باب: حربی کافر سے غلام لونڈی خریدنا اور اس کا آزاد کرنا اور ہبہ کرنا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِي غُلَامٍ، فَقَالَ سَعْدٌ: هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْنُ أَخِي عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، عَهِدَ إِلَيَّ أَنَّهُ ابْنُهُ انْظُرْ إِلَى شَبَهِهِ، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: هَذَا أَخِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي مِنْ وَلِيدَتِهِ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَبَهِهِ، فَرَأَى شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ، فَقَالَ: هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ بِنْتَ زَمْعَةَ، فَلَمْ تَرَهُ سَوْدَةُ، قَطُّ.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے، ان سے عائشہ ؓ نے بیان کیا، کہ سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ ؓ کا ایک بچے کے بارے میں جھگڑا ہوا۔ سعد ؓ نے کہا کہ یا رسول اللہ! یہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا بیٹا ہے۔ اس نے وصیت کی تھی کہ یہ اب اس کا بیٹا ہے۔ آپ خود میرے بھائی سے اس کی مشابہت دیکھ لیں۔ لیکن عبد بن زمعہ ؓ نے کہا یا رسول اللہ! یہ تو میرا بھائی ہے۔ میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ اور اس کی باندی کے پیٹ کا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بچے کی صورت دیکھی تو صاف عتبہ سے ملتی تھی۔ لیکن آپ ﷺ نے یہی فرمایا کے اے عبد! یہ بچہ تیرے ہی ساتھ رہے گا، کیونکہ بچہ فراش کے تابع ہوتا ہے اور زانی کے حصہ میں صرف پتھر ہے اور اے سودہ بنت زمعہ! اس لڑکے سے تو پردہ کیا کر، چناچہ سودہ ؓ نے پھر اسے کبھی نہیں دیکھا۔
Narrated Aisha (RA):
Sad bin Abi Waqqas and Abu bin Zama quarreled over a boy. Sad said, "O Allahs Apostle ﷺ ! This boy is the son of my brother (Utba bin Abi Waqqas) who took a promise from me that I would take him as he was his (illegal) son. Look at him and see whom he resembles." Abu bin Zama said, "O Allahs Apostle ﷺ ! This is my brother and was born on my fathers bed from his slave-girl." Allahs Apostle ﷺ cast a look at the boy and found definite resemblance to Utba and then said, "The boy is for you, O Abu bin Zama. The child goes to the owner of the bed and the adulterer gets nothing but the stones (despair, i.e. to be stoned to death). Then the Prophet ﷺ said, "O Sauda bint Zama! Screen yourself from this boy." So, Sauda never saw him again.
________
باب: حربی کافر سے غلام لونڈی خریدنا اور اس کا آزاد کرنا اور ہبہ کرنا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِصُهَيْبٍ: اتَّقِ اللَّهَ، وَلَا تَدَّعِ إِلَى غَيْرِ أَبِيكَ، فَقَالَ صُهَيْبٌ: مَا يَسُرُّنِي أَنّ لِي كَذَا وَكَذَا، وَأَنِّي قُلْتُ ذَلِكَ، وَلَكِنِّي سُرِقْتُ وَأَنَا صَبِيٌّ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سعد نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا، کہ عبدالرحمٰن بن عوف ؓ نے صہیب ؓ سے کہا، اللہ سے ڈر اور اپنے باپ کے سوا کسی اور کا بیٹا نہ بن۔ صہیب ؓ نے کہا کہ اگر مجھے اتنی اتنی دولت بھی مل جائے تو بھی میں یہ کہنا پسند نہیں کرتا۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ میں تو بچپن ہی میں چرا لیا گیا تھا۔
Narrated Sad that his father said:
Abdur-Rahman bin Auf said to Suhaib, Fear Allah and do not ascribe yourself to somebody other than your father. Suhaib replied, I would not like to say it even if I were given large amounts of money, but I say I was kidnapped in my childhood. "
باب: حربی کافر سے غلام لونڈی خریدنا اور اس کا آزاد کرنا اور ہبہ کرنا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ، أَوْ أَتَحَنَّتُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ صِلَةٍ، وَعَتَاقَةٍ، وَصَدَقَةٍ، هَلْ لِي فِيهَا أَجْرٌ ؟ قَالَ حَكِيمٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَسْلَمْتَ عَلَى مَا سَلَفَ لَكَ مِنْ خَيْرٍ.
