خون بہا کا بیان

Sahih Bukhari · Chapter 71 · 56 hadiths · Page 3 of 3

6902Sahih Bukhari

جو شخص کسی قوم کے گھر میں جھانکے اور وہ لوگ اس کی آنکھ پھوڑ دیں تو اس کی دیت نہیں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلَوْ أَنَّ امْرَأً اطَّلَعَ عَلَيْكَ بِغَيْرِ إِذْنٍ، فَخَذَفْتَهُ بِعَصَاةٍ، فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ، لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ جُنَاحٌ.

ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے، ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا اگر کوئی شخص تمہاری اجازت کے بغیر تمہیں (جب کہ تم گھر کے اندر ہو) جھانک کر دیکھے اور تم اسے کنکری مار دو جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Abul Qasim said, "If any person peeps at you without your permission and you poke him with a stick and injure his eye, you will not be blamed."

6903Sahih Bukhari

عاقلہ کا بیان

حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ مَا لَيْسَ فِي الْقُرْآنِ ؟ وَقَالَ مَرَّةً: مَا لَيْسَ عِنْدَ النَّاسِ ؟، فَقَالَوَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ، وَبَرَأَ النَّسَمَةَ مَا عِنْدَنَا إِلَّا مَا فِي الْقُرْآنِ إِلَّا فَهْمًا يُعْطَى رَجُلٌ فِي كِتَابِهِ وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ، قُلْتُ: وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ ؟ قَالَ: الْعَقْلُ وَفِكَاكُ الْأَسِيرِ، وَأَنْ لَا يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ.

ہم سے صدقہ بن الفضل نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن عیینہ نے خبر دی، ان سے مطرف نے بیان کیا، کہا کہ میں نے شعبی سے سنا، کہا کہ میں نے ابوجحیفہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے علی ؓ سے پوچھا، کیا آپ کے پاس کوئی ایسی چیز بھی ہے جو قرآن مجید میں نہیں ہے اور ایک مرتبہ انہوں نے اس طرح بیان کیا کہ جو لوگوں کے پاس نہیں ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے دانے سے کونپل کو پھاڑ کر نکالا ہے اور مخلوق کو پیدا کیا۔ ہمارے پاس قرآن مجید کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ سوا اس سمجھ کے جو کسی شخص کو اس کی کتاب میں دی جائے اور جو کچھ اس صحیفہ میں ہے۔ میں نے پوچھا صحیفہ میں کیا ہے؟ فرمایا خون بہا (دیت) سے متعلق احکام اور قیدی کے چھڑانے کا حکم اور یہ کہ کوئی مسلمان کسی کافر کے بدلہ میں قتل نہیں کیا جائے گا۔

liever." (See Hadith No. 283,Vol. 4)

6904Sahih Bukhari

عورت کے جنین کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُأَنَّ امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ رَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى، فَطَرَحَتْ جَنِينَهَا، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ.

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی۔ (دوسری سند) امام بخاری (رح) نے کہا کہ اور ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں نے ایک دوسری کو (پتھر سے) مارا جس سے ایک کے پیٹ کا بچہ (جنین) گرگیا پھر اس (سلسلہ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک غلام یا کنیز دینے کا فیصلہ کیا۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Two women from the tribe of Hudhail (fought with each other) and one of them threw (a stone at) the other, causing her to have a miscarriage and Allahs Apostle ﷺ gave his verdict that the killer (of the fetus) should give a male or female slave (as a Diya).

6905Sahih Bukhari(6906)

عورت کے جنین کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّهُ اسْتَشَارَهُمْ فِي إِمْلَاصِ الْمَرْأَةِ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ: قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْغُرَّةِ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، فقال: ائْتِ مَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ. فَشَهِدَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ ، أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَضَى بِهِ.

