عمرہ کا بیان

Sahih Bukhari · Chapter 22 · 117 hadiths · Page 2 of 6

1796Sahih Bukhari

باب: عمرہ کرنے والا احرام سے کب نکلتا ہے؟

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ كَانَ يَسْمَعُ أَسْمَاءَ ، تَقُولُ: كُلَّمَا مَرَّتْ بِالحَجُونِ صَلَّى اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مُحَمَّدٍ، لَقَدْ نَزَلْنَا مَعَهُ هَا هُنَا وَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ خِفَافٌ قَلِيلٌ ظَهْرُنَا قَلِيلَةٌ أَزْوَادُنَا، فَاعْتَمَرْتُ أَنَا وَأُخْتِي عَائِشَةُ وَالزُّبَيْرُ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ، فَلَمَّا مَسَحْنَا البيت أَحْلَلْنَا، ثُمَّ أَهْلَلْنَا مِنَ الْعَشِيِّ بِالْحَجِّ.

ہم سے احمد بن عیسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہیں عمرو نے خبر دی، انہیں ابوالاسود نے کہ اسماء بنت ابی بکر ؓ کے غلام عبداللہ نے ان سے بیان کیا، انہوں نے اسماء ؓ سے سنا تھا، وہ جب بھی حجون پہاڑ سے ہو کر گزرتیں تو یہ کہتیں رحمتیں نازل ہوں اللہ کی محمد ﷺ پر، ہم نے آپ ﷺ کے ساتھ یہیں قیام کیا تھا، ان دنوں ہمارے (سامان) بہت ہلکے پھلکے تھے، سواریاں اور زاد راہ کی بھی کمی تھی، میں نے، میری بہن عائشہ ؓ نے، زبیر اور فلاں فلاں ؓ نے عمرہ کیا اور جب بیت اللہ کا طواف کرچکے تو (صفا اور مروہ کی سعی کے بعد) ہم حلال ہوگئے، حج کا احرام ہم نے شام کو باندھا تھا۔

Narrated Al-Aswad (RA): Abdullah the slave of Asma bint Abu Bakr, told me that he used to hear Asma, whenever she passed by Al-Hajun, saying, "May Allah bless His Apostle ﷺ Muhammad. Once we dismounted here with him, and at that time we were traveling with light luggage; we had a few riding animals and a little food ration. I, my sister, Aisha (RA), Az-Zubair and such and such persons performed Umra, and when we had passed our hands over the Ka’bah (i.e. performed Tawaf round the Ka’bah and between As-Safa and Al-Marwa) we finished our lhram. Later on we assumed Ihram for Hajj the same evening."

1797Sahih Bukhari

باب: حج، عمرہ یا جہاد سے واپسی پر کیا دعا پڑھی جائے؟

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَفَلَ مِنْ غَزْوٍ أَوْ حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ يُكَبِّرُ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ مِنَ الْأَرْضِ ثَلَاثَ تَكْبِيرَاتٍ، ثُمَّ يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ سَاجِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ.

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی غزوہ یا حج و عمرہ سے واپس ہوتے تو جب بھی کسی بلند جگہ کا چڑھاؤ ہوتا تو تین مرتبہ الله اکبر کہتے اور یہ دعا پڑھتے لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملک، وله الحمد، وهو على كل شىء قدير، آيبون تائبون عابدون ساجدون لربنا حامدون، صدق الله وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب وحده اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، ملک اسی کا ہے اور حمد اسی کے لیے ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے، ہم واپس ہو رہے ہیں، توبہ کرتے ہوئے عبادت کرتے ہوئے اپنے رب کے حضور سجدہ کرتے ہوئے اور اس کی حمد کرتے ہوئے، اللہ نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی اور سارے لشکر کو تنہا شکست دے دی۔ (فتح مکہ کی طرف اشارہ ہے) ۔

Narrated Abdullah bin Umar (RA): Whenever Allahs Apostle ﷺ returned from a Ghazwa, Hajj or Umra, he used to say Takbir thrice at every elevation of the ground and then would say, "None has the right to be worshipped but Allah; He is One and has no partner. All the kingdoms is for Him, and all the praises are for Him, and He is Omnipotent. We are returning with repentance, worshipping, prostrating, and praising our Lord. He has kept up His promise and made His slave victorious, and He Alone defeated all the clans of (non-believers)."

