روزے کا بیان

Sahih Bukhari · Chapter 23 · 150 hadiths · Page 4 of 8

1954Sahih Bukhari

باب: روزہ کس وقت افطار کرے؟

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ مِنْ هَاهُنَا، وَأَدْبَرَ النَّهَارُ مِنْ هَاهُنَا، وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ.

ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے باپ سے سنا، انہوں نے فرمایا کہ میں نے عاصم بن عمر ؓ بن خطاب سے سنا، ان سے ان کے باپ عمر ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، جب رات اس طرف (مشرق) سے آئے اور دن ادھر مغرب میں چلا جائے کہ سورج ڈوب جائے تو روزہ کے افطار کا وقت آگیا۔

Narrated Umar bin Al-Khattab (RA): Allahs Apostle ﷺ said, "When night falls from this side and the day vanishes from this side and the sun sets, then the fasting person should break his fast."

1955Sahih Bukhari

باب: روزہ کس وقت افطار کرے؟

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ""إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ مِنْ هَاهُنَا، وَأَدْبَرَ النَّهَارُ مِنْ هَاهُنَا، وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ"".

ہم سے اسحاق واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن شیبانی نے، ان سے عبداللہ بن ابی اوفی ؓ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (غزوہ فتح جو رمضان میں ہوا) سفر میں تھے اور نبی کریم ﷺ روزہ سے تھے۔ جب سورج غروب ہوگیا آپ ﷺ نے ایک صحابی (بلال ؓ) سے فرمایا کہ اے فلاں! میرے لیے اٹھ کے ستو گھول، انہوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! آپ تھوڑی دیر اور ٹھہرتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اتر کر ہمارے لیے ستو گھول، اس پر انہوں نے کہا یا رسول اللہ! آپ تھوڑی دیر اور ٹھہرتے نبی کریم ﷺ نے پھر وہی حکم دیا کہ اتر کر ہمارے لیے ستو گھول لیکن ان کا اب بھی خیال تھا کہ ابھی دن باقی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس مرتبہ پھر فرمایا کہ اتر کر ہمارے لیے ستو گھول چناچہ اترے اور ستو انہوں نے گھول دیا اور رسول اللہ ﷺ نے پیا۔ پھر فرمایا کہ جب تم یہ دیکھ لو کہ رات اس مشرق کی طرف سے آگئی تو روزہ دار کو افطار کرلینا چاہیے۔

Narrated Abdullah bin Abi Aufa (RA): We were in the company of the Prophet ﷺ on a journey and he was fasting, and when the sun set, he addressed somebody, "O so-and-so, get up and mix Sawiq with water for us." He replied, "O Allahs Apostle ﷺ ! (Will you wait) till it is evening?" The Prophet ﷺ said, "Get down and mix Sawiq with water for us." He replied, "O Allahs Apostle ﷺ ! (If you wait) till it is evening." The Prophet ﷺ said again, "Get down and mix Sawiq with water for us." He replied, "It is still daytime."(1) The Prophet ﷺ said again, "Get down and mix Sawiq with water for us." He got down and mixed Sawiq for them. The Prophet ﷺ drank it and then said, "When you see night falling from this side, the fasting person should break his fast."

1956Sahih Bukhari

باب: پانی وغیرہ جو چیز بھی پاس ہو اس سے روزہ افطار کر لینا چاہئے۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ سُلَيْمَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ، فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ، قَالَ: انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ أَمْسَيْتَ، قَالَ: انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَلَيْكَ نَهَارًا، قَالَ: انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا، فَنَزَلَ فَجَدَحَ، ثُمَّ قَالَ: إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ أَقْبَلَ مِنْ هَاهُنَا، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ، وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، ان سے سلیمان شیبانی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے سنا، انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں جا رہے تھے، آپ ﷺ روزے سے تھے، جب سورج غروب ہوا تو آپ نے ایک شخص سے فرمایا کہ اتر کر ہمارے لیے ستو گھول، انہوں نے کہا یا رسول اللہ! تھوڑی دیر اور ٹھہرئیے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ اتر کر ہمارے لیے ستو گھول انہوں نے پھر یہی کہا کہ یا رسول اللہ! ابھی تو دن باقی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ اتر کر ستو ہمارے لیے گھول، چناچہ انہوں نے اتر کر ستو گھولا۔ نبی کریم ﷺ نے پھر فرمایا کہ جب تم دیکھو کہ رات کی تاریکی ادھر سے آگئی تو روزہ دار کو روزہ افطار کرلینا چاہیے۔ آپ ﷺ نے اپنی انگلی سے مشرق کی طرف اشارہ کیا۔

