غزوات کا بیان

Sahih Bukhari · Chapter 47 · 473 hadiths · Page 15 of 24

4262Sahih Bukhari

باب: غزوہ موتہ کا بیان جو سر زمین شام میں سنہ ۸ ھ میں ہوا تھا۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى زَيْدًا، وَجَعْفَرًا، وَابْنَ رَوَاحَةَ لِلنَّاسِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَهُمْ خَبَرُهُمْ، فَقَالَ: أَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدٌ فَأُصِيبَ، ثُمَّ أَخَذَ جَعْفَرٌ فَأُصِيبَ، ثُمَّ أَخَذَ ابْنُ رَوَاحَةَ فَأُصِيبَ، وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ حَتَّى أَخَذَ الرَّايَةَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ.

ہم سے احمد بن واقد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب سختیانی نے ‘ ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے انس بن مالک ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے زید ‘ جعفر اور عبداللہ بن رواحہ ؓ کی شہادت کی خبر اس وقت صحابہ ؓ کو دے دی تھی جب ابھی ان کے متعلق کوئی خبر نہیں آئی تھی۔ آپ ﷺ فرماتے جا رہے تھے کہ اب زید جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں ‘ اب وہ شہید کردیئے گئے ‘ اب جعفر نے جھنڈا اٹھا لیا ‘ وہ بھی شہید کردیئے گئے۔ اب ابن رواحہ نے جھنڈا اٹھا لیا ‘ وہ بھی شہید کردیئے گئے۔ نبی کریم ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ آخر اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار خالد بن ولید نے جھنڈا اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اللہ نے ان کے ہاتھ پر فتح عنایت فرمائی۔

Narrated Anas (RA) : The Prophet ﷺ had informed the people of the martyrdom of Zaid, Jafar and Ibn Rawaha before the news of their death reached. The Prophet ﷺ said, "Zaid took the flag (as the commander of the army) and was martyred, then Jafar took it and was martyred, and then Ibn Rawaha took it and was martyred." At that time the Prophets eyes were shedding tears. He added, "Then the flag was taken by a Sword amongst the Swords of Allah (i.e. Khalid) and Allah made them (i.e. the Muslims) victorious."

4263Sahih Bukhari

باب: غزوہ موتہ کا بیان جو سر زمین شام میں سنہ ۸ ھ میں ہوا تھا۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ: ""لَمَّا جَاءَ قَتْلُ ابْنِ حَارِثَةَ، وَجَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرَفُ فِيهِ الْحُزْنُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَأَنَا أَطَّلِعُ مِنْ صَائِرِ الْبَابِ، تَعْنِي: مِنْ شَقِّ الْبَابِ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ نِسَاءَ جَعْفَرٍ، قَالَ: وَذَكَرَ بُكَاءَهُنَّ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَنْهَاهُنَّ، قَالَ: فَذَهَبَ الرَّجُلُ ثُمَّ أَتَى فَقَالَ: قَدْ نَهَيْتُهُنَّ، وَذَكَرَ أَنَّهُ لَمْ يُطِعْنَهُ، قَالَ: فَأَمَرَ أَيْضًا فَذَهَبَ، ثُمَّ أَتَى فَقَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ غَلَبْنَنَا، فَزَعَمَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَاحْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ مِنَ التُّرَابِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: أَرْغَمَ اللَّهُ أَنْفَكَ، فَوَاللَّهِ مَا أَنْتَ تَفْعَلُ، وَمَا تَرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَنَاءِ"".

میں نے عائشہ ؓ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا زید بن حارثہ ‘ جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ ؓ کی شہادت کی خبر آئی تھی ‘ نبی کریم ﷺ بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے چہرے سے غم ظاہر ہو رہا تھا۔ عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ میں دروازے کی دراڑ سے جھانک رہی تھی۔ اتنے میں ایک آدمی نے آ کر عرض کیا: یا رسول اللہ! جعفر ؓ کے گھر کی عورتیں چلاّ کر رو رہی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے حکم دیا کہ انہیں روک دو۔ بیان کیا کہ وہ صاحب گئے اور پھر واپس آ کر کہا کہ میں نے انہیں روکا اور یہ بھی کہہ دیا کہ انہوں نے اس کی بات نہیں مانی۔ پھر اس نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے پھر منع کرنے کے لیے فرمایا۔ وہ صاحب پھر جا کر واپس آئے اور کہا: قسم اللہ کی! وہ تو ہم پر غالب آ گئی ہیں۔ عائشہ ؓ بیان کرتی تھیں کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا کہ پھر ان کے منہ میں مٹی جھونک دو۔ ام المؤمنین ؓ نے بیان کیا ‘ میں نے کہا: اللہ تیری ناک غبار آلود کرے نہ تو تو عورتوں کو روک سکا نہ تو نے رسول اللہ ﷺ کو تکلیف دینا ہی چھوڑا۔

Narrated Amra (RA) : I heard Aisha (RA) saying, "When the news of the martyrdom of Ibn Haritha, Jafar bin Abi Talib and Abdullah bin Rawaka reached, Allahs Apostle ﷺ sat with sorrow explicit on his face." Aisha (RA) added, "I was then peeping through a chink in the door. A man came to him and said, "O Allahs Apostle ﷺ ! The women of Jafar are crying. Thereupon the Prophet ﷺ told him to forbid them to do so. So the man went away and returned saying, "I forbade them but they did not listen to me." The Prophet ﷺ ordered him again to go (and forbid them). He went again and came saying, By Allah, they overpowered me (i.e. did not listen to me)." Aisha (RA) said that Allahs Apostle ﷺ said (to him), "Go and throw dust into their mouths." Aisha (RA) added, "I said, May Allah put your nose in the dust! By Allah, neither have you done what you have been ordered, nor have you relieved Allahs Apostle ﷺ from trouble."

4264Sahih Bukhari

باب: غزوہ موتہ کا بیان جو سر زمین شام میں سنہ ۸ ھ میں ہوا تھا۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا حَيَّا ابْنَ جَعْفَرٍ قَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ ذِي الْجَنَاحَيْنِ.

