حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَنَسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانَ جِذْعٌ يَقُومُ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا وُضِعَ لَهُ الْمِنْبَرُ سَمِعْنَا لِلْجِذْعِ مِثْلَ أَصْوَاتِ الْعِشَارِ حَتَّى نَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ، قَالَ سُلَيْمَانُ : عَنْ يَحْيَى ، أَخْبَرَنِيحَفْصُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا .
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن جعفر بن ابی کثیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھے یحییٰ بن سعید نے خبر دی، کہا کہ مجھے حفص بن عبداللہ بن انس نے خبر دی، انہوں نے جابر بن عبداللہ ؓ سے سنا کہ ایک کھجور کا تنا تھا جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگا کر کھڑے ہوا کرتے تھے۔ جب آپ ﷺ کے لیے منبر بن گیا (آپ ﷺ نے اس تنے پر ٹیک نہیں لگایا) تو ہم نے اس سے رونے کی آواز سنی جیسے دس مہینے کی گابھن اونٹنی آواز کرتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے منبر سے اتر کر اپنا ہاتھ اس پر رکھا (تب وہ آواز موقوف ہوئی) اور سلیمان نے یحییٰ سے یوں حدیث بیان کی کہ مجھے حفص بن عبیداللہ بن انس نے خبر دی اور انہوں نے جابر سے سنا۔
Narrated Jabir bin Abdullah (RA): The Prophet ﷺ used to stand by a stem of a date-palm tree (while delivering a sermon). When the pulpit was placed for him we heard that stem crying like a pregnant she-camel till the Prophet ﷺ got down from the pulpit and placed his hand over it.
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: مَنْ جَاءَ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے سالم نے، ان سے ان کے باپ (ابن عمر ؓ) نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی الہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ ﷺ نے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ جو جمعہ کے لیے آئے وہ پہلے غسل کرلیا کرے۔
Narrated Salim (RA): My father said, "I heard the Prophet ﷺ delivering the Khutba on the pulpit and he said, Whoever comes for the Jumua prayer should take a bath (before coming). "
باب: خطبہ کھڑے ہو کر پڑھنا۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَائِمًا، ثُمَّ يَقْعُدُ، ثُمَّ يَقُومُ كَمَا تَفْعَلُونَ الْآنَ.
ہم سے عبیداللہ بن عمر قواریری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبیداللہ بن عمر نے نافع سے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے۔ پھر بیٹھ جاتے اور پھر کھڑے ہوتے جیسے تم لوگ بھی آج کل کرتے ہو۔
Narrated Ibn Umar (RA): The Prophet ﷺ used to deliver the Khutba while standing and then he would sit, then stand again as you do now-a-days.
باب: امام جب خطبہ دے تو لوگ امام کی طرف رخ کریں۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى الْمِنْبَرِ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ.
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام دستوائی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کیا، ان سے ہلال بن ابی میمونہ نے، انہوں نے کہا ہم سے عطاء بن یسار نے بیان کیا، انہوں نے ابو سعید خدری ؓ سے سنا کہ نبی کریم ﷺ ایک دن منبر پر تشریف فرما ہوئے اور ہم سب آپ ﷺ کے ارد گرد بیٹھ گئے۔
Narrated Abu Said Al-Khudri(RA): One day the Prophet ﷺ sat on the pulpit and we sat around him.
باب: خطبہ میں اللہ کی حمد و ثنا کے بعد امابعد کہنا۔
وَقَالَ مَحْمُودٌ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ، قُلْتُ: مَا شَأْنُ النَّاسِ ؟ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَقُلْتُ: آيَةٌ، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَيْ نَعَمْ، قَالَتْ: فَأَطَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِدًّا حَتَّى تَجَلَّانِي الْغَشْيُ وَإِلَى جَنْبِي قِرْبَةٌ فِيهَا مَاءٌ فَفَتَحْتُهَا فَجَعَلْتُ أَصُبُّ مِنْهَا عَلَى رَأْسِي فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَخَطَبَ النَّاسَ وَحَمِدَ اللَّهَ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، قَالَتْ: وَلَغَطَ نِسْوَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَانْكَفَأْتُ إِلَيْهِنَّ لِأُسَكِّتَهُنَّ فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ مَا قَالَ، قَالَتْ: قَالَ: مَا مِنْ شَيْءٍ لَمْ أَكُنْ أُرِيتُهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا حَتَّى الْجَنَّةَ وَالنَّارَ، وَإِنَّهُ قَدْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ مِثْلَ أَوْ قَرِيبَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، يُؤْتَى أَحَدُكُمْ فَيُقَالُ لَهُ مَا عِلْمُكَ بِهَذَا الرَّجُلِ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ أَوْ قَالَ الْمُوقِنُ شَكَّ هِشَامٌ، فَيَقُولُ هُوَ رَسُولُ اللَّهِ هُوَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى، فَآمَنَّا وَأَجَبْنَا وَاتَّبَعْنَا وَصَدَّقْنَا، فَيُقَالُ لَهُ: نَمْ صَالِحًا قَدْ كُنَّا نَعْلَمُ إِنْ كُنْتَ لَتُؤْمِنُ بِهِ، وَأَمَّا الْمُنَافِقُ أَوْ قَالَ الْمُرْتَابُ شَكَّ هِشَامٌ فَيُقَالُ لَهُ: مَا عِلْمُكَ بِهَذَا الرَّجُلِ، فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا، فَقُلْتُ: قَالَ هِشَامٌ: فَلَقَدْ قَالَتْ لِي فَاطِمَةُ فَأَوْعَيْتُهُ غَيْرَ أَنَّهَا ذَكَرَتْ مَا يُغَلِّظُ عَلَيْهِ.
