دولہا کے لئے دعا کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ، فَقَالَ: مَهْيَمْ أَوْ مَهْ، قَالَ: قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے عبدالرحمٰن بن عوف ؓ پر زردی کا اثر دیکھا تو فرمایا یہ کیا ہے؟ کہا کہ میں نے ایک عورت سے ایک گٹھلی کے برابر سونے پر شادی کی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تمہیں برکت عطا فرمائے، ولیمہ کر، چاہے ایک بکری کا ہی ہو۔
Narrated Anas (RA) :
The Prophet ﷺ seeing a yellow mark (of perfume) on the clothes of Abdur-Rahman bin Auf, said, "What about you?" Abdur-Rahman replied, "I have married a woman with a Mahr of gold equal to a date-stone." The Prophet ﷺ said, "May Allah bestow His Blessing on you (in your marriage). Give a wedding banquet, (Walima) even with one sheep."
دولہا کے لئے دعا کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: هَلَكَ أَبِي وَتَرَكَ سَبْعَ، أَوْ تِسْعَ بَنَاتٍ، فَتَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَزَوَّجْتَ يَا جَابِرُ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا، قُلْتُ: ثَيِّبًا، قَالَ: هَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ، أَوْ تُضَاحِكُهَا وَتُضَاحِكُكَ، قُلْتُ: هَلَكَ أَبِي، فَتَرَكَ سَبْعَ أَوْ تِسْعَ بَنَاتٍ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَجِيئَهُنَّ بِمِثْلِهِنَّ، فَتَزَوَّجْتُ امْرَأَةً تَقُومُ عَلَيْهِنَّ، قَالَ: فَبَارَكَ اللَّهُ عَلَيْكَ، لَمْ يَقُلْ ابْنُ عُيَيْنَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرٍو: بَارَكَ اللَّهُ عَلَيْكَ.
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عمرو نے اور ان سے جابر ؓ نے بیان کیا کہ میرے والد شہید ہوئے تو انہوں نے سات یا نو لڑکیاں چھوڑی تھیں (راوی کو تعداد میں شبہ تھا) پھر میں نے ایک عورت سے شادی کی تو رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ جابر کیا تم نے شادی کرلی ہے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ فرمایا کنواری سے یا بیوہ سے؟ میں نے کہا بیاہی سے۔ فرمایا، کسی لڑکی (کنواری ) سے کیوں نہ کی۔ تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی یا (آپ ﷺ نے فرمایا کہ) تم اسے ہنساتے اور وہ تمہیں ہنساتی۔ میں نے عرض کی، میرے والد (عبداللہ) شہید ہوئے اور سات یا نو لڑکیاں چھوڑی ہیں۔ اس لیے میں نے پسند نہیں کیا کہ میں ان کے پاس انہی جیسی لڑکی لاؤں۔ چناچہ میں نے ایسی عورت سے شادی کی جو ان کی نگرانی کرسکے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تمہیں برکت عطا فرمائے۔ ابن عیینہ اور محمد بن مسلمہ نے عمرو سے روایت میں اللہ تمہیں برکت عطا فرمائے کے الفاظ نہیں کہے۔
Narrated Jabir (RA) :
My father died and left behind seven or nine daughters, and I married a woman. The Prophet ﷺ said, "Did you get married, O Jabir?" I replied, "Yes." He asked, "Is she a virgin or a matron?" I replied, "She is a matron." He said, "Why didnt you marry a virgin girl so that you might play with her and she with you (or, you might make her laugh and she make you laugh)?" I said, "My father died, leaving seven or nine girls (orphans) and I did not like to bring a young girl like them, so I married a woman who can look after them." He said, "May Allah bestow His Blessing on you."
جب اپنی بیوی کے پاس آئے تو کیا کہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ، قَالَ: بِاسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ، وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا، فَإِنَّهُ إِنْ يُقَدَّرْ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ فِي ذَلِكَ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْطَانٌ أَبَدًا.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے سالم نے، ان سے کریب نے اور ان سے ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس آنے کا ارادہ کرے تو یہ دعا پڑھے باسم الله، اللهم جنبنا الشيطان، وجنب الشيطان ما رزقتنا اللہ کے نام سے، اے اللہ! ہمیں شیطان سے دور رکھ اور جو کچھ تو ہمیں عطا فرمائے اسے بھی شیطان سے دور رکھ۔ تو اگر اس صحبت سے کوئی اولاد مقدر میں ہوگی تو شیطان اسے کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔
Narrated Ibn Abbas (RA) :
The Prophet ﷺ said, "If anyone of you, when intending to have a sexual intercourse with his wife, says: Bismillah, Allahumma jannibna-sh-shaitan, wa jannibi-sh-shaitan ma razaqtana, and if the couple are destined to have a child (out of that very sexual relation), then Satan will never be able to harm that child."