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے مغیرہ بن شعبہ ؓ نے کہ عمر ؓ نے ان سے ایک عورت کے حمل گرا دینے کے خون بہا کے سلسلہ میں مشورہ کیا تو مغیرہ ؓ نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے غلام یا کنیز کا اس سلسلے میں فیصلہ کیا تھا۔ پھر محمد بن مسلمہ ؓ نے بھی گواہی دی کہ جب نبی کریم ﷺ نے اس کا فیصلہ کیا تھا تو وہ موجود تھے۔

Narrated Hishams father from Al-Mughira bin Shuba (RA) : Umar consulted the companions about the case of a womans abortion (caused by somebody else). Al-Mughlra said: The Prophet ﷺ gave the verdict that a male or female slave should be given (as a Diya). Then Muhammad bin Maslama testified that he had witnessed the Prophet ﷺ giving such a verdict.

6907Sahih Bukhari(6908)

عورت کے جنین کا بیان

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ نَشَدَ النَّاسَ مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَضَى فِي السِّقْطِ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ : أَنَا سَمِعْتُهُقَضَى فِيهِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، قَالَ: ائْتِ مَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ عَلَى هَذَا، فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ : أَنَا أَشْهَدُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ هَذَا. حدیث نمبر: 6908 - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَالْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ عُمَرَ، أَنَّهُ اسْتَشَارَهُمْ فِي إِمْلَاصِ الْمَرْأَةِ مِثْلَهُ.

ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے کہ عمر ؓ نے لوگوں سے قسم دے کر پوچھا کہ کس نے نبی کریم ﷺ سے حمل گرنے کے سلسلے میں فیصلہ سنا ہے؟ مغیرہ ؓ نے کہا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا ہے، آپ نے اس میں ایک غلام یا کنیز دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ عمر ؓ نے کہا کہ اس پر اپنا کوئی گواہ لاؤ۔ چناچہ محمد بن مسلمہ ؓ نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ نبی کریم ﷺ نے یہ فیصلہ کیا تھا۔ مجھ سے محمد بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن سابق نے بیان کیا، کہا ہم سے زائدہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، انہوں نے مغیرہ بن شعبہ ؓ سے سنا، وہ عمر ؓ سے بیان کرتے تھے کہ امیرالمؤمنین نے ان سے عورت کے حمل گرا دینے کے (خون بہا کے سلسلے میں) ان سے اسی طرح مشورہ کیا تھا آخر تک۔

Narrated Hishams father (RA) : Umar asked the people, "Who heard the Prophet ﷺ giving his verdict regarding abortions?" Al-Mughira said, "I heard him judging that a male or female slave should be given (as a Diya)." Umar said, "Present a witness to testify your statement." Muhammad bin Maslama said, "I testify that the Prophet ﷺ gave such a judgment." Narrated Urwa (RA) : I heard Al-Maghira bin Shuba narrating that Umar had consulted them about the case of abortion (similarly as narrated in No. 42).

6908Sahih Bukhari(6909)

عورت کے جنین کا بیان اور یہ کہ دیت باپ پر اور باپ کے عصبہ پر ہے بیٹے پر نہیں۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَضَى فِي جَنِينِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي لَحْيَانَ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، ثُمَّ إِنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا بِالْغُرَّةِ تُوُفِّيَتْ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مِيرَاثَهَا لِبَنِيهَا وَزَوْجِهَا وَأَنَّ الْعَقْلَ عَلَى عَصَبَتِهَا.

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنی لحیان کی ایک عورت کے جنین (کے گرنے) پر ایک غلام یا کنیز کا فیصلہ کیا تھا۔ پھر وہ عورت جس کے متعلق نبی کریم ﷺ نے دیت دینے کا فیصلہ کیا تھا اس کا انتقال ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا کہ اس کی میراث اس کے لڑکوں اور اس کے شوہر کو ملے گی اور دیت اس کے ددھیال والوں کو دینی ہوگی۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Allahs Apostle ﷺ gave a verdict regarding an aborted fetus of a woman from Bani Lihyan that the killer (of the fetus) should give a male or female slave (as a Diya) but the woman who was required to give the slave, died, so Allahs Apostle ﷺ gave the verdict that her inheritance be given to her children and her husband and the Diya be paid by her Asaba.