ہم سے ابوالولیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا کہ مجھے عروہ بن زبیر ؓ نے خبر دی انہیں حکیم بن حزام ؓ نے خبر دی کہ انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! ان نیک کاموں کے متعلق آپ کا کیا حکم ہے، جنہیں میں جاہلیت کے زمانہ میں صلہ رحمی، غلام آزاد کرنے اور صدقہ دینے کے سلسلہ میں کیا کرتا تھا کیا ان اعمال کا بھی مجھے ثواب ملے گا؟ حکیم بن حزام ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جتنی نیکیاں تم پہلے کرچکے ہو ان سب کے ساتھ اسلام لائے ہو۔
Narrated Urwa bin Az-Zubair (RA):
Hakim bin Hizam said, "O Allahs Apostle ﷺ ! I used to do good deeds in the Pre-lslamic period of Ignorance, e.g., keeping good relations with my kith and kin, manumitting slaves and giving alms. Shall I receive a reward for all that?" Allahs Apostle ﷺ replied, "You embraced Islam with all the good deeds which you did in the past."
________
باب: دباغت سے پہلے مردار کی کھال (کا بیچنا جائز ہے یا نہیں؟)۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ مَيِّتَةٍ، فَقَالَ: هَلَّا اسْتَمْتَعْتُمْ بِإِهَابِهَا ؟ قَالُوا: إِنَّهَا مَيِّتَةٌ، قَالَ: إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا.
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ نے بیان کیا، ان سے صالح نے بیان کیا، کہ مجھ سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عباس ؓ نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر ایک مردہ بکری پر ہوا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کے چمڑے سے تم لوگوں نے کیوں نہیں فائدہ اٹھایا؟ صحابہ نے عرض کیا، کہ وہ تو مردار ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ مردار کا صرف کھانا منع ہے۔
Narrated Abdullah bin Abbas (RA):
Once Allahs Apostle ﷺ passed by a dead sheep and said to the people, "Wouldnt you benefit by its skin?" The people replied that it was dead. The Prophet ﷺ said, "But its eating only is illegal."
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا مُقْسِطًا، فَيَكْسِرَ الصَّلِيبَ، وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيرَ، وَيَضَعَ الْجِزْيَةَ، وَيَفِيضَ الْمَالُ حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابن مسیب نے اور انہوں نے ابوہریرہ ؓ کو یہ فرماتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، وہ زمانہ آنے والا ہے جب ابن مریم (عیسیٰ علیہ السلام) تم میں ایک عادل اور منصف حاکم کی حیثیت سے اتریں گے۔ وہ صلیب کو توڑ ڈالیں گے، سوروں کو مار ڈالیں گے اور جزیہ کو ختم کردیں گے۔ اس وقت مال کی اتنی زیادتی ہوگی کہ کوئی لینے والا نہ رہے گا۔
Narrated Abu Hurairah (RA):
Allahs Apostle ﷺ said, "By Him in Whose Hands my soul is, son of Mary (Jesus) will shortly descend amongst you people (Muslims) as a just ruler and will break the Cross and kill the pig and abolish the Jizya (a tax taken from the non-Muslims, who are in the protection, of the Muslim government). Then there will be abundance of money and no-body will accept charitable gifts.
________
باب: مردار کی چربی گلانا اور اس کا بیچنا جائز نہیں۔
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي طَاوُسٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: بَلَغَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَنَّ فُلَانًا بَاعَ خَمْرًا، فَقَالَ: قَاتَلَ اللَّهُ فُلَانًا، أَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ، فَجَمَلُوهَا، فَبَاعُوهَا.
