فَقَرَأْتُ سُورَةَ النِّسَاءِ حَتَّى أَتَيْتُ إِلَى هَذِهِ الْآيَةِ: فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا سورة النساء آية 41، قَالَ: حَسْبُكَ الْآنَ، فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ فَإِذَا عَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ.

ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے عبیدہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود ؓ نے بیان کیا کہ مجھ سے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کو پڑھ کر سناؤں، آپ پر تو قرآن مجید نازل ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہاں سناؤ۔ چناچہ میں نے سورة نساء پڑھی جب میں آیت فكيف إذا جئنا من کل أمة بشهيد وجئنا بک على هؤلاء شهيدا پر پہنچا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اب بس کرو۔ میں نے آپ کی طرف دیکھا تو نبی کریم ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔

Narrated Abdullah bin Masud (RA) : The Prophet ﷺ said to me, "Recite (the Quran) to me." I said, "O Allahs Apostle ﷺ Shall I recite (the Quran) to you while it has been revealed to you?" He said, "Yes." So I recited Surat-An-Nisa (The Women), but when I recited the Verse: How (will it be) then when We bring from each nation a witness and We bring you ( O Muhammad ﷺ ) as a witness against these people. (4.41) He said, "Enough for the present," I looked at him and behold! His eyes were overflowing with tears

5051Sahih Bukhari

کتنے دنوں میں قرآن کریم ختم کیا جائے، اس کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ جو انسان آسانی سے پڑھ سکے وہ پڑھے

حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ لِي ابْنُ شُبْرُمَةَ: نَظَرْتُ كَمْ يَكْفِي الرَّجُلَ مِنَ الْقُرْآنِ، فَلَمْ أَجِدْ سُورَةً أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثِ آيَاتٍ، فَقُلْتُ: لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقْرَأَ أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثِ آيَاتٍ. قَالَ عَلِيٌّ، قَالَ سُفْيَانُ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ، عَنْإِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، أَخْبَرَهُ عَلْقَمَةُ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ وَلَقِيتُهُ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَذَكَرَ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ مَنْ قَرَأَ بِالْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ.

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہا، ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن شبرمہ نے بیان کیا (جو کوفہ کے قاضی تھے) کہ میں نے غور کیا کہ نماز میں کتنا قرآن پڑھنا کافی ہوسکتا ہے۔ پھر میں نے دیکھا کہ ایک سورت میں تین آیتوں سے کم نہیں ہے۔ اس لیے میں نے یہ رائے قائم کی کہ کسی کے لیے تین آیتوں سے کم پڑھنا مناسب نہیں۔ علی المدینی نے بیان کیا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم کو منصور نے خبر دی، انہیں ابراہیم نے، انہیں عبدالرحمٰن بن یزید نے، انہیں علقمہ نے خبر دی اور انہیں ابومسعود ؓ نے (علقمہ نے بیان کیا کہ) میں نے ان سے ملاقات کی تو وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ کا ذکر کیا (کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا) کہ جس نے سورة البقرہ کے آخری کی دو آیتیں رات میں پڑھ لیں وہ اس کے لیے کافی ہیں۔

Narrated Sufyan (RA) : Ibn Shubruma said, "I wanted to see how much of the Quran can be enough (to recite in prayer) and I could not find a Surah containing less than three Verses, therefore I said to myself), "One ought not to recite less than three (Quranic) Verses (in prayer)." Narrated Abu Masud (RA) : The Prophet ﷺ said, "If somebody recites the last two Verses of Surat al-Baqara at night, it will be sufficient for him.

5052Sahih Bukhari

کتنے دنوں میں قرآن کریم ختم کیا جائے، اس کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ جو انسان آسانی سے پڑھ سکے وہ پڑھے

حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: أَنْكَحَنِي أَبِي امْرَأَةً ذَاتَ حَسَبٍ، فَكَانَ يَتَعَاهَدُ كَنَّتَهُ، فَيَسْأَلُهَا عَنْ بَعْلِهَا، فَتَقُولُ: نِعْمَ الرَّجُلُ مِنْ رَجُلٍ لَمْ يَطَأْ لَنَا فِرَاشًا، وَلَمْ يُفَتِّشْ لَنَا كَنَفًا مُنْذُ أَتَيْنَاهُ، فَلَمَّا طَالَ ذَلِكَ عَلَيْهِ ذَكَرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: الْقَنِي بِهِ، فَلَقِيتُهُ بَعْدُ، فَقَالَ: كَيْفَ تَصُومُ ؟قَالَ: كُلَّ يَوْمٍ، قَالَ: وَكَيْفَ تَخْتِمُ ؟قَالَ: كُلَّ لَيْلَةٍ، قَالَ: صُمْ فِي كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةً، وَاقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ، قَالَ: قُلْتُ: أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْجُمُعَةِ، قُلْتُ: أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: أَفْطِرْ يَوْمَيْنِ وَصُمْ يَوْمًا، قَالَ: قُلْتُ: أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: صُمْ أَفْضَلَ الصَّوْمِ، صَوْمَ دَاوُدَ، صِيَامَ يَوْمٍ وَإِفْطَارَ يَوْمٍ، وَاقْرَأْ فِي كُلِّ سَبْعِ لَيَالٍ مَرَّةً، فَلَيْتَنِي قَبِلْتُ رُخْصَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَاكَ أَنِّي كَبِرْتُ وَضَعُفْتُ، فَكَانَ يَقْرَأُ عَلَى بَعْضِ أَهْلِهِ السُّبْعَ مِنَ الْقُرْآنِ بِالنَّهَارِ وَالَّذِي يَقْرَؤُهُ يَعْرِضُهُ مِنَ النَّهَارِ لِيَكُونَ أَخَفَّ عَلَيْهِ بِاللَّيْلِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَتَقَوَّى أَفْطَرَ أَيَّامًا وَأَحْصَى وَصَامَ مِثْلَهُنَّ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَتْرُكَ شَيْئًا، فَارَقَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: وَقَالَ بَعْضُهُمْ: فِي ثَلَاثٍ وَفِي خَمْسٍ وَأَكْثَرُهُمْ عَلَى سَبْعٍ.

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے، ان سے مغیرہ بن مقسم نے، ان سے مجاہد بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عمرو ؓ نے بیان کیا کہ میرے والد عمرو بن العاص ؓ نے میرا نکاح ایک شریف خاندان کی عورت (ام محمد بنت محمیہ) سے کردیا تھا اور ہمیشہ اس کی خبرگیری کرتے رہتے تھے اور ان سے باربار اس کے شوہر (یعنی خود ان) کے متعلق پوچھتے رہتے تھے۔ میری بیوی کہتی کہ بہت اچھا مرد ہے۔ البتہ جب سے میں ان کے نکاح میں آئی ہوں انہوں نے اب تک ہمارے بستر پر قدم بھی نہیں رکھا نہ میرے کپڑے میں کبھی ہاتھ ڈالا۔ جب بہت دن اسی طرح ہوگئے تو والد صاحب نے مجبور ہو کر اس کا تذکرہ نبی کریم ﷺ سے کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھ سے اس کی ملاقات کراؤ۔ چناچہ میں اس کے بعد نبی کریم ﷺ سے ملا۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ روزہ کس طرح رکھتے ہو۔ میں نے عرض کیا کہ روزانہ پھر دریافت فرمایا قرآن مجید کس طرح ختم کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا ہر رات۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہر مہینے میں تین دن روزے رکھو اور قرآن ایک مہینے میں ختم کرو۔ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر بلا روزے کے رہو اور ایک دن روزے سے۔ میں نے عرض کیا مجھے اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ پھر وہ روزہ رکھو جو سب سے افضل ہے، یعنی داؤد (علیہ السلام) کا روزہ، ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن افطار کرو اور قرآن مجید سات دن میں ختم کرو۔ عبداللہ بن عمرو ؓ کہا کرتے تھے کاش میں نے نبی کریم ﷺ کی رخصت قبول کرلی ہوتی کیونکہ اب میں بوڑھا اور کمزور ہوگیا ہوں۔ حجاج نے کہا کہ آپ اپنے گھر کے کسی آدمی کو قرآن مجید کا ساتواں حصہ یعنی ایک منزل دن میں سنا دیتے تھے۔ جتنا قرآن مجید آپ رات کے وقت پڑھتے اسے پہلے دن میں سنا رکھتے تاکہ رات کے وقت آسانی سے پڑھ سکیں اور جب (قوت ختم ہوجاتی اور نڈھال ہوجاتے اور) قوت حاصل کرنا چاہتے تو کئی کئی دن روزہ نہ رکھتے کیونکہ آپ کو یہ پسند نہیں تھا کہ جس چیز کا رسول اللہ ﷺ کے آگے وعدہ کرلیا ہے (ایک دن روزہ رکھنا ایک دن افطار کرنا) اس میں سے کچھ بھی چھوڑیں۔ امام بخاری (رح) کہتے ہیں کہ بعض راویوں نے تین دن میں اور بعض نے پانچ دن میں۔ لیکن اکثر نے سات راتوں میں ختم کی حدیث روایت کی ہے۔