Narrated Abdullah bin Abi Aufa" We were traveling with Allahs Apostle ﷺ and he was fasting, and when the sun set, he said to (someone), "Get down and mix Sawiq with water for us." He replied, "O Allahs Apostle ﷺ ! (Will you wait) till it is evening?" The Prophet ﷺ again said, "Get down and mix Sawiq with water for us." He replied, "O Allahs Apostle ﷺ ! It is still daytime." The Prophet ﷺ said again, "Get down and mix Sawiq with water for us." So, he got down and carried out that order. The Prophet ﷺ then said, "When you see night falling from this side, the fasting person should break his fast," and he beckoned with his finger towards the east.

1957Sahih Bukhari

باب: روزہ کھولنے میں جلدی کرنا۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ.

ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہیں ابوحازم سلمہ بن دینار نے، انہیں سہل بن سعد ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، میری امت کے لوگوں میں اس وقت تک خیر باقی رہے گی، جب تک وہ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے۔

Narrated Sahl bin Sad (RA): Allahs Apostle ﷺ said, "The people will remain on the right path as long as they hasten the breaking of the fast."

1958Sahih Bukhari

باب: روزہ کھولنے میں جلدی کرنا۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَصَامَ حَتَّى أَمْسَى، قَالَ لِرَجُلٍ: انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي، قَالَ: لَوِ انْتَظَرْتَ حَتَّى تُمْسِيَ، قَالَ: انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي، إِذَا رَأَيْتَ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَاهُنَا، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ.

ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، ان سے سلیمان شیبانی نے اور ان سے ابن ابی اوفی ؓ نے کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا۔ آپ ﷺ روزے سے تھے، جب شام ہوئی تو آپ ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا کہ (اونٹ سے) اتر کر میرے لیے ستو گھول، اس نے کہا: یا رسول اللہ! اگر شام ہونے کا کچھ اور انتظار فرمائیں تو بہتر ہو، آپ ﷺ نے فرمایا، اتر کر میرے لیے ستو گھول (وقت ہوگیا ہے) جب تم یہ دیکھ لو کہ رات ادھر مشرق سے آگئی تو روزہ دار کے روزہ کھولنے کا وقت ہوگیا۔

Narrated Ibn Abi Aufa (RA): I was with the Prophet ﷺ on a journey, and he observed the fast till evening. The Prophet ﷺ said to a man, "Get down and mix Sawiq with water for me." He replied, "Will you wait till it is evening?" The Prophet ﷺ said, "Get down and mix Sawiq with water for me; when you see night falling from this side, the fasting person should break his fast."

1959Sahih Bukhari

باب: ایک شخص نے سورج غروب سمجھ کر روزہ کھول لیا اس کے بعد سورج نکل آیا۔

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَتْ: أَفْطَرْنَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ غَيْمٍ، ثُمَّ طَلَعَتِ الشَّمْسُ، قِيلَ لِهِشَامٍ: فَأُمِرُوا بِالْقَضَاءِ، قَالَ: لَا بُدَّ مِنْ قَضَاءٍ، وَقَالَ مَعْمَرٌ: سَمِعْتُ هِشَامًا: لَا أَدْرِي أَقَضَوْا أَمْ لَا ؟.

