باب: تلوار کی آرائش کرنا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ حَبِيبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ ، يَقُولُ: لَقَدْ فَتَحَ الْفُتُوحَ قَوْمٌ مَا كَانَتْ حِلْيَةُ سُيُوفِهِمُ الذَّهَبَ، وَلَا الْفِضَّةَ إِنَّمَا كَانَتْ حِلْيَتُهُمُ الْعَلَابِيَّ، وَالْآنُكَ وَالْحَدِيدَ.
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو اوزاعی نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے سلیمان بن حبیب سے سنا، کہا میں نے ابوامامہ باہلی سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ ایک قوم (صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے بہت سی فتوحات کیں اور ان کی تلواروں کی آرائش سونے چاندی سے نہیں ہوئی تھی بلکہ اونٹ کی پشت کا چمڑہ، سیسہ اور لوہا ان کی تلواروں کے زیور تھے۔
Narrated Abu Umama (RA):
Some people conquered many countries and their swords were decorated neither with gold nor silver, but they were decorated with leather, lead and iron.
باب: جس نے سفر میں دوپہر کے آرام کے وقت اپنی تلوار درخت سے لٹکائی۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سِنَانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَ أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ نَجْدٍ، فَلَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَفَلَ مَعَهُ، فَأَدْرَكَتْهُمُ الْقَائِلَةُ فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَفَرَّقَ النَّاسُ يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ سَمُرَةٍ وَعَلَّقَ بِهَا سَيْفَهُ، وَنِمْنَا نَوْمَةً فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُونَا، وَإِذَا عِنْدَهُ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا اخْتَرَطَ عَلَيَّ سَيْفِي وَأَنَا نَائِمٌ فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ فِي يَدِهِ صَلْتًافَقَالَ: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي، فَقُلْتُ: اللَّهُ ثَلَاثًاوَلَمْ يُعَاقِبْهُ وَجَلَسَ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھ سے سنان بن ابی سنان الدولی اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور انہیں جابر بن عبداللہ ؓ نے خبر دی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نجد کے اطراف میں ایک غزوہ میں شریک تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ جہاد سے واپس ہوئے تو آپ کے ساتھ یہ بھی واپس ہوئے۔ راستے میں قیلولہ کا وقت ایک ایسی وادی میں ہوا جس میں ببول کے درخت بکثرت تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس وادی میں پڑاؤ کیا اور صحابہ پوری وادی میں (درخت کے سائے کے لیے) پھیل گئے۔ آپ ﷺ نے بھی ایک ببول کے نیچے قیام فرمایا اور اپنی تلوار درخت پر لٹکا دی۔ ہم سب سو گئے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کے پکارنے کی آواز سنائی دی، دیکھا گیا تو ایک بدوی آپ ﷺ کے پاس تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس نے غفلت میں میری ہی تلوار مجھ پر کھینچ لی تھی اور میں سویا ہوا تھا، جب بیدار ہوا تو ننگی تلوار اس کے ہاتھ میں تھی۔ اس نے کہا مجھ سے تمہیں کون بچائے گا؟ میں نے کہا کہ اللہ! تین مرتبہ (میں نے اسی طرح کہا اور تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گرگئی) رسول اللہ ﷺ نے اعرابی کو کوئی سزا نہیں دی بلکہ آپ ﷺ بیٹھ گئے (پھر وہ خود متاثر ہو کر اسلام لایا) ۔
Narrated Jabir bin Abdullah (RA):
That he proceeded in the company of Allahs Apostle ﷺ towards Najd to participate in a Ghazwa. (Holy-battle) When Allahs Apostle ﷺ returned, he too returned with him. Midday came upon them while they were in a valley having many thorny trees. Allahs Apostle ﷺ and the people dismounted and dispersed to rest in the shade of the trees. Allahs Apostle ﷺ rested under a tree and hung his sword on it. We all took a nap and suddenly we heard Allahs Apostle ﷺ calling us. (We woke up) to see a bedouin with him. The Prophet ﷺ said, "This bedouin took out my sword while I was sleeping and when I woke up, I found the unsheathed sword in his hand and he challenged me saying, Who will save you from me? I said thrice, Allah. The Prophet ﷺ did not punish him but sat down.
