جہاد اور سیرت رسول اللہ ﷺ

Sahih Bukhari · Chapter 44 · 392 hadiths · Page 5 of 20

2865Sahih Bukhari

باب: جانور پر رکاب یا غرز لگانا۔

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَدْخَلَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ وَاسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ قَائِمَةً أَهَلَّ مِنْ عِنْدِ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ.

ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے جب اپنا پائے مبارک غرز (رکاب) میں ڈالا اور اونٹنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر سیدھی اٹھ گئی تو آپ ﷺ نے مسجد ذوالحلیفہ کے پاس لبیک کہا (احرام باندھا) ۔

Narrated IbnUmar (RA): When the Prophet ﷺ put his feet in the stirrup and the she-camel got up carrying him he would start reciting Talbiya at the mosque of Dhul-Hulaifa.

2866Sahih Bukhari

باب: گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار ہونا۔

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، اسْتَقْبَلَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَرَسٍ عُرْيٍ مَا عَلَيْهِ سَرْجٌ فِي عُنُقِهِ سَيْفٌ.

ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت نے اور ان سے انس بن مالک ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر جس پر زین نہیں تھی، سوار ہو کر صحابہ سے آگے نکل گئے تھے۔ نبی کریم ﷺ کی گردن مبارک میں تلوار لٹک رہی تھی۔

Narrated Anas (RA): The Prophet ﷺ met them (i.e. the people) while he was riding an unsaddled horse with his sword slung over his shoulder.

2867Sahih Bukhari

باب: سست رفتار گھوڑے پر سوار ہونا۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَزِعُوا مَرَّةً فَرَكِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ كَانَ يَقْطِفُ، أَوْ كَانَ فِيهِ قِطَافٌ فَلَمَّا رَجَعَ، قَالَ: وَجَدْنَا فَرَسَكُمْ هَذَا بَحْرًا، فَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ لَا يُجَارَى.

ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک ؓ نے کہ ایک مرتبہ (رات میں) اہل مدینہ کو دشمن کا خطرہ ہوا تو نبی کریم ﷺ ابوطلحہ ؓ کے ایک گھوڑے (مندوب) پر سوار ہوئے، گھوڑا سست رفتار تھا یا (راوی نے یوں کہا کہ) اس کی رفتار میں سستی تھی، پھر جب آپ ﷺ واپس ہوئے تو فرمایا کہ ہم نے تو تمہارے اس گھوڑے کو دریا پایا (یہ بڑا ہی تیز رفتار ہے) چناچہ اس کے بعد کوئی گھوڑا اس سے آگے نہیں نکل سکتا تھا۔

Narrated Anas bin Malik (RA): Once the people of Madinah were frightened, so the Prophet ﷺ rode a horse belonging to Abu Talha and it ran slowly, or was of narrow paces. When he returned, he said, "I found your (i.e. Abu Talhas) horse very fast. After that the horse could not be surpassed in running..

2868Sahih Bukhari

باب: گھوڑ دوڑ کا بیان۔

حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَجْرَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَمَا ضُمِّرَ مِنَ الْخَيْلِ مِنْ الْحَفْيَاءِ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ، وَأَجْرَى مَا لَمْ يُضَمَّرْ مِنْ الثَّنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَكُنْتُ فِيمَنْ أَجْرَى، قَالَ: عَبْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ، قَالَ سُفْيَانُ: بَيْنَ الْحَفْيَاءِ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ خَمْسَةُ أَمْيَالٍ أَوْ سِتَّةٌ وَبَيْنَ ثَنِيَّةَ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ مِيلٌ.

ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے تیار کئے ہوئے گھوڑوں کی دوڑ مقام حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک کرائی تھی اور جو گھوڑے تیار نہیں کئے گئے تھے ان کی دوڑ ثنیۃ الوداع سے مسجد زریق تک کرائی تھی۔ ابن عمر ؓ نے بیان کیا کہ گھوڑ دوڑ میں شریک ہونے والوں میں میں بھی تھا۔ عبداللہ نے بیان کیا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا کہ حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک پانچ میل کا فاصلہ ہے اور ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق صرف ایک میل کے فاصلے پر ہے۔

Narrated (Abdullah) bin Umar (RA): The Prophet ﷺ arranged for a horse race amongst the horses that had been made lean to take place between Al-Hafya and Thaniyat Al-Wada (i.e. names of two places) and the horses which had not been mad.? lean from Ath-Thaniyat to the mosque of Bani Zuraiq. I was also amongst those who took part in that horse race. Sufyan, a sub-narrator, said, "The distance between Al-Hafya and Thaniya Al-Wada is five or six miles; and between Thaniya and the mosque of Bani Zuraiq is one mile."

2869Sahih Bukhari

باب: گھوڑ دوڑ کے لیے گھوڑوں کو تیار کرنا۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضَمَّرْ وَكَانَ أَمَدُهَا مِنْ الثَّنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ، وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَر كَانَ سَابَقَ بِهَا، قَالَ: أَبُو عَبْد اللَّهِ أَمَدًا غَايَةً فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ.

ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے ان گھوڑوں کی دوڑ کرائی تھی جنہیں تیار نہیں کیا گیا تھا اور دوڑ کی حد ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق رکھی تھی اور عبداللہ بن عمر ؓ نے بھی اس میں شرکت کی تھی۔ ابوعبداللہ نے کہا کہ أمدا (حدیث میں) حد اور انتہا کے معنی میں ہے۔ (قرآن مجید میں ہے) فطال علیہم الامد یعنی پھر ان پر لمبی مدت گزر گئی جو اسی معنی میں ہے۔

Narrated Abdullah (RA): The Prophet ﷺ arranged for a horse race of the horses which had not been made lean; the area of the race was from Ath-Thaniya to the mosque of Bani Zuraiq. (The sub-narrator said, "Abdullah bin Umar was amongst those who participated in that horse race.").

2870Sahih Bukhari

باب: تیار کئے ہوئے گھوڑوں کی دوڑ کی حد کہاں تک ہو۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَابَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَبَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي قَدْ أُضْمِرَتْ فَأَرْسَلَهَا مِنْ الْحَفْيَاءِ، وَكَانَ أَمَدُهَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ، فَقُلْتُ لِمُوسَى: فَكَمْ كَانَ بَيْنَ ذَلِكَ، قَالَ: سِتَّةُ أَمْيَالٍ أَوْ سَبْعَةٌ وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضَمَّرْ، فَأَرْسَلَهَا مِنْ ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ وَكَانَ أَمَدُهَا مَسْجِدَ بَنِي زُرَيْقٍ، قُلْتُ: فَكَمْ بَيْنَ ذَلِكَ، قَالَ: مِيلٌ أَوْ نَحْوُهُ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ مِمَّنْ سَابَقَ فِيهَا.

ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے معاویہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسحاق نے، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ان گھوڑوں کی دوڑ کرائی جنہیں تیار کیا گیا تھا۔ یہ دوڑ مقام حفیاء سے شروع کرائی اور ثنیۃ الوداع اس کی آخری حد تھی (ابواسحاق راوی نے بیان کیا کہ) میں نے ابوموسیٰ سے پوچھا اس کا فاصلہ کتنا تھا؟ تو انہوں نے بتایا کہ چھ یا سات میل اور آپ ﷺ نے ان گھوڑوں کی بھی دوڑ کرائی جنہیں تیار نہیں کیا گیا تھا۔ ایسے گھوڑوں کی دوڑ ثنیۃ الوداع سے شروع ہوئی اور حد مسجد بنی زریق تھی۔ میں نے پوچھا اس میں کتنا فاصلہ تھا؟ انہوں نے کہا کہ تقریباً ایک میل۔ ابن عمر ؓ بھی دوڑ میں شرکت کرنے والوں میں تھے۔