آنحضرت ﷺ کا ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ فرمانا۔۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ أَكْثَرُ دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اللَّهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً، وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز نے بیان کیا اور ان سے انس ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کی اکثر یہ دعا ہوا کرتی تھی اللهم ربنا آتنا في الدنيا حسنة، وفي الآخرة حسنة، وقنا عذاب النار . اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھلائی ( حسنة ) عطا کر اور آخرت میں بھلائی عطا کر اور ہمیں دوزخ سے بچا۔
Narrated Anas (RA) :
The most frequent invocation of The Prophet ﷺ was: "O Allah! Give to us in the world that which is good and in the Hereafter that which is good, and save us from the torment of the Fire." (2.201)
دنیا کے فتنہ سے پناہ مانگنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ كَمَا تُعَلَّمُ الْكِتَابَةُ،: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ نُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا، وَعَذَابِ الْقَبْرِ.
ہم سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبیدہ بن حمید نے بیان کیا، ان سے عبدالملک بن عمیر نے بیان کیا، ان سے مصعب بن سعد بن ابی وقاص ؓ نے بیان کیا اور ان سے ان کے والد سعد بن ابی وقاص ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں یہ کلمات اس طرح سکھاتے تھے جیسے لکھنا سکھاتے تھے اللهم إني أعوذ بک من البخل، وأعوذ بک من الجبن، وأعوذ بك أن نرد إلى أرذل العمر، وأعوذ بک من فتنة الدنيا، و عذاب القبر. اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بخل سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں دنیا کی آزمائش سے اور قبر کے عذاب سے۔
Narrated Sad bin Abi Waqqas (RA) :
The Prophet ﷺ used to teach us these words as he used to teach us the Book (Quran): "O Allah! seek refuge with You from miserliness, and seek refuge with You from cowardice, and seek refuge with You from being brought back to (senile) geriatric old age, and seek refuge with You from the affliction of the world and from the punishment in the Hereafter."
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُنْذِرٍ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طُبَّ حَتَّى إِنَّهُ لَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ قَدْ صَنَعَ الشَّيْءَ وَمَا صَنَعَهُ، وَإِنَّهُ دَعَا رَبَّهُ، ثُمَّ قَالَ: أَشَعَرْتِ أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَفْتَانِي فِيمَا اسْتَفْتَيْتُهُ فِيهِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: جَاءَنِي رَجُلَانِ فَجَلَسَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلَيَّ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: مَا وَجَعُ الرَّجُلِ ؟ قَالَ: مَطْبُوبٌ، قَالَ: مَنْ طَبَّهُ ؟ قَالَ لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ: قَالَ فِي مَاذَا ؟ قَالَ: فِي مُشْطٍ وَمُشَاطَةٍ وَجُفِّ طَلْعَةٍ، قَالَ: فَأَيْنَ هُوَ ؟ قَالَ: فِي ذَرْوَانَ وَذَرْوَانُ بِئْرٌ فِي بَنِي زُرَيْقٍ، قَالَتْ: فَأَتَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى عَائِشَةَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَكَأَنَّ مَاءَهَا نُقَاعَةُ الْحِنَّاءِ، وَلَكَأَنَّ نَخْلَهَا رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ، قَالَتْ: فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهَا عَنِ الْبِئْرِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَهَلَّا أَخْرَجْتَهُ، قَالَ: أَمَّا أَنَا فَقَدْ شَفَانِي اللَّهُ وَكَرِهْتُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى النَّاسِ شَرًّا، زَادَ عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سُحِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا وَدَعَا، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ پر جادو کیا گیا اور کیفیت یہ ہوئی کہ نبی کریم ﷺ سمجھنے لگے کہ فلاں کام آپ نے کرلیا ہے حالانکہ وہ کام آپ نے نہیں کیا تھا اور نبی کریم ﷺ نے اپنے رب سے دعا کی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں معلوم ہے، اللہ نے مجھے وہ وہ بات بتادی ہے جو میں نے اس سے پوچھی تھی۔ عائشہ ؓ نے پوچھا: یا رسول اللہ! وہ خواب کیا ہے؟ فرمایا میرے پاس دو مرد آئے اور ایک میرے سر کے پاس بیٹھ گیا اور دوسرا پاؤں کے پاس۔ پھر ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے کہا، ان صاحب کی بیماری کیا ہے؟ دوسرے نے جواب دیا، ان پر جادو ہوا ہے۔ پہلے نے پوچھا کس نے جادو کیا ہے؟ جواب دیا کہ لبید بن اعصم نے۔ پوچھا وہ جادو کس چیز میں ہے؟ جواب دیا کہ کنگھی پر کھجور کے خوشہ میں۔ پوچھا وہ ہے کہاں؟ کہا کہ ذروان میں اور ذروان بنی زریق کا ایک کنواں ہے۔ عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم ﷺ اس کنویں پر تشریف لے گئے اور جب عائشہ ؓ کے پاس دوبارہ واپس آئے تو فرمایا واللہ! اس کا پانی مہدی سے نچوڑے ہوئے پانی کی طرح تھا اور وہاں کے کھجور کے درخت شیطان کے سر کی طرح تھے۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور انہیں کنویں کے متعلق بتایا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! پھر آپ نے اسے نکالا کیوں نہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے شفاء دے دی اور میں نے یہ پسند نہیں کیا کہ لوگوں میں ایک بری چیز پھیلاؤں۔ عیسیٰ بن یونس اور لیث نے ہشام سے اضافہ کیا کہ ان سے ان کے والد نے بیان کیا اور ان سے عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ پر جادو کیا گیا تو آپ برابر دعا کرتے رہے اور پھر پوری حدیث کو بیان کیا۔
Narrated Aisha (RA) :
that Allahs Apostle ﷺ was affected by magic, so much that he used to think that he had done something which in fact, he did not do, and he invoked his Lord (for a remedy). Then (one day) he said, "O Aisha!) Do you know that Allah has advised me as to the problem I consulted Him about?" Aisha (RA) said, "O Allahs Apostle ﷺ ! Whats that?" He said, "Two men came to me and one of them sat at my head and the other at my feet, and one of them asked his companion, What is wrong with this man? The latter replied, He is under the effect of magic. The former asked, Who has worked magic on him? The latter replied, Labid bin Al-Asam. The former asked, With what did he work the magic? The latter replied, With a comb and the hair, which are stuck to the comb, and the skin of pollen of a date-palm tree. The former asked, Where is that? The latter replied, It is in Dharwan. Dharwan was a well in the dwelling place of the (tribe of) Bani Zuraiq. Allahs Apostle ﷺ went to that well and returned to Aisha (RA), saying, By Allah, the water (of the well) was as red as the infusion of Hinna, (1) and the date-palm trees look like the heads of devils. Aisha (RA) added, Allahs Apostle ﷺ came to me and informed me about the well. I asked the Prophet, O Allahs Apostle, why didnt you take out the skin of pollen? He said, As for me, Allah has cured me and I hated to draw the attention of the people to such evil (which they might learn and harm others with). "
Narrated Hishams father: Aisha (RA) said, "Allahs Apostle ﷺ was bewitched, so he invoked Allah repeatedly requesting Him to cure him from that magic)." Hisham then narrated the above narration. (See Hadith No. 658, Vol. 7)
مشرکین پر بدعا کرنے کا بیان۔ اور ابن مسعود نے کہا نبی ﷺ نے فرمایا اے اللہ تو ان کافروں کے خلاف یوسف (علیہ السلام) کے سات (قحط) کی طرح سات (قحط) کے ذریعے ہماری مدد فرما اور فرمایا یا اللہ ابوجہل پر لعنت فرما اور ابن عمر نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے نماز میں دعا فرمائی کہ یا اللہ فلاں فلاں پر لعنت کر یہاں تک کہ اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
حَدَّثَنَا ابْنُ سَلَامٍ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَحْزَابِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ سَرِيعَ الْحِسَابِ اهْزِمْ الْأَحْزَابَ، اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ.
ہم سے ابن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو وکیع نے خبر دی، انہیں ابن ابی خالد نے، کہا میں نے ابن ابی اوفی ؓ سے سنا، کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے احزاب کے لیے بددعا کی اللهم منزل الکتاب، سريع الحساب، اهزم الأحزاب، اهزمهم وزلزلهم اے اللہ! کتاب کے نازل کرنے والے! حساب جلدی لینے والے! احزاب کو (مشرکین کی جماعتوں کو، غزوہ احزاب میں) شکست دے، انہیں شکست دیدے اور انہیں جھنجوڑ دے۔
Narrated Ibn Abi Aufa (RA) :
Allahs Apostle ﷺ asked for Allahs wrath upon the Ahzab (confederates), saying, "O Allah, the Revealer of the Holy Book, and the One swift at reckoning! Defeat the confederates; Defeat them and shake them."