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، کہا کہ مجھے طاؤس نے خبر دی، انہوں نے ابن عباس ؓ سے سنا، آپ فرماتے تھے کہ عمر ؓ کو معلوم ہوا کہ فلاں شخص نے شراب فروخت کی ہے، تو آپ نے فرمایا کہ اسے اللہ تعالیٰ تباہ و برباد کر دے۔ کیا اسے معلوم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا، اللہ تعالیٰ یہود کو برباد کرے کہ چربی ان پر حرام کی گئی تھی لیکن ان لوگوں نے اسے پگھلا کر فروخت کیا۔
Narrated Ibn Abbas (RA):
Once Umar was informed that a certain man sold alcohol. Umar said, "May Allah curse him! Doesnt he know that Allahs Apostle ﷺ said, May Allah curse the Jews, for Allah had forbidden them to eat the fat of animals but they melted it and sold it."
باب: مردار کی چربی گلانا اور اس کا بیچنا جائز نہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَاتَلَ اللَّهُ يَهُودَ، حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ، فَبَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا.
ہم سے عبدان نے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے کہ میں نے سعید بن مسیب سے سنا، انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ یہودیوں کو تباہ کرے، ظالموں پر چربی حرام کردی گئی تھی، لیکن انہوں نے اسے بیچ کر اس کی قیمت کھائی۔
Narrated Abu Hurairah (RA):
Allahs Apostle ﷺ said, "May Allah curse the Jews, because Allah made fat illegal for them but they sold it and ate its price. "
باب: غیر جاندار چیزوں کی تصویر بیچنا اور اس میں کون سی تصویر حرام ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، أَخْبَرَنَا عَوْفٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ، إِنِّي إِنْسَانٌ، إِنَّمَا مَعِيشَتِي مِنْ صَنْعَةِ يَدِي، وَإِنِّي أَصْنَعُ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فَإِنَّ اللَّهَ مُعَذِّبُهُ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ فِيهَا أَبَدًا، فَرَبَا الرَّجُلُ رَبْوَةً شَدِيدَةً وَاصْفَرَّ وَجْهُهُ، فَقَالَ: وَيْحَكَ إِنْ أَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تَصْنَعَ، فَعَلَيْكَ بِهَذَا الشَّجَرِ كُلِّ شَيْءٍ لَيْسَ فِيهِ رُوحٌ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: سَمِعَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، مِنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ هَذَا الْوَاحِدَ.
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، انہیں عوف بن ابی حمید نے خبر دی، انہیں سعید بن ابی حسن نے، کہا کہ میں ابن عباس ؓ کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا، اور کہا کہ اے ابوعباس! میں ان لوگوں میں سے ہوں، جن کی روزی اپنے ہاتھ کی صنعت پر موقوف ہے اور میں یہ مورتیں بناتا ہوں۔ ابن عباس ؓ نے اس پر فرمایا کہ میں تمہیں صرف وہی بات بتلاؤں گا جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ جس نے بھی کوئی مورت بنائی تو اللہ تعالیٰ اسے اس وقت تک عذاب کرتا رہے گا جب تک وہ شخص اپنی مورت میں جان نہ ڈال دے اور وہ کبھی اس میں جان نہیں ڈال سکتا (یہ سن کر) اس شخص کا سانس چڑھ گیا اور چہرہ زرد پڑگیا۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ افسوس! اگر تم مورتیں بنانی ہی چاہتے ہو تو ان درختوں کی اور ہر اس چیز کی جس میں جان نہیں ہے مورتیں بنا سکتے ہو۔ ابوعبداللہ (امام بخاری (رح)) نے کہا کہ سعید بن ابی عروبہ نے نضر بن انس سے صرف یہی ایک حدیث سنی ہے۔
Narrated Said bin Abu Al-Hasan (RA):
While I was with Ibn Abbas (RA) a man came and said, "O father of Abbas! My sustenance is from my manual profession and I make these pictures." Ibn Abbas (RA) said, "I will tell you only what I heard from Allahs Apostle ﷺ . I heard him saying, Whoever makes a picture will be punished by Allah till he puts life in it, and he will never be able to put life in it. " Hearing this, that man heaved a sigh and his face turned pale. Ibn Abbas (RA) said to him, "What a pity! If you insist on making pictures I advise you to make pictures of trees and any other unanimated objects."