Narrated Abu Ishaq from Musa bin Uqba from Mafia from Ibn Umar (RA) who said: "Allahs Apostle ﷺ arranged a horse race amongst the horses that had been made lean, letting them start from Al-Hafya and their limit (distance of running) was up to Thaniyat-al-Wada. I asked Musa, What was the distance between the two places? Musa replied, Six or seven miles. He arranged a race of the horses which had not been made lean sending them from Thaniyat-al-Wada, and their limit was up to the mosque of Bani Zuraiq. I asked, What was the distance between those two places? He replied One mile or so. Ibn Umar (RA) was amongst those who participated in that horse race."

2871Sahih Bukhari

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کا بیان۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: كَانَتْ نَاقَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُقَالُ لَهَا: الْعَضْبَاءُ.طَوَّلَهُ مُوسَى ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق ابراہیم نے بیان کیا، ان سے حمید نے بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک ؓ سے سنا، آپ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کی اونٹنی کا نام عضباء تھا۔ موسیٰ نے حماد سے اس کی روایت طول کے ساتھ کی ہے، حماد نے ثابت سے، انہوں نے انس ؓ سے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے۔

Narrated Anas (RA): The she camel of the Prophet ﷺ was called Al-Adba.

2872Sahih Bukhari

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کا بیان۔

حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَةٌ تُسَمَّى الْعَضْبَاءَ لَا تُسْبَقُ، قَالَ حُمَيْدٌ: أَوْ لَا تَكَادُ تُسْبَقُ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُودٍ فَسَبَقَهَا فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ حَتَّى عَرَفَهُ، فَقَالَ: حَقٌّ عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يَرْتَفِعَ شَيْءٌ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا وَضَعَهُ،

ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے بیان کیا، ان سے حمید نے اور ان سے انس بن مالک ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ کی ایک اونٹنی تھی جس کا نام عضباء تھا۔ کوئی اونٹنی اس سے آگے نہیں بڑھتی تھی یا حمید نے یوں کہا وہ پیچھے رہ جانے کے قریب نہ ہوتی پھر ایک دیہاتی ایک نوجوان ایک قوی اونٹ پر سوار ہو کر آیا اور آپ ﷺ کی اونٹنی سے ان کا اونٹ آگے نکل گیا۔ مسلمانوں پر یہ بڑا شاق گزرا لیکن جب نبی کریم ﷺ کو اس کا علم ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ برحق ہے کہ دنیا میں جو چیز بھی بلند ہوتی ہے (کبھی کبھی) اسے وہ گراتا بھی ہے۔

Narrated Anas (RA): The Prophet ﷺ had a she camel called Al Adba which could not be excelled in a race. (Humaid, a sub-narrator said, "Or could hardly be excelled.") Once a bedouin came riding a camel below six years of age which surpasses it (i.e. AlAdba) in the race. The Muslims felt it so much that the Prophet ﷺ noticed their distress. He then said, "It is Allahs Law that He brings down whatever rises high in the world."

2873Sahih Bukhari

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید خچر کا بیان۔

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْحَارِثِ ، قَالَ: مَا تَرَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا بَغْلَتَهُ الْبَيْضَاءَ، وَسِلَاحَهُ، وَأَرْضًا تَرَكَهَا صَدَقَةً.

ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابواسحاق نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عمرو بن حارث ؓ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے (وفات کے بعد) سوا اپنے سفید خچر کے، اپنے ہتھیار اور اس زمین کے جو آپ ﷺ نے خیرات کردی تھی اور کوئی چیز نہیں چھوڑی تھی۔

Narrated Amr bin Al-Harith (RA): The Prophet ﷺ did not leave anything behind him after his death except a white mule, his arms and a piece of land which he left to be given in charity.