6910Sahih Bukhari

عورت کے جنین کا بیان اور یہ کہ دیت باپ پر اور باپ کے عصبہ پر ہے بیٹے پر نہیں۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، وَأبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحَمْنِ ، أن أبا هريرة رضي الله عنه، قَالَ: اقْتَتَلَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ، فَقَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا، فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَضَى أَنَّ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ وَلِيدَةٌ وَقَضَى أَنَّ دِيَةَ الْمَرْأَةِ عَلَى عَاقِلَتِهَا.

ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابن المسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ بنی ہذیل کی دو عورتیں آپس میں لڑیں اور ایک نے دوسری عورت پر پتھر پھینک مارا جس سے وہ عورت اپنے پیٹ کے بچے (جنین) سمیت مرگئی۔ پھر (مقتولہ کے رشتہ دار) مقدمہ رسول اللہ ﷺ کے دربار میں لے گئے۔ نبی کریم ﷺ نے فیصلہ کیا کہ پیٹ کے بچے کا خون بہا ایک غلام یا کنیز دینی ہوگی اور عورت کے خون بہا کو قاتل عورت کے عاقلہ (عورت کے باپ کی طرف سے رشتہ دار عصبہ) کے ذمہ واجب قرار دیا۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Two women from Hudhail fought with each other and one of them hit the other with a stone that killed her and what was in her womb. The relatives of the killer and the relatives of the victim submitted their case to the Prophet ﷺ who judged that the Diya for the fetus was a male or female slave, and the Diya for the killed woman was to be paid by the Asaba (near relatives) of the killer.

6911Sahih Bukhari

اس شخص کا بیان جو غلام یا بچہ عاریتا طلب کرے اور ذکر کیا جاتا ہے کہ ام سلیم نے کتاب کے معلم کے پاس لکھ بھیجا کہ میرے پاس چند لڑکے بھیج دو جو اون صاف کریں اور کسی آزاد کو میرے پاس نہ بھیجنا۔

حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِي، فَانْطَلَقَ بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَنَسًا غُلَامٌ كَيِّسٌ، فَلْيَخْدُمْكَ، قَالَ: فَخَدَمْتُهُ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، فَوَاللَّهِ مَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا هَكَذَا، وَلَا لِشَيْءٍ لَمْ أَصْنَعْهُ لِمَ لَمْ تَصْنَعْ هَذَا هَكَذَا.

مجھ سے عمر بن زرارہ نے بیان کیا، کہا ہم کو اسماعیل بن ابراہیم نے خبر دی، انہیں عبدالعزیز نے اور ان سے انس ؓ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو طلحہ ؓ میرا ہاتھ پکڑ کر نبی کریم ﷺ کے پاس لائے اور کہا: یا رسول اللہ! انس سمجھ دار لڑکا ہے اور یہ آپ کی خدمت کرے گا۔ انس ؓ نے بیان کیا کہ پھر میں نے نبی کریم ﷺ کی خدمت سفر میں بھی کی اور گھر پر بھی۔ واللہ! نبی کریم ﷺ نے کبھی مجھ سے کسی چیز کے متعلق جو میں نے کردیا ہو یہ نہیں فرمایا کہ یہ کام تم نے اس طرح کیوں کیا اور نہ کسی ایسی چیز کے متعلق جسے میں نے نہ کیا ہو آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ کام تم نے اس طرح کیوں نہیں کیا۔

Narrated Abdul- Aziz (RA) : Anas said, "When Allahs Apostle ﷺ arrived at Medina, Abu Talha took hold of my hand and brought me to Allahs Apostle ﷺ and said, "O Allahs Apostle ﷺ ! Anas is an intelligent boy, so let him serve you." Anas added, "So I served the Prophet ﷺ L at home and on journeys; by Allah, he never said to me for anything which I did: Why have you done this like this or, for anything which I did not do: Why have you not done this like this?"