باب: خود پہننا (لوہے کا ٹوپ جس سے میدان جنگ میں سر کا بچاؤ کیا جاتا تھا)۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ جُرْحِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ: جُرِحَ وَجْهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ وَهُشِمَتِ الْبَيْضَةُ عَلَى رَأْسِهِ، فَكَانَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَام تَغْسِلُ الدَّمَ، وَعَلِيٌّ يُمْسِكُ فَلَمَّا رَأَتْ أَنَّ الدَّمَ لَا يَزِيدُ إِلَّا كَثْرَةً أَخَذَتْ حَصِيرًا فَأَحْرَقَتْهُ حَتَّى صَارَ رَمَادًا، ثُمَّ أَلْزَقَتْهُ فَاسْتَمْسَكَ الدَّمُ.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے سہل بن سعد ساعدی ؓ نے کہ ان سے احد کی لڑائی میں نبی کریم ﷺ کے زخمی ہونے کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے بتلایا آپ ﷺ کے چہرہ مبارک پر زخم آئے اور آپ ﷺ کے آگے کے دانت ٹوٹ گئے تھے اور خود آپ ﷺ کے سر مبارک پر ٹوٹ گئی تھی۔ (جس سے سر پر زخم آئے تھے) فاطمہ ؓ خون دھو رہی تھیں اور علی ؓ پانی ڈال رہے تھے۔ جب فاطمہ ؓ نے دیکھا کہ خون برابر بڑھتا ہی جا رہا ہے تو انہوں نے ایک چٹائی جلائی اور اس کی راکھ کو آپ ﷺ کے زخموں پر لگا دیا جس سے خون بہنا بند ہوگیا۔
Narrated Sahl (RA):
That he was asked about the wound of the Prophet ﷺ on the day (of the battle) of Uhud. He said, "The face of the Prophet ﷺ as wounded and one of his front teeth as broken and the helmet over his head was smashed. Fatima washed of the blood while Ali held water. When she saw that bleeding was increasing continuously, she burnt a mat (of date-palm leaves) till it turned into ashes which she put over the wound and thus the bleeding ceased."
باب: کسی کی موت پر اس کے ہتھیار وغیرہ توڑنے درست نہیں۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: مَا تَرَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِلَّا سِلَاحَهُ، وَبَغْلَةً بَيْضَاءَ، وَأَرْضًا جَعَلَهَا صَدَقَةً.
ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے، ان سے ابواسحاق نے اور ان سے عمرو بن حارث ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے (وفات کے بعد) اپنے ہتھیار ایک سفید خچر اور ایک قطعہ اراضی جسے آپ ﷺ پہلے ہی صدقہ کرچکے تھے کے سوا اور کوئی چیز نہیں چھوڑی تھی۔
Narrated Amr bin Al-Harith (RA):
The Prophet ﷺ did not leave behind him after his death, anything except his arms, his white mule, and a piece of land at Khaibar which he left to be given in charity .