2874Sahih Bukhari

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید خچر کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَبَا عُمَارَةَ وَلَّيْتُمْ يَوْمَ حُنَيْنٍ، قَالَ: لَا وَاللَّهِ مَا وَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ وَلَّى سَرَعَانُ النَّاسِ، فَلَقِيَهُمْ هَوَازِنُ بِالنَّبْلِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ، وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ آخِذٌ بِلِجَامِهَا، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ.

ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا کہ مجھ سے ابواسحاق نے بیان کیا براء بن عازب ؓ سے کہ ان سے ایک شخص نے پوچھا اے ابوعمارہ! کیا آپ لوگوں نے (مسلمانوں کے لشکر نے) حنین کی لڑائی میں پیٹھ پھیرلی تھی؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں اللہ گواہ ہے نبی کریم ﷺ نے پیٹھ نہیں پھیری تھی البتہ جلد باز لوگ (میدان سے) بھاگ پڑے تھے (اور وہ لوٹ میں لگ گئے تھے) قبیلہ ہوازن نے ان پر تیر برسانے شروع کر دئیے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفید خچر پر سوار تھے اور ابوسفیان بن حارث اس کی لگام تھامے ہوئے تھے۔ نبی کریم ﷺ فرما رہے تھے أنا النبي لا کذب أنا ابن عبد المطلب میں نبی ہوں جس میں جھوٹ کا کوئی دخل نہیں۔ میں عبدالمطلب کی اولاد ہوں۔

Narrated Al-Bara (RA): that a man asked him. "O Abu Umara! Did you flee on the day (of the battle) of Hunain?" He replied, "No, by Allah, the Prophet ﷺ did not flee but the hasty people fled and the people of the Tribe of Hawazin attacked them with arrows, while the Prophet ﷺ was riding his white mule and Abu Sufyan (RA) bin Al-Harith was holding its reins, and the Prophet ﷺ was saying, I am the Prophet ﷺ in truth, I am the son of Abdul Muttalib. "

2875Sahih Bukhari

باب: عورتوں کا جہاد کیا ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: اسْتَأْذَنْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجِهَادِ، فَقَالَ: جِهَادُكُنَّ الْحَجُّ، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بِهَذَا، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بِهَذَا.

ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں معاویہ ابن اسحاق نے، انہیں عائشہ بنت طلحہ نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے جہاد کی اجازت چاہی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارا جہاد حج ہے۔ اور عبداللہ بن ولید نے بیان کیا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا اور ان سے معاویہ نے یہی حدیث نقل کی۔

Narrated Aisha (RA): the mother of the faithful believers, I requested the Prophet ﷺ permit me to participate in Jihad, but he said, "Your Jihad is the performance of Hajj."

2876Sahih Bukhari

باب: عورتوں کا جہاد کیا ہے۔

وَعَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَأَلَهُ نِسَاؤُهُ عَنِ الْجِهَادِ، فَقَالَ: نِعْمَ الْجِهَادُ الْحَجُّ.

ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا اور ان سے معاویہ نے یہی حدیث اور ابوسفیان نے حبیب بن ابی عمرہ سے یہی روایت کی جو عائشہ بنت طلحہ سے ام المؤمنین عائشہ ؓ کے واسطہ سے ہے (اس میں ہے کہ) نبی کریم ﷺ سے آپ کی ازواج مطہرات نے جہاد کی اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ حج بہت ہی عمدہ جہاد ہے۔

Narrated Aisha (RA): the mother of the faithful believers: The Prophet ﷺ was asked by his wives about the Jihad and he replied, "The best Jihad (for you) is (the performance of) Hajj."