مشرکین پر بدعا کرنے کا بیان۔ اور ابن مسعود نے کہا نبی ﷺ نے فرمایا اے اللہ تو ان کافروں کے خلاف یوسف (علیہ السلام) کے سات (قحط) کی طرح سات (قحط) کے ذریعے ہماری مدد فرما اور فرمایا یا اللہ ابوجہل پر لعنت فرما اور ابن عمر نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے نماز میں دعا فرمائی کہ یا اللہ فلاں فلاں پر لعنت کر یہاں تک کہ اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ قَنَتَ اللَّهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، اللَّهُمَّ أَنْجِ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ.
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا، اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ جب عشاء کی آخر رکعت میں (رکوع سے اٹھتے ہوئے) سمع الله لمن حمده کہتے تھے تو دعائے قنوت پڑھتے تھے اللهم أنج عياش بن أبي ربيعة، اللهم أنج الوليد بن الوليد، اللهم أنج سلمة بن هشام، اللهم أنج المستضعفين من المؤمنين، اللهم اشدد وطأتک على مضر، اللهم اجعلها سنين كسني يوسف اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے، اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے، اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے، اے اللہ! کمزور ناتواں مومنوں کو نجات دے، اے اللہ! اے اللہ! قبیلہ مضر پر اپنی پکڑ کو سخت کر دے، اے اللہ! وہاں ایسا قحط پیدا کر دے جیسا یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ میں ہوا تھا۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
When the Prophet ﷺ said, "Sami al-lahu Liman hamidah (Allah heard him who sent his praises to Him)" in the last Raka of the Isha prayer, he used to invoke Allah, saying, "O Allah! Save Aiyash bin Abi Rabia; O Allah! Save Al-Walid bin Al-Walid; O Allah! Save the weak people among the believers; O Allah! Be hard on the Tribe of Mudar; O Allah! Inflict years of drought upon them like the years (of drought) of the Prophet ﷺ Joseph."
مشرکین پر بدعا کرنے کا بیان۔ اور ابن مسعود نے کہا نبی ﷺ نے فرمایا اے اللہ تو ان کافروں کے خلاف یوسف (علیہ السلام) کے سات (قحط) کی طرح سات (قحط) کے ذریعے ہماری مدد فرما اور فرمایا یااللہ ابوجہل پر لعنت فرما اور ابن عمر نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے نماز میں دعا فرمائی کہ یااللہ فلاں فلاں پر لعنت کر یہاں تک کہ اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً يُقَالُ لَهُمْ: الْقُرَّاءُ، فَأُصِيبُوا فَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَى شَيْءٍ مَا وَجَدَ عَلَيْهِمْ، فَقَنَتَ شَهْرًا فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، وَيَقُولُ: إِنَّ عُصَيَّةَ عَصَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ.
ہم سے حسن بن ربیع نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالاحوص نے بیان کیا، ان سے عاصم نے اور ان سے انس ؓ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم بھیجی، جس میں شریک لوگوں کو قراء (یعنی قرآن مجید کے قاری) کہا جاتا تھا۔ ان سب کو شہید کردیا گیا۔ میں نے نہیں دیکھا کہ نبی کریم ﷺ کو کبھی کسی چیز کا اتنا غم ہوا ہو جتنا آپ کو ان کی شہادت کا غم ہوا تھا۔ چناچہ نبی کریم ﷺ نے ایک مہینے تک فجر کی نماز میں ان کے لیے بددعا کی، آپ کہتے کہ عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔
Narrated Anas (RA) :
The Prophet ﷺ sent a Sariya (an army detachment) consisting of men called Al-Qurra, and all of them were martyred. I had never seen the Prophet ﷺ so sad over anything as he was over them. So he said Qunut (invocation in the prayer) for one month in the Fajr prayer, invoking for Allahs wrath upon the tribe of Usaiya, and he used to say, "The people of Usaiya have disobeyed Allah and His Apostle."
مشرکین پر بدعا کرنے کا بیان۔ اور ابن مسعود نے کہا نبی ﷺ نے فرمایا اے اللہ تو ان کافروں کے خلاف یوسف (علیہ السلام) کے سات (قحط) کی طرح سات (قحط) کے ذریعے ہماری مدد فرما اور فرمایا یااللہ ابوجہل پر لعنت فرما اور ابن عمر نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے نماز میں دعا فرمائی کہ یااللہ فلاں فلاں پر لعنت کر یہاں تک کہ اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ الْيَهُودُ يُسَلِّمُونَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُونَ: السَّامُ عَلَيْكَ، فَفَطِنَتْ عَائِشَةُ إِلَى قَوْلِهِمْ، فَقَالَتْ: عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَهْلًا يَا عَائِشَةُ، إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ، فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا يَقُولُونَ ؟، قَالَ: أَوَلَمْ تَسْمَعِي أَنِّي أَرُدُّ ذَلِكِ عَلَيْهِمْ فَأَقُولُ وَعَلَيْكُمْ.