1798Sahih Bukhari

باب: مکہ آنے والے حاجیوں کا استقبال کرنا اور تین آدمیوں کا ایک سواری پر چڑھنا۔

حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ اسْتَقْبَلَتْهُ أُغَيْلِمَةُ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَحَمَلَ وَاحِدًا بَيْنَ يَدَيْهِ وَآخَرَ خَلْفَهُ.

ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے خالد نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم ﷺ مکہ تشریف لائے تو بنو عبدالمطلب کے چند بچوں نے آپ ﷺ کا استقبال کیا، آپ ﷺ نے ایک بچے کو (اپنی سواری کے) آگے بٹھا لیا اور دوسرے کو پیچھے۔

Narrated Ibn Abbas (RA): When the Prophet ﷺ arrived at Makkah, some boys of the tribe of Bani Abdul Muttalib went to receive him, and the Prophet ﷺ made one of them ride in front of him and the other behind him.

1799Sahih Bukhari

باب: (مسافر کا اپنے) گھر میں صبح کے وقت آنا۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الحَجَّاجِ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ يُصَلِّي فِي مَسْجِدِ الشَّجَرَةِ، وَإِذَا رَجَعَ صَلَّى بذي الحليفة بِبَطْنِ الْوَادِي، وَبَاتَ حَتَّى يُصْبِحَ.

ہم سے احمد بن حجاج نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ جب مکہ تشریف لے جاتے تو مسجد شجرہ میں نماز پڑھتے۔ اور جب واپس ہوتے تو ذو الحلیفہ کی وادی کے نشیب میں نماز پڑھتے۔ آپ ﷺ صبح تک ساری رات وہیں رہتے۔

Narrated Ibn Umar (RA): Whenever Allahs Apostle ﷺ left for Makkah, he used to pray in the mosque of Ash-Shajra, and when he returned (to Medina), he used to pray in the middle of the valley of Dhul-Hulaifa and used to pass the night there till morning.

1800Sahih Bukhari

باب: شام میں گھر کو آنا۔

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَطْرُقُ أَهْلَهُ، كَانَ لَا يَدْخُلُ إِلَّا غُدْوَةً أَوْ عَشِيَّةً.

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے بیان کیا، ان سے انس ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ (سفر سے) رات کو گھر نہیں پہنچتے تھے یا صبح کے وقت پہنچ جاتے یا دوپہر بعد (زوال سے لے کر غروب آفتاب تک کسی بھی وقت تشریف لاتے) ۔

Narrated Anas (RA): The Prophet ﷺ never returned to his family from a journey at night. He

1801Sahih Bukhari

باب: آدمی جب اپنے شہر میں پہنچے تو گھر میں رات کو نہ جائے۔

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَارِبٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَطْرُقَ أَهْلَهُ لَيْلًا.

ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محارب بن دثار نے اور ان سے جابر ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے (سفر سے) گھر رات کے وقت اترنے سے منع فرمایا۔

Narrated Jabir (RA): The Prophet ﷺ forbade going to ones family at night (on arrival from a

1802Sahih Bukhari

مدینہ کے قریب پہنچتے پر سواری کو تیز کرنے کا بیان۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ جُدُرَاتِ: تَابَعَهُ الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ.

ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے حمید طویل نے اور ان سے انس ؓ نے، انہوں نے (درجات کے بجائے) جدرات کہا، اس کی متابعت حارث بن عمیر نے کی۔

Narrated Anas (RA): As above, but mentioned "the walls of Medina" instead of "the high places of Medina. Al-Harith bin Umar agrees with Anas

1803Sahih Bukhari

باب: اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ گھروں میں دروازوں سے داخل ہوا کرو۔

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِينَا كَانَتْ الْأَنْصَارُ إِذَا حَجُّوا فَجَاءُوا لَمْ يَدْخُلُوا مِنْ قِبَلِ أَبْوَابِ بُيُوتِهِمْ وَلَكِنْ مِنْ ظُهُورِهَا، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَدَخَلَ مِنْ قِبَلِ بَابِهِ فَكَأَنَّهُ عُيِّرَ بِذَلِكَ، فَنَزَلَتْ: وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَى وَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا سورة البقرة آية 189.

ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے کہ میں نے براء بن عازب ؓ سے سنا، انہوں نے کہا کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی۔ انصار جب حج کے لیے آتے تو (احرام کے بعد) گھروں میں دروازوں سے نہیں جاتے بلکہ دیواروں سے کود کر (گھر کے اندر) داخل ہوا کرتے تھے پھر (اسلام لانے کے بعد) ایک انصاری شخص آیا اور دروازے سے گھر میں داخل ہوگیا اس پر لوگوں نے لعنت ملامت کی تو یہ وحی نازل ہوئی کہ یہ کوئی نیکی نہیں ہے کہ گھروں میں پیچھے سے (دیواروں پر چڑھ کر) آؤ بلکہ نیک وہ شخص ہے جو تقویٰ اختیار کرے اور گھروں میں ان کے دروازوں سے آیا کرو۔

Narrated Abu Ishaq (RA): I heard Al-Bara saying, "The above Verse was revealed regarding us, for the Ansar on returning from Hajj never entered their houses through the proper doors but from behind. One of the Ansar came and entered through the door and he was taunted for it. Therefore, the following was revealed: -- "It is not righteousness That you enter the houses from the back, But the righteous man is He who fears Allah, Obeys His order and keeps away from What He has forbidden So, enter houses through the proper doors." (2.189)

1804Sahih Bukhari

باب: سفر بھی گویا عذاب کا ایک حصہ ہے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ وَنَوْمَهُ، فَإِذَا قَضَى نَهْمَتَهُ فَلْيُعَجِّلْ إِلَى أَهْلِهِ.

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے سمی نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، آدمی کو کھانے پینے اور سونے (ہر ایک چیز) سے روک دیتا ہے، اس لیے جب کوئی اپنی ضرورت پوری کرچکے تو فوراً گھر واپس آجائے۔

Narrated Abu Hurairah (RA): The Prophet ﷺ said, "Traveling is a kind of torture as it prevents one from eating, drinking and sleeping properly. So, when ones needs are fulfilled, one should return quickly to ones family."

1805Sahih Bukhari

1- بَابُ الْمُحْصَرِ وَجَزَاءِ الصَّيْدِ:

باب: محرم کے روکے جانے اور شکار کا بدلہ دینے کے بیان میں

وَقَوْلِهِ تَعَالَى: فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ وَلا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ سورة البقرة آية 196، وَقَالَ عَطَاءٌ: الْإِحْصَارُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يَحْبِسُهُ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: حَصُورًا لَا يَأْتِي النِّسَاءَ.

اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا پس تم اگر روک دیئے جاؤ تو جو قربانی میسر ہو وہ مکہ بھیجو اور اپنے سر اس وقت تک نہ منڈاؤ (یعنی احرام نہ کھولو) جب تک قربانی کا جانور اپنے ٹھکانے (یعنی مکہ پہنچ کر ذبح نہ ہوجائے) اور عطاء بن ابی رباح (رح) نے کہا کہ جو چیز بھی روکے اس کا یہی حکم ہے۔

Narrated Zaid bin Aslam from his father: I was with Ibn `Umar on the way to Mecca, and he got the news that Safiya bint Abu Ubaid was seriously ill. So, he hastened his pace, and when the twilight disappeared, he dismounted and offered the Maghrib and `Isha' prayers together. Then he said, I saw that whenever the Prophet had to hasten when traveling, he would delay the Maghrib prayer and join them together (i.e. offer the Maghrib and the `Isha prayers together).

1806Sahih Bukhari

باب: اگر عمرہ کرنے والے کو راستے میں روک دیا گیا تو (وہ کیا کرے)۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، حِينَ خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ مُعْتَمِرًا فِي الْفِتْنَةِ، قَالَ: إِنْ صُدِدْتُ عَنْ الْبَيْتِ، صَنَعْتُ كَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مِنْ أَجْلِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ.