مجھ سے محمد بن ابی بکر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عمر بن علی نے بیان کیا ‘ ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا ‘ ان سے عامر شعبی نے بیان کیا کہ ابن عمر ؓ جب جعفر بن ابی طالب ؓ کے بیٹے کے لیے سلام بھیجتے تو السلام علیک یا ابن ذی الجناحین کہتے۔

Narrated Amir (RA) : Whenever Ibn Umar (RA) greeted the son of Jafar, he used to say (to him), "Assalam Alaika (i.e. peace be on you) O the son of two-winged person."

4265Sahih Bukhari

باب: غزوہ موتہ کا بیان جو سر زمین شام میں سنہ ۸ ھ میں ہوا تھا۔

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ، يَقُولُ: لَقَدِ انْقَطَعَتْ فِي يَدِي يَوْمَ مُؤْتَةَ تِسْعَةُ أَسْيَافٍ، فَمَا بَقِيَ فِي يَدِي إِلَّا صَفِيحَةٌ يَمَانِيَةٌ.

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے ‘ ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا کہ میں نے خالد بن ولید ؓ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ غزوہ موتہ میں میرے ہاتھ نو تلواریں ٹوٹی تھیں۔ صرف ایک یمن کا بنا ہوا چوڑے پھل کا تیغہ باقی رہ گیا تھا۔

Narrated Khalid bin Al-Walid (RA) : On the day (of the battle of) Mutah, nine swords were broken in my hand, and nothing was left in my hand except a Yemenite sword of mine.

4266Sahih Bukhari

باب: غزوہ موتہ کا بیان جو سر زمین شام میں سنہ ۸ ھ میں ہوا تھا۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَيْسٌ، قَالَ: سَمِعْتُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ، يَقُولُ: لَقَدْ دُقَّ فِي يَدِي يَوْمَ مُؤْتَةَ تِسْعَةُ أَسْيَافٍ، وَصَبَرَتْ فِي يَدِي صَفِيحَةٌ لِي يَمَانِيَةٌ.

مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ‘ ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا ‘ ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے خالد بن ولید ؓ سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ غزوہ موتہ میں میرے ہاتھ سے نو تلواریں ٹوٹی تھیں ‘ صرف ایک یمنی تیغہ میرے ہاتھ میں باقی رہ گیا تھا۔

Narrated Khalid bin Al-Walid (RA) : On the day of Mutah, nine swords were broken in my hand and only a Yemenite sword of mine remained in my hand.

4267Sahih Bukhari

باب: غزوہ موتہ کا بیان جو سر زمین شام میں سنہ ۸ ھ میں ہوا تھا۔

حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أُغْمِيَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ، فَجَعَلَتْ أُخْتُهُ عَمْرَةُ تَبْكِي وَا جَبَلَاهْ وَا كَذَا وَا كَذَا تُعَدِّدُ عَلَيْهِ، فَقَالَ حِينَ أَفَاقَ: مَا قُلْتِ شَيْئًا إِلَّا قِيلَ لِي آنْتَ كَذَلِكَ،

مجھ سے عمران بن میسرہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا ‘ ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے ‘ ان سے عامر شعبی نے اور ان سے نعمان بن بشیر نے کہ عبداللہ بن رواحہ ؓ پر (ایک مرتبہ کسی مرض میں) بےہوشی طاری ہوئی تو ان کی بہن عمرہ والدہ نعمان بن بشیر یہ سمجھ کر کہ کوئی حادثہ آگیا ‘ عبداللہ بن رواحہ ؓ کے لیے پکار کر رونے لگیں۔ ہائے میرے بھائی ہائے ‘ میرے ایسے اور ویسے۔ ان کے محاسن اس طرح ایک ایک کر کے گنانے لگیں لیکن جب عبداللہ ؓ کو ہوش آیا تو انہوں نے کہا کہ تم جب میری کسی خوبی کا بیان کرتی تھیں تو مجھ سے پوچھا جاتا تھا کہ کیا تم واقعی ایسے ہی تھے۔

Narrated An-Numan bin Bashir (RA) : Abdullah bin Rawaha fell down unconscious and his sister Amra started crying and was saying loudly, "O Jabala! Oh so-and-so! Oh so-and-so! and went on calling him by his (good) qualities one by one). When he came to his senses, he said (to his sister), "When-ever you said something, I was asked, Are you really so (i.e. as she says)?"

4268Sahih Bukhari

باب: غزوہ موتہ کا بیان جو سر زمین شام میں سنہ ۸ ھ میں ہوا تھا۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْثَرُ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: أُغْمِيَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ بِهَذَا، فَلَمَّا مَاتَ لَمْ تَبْكِ عَلَيْهِ.

ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبثر بن قاسم نے بیان کیا ‘ ان سے حصین نے ‘ ان سے شعبی نے اور ان سے نعمان بن بشیر ؓ نے بیان کیا کہ عبداللہ بن رواحہ ؓ کو بےہوشی ہوگئی تھی ‘ پھر اوپر کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ چناچہ جب (غزوہ موتہ) میں وہ شہید ہوئے تو ان کی بہن ان پر نہیں روئیں۔

Narrated Ash Shabi (RA) : An Numan bin Bashir said, "Abdullah bin Rawaha fell down unconscious.." (and mentioned the above Hadith adding, "Thereupon, when he died she (i.e. his sister) did not weep over him."

4269Sahih Bukhari

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو حرقات کے مقابلہ پر بھیجنا۔

حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو ظَبْيَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحُرَقَةِ، فَصَبَّحْنَا الْقَوْمَ فَهَزَمْنَاهُمْ، وَلَحِقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ رَجُلًا مِنْهُمْ، فَلَمَّا غَشِينَاهُ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَكَفَّ الْأَنْصَارِيُّ فَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي حَتَّى قَتَلْتُهُ، فَلَمَّا قَدِمْنَا بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا أُسَامَةُ، أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ؟، قُلْتُ: كَانَ مُتَعَوِّذًا فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَسْلَمْتُ قَبْلَ ذَلِكَ الْيَوْمِ.