________
باب: شراب کی تجارت کرنا حرام ہے۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، لَمَّا نَزَلَتْ آيَاتُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ عَنْ آخِرِهَا، خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: حُرِّمَتِ التِّجَارَةُ فِي الْخَمْرِ.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوضحی نے، ان سے مسروق نے، ان سے عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ جب سورة البقرہ کی تمام آیتیں نازل ہو چکیں تو نبی کریم ﷺ باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ شراب کی سوداگری حرام قرار دی گئی ہے۔
Narrated Aisha (RA):
When the last verses of Surat-al-Baqara were revealed, the Prophet ﷺ went out (of his house to the Mosque) and said, "The trade of alcohol has become illegal."
باب: آزاد شخص کو بیچنا کیسا گناہ ہے؟
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ مَرْحُومٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ اللَّهُ: ثَلَاثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، رَجُلٌ أَعْطَى بِي ثُمَّ غَدَرَ، وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَكَلَ ثَمَنَهُ، وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفَى مِنْهُ وَلَمْ يُعْطِ أَجْرَهُ.
مجھ سے بشر بن مرحوم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سلیم نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن امیہ نے، ان سے سعید بن ابی سعید نے، اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ تین طرح کے لوگ ایسے ہوں گے جن کا قیامت کے دن میں مدعی بنوں گا، ایک وہ شخص جس نے میرے نام پر عہد کیا اور وہ توڑ دیا، وہ شخص جس نے کسی آزاد انسان کو بیچ کر اس کی قیمت کھائی اور وہ شخص جس نے کوئی مزدور اجرت پر رکھا، اس سے پوری طرح کام لیا، لیکن اس کی مزدوری نہیں دی۔
Narrated Abu Hurairah (RA):
The Prophet ﷺ said, "Allah says, I will be against three persons on the Day of Resurrection:
1. One who makes a covenant in My Name, but he proves treacherous.
2. One who sells a free person (as a slave) and eats the price,
3. And one who employs a laborer and gets the full work done by him but does not pay him his wages. "
________
باب: غلام کو غلام کے بدلے اور کسی جانور کو جانور کے بدلے ادھار بیچنا۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ فِي السَّبْيِ صَفِيَّةُ، فَصَارَتْ إِلَى دَحْيَةَ الْكَلْبِيِّ، ثُمَّ صَارَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت نے، ان سے انس ؓ نے بیان کیا کہ قیدیوں میں صفیہ ؓ بھی تھیں۔ پہلے تو وہ دحیہ کلبی ؓ کو ملیں پھر نبی کریم ﷺ کے نکاح میں آئیں۔
Narrated Anas (RA):
Amongst the captives was Safiya. First she was given to Dihya Al-Kalbi and then to the Prophet.
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ مُحَيْرِيزٍ : أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نُصِيبُ سَبْيًا فَنُحِبُّ الْأَثْمَانَ، فَكَيْفَ تَرَى فِي الْعَزْلِ ؟ فَقَالَ: أَوَإِنَّكُمْ تَفْعَلُونَ ذَلِكَ، لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ذَلِكُمْ، فَإِنَّهَا لَيْسَتْ نَسَمَةٌ كَتَبَ اللَّهُ أَنْ تَخْرُجَ إِلَّا هِيَ خَارِجَةٌ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہیر نے بیان کیا کہ مجھے ابن محیریز نے خبر دی اور انہیں ابو سعید خدری ؓ نے خبر دی، کہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے۔ (ایک انصاری صحابی نے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! لڑائی میں ہم لونڈیوں کے پاس جماع کے لیے جاتے ہیں۔ ہمارا ارادہ انہیں بیچنے کا بھی ہوتا ہے۔ تو آپ عزل کرلینے کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا، اچھا تم لوگ ایسا کرتے ہو؟ اگر تم ایسا نہ کرو پھر بھی کوئی حرج نہیں۔ اس لیے کہ جس روح کی بھی پیدائش اللہ تعالیٰ نے قسمت میں لکھ دی ہے وہ پیدا ہو کر ہی رہے گی۔
Narrated Abu Said Al-Khudri(RA):
that while he was sitting with Allahs Apostle ﷺ he said, "O Allahs Apostle ﷺ ! We get female captives as our share of booty, and we are interested in their prices, what is your opinion about coitus interrupt us?" The Prophet ﷺ said, "Do you really do that? It is better for you not to do it. No soul that which Allah has destined to exist, but will surely come into existence.