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے کہ عبداللہ بن عمر ؓ فساد کے زمانہ میں عمرہ کرنے کے لیے جب مکہ جانے لگے تو آپ نے فرمایا کہ اگر مجھے کعبہ شریف پہنچنے سے روک دیا گیا تو میں بھی وہی کام کروں گا جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہم لوگوں نے کیا تھا، چناچہ آپ نے بھی صرف عمرہ کا احرام باندھا کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے بھی حدیبیہ کے سال صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا۔

Narrated Nafi (RA): When Abdullah bin Umar (RA) set out for Makkah intending to perform Umra, at the time of afflictions, he said, "If I should be prevented from reaching the Kaba, then I would do the same as Allahs Apostle ﷺ did, so I assume the lhram for Umra as Allahs Apostle ﷺ assumed the Ihram for Umra in the year of Hudaibiya."

1807Sahih Bukhari

باب: اگر عمرہ کرنے والے کو راستے میں روک دیا گیا تو (وہ کیا کرے)۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِأَخْبَرَاهُ، أَنَّهُمَا كَلَّمَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، لَيَالِيَ نَزَلَ الْجَيْشُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَا: لَا يَضُرُّكَ أَنْ لَا تَحُجَّ الْعَامَ، وَإِنَّا نَخَافُ أَنْ يُحَالَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، فَقَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ دُونَ الْبَيْتِ، فَنَحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيَهُ، وَحَلَقَ رَأْسَهُ، وَأُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ الْعُمْرَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْطَلِقُ، فَإِنْ خُلِّيَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ طُفْتُ، وَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، فَعَلْتُ كَمَا فَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ، فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: إِنَّمَا شَأْنُهُمَا وَاحِدٌ: أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّةً مَعَ عُمْرَتِي، فَلَمْ يَحِلَّ مِنْهُمَا حَتَّى حَلَّ يَوْمَ النَّحْرِ، وَأَهْدَى، وَكَانَ يَقُولُ: لَا يَحِلُّ حَتَّى يَطُوفَ طَوَافًا وَاحِدًا يَوْمَ يَدْخُلُ مَكَّةَ.

ہم سے عبداللہ بن محمد بن اسماء نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ نے نافع سے بیان کیا، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ اور سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ جن دنوں عبداللہ بن زبیر ؓ پر حجاج کی لشکر کشی ہو رہی تھی تو عبداللہ بن عمر ؓ سے لوگوں نے کہا (کیونکہ آپ مکہ جانا چاہتے تھے) کہ اگر آپ اس سال حج نہ کریں تو کوئی نقصان نہیں کیونکہ ڈر اس کا ہے کہ کہیں آپ کو بیت اللہ پہنچنے سے روک نہ دیا جائے۔ آپ بولے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ گئے تھے اور کفار قریش ہمارے بیت اللہ تک پہنچنے میں حائل ہوگئے تھے۔ پھر نبی کریم ﷺ نے اپنی قربانی نحر کی اور سر منڈا لیا، عبداللہ نے کہا کہ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے بھی انشاء اللہ عمرہ اپنے پر واجب قرار دے لیا ہے۔ میں ضرور جاؤں گا اور اگر مجھے بیت اللہ تک پہنچنے کا راستہ مل گیا تو طواف کروں گا، لیکن اگر مجھے روک دیا گیا تو میں بھی وہی کام کروں گا جو نبی کریم ﷺ نے کیا تھا، میں اس وقت بھی آپ ﷺ کے ساتھ موجود تھا چناچہ آپ نے ذو الحلیفہ سے عمرہ کا احرام باندھا پھر تھوڑی دور چل کر فرمایا کہ حج اور عمرہ تو ایک ہی ہیں، اب میں بھی تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرہ کے ساتھ حج بھی اپنے اوپر واجب قرار دے لیا ہے، آپ نے حج اور عمرہ دونوں سے ایک ساتھ فارغ ہو کر ہی دسویں ذی الحجہ کو احرام کھولا اور قربانی کی۔ آپ فرماتے تھے کہ جب تک حاجی مکہ پہنچ کر ایک طواف زیارت نہ کرلے پورا احرام نہ کھولنا چاہیے۔