ہم سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے فاطمہ بنت منذر نے اور ان سے اسماء بنت ابی بکر ؓ نے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں بادل تھا۔ ہم نے جب افطار کرلیا تو سورج نکل آیا۔ اس پر ہشام (راوی حدیث) سے کہا گیا کہ پھر انہیں اس روزے کی قضاء کا حکم ہوا تھا؟ تو انہوں نے بتلایا کہ قضاء کے سوا اور چارہ کار ہی کیا تھا؟ اور معمر نے کہا کہ میں نے ہشام سے یوں سنا مجھے معلوم نہیں کہ ان لوگوں نے قضاء کی تھی یا نہیں۔

Narrated Abu Usama from Hisham bin Ursa from Fatima (RA): Asma bint Abi Bakr said, "We broke our fast during the lifetime of the Prophet ﷺ on a cloudy day and then the sun appeared." Hisham was asked, "Were they ordered to fast in lieu of that day?" He replied, "It had to be made up for." Mamar said, "I heard Hisham saying, "I dont know whether they fasted in lieu of that day or not."

1960Sahih Bukhari

باب: بچوں کے روزہ رکھنے کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ ، قَالَتْ: أَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ عَاشُورَاءَ إِلَى قُرَى الْأَنْصَارِ، مَنْ أَصْبَحَ مُفْطِرًا فَلْيُتِمَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ، وَمَنْ أَصْبَحَ صَائِمًا فَليَصُمْ، قَالَتْ: فَكُنَّا نَصُومُهُ بَعْدُ، وَنُصَوِّمُ صِبْيَانَنَا، وَنَجْعَلُ لَهُمُ اللُّعْبَةَ مِنَ الْعِهْنِ، فَإِذَا بَكَى أَحَدُهُمْ عَلَى الطَّعَامِ، أَعْطَيْنَاهُ ذَاكَ حَتَّى يَكُونَ عِنْدَ الْإِفْطَارِ.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، ان سے خالد بن ذکوان نے بیان کیا، ان سے ربیع بنت معوذ ؓ نے کہا کہ عاشورہ کی صبح نبی کریم ﷺ نے انصار کے محلوں میں کہلا بھیجا کہ صبح جس نے کھا پی لیا ہو وہ دن کا باقی حصہ (روزہ دار کی طرح) پورے کرے اور جس نے کچھ کھایا پیا نہ ہو وہ روزے سے رہے۔ ربیع نے کہا کہ پھر بعد میں بھی (رمضان کے روزے کی فرضیت کے بعد) ہم اس دن روزہ رکھتے اور اپنے بچوں سے بھی رکھواتے تھے۔ انہیں ہم اون کا ایک کھلونا دے کر بہلائے رکھتے۔ جب کوئی کھانے کے لیے روتا تو وہی دے دیتے، یہاں تک کہ افطار کا وقت آجاتا۔

Narrated Ar-Rubi bint Muawadh (RA): "The Prophet ﷺ sent a messenger to the village of the Ansar in the morning of the day of Ashura (10th of Muharram) to announce: Whoever has eaten something should not eat but complete the fast, and whoever is observing the fast should complete it. "She further said, "Since then we used to fast on that day regularly and also make our boys fast. We used to make toys of wool for the boys and if anyone of them cried for, he was given those toys till it was the time of the breaking of the fast."

1961Sahih Bukhari

باب: پے در پے ملا کر روزہ رکھنا اور جنہوں نے یہ کہا کہ رات میں روزہ نہیں ہو سکتا۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تُوَاصِلُوا، قَالُوا: إِنَّكَ تُوَاصِلُ، قَالَ: لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى، أَوْ إِنِّي أَبِيتُ أُطْعَمُ وَأُسْقَى.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، کہا کہ مجھ سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا (بلا سحر و افطار) پے در پے روزے نہ رکھا کرو۔ صحابہ ؓ نے عرض کی کہ آپ ﷺ تو وصال کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔ مجھے (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) کھلایا اور پلایا جاتا ہے یا (آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ) میں اس طرح رات گزارتا ہوں کہ مجھے کھلایا اور پلایا جاتا رہتا ہے۔

Narrated Anas (RA): The Prophet ﷺ said, "Do not practice Al-Wisal (fasting continuously without breaking ones fast in the evening or eating before the following dawn)." The people said to the Prophet, "But you practice Al-Wisal?" The Prophet ﷺ replied, "I am not like any of you, for I am given food and drink (by Allah) during the night."

1962Sahih Bukhari

باب: پے در پے ملا کر روزہ رکھنا اور جنہوں نے یہ کہا کہ رات میں روزہ نہیں ہو سکتا۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ، قَالُوا: إِنَّكَ تُوَاصِلُ، قَالَ: إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى.

