ذبیحوں اور شکار کا بیان

Sahih Bukhari · Chapter 56 · 70 hadiths · Page 4 of 4

5537Sahih Bukhari

گوہ کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ أَنَّهُ: دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ مَيْمُونَةَ فَأُتِيَ بِضَبٍّ مَحْنُوذٍ، فَأَهْوَى إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، فَقَالَ بَعْضُ النِّسْوَةِ: أَخْبِرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يُرِيدُ أَنْ يَأْكُلَ، فَقَالُوا: هُوَ ضَبٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَرَفَعَ يَدَهُ، فَقُلْتُ: أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ: لَا، وَلَكِنْ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ، قَالَ خَالِدٌ: فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ.

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوامامہ بن سہل نے، ان سے عبداللہ بن عباس ؓ نے بیان کیا اور ان سے خالد بن ولید ؓ نے بیان کیا کہ وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ ام المؤمنین میمونہ ؓ کے گھر گئے تو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بھنا ہوا ساہنہ لایا گیا آپ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا لیکن بعض عورتوں نے کہا کہ آپ جو کھانا دیکھ رہے ہیں اس کے متعلق نبی کریم ﷺ کو بتادو، عورتوں نے کہا کہ یہ ساہنہ ہے یا رسول اللہ! چناچہ نبی کریم ﷺ نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا یہ حرام ہے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ نہیں لیکن چونکہ یہ ہمارے ملک میں نہیں پایا جاتا اس لیے طبیعت اس سے انکار کرتی ہے۔ خالد ؓ نے بیان کیا کہ پھر میں نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا اور کھایا اور نبی کریم ﷺ دیکھ رہے تھے۔

Narrated Khalid bin Al-Walid (RA) : Allahs Apostle ﷺ and I entered the house of Maimuna. A roasted mastigure was served. Allahs Apostle ﷺ stretched his hand out (to eat of it) but some woman said, "Inform Allahs Apostle ﷺ of what he is about to eat." So they said, "It is mastigure, O Allahs Apostle! ﷺ " He withdrew his hand, whereupon I said, "O Allahs Apostle ﷺ ! Is it unlawful?" He said, "No, but this is not found in the land of my people, so I dislike it." So I pulled the mastigure towards me and ate it while Allahs Apostle ﷺ was looking at me.

5538Sahih Bukhari

منجمد یا پگھلے ہوئے گھی میں چوہاگر جانے کا بیان

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُهُ، عَنْ مَيْمُونَةَ: أَنَّ فَأْرَةً وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ فَمَاتَتْ، فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا، فَقَالَ: أَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا وَكُلُوهُ، قِيلَ لِسُفْيَانَ فَإِنَّ مَعْمَرًا يُحَدِّثُهُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: مَا سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يَقُولُ إِلَّا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ مِرَارًا.

ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی، انہوں نے ابن عباس ؓ سے سنا، ان سے میمونہ ؓ نے بیان کیا کہ ایک چوہا گھی میں پڑ کر مرگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم پوچھا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ چوہے کو اور اس کے چاروں طرف سے گھی کو پھینک دو اور باقی گھی کو کھاؤ۔ سفیان سے کہا گیا کہ معمر اس حدیث کو زہری سے بیان کرتے ہیں کہ ان سے سعید بن مسیب اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے یہ حدیث زہری سے صرف عبیداللہ سے بیان کرتے سنی ہے کہ ان سے ابن عباس ؓ نے، ان سے میمونہ ؓ نے اور ان سے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اور میں نے یہ حدیث ان سے بارہا سنی ہے۔

Narrated Maimuna (RA) : A mouse fell into the butter-fat and died. The Prophet ﷺ was asked about that. He said, "Throw away the mouse and the butter-fat that surrounded it, and eat the rest of the butter-fat (As-Samn).

5539Sahih Bukhari

منجمد یا پگھلے ہوئے گھی میں چوہاگر جانے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الدَّابَّةِ تَمُوتُ فِي الزَّيْتِ وَالسَّمْنِ وَهُوَ جَامِدٌ أَوْ غَيْرُ جَامِدٍ الْفَأْرَةِ أَوْ غَيْرِهَا، قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَرَ بِفَأْرَةٍ مَاتَتْ فِي سَمْنٍ، فَأَمَرَ بِمَا قَرُبَ مِنْهَا، فَطُرِحَ ثُمَّ أُكِلَ، عَنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ.

ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہیں یونس نے، انہیں محمد بن عبداللہ بن شہاب زہری نے کہ اگر کوئی جانور چوہا یا کوئی اور جمے ہوئے یا غیر جمے ہوئے گھی یا تیل میں پڑجائے تو اس کے متعلق کہا کہ ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چوہے کہ متعلق جو گھی میں مرگیا تھا، حکم دیا کہ اسے اور اس کے چاروں طرف سے گھی نکال کر پھینک دیا جائے اور پھر باقی گھی کھایا گیا۔ ہمیں یہ حدیث عبیداللہ بن عبداللہ کی سند سے پہنچی ہے۔

Narrated Az-Zhuri (RA) : regarding an animal, e.g., a mouse or some other animal that had fallen into solid or liquid oil or butter-fat: I had been informed that a mouse had died in butter-fat whereupon Allahs Apostle ﷺ ordered that the butter-fat near it be thrown away and the rest of the butter-fat can be eaten.

5540Sahih Bukhari

منجمد یا پگھلے ہوئے گھی میں چوہاگر جانے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْمَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَتْ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَأْرَةٍ سَقَطَتْ فِي سَمْنٍ، فَقَالَ: أَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا، وَكُلُوهُ.

ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبداللہ بن عبداللہ نے، ان سے عبداللہ بن عباس ؓ نے اور ان سے میمونہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ سے اس چوہے کا حکم پوچھا گیا جو گھی میں گرگیا ہو۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ چوہے کو اور اس کے چاروں طرف سے گھی کو پھینک دو پھر باقی گھی کھالو۔

Narrated Maimuna (RA) : The Prophet ﷺ was asked about a mouse that had fallen into butter-fat (and died). He said, "Throw away the mouse and the portion of butter-fat around it, and eat the rest."

5541Sahih Bukhari

چہرہ پر داغ لگانے اور نشان کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ حَنْظَلَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَرِهَ أَنْ تُعْلَمَ الصُّورَةُ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُضْرَبَ. تَابَعَهُ قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا الْعَنقْزِيُّ، عَنْ حَنْظَلَةَ، وَقَالَ: تُضْرَبُ الصُّورَةُ.

ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے حنظلہ نے، ان سے سالم نے، ان سے ابن عمر ؓ نے کہ وہ چہرے پر نشان لگانے کو ناپسند کرتے تھے اور ابن عمر ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے چہرے پر مارنے سے منع کیا ہے۔ عبیداللہ بن موسیٰ کے ساتھ اس حدیث کو قتیبہ بن سعید نے بھی روایت کیا، کہا ہم کو عمرو بن محمد عنقزی نے خبر دی، انہوں نے حنظلہ سے۔

Narrated Salim (RA) : that Ibn Umar (RA) disliked the branding of animals on the face. Ibn Umar (RA) said, "The Prophet ﷺ forbade beating (animals) on the face."

5542Sahih Bukhari

چہرہ پر داغ لگانے اور نشان کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَخٍ لِي يُحَنِّكُهُ وَهُوَ فِي مِرْبَدٍ لَهُ، فَرَأَيْتُهُ يَسِمُ شَاةً، حَسِبْتُهُ قَالَ: فِي آذَانِهَا.

ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن زید نے ان سے انس ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں اپنے بھائی (عبداللہ بن ابی طلحہ نومولود) کو لایا تاکہ آپ اس کی تحنیک فرما دیں۔ نبی کریم ﷺ اس وقت اونٹوں کے باڑے میں تشریف رکھتے تھے۔ میں نے دیکھا کہ آپ ایک بکری کو داغ رہے تھے (شعبہ نے کہا کہ) میں سمجھتا ہوں کہ (ہشام نے) کہا کہ اس کے کانوں کو داغ رہے تھے۔

Narrated Anas (RA) : I brought a brother of mine to the Prophet ﷺ to do Tahnik for him while the Prophet ﷺ was in a sheep fold of his, and I saw him branding a sheep. (The sub-narrator said: I think Anas said, branding it on the ear.)