6912Sahih Bukhari

کان میں اور کنویں میں دب کر مرجانے والوں کا خون معاف ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَأبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحَمْنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ.

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چوپائے اگر کسی کو زخمی کردیں تو ان کا خون بہا نہیں، کنویں میں گرنے کا کوئی خون بہا نہیں، کان میں دبنے کا کوئی خون بہا نہیں اور دفینہ میں پانچواں حصہ ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said, "There is no Diya for a person injured or killed by an animal (going about without somebody to control it) and similarly, there is no Diya for the one who falls and dies in a well, and also the one who dies in a mine. As regards the Ar-Rikaz (buried wealth), one-fifth thereof is for the state."

6913Sahih Bukhari

چوپاؤں کا خون کرنا معاف ہے اور ابن سیرین نے کہا کہ صحابہ کے جانور کے لات مارنے کا تاوان نہیں دلاتے تھے اور لگام پھرنے کا تاوان دلاتے تھے اور حماد نے کہا کہ جانور کے لات مارنے کا تاوان نہ دلوایاجائے مگر اس صورت میں کہ کوئی آدمی اس کو گدگدائے، شریح نے کہا کہ سوار اس وقت تک ہر جانہ نہ دے گا کہ وہ اس کو گدگداتا رہے اور اس کو لات مار دے اور حکم اور حماد نے کہا کہ جب کرایہ لینے والا جانور کو ہانکے اور اس پر کوئی عورت بیٹھی ہوئی ہو وہ گرپڑے تو اس پر کچھ نہیں اور شعبی نے کہا کہ اگر جانور کو ہنکایا اور اسے تھکا دیا تو وہ اس کے صدمہ کا ذمہ دار ہے جو پہنچے اور اگر اس کے پیچھے چھوڑا ہوا آرہا ہے تو وہ ذمہ دار نہیں۔

حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْعَجْمَاءُ عَقْلُهَا جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ.

ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، انہوں نے محمد بن زیاد سے، انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے، آپ ﷺ نے فرمایا بےزبان جانور کسی کو زخمی کرے تو اس کی دیت کچھ نہیں ہے، اسی طرح کان میں کام کرنے سے کوئی نقصان پہنچے، اسی طرح کنویں میں کام کرنے سے اور جو کافروں کا مال دفن کیا ہوا ملے اس میں پانچواں حصہ سرکار میں لیا جائے گا۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Allahs Apostle ﷺ said, "There is no Diya for persons killed by animals or for the one who has been killed accidentally by falling into a well or for the one killed in a mine. And one-fifth of Rikaz (treasures buried before the Islamic era) is to be given to the state."

6914Sahih Bukhari

اس شخص کا گناہ جو کسی ذمی کو بغیر گناہ کے قتل کردے

حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، حَدَّثَنَا مُجَاهِدٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قَتَلَ نَفْسًا مُعَاهَدًا لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا.

ہم سے قیس بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے، کہا ہم سے حسن بن عمرو فقیمی نے، کہا ہم سے مجاہد نے، انہوں نے عبداللہ بن عمرو ؓ سے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے، آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص ایسی جان کو مار ڈاے جس سے عہد کرچکا ہو (اس کی امان دے چکا ہو) جیسے ذمی، کافر کو تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھے گا (چہ جائے کہ اس میں داخل ہو) حالانکہ بہشت کی خوشبو چالیس برس کی راہ سے معلوم ہوتی ہے۔

Narrated Abdullah bin Amr (RA) (RA) : The Prophet ﷺ said, "Whoever killed a Muahid (a person who is granted the pledge of protection by the Muslims) shall not smell the fragrance of Paradise though its fragrance can be smelt at a distance of forty years (of traveling)."