مجھ سے عمرو بن محمد بغدادی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا ‘ انہیں حصین نے خبر دی ‘ انہیں ابوظبیان حصین بن جندب نے ‘ کہا کہ میں نے اسامہ بن زید ؓ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ حرقہ کی طرف بھیجا۔ ہم نے صبح کے وقت ان پر حملہ کیا اور انہیں شکست دے دی ‘ پھر میں اور ایک اور انصاری صحابی اس قبیلہ کے ایک شخص (مرداس بن عمر نامی) سے بھڑ گئے۔ جب ہم نے اس پر غلبہ پا لیا تو وہ لا الہٰ الا اللہ کہنے لگا۔ انصاری تو فوراً ہی رک گیا لیکن میں نے اسے اپنے برچھے سے قتل کردیا۔ جب ہم لوٹے تو نبی کریم ﷺ کو بھی اس کی خبر ہوئی۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ اسامہ کیا اس کے لا الہٰ الا اللہ کہنے کے باوجود تم نے اسے قتل کردیا؟ میں نے عرض کیا کہ وہ قتل سے بچنا چاہتا تھا (اس نے یہ کلمہ دل سے نہیں پڑھا تھا) ۔ اس پر آپ ﷺ باربار یہی فرماتے رہے (کیا تم نے اس کے لا الہٰ الا اللہ کہنے پر بھی اسے قتل کردیا) کہ میرے دل میں یہ آرزو پیدا ہوئی کہ کاش میں آج سے پہلے اسلام نہ لاتا۔

Narrated Usama bin Zaid (RA) : Allahs Apostle ﷺ sent us towards Al-Huruqa, and in the morning we attacked them and defeated them. I and an Ansari man followed a man from among them and when we took him over, he said, "La ilaha illal-Lah." On hearing that, the Ansari man stopped, but I killed him by stabbing him with my spear. When we returned, the Prophet ﷺ came to know about that and he said, "O Usama! Did you kill him after he had said "La ilaha ilal-Lah?" I said, "But he said so only to save himself." The Prophet ﷺ kept on repeating that so often that I wished I had not embraced Islam before that day.

4270Sahih Bukhari(4271)

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو حرقات کے مقابلہ پر بھیجنا۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ، يَقُولُ: غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ، وَخَرَجْتُ فِيمَا يَبْعَثُ مِنَ الْبُعُوثِ تِسْعَ غَزَوَاتٍ، مَرَّةً عَلَيْنَا أَبُو بَكْرٍ، وَمَرَّةً عَلَيْنَا أُسَامَةُ، وَقَالَ عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَلَمَةَ، يَقُولُ: غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ، وَخَرَجْتُ فِيمَا يَبْعَثُ مِنَ الْبَعْثِ تِسْعَ غَزَوَاتٍ عَلَيْنَا، مَرَّةً أَبُو بَكْرٍ، وَمَرَّةً أُسَامَةُ.

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا اور انہوں نے سلمہ بن اکوع ؓ سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ میں نبی کریم ﷺ کے ہمراہ سات غزووں میں شریک رہا ہوں اور نو ایسے لشکروں میں شریک ہوا ہوں جو آپ نے روانہ کئے تھے۔ (مگر آپ خود ان میں نہیں گئے) کبھی ہم پر ابوبکر ؓ امیر ہوئے اور کسی فوج کے امیر اسامہ ؓ ہوئے۔ وَقَالَ عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَلَمَةَ ، يَقُولُ: غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ، وَخَرَجْتُ فِيمَا يَبْعَثُ مِنَ الْبَعْثِ تِسْعَ غَزَوَاتٍ عَلَيْنَا، مَرَّةً أَبُو بَكْرٍ، وَمَرَّةً أُسَامَةُ .

Narrated Salama bin Al-Akwa (RA) : I fought in seven Ghazwat (i.e. battles) along with the Prophet ﷺ and fought in nine battles, fought by armies dispatched by the Prophet. Once Abu Bakr (RA) was our commander and at another time, Usama was our commander. Narrated Salama in another narration: I fought seven Ghazwat (i.e. battles) along with the Prophet ﷺ and also fought in nine battles, fought by armies sent by the Prophet ﷺ . Once Abu Bakr (RA) was our commander and another time, Usama was (our commander).

4272Sahih Bukhari

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو حرقات کے مقابلہ پر بھیجنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ، وَغَزَوْتُ مَعَ ابْنِ حَارِثَةَ اسْتَعْمَلَهُ عَلَيْنَا.

ہم سے ابوعاصم الضحاک بن مخلد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا ‘ ان سے سلمہ بن اکوع ؓ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ سات غزووں میں شریک رہا ہوں اور میں نے ابن حارثہ (یعنی اسامہ ؓ) کے ساتھ بھی غزوہ کیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں ہم پر امیر بنایا تھا۔

Narrated Salama bin Al-Akwa (RA) : I fought in nine Ghazwa-t along with the Prophet, I also fought along with Ibn Haritha when the Prophet ﷺ made him our commander.

4273Sahih Bukhari

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو حرقات کے مقابلہ پر بھیجنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ، فَذَكَرَ: خَيْبَرَ، وَالْحُدَيْبِيَةَ، وَيَوْمَ حُنَيْنٍ، وَيَوْمَ الْقَرَدِ، قَالَ يَزِيدُ: وَنَسِيتُ بَقِيَّتَهُمْ.

ہم سے محمد بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن مسعدہ نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ بن اکوع ؓ نے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ سات غزوے کئے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے غزوہ خیبر ‘ غزوہ حدیبیہ ‘ غزوہ حنین اور غزوہ ذات القرد کا ذکر کیا۔ یزید نے کہا کہ باقی غزووں کے نام میں بھول گیا۔

Narrated Yazid bin Abi Ubaid (RA) : Salama bin Al-Akwa said, "I fought in seven Ghazwat along with the Prophet." He then mentioned Khaibar, Al-Hudaibiya, the day (i.e. battle) of Hunain and the day of Al-Qurad. I forgot the names of the other Ghazwat.