5543Sahih Bukhari

اگر ایک جماعت کو مال غنیمت ہاتھ لگے اور ان میں سے کوئی شخص اپنے ساتھی کے حکم کے بغیر بکری یا اونٹ ذبح کردے، تو وہ رافع کی حدیث بناء پر نہیں کھایا جائے گا، جو وہ آنحضرت ﷺ سے روایت کرتے ہیں اور طاؤس وعکرمہ نے چور کے ذبیحہ کے متعلق فرمایا کہ اس کو پھینک دو

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّنَا نَلْقَى الْعَدُوَّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى، فَقَالَ: مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ فَكُلُوهُ، مَا لَمْ يَكُنْ سِنٌّ وَلَا ظُفُرٌ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ: أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفْرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ، وَتَقَدَّمَ سَرَعَانُ النَّاسِ فَأَصَابُوا مِنَ الْغَنَائِمِ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ النَّاسِ، فَنَصَبُوا قُدُورًا، فَأَمَرَ بِهَا فَأُكْفِئَتْ وَقَسَمَ بَيْنَهُمْ، وَعَدَلَ بَعِيرًا بِعَشْرِ شِيَاهٍ، ثُمَّ نَدَّ بَعِيرٌ مِنْ أَوَائِلِ الْقَوْمِ، وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ خَيْلٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ اللَّهُ، فَقَالَ: إِنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَمَا فَعَلَ مِنْهَا هَذَا فَافْعَلُوا مِثْلَ هَذَا.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالاحوص نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسروق نے بیان کیا، ان سے عبایہ بن رفاعہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عبایہ کے دادا رافع بن خدیج ؓ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ کل ہمارا دشمن سے مقابلہ ہوگا اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو آلہ خون بہا دے اور (جانوروں کو ذبح کرتے وقت) اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اسے کھاؤ بشرطیکہ ذبح کا آلہ دانت اور ناخن نہ ہو اور میں اس کی وجہ تمہیں بتاؤں گا۔ دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے اور جلدی کرنے والے لوگ آگے بڑھ گئے تھے اور غنیمت پر قبضہ کرلیا تھا لیکن نبی کریم ﷺ پیچھے کے صحابہ کے ساتھ تھے چناچہ (آگے پہنچنے والوں نے جانور ذبح کر کے) ہانڈیاں پکنے کے لیے چڑھا دیں لیکن نبی کریم ﷺ نے انہیں الٹ دینے کا حکم فرمایا۔ پھر آپ ﷺ نے غنیمت لوگوں کے درمیان تقسیم کی۔ اس تقسیم میں ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر آپ نے قرار دیا تھا پھر آگے کے لوگوں سے ایک اونٹ بدک کر بھاگ گیا۔ لوگوں کے پاس گھوڑے نہیں تھے پھر ایک شخص نے اس اونٹ پر تیر مارا اور اللہ تعالیٰ نے اسے روک لیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ جانور بھی کبھی وحشی جانوروں کی طرح بدکنے لگتے ہیں۔ اس لیے جب ان میں سے کوئی ایسا کرے تو تم بھی ان کے ساتھ ایسا ہی کرو۔

Narrated Rait bin Khadij (RA) : I said to the Prophet, "We will be facing the enemy tomorrow and we have no knives (for slaughtering) He said, "If you slaughter the animal with anything that causes its blood to flow out, and if Allahs Name is mentioned on slaughtering it, eat of it, unless the killing instrument is a tooth or nail. I will tell you why: As for the tooth, it is a bone; and as for the nail, it is the knife of Ethiopians." The quick ones among the people got the war booty while the Prophet ﷺ was behind the people. So they placed the cooking pots on the fire, but the Prophet ﷺ ordered the cooking pots to be turned upside down. Then he distributed (the war booty) among them, considering one camel as equal to ten sheep. Then a camel belonging to the first party of people ran away and they had no horses with them, so a man shot it with an arrow whereby Allah stopped it. The Prophet ﷺ said, "Of these animals there are some which are as wild as wild beasts. So, if anyone of them runs away like this, do like this (shoot it with an arrow)."