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک (رح) نے خبر دی، انہیں نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے صوم وصال سے منع فرمایا۔ صحابہ ؓ نے عرض کی کہ آپ تو وصال کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں، مجھے تو کھلایا اور پلایا جاتا ہے۔

Narrated Abdullah bin Umar (RA): Allahs Apostle ﷺ forbade Al-Wisal. The people said (to him), "But you practice it?" He said, "I am not like you, for I am given food and drink by Allah."

1963Sahih Bukhari

باب: پے در پے ملا کر روزہ رکھنا اور جنہوں نے یہ کہا کہ رات میں روزہ نہیں ہو سکتا۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّاب ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا تُوَاصِلُوا، فَأَيُّكُمْ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُوَاصِلَ فَلْيُوَاصِلْ حَتَّى السَّحَرِ، قَالُوا: فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ إِنِّي أَبِيتُ لِي مُطْعِمٌ يُطْعِمُنِي وَسَاقٍ يَسْقِينِ.

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، ان سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یزید بن ہاد نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن خباب نے اور ان سے ابو سعید خدری ؓ نے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا مسلسل (بلاسحری و افطاری) روزے نہ رکھو، ہاں اگر کوئی ایسا کرنا ہی چاہے تو وہ سحری کے وقت تک ایسا کرسکتا ہے۔ صحابہ ؓ نے عرض کی یا رسول اللہ! آپ تو ایسا کرتے ہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔ میں تو رات اس طرح گزارتا ہوں کہ ایک کھلانے والا مجھے کھلاتا ہے اور ایک پلانے والا مجھے پلاتا ہے۔

Narrated Abu Said (RA): That he had heard the Prophet ﷺ saying, "Do not fast continuously (practise Al-Wisal), and if you intend to lengthen your fast, then carry it on only till the Suhur (before the following dawn)." The people said to him, "But you practice (Al-Wisal), O Allahs Apostle! ﷺ " He replied, "I am not similar to you, for during my sleep I have One Who makes me eat and drink."

1964Sahih Bukhari

باب: پے در پے ملا کر روزہ رکھنا اور جنہوں نے یہ کہا کہ رات میں روزہ نہیں ہو سکتا۔

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدٌ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ رَحْمَةً لَهُمْ، فَقَالُوا: إِنَّكَ تُوَاصِلُ، قَالَ: إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ إِنِّي يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: لَمْ يَذْكُرْ عُثْمَانُ رَحْمَةً لَهُمْ.

ہم سے عثمان بن ابی شیبہ اور محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبدہ نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے باپ نے اور ان سے عائشہ ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے پے در پے روزہ سے منع کیا تھا۔ امت پر رحمت و شفقت کے خیال سے، صحابہ ؓ نے عرض کی کہ آپ ﷺ تو وصال کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا، میں تمہاری طرح نہیں ہوں مجھے میرا رب کھلاتا اور پلاتا ہے۔ عثمان نے (اپنی روایت میں) امت پر رحمت و شفقت کے خیال سے کے الفاظ ذکر نہیں کئے ہیں۔

Narrated Aisha (RA): Allahs Apostle ﷺ forbade Al-Wisal out of mercy to them. They said to him, "But you practice Al-Wisal?" He said, "I am not similar to you, for my Lord gives me food and drink. "

1965Sahih Bukhari

باب: جو طے کے روزے بہت رکھے اس کو سزا دینے کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ: إِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: وَأَيُّكُمْ مِثْلِي، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِ، فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنِ الْوِصَالِ، وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا، ثُمَّ يَوْمًا، ثُمَّ رَأَوْا الْهِلَالَ، فَقَالَ: لَوْ تَأَخَّرَ لَزِدْتُكُمْ، كَالتَّنْكِيلِ لَهُمْ حِينَ أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا.