Narrated Abdullah bin Amr (RA) bin Al-As (RA) : My father got me married to a lady of a noble family, and often used to ask my wife about me, and she used to reply, "What a wonderful man he is! He never comes to my bed, nor has he approached me since he married me." When this state continued for a long period, my father told the story to the Prophet ﷺ who said to my father, "Let me meet him." Then I met him and he asked me, "How do you fast?" I replied, "I fast daily," He asked, "How long does it take you to finish the recitation of the whole Quran?" I replied, "I finish it every night." On that he said, "Fast for three days every month and recite the Quran (and finish it) in one month." I said, "But I have power to do more than that." He said, "Then fast for three days per week." I said, "i have the power to do more than that." He said, "Therefore, fast the most superior type of fasting, (that is, the fasting of (prophet) David who used to fast every alternate day; and finish the recitation of the whole Quran In seven days." I wish I had accepted the permission of Allahs Apostle ﷺ as I have become a weak old man. It is said that Abdullah used to recite one-seventh of the Quran during the day-time to some of his family members, for he used to check his memorization of what he would recite at night during the daytime so that it would be easier for him to read at night. And whenever he wanted to gain some strength, he used to give up fasting for some days and count those days to fast for a similar period, for he disliked to leave those things which he used to do during the lifetime of the Prophet.

5053Sahih Bukhari

کتنے دنوں میں قرآن کریم ختم کیا جائے، اس کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ جو انسان آسانی سے پڑھ سکے وہ پڑھے

حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي كَمْ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ ؟.

ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے اور ان سے عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ قرآن مجید تم کتنے دن میں ختم کرلیتے ہو؟

Narrated Abdullah bin Amr (RA) : The Prophet ﷺ asked me, "How long does it take you to finish the recitation of the whole Quran?"Narrated Abdullah bin Amr (RA) (RA) : Allahs Apostle ﷺ said to me, "Recite the whole Quran in one months time." I said, "But I have power (to do more than that)." Allahs Apostle ﷺ said, "Then finish the recitation of the Quran in seven days, and do not finish it in less than this period."

5054Sahih Bukhari

کتنے دنوں میں قرآن کریم ختم کیا جائے، اس کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ جو انسان آسانی سے پڑھ سکے وہ پڑھے

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى بَنِي زُهْرَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: وَأَحْسِبُنِي قَالَ: سَمِعْتُ أَنَا مِنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ، قُلْتُ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، حَتَّى قَالَ: فَاقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ وَلَا تَزِدْ عَلَى ذَلِكَ.

مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم کو عبیداللہ بن موسیٰ نے خبر دی، انہیں شیبان نے، انہیں یحییٰ بن ابی کثیر نے، انہیں بنی زہرہ کے مولیٰ محمد بن عبدالرحمٰن نے، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے، یحییٰ نے کہا اور میں خیال کرتا ہوں شاید میں نے یہ حدیث خود ابوسلمہ سے سنی ہے۔ بلاواسطہ (محمد بن عبدالرحمٰن کے) خیر ابوسلمہ نے عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ ہر مہینے میں قرآن کا ایک ختم کیا کرو میں نے عرض کیا مجھ کو تو زیادہ پڑھنے کی طاقت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا سات راتوں میں ختم کیا کرو اس سے زیادہ مت پڑھ۔

Narrated `Abdullah bin `Amr (RA): Allahs Messenger ﷺ said to me, "Recite the whole Quran in one months time." I said, "But I have power (to do more than that)." Allahs Messenger ﷺ said, "Then finish the recitation of the Quran in seven days, and do not finish it in less than this period".

5055Sahih Bukhari

قرآن شریف پڑھتے وقت رونے کا بیان

حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ يَحْيَى: بَعْضُ الْحَدِيثِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدیث نمبر: 5055 - حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ،قَالَ الْأَعْمَشُوَبَعْضُ الْحَدِيثِ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَعَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْرَأْ عَلَيَّ، قَالَ: قُلْتُ: أَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ، قَالَ: إِنِّي أَشْتَهِي أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي، قَالَ: فَقَرَأْتُ النِّسَاءَ حَتَّى إِذَا بَلَغْتُ: فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا سورة النساء آية 41، قَالَ لِي: كُفَّ أَوْ أَمْسِكْ، فَرَأَيْتُ عَيْنَيْهِ تَذْرِفَانِ.

ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم کو یحییٰ بن سعید نے خبر دی، انہیں سفیان ثوری نے، انہیں سلیمان نے، انہیں ابراہیم نخعی نے، انہیں عبیدہ سلمانی نے اور انہیں عبداللہ بن مسعود ؓ نے، یحییٰ بن قطان نے کہا اس حدیث کا کچھ ٹکڑا اعمش نے ابراہیم سے سنا ہے کہ مجھ سے نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ دوسری سند ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے، ان سے سفیان ثوری نے، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے عبیدہ سلمانی نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود ؓ نے، اعمش نے بیان کیا کہ میں نے اس حدیث کا ایک ٹکڑا تو خود ابراہیم سے سنا اور ایک ٹکڑا اس حدیث کا مجھ سے عمرو بن مرہ نے نقل کیا، ان سے ابراہیم نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابوالضحیٰ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے سامنے قرآن مجید کی تلاوت کرو۔ میں نے عرض کیا نبی کریم ﷺ کے سامنے میں کیا تلاوت کروں آپ پر تو قرآن مجید نازل ہی ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ کسی اور سے سنوں۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر میں نے سورة نساء پڑھی اور جب میں آیت فكيف إذا جئنا من کل أمة بشهيد وجئنا بک على هؤلاء شهيدا پر پہنچا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ٹھہر جاؤ (نبی کریم ﷺ نے) كف فرمایا یا أمسك راوی کو شک ہے۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔

Narrated Abdullah bin Masud (RA) : The Prophet ﷺ said to me, "Recite Quran to me." I said to him. "Shall I recite (it) to you while it has been revealed to you?" He said, "I like to hear it from another person."

5056Sahih Bukhari

قرآن شریف پڑھتے وقت رونے کا بیان

حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْرَأْ عَلَيَّ، قُلْتُ: أَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ، قَالَ: إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي.

ہم سے قیس بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے عبیدہ سلمانی نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود ؓ نے بیان کیا کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے قرآن مجید پڑھ کر سناؤ۔ میں نے عرض کیا: کیا میں سناؤں؟ آپ پر تو قرآن مجید نازل ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں کسی سے سننا محبوب رکھتا ہوں۔

Narrated Abdullah (bin Masud): Allahs Apostle ﷺ said (to me), "Recite the Quran to me." I said, "Shall I recite (it) to you while it has been revealed to you?" He said, "I like to hear it from another person." So I recited Surat An-Nisa (The Women) till I reached the Verse: How (will it be) then when We bring from each nation a witness, and We bring you ( O Muhammad ﷺ ) as a witness against these people. (4.41) Then he said to me, "Stop!" Thereupon I saw his eyes overflowing with tears.

5057Sahih Bukhari

لوگوں کو دکھانے، دنیا کمانے یا فخر کے طور پر قرآن پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: يَأْتِي فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ حُدَثَاءُ الْأَسْنَانِ، سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ، يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ الْبَرِيَّةِ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لَا يُجَاوِزُ إِيمَانُهُمْ حَنَاجِرَهُمْ، فَأَيْنَمَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ، فَإِنَّ قَتْلَهُمْ أَجْرٌ لِمَنْ قَتَلَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے خیثمہ بن عبدالرحمٰن کوفی نے، ان سے سوید بن غفلہ نے اور ان سے علی ؓ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ آخری زمانہ میں ایک قوم پیدا ہوگی نوجوانوں اور کم عقلوں کی۔ یہ لوگ ایسا بہترین کلام پڑھیں گے جو بہترین خلق کا (پیغمبر کا) ہے یا ایسا کلام پڑھیں گے جو سارے خلق کے کلاموں سے افضل ہے۔ (یعنی حدیث یا آیت پڑھیں گے اس سے سند لائیں گے) لیکن اسلام سے وہ اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کو پار کر کے نکل جاتا ہے ان کا ایمان ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا تم انہیں جہاں بھی پاؤ قتل کر دو۔ کیونکہ ان کا قتل قیامت میں اس شخص کے لیے باعث اجر ہوگا جو انہیں قتل کر دے گا۔

Narrated Ali (RA) : I heard the Prophet ﷺ saying, "In the last days (of the world) there will appear young people with foolish thoughts and ideas. They will give good talks, but they will go out of Islam as an arrow goes out of its game, their faith will not exceed their throats. So, wherever you find them, kill them, for there will be a reward for their killers on the Day of Resurrection."