باب: دوپہر کے وقت درختوں کا سایہ حاصل کرنے کے لیے فوجی لوگ امام سے جدا ہو کر (متفرق درختوں کے سائے تلے) پھیل سکتے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنَا سِنَانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ وَأَبُو سَلَمَةَ ، أن جابرا أخبره، حَدَّثَنَامُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَدْرَكَتْهُمُ الْقَائِلَةُ فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ، فَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الْعِضَاهِ يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَعَلَّقَ بِهَا سَيْفَهُ، ثُمَّ نَامَ فَاسْتَيْقَظَ وَعِنْدَهُ رَجُلٌ وَهُوَ لَا يَشْعُرُ بِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ هَذَا اخْتَرَطَ سَيْفِي، فَقَالَ: مَنْ يَمْنَعُكَ، قُلْتُ: اللَّهُ، فَشَامَ السَّيْفَ فَهَا هُوَ ذَا جَالِسٌ، ثُمَّ لَمْ يُعَاقِبْهُ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، ان سے سنان بن ابی سنان اور ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان دونوں حضرات کو جابر ؓ نے خبر دی۔ اور ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہیں ابراہیم بن سعد نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے خبر دی، انہیں سنان بن ابی سنان الدولی نے اور انہیں جابر بن عبداللہ ؓ نے خبر دی کہ وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک لڑائی میں شریک تھے۔ ایک ایسے جنگل میں جہاں ببول کے درخت بکثرت تھے۔ قیلولہ کا وقت ہوگیا، تمام صحابہ سائے کی تلاش میں (پوری وادی میں متفرق درختوں کے نیچے) پھیل گئے اور نبی کریم ﷺ نے بھی ایک درخت کے نیچے قیام فرمایا۔ آپ ﷺ نے تلوار (درخت کے تنے سے) لٹکا دی تھی اور سو گئے تھے۔ جب آپ ﷺ بیدار ہوئے تو آپ ﷺ کے پاس ایک اجنبی موجود تھا۔ اس اجنبی نے کہا کہ اب تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟ پھر نبی کریم ﷺ نے آواز دی اور جب صحابہ ؓ اجمعین آپ ﷺ کے قریب پہنچے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس شخص نے میری ہی تلوار مجھ پر کھینچ لی تھی اور مجھ سے کہنے لگا تھا کہ اب تمہیں میرے ہاتھ سے کون بچا سکے گا؟ میں نے کہا اللہ (اس پر وہ شخص خود ہی دہشت زدہ ہوگیا) اور تلوار نیام میں کرلی، اب یہ بیٹھا ہوا ہے۔ آپ ﷺ نے اسے کوئی سزا نہیں دی تھی۔
Narrated Jabir bin Abdullah (RA):
That he participated in a Ghazwa (Holy-Battle) in the company of Allahs Apostle. Midday came upon them while they were in a valley having many thorny trees. The people dispersed to rest in the shade of the trees. The Prophet ﷺ rested under a tree, hung his sword on it, and then slept. Then he woke up to find near to him, a man whose presence he had not noticed before. The Prophet ﷺ said, "This (man) took my sword (out of its scabbard) and said, Who will save you from me. I replied, Allah. So, he put the sword back into its scabbard, and you see him sitting here." Anyhow, the Prophet ﷺ did not punish him. (See Hadith No. 158)
باب: بھالوں (نیزوں) کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ طَرِيقِ مَكَّةَ تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ، فَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا فَاسْتَوَى عَلَى فَرَسِهِ، فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ: أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ فَأَبَوْا، فَسَأَلَهُمْ: رُمْحَهُ فَأَبَوْا فَأَخَذَهُ، ثُمَّ شَدَّ عَلَى الْحِمَارِ فَقَتَلَهُ، فَأَكَلَ مِنْهُ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَى بَعْضٌ فَلَمَّا أَدْرَكُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ أَطْعَمَكُمُوهَا اللَّهُ، وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ فِي الْحِمَارِ الْوَحْشِيِّ مِثْلُ حَدِيثِ أَبِي النَّضْرِ، قَالَ: هَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ ؟.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں عمر بن عبیداللہ کے مولیٰ ابوالنضر نے اور انہیں ابوقتادہ انصاری کے مولیٰ نافع نے اور انہیں ابوقتادہ ؓ نے کہ آپ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے (صلح حدیبیہ کے موقع پر) مکہ کے راستے میں آپ ﷺ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ جو احرام باندھے ہوئے تھے، لشکر سے پیچھے رہ گئے۔ خود قتادہ ؓ نے ابھی احرام نہیں باندھا تھا۔ پھر انہوں نے ایک گورخر دیکھا اور اپنے گھوڑے پر (شکار کرنے کی نیت سے) سوار ہوگئے، اس کے بعد انہوں نے اپنے ساتھیوں سے (احرام باندھے ہوئے تھے) کہا کہ کوڑا اٹھا دیں انہوں نے اس سے انکار کیا، پھر انہوں نے اپنا نیزہ مانگا اس کے دینے سے انہوں نے انکار کیا، آخر انہوں نے خود اسے اٹھایا اور گورخر پر جھپٹ پڑے اور اسے مار لیا۔ نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے بعض نے تو اس گورخر کا گوشت کھایا اور بعض نے اس کے کھانے سے (احرام کے عذر کی بنا پر) انکار کیا۔ پھر جب یہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچے تو اس کے متعلق مسئلہ پوچھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ تو ایک کھانے کی چیز تھی جو اللہ نے تمہیں عطا کی۔ اور زید بن اسلم سے روایت ہے کہ ان سے عطاء بن یسار نے بیان کیا اور ان سے ابوقتادہ ؓ نے گورخر کے (شکار سے) متعلق ابوالنضر ہی کی حدیث کی طرح (البتہ اس روایت میں یہ زائد ہے) نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا کہ اس کا کچھ بچا ہوا گوشت ابھی تمہارے پاس موجود ہے؟
Narrated Abu Qatada (RA):
That he was in the company of Allahs Apostle ﷺ and when they had covered a portion of the road to Makkah, he and some of the companions lagged behind. The latter were in a state of Ihram, while he was not. He saw an onager and rode his horse and requested his companions to give him his lash but they refused. Then he asked them to give him his spear but they refused, so he took it himself, attacked the onager, and killed it. Some of the companions of the Prophet ﷺ ate of it while some others refused to eat. When they caught up with Allahs Apostle ﷺ they asked him about that, and he said, "That was a meal Allah fed you with." (It is also said that Allahs Apostle ﷺ asked, "Have you got something of its meat?")
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لڑائی میں زرہ پہننا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَنْشُدُكَ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ، اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ لَمْ تُعْبَدْ بَعْدَ الْيَوْمِ، فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ بِيَدِهِ، فَقَالَ: حَسْبُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَدْ أَلْحَحْتَ عَلَى رَبِّكَ وَهُوَ فِي الدِّرْعِ فَخَرَجَ وَهُوَ، يَقُولُ: سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ 45 بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ 46 سورة القمر آية 45-46، وَقَالَ وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَوْمَ بَدْرٍ.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد حذاء نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ (بدر کے دن) دعا فرما رہے تھے، اس وقت آپ ﷺ ایک خیمہ میں تشریف فرما تھے، کہ اے اللہ! میں تیرے عہد اور تیرے وعدے کا واسطہ دے کر فریاد کرتا ہوں۔ اے اللہ! اگر تو چاہے تو آج کے بعد تیری عبادت نہ کی جائے گی۔ اس پر ابوبکر ؓ نے آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑ لیا اور عرض کیا: بس کیجئے اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے اپنے رب کے حضور میں دعا کی حد کردی ہے۔ آپ ﷺ اس وقت زرہ پہنے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ باہر تشریف لائے تو زبان مبارک پر یہ آیت تھی سيهزم الجمع ويولون الدبر * بل الساعة موعدهم والساعة أدهى وأمر جماعت (مشرکین) جلد ہی شکست کھا کر بھاگ جائے گی اور پیٹھ دکھانا اختیار کرے گی اور قیامت کے دن کا ان سے وعدہ ہے اور قیامت کا دن بڑا ہی بھیانک اور تلخ ہوگا۔ اور وہیب نے بیان کیا، ان سے خالد نے بیان کیا کہ بدر کے دن کا (یہ واقعہ ہے) ۔
Narrated Ibn Abbas (RA):
The Prophet ﷺ , while in a tent (on the day of the battle of Badr) said, "O Allah! I ask you the fulfillment of Your Covenant and Promise. O Allah! If You wish (to destroy the believers) You will never be worshipped after today." Abu Bakr (RA) caught him by the hand and said, "This is sufficient, O Allahs Apostle ﷺ ! You have asked Allah pressingly." The Prophet ﷺ was clad in his armor at that time. He went out, saying to me: "There multitude will be put to flight and they will show their backs. Nay, but the Hour is their appointed time (for their full recompense) and that Hour will be more grievous and more bitter (than their worldly failure)." (54.45-46) Khalid said that was on the day of the battle of Badr.