Narrated Nafi (RA): That Ubaidullah bin Abdullah and Salim bin Abdullah informed him that they told Ibn Umar (RA) when Ibn Az-Zubair was attacked by the army, saying "There is no harm for you if you did not perform Hajj this year. We are afraid that you may be prevented from reaching the Kaba." Ibn Umar (RA) said "We set out with Allahs Apostle ﷺ and the non-believers of Quraish prevented us from reaching the Ka’bah, and so the Prophet ﷺ slaughtered his Hadi and got his head shaved." Ibn Umar (RA) added, "I make you witnesses that I have made Umra obligatory for me. And, Allah willing, I will go and then if the way to Ka’bah is clear, I will perform the Tawaf, but if I am prevented from going to the Ka’bah then I will do the same as the Prophet ﷺ did while I was in his company." Ibn Umar (RA) then assumed Ihram for Umra from Dhul-Hulaifa and proceeded for a while and said, "The conditions of Umra and Hajj are similar and I make you witnesses that I have made Umra and Hajj obligatory for myself." So, he did not finish the Ihram till the day of Nahr (slaughtering) came, and he slaughtered his Hadi. He used to say, "I will not finish the Ihram till I perform the Tawaf, one Tawaf on the day of entering Makkah (i.e. of Safa and Marwa for both Umra and Hajj)."

1808Sahih Bukhari

باب: اگر عمرہ کرنے والے کو راستے میں روک دیا گیا تو (وہ کیا کرے)۔

حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ بَعْضَ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَهُ: لَوْ أَقَمْتَ بِهَذَا.

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا ان سے نافع نے کہ عبداللہ ؓ کے کسی بیٹے نے ان سے کہا تھا کاش آپ اس سال رک جاتے (تو اچھا ہوتا اسی اوپر والے واقعہ کی طرف اشارہ ہے) ۔

Narrated Nafi (RA): Some of the sons of Abdullah told him (i.e. Abdullah) if he had sta

1809Sahih Bukhari

باب: اگر عمرہ کرنے والے کو راستے میں روک دیا گیا تو (وہ کیا کرے)۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: قَدْ أُحْصِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَلَقَ رَأْسَهُ، وَجَامَعَ نِسَاءَهُ، وَنَحَرَ هَدْيَهُ، حَتَّى اعْتَمَرَ عَامًا قَابِلًا.

ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا، ان سے معاویہ بن سلام نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے بیان کیا کہ ابن عباس ؓ نے ان سے فرمایا رسول اللہ ﷺ جب حدیبیہ کے سال مکہ جانے سے روک دیئے گئے تو آپ نے حدیبیہ ہی میں اپنا سر منڈوایا اور ازواج مطہرات کے پاس گئے اور قربانی کو نحر کیا، پھر آئندہ سال ایک دوسرا عمرہ کیا۔

Narrated Ibn Abbas (RA): Allahs Apostle ﷺ was prevented from performing (Umra) Therefore, he shaved his head and had sexual relations with his wives and slaughtered his Hadi and performed Umra in the following year.

1810Sahih Bukhari

باب: حج سے روکے جانے کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمٌ ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: أَلَيْسَ حَسْبُكُمْ سُنَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟إِنْ حُبِسَ أَحَدُكُمْ عَنِ الْحَجِّ طَافَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى يَحُجَّ عَامًا قَابِلًا، فَيُهْدِي أَوْ يَصُومُ إِنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا، وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، نَحْوَهُ.

ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا کہ ہم کو یونس نے خبر دی، ان سے زہری نے کہا کہ مجھے سالم نے خبر دی، کہا کہ ابن عمر ؓ فرمایا کرتے تھے کیا تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی سنت کافی نہیں ہے کہ اگر کسی کو حج سے روک دیا جائے، ہو سکے تو وہ بیت اللہ کا طواف کرلے اور صفا اور مروہ کی سعی، پھر وہ ہر چیز سے حلال ہوجائے، یہاں تک کہ وہ دوسرے سال حج کرلے پھر قربانی کرے، اگر قربانی نہ ملے تو روزہ رکھے، عبداللہ سے روایت ہے کہ ہمیں معمر نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھ سے سالم نے بیان کیا، ان سے ابن عمر ؓ نے اسی پہلی روایت کی طرح بیان کیا۔

Narrated Salim: (Abdullah) bin Umar used to say, "Is not (the following of) the tradition of Allahs Apostle ﷺ sufficient for you? If anyone of you is prevented from performing Hajj, he should perform the Tawaf of the Ka’bah and between As-Safa and Al-Marwa and then finish the Ihram and everything will become legal for him which was illegal for him (during the state of Ihram) and he can perform Hajj in a following year and he should slaughter a Hadi or fast in case he cannot afford the Hadi."

