حدود اور حدود سے بچنے کا بیان

Sahih Bukhari · Chapter 69 · 31 hadiths · Page 2 of 2

6792Sahih Bukhari

اللہ تعالیٰ کا قول والسارق والسارقۃ فاقطعوا۔ اللہ تعالیٰ کا قول چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی کے ہاتھ کاٹ دو اور کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے اور حضرت علی نے پہنچے سے ہاتھ کاٹا ایک عورت کے متعلق جس نے چوری کی تھی اور اس کا بایاں ہاتھ کاٹا گیا تھا تو قتادہ نے کہا اس کے سوا کوئی سزا نہیں۔

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : مِثْلَهُ.

ہم سے عثمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حمید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے عائشہ ؓ نے اسی طرح (بیان کیا) ۔

Narrated Aisha (RA) : as above (783).

6793Sahih Bukhari

اللہ تعالیٰ کا قول والسارق والسارقۃ فاقطعوا۔ اللہ تعالیٰ کا قول چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی کے ہاتھ کاٹ دو اور کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے اور حضرت علی نے پہنچے سے ہاتھ کاٹا ایک عورت کے متعلق جس نے چوری کی تھی اور اس کا بایاں ہاتھ کاٹا گیا تھا تو قتادہ نے کہا اس کے سوا کوئی سزا نہیں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: لَمْ تَكُنْ تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ فِي أَدْنَى مِنْ حَجَفَةٍ، أَوْ تُرْسٍ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ذُو ثَمَنٍ، رَوَاهُ وَكِيعٌ ، وَابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِمُرْسَلًا.

ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ چور کا ہاتھ لکڑی کے چمڑے کی ڈھال یا عام ڈھال کی قیمت سے کم پر نہیں کاٹا جاتا تھا۔ یہ دونوں ڈھال قیمت سے ملتی تھیں۔ اس کی روایت وکیع اور ابن ادریس نے ہشام کے واسطے سے کی، ان سے ان کے والد نے مرسلاً روایت کیا۔

Narrated Aisha (RA) : A thiefs hand was not cut off for stealing something cheaper than a Hajafa or a Turs (two kinds of shields), each of which was worth a (respectable) price.

6794Sahih Bukhari

اللہ تعالیٰ کا قول والسارق والسارقۃ فاقطعوا۔ اللہ تعالیٰ کا قول چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی کے ہاتھ کاٹ دو اور کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے اور حضرت علی نے پہنچے سے ہاتھ کاٹا ایک عورت کے متعلق جس نے چوری کی تھی اور اس کا بایاں ہاتھ کاٹا گیا تھا تو قتادہ نے کہا اس کے سوا کوئی سزا نہیں۔

حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ أَخْبَرَنَا، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَمْ تُقْطَعْ يَدُ سَارِقٍ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي أَدْنَى مِنْ ثَمَنِ الْمِجَنِّ تُرْسٍ، أَوْ حَجَفَةٍ، وَكَانَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ذَا ثَمَنٍ.

مجھ سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہشام بن عروہ نے، ہم کو ان کے والد (عروہ بن زبیر) نے خبر دی، انہوں نے عائشہ ؓ سے، انہوں نے بیان کیا نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں چور کا ہاتھ ڈھال کی قیمت سے کم پر نہیں کاٹا جاتا تھا۔ لکڑی کے چمڑے کی ڈھال ہو یا عام ڈھال، یہ دونوں چیزیں قیمت والی تھیں۔

Narrated Aisha (RA) : A thiefs hand was not cut off for stealing something worth less than the price of a shield, whether a Turs or Hajafa (two kinds of shields), each of which was worth a (respectable) price.

6795Sahih Bukhari

اللہ تعالیٰ کا قول والسارق والسارقۃ فاقطعوا۔ اللہ تعالیٰ کا قول چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی کے ہاتھ کاٹ دو اور کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے اور حضرت علی نے پہنچے سے ہاتھ کاٹا ایک عورت کے متعلق جس نے چوری کی تھی اور اس کا بایاں ہاتھ کاٹا گیا تھا تو قتادہ نے کہا اس کے سوا کوئی سزا نہیں۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَطَعَ فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ، تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَقَالَ اللَّيْثُحَدَّثَنِي نَافِعٌ ، قِيمَتُهُ.

ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے مالک بن انس نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمر ؓ کے آزاد کردہ غلام نافع نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ڈھال پر ہاتھ کاٹا تھا جس کی قیمت تین درہم تھی۔

Narrated Ibn Umar (RA) : Allahs Apostle ﷺ cut off the hand of a thief for stealing a shield that was worth three Dirhams.

6796Sahih Bukhari

اللہ تعالیٰ کا قول والسارق والسارقۃ فاقطعوا۔ اللہ تعالیٰ کا قول چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی کے ہاتھ کاٹ دو اور کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے اور حضرت علی نے پہنچے سے ہاتھ کاٹا ایک عورت کے متعلق جس نے چوری کی تھی اور اس کا بایاں ہاتھ کاٹا گیا تھا تو قتادہ نے کہا اس کے سوا کوئی سزا نہیں۔

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَطَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ.

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے ابن عمر ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ایک ڈھال کی چوری پر ہاتھ کاٹا تھا جس کی قیمت تین درہم تھی۔

Narrated Ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ cut off the hand of a thief for stealing a shield that was worth three Dirhams.

6797Sahih Bukhari

اللہ تعالیٰ کا قول والسارق والسارقۃ فاقطعوا۔ اللہ تعالیٰ کا قول چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی کے ہاتھ کاٹ دو اور کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے اور حضرت علی نے پہنچے سے ہاتھ کاٹا ایک عورت کے متعلق جس نے چوری کی تھی اور اس کا بایاں ہاتھ کاٹا گیا تھا تو قتادہ نے کہا اس کے سوا کوئی سزا نہیں۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَطَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا، کہا مجھ سے نافع نے بیان کیا، ان سے عبداللہ ؓ نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے ایک ڈھال پر ہاتھ کاٹا تھا جس کی قیمت تین درہم تھی۔

Narrated Abdullah bin Umar (RA) : The Prophet ﷺ cut off the hand of a thief for stealing a shield that was worth three Dirhams.

6798Sahih Bukhari

اللہ تعالیٰ کا قول والسارق والسارقۃ فاقطعوا۔ اللہ تعالیٰ کا قول چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی کے ہاتھ کاٹ دو اور کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے اور حضرت علی نے پہنچے سے ہاتھ کاٹا ایک عورت کے متعلق جس نے چوری کی تھی اور اس کا بایاں ہاتھ کاٹا گیا تھا تو قتادہ نے کہا اس کے سوا کوئی سزا نہیں۔

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَطَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَدَ سَارِقٍ فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ، تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَقَالَاللَّيْثُ حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، قِيمَتُهُ.

مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوضمرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ایک چور کا ہاتھ ایک ڈھال پر کاٹا تھا جس کی قیمت تین درہم تھی، اس روایت کی متابعت محمد بن اسحاق نے کی اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے نافع نے ( ثمنه کے بجائے) لفظ قيمته کہا۔

Narrated Abdullah bin Umar (RA) : The Prophet ﷺ cutoff the hand of a thief for stealing a shield that was worth three Dirhams.

6799Sahih Bukhari

اللہ تعالیٰ کا قول والسارق والسارقۃ فاقطعوا۔ اللہ تعالیٰ کا قول چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی کے ہاتھ کاٹ دو اور کتنی مقدار میں ہاتھ کاٹا جائے اور حضرت علی نے پہنچے سے ہاتھ کاٹا ایک عورت کے متعلق جس نے چوری کی تھی اور اس کا بایاں ہاتھ کاٹا گیا تھا تو قتادہ نے کہا اس کے سوا کوئی سزا نہیں۔

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَعَنَ اللَّهُ السَّارِقَ، يَسْرِقُ الْبَيْضَةَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ، وَيَسْرِقُ الْحَبْلَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ.