6915Sahih Bukhari

مسلمان کافر کے عوض قتل نہ کیا جائے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، أَنَّ عَامِرًا حَدَّثَهُمْ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ: قُلْتُ: لِعَلِيٍّ . ح حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ،أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، يُحَدِّثُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ مِمَّا لَيْسَ فِي الْقُرْآنِ ؟، وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ مَرَّةً: مَا لَيْسَ عِنْدَ النَّاسِ، فَقَالَ: وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ، وَبَرَأَ النَّسَمَةَ، مَا عِنْدَنَا إِلَّا مَا فِي الْقُرْآنِ إِلَّا فَهْمًا يُعْطَى رَجُلٌ فِي كِتَابِهِ وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ، قُلْتُ: وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ ؟، قَالَ: الْعَقْلُ وَفِكَاكُ الْأَسِيرِ وَأَنْ لَا يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ.

ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے، کہا ہم سے مطرف بن طریف نے، ان سے عامر شعبی نے بیان کیا۔ ابوجحیفہ سے روایت کر کے، کہا میں نے علی ؓ سے کہا۔ (دوسری سند) امام بخاری (رح) نے کہا اور ہم سے صدقہ بن فضل نے، کہا ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی، کہا ہم سے مطرف بن طریف نے بیان کیا، کہا میں نے عامر شعبی سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے ابوجحیفہ سے سنا، انہوں نے کہا میں نے علی ؓ سے پوچھا کیا آپ کے پاس اور بھی کچھ آیتیں یا سورتیں ہیں جو اس قرآن میں نہیں ہیں (یعنی مشہور مصحف میں) اور کبھی سفیان بن عیینہ نے یوں کہا کہ جو عام لوگوں کے پاس نہیں ہیں۔ علی ؓ نے کہا قسم اس اللہ کی جس نے دانہ چیر کر اگایا اور جان کو پیدا کیا ہمارے پاس اس قرآن کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ البتہ ایک سمجھ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنی کتاب کی جس کو چاہتا ہے عنایت فرماتا ہے اور وہ جو اس ورق پہ لکھا ہوا ہے۔ ابوجحیفہ نے کہا اس ورق پہ کیا لکھا ہے؟ انہوں نے کہا دیت اور قیدی چھڑانے کے احکام اور یہ مسئلہ کہ مسلمان کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔

Narrated Abu Juhaifa (RA) : I asked Ali "Do you have anything Divine literature besides what is in the Quran?" Or, as Uyaina once said, "Apart from what the people have?" Ali said, "By Him Who made the grain split (germinate) and created the soul, we have nothing except what is in the Quran and the ability (gift) of understanding Allahs Book which He may endow a man, with and what is written in this sheet of paper." I asked, "What is on this paper?" He replied, "The legal regulations of Diya (Blood-money) and the (ransom for) releasing of the captives, and the judgment that no Muslim should be killed in Qisas (equality in punishment) for killing a Kafir (disbeliever)."

6916Sahih Bukhari

اس امر کا بیان کہ مسلمان یہودی کو غصہ کی حالت میں طمانچہ مارے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) نے اس کو آنحضرت ﷺ سے روایت کیا ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تُخَيِّرُوا بَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ.

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے، انہوں نے عمرو بن یحییٰ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ابو سعید خدری ؓ سے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے آپ ﷺ نے فرمایا دیکھو اور پیغمبروں سے مجھ کو فضیلت مت دو۔

Narrated Abu Said (RA) : The Prophet ﷺ said, "Do not prefer some prophets to others."