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ یہود نبی کریم ﷺ کو سلام کرتے تو کہتے السام عليك. آپ کو موت آئے۔ عائشہ ؓ ان کا مقصد سمجھ گئیں اور جواب دیا کہ عليكم السام واللعنة. تمہیں موت آئے اور تم پر لعنت ہو۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ٹھہرو عائشہ! اللہ تمام امور میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔ عائشہ ؓ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا آپ نے نہیں سنا یہ لوگ کیا کہتے ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم نے نہیں سنا کہ میں انہیں کس طرح جواب دیتا ہوں۔ میں کہتا ہوں وعليكم۔
Narrated Aisha (RA) :
The Jews used to greet the Prophet ﷺ by saying, "As-Samu Alaika (i.e., death be upon you), so I understood what they said, and I said to them, "As-Samu alaikum wal-lana (i.e. Death and Allahs Curse be upon you)." The Prophet ﷺ said, "Be gentle and calm, O Aisha, as Allah likes gentleness in all affairs." I said, "O Allahs Prophet! Didnt you hear what they said?" He said, "Didnt you hear me answering them back by saying, Alaikum (i.e., the same be upon you)?"
مشرکین پر بدعا کرنے کا بیان۔ اور ابن مسعود نے کہا نبی ﷺ نے فرمایا اے اللہ تو ان کافروں کے خلاف یوسف (علیہ السلام) کے سات (قحط) کی طرح سات (قحط) کے ذریعے ہماری مدد فرما اور فرمایا یااللہ ابوجہل پر لعنت فرما اور ابن عمر نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے نماز میں دعا فرمائی کہ یااللہ فلاں فلاں پر لعنت کر یہاں تک کہ اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، فَقَالَ: مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا كَمَا شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى، حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ، وَهِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ.
ہم سے محمد بن مثنی ٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے انصاری نے بیان کیا، ان سے ہشام بن حسان نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن سیرین نے بیان کیا، ان سے عبیدہ نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن ابی طالب ؓ نے بیان کیا کہ غزوہ خندق کے موقع پر ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ ان کی قبروں اور ان کے گھروں کو آگ سے بھر دے۔ انہوں نے ہمیں صلاة الوسطى (عصر کی نماز) نہیں پڑھنے دی جب تک کہ سورج غروب ہوگیا اور یہ عصر کی نماز تھی۔
Narrated Ali Ibn Abi Talib (RA) :
We were in the company of the Prophet ﷺ on the day (of the battle) of Al-Khandaq (the Trench). The Prophet ﷺ said, "May Allah fill their (the infidels) graves and houses with fire, as they have kept us so busy that we could not offer the middle prayer till the sun had set; and that prayer was the Asr prayer."
مشرکین کے لئے بددعا کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَدِمَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ دَوْسًا قَدْ عَصَتْ وَأَبَتْ، فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهَا، فَظَنَّ النَّاسُ أَنَّهُ يَدْعُو عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَأْتِ بِهِمْ.
ہم سے علی نے بیان کیا، ان سے سفیان نے کہا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ طفیل بن عمرو ؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! قبیلہ دوس نے نافرمانی اور سرکشی کی ہے، آپ ان کے لیے بددعا کیجئے۔ لوگوں نے سمجھا کہ نبی کریم ﷺ ان کے لیے بددعا ہی کریں گے لیکن نبی کریم ﷺ نے دعا کی کہ اے اللہ! قبیلہ دوس کو ہدایت دے اور انہیں (میرے پاس) بھیج دے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
At-Tufail bin Amr came to Allahs Apostle ﷺ and said, "O Allahs Apostle ﷺ ! The tribe of Daus has disobeyed (Allah and His Apostle) ﷺ and refused (to embrace Islam), therefore, invoke Allahs wrath for them." The people thought that the Prophet ﷺ would invoke Allahs wrath for them, but he said, "O Allah! Guide the tribe Of Daus and let them come to us,"