________
باب: مدبر کا بیچنا کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَاعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُدَبَّرَ.
ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن کہیل نے، ان سے عطاء نے اور ان سے جابر ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے مدبر غلام بیچا تھا۔
Narrated Jabir (RA):
The Prophet ﷺ sold a Mudabbar (on behalf of his master who was still living and in need of money).
باب: مدبر کا بیچنا کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: بَاعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عمرو نے، انہوں نے جابر بن عبداللہ ؓ کو یہ کہتے سنا تھا کہ مدبر غلام کو رسول اللہ ﷺ نے بیچا تھا۔
Narrated Jabir bin Abdullah (RA):
Allahs Apostle ﷺ sold a Mudabbar.
باب: مدبر کا بیچنا کیسا ہے؟
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ: حَدَّثَ ابْنُ شِهَابٍ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّزَيْدَ بْنَ خَالِدٍ ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَاهُ، أَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ عَنِ الْأَمَةِ تَزْنِي وَلَمْ تُحْصَنْ ؟ قَالَ: اجْلِدُوهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا، ثُمَّ بِيعُوهَا بَعْدَ الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یعقوب نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے صالح نے بیان کیا کہ ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عبیداللہ نے خبر دی، انہیں زید بن خالد اور ابوہریرہ ؓ نے خبر دی کہ ان دونوں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، آپ سے غیر شادی شدہ باندی کے متعلق جو زنا کرلے سوال کیا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر وہ زنا کرلے تو اسے کوڑے لگاؤ۔ اور پھر اسے بیچ دو۔ (آخری جملہ آپ نے) تیسری یا چوتھی مرتبہ کے بعد (فرمایا تھا) ۔
Narrated Zaid bin Khalid and Abu Hurairah (RA):
that Allahs Apostle ﷺ was asked about an unmarried slave-girl who committed illegal sexual intercourse. They heard him saying, "Flog her, and if she commits illegal sexual intercourse after that, flog her again, and on the third (or the fourth) offense, sell her."
________
باب: مدبر کا بیچنا کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا زَنَتْ أَمَةُ أَحَدِكُمْ فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا فَلْيَجْلِدْهَا الْحَدَّ وَلَا يُثَرِّبْ عَلَيْهَا، ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَلْيَجْلِدْهَا الْحَدَّ وَلَا يُثَرِّبْ، ثُمَّ إِنْ زَنَتِ الثَّالِثَةَ فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا فَلْيَبِعْهَا وَلَوْ بِحَبْلٍ مِنْ شَعَرٍ.
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے لیث نے خبر دی، انہیں سعید نے، انہیں ان کے والد نے، اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے میں نے خود سنا ہے کہ جب کوئی باندی زنا کرائے اور وہ ثابت ہوجائے تو اس پر حد زنا جاری کی جائے، البتہ اسے لعنت ملامت نہ کی جائے۔ پھر اگر وہ زنا کرائے تو اس پر اس مرتبہ بھی حد جاری کی جائے، لیکن کسی قسم کی لعنت ملامت نہ کی جائے۔ تیسری مرتبہ بھی اگر زنا کرے اور زنا ثابت ہوجائے تو اسے بیچ ڈالے خواہ بال کی ایک رسی کے بدلے ہی کیوں نہ ہو۔
Narrated Abu Hurairah (RA):
I heard the Prophet ﷺ saying, "If a slave-girl of yours commits illegal sexual intercourse and her illegal sexual intercourse is proved, she should be lashed, and after that nobody should blame her, and if she commits illegal sexual intercourse the second time, she should be lashed and nobody should blame her after that, and if she does the offense for the third time and her illegal sexual intercourse is proved, she should be sold even for a hair rope."