5058Sahih Bukhari

لوگوں کو دکھانے، دنیا کمانے یا فخر کے طور پر قرآن پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: يَخْرُجُ فِيكُمْ قَوْمٌ تَحْقِرُونَ صَلَاتَكُمْ مَعَ صَلَاتِهِمْ، وَصِيَامَكُمْ مَعَ صِيَامِهِمْ، وَعَمَلَكُمْ مَعَ عَمَلِهِمْ، وَيَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، يَنْظُرُ فِي النَّصْلِ فَلَا يَرَى شَيْئًا، وَيَنْظُرُ فِي الْقِدْحِ فَلَا يَرَى شَيْئًا، وَيَنْظُرُ فِي الرِّيشِ فَلَا يَرَى شَيْئًا، وَيَتَمَارَى فِي الْفُوقِ.

ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن سعید انصاری نے، انہیں محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی نے، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابو سعید خدری ؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں ایک قوم ایسی پیدا ہوگی کہ تم اپنی نماز کو ان کی نماز کے مقابلہ میں حقیر سمجھو گے، ان کے روزوں کے مقابلہ میں تمہیں اپنے روزے اور ان کے عمل کے مقابلہ میں تمہیں اپنا عمل حقیر نظر آئے گا اور وہ قرآن مجید کی تلاوت بھی کریں گے لیکن قرآن مجید ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ دین سے وہ اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کو پار کرتے ہوئے نکل جاتا ہے اور وہ بھی اتنی صفائی کے ساتھ (کہ تیر چلانے والا) تیر کے پھل میں دیکھتا ہے تو اس میں بھی (شکار کے خون وغیرہ کا) کوئی اثر نظر نہیں آتا۔ اس سے اوپر دیکھتا ہے وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا۔ تیر کے پر کو دیکھتا ہے اور وہاں بھی کچھ نظر نہیں آتا۔ بس سوفار میں کچھ شبہ گزرتا ہے۔

Narrated Abu Said Al-Khudri(RA): I heard Allahs Apostle ﷺ saying, "There will appear some people among you whose prayer will make you look down upon yours, and whose fasting will make you look down upon yours, but they will recite the Quran which will not exceed their throats (they will not act on it) and they will go out of Islam as an arrow goes out through the game whereupon the archer would examine the arrowhead but see nothing, and look at the unfeathered arrow but see nothing, and look at the arrow feathers but see nothing, and finally he suspects to find something in the lower part of the arrow."

5059Sahih Bukhari

لوگوں کو دکھانے، دنیا کمانے یا فخر کے طور پر قرآن پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْمُؤْمِنُ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَعْمَلُ بِهِ كَالْأُتْرُجَّةِ، طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَرِيحُهَا طَيِّبٌ، وَالْمُؤْمِنُ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَعْمَلُ بِهِ كَالتَّمْرَةِ، طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلَا رِيحَ لَهَا، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَالرَّيْحَانَةِ، رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَالْحَنْظَلَةِ، طَعْمُهَا مُرٌّ أَوْ خَبِيثٌ وَرِيحُهَا مُرٌّ.

ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے انس بن مالک نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس مومن کی مثال جو قرآن مجید پڑھتا ہے اور اس پر عمل بھی کرتا ہے میٹھے لیموں کی سی ہے جس کا مزا بھی لذت دار اور خوشبو بھی اچھی اور وہ مومن جو قرآن پڑھتا تو نہیں لیکن اس پر عمل کرتا ہے اس کی مثال کھجور کی ہے جس کا مزہ تو عمدہ ہے لیکن خوشبو کے بغیر اور اس منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے ریحان کی سی ہے جس کی خوشبو تو اچھی ہوتی ہے لیکن مزا کڑوا ہوتا ہے اور اس منافق کی مثال جو قرآن بھی نہیں پڑھتا اندرائن کے پھل کی سی ہے جس کا مزہ بھی کڑوا ہوتا ہے (راوی کو شک ہے) کہ لفظ مر ہے یا خبيث اور اس کی بو بھی خراب ہوتی ہے۔

Narrated Abu Musa (RA) : The Prophet ﷺ said, "The example of a believer who recites the Quran and acts on it, like a citron which tastes nice and smells nice. And the example of a believer who does not recite the Quran but acts on it, is like a date which tastes good but has no smell. And the example of a hypocrite who recites the Quran is like a Raihana (sweet basil) which smells good but tastes bitter And the example of a hypocrite who does not recite the Quran is like a colocynth which tastes bitter and has a bad smell."