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسلسل (کئی دن تک سحری و افطاری کے بغیر) روزہ رکھنے سے منع فرمایا تھا۔ اس پر ایک آدمی نے مسلمانوں میں سے عرض کی، یا رسول اللہ ﷺ آپ تو وصال کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا میری طرح تم میں سے کون ہے؟ مجھے تو رات میں میرا رب کھلاتا ہے، اور وہی مجھے سیراب کرتا ہے۔ لوگ اس پر بھی جب صوم وصال رکھنے سے نہ رکے تو آپ ﷺ نے ان کے ساتھ دو دن تک وصال کیا۔ پھر عید کا چاند نکل آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر چاند نہ دکھائی دیتا تو میں اور کئی دن وصال کرتا، گویا جب صوم و صال سے وہ لوگ نہ رکے تو آپ نے ان کو سزا دینے کے لیے یہ کہا۔

Narrated Abu Hurairah (RA): Allahs Apostle ﷺ forbade Al-Wisal in fasting. So, one of the Muslims said to him, "But you practice Al-Wisal. O Allahs Apostle! ﷺ " The Prophet ﷺ replied, "Who amongst you is similar to me? I am given food and drink during my sleep by my Lord." So, when the people refused to stop Al-Wisal (fasting continuously), the Prophet ﷺ fasted day and night continuously along with them for a day and then another day and then they saw the crescent moon (of the month of Shawwal). The Prophet ﷺ said to them (angrily), "If It (the crescent) had not appeared, I would have made you fast for a longer period." That was as a punishment for them when they refused to stop (practising Al-Wisal).

1966Sahih Bukhari

باب: جو طے کے روزے بہت رکھے اس کو سزا دینے کا بیان۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَمَرَّتَيْنِ، قِيلَ: إِنَّكَ تُوَاصِلُ، قَالَ: إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِ، فَاكْلَفُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ.

ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر نے، ان سے ہمام نے اور انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے سنا کہ نبی کریم ﷺ نے دو بار فرمایا، تم لوگ وصال سے بچو! عرض کیا گیا کہ آپ تو وصال کرتے ہیں، اس پر آپ نے فرمایا کہ رات میں مجھے میرا رب کھلاتا اور وہی مجھے سیراب کرتا ہے۔ پس تم اتنی ہی مشقت اٹھاؤ جتنی تم طاقت رکھتے ہو۔

Narrated Abu Hurairah (RA): The Prophet ﷺ said twice, "(O you people) Be cautious! Do not practice Al-Wisal." The people said to him, "But you practice Al-Wisal?" The Prophet ﷺ replied, "My Lord gives me food and drink during my sleep. Do that much of deeds which is within your ability."

1967Sahih Bukhari

باب: سحری تک وصال کا روزہ رکھنا۔

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا تُوَاصِلُوا، فَأَيُّكُمْ أَرَادَ أَنْ يُوَاصِلَ فَلْيُوَاصِلْ حَتَّى السَّحَرِ، قَالُوا: فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ، إِنِّي أَبِيتُ لِي مُطْعِمٌ يُطْعِمُنِي وَسَاقٍ يَسْقِينِ.

ہم سے ابراہیم بن حمزہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز ابن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے یزید بن ہاد نے، ان سے عبداللہ بن خباب نے اور ان سے ابو سعید خدری ؓ نے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ فرما رہے تھے، صوم وصال نہ رکھو۔ اور اگر کسی کا ارادہ ہی وصال کا ہو تو سحری کے وقت تک وصال کرلے۔ صحابہ ؓ نے عرض کی، یا رسول اللہ! آپ تو وصال کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔ رات کے وقت ایک کھلانے والا مجھے کھلاتا ہے اور ایک پلانے والا مجھے پلاتا ہے۔

Narrated Abu Said Al-Khudri(RA): Allahs Apostle ﷺ said, "Do not fast continuously day and night (practise Al-Wisal) and if anyone of you intends to fast continuously day and night, he should continue till the Suhur time." They said, "But you practise Al-Wisal, O Allahs Apostle! ﷺ " The Prophet ﷺ said, "I am not similar to you;. during my sleep I have One Who makes me eat and drink."