اور محمود بن غیلان (امام بخاری (رح) کے استاذ) نے کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا کہ ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہ مجھے فاطمہ بنت منذر نے خبر دی، ان سے اسماء بنت ابی بکر ؓ نے، انہوں نے کہا کہ میں عائشہ ؓ کے پاس گئی۔ لوگ نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے (اس بےوقت نماز پر تعجب سے پوچھا کہ) یہ کیا ہے؟ عائشہ ؓ نے سر سے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ میں نے پوچھا کیا کوئی نشانی ہے؟ انہوں نے سر کے اشارہ سے ہاں کہا (کیونکہ سورج گہن ہوگیا تھا) اسماء ؓ نے کہا کہ نبی کریم ﷺ دیر تک نماز پڑھتے رہے۔ یہاں تک کہ مجھ کو غشی آنے لگی۔ قریب ہی ایک مشک میں پانی بھرا رکھا تھا۔ میں اسے کھول کر اپنے سر پر پانی ڈالنے لگی۔ پھر جب سورج صاف ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ نے نماز ختم کردی۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے خطبہ دیا۔ پہلے اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے مناسب تعریف بیان کی۔ اس کے بعد فرمایا امابعد! اتنا فرمانا تھا کہ کچھ انصاری عورتیں شور کرنے لگیں۔ اس لیے میں ان کی طرف بڑھی کہ انہیں چپ کراؤں (تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات اچھی طرح سن سکوں مگر میں آپ کا کلام نہ سن سکی) تو پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کیا فرمایا؟ انہوں نے بتایا کہ آپ نے فرمایا کہ بہت سی چیزیں جو میں نے اس سے پہلے نہیں دیکھی تھیں، آج اپنی اس جگہ سے میں نے انہیں دیکھ لیا۔ یہاں تک کہ جنت اور دوزخ تک میں نے آج دیکھی۔ مجھے وحی کے ذریعہ یہ بھی بتایا گیا کہ قبروں میں تمہاری ایسی آزمائش ہوگی جیسے کانے دجال کے سامنے یا اس کے قریب قریب۔ تم میں سے ہر ایک کے پاس فرشتہ آئے گا اور پوچھے گا کہ تو اس شخص کے بارے میں کیا اعتقاد رکھتا تھا؟ مومن یا یہ کہا کہ یقین والا (ہشام کو شک تھا) کہے گا کہ وہ محمد رسول اللہ ﷺ ہیں، ہمارے پاس ہدایت اور واضح دلائل لے کر آئے، اس لیے ہم ان پر ایمان لائے، ان کی دعوت قبول کی، ان کی اتباع کی اور ان کی تصدیق کی۔ اب اس سے کہا جائے گا کہ تو تو صالح ہے، آرام سے سو جا۔ ہم پہلے ہی جانتے تھے کہ تیرا ان پر ایمان ہے۔ ہشام نے شک کے اظہار کے ساتھ کہا کہ رہا منافق یا شک کرنے والا تو جب اس سے پوچھا جائے گا کہ تو اس شخص کے بارے میں کیا کہتا ہے تو وہ جواب دے گا کہ مجھے نہیں معلوم میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے سنا اسی کے مطابق میں نے بھی کہا۔ ہشام نے بیان کیا کہ فاطمہ بنت منذر نے جو کچھ کہا تھا۔ میں نے وہ سب یاد رکھا۔ لیکن انہوں نے قبر میں منافقوں پر سخت عذاب کے بارے میں جو کچھ کہا وہ مجھے یاد نہیں رہا۔
Narrated Fatima bint Al-Mundhir:
Asma bint Abi Bakr As-Siddiq said, "I went to Aishah and the people were offering Salat. I asked her, What is wrong with the people ? She pointed towards the sky with her head. I asked her, Is there a sign ? Aishah nodded with her head meaning Yes." Asma added, "Allahs Messenger ﷺ prolonged the Salat to such an extent that I fainted. There was a waterskin by my side and I opened it and poured some water on my head. When Allahs Messenger ﷺ finished Salat, and the solar eclipse had cleared, the Prophet ﷺ addressed the people and praised Allah as He deserves and said, Amma badu." Asma further said, "Some Ansari women started talking, so I turned to them in order to make them quiet. I asked Aishah what the Prophet ﷺ had said. Aishah said: He said, I have seen things at this place of mine which were never shown to me before; (I have seen) even Paradise and Hell. And, no doubt it has