6917Sahih Bukhari

اس امر کا بیان کہ مسلمان یہودی کو غصہ کی حالت میں طمانچہ مارے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) نے اس کو آنحضرت ﷺ سے روایت کیا ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنْ أَبيه ، عَنْ أَبي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ لُطِمَ وَجْهُهُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِكَ مِنَ الَأنْصَارِ قَدْ لَطَمَ وَجْهِي، قَالَ: أَدْعُوهُ، فَدَعَوْهُ، قَالَ: لِمَ لَطَمْتَ وَجْهَهُ ؟، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي مَرَرْتُ بِالْيَهُودِ، فَسَمِعْتَهُ يَقُولُ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ، قَالَ: قُلْتُ: وَعَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: فَأَخَذَتْنِي غَضْبَةٌ، فَلَطَمْتُهُ، قَالَ: لَا تُخَيِّرُونِي مِنْ بَيْنِ الْأنْبِيَاءِ، فَإِنَّ النَّاسَ يُصْعَقُونَ يَوْمَ القِيَامَةٍ فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ فَلَا أَدْرِي أَفَاقَ قَبْلِي أَمْ جُوزِيَ بِصَعْقَةِ الطُّورِ.

ہم سے محمد بن یوسف بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، انہوں نے عمرو بن یحییٰ مازنی سے انہوں نے اپنے والد (یحییٰ بن عمارہ) سے، انہوں نے ابو سعید خدری ؓ سے، انہوں نے کہا یہود میں سے ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا، اس کو کسی نے طمانچہ لگایا تھا۔ کہنے لگا: اے محمد! ( ﷺ ) تمہارے اصحاب میں سے ایک انصاری شخص نے مجھ کو طمانچہ مارا۔ آپ نے لوگوں سے فرمایا اس کو بلاؤ تو انہوں نے بلایا (وہ حاضر ہوا) آپ نے پوچھا تو نے اس کے منہ پر طمانچہ کیوں مارا۔ وہ کہنے لگا: یا رسول اللہ! ایسا ہوا کہ میں یہودیوں کے پاس سے گزرا، میں نے سنا یہ یہودی یوں قسم کھا رہا تھا قسم اس پروردگار کی جس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو سارے آدمیوں میں سے چن لیا۔ میں نے کہا کیا محمد ﷺ سے بھی وہ افضل ہیں؟ اور اس وقت مجھے غصہ آگیا۔ میں نے ایک طمانچہ لگا دیا (غصے میں یہ خطا مجھ سے ہوگئی) آپ ﷺ نے فرمایا (دیکھو خیال رکھو) اور پیغمبروں پر مجھ کو فضیلت نہ دو قیامت کے دن ایسا ہوگا سب لوگ (ہیبت خداوندی سے) بیہوش ہوجائیں گے پھر میں سب سے پہلے ہوش میں آؤں گا۔ کیا دیکھوں گا موسیٰ (علیہ السلام) (مجھ سے بھی پہلے) عرش کا ایک کونا تھامے کھڑے ہیں۔ اب یہ میں نہیں جانتا کہ وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آجائیں گے یا کوہ طور پر جو (دنیا میں) بیہوش ہوچکے تھے اس کے بدل وہ آخرت میں بیہوش ہی نہ ہوں گے۔

Narrated Abu Said Al-Khudri(RA): A Jew whose face had been slapped (by someone), came to the Prophet ﷺ and said, " O Muhammad ﷺ ! A man from your Ansari companions slapped me. " The Prophet ﷺ said, "Call him". They called him and the Prophet ﷺ asked him, "Why did you slap his face?" He said, "O Allahs Apostle ﷺ ! While I was passing by the Jews, I heard him saying, By Him Who chose Moses (علیہ السلام) above all the human beings. I said (protestingly), Even above Muhammad? So I became furious and slapped him." The Prophet ﷺ said, "Do not give me preference to other prophets, for the people will become unconscious on the Day of Resurrection and I will be the first to gain conscious, and behold, I will Find Moses (علیہ السلام) holding one of the pillars of the Throne (of Allah). Then I will not know whether he has become conscious before me or he has been exempted because of his unconsciousness at the mountain (during his worldly life) which he received."