نبی ﷺ کا فرمانا کہ یا اللہ مجھے معاف کر دے جو میں نے پہلے کیا ہے اور جو میں نے اخیر میں کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ صَبَّاحٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْأَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ: رَبِّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي، وَجَهْلِي وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي كُلِّهِ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطَايَايَ، وَعَمْدِي، وَجَهْلِي، وَهَزْلِي وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ، وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ، وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، وَحَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالملک بن صباح نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے ابواسحاق نے، ان سے ابن ابی موسیٰ نے، ان سے ان کے والد نے کہ نبی کریم ﷺ یہ دعا کرتے تھے رب اغفر لي خطيئتي وجهلي وإسرافي في أمري كله، وما أنت أعلم به مني، اللهم اغفر لي خطاياى وعمدي وجهلي وهزلي، وکل ذلک عندي، اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت، أنت المقدم، وأنت المؤخر، وأنت على كل شىء قدير میرے رب! میری خطا، میری نادانی اور تمام معاملات میں میرے حد سے تجاوز کرنے میں میری مغفرت فرما اور وہ گناہ بھی جن کو تو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے۔ اے اللہ! میری مغفرت کر، میری خطاؤں میں، میرے بالا ارادہ اور بلا ارادہ کاموں میں اور میرے ہنسی مزاح کے کاموں میں اور یہ سب میری ہی طرف سے ہیں۔ اے اللہ! میری مغفرت کر ان کاموں میں جو میں کرچکا ہوں اور انہیں جو کروں گا اور جنہیں میں نے چھپایا اور جنہیں میں نے ظاہر کیا ہے، تو سب سے پہلے ہے اور تو ہی سب سے بعد میں ہے اور تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ اور عبیداللہ بن معاذ (جو امام بخاری (رح) کے شیخ ہیں) نے بیان کیا کہ ہم سے میرے والد نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، ان سے ابوبردہ بن ابی موسیٰ نے اور ان سے ان کے والد نے اور ان سے نبی کریم ﷺ نے۔
Narrated Abu Musa (RA) :
The Prophet ﷺ used to invoke Allah with the following invocation: Rabbi-ghfir-li Khati ati wa jahli wa israfi fi amri kullihi, wa ma anta alamu bihi minni. Allahumma ighfirli khatayaya wa amdi, wa jahli wa jiddi, wa kullu dhalikaindi. Allahumma ighrifli ma qaddamtu wa ma akhartu wa ma asrartu wa ma alantu. Anta-l-muqaddimu wa anta-l-muakh-khiru, wa anta ala kulli shaiin qadir.
نبی ﷺ کا فرمانا کہ یا اللہ مجھے معاف کر دے جو میں نے پہلے کیا ہے اور جو میں نے اخیر میں کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَدْعُو: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي، وَجَهْلِي، وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي هَزْلِي، وَجِدِّي، وَخَطَايَايَ، وَعَمْدِي، وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ بن عبدالمجید نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا، ان سے ابوبکر بن ابی موسیٰ اور ابوبردہ نے میرا خیال ہے کہ ابوموسیٰ اشعری ؓ کے حوالہ سے کہ نبی کریم ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے اللهم اغفرلي خطيئتي وجهلي وإسرافي في أمري، وما أنت أعلم به مني، اللهم اغفر لي هزلي وجدي وخطاى وعمدي، وكل ذلک عندي. اے اللہ! میری مغفرت فرما میری خطاؤں میں، میری نادانی میں اور میری کسی معاملہ میں زیادتی میں، ان باتوں میں جن کا تو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے۔ اے اللہ! میری مغفرت کر میرے ہنسی مزاح اور سنجیدگی میں اور میرے ارادہ میں اور یہ سب کچھ میری ہی طرف سے ہیں۔
Narrated Abu Musa Al-Ashari (RA) :
The Prophet ﷺ used to invoke Allah, saying, "Allahumma ighfirli khatiati wa jahli wa israfi fi amri, wa ma anta a-lamu bihi minni. Allahumma ighfirli hazali wa jiddi wa khatai wa amdi, wa kullu dhalika indi"
جمعہ کے دن (مقبول) ساعت میں دعا کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا، إِلَّا أَعْطَاهُ، وَقَالَ بِيَدِهِ، قُلْنَا: يُقَلِّلُهَا يُزَهِّدُهَا.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے، انہیں ایوب نے خبر دی، انہیں محمد نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا کہ جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی آتی ہے جس میں اگر کوئی مسلمان اس حال میں پالے کہ وہ کھڑا نماز پڑھ رہا ہو تو جو بھلائی بھی وہ مانگے گا اللہ عنایت فرمائے گا اور آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا اور ہم نے اس سے یہ سمجھا کہ نبی کریم ﷺ اس گھڑی کے مختصر ہونے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
Abu-l-Qasim (the Prophet) said, "On Friday there is a particular time. If a Muslim happens to be praying and invoking Allah for something good during that time, Allah will surely fulfill his request." The Prophet ﷺ pointed out with his hand. We thought that he wanted to illustrate how short that time was.