2877Sahih Bukhari(2877-2878)

باب: دریا میں سوار ہو کر عورت کا جہاد کرنا۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ هُوَ الْفَزَارِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنَةِ مِلْحَانَ فَاتَّكَأَ عِنْدَهَا، ثُمَّ ضَحِكَ، فَقَالَتْ: لِمَ تَضْحَكُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ الْبَحْرَ الْأَخْضَرَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَثَلُهُمْ مَثَلُ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا مِنْهُمْ ثُمَّ عَادَ فَضَحِكَ، فَقَالَتْ لَهُ: مِثْلَ أَوْ مِمَّ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهَا: مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَتْ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ، وَلَسْتِ مِنَ الْآخِرِينَ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: فَتَزَوَّجَتْ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، فَرَكِبَتِ الْبَحْرَ مَعَ بِنْتِ قَرَظَةَ فَلَمَّا، قَفَلَتْ رَكِبَتْ دَابَّتَهَا فَوَقَصَتْ بِهَا، فَسَقَطَتْ عَنْهَا فَمَاتَتْ.

ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے، ہم سے ابواسحاق نے ان سے عبداللہ بن عبدالرحمٰن انصاری نے بیان کیا کہ میں نے انس ؓ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم ﷺ ام حرام بنت ملحان کے یہاں تشریف لے گئے اور ان کے یہاں تکیہ لگا کر سو گئے پھر آپ ﷺ (اٹھے تو) مسکرا رہے تھے۔ ام حرام نے پوچھا یا رسول اللہ! آپ کیوں ہنس رہے تھے؟ آپ ﷺ نے جواب دیا کہ میری امت کے کچھ لوگ اللہ کے راستے میں (جہاد کے لیے) سبز سمندر پر سوار ہو رہے ہیں ان کی مثال (دنیا یا آخرت میں) تخت پر بیٹھے ہوئے بادشاہوں کی سی ہے۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ سے دعا فرما دیجئیے کہ اللہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ آپ ﷺ نے دعا کی اے اللہ! انہیں بھی ان لوگوں میں سے کر دے پھر دوبارہ آپ ﷺ لیٹے اور (اٹھے) تو مسکرا رہے تھے۔ انہوں نے اس مرتبہ بھی آپ ﷺ سے وہی سوال کیا اور آپ ﷺ نے بھی پہلی ہی وجہ بتائی۔ انہوں نے پھر عرض کیا آپ ﷺ دعا کر دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان میں سے کر دے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم سب سے پہلے لشکر میں شریک ہوگی اور یہ کہ بعد والوں میں تمہاری شرکت نہیں ہے۔ انس ؓ نے بیان کیا کہ پھر آپ نے (ام حرام نے) عبادہ بن صامت ؓ کے ساتھ نکاح کرلیا اور بنت قرظ معاویہ ؓ کی بیوی کے ساتھ انہوں نے دریا کا سفر کیا۔ پھر جب واپس ہوئیں اور اپنی سواری پر چڑھیں تو اس نے ان کی گردن توڑ ڈالی۔ وہ اس سواری سے گرگئیں اور (اسی میں) ان کی وفات ہوئی۔

Narrated Anas (RA): Allahs Apostle ﷺ went to the daughter of Milhan and reclined there (and slept) and then (woke up) smiling. She asked, "O Allahs Apostle ﷺ ! What makes you smile?" He replied, (I dreamt that) some people amongst my followers were sailing on the green sea in Allahs Cause, resembling kings on thrones." She said, "O Allahs Apostle ﷺ ! Invoke Allah to make me one of them." He said, "O Allah! Let her be one of them." Then he (slept again and woke up and) smiled. She asked him the same question and he gave the same reply. She said, "Invoke Allah to make me one of them." He replied, You will be amongst the first group of them; you will not be amongst the last." Later on she married Ubadahh bin As-Samit and then she sailed on the sea with bint Qaraza, Muawiyas wife (for Jihad). On her return, she mounted her riding animal, which threw her down breaking her neck, and she died on falling down.