4274Sahih Bukhari

باب: غزوہ فتح مکہ کا بیان۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي رَافِعٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَالزُّبَيْرَ، وَالْمِقْدَادَ، فَقَالَ: انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ، فَإِنَّ بِهَا ظَعِينَةً مَعَهَا كِتَابٌ فَخُذُوا مِنْهَا، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا تَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا حَتَّى أَتَيْنَا الرَّوْضَةَ فَإِذَا نَحْنُ بِالظَّعِينَةِ قُلْنَا لَهَا: أَخْرِجِي الْكِتَابَ، قَالَتْ: مَا مَعِي كِتَابٌ، فَقُلْنَا: لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ أَوْ لَنُلْقِيَنَّ الثِّيَابَ، قَالَ: فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا، فَأَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا فِيهِ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى نَاسٍ بِمَكَّةَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا حَاطِبُ، مَا هَذَا ؟، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ، إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ يَقُولُ: كُنْتُ حَلِيفًا وَلَمْ أَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهَا، وَكَانَ مَنْ مَعَكَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مَنْ لَهُمْ قَرَابَاتٌ يَحْمُونَ أَهْلِيهِمْ وَأَمْوَالَهُمْ، فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي ذَلِكَ مِنَ النَّسَبِ فِيهِمْ أَنْ أَتَّخِذَ عِنْدَهُمْ يَدًا يَحْمُونَ قَرَابَتِي، وَلَمْ أَفْعَلْهُ ارْتِدَادًا عَنْ دِينِي وَلَا رِضًا بِالْكُفْرِ بَعْدَ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا إِنَّهُ قَدْ صَدَقَكُمْ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ، فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا، وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى مَنْ شَهِدَ بَدْرًا، فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ، فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ السُّورَةَ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوا بِمَا جَاءَكُمْ مِنَ الْحَقِّ إِلَى قَوْلِهِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ سورة الممتحنة آية 1.

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا ‘ انہیں حسن بن محمد بن علی نے خبر دی اور انہوں نے عبیداللہ بن رافع سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے علی ؓ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ مجھے، زبیر اور مقداد ؓ کو رسول اللہ ﷺ نے روانہ کیا اور ہدایت کی کہ (مکہ کے راستے پر) چلے جانا جب تم مقام روضہ خاخ پر پہنچو تو وہاں تمہیں ہودج میں ایک عورت ملے گی۔ وہ ایک خط لیے ہوئے ہے ‘ تم اس سے وہ لے لینا۔ انہوں نے کہا کہ ہم روانہ ہوئے۔ ہمارے گھوڑے ہمیں تیزی کے ساتھ لیے جا رہے تھے۔ جب ہم روضہ خاخ پر پہنچے تو واقعی وہاں ہمیں ایک عورت ہودج میں سوار ملی (جس کا نام سارا یا کناد ہے) ہم نے اس سے کہا کہ خط نکال۔ وہ کہنے لگی کہ میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہے لیکن جب ہم نے اس سے یہ کہا کہ اگر تو نے خود سے خط نکال کر ہمیں نہیں دیا تو ہم تیرا کپڑا اتار کر (تلاشی لیں گے) تب اس نے اپنی چوٹی میں سے وہ خط نکالا۔ ہم وہ خط لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں واپس ہوئے۔ اس میں یہ لکھا تھا کہ حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے چند مشرکین مکہ کے نام (صفوان بن امیہ اور سہیل بن عمرو اور عکرمہ بن ابوجہل) پھر انہوں نے اس میں مشرکین کو نبی کریم ﷺ کے بعض بھیدوں کی خبر بھی دی تھی۔ (آپ فوج لے کر آنا چاہتے ہیں) نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا کہ اے حاطب! تو نے یہ کیا کیا؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے بارے میں فیصلہ کرنے میں آپ جلدی نہ فرمائیں ‘ میں اس کی وجہ عرض کرتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ میں دوسرے مہاجرین کی طرح قریش کے خاندان سے نہیں ہوں ‘ صرف ان کا حلیف بن کر ان سے جڑ گیا ہوں اور دوسرے مہاجرین کے وہاں عزیز و اقرباء ہیں جو ان کے گھر بار مال و اسباب کی نگرانی کرتے ہیں۔ میں نے چاہا کہ خیر جب میں خاندان کی رو سے ان کا شریک نہیں ہوں تو کچھ احسان ہی ان پر ایسا کر دوں جس کے خیال سے وہ میرے کنبہ والوں کو نہ ستائیں۔ میں نے یہ کام اپنے دین سے پھر کر نہیں کیا اور نہ اسلام لانے کے بعد میرے دل میں کفر کی حمایت کا جذبہ ہے۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ واقعی انہوں نے تمہارے سامنے سچی بات کہہ دی ہے۔ عمر ؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اجازت ہو تو میں اس منافق کی گردن اڑا دوں لیکن نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ غزوہ بدر میں شریک رہے ہیں اور تمہیں کیا معلوم اللہ تعالیٰ جو غزوہ بدر میں شریک ہونے والوں کے کام سے واقف ہے سورة الممتحنہ میں اس نے ان کے متعلق خود فرما دیا ہے کہ جو چاہو کرو میں نے تمہارے گناہ معاف کردیئے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی يا أيها الذين آمنوا لا تتخذوا عدوي وعدوکم أولياء تلقون إليهم بالمودة اے وہ لوگو جو ایمان لا چکے ہو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ کہ ان سے تم اپنی محبت کا اظہار کرتے رہو۔ آیت فقد ضل سواء السبيل تک۔

Narrated Ali (RA) : Allahs Apostle ﷺ sent me, Az-Zubair and Al-Miqdad saying, "Proceed till you reach Rawdat Khakh where there is a lady carrying a letter, and take that (letter) from her." So we proceeded on our way with our horses galloping till we reached the Rawda, and there we found the lady and said to her, "Take out the letter." She said, "I have no letter." We said, "Take out the letter, or else we will take off your clothes." So she took it out of her braid, and we brought the letter to Allahs Apostle ﷺ . The letter was addressed from Hatib, bin Abi Baltaa to some pagans of Makkah, telling them about what Allahs Apostle ﷺ intended to do. Allahs Apostle ﷺ said, "O Hatib! What is this?" Hatib replied, "O Allahs Apostle ﷺ ! Do not make a hasty decision about me. I was a person not belonging to Quraish but I was an ally to them from outside and had no blood relation with them, and all the Emigrants who were with you, have got their kinsmen (in Makkah) who can protect their families and properties. So I liked to do them a favor so that they might protect my relatives as I have no blood relation with them. I did not do this to renegade from my religion (i.e. Islam) nor did I do it to choose Heathenism after Islam." Allahs Apostle ﷺ said to his companions." As regards him, he (i.e. Hatib) has told you the truth." Umar said, "O Allahs Apostle ﷺ ! Allow me to chop off the head of this hypocrite!" The Prophet ﷺ said, "He (i.e. Hatib) has witnessed the Badr battle (i.e. fought in it) and what could tell you, perhaps Allah looked at those who witnessed Badr and said, "O the people of Badr (i.e. Badr Muslim warriors), do what you like, for I have forgiven you. "Then Allah revealed the Sura:-- "O you who believe! Take not my enemies And your enemies as friends offering them (Your) love even though they have disbelieved in that Truth (i.e. Allah, Prophet ﷺ Muhammad and this Quran) which has come to you ....(to the end of Verse)....(And whosoever of you (Muslims) does that, then indeed he has gone (far) astray (away) from the Straight Path." (60.1

4275Sahih Bukhari

باب: فتح مکہ کا بیان جو رمضان سنہ ۸ ھ میں ہوا تھا۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا غَزْوَةَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ، قَالَ: وَسَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ، وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا بَلَغَ الْكَدِيدَ الْمَاءَ الَّذِي بَيْنَ قُدَيْدٍ وَعُسْفَانَ أَفْطَرَ، فَلَمْ يَزَلْ مُفْطِرًا حَتَّى انْسَلَخَ الشَّهْرُ.

ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث بن مسعود نے ‘ کہا کہ مجھ سے عقیل بن خالد نے بیان کیا ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ کہا کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی اور انہیں ابن عباس ؓ نے خبر دی کہ نبی کریم ﷺ نے غزوہ فتح مکہ رمضان میں کیا تھا۔ زہری نے ابن سعد سے بیان کیا کہ میں نے سعید بن مسیب سے سنا کہ وہ بھی اسی طرح بیان کرتے تھے۔ زہری نے عبیداللہ سے روایت کیا ‘ ان سے ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ (غزوہ فتح کے سفر میں جاتے ہوئے) رسول اللہ ﷺ روزے سے تھے لیکن جب آپ مقام کدید پہنچے ‘ جو قدید اور عسفان کے درمیان ایک چشمہ ہے تو آپ ﷺ نے روزہ توڑ دیا۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے روزہ نہیں رکھا یہاں تک کہ رمضان کا مہینہ ختم ہوگیا۔

Narrated Ubaidullah bin Abdullah bin Utba (RA) : Ibn Abbas (RA) said, Allahs Apostle ﷺ fought the Ghazwa (i.e. battles of Al-Fath during Ramadan." Narrated Az-Zuhri (RA) : Ibn Al-Musaiyab (also) said the same. Ibn Abbas (RA) added, "The Prophet ﷺ fasted and when he reached Al-Kadid, a place where there is water between Kudaid and Usfan, he broke his fast and did not fast afterwards till the whole month had passed away.

4276Sahih Bukhari

باب: فتح مکہ کا بیان جو رمضان سنہ ۸ ھ میں ہوا تھا۔

حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي رَمَضَانَ مِنْ الْمَدِينَةِ وَمَعَهُ عَشَرَةُ آلَافٍ، وَذَلِكَ عَلَى رَأْسِ ثَمَانِ سِنِينَ وَنِصْفٍ مِنْ مَقْدَمِهِ الْمَدِينَةَ، فَسَارَ هُوَ وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى مَكَّةَ يَصُومُ وَيَصُومُونَ حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيدَ وَهُوَ مَاءٌ بَيْنَ عُسْفَانَ وَقُدَيْدٍ أَفْطَرَ وَأَفْطَرُوا، قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْآخِرُ فَالْآخِرُ.

مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی ‘ کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ کہا مجھے زہری نے خبر دی ‘ انہیں عبیداللہ بن عبداللہ اور انہیں عبداللہ بن عباس ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ (فتح کے لیے) مدینہ سے روانہ ہوئے۔ آپ کے ساتھ (دس یا بارہ ہزار کا) لشکر تھا۔ اس وقت آپ کو مدینہ میں تشریف لائے ساڑھے آٹھ سال پورے ہونے والے تھے۔ چناچہ نبی کریم ﷺ اور آپ کے ساتھ جو مسلمان تھے مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ نبی کریم ﷺ بھی روزے سے تھے اور تمام مسلمان بھی ‘ لیکن جب آپ مقام کدید پر پہنچے جو قدید اور عسفان کے درمیان ایک چشمہ ہے تو آپ نے روزہ توڑ دیا اور آپ کے ساتھ مسلمانوں نے بھی روزہ توڑ دیا۔ زہری نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کے سب سے آخری عمل پر ہی عمل کیا جائے گا۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ left Madinah (for Makkah) in the company of ten-thousand (Muslim warriors) in (the month of) Ramadan, and that was eight and a half years after his migration to Medina. He and the Muslims who were with him, proceeded on their way to Makkah. He was fasting and they were fasting, but when they reached a place called Al-Kadid which was a place of water between Usfan and Kudaid, he broke his fast and so did they. (Az-Zuhri said, "One should take the last action of Allahs Apostle ﷺ and leave his early action (while taking a verdict.")

4277Sahih Bukhari(4278)

باب: فتح مکہ کا بیان جو رمضان سنہ ۸ ھ میں ہوا تھا۔

حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ إِلَى حُنَيْنٍ وَالنَّاسُ مُخْتَلِفُونَ فَصَائِمٌ وَمُفْطِرٌ، فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَى رَاحِلَتِهِ دَعَا بِإِنَاءٍ مِنْ لَبَنٍ أَوْ مَاءٍ، فَوَضَعَهُ عَلَى رَاحَتِهِ أَوْ عَلَى رَاحِلَتِهِ، ثُمَّ نَظَرَ إِلَى النَّاسِ، فَقَالَ: الْمُفْطِرُونَ لِلصُّوَّامِ، أَفْطِرُوا. وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ. وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ: عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

مجھ سے عیاش بن ولید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا ‘ ان سے خالد نے بیان کیا ‘ ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ رمضان میں حنین کی طرف تشریف لے گئے۔ مسلمانوں میں بعض حضرات تو روزے سے تھے اور بعض نے روزہ نہیں رکھا تھا لیکن جب نبی کریم ﷺ اپنی سواری پر پوری طرح بیٹھ گئے تو آپ نے برتن میں دودھ یا پانی طلب فرمایا اور اسے اپنی اونٹنی پر یا اپنی ہتھیلی پر رکھا (اور پھر پی لیا) پھر آپ نے لوگوں کو دیکھا تو جن لوگوں نے پہلے سے روزہ نہیں رکھا تھا ‘ انہوں نے روزہ داروں سے کہا کہ اب روزہ توڑ لو۔ اور عبدالرزاق نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں ایوب نے ‘ انہیں عکرمہ نے اور انہیں ابن عباس ؓ نے نبی کریم ﷺ سے نقل کیا۔ اور حماد نے ایوب سے روایت کیا ‘ انہوں نے عکرمہ سے ‘ انہوں نے عبداللہ بن عباس ؓ سے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے نقل کیا۔

Narrated Ibn Abbas (RA) : Allahs Apostle ﷺ set out towards Hunain in the month of Ramadan and some of the people were fasting while some others were not fasting, and when the Prophet ﷺ mounted his she-camel, he asked for a tumbler of milk or water and put it on the palm of his hand or on his she-camel and then the people looked at him; and those who were not fasting told those who were fasting, to break their fast (i.e. as the Prophet ﷺ had done so). Ibn Abbas (RA) added, "The Prophet ﷺ went (to Hunain) in the year of the Conquest (of Makkah)."