نبی ﷺ کا فرمانا، کہ یہود کے متعلق ہماری دعا مقبول ہوتی ہے، اور ہمارے متعلق ان کی دعا مقبول نہیں ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ الْيَهُودَ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ، قَالَ: وَعَلَيْكُمْ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: السَّامُ عَلَيْكُمْ، وَلَعَنَكُمُ اللَّهُ، وَغَضِبَ عَلَيْكُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَهْلًا يَا عَائِشَةُ، عَلَيْكِ بِالرِّفْقِ وَإِيَّاكِ وَالْعُنْفَ، أَوِ الْفُحْشَ، قَالَتْ: أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا ؟ قَالَ: أَوَلَمْ تَسْمَعِي مَا قُلْتُ رَدَدْتُ عَلَيْهِمْ فَيُسْتَجَابُ لِي فِيهِمْ، وَلَا يُسْتَجَابُ لَهُمْ فِيَّ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے عائشہ ؓ نے کہ یہود نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا السام عليك. نبی کریم ﷺ نے جواب دیا وعليكم. لیکن عائشہ ؓ نے کہا السام عليكم، ولعنکم الله وغضب عليكم. نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ٹھہر، عائشہ! نرم خوئی اختیار کر اور سختی اور بدکلامی سے ہمیشہ پرہیز کر۔ انہوں نے کہا: کیا آپ نے نہیں سنا کہ یہودی کیا کہہ رہے تھے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم نے نہیں سنا کہ میں نے انہیں کیا جواب دیا، میں نے ان کی بات انہیں پر لوٹا دی اور میری ان کے بدلے میں دعا قبول کی گئی اور ان کی میرے بارے میں قبول نہیں کی گئی۔
Narrated Ibn Abi Mulaika (RA) :
Aisha (RA) said, "The Jews came to the Prophet ﷺ and said to him, "As-Samu Alaika (i.e., Death be upon you)." He replied, The same on you. " Aisha (RA) said to them, "Death be upon you, and may Allah curse you and shower His wrath upon you!" Allahs Apostle ﷺ I said, "Be gentle and calm, O Aisha! Be gentle and beware of being harsh and of saying evil things." She said, "Didnt you hear what they said?" He said, "Didnt you hear what I replied (to them)? have returned their statement to them, and my invocation against them will be accepted but theirs against me will not be accepted."
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : حَدَّثَنَاهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ فَأَمِّنُوا، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا کہ زہری نے بیان کیا کہ ہم سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب پڑھنے والا آمین کہے تو تم بھی آمین کہو کیونکہ اس وقت ملائکہ بھی آمین کہتے ہیں اور جس کی آمین ملائکہ کی آمین کے ساتھ ہوتی ہے اس کے پچھلے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
The Prophet ﷺ said, "When the Imam says Amin, then you should all say Amin, for the angels say Amin at that time, and he whose Amin coincides with the Amin of the angels, all his past sins will be forgiven."
لا الہ الا اللہ کہنے کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ، لَهُ لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ، كَانَتْ لَهُ عَدْلَ عَشْرِ رِقَابٍ، وَكُتِبَ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ، وَمُحِيَتْ عَنْهُ مِائَةُ سَيِّئَةٍ، وَكَانَتْ لَهُ حِرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ يَوْمَهُ ذَلِكَ حَتَّى يُمْسِيَ، وَلَمْ يَأْتِ أَحَدٌ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ إِلَّا رَجُلٌ عَمِلَ أَكْثَرَ مِنْهُ.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے سمی نے، ان سے ابوصالح نے، ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے یہ کلمہ کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ دن میں سو دفعہ پڑھا اسے دس غلاموں کو آزاد کرنے کا ثواب ملے گا اور اس کے لیے سو نیکیاں لکھ دی جائیں گی اور اس کی سو برائیاں مٹا دی جائیں گی اور اس دن وہ شیطان کے شر سے محفوظ رہے گا شام تک کے لیے اور کوئی شخص اس دن اس سے بہتر کام کرنے والا نہیں سمجھا جائے گا، سوا اس کے جو اس سے زیادہ کرے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
Allahs Apostle ﷺ said," Whoever says: "La ilaha illal-lah wahdahu la sharika lahu, lahu-l-mulk wa lahu-l-hamd wa huwa ala kulli shaiin qadir," one hundred times will get the same reward as given for manumitting ten slaves; and one hundred good deeds will be written in his accounts, and one hundred sins will be deducted from his accounts, and it (his saying) will be a shield for him from Satan on that day till night, and nobody will be able to do a better deed except the one who does more than he." Narrated Amr bin Maimun:
Whoever recites it (i.e., the invocation in the above Hadith (412) ten times will be as if he manumitted one of Ishmaels descendants. Abu Aiyub narrated the same Hadith from the Prophet ﷺ saying, "(Whoever recites it ten times) will be as if he had manumitted one of Ishmaels descendants."