________
باب: اگر لونڈی خریدے تو استبراء رحم سے پہلے اس کو سفر میں لے جا سکتا ہے یا نہیں؟
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْحِصْنَ، ذُكِرَ لَهُ جَمَالُ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ، وَقَدْ قُتِلَ زَوْجُهَا وَكَانَتْ عَرُوسًا، فَاصْطَفَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ، فَخَرَجَ بِهَا حَتَّى بَلَغْنَا سَدَّ الرَّوْحَاءِ حَلَّتْ، فَبَنَى بِهَا، ثُمَّ صَنَعَ حَيْسًا فِي نِطَعٍ صَغِيرٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: آذِنْ مَنْ حَوْلَكَ، فَكَانَتْ تِلْكَ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَفِيَّةَ، ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَوِّي لَهَا وَرَاءَهُ بِعَبَاءَةٍ، ثُمَّ يَجْلِسُ عِنْدَ بَعِيرِهِ فَيَضَعُ رُكْبَتَهُ، فَتَضَعُ صَفِيَّةُ رِجْلَهَا عَلَى رُكْبَتِهِ حَتَّى تَرْكَبَ.
ہم سے عبدالغفار بن داؤد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے عمرو بن ابی عمرو نے اور ان سے انس بن مالک ؓ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم ﷺ خیبر تشریف لائے اور اللہ تعالیٰ نے قلعہ فتح کرا دیا تو آپ ﷺ کے سامنے صفیہ بنت حیی بن اخطب ؓ کے حسن کی تعریف کی گئی۔ ان کا شوہر قتل ہوگیا تھا۔ وہ خود ابھی دلہن تھیں۔ پس رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنے لیے پسند کرلیا۔ پھر روانگی ہوئی۔ جب آپ سد الروحاء پہنچے تو پڑاؤ ہوا۔ اور آپ ﷺ نے وہیں ان کے ساتھ خلوت کی۔ پھر ایک چھوٹے دستر خوان پر حیس تیار کر کے رکھوایا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ اپنے قریب کے لوگوں کو ولیمہ کی خبر کر دو۔ صفیہ ؓ کے ساتھ نکاح کا یہی ولیمہ رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا۔ پھر جب ہم مدینہ کی طرف چلے تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے عباء سے صفیہ ؓ کے لیے پردہ کرایا۔ اور اپنے اونٹ کو پاس بٹھا کر اپنا ٹخنہ بچھا دیا۔ صفیہ ؓ اپنا پاؤں آپ ﷺ کے ٹخنے پر رکھ کر سوار ہوگئیں۔
Narrated Anas bin Malik (RA):
The Prophet ﷺ came to Khaibar and when Allah made him victorious and he conquered the town by breaking the enemys defense, the beauty of Safiya bint Huyai bin Akhtab was mentioned to him and her husband had been killed while she was a bride. Allahs Apostle ﷺ selected her for himself and he set out in her company till he reached Sadd-ar-Rawha where her menses were over and he married her. Then Hais (a kind of meal) was prepared and served on a small leather sheet (used for serving meals). Allahs Apostle ﷺ then said to me, "Inform those who are around you (about the wedding banquet)." So that was the marriage banquet given by Allahs Apostle ﷺ for (his marriage with) Safiya. After that we proceeded to Madinah and I saw that Allahs Apostle ﷺ was covering her with a cloak while she was behind him. Then he would sit beside his camel and let Safiya put her feet on his knees to ride (the camel).