5060Sahih Bukhari

دل لگنے تک قرآن شریف پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ قُلُوبُكُمْ، فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فَقُومُوا عَنْهُ.

ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے ابوعمران جونی نے اور ان سے جندب بن عبداللہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ قرآن مجید اس وقت تک پڑھو جب تک اس میں دل لگے، جب جی اچاٹ ہونے لگے تو پڑھنا بند کر دو۔

Narrated Abdullah (RA) : The Prophet ﷺ said, "Recite (and study) the Quran as long as you agree about its interpretation, but if you have any difference of opinion (as regards to its interpretation and meaning) then you should stop reciting it (for the time being)."

5061Sahih Bukhari

دل لگنے تک قرآن شریف پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْجُنْدَبٍ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَيْهِ قُلُوبُكُمْ، فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فَقُومُوا عَنْهُ، تَابَعَهُ الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَ أَبَانُ، وَقَالَ غُنْدَرٌ: عَنْشُعْبَةَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، سَمِعْتُ جُنْدَبًا قَوْلَهُ، وَقَالَ ابْنُ عَوْنٍ: عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ عُمَرَقَوْلَهُ: وجُنْدَبٌ أَصَحُّ وَأَكْثَرُ.

ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، ان سے سلام بن ابی مطیع نے بیان کیا، ان سے ابوعمران جونی نے اور ان سے جندب بن عبداللہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس قرآن کو جب ہی تک پڑھو جب تک تمہارے دل ملے جلے یا لگے رہیں۔ جب اختلاف اور جھگڑا کرنے لگو تو اٹھ کھڑے ہو۔ (قرآن مجید پڑھنا موقوف کر دو ) سلام کے ساتھ اس حدیث کو حارث بن عبید اور سعید بن زید نے بھی ابوعمران جونی سے روایت کیا اور حماد بن سلمہ اور ابان نے اس کو مرفوع نہیں بلکہ موقوفاً روایت کیا ہے اور غندر محمد بن جعفر نے بھی شعبہ سے، انہوں نے ابوعمران سے یوں روایت کیا کہ میں نے جندب سے سنا، وہ کہتے تھے۔ (لیکن موقوفاً روایت کیا) اور عبداللہ بن عون نے اس کو ابوعمران سے، انہوں نے عبداللہ بن صامت سے، انہوں نے عمر ؓ سے ان کا قول روایت کیا (مرفوعاً نہیں کیا) اور جندب کی روایت زیادہ صحیح ہے۔

Narrated Jundub (RA) : The Prophet ﷺ said, "Recite (and study) the Quran as long as you agree about its interpretation, but when you have any difference of opinion (as regards its interpretation and meaning) then you should stop reciting it (for the time being)

5062Sahih Bukhari

دل لگنے تک قرآن شریف پڑھنے کا بیان

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ آَيَةً سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِلَافَهَا فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ فَانْطَلَقْتُ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: كِلَاكُمَا مُحْسِنٌ فَاقْرَءَا أَكْبَرُ عِلْمِي قَالَ: فَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ اخْتَلَفُوا فَأَهْلَكَهُمْ.

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے عبدالملک بن میسرہ نے، ان سے نزال بن سبرہ نے کہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے ایک صاحب (ابی بن کعب ؓ) کو ایک آیت پڑھتے سنا، وہی آیت انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے خلاف سنی تھی۔ (ابن مسعود ؓ نے بیان کیا کہ) پھر میں نے ان کا ہاتھ پکڑا اور انہیں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لایا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم دونوں صحیح ہو (اس لیے اپنے اپنے طور پر پڑھو۔ ) (شعبہ کہتے ہیں کہ) میرا غالب گمان یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ (اختلاف و نزاع نہ کیا کرو) کیونکہ تم سے پہلے کی امتوں نے اختلاف کیا اور اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک کردیا۔

Narrated Abdullah (RA) : That he heard a man reciting a Quranic Verse which he had heard the Prophet ﷺ reciting in a different way. So he took that man to the Prophet ﷺ (and told him the story). The Prophet ﷺ said, "Both of you are reciting in a correct way, so carry on reciting." The Prophet ﷺ further added, "The nations which were before you were destroyed (by Allah) because they differed."