1968Sahih Bukhari

باب: کسی نے اپنے بھائی کو نفلی روزہ توڑنے کے لیے قسم دی۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ سَلْمَانَ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ: فَزَارَ سَلْمَانُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، فَرَأَى أُمَّ الدَّرْدَاءِ مُتَبَذِّلَةً، فَقَالَ لَهَا: مَا شَأْنُكِ ؟ قَالَتْ: أَخُوكَ أَبُو الدَّرْدَاءِ لَيْسَ لَهُ حَاجَةٌ فِي الدُّنْيَا، فَجَاءَ أَبُو الدَّرْدَاءِ فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا، فَقَالَ: كُلْ، قَالَ: فَإِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: مَا أَنَا بِآكِلٍ حَتَّى تَأْكُلَ، قَالَ: فَأَكَلَ، فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ، ذَهَبَ أَبُو الدَّرْدَاءِ يَقُومُ، قَالَ: نَمْ، فَنَامَ ثُمَّ ذَهَبَ يَقُومُ، فَقَالَ: نَمْ، فَلَمَّا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، قَالَ سَلْمَانُ: قُمْ الْآنَ فَصَلَّيَا، فَقَالَ لَهُ سَلْمَانُ: إِنَّ لِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، فَأَعْطِ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَدَقَ سَلْمَانُ.

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جعفر بن عون نے بیان کیا، ان سے ابوالعمیس عتبہ بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے عون بن ابی حجیفہ نے اور ان سے ان کے والد (وہب بن عبداللہ ؓ) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے سلمان اور ابوالدرداء ؓ میں (ہجرت کے بعد) بھائی چارہ کرایا تھا۔ ایک مرتبہ سلمان ؓ، ابودرداء ؓ سے ملاقات کے لیے گئے۔ تو (ان کی عورت) ام الدرداء ؓ کو بہت پراگندہ حال میں دیکھا۔ ان سے پوچھا کہ یہ حالت کیوں بنا رکھی ہے؟ ام الدرداء ؓ نے جواب دیا کہ تمہارے بھائی ابوالدرداء ؓ ہیں جن کو دنیا کی کوئی حاجت ہی نہیں ہے پھر ابوالدرداء ؓ بھی آگئے اور ان کے سامنے کھانا حاضر کیا اور کہا کہ کھانا کھاؤ، انہوں نے کہا کہ میں تو روزے سے ہوں، اس پر سلمان ؓ نے فرمایا کہ میں بھی اس وقت تک کھانا نہیں کھاؤں گا جب تک تم خود بھی شریک نہ ہو گے۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر وہ کھانے میں شریک ہوگئے (اور روزہ توڑ دیا) رات ہوئی تو ابوالدرداء ؓ عبادت کے لیے اٹھے اور اس مرتبہ بھی سلمان ؓ نے فرمایا کہ ابھی سو جاؤ۔ پھر جب رات کا آخری حصہ ہوا تو سلمان ؓ نے فرمایا کہ اچھا اب اٹھ جاؤ۔ چناچہ دونوں نے نماز پڑھی۔ اس کے بعد سلمان ؓ نے فرمایا کہ تمہارے رب کا بھی تم پر حق ہے۔ جان کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے، اس لیے ہر حق والے کے حق کو ادا کرنا چاہیے، پھر آپ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ سلمان نے سچ کہا۔

Narrated Abu Juhaifa (RA): The Prophet ﷺ made a bond of brotherhood between Salman and Abu Ad-Darda. Salman paid a visit to Abu Ad-Darda and found Um Ad-Darda dressed in shabby clothes and asked her why she was in that state. She replied, "Your brother Abu Ad-Darda is not interested in (the luxuries of) this world." In the meantime Abu Ad-Darda came and prepared a meal for Salman. Salman requested Abu Ad-Darda to eat (with him), but Abu Ad-Darda said, "I am fasting." Salman said, "I am not going to eat unless you eat." So, Abu Ad-Darda ate(with Salman). When it was night and (a part of the night passed), Abu Ad-Darda got up (to offer the night prayer), but Salman told him to sleep and Abu Ad-Darda slept. After sometime Abu Ad-Darda again got up but Salman told him to sleep. When it was the last hours of the night, Salman told him to get up then, and both of them offered the prayer. Salman told Abu Ad-Darda, "Your Lord has a right on you, your soul has a right on you, and your family has a right on you; so you should give the rights of all those who has a right on you." Abu Ad-Darda came to the Prophet ﷺ and narrated the whole story. The Prophet ﷺ said, "Salman has spoken the truth."