4279Sahih Bukhari

باب: فتح مکہ کا بیان جو رمضان سنہ ۸ ھ میں ہوا تھا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ، ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ مِنْ مَاءٍ، فَشَرِبَ نَهَارًا لِيُرِيَهُ النَّاسَ، فَأَفْطَرَ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ، قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ وَأَفْطَرَ، فَمَنْ شَاءَ صَامَ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ.

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے جریر نے بیان کیا ‘ ان سے منصور نے ‘ ان سے مجاہد نے ‘ ان سے طاؤس نے اور ان سے ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان میں (فتح مکہ کا) سفر شروع کیا۔ آپ ﷺ روزے سے تھے لیکن جب مقام عسفان پر پہنچے تو پانی طلب فرمایا۔ دن کا وقت تھا اور آپ نے وہ پانی پیا تاکہ لوگوں کو دکھلا سکیں پھر آپ ﷺ نے روزہ نہیں رکھا اور مکہ میں داخل ہوئے۔ بیان کیا کہ ابن عباس ؓ کہا کرتے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے سفر میں (بعض اوقات) روزہ بھی رکھا تھا اور بعض اوقات روزہ نہیں بھی رکھا۔ اس لیے (سفر میں) جس کا جی چاہے روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔ مسافر کے لیے روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے۔ (روایت میں فتح مکہ کے لیے سفر کرنے کا ذکر ہے۔ یہی باب سے مطابقت ہے) ۔

Narrated Tawus (RA) : Ibn Abbas (RA) said, "Allahs Apostle ﷺ travelled in the month of Ramadan and he fasted till he reached (a place called) Usfan, then he asked for a tumbler of water and drank it by the daytime so that the people might see him. He broke his fast till he reached Makkah." Ibn Abbas (RA) used to say, "Allahs Apostle ﷺ fasted and sometimes did not fast while traveling, so one may fast or may not (on journeys)"

4280Sahih Bukhari

باب: فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا کہاں گاڑا تھا؟

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ قُرَيْشًا، خَرَجَ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ، وَحَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ، وَبُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ يَلْتَمِسُونَ الْخَبَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلُوا يَسِيرُونَ حَتَّى أَتَوْا مَرَّ الظَّهْرَانِ، فَإِذَا هُمْ بِنِيرَانٍ كَأَنَّهَا نِيرَانُ عَرَفَةَ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: مَا هَذِهِ لَكَأَنَّهَا نِيرَانُ عَرَفَةَ ؟ فَقَالَ بُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ: نِيرَانُ بَنِي عَمْرٍو، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: عَمْرٌو أَقَلُّ مِنْ ذَلِكَ، فَرَآهُمْ نَاسٌ مِنْ حَرَسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَدْرَكُوهُمْ، فَأَخَذُوهُمْ، فَأَتَوْا بِهِمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْلَمَ أَبُو سُفْيَانَ، فَلَمَّا سَارَ، قَالَ لِلْعَبَّاسِ: احْبِسْ أَبَا سُفْيَانَ عِنْدَ حَطْمِ الْخَيْلِ حَتَّى يَنْظُرَ إِلَى الْمُسْلِمِينَ، فَحَبَسَهُ الْعَبَّاسُ، فَجَعَلَتِ الْقَبَائِلُ تَمُرُّ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمُرُّ كَتِيبَةً كَتِيبَةً عَلَى أَبِي سُفْيَانَ، فَمَرَّتْ كَتِيبَةٌ، قَالَ: يَا عَبَّاسُ مَنْ هَذِهِ ؟ قَالَ: هَذِهِ غِفَارُ، قَالَ: مَا لِي وَلِغِفَارَ ؟ ثُمَّ مَرَّتْ جُهَيْنَةُ، قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ مَرَّتْ سَعْدُ بْنُ هُذَيْمٍ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَمَرَّتْ سُلَيْمُ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ، حَتَّى أَقْبَلَتْ كَتِيبَةٌ لَمْ يَرَ مِثْلَهَا، قَالَ: مَنْ هَذِهِ ؟ قَالَ: هَؤُلَاءِ الْأَنْصَارُ عَلَيْهِمْ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ مَعَهُ الرَّايَةُ، فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: يَا أَبَا سُفْيَانَ، الْيَوْمَ يَوْمُ الْمَلْحَمَةِ، الْيَوْمَ تُسْتَحَلُّ الْكَعْبَةُ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: يَا عَبَّاسُ، حَبَّذَا يَوْمُ الذِّمَارِ، ثُمَّ جَاءَتْ كَتِيبَةٌ وَهِيَ أَقَلُّ الْكَتَائِبِ فِيهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ وَرَايَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، فَلَمَّا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: أَلَمْ تَعْلَمْ مَا قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ ؟ قَالَ: مَا قَالَ ؟قَالَ: كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ: كَذَبَ سَعْدٌ، وَلَكِنْ هَذَا يَوْمٌ يُعَظِّمُ اللَّهُ فِيهِ الْكَعْبَةَ، وَيَوْمٌ تُكْسَى فِيهِ الْكَعْبَةُ، قَالَ: وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُرْكَزَ رَايَتُهُ بِالْحَجُونِ، قَالَ عُرْوَةُ: وَأَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ، يَقُولُ لِلزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، هَا هُنَا أَمَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَرْكُزَ الرَّايَةَ، قَالَ: وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ أَنْ يَدْخُلَ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ مِنْ كَدَاءٍ، وَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كُدَا، فَقُتِلَ مِنْ خَيْلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمَئِذٍ رَجُلَانِ: حُبَيْشُ بْنُ الْأَشْعَرِ، وَكُرْزُ بْنُ جابِرٍ الْفِهْرِيُّ.

ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے ‘ ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے لیے روانہ ہوئے تو قریش کو اس کی خبر مل گئی تھی۔، چناچہ ابوسفیان بن حرب ‘ حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقاء نبی کریم ﷺ کے بارے میں معلومات کے لیے مکہ سے نکلے۔ یہ لوگ چلتے چلتے مقام مر الظہران پر جب پہنچے تو انہیں جگہ جگہ آگ جلتی ہوئی دکھائی دی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ مقام عرفات کی آگ ہے۔ ابوسفیان نے کہا یہ آگ کیسی ہے؟ یہ عرفات کی آگ کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ اس پر بدیل بن ورقاء نے کہا کہ یہ بنی عمرو (یعنی قباء کے قبیلے) کی آگ ہے۔ ابوسفیان نے کہا کہ بنی عمرو کی تعداد اس سے بہت کم ہے۔ اتنے میں نبی کریم ﷺ کے محافظ دستے نے انہیں دیکھ لیا اور ان کو پکڑ کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لائے ‘ پھر ابوسفیان ؓ نے اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد جب نبی کریم ﷺ آگے (مکہ کی طرف) بڑھے تو عباس ؓ سے فرمایا کہ ابوسفیان کو ایسی جگہ پر روکے رکھو جہاں گھوڑوں کا جاتے وقت ہجوم ہو تاکہ وہ مسلمانوں کی فوجی قوت کو دیکھ لیں۔ چناچہ عباس ؓ انہیں ایسے ہی مقام پر روک کر کھڑے ہوگئے اور نبی کریم ﷺ کے ساتھ قبائل کے دستے ایک ایک کر کے ابوسفیان کے سامنے سے گزرنے لگے۔ ایک دستہ گزرا تو انہوں نے پوچھا: عباس! یہ کون ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ قبیلہ غفار ہے۔ ابوسفیان نے کہا کہ مجھے غفار سے کیا سروکار ‘ پھر قبیلہ جہینہ گزرا تو ان کے متعلق بھی انہوں نے یہی کہا ‘ قبیلہ سلیم گزرا تو ان کے متعلق بھی یہی کہا۔ آخر ایک دستہ سامنے آیا۔ اس جیسا فوجی دستہ نہیں دیکھا گیا ہوگا۔ ابوسفیان ؓ نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ عباس ؓ نے کہا کہ یہ انصار کا دستہ ہے۔ سعد بن عبادہ ؓ اس کے امیر ہیں اور انہیں کے ہاتھ میں (انصار کا علم ہے) سعد بن عبادہ ؓ نے کہا: ابوسفیان! آج کا دن قتل عام کا دن ہے۔ آج کعبہ میں بھی لڑنا درست کردیا گیا ہے۔ ابوسفیان ؓ اس پر بولے: اے عباس! (قریش کی ہلاکت و بربادی کا دن اچھا آ لگا ہے۔ پھر ایک اور دستہ آیا یہ سب سے چھوٹا دستہ تھا۔ اس میں رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ تھے۔ نبی کریم ﷺ کا علم زبیر بن العوام ؓ اٹھائے ہوئے تھے۔ جب نبی کریم ﷺ ابوسفیان کے قریب سے گزرے تو انہوں نے کہا آپ کو معلوم نہیں ‘ سعد بن عبادہ ؓ کیا کہہ گئے ہیں۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ انہوں نے کیا کہا ہے؟ تو ابوسفیان نے بتایا کہ یہ یہ کہہ گئے ہیں کہ آپ قریش کا کام تمام کردیں گے۔ (سب کو قتل کر ڈالیں گے)۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ سعد نے غلط کہا ہے بلکہ آج کا دن وہ ہے جس میں اللہ کعبہ کی عظمت اور زیادہ کر دے گا۔ آج کعبہ کو غلاف پہنایا جائے گا۔ عروہ نے بیان کیا پھر آپ ﷺ نے حکم دیا کہ آپ کا علم مقام جحون میں گاڑ دیا جائے۔ عروہ نے بیان کیا اور مجھے نافع بن جبیر بن مطعم نے خبر دی ‘ کہا کہ میں نے عباس ؓ سے سنا ‘ انہوں نے زبیر بن عوام ؓ سے کہا (فتح مکہ کے بعد) کہ نبی کریم ﷺ نے ان کو یہیں جھنڈا گاڑنے کے لیے حکم فرمایا تھا۔ راوی نے بیان کیا کہ اس دن نبی کریم ﷺ نے خالد بن ولید ؓ کو حکم دیا تھا کہ مکہ کے بالائی علاقہ کداء کی طرف سے داخل ہوں اور خود نبی کریم ﷺ کداء (نشیبی علاقہ) کی طرف سے داخل ہوئے۔ اس دن خالد ؓ کے دستہ کے دو صحابی ‘ حبیش بن اشعر اور کرز بن جابر فہری شہید ہوئے تھے۔