لا الہ الا اللہ کہنے کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْعَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ: مَنْ قَالَ: عَشْرًا كَانَ كَمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، وَحَدَّثَنَاعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ ، مِثْلَهُ، فَقُلْتُ لِلرَّبِيعِ: مِمَّنْ سَمِعْتَهُ ؟ فَقَالَ: مِنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، فَأَتَيْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ، فَقُلْتُ: مِمَّنْ سَمِعْتَهُ ؟ فَقَالَ: مِن ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، فَأَتَيْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى، فَقُلْتُ: مِمَّنْ سَمِعْتَهُ ؟ فَقَالَ مِن أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ يُحَدِّثَهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، . وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَوْلَهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، . وَقَالَ مُوسَى ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، . وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الرَّبِيعِ قَوْلَهُ. وَقَالَ آدَمُ ، حَدَّثَنَاشُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، سَمِعْتُ هِلَالَ بْنَ يَسَافٍ ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ ، وَعَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنِابْنِ مَسْعُودٍ قَوْلَهُ. وَقَالَ الْأَعْمَشُ ، وَحُصَيْنٌ ، عَنْ هِلَالٍ ، عَنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَوْلَهُ. وَرَوَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ كَمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلِ، قَالَ: أَبُو عَبْد اللَّهِ: الصَّحِيحُ قَوْلُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَمْرٍو.
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالملک بن عمرو نے، کہا کہ ہم سے عمر بن ابی زائد نے، ان سے ابواسحاق سبیعی نے، ان سے عمرو بن میمون نے بیان کیا کہ جس نے یہ کلمہ دس مرتبہ پڑھ لیا وہ ایسا ہوگا جیسے اس نے ایک عربی غلام آزاد کیا۔ اسی سند سے عمر بن ابی زائدہ نے بیان کیا کہ ہم سے عبداللہ بن ابی السفر نے بیان کیا، ان سے شعبی نے، ان سے ربیع بن خثیم نے یہی مضمون تو میں نے ربیع بن خثیم سے پوچھا کہ تم نے کس سے یہ حدیث سنی ہے؟ انہوں نے کہا کہ عمرو بن میمون اودی سے۔ پھر میں عمرو بن میمون کے پاس آیا اور ان سے دریافت کیا کہ تم نے یہ حدیث کس سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ابن ابی لیلیٰ سے۔ (پھر میں) ابن ابی لیلیٰ کے پاس آیا اور پوچھا کہ تم نے یہ حدیث کس سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ابوایوب انصاری ؓ سے، وہ یہ حدیث نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے تھے اور ابراہیم بن یوسف نے بیان کیا، ان سے ان کے والد یوسف بن اسحاق نے، ان سے ابواسحاق سبیعی نے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عمرو بن میمون اودی نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے اور ان سے ابوایوب انصاری ؓ نے نبی کریم ﷺ سے یہی حدیث نقل کی۔ اور موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، ان سے داؤد بن ابی ہند نے،، ان سے عامر شعبی نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے اور ان سے ابوایوب ؓ نے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے۔ اور اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، ان سے شعبی نے، ان سے ربیع نے موقوفاً ان کا قول نقل کیا۔ اور آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالملک بن میسرہ نے بیان کیا، کہا میں نے ہلال بن یساف سے سنا، ان سے ربیع بن خثیم اور عمرو بن میمون دونوں نے اور ان سے ابن مسعود ؓ نے۔ اور اعمش اور حصین دونوں نے ہلال سے بیان کیا، ان سے ربیع بن خثیم نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود ؓ نے، یہی حدیث روایت کی۔ اور ابو محمد حضرمی نے ابوایوب ؓ سے، انہوں نبی کریم ﷺ سے مرفوعاً اسی حدیث کو روایت کیا۔
Narrated `Amr bin Maimun:
Whoever recites it (i.e., the invocation in the above Hadith (412) ten times will be as if he manumitted one of Ishmaels descendants. Abu Aiyub narrated the same Hadith from the Prophet ﷺ saying, "(Whoever recites it ten times) will be as if he had manumitted one of Ishmaels descendants".
سبحان اللہ پڑھنے کی فضیلت کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ، حُطَّتْ خَطَايَاهُ، وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے سمی نے بیان کیا، ان سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے سبحان الله وبحمده. دن میں سو مرتبہ کہا، اس کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں، خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
Allahs Apostle ﷺ said, "Whoever says, Subhan Allah wa bihamdihi, one hundred times a day, will be forgiven all his sins even if they were as much as the foam of the sea.