1969Sahih Bukhari

باب: ماہ شعبان میں روزے رکھنے کا بیان۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ، حَتَّى نَقُولَ: لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: لَا يَصُومُ، فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ إِلَّا رَمَضَانَ، وَمَا رَأَيْتُهُ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ.

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک (رح) نے خبری دی، انہیں ابوالنضر نے، انہیں ابوسلمہ نے اور ان سے عائشہ ؓ نے بیان کیا، کہ رسول اللہ ﷺ نفل روزہ رکھنے لگتے تو ہم (آپس میں) کہتے کہ اب آپ ﷺ روزہ رکھنا چھوڑیں گے ہی نہیں۔ اور جب روزہ چھوڑ دیتے تو ہم کہتے کہ اب آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں۔ میں نے رمضان کو چھوڑ کر رسول اللہ ﷺ کو کبھی پورے مہینے کا نفلی روزہ رکھتے نہیں دیکھتا اور جتنے روزے آپ شعبان میں رکھتے میں نے کسی مہینہ میں اس سے زیادہ روزے رکھتے آپ کو نہیں دیکھا۔

Narrated Aisha (RA): Allahs Apostle ﷺ used to fast till one would say that he would never stop fasting, and he would abandon fasting till one would say that he would never fast. I never saw Allahs Apostle ﷺ fasting for a whole month except the month of Ramadan, and did not see him fasting in any month more than in the month of Shaban.

1970Sahih Bukhari

باب: ماہ شعبان میں روزے رکھنے کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حَدَّثَتْهُ، قَالَتْ: لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا أَكْثَرَ مِنْ شَعْبَانَ، فَإِنَّهُ كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ، وَكَانَ يَقُولُ: خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا، وَأَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دُووِمَ عَلَيْهِ وَإِنْ قَلَّتْ، وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً دَاوَمَ عَلَيْهَا.

ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے عائشہ ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ شعبان سے زیادہ اور کسی مہینہ میں روزے نہیں رکھتے تھے، شعبان کے پورے دنوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے رہتے۔ آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ عمل وہی اختیار کرو جس کی تم میں طاقت ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ (ثواب دینے سے) نہیں تھکتا۔ تم خود ہی اکتا جاؤ گے۔ نبی کریم ﷺ اس نماز کو سب سے زیادہ پسند فرماتے جس پر ہمیشگی اختیار کی جائے خواہ کم ہی کیوں نہ ہو۔ چناچہ نبی کریم ﷺ جب کوئی نماز شروع کرتے تو اسے ہمیشہ پڑھتے تھے۔

Narrated Aisha (RA): The Prophet ﷺ never fasted in any month more than in the month of Shaban. He used to say, "Do those deeds which you can do easily, as Allah will not get tired (of giving rewards) till you get bored and tired (of performing religious deeds)." The most beloved prayer to the Prophet ﷺ was the one that was done regularly (throughout the life) even if it were little. And whenever the Prophet ﷺ offered a prayer he used to offer it regularly .

1971Sahih Bukhari

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَا صَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا كَامِلًا قَطُّ غَيْرَ رَمَضَانَ، وَيَصُومُ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ: لَا وَاللَّهِ لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ: لَا وَاللَّهِ لَا يَصُومُ.

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ رمضان کے سوا نبی کریم ﷺ نے کبھی پورے مہینے کا روزہ نہیں رکھا۔ آپ ﷺ نفل روزہ رکھنے لگتے تو دیکھنے والا کہہ اٹھتا کہ بخدا، اب آپ بےروزہ نہیں رہیں گے اور اسی طرح جب نفل روزہ چھوڑ دیتے تو کہنے والا کہتا کہ واللہ! اب آپ ﷺ روزہ نہیں رکھیں گے۔

Narrated Ibn Abbas (RA): The Prophet ﷺ never fasted a full month except the month of Ramadan, and he used to fast till one could say, "By Allah, he will never stop fasting," and he would abandon fasting till one would say, "By Allah, he will never fast."