Narrated Hishams father (RA) : When Allahs Apostle ﷺ set out (towards Makkah) during the year of the Conquest (of Makkah) and this news reached (the infidels of Quraish), Abu Sufyan (RA) , Hakim bin Hizam and Budail bin Warqa came out to gather information about Allahs Apostle ﷺ , They proceeded on their way till they reached a place called Marr-az-Zahran (which is near Makkah). Behold! There they saw many fires as if they were the fires of Arafat. Abu Sufyan (RA) said, "What is this? It looked like the fires of Arafat." Budail bin Warqa said, "Banu Amr are less in number than that." Some of the guards of Allahs Apostle ﷺ saw them and took them over, caught them and brought them to Allahs Apostle. Abu Sufyan (RA) embraced Islam. When the Prophet ﷺ proceeded, he said to Al-Abbas, "Keep Abu Sufyan (RA) standing at the top of the mountain so that he would look at the Muslims. So Al-Abbas kept him standing (at that place) and the tribes with the Prophet ﷺ started passing in front of Abu Sufyan (RA) in military batches. A batch passed and Abu Sufyan (RA) said, "O Abbas Who are these?" Abbas said, "They are (Banu) Ghifar." Abu Sufyan (RA) said, I have got nothing to do with Ghifar." Then (a batch of the tribe of) Juhaina passed by and he said similarly as above. Then (a batch of the tribe of) Sad bin Huzaim passed by and he said similarly as above. then (Banu) Sulaim passed by and he said similarly as above. Then came a batch, the like of which Abu Sufyan (RA) had not seen. He said, "Who are these?" Abbas said, "They are the Ansar headed by Sad bin Ubadah, the one holding the flag." Sad bin Ubadah said, "O Abu Sufyan (RA) ! Today is the day of a great battle and today (what is prohibited in) the Ka’bah will be permissible." Abu Sufyan (RA) said., "O Abbas! How excellent the day of destruction is! "Then came another batch (of warriors) which was the smallest of all the batches, and in it there was Allahs Apostle ﷺ and his companions and the flag of the Prophet ﷺ was carried by Az-Zubair bin Al Awwam. When Allahs Apostle ﷺ passed by Abu Sufyan (RA) , the latter said, (to the Prophet), "Do you know what Sad bin Ubadah said?" The Prophet ﷺ said, "What did he say?" Abu Sufyan (RA) said, "He said so-and-so." The Prophet ﷺ said, "Sad told a lie, but today Allah will give superiority to the Ka’bah and today the Ka’bah will be covered with a (cloth) covering." Allahs Apostle ﷺ ordered that his flag be fixed at Al-Hajun. Narrated Urwa (RA) : Nafi bin Jubair bin Mutim said, "I heard Al-Abbas saying to Az-Zubair bin Al-Awwam, O Abu Abdullah ! Did Allahs Apostle ﷺ order you to fix the flag here? " Allahs Apostle ﷺ ordered Khalid bin Al-Walid to enter Makkah from its upper part from Kada while the Prophet ﷺ himself entered from Kuda. Two men from the cavalry of Khalid bin Al-Wahd named Hubaish bin Al-Ashar and Kurz bin Jabir Al-Fihri were martyred on that day.

4281Sahih Bukhari

باب: فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا کہاں گاڑا تھا؟

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ، يَقُولُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى نَاقَتِهِ وَهُوَ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفَتْحِ يُرَجِّعُ، وَقَالَ: لَوْلَا أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ حَوْلِي لَرَجَّعْتُ كَمَا رَجَّعَ.

ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے معاویہ بن قرہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے عبداللہ بن مغفل ؓ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے موقع پر اپنے اونٹ پر سوار ہیں اور خوش الحانی کے ساتھ سورة الفتح کی تلاوت فرما رہے ہیں۔ معاویہ بن قرہ ؓ نے کہا کہ اگر اس کا خطرہ نہ ہوتا کہ لوگ مجھے گھیر لیں گے تو میں بھی اسی طرح تلاوت کر کے دکھاتا جیسے عبداللہ بن مغفل ؓ نے پڑھ کر سنایا تھا۔

Narrated Abdullah bin Mughaffal (RA) : I saw Allahs Apostle ﷺ on the day of the Conquest of Makkah over his she-camel, reciting Surat-al-Fath in a vibrant quivering tone. (The sub-narrator, Muawiya added, "Were I not afraid that the people may gather around me, I would recite in vibrant quivering tone as he (i.e. Abdullah bin Mughaffal) did, imitating Allahs Apostle.")

4282Sahih Bukhari(4283)

باب: فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا کہاں گاڑا تھا؟

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ قَالَ زَمَنَ الْفَتْحِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مِنْ مَنْزِلٍ ؟ ثُمَّ قَالَ: لَا يَرِثُ الْمُؤْمِنُ الْكَافِرَ، وَلَا يَرِثُ الْكَافِرُ الْمُؤْمِنَ، قِيلَ لِلزُّهْرِيِّ: وَمَنْ وَرِثَ أَبَا طَالِبٍ ؟ قَالَ: وَرِثَهُ عَقِيلٌ، وَطَالِبٌ، قَالَ مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ: أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا فِي حَجَّتِهِ ؟ وَلَمْ يَقُلْ يُونُسُ حَجَّتِهِ، وَلَا زَمَنَ الْفَتْحِ.

ہم سے سلیمان بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سعدان بن یحییٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے محمد بن ابی حفصہ نے بیان کیا ‘ کہا ان سے زہری نے ‘ ان سے زین العابدین علی بن حسین نے ‘ ان سے عمرو بن عثمان نے اور ان سے اسامہ بن زید ؓ نے بیان کیا کہ فتح مکہ کے سفر میں انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: یا رسول اللہ! کل (مکہ میں) آپ کہاں قیام فرمائیں گے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہمارے لیے عقیل نے کوئی گھر ہی کہاں چھوڑا ہے۔ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مومن ‘ کافر کا وارث نہیں ہوسکتا اور نہ کافر مومن کا وارث ہوسکتا ہے۔ زہری سے پوچھا گیا کہ پھر ابوطالب کی وراثت کسے ملی تھی؟ انہوں نے بتایا کہ ان کے وارث عقیل اور طالب ہوئے تھے۔ معمر نے زہری سے (اسامہ ؓ کا سوال یوں نقل کیا ہے کہ) آپ اپنے حج کے دوران کہاں قیام فرمائیں گے؟ اور یونس نے (اپنی روایت میں) نہ حج کا ذکر کیا ہے اور نہ فتح مکہ کا۔

Narrated Amr bin Uthman (RA) : Usama bin Zaid said during the Conquest (of Makkah), "O Allahs Apostle ﷺ ! Where will we encamp tomorrow?" The Prophet ﷺ said, "But has Aqil left for us any house to lodge in?" He then added, "No believer will inherit an infidels property, and no infidel will inherit the property of a believer." Az-Zuhri was asked, "Who inherited Abu Talib?" Az-Zuhri replied, "Ail and Talib inherited him."

4284Sahih Bukhari

باب: فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا کہاں گاڑا تھا؟

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْزِلُنَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ إِذَا فَتَحَ اللَّهُ الْخَيْفُ حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ.

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے شعیب نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ان شاء اللہ ہماری قیام گاہ اگر اللہ تعالیٰ نے فتح عنایت فرمائی تو خیف بنی کنانہ میں ہوگی۔ جہاں قریش نے کفر کی حمایت کے لیے قسم کھائی تھی۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Allahs Apostle ﷺ said, "If Allah makes us victorious, our encamping place will be Al-Khaif, the place where the infidels took an oath to be loyal to Heathenism (by boycotting Banu Hashim, the Prophets folk)."