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لڑائی میں زرہ پہننا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، وَقَالَ يَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ دِرْعٌ مِنْ حَدِيدٍ، وَقَالَ مُعَلًّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، وَقَالَ: رَهَنَهُ دِرْعًا مِنْ حَدِيدٍ.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں ابراہیم نے، انہیں اسود نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو آپ ﷺ کی زرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع جو کے بدلے میں رہن رکھی ہوئی تھی۔ اور یعلیٰ نے بیان کیا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا کہ لوہے کی زرہ (تھی) اور معلیٰ نے بیان کیا، ان سے عبدالواحد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا کہ آپ ﷺ نے لوہے کی ایک زرہ رہن رکھی تھی۔
Narrated Aisha (RA):
Allahs Apostle ﷺ died while his (iron) armor was mortgaged to a Jew for thirty Sas of barley.
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لڑائی میں زرہ پہننا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ مَثَلُ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ قَدِ اضْطَرَّتْ أَيْدِيَهُمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا، فَكُلَّمَا هَمَّ الْمُتَصَدِّقُ بِصَدَقَتِهِ اتَّسَعَتْ عَلَيْهِ حَتَّى تُعَفِّيَ أَثَرَهُ، وَكُلَّمَا هَمَّ الْبَخِيلُ بِالصَّدَقَةِ انْقَبَضَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ إِلَى صَاحِبَتِهَا وَتَقَلَّصَتْ عَلَيْهِ، وَانْضَمَّتْ يَدَاهُ إِلَى تَرَاقِيهِ، فَسَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: فَيَجْتَهِدُ أَنْ يُوَسِّعَهَا، فَلَا تَتَّسِعُ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن طاؤس نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بخیل (جو زکوٰۃ نہیں دیتا) اور زکوٰۃ دینے والے (سخی) کی مثال دو آدمیوں جیسی ہے، دونوں لوہے کے کرتے (زرہ) پہنے ہوئے ہیں، دونوں کے ہاتھ گردن سے بندھے ہوئے ہیں زکوٰۃ دینے والا (سخی) جب بھی زکوٰۃ کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا کرتہ اتنا کشادہ ہوجاتا ہے کہ زمین پر چلتے میں گھسٹتا جاتا ہے لیکن جب بخیل صدقہ کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ کا ایک ایک حلقہ اس کے بدن پر تنگ ہوجاتا ہے اور اس طرح سکڑ جاتا ہے کہ اس کے ہاتھ اس کی گردن سے جڑ جاتے ہیں۔ ابوہریرہ ؓ نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا پھر بخیل اسے ڈھیلا کرنا چاہتا ہے لیکن وہ ڈھیلا نہیں ہوتا۔
Narrated Abu Hurairah (RA):
The Prophet ﷺ said, "The example of a miser and the one who gives in charity, is like the example of two men wearing iron cloaks so tightly that their arms are raised forcibly towards their collar-bones. So, whenever a charitable person wants to give in charity, his cloak spreads over his body so much so that it wipes out his traces, but whenever the miser wants to give in charity, the rings (of the iron cloak) come closer to each other and press over his body, and his hands gets connected to his collar-bones. Abu Hurairah (RA) heard the Prophet ﷺ saying. "The miser then tries to widen it but in vain."