2879Sahih Bukhari

باب: آدمی جہاد میں اپنی ایک بیوی کو لے جائے ایک کو نہ لے جائے (یہ درست ہے)۔

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ النُّمَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُعُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، وَعَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ ، وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ كُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنَ الْحَدِيثِ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ، فَأَيَّتُهُنَّ يَخْرُجُ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْرَعَ بَيْنَنَا فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا، فَخَرَجَ فِيهَا سَهْمِي، فَخَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا أُنْزِلَ الْحِجَابُ.

ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن عمر نمیری نے، انہوں نے کہا ہم سے یونس بن یزید ایلی نے بیان کیا، کہا میں نے ابن شہاب زہری سے سنا، کہا کہ میں نے عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ سے عائشہ ؓ کی حدیث سنی، ان چاروں نے عائشہ ؓ کی یہ حدیث مجھ سے تھوڑی تھوڑی بیان کی۔ عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم ﷺ باہر تشریف لے جانا چاہتے (جہاد کے لیے) تو اپنی ازواج میں قرعہ ڈالتے اور جس کا نام نکل آتا انہیں آپ ﷺ اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔ ایک غزوہ کے موقع پر آپ ﷺ نے ہمارے درمیان قرعہ اندازی کی تو اس مرتبہ میرا نام آیا اور میں آپ ﷺ کے ساتھ گئی، یہ پردے کا حکم نازل ہونے کے بعد کا واقعہ ہے۔

Narrated Aisha (RA): Whenever the Prophet ﷺ intended to proceed on a journey, he used to draw lots amongst his wives and would take the one upon whom the lot fell. Once, before setting out for Jihad, he drew lots amongst us and the lot came to me; so I went with the Prophet; and that happened after the revelation of the Verse Hijab (i.e. veiling).

2880Sahih Bukhari

باب: عورتوں کا جنگ کرنا اور مردوں کے ساتھ لڑائی میں شرکت کرنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ انْهَزَمَ النَّاسُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَلَقَدْ رَأَيْتُ عَائِشَةَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ وَأُمَّ سُلَيْمٍ وَإِنَّهُمَا لَمُشَمِّرَتَانِ أَرَى خَدَمَ سُوقِهِمَا تَنْقُزَانِ الْقِرَبَ، وَقَالَ غَيْرُهُ: تَنْقُلَانِ الْقِرَبَ عَلَى مُتُونِهِمَا، ثُمَّ تُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ، ثُمَّ تَرْجِعَانِ فَتَمْلَآَنِهَا، ثُمَّ تَجِيئَانِ فَتُفْرِغَانِهَا فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ.

ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک ؓ نے بیان کیا کہ احد کی لڑائی کے موقع پر مسلمان نبی کریم ﷺ کے پاس سے جدا ہوگئے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ بنت ابی بکر اور ام سلیم ؓ (انس ؓ کی والدہ) کو دیکھا کہ یہ اپنے ازار سمیٹے ہوئے تھیں اور (تیز چلنے کی وجہ سے) پانی کے مشکیزے چھلکاتی ہوئی لیے جا رہی تھیں اور ابومعمر کے علاوہ جعفر بن مہران نے بیان کیا کہ مشکیزے کو اپنی پشت پر ادھر سے ادھر جلدی جلدی لیے پھرتی تھیں اور قوم کو اس میں سے پانی پلاتی تھیں، پھر واپس آتی تھیں اور مشکیزوں کو بھر کرلے جاتی تھیں اور قوم کو پانی پلاتی تھیں، میں ان کے پاؤں کی پازیبیں دیکھ رہا تھا۔

Narrated Anas (RA): On the day (of the battle) of Uhad when (some) people retreated and left the Prophet, I saw Aisha bint Abu Bakr (RA) and Um Sulaim, with their robes tucked up so that the bangles around their ankles were visible hurrying with their water skins (in another narration it is said, "carrying the water skins on their backs"). Then they would pour the water in the mouths of the people, and return to fill the water skins again and came back again to pour water in the mouths of the people.