1811Sahih Bukhari

باب: رک جانے کے وقت سر منڈوانے سے پہلے قربانی کرنا۔

حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنِ الْمِسْوَرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحَرَ قَبْلَ أَنْ يَحْلِقَ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِذَلِكَ.

ہم سے محمود نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی، کہا کہ ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ نے اور انہیں مسور ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے (صلح حدیبیہ کے موقع پر) قربانی سر منڈوانے سے پہلے کی تھی۔ اور آپ ﷺ نے اصحاب کو بھی اسی کا حکم دیا تھا۔

Narrated Al-Miswar: Allahs Apostle ﷺ slaughtered (the Hadi) before he had his head shaved and then he ordered his Companions to do the same.

1812Sahih Bukhari

باب: رک جانے کے وقت سر منڈوانے سے پہلے قربانی کرنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيِّ ، قَالَ: وَحَدَّثَ نَافِعٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ، وَسَالِمًا ، كَلَّمَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَمِرِينَ، فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ دُونَ الْبَيْتِ، فَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُدْنَهُ، وَحَلَقَ رَأْسَهُ.

ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو ابوبدر شجاع بن ولید نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہم سے معمر بن محمد عمری نے بیان کیا اور ان سے نافع نے بیان کیا کہ عبداللہ اور سالم نے عبداللہ بن عمر ؓ سے گفتگو کی، (کہ وہ اس سال مکہ نہ جائیں) تو انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عمرہ کا احرام باندھ کر گئے تھے اور کفار قریش نے ہمیں بیت اللہ سے روک دیا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی قربانی کو نحر کیا اور سر منڈایا۔

Narrated Nafi (RA): That Abdullah and Salim said to Abdullah bin Umar, "(You should not go for Hajj this year)." Abdullah bin Umar replied, "We set out with the Prophet ﷺ (to Makkah for performing Umra) and e infidels of Quraish prevented us from reaching the Ka’bah. Allahs Apostle ﷺ slaughtered his Budn (camels for sacrifice) and got his head shaved."

1813Sahih Bukhari

باب: جس نے کہا کہ روکے گئے شخص پر قضاء ضروری نہیں۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: حِينَ خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ مُعْتَمِرًا فِي الْفِتْنَةِ، إِنْ صُدِدْتُ عَنِ الْبَيْتِ صَنَعْنَا كَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مِنْ أَجْلِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ، ثُمَّ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ نَظَرَ فِي أَمْرِهِ، فَقَالَ: مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ، فَالْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ الْحَجَّ مَعَ الْعُمْرَةِ، ثُمَّ طَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا، وَرَأَى أَنَّ ذَلِكَ مُجْزِيًا عَنْهُ وَأَهْدَى.

ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا کہ فتنہ کے زمانہ میں جب عبداللہ بن عمر ؓ مکہ کے ارادے سے چلے تو فرمایا کہ اگر مجھے بیت اللہ تک پہنچے سے روک دیا گیا تو میں بھی وہی کام کروں گا جو (حدیبیہ کے سال) میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کیا تھا۔ آپ نے عمرہ کا احرام باندھا کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے بھی حدیبیہ کے سال عمرہ ہی کا احرام باندھا تھا۔ پھر آپ نے کچھ غور کر کے فرمایا کہ عمرہ اور حج تو ایک ہی ہے، اس کے بعد اپنے ساتھیوں سے بھی یہی فرمایا کہ یہ دونوں تو ایک ہی ہیں۔ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ عمرہ کے ساتھ اب حج بھی اپنے لیے میں نے واجب قرار دیے لیا ہے پھر (مکہ پہنچ کر) آپ نے دونوں کے لیے ایک ہی طواف کیا۔ آپ کا خیال تھا کہ یہ کافی ہے اور آپ قربانی کا جانور بھی ساتھ لے گئے تھے۔