باب: سفر میں اور لڑائی میں چغہ پہننے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى مُسْلِمٍ هُوَ ابْنُ صُبَيْحٍ ، عَنْمَسْرُوقٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ ، قَالَ: انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَلِحَاجَتِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ فَلَقِيتُهُ بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَأْمِيَّةٌ فَمَضْمَضَ، وَاسْتَنْشَقَ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ، فَذَهَبَ يُخْرِجُ يَدَيْهِ مِنْ كُمَّيْهِ فَكَانَا ضَيِّقَيْنِ فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتُ فَغَسَلَهُمَا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، وَعَلَى خُفَّيْهِ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوالضحیٰ، مسلم نے، جو صبیح کے صاحبزاے ہیں، ان سے مسروق نے بیان کیا اور ان سے مغیرہ بن شعبہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے۔ جب آپ ﷺ واپس ہوئے تو میں پانی لے کر خدمت میں حاضر ہوا، آپ ﷺ شامی جبہ پہنے ہوئے تھے۔ پھر آپ ﷺ نے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنے چہرہ پاک کو دھویا۔ اس کے بعد (ہاتھ دھونے کے لیے) آستین چڑھانے کی کوشش کی لیکن آستین تنگ تھی اس لیے ہاتھوں کو نیچے سے نکالا پھر انہیں دھویا اور سر کا مسح کیا اور دونوں موزوں ہر دو کا بھی مسح کیا۔
Narrated Al-Mughira bin Shuba (RA):
Allahs Apostle ﷺ went out to answer the call of nature and on his return I brought some water to him. He performed the ablution while he was wearing a Shami cloak. He rinsed his mouth and washed his nose by putting water in it and then blowing it out, and washed his face. Then he tried to take out his hands through his sleeves but they were tight, so he took them out from underneath, washed them and passed wet hands over his head and over his leather socks.
باب: لڑائی میں حریر یعنی خالص ریشمی کپڑا پہننا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَخَّصَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَالزُّبَيْرِ فِي قَمِيصٍ مِنْ حَرِيرٍ مِنْ حِكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا.
ہم سے احمد بن مقدام نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر ؓ کو خارش کے مرض کی وجہ سے ریشمی کرتہ پہننے کی اجازت دے دی تھی، جو ان دونوں کو لاحق ہوگئی تھی جو اس مرض میں مفید ہے۔
Narrated Anas (RA):
The Prophet ﷺ allowed Abdur-Rahman bin Auf and Az-Zubair to wear silken shirts because they had a skin disease causing itching.
باب: لڑائی میں حریر یعنی خالص ریشمی کپڑا پہننا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْأَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ والزُّبَيْرَ شَكَوَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي الْقَمْلَ، فَأَرْخَصَ لَهُمَا فِي الْحَرِيرِ، فَرَأَيْتُهُ عَلَيْهِمَا فِي غَزَاةٍ.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس ؓ نے، دوسری سند ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا ان سے قتادۃ نے ان سے انس نے کہ عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر بن عوام ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ سے جوؤں کی شکایت کی تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں ریشمی کپڑے کے استعمال کی اجازت دے دی، پھر میں نے جہاد میں انہیں ریشمی کپڑا پہنے ہوئے دیکھا۔
Narrated Anas (RA):
Abdur Rahman bin Auf and Az-Zubair complained to the Prophet, i.e. about the lice (that caused itching) so he allowed them to wear silken clothes. I saw them wearing such clothes in a holy battle.
باب: لڑائی میں حریر یعنی خالص ریشمی کپڑا پہننا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ، قَالَ: رَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ والزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فِي حَرِيرٍ،
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، انہیں قتادہ نے خبر دی اور ان سے انس ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر بن عوام ؓ کو ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت دے دی تھی۔
Narrated Anas (RA):
The Prophet ﷺ allowed Abdur-Rahman bin Auf and Az-Zubair bin Al-Awwam to wear silk.
باب: لڑائی میں حریر یعنی خالص ریشمی کپڑا پہننا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَخَّصَ أَوْ رُخِّصَ لَهُمَا لِحِكَّةٍ بِهِمَا.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے قتادہ سے سنا اور انہوں نے انس ؓ سے کہ (نبی کریم ﷺ نے) رخصت دی تھی یا (ی ہ بیان کیا کہ) رخصت دی گئی تھی، ان دونوں حضرات کو خارش کی وجہ سے جو ان کو لاحق ہوگئی تھی۔
Narrated Anas (RA):
(Wearing of silk) was allowed to them (i.e. AbdurRahman and Az-Zubair) because of the itching they suffered from.