2881Sahih Bukhari

باب: جہاد میں عورتوں کا مردوں کے پاس مشکیزہ اٹھا کر لے جانا۔

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ ثَعْلَبَةُ بْنُ أَبِي مَالِكٍ : إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُقَسَمَ مُرُوطًا بَيْنَ نِسَاءٍ مِنْ نِسَاءِ الْمَدِينَةِ فَبَقِيَ مِرْطٌ جَيِّدٌ، فَقَالَ لَهُ: بَعْضُ مَنْ عِنْدَهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَعْطِ هَذَا ابْنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي عِنْدَكَ يُرِيدُونَ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ عَلِيٍّ، فَقَالَ عُمَرُ: أُمُّ سَلِيطٍ أَحَقُّ، وَأُمُّ سَلِيطٍ مِنْ نِسَاءِ الْأَنْصَارِ، مِمَّنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عُمَرُ: فَإِنَّهَا كَانَتْ تَزْفِرُ لَنَا الْقِرَبَ يَوْمَ أُحُدٍ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: تَزْفِرُ تَخِيطُ.

ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، ان سے ثعلبہ بن ابی مالک نے کہا کہ عمر بن خطاب ؓ نے مدینہ کی خواتین میں کچھ چادریں تقسیم کیں۔ ایک نئی چادر بچ گئی تو بعض حضرات نے جو آپ کے پاس ہی تھے کہا یا امیرالمؤمنین! یہ چادر رسول اللہ ﷺ کی نواسی کو دے دیجئیے، جو آپ کے گھر میں ہیں۔ ان کی مراد (آپ کی بیوی) ام کلثوم بنت علی ؓ سے تھی لیکن عمر ؓ نے جواب دیا کہ ام سلیط اس کی زیادہ مستحق ہیں۔ یہ ام سلیط ؓ ان انصاری خواتین میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی تھی۔ عمر ؓ نے فرمایا کہ آپ احد کی لڑائی کے موقع پر ہمارے لیے مشکیزے (پانی کے) اٹھا کر لاتی تھیں۔ ابوعبداللہ (امام بخاری (رح)) نے کہا (حدیث میں) لفظ تزفر کا معنی یہ ہے کہ سیتی تھی۔

Narrated Thalaba bin Abi Malik (RA): Umar bin Al-Khattab (RA) distributed some garments amongst the women of Medina. One good garment remained, and one of those present with him said, "O chief of the believers! Give this garment to your wife, the (grand) daughter of Allahs Apostle." They meant Um Kulthum, the daughter of Ali. Umar said, Um Salit has more right (to have it)." Um Salit was amongst those Ansari women who had given the pledge of allegiance to Allahs Apostle. Umar said, "She (i.e. Um Salit) used to carry the water skins for us on the day of Uhud."

2882Sahih Bukhari

باب: جہاد میں عورتیں زخمیوں کی مرہم پٹی کر سکتی ہیں۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ ، قَالَتْ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَسْقِي وَنُدَاوِي الْجَرْحَى، وَنَرُدُّ الْقَتْلَى إِلَى الْمَدِينَةِ.

ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن ذکوان نے بیان کیا، ان سے ربیع بنت معوذ ؓ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ (غزوہ میں) شریک ہوتے تھے، مسلمان فوجیوں کو پانی پلاتیں تھیں زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں اور جو لوگ شہید ہوجاتے انہیں مدینہ اٹھا کر لاتیں تھیں۔

Narrated Ar-Rubayyi bint Muauwidh (RA): We were in the company of the Prophet ﷺ providing the wounded with water and treating them and bringing the killed to Madinah (from the battle field) .