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوصالح سے سنا، کہا کہ میں نے ابوہریرہ ؓ سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے چور پر لعنت کی ہے کہ ایک انڈا چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے، ایک رسی چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : Allah s Apostle ﷺ said, "Allah curses the thief who steals an egg (or a helmet) for which his hand is to be cut off, or steals a rope, for which his hand is to be cut off."

6800Sahih Bukhari

چور کی توبہ کا بیان

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَطَعَ يَدَ امْرَأَةٍ، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَكَانَتْ تَأْتِي بَعْدَ ذَلِكَ فَأَرْفَعُ حَاجَتَهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَابَتْ وَحَسُنَتْ تَوْبَتُهَا.

ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک عورت کا ہاتھ کٹوایا۔ عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ وہ عورت بعد میں بھی آتی تھی اور میں اس کی ضرورتیں نبی کریم ﷺ کے سامنے رکھتی تھی، اس عورت نے توبہ کرلی تھی اور حسن توبہ کا ثبوت دیا تھا۔

Narrated Aisha (RA) : The Prophet ﷺ cut off the hand of a lady, and that lady used to come to me, and I used to convey her message to the Prophet ﷺ and she repented, and her repentance was sincere.

6801Sahih Bukhari

چور کی توبہ کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُعْفِيُّ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ ، عَنْعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ، فَقَالَ: أُبَايِعُكُمْ عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَزْنُوا، وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ، وَلَا تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ، وَلَا تَعْصُونِي فِي مَعْرُوفٍ، فَمَنْ وَفَى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، فَأُخِذَ بِهِ فِي الدُّنْيَا، فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ وَطَهُورٌ، وَمَنْ سَتَرَهُ اللَّهُ، فَذَلِكَ إِلَى اللَّهِ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ، وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: إِذَا تَابَ السَّارِقُ بَعْدَ مَا قُطِعَ يَدُهُ، قُبِلَتْ شَهَادَتُهُ، وَكُلُّ مَحْدُودٍ كَذَلِكَ، إِذَا تَابَ قُبِلَتْ شَهَادَتُهُ.

ہم سے عبداللہ بن محمد الجعفی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں ابوادریس نے اور ان سے عبادہ بن صامت ؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایک جماعت کے ساتھ بیعت کی تھی۔ نبی کریم ﷺ نے اس پر فرمایا کہ میں تم سے عہد لیتا ہوں کہ تم اللہ کا کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے، تم چوری نہیں کرو گے، اپنی اولاد کی جان نہیں لو گے، اپنے دل سے گھڑ کر کسی پر تہمت نہیں لگاؤ گے اور نیک کاموں میں میری نافرمانی نہ کرو گے۔ پس تم میں سے جو کوئی وعدے پورا کرے گا اس کا ثواب اللہ کے اوپر لازم ہے اور جو کوئی ان میں سے کچھ غلطی کر گزرے گا اور دنیا میں ہی اسے اس کی سزا مل جائے گی تو یہ اس کا کفارہ ہوگی اور اسے پاک کرنے والی ہوگی اور جس کی غلطی کو اللہ چھپالے گا تو اس کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے، چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو اس کی مغفرت کر دے۔ ابوعبداللہ امام بخاری (رح) نے کہا کہ ہاتھ کٹنے کے بعد اگر چور نے توبہ کرلی تو اس کی گواہی قبول ہوگی۔ یہی حال ہر اس شخص کا ہے جس پر حد جاری کی گئی ہو کہ اگر وہ توبہ کرلے گا تو اس کی گواہی قبول کی جائے گی۔

Narrated Ubadah bin As-Samit (RA): I gave the pledge of allegiance to the Prophet ﷺ with a group of people, and he said, "I take your pledge that you will not worship anything besides Allah, will not steal, will not commit infanticide, will not slander others by forging false statements and spreading it, and will not disobey me in anything good. And whoever among you fulfill all these (obligations of the pledge), his reward is with Allah. And whoever commits any of the above crimes and receives his legal punishment in this world, that will be his expiation and purification. But if Allah screens his sin, it will be up to Allah, Who will either punish or forgive him according to His wish." Abu Abdullah said: "If a thief repents after his hand has been cut off, the his witness well be accepted. Similarly, if any person upon whom any legal punishment has been inflicted, repents, his witness will be accepted."