Narrated Nafi (RA): When Abdullah bin Umar set out for Makkah with the intentions performing Umra in the period of afflictions, he said, "If I should be prevented from reaching the Ka’bah, then I would do the same as we did while in the company of Allahs Apostle ﷺ ." So, he assumed the Ihram for Umra since the Prophet ﷺ had assumed the Ihram for Umra in the year of Al-Hudaibiya. Then Abdullah bin Umar thought about it and said, "The conditions for both Hajj and Umra are similar." He then turned towards his companions and said, "The conditions of both Hajj and Umra are similar and I make you witnesses that I have made the performance of Hajj obligatory for myself along with Umra." He then performed one Tawaf (between As-Safa and Al-Marwa) for both of them (i.e. Hajj and (Umra) and considered that to be sufficient for him and offered a Hadi.

1814Sahih Bukhari

باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ اگر تم میں کوئی بیمار ہو یا اس کے سر میں (جوؤں کی) کوئی تکلیف ہو تو اسے روزے یا صدقے یا قربانی کا فدیہ دینا چاہئے یعنی اسے اختیار ہے اور اگر روزہ رکھنا چاہے تو تین دن روزہ رکھے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: لَعَلَّكَ آذَاكَ هَوَامُّكَ ؟ قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: احْلِقْ رَأْسَكَ، وَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، أَوِ انْسُكْ بِشَاةٍ.

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں حمید بن قیس نے، انہیں مجاہد نے، انہیں عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے اور انہیں کعب بن عجرہ ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا، غالباً جوؤں سے تم کو تکلیف ہے، انہوں نے کہا کہ جی ہاں یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر اپنا سر منڈا لے اور تین دن کے روزے رکھ لے یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے یا ایک بکری ذبح کر۔

Narrated Abdur-Rahman bin Abu Layla: Kab bin Ujra said that Allahs Apostle ﷺ said to him (Kab), "Perhaps your lice have troubled you?" Kab replied, "Yes! O Allahs Apostle." Allahs Apostle ﷺ said, "Have your head shaved and then either fast three days or feed six poor persons or slaughter one sheep as a sacrifice."

1815Sahih Bukhari

باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان ”یا صدقہ“ (دیا جائے) یہ صدقہ چھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سَيْفٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُجَاهِدٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى ، أَنَّ كَعْبَ بْنَ عُجْرَةَحَدَّثَهُ، قَالَ: وَقَفَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ وَرَأْسِي يَتَهَافَتُ قَمْلًا، فَقَالَ: يُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَاحْلِقْ رَأْسَكَ، أَوْ قَالَ: احْلِقْ، قَالَ: فِيَّ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ سورة البقرة آية 196، إِلَى آخِرِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ تَصَدَّقْ بِفَرَقٍ بَيْنَ سِتَّةٍ، أَوِ انْسُكْ بِمَا تَيَسَّرَ.

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے مجاہد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے سنا، ان سے کعب بن عجرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ حدیبیہ میں میرے پاس آ کر کھڑے ہوئے تو جوئیں میرے سر سے برابر گر رہی تھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ جوئیں تو تمہارے لیے تکلیف دہ ہیں۔ میں نے کہا جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا پھر سر منڈا لے یا آپ ﷺ نے صرف یہ لفظ فرمایا کہ منڈا لے۔ انہوں نے بیان کیا کہ یہ آیت میرے ہی بارے میں نازل ہوئی تھی کہ اگر تم میں کوئی مریض ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو آخر آیت تک، پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا تین دن کے روزے رکھ لے یا ایک فرق غلہ سے چھ مسکینوں کو کھانا دے یا جو میسر ہو اس کی قربانی کر دے۔

Narrated Kab bin Umra: Allahs Apostle ﷺ stood beside me at Al-Hudaibiya and the lice were falling from my head in great number. He asked me, "Have your lice troubled you?" I replied in the affirmative. He ordered me to get my head shaved. Kab added, "This Holy Verse:--And if any of you is ill, or has ailment in his scalp (2.196), etc. was revealed regarding me. "The Prophet ﷺ then ordered me either to fast three days, or to feed six poor persons with one Faraq (three Sas) (of dates), or to slaughter a sheep, etc (sacrifice) whatever was available