1972Sahih Bukhari

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کا بیان۔

حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ مِنَ الشَّهْرِ، حَتَّى نَظُنَّ أَنْ لَا يَصُومَ مِنْهُ، وَيَصُومُ حَتَّى نَظُنَّ أَنْ لَا يُفْطِرَ مِنْهُ شَيْئًا، وَكَانَ لَا تَشَاءُ تَرَاهُ مِنَ اللَّيْلِ مُصَلِّيًا إِلَّا رَأَيْتَهُ، وَلَا نَائِمًا إِلَّا رَأَيْتَهُ، وَقَالَ سُلَيْمَانُ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، أَنَّهُ سَأَلَأَنَسًا فِي الصَّوْمِ.

ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے حمید طویل نے اور انہوں نے انس ؓ سے سنا، آپ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کسی مہینہ میں بےروزہ کے رہتے تو ہمیں خیال ہوتا کہ اس مہینہ میں آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں۔ اسی طرح کسی مہینہ میں نفل روزہ رکھنے لگتے تو ہم خیال کرتے کہ اب اس مہینہ کا ایک دن بھی بےروزے کے نہیں گزرے گا۔ جو جب بھی چاہتا نبی کریم ﷺ کو رات میں نماز پڑھتے دیکھ سکتا تھا اور جب بھی چاہتا سوتا ہوا بھی دیکھ سکتا تھا۔ سلیمان نے حمید طویل سے یوں بیان کیا کہ انہوں نے انس ؓ سے روزہ کے متعلق پوچھا تھا۔

Narrated Anas (RA): Allahs Apostle ﷺ used to leave fasting in a certain month till we thought that he would not fast in that month, and he used to fast in another month till we thought he would not stop fasting at all in that month. And if one wanted to see him praying at night, one could see him (in that condition), and if one wanted to see him sleeping at night, one could see him (in that condition) too.

1973Sahih Bukhari

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کا بیان۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ سَلَامٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَرَاهُ مِنَ الشَّهْرِ صَائِمًا إِلَّا رَأَيْتُهُ، وَلَا مُفْطِرًا إِلَّا رَأَيْتُهُ، وَلَا مِنَ اللَّيْلِ قَائِمًا إِلَّا رَأَيْتُهُ، وَلَا نَائِمًا إِلَّا رَأَيْتُهُ، وَلَا مَسِسْتُ خَزَّةً وَلَا حَرِيرَةً أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا شَمِمْتُ مِسْكَةً وَلَا عَبِيرَةً أَطْيَبَ رَائِحَةً مِنْ رَائِحَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ابوخالد احمر نے خبر دی، کہا کہ ہم کو حمید نے خبر دی، کہا کہ میں نے انس ؓ سے نبی کریم ﷺ کے روزوں کے متعلق پوچھا۔ آپ نے فرمایا کہ جب بھی میرا دل چاہتا کہ آپ کو روزے سے دیکھوں تو میں آپ کو روزے سے ہی دیکھتا۔ اور بغیر روزے کے چاہتا تو بغیر روزے سے ہی دیکھتا۔ رات میں کھڑے (نماز پڑھتے) دیکھنا چاہتا تو اسی طرح نماز پڑھتے دیکھتا۔ اور سوتے ہوئے دیکھنا چاہتا تو اسی طرح دیکھتا۔ میں نے نبی کریم ﷺ کے مبارک ہاتھوں سے زیادہ نرم و نازک ریشم کے کپڑوں کو بھی نہیں دیکھا۔ اور نہ مشک و عنبر کو آپ کی خوشبو سے زیادہ خوشبودار پایا۔

Narrated Humaid (RA): I asked Anas about the fasting of the Prophet. He said "Whenever I liked to see the Prophet ﷺ fasting in any month, I could see that, and whenever I liked to see him not fasting, I could see that too, and if I liked to see him praying in any night, I could see that, and if I liked to see him sleeping, I could see that, too." Anas further said, "I never touched silk or velvet softer than the hand of Allahs Apostle ﷺ and never smelled musk or perfumed smoke more pleasant than the smell of Allahs Apostle."