2883Sahih Bukhari

باب: زخمیوں اور شہیدوں کو عورتیں لے کر جا سکتی ہیں۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ ذَكْوَانَ ، عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ ، قَالَتْ: كُنَّا نَغْزُو مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفَنَسْقِي الْقَوْمَ وَنَخْدُمُهُمْ، وَنَرُدُّ الْجَرْحَى، وَالْقَتْلَى إِلَى الْمَدِينَةِ.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، ان سے خالد بن ذکوان نے اور ان سے ربیع بنت معوذ ؓ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ جہاد میں شریک ہوتیں تھیں مجاہد مسلمانوں کو پانی پلاتیں، ان کی خدمت کرتیں اور زخمیوں اور شہیدوں کو اٹھا کر مدینہ لے جاتیں تھیں۔

Narrated Ar-Rabibint Muauwidh (RA): We used to take part in holy battles with the Prophet ﷺ by providing the people with water and serving them and bringing the killed and the wounded back to Medina.

2884Sahih Bukhari

باب: (مجاہدین کے) جسم سے تیر کا کھینچ کر نکالنا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: رُمِيَ أَبُو عَامِرٍ فِي رُكْبَتِهِ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ، قَالَ: انْزِعْ هَذَا السَّهْمَ فَنَزَعْتُهُ فَنَزَا مِنْهُ الْمَاءُ، فَدَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعُبَيْدٍ أَبِي عَامِرٍ.

ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے یزید بن عبداللہ نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے ان سے ابوموسیٰ اشعری ؓ نے بیان کیا کہ ابوعامر ؓ کے گھٹنے میں تیر لگا تو میں ان کے پاس پہنچا۔ انہوں نے فرمایا کہ اس تیر کو کھینچ کر نکال لو میں نے کھینچ لیا تو اس سے خون بہنے لگا پھر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ کو اس حادثہ کی اطلاع دی تو آپ ﷺ نے (ان کے لیے) دعا فرمائی اللهم اغفر لعبيد أبي عامر اے اللہ! عبید ابوعامر کی مغفرت فرما۔

Narrated Abu Musa (RA): Abu Amir was hit with an arrow in his knee, so I went to him and he asked me to remove the arrow. When I removed it, the water started dribbling from it. Then I went to the Prophet ﷺ and told him about it. He said, "O Allah! Forgive Ubaid Abu Amir."

2885Sahih Bukhari

باب: اللہ کے راستے میں جہاد میں پہرہ دینا کیسا ہے؟

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَسَهِرَ فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ، قَالَ: لَيْتَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِي صَالِحًا يَحْرُسُنِي اللَّيْلَةَ إِذْ سَمِعْنَا صَوْتَ سِلَاحٍ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا، فَقَالَ: أَنَا سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ جِئْتُ لِأَحْرُسَكَ، وَنَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ہم سے اسماعیل بن خلیل نے بیان کیا، کہا ہم کو علی بن مسہر نے خبر دی، کہا ہم کو یحییٰ بن سعید نے خبر دی، کہا ہم کو عبداللہ بن ربیعہ بن عامر نے خبر دی، کہا کہ میں نے عائشہ ؓ سے سنا، آپ بیان کرتی تھیں کہ نبی کریم ﷺ نے (ایک رات) بیداری میں گزاری، مدینہ پہنچنے کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا کاش! میرے اصحاب میں سے کوئی نیک مرد ایسا ہوتا جو رات بھر ہمارا پہرہ دیتا! ابھی یہی باتیں ہو رہی تھیں کہ ہم نے ہتھیار کی جھنکار سنی۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا یہ کون صاحب ہیں؟ (آنے والے نے) کہا میں ہوں سعد بن ابی وقاص، آپ کا پہرہ دینے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ پھر نبی کریم ﷺ خوش ہوئے۔ ان کے لیے دعا فرمائی اور آپ سو گئے۔

Narrated Aisha (RA): The Prophet ﷺ was vigilant one night and when he reached Medina, he said, "Would that a pious man from my companions guard me tonight!" Suddenly we heard the clatter of arms. He said, "Who is that? " He (The new comer) replied, " I am Sad bin Abi Waqqas and have come to guard you." So, the Prophet ﷺ slept (that night).