باب: چھری کا استعمال کرنا درست ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَأْكُلُ مِنْ كَتِفٍ يَحْتَزُّ مِنْهَا، ثُمَّ دُعِيَ إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ وَزَادَ فَأَلْقَى السِّكِّينَ.
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے جعفر بن عمرو بن امیہ نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ شانے کا گوشت (چھری سے) کاٹ کر کھا رہے تھے، پھر نماز کے لیے اذان ہوئی تو آپ ﷺ نے نماز پڑھی لیکن وضو نہیں کیا۔ ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی اور انہیں زہری نے (اس روایت میں) یہ زیادتی بھی موجود ہے کہ (جب آپ ﷺ نماز کے لیے بلائے گئے تو) آپ ﷺ نے چھری ڈال دی۔
Narrated Umaiya Ad-Damri (RA):
I saw the Prophet ﷺ eating of a shoulder (of a sheep) by cutting from it and then he was called to prayer and he prayed without repeating his ablution.Narrated Az-Zuhri (RA):
as above (Hadith No. 173...) and added that the Prophet ﷺ put the knife down.
باب: نصاریٰ سے لڑنے کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ أَنَّعُمَيْرَ بْنَ الْأَسْوَدِ الْعَنْسِيَّ ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ أَتَى عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ وَهُوَ نَازِلٌ فِي سَاحَلِ حِمْصَ وَهُوَ فِي بِنَاءٍ لَهُ وَمَعَهُ أُمُّ حَرَامٍ، قَالَ عُمَيْرٌ: فَحَدَّثَتْنَا أُمُّ حَرَامٍ أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ الْبَحْرَ قَدْ أَوْجَبُوا، قَالَتْ: أُمُّ حَرَامٍ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا فِيهِمْ، قَالَ: أَنْتِ فِيهِمْثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ مَدِينَةَ قَيْصَرَ مَغْفُورٌ لَهُمْ، فَقُلْتُ: أَنَا فِيهِمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: لَا.
ہم سے اسحاق بن یزید دمشقی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ثور بن یزید نے بیان کیا، ان سے خالد بن معدان نے اور ان سے عمیر بن اسود عنسی نے بیان کیا کہ وہ عبادہ بن صامت ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ کا قیام ساحل حمص پر اپنے ہی ایک مکان میں تھا اور آپ کے ساتھ (آپ کی بیوی) ام حرام ؓ بھی تھیں۔ عمیر نے بیان کیا کہ ہم سے ام حرام ؓ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ میری امت کا سب سے پہلا لشکر جو دریائی سفر کر کے جہاد کے لیے جائے گا، اس نے (اپنے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت) واجب کرلی۔ ام حرام ؓ نے بیان کیا کہ میں نے کہا تھا یا رسول اللہ! کیا میں بھی ان کے ساتھ ہوں گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں، تم بھی ان کے ساتھ ہوگی۔ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا سب سے پہلا لشکر میری امت کا جو قیصر (رومیوں کے بادشاہ) کے شہر (قسطنطنیہ) پر چڑھائی کرے گا ان کی مغفرت ہوگی۔ میں نے کہا میں بھی ان کے ساتھ ہوں گی یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا کہ نہیں۔
Narrated Khalid bin Madan (RA):
That Umair bin Al-Aswad Al-Anasi told him that he went to Ubadah bin As-Samit (RA) while he was staying in his house at the sea-shore of Hims with (his wife) Um Haram. Umair said. Um Haram informed us that she heard the Prophet ﷺ saying, "Paradise is granted to the first batch of my followers who will undertake a naval expedition." Um Haram added, I said, O Allahs Apostle ﷺ ! Will I be amongst them? He replied, You are amongst them. The Prophet ﷺ then said, The first army amongst my followers who will invade Caesars City will be forgiven their sins. I asked, Will I be one of them, O Allahs Apostle? He replied in the negative."
باب: یہودیوں سے لڑائی ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: تُقَاتِلُونَ الْيَهُودَ حَتَّى يَخْتَبِيَ أَحَدُهُمْ وَرَاءَ الْحَجَرِ، فَيَقُولُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي فَاقْتُلْهُ.