________
باب: مردار اور بتوں کا بیچنا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِمَكَّةَ: إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ، وَالْمَيْتَةِ، وَالْخِنْزِيرِ، وَالْأَصْنَامِ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ ؟ فَإِنَّهَا يُطْلَى بِهَا السُّفُنُ، وَيُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ، وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ، فَقَالَ: لَا هُوَ حَرَامٌ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، إِنَّ اللَّهَ لَمَّا حَرَّمَ شُحُومَهَا جَمَلُوهُ، ثُمَّ بَاعُوهُ فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ، قَالَ أَبُو عَاصِمٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، كَتَبَ إِلَيَّعَطَاءٌ ، سَمِعْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یزید بن ابی حبیب نے بیان کیا، ان سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا، اور ان سے جابر بن عبداللہ ؓ نے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، فتح مکہ کے سال آپ ﷺ نے فرمایا، آپ کا قیام ابھی مکہ ہی میں تھا کہ اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، سور اور بتوں کا بیچنا حرام قرار دے دیا ہے۔ اس پر پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ! مردار کی چربی کے متعلق کیا حکم ہے؟ اسے ہم کشتیوں پر ملتے ہیں۔ کھالوں پر اس سے تیل کا کام لیتے ہیں اور لوگ اس سے اپنے چراغ بھی جلاتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ نہیں وہ حرام ہے۔ اسی موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ یہودیوں کو برباد کرے اللہ تعالیٰ نے جب چربی ان پر حرام کی تو ان لوگوں نے پگھلا کر اسے بیچا اور اس کی قیمت کھائی۔ ابوعاصم نے کہا کہ ہم سے عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے یزید نے بیان کیا، انہیں عطاء نے لکھا کہ میں نے جابر ؓ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے۔
Narrated Jabir bin Abdullah (RA):
I heard Allahs Apostle, in the year of the Conquest of Makkah, saying, "Allah and His Apostle ﷺ made illegal the trade of alcohol, dead animals, pigs and idols." The people asked, "O Allahs Apostle ﷺ ! What about the fat of dead animals, for it was used for greasing the boats and the hides; and people use it for lights?" He said, "No, it is illegal." Allahs Apostle ﷺ further said, "May Allah curse the Jews, for Allah made the fat (of animals) illegal for them, yet they melted the fat and sold it and ate its price."
________
باب: کتے کی قیمت کے بارے میں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں ابی بکر بن عبدالرحمٰن نے اور انہیں ابومسعود انصاری ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت، زانیہ کی اجرت اور کاہن کی اجرت سے منع فرمایا تھا۔
Narrated Abu Masud Al-Ansari (RA):
Allahs Apostle ﷺ forbade taking the price of a dog, money earned by prostitution and the earnings of a soothsayer.
باب: کتے کی قیمت کے بارے میں۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبِي اشْتَرَى حَجَّامًا، فَأَمَرَ بِمَحَاجِمِهِ فَكُسِرَتْ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ ؟ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنْ ثَمَنِ الدَّمِ، وَثَمَنِ الْكَلْبِ، وَكَسْبِ الْأَمَةِ، وَلَعَنَ الْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ، وَآكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ، وَلَعَنَ الْمُصَوِّرَ.
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عون بن ابی حجیفہ نے خبر دی، کہا کہ میں نے اپنے والد کو دیکھا کہ ایک پچھنا لگانے والے (غلام) کو خرید رہے ہیں۔ اس پر میں نے اس کے متعلق ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خون کی قیمت، کتے کی قیمت، باندی کی (ناجائز) کمائی سے منع فرمایا تھا۔ اور گودنے والیوں اور گدوانے والیوں، سود لینے والوں اور دینے والوں پر لعنت کی تھی اور تصویر بنانے والے پر بھی لعنت کی تھی۔
Narrated Aun bin Abu Juhaifa (RA):
I saw my father buying a slave whose profession was cupping, and ordered that his instruments (of cupping) be broken. I asked him the reason for doing so. He replied, "Allahs Apostle ﷺ prohibited taking money for blood, the price of a dog, and the earnings of a slave-girl by prostitution; he cursed her who tattoos and her who gets tattooed, the eater of Riba (usury), and the maker of pictures."