5544Sahih Bukhari

38- بَابُ أَكْلِ الْمُضْطَرِّ:

باب: جو شخص بھوک سے بےقرار ہو ( صبر نہ کرسکے) وہ مردار کھا سکتا ہے

لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ 172 إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلا عَادٍ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ سورة البقرة آية 172-173. وَقَالَ: فَمَنِ اضْطُرَّ فِي مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لإِثْمٍ سورة المائدة آية 3، وَقَوْلِهِ: فَكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كُنْتُمْ بِآيَاتِهِ مُؤْمِنِينَ 118 وَمَا لَكُمْ أَلَّا تَأْكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ وَإِنَّ كَثِيرًا لَيُضِلُّونَ بِأَهْوَائِهِمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِينَ 119 سورة الأنعام آية 118-119، وَقَوْلِهِ جَلَّ وَعَلَا: قُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَسْفُوحًا سورة الأنعام آية 145. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مُهْرَاقًا أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ، فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ، فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلا عَادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة الأنعام آية 145 وَقَالَ: فَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَلالا طَيِّبًا وَاشْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ 114 إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلا عَادٍ فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ 115 سورة النحل آية 114-115.

کیونکہ اللہ تعالیٰ نے (سورۃ البقرہ میں) فرمایا مسلمانو! ہم نے جو پاکیزہ روزیاں تم کو دی ہیں ان میں سے کھاؤ اور اگر تم خاص کر اللہ کو پوجنے والے ہو (تو ان نعمتوں پر) اس کا شکر ادا کرو اللہ نے تو تم پر بس مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور جس پر اللہ کے سوا اور کسی کا نام پکارا جائے حرام کیا ہے پھر جو کوئی بھوک سے بےقرار ہوجائے بشرطیکہ بےحکمی نہ کرے نہ زیادتی تو اس پر کچھ گناہ نہیں ہے۔ اور اللہ نے سورة المائدہ میں فرمایا پھر جو کوئی بھوک سے لاچار ہوگیا ہو اس کو گناہ کی خواہش نہ ہو۔ اور سورة الانعام میں فرمایا جن جانوروں پر اللہ کا نام لیا جائے ان کو کھاؤ اگر تم اس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو اور تم کو کیا ہوگیا ہے جو تم ان جانوروں کو نہیں کھاتے جن پر اللہ کا نام لیا گیا ہے اور اللہ نے تو صاف صاف ان چیزوں کو بیان کردیا جن کا کھانا تم پر حرام ہے وہ بھی جب تم لاچار نہ ہوجاؤ (لاچار ہوجاؤ تو ان کو بھی کھا سکتے ہو) اور بہت لوگ ایسے ہیں جو بغیر جانے بوجھے اپنے من مانے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں اور تیرا مالک ایسے حد سے بڑھ جانے والوں کو خوب جانتا ہے۔ اور اللہ نے سورة الانعام میں فرمایا اے پیغمبر! کہہ دے کہ جو مجھ پر وحی بھیجی گئی اس میں کسی کھانے والے پر کوئی کھانا حرام نہیں جانتا البتہ اگر مردار ہو یا بہتا خون یا سور کا گوشت تو وہ حرام ہے کیونکہ وہ پلید ہے یا کوئی گناہ کی چیز ہو کہ اس پر اللہ کے سوا اور کسی کا نام پکارا گیا ہو پھر جو کوئی بھوک سے لاچار ہوجائے بشرطیکہ بےحکمی نہ کرے نہ زیادتی تو تیرا مالک بخشنے والا مہربان ہے۔ ابن عباس ؓ نے کہا مسفوحا کے معنی بہتا ہوا خون اور سورة النحل میں فرمایا اللہ نے جو تم کو پاکیزہ روزی دی ہے حلال اس کو کھاؤ اور جو تم خالص اللہ کو پوجنے والے ہو تو اس کی نعمت کا شکر ادا کرو، اللہ نے بس تم پر مردار حرام کیا ہے اور بہتا ہوا خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور جس پر اللہ کے سوا اور کسی کا نام پکارا جائے پھر جو کوئی بےحکمی اور زیادتی کی نیت نہ رکھتا ہو لیکن بھوک سے مجبور ہوجائے (وہ ان چیزوں کو بھی کھالے) تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

Narrated Rafi` bin Khadij: While we were with the Prophet. on a journey, one of the camels ran away. A man shot it with an arrow and stopped it. The Prophet said, Of these camels some are as wild as wild beasts, so if one of them runs away and you cannot catch it, then do like this (shoot it with an arrow). I said, O Allah's Apostle! Sometimes when we are in battles or on a journey we want to slaughter (animals) but we have no knives. He said, Listen! If you slaughter the animal with anything that causes its blood to flow out, and if Allah's Name is mentioned on slaughtering it, eat of it, provided that the slaughtering instrument is not a tooth or a nail, as the tooth is a bone and the nail is the knife of Ethiopians.