ہم سے اسحاق بن محمد فروی نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (ایک دور آئے گا جب) تم یہودیوں سے جنگ کرو گے۔ (اور وہ شکست کھا کر بھاگتے پھریں گے) کوئی یہودی اگر پتھر کے پیچھے چھپ جائے گا تو وہ پتھر بھی بول اٹھے گا کہ اے اللہ کے بندے! یہ یہودی میرے پیچھے چھپا بیٹھا ہے اسے قتل کر ڈال۔
Narrated Abdullah bin Umar (RA):
Allahs Apostle ﷺ said, "You (i.e. Muslims) will fight wi the Jews till some of them will hide behind stones. The stones will (betray them) saying, O Abdullah (i.e. slave of Allah)! There is a Jew hiding behind me; so kill him.
باب: یہودیوں سے لڑائی ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنه، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا الْيَهُودَ حَتَّى، يَقُولَ: الْحَجَرُ وَرَاءَهُ الْيَهُودِيُّ يَا مُسْلِمُ هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي فَاقْتُلْهُ.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو جریر نے خبر دی عمارہ بن قعقاع سے، انہیں ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک یہودی سے تمہاری جنگ نہ ہو لے گی اور وہ پتھر بھی اس وقت (اللہ تعالیٰ کے حکم سے) بول اٹھیں گے جس کے پیچھے یہودی چھپا ہوا ہوگا کہ اے مسلمان! یہ یہودی میری آڑ لے کر چھپا ہوا ہے اسے قتل کر ڈالو۔
Narrated Abu Hurairah (RA):
Allahs Apostle ﷺ said, "The Hour will not be established until you fight with the Jews, and the stone behind which a Jew will be hiding will say. "O Muslim! There is a Jew hiding behind me, so kill him."
باب: ترکوں سے جنگ کا میدان۔
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ تُقَاتِلُوا قَوْمًا يَنْتَعِلُونَ نِعَالَ الشَّعَرِ، وَإِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ تُقَاتِلُوا قَوْمًا عِرَاضَ الْوُجُوهِ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ.
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، ان سے جریر بن حازم نے بیان کیا، کہا میں نے حسن سے سنا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عمرو بن تغلب ؓ نے بیان کیا، کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ تم ایسی قوم سے جنگ کرو گے جو بالوں کی جوتیاں پہنے ہوں گے (یا ان کے بال بہت لمبے ہوں گے) اور قیامت کی ایک نشانی یہ ہے کہ ان لوگوں سے لڑو گے جن کے منہ چوڑے چوڑے ہوں گے گویا ڈھالیں ہیں چمڑا جمی ہوئی (یعنی بہت موٹے منہ والے ہوں گے) ۔
Narrated Amr bin Taghlib (RA):
The Prophet ﷺ said, "One of the portents of the Hour is that you will fight with people wearing shoes made of hair; and one of the portents of the Hour is that you will fight with broad-faced people whose faces will look like shields coated with leather."
باب: ترکوں سے جنگ کا میدان۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا التُّرْكَ صِغَارَ الْأَعْيُنِ حُمْرَ الْوُجُوهِ ذُلْفَ الْأُنُوفِ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُهُمُ الشَّعَرُ.
ہم سے سعید بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے باپ ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے اعرج نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم ترکوں سے جنگ نہ کرلو گے، جن کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی، چہرے سرخ ہوں گے، ناک موٹی پھیلی ہوئی ہوگی، ان کے چہرے ایسے ہوں گے جیسے تہ بند چمڑا لگی ہوئی ہوتی ہے اور قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم ایک ایسی قوم سے جنگ نہ کرلو گے جن کے جوتے بال کے بنے ہوئے ہوں گے۔
Narrated Abu Hurairah (RA):
Allahs Apostle ﷺ said, "The Hour will not be established until you fight with the Turks; people with small eyes, red faces, and flat noses. Their faces will look like shields coated with leather. The Hour will not be established till you fight with people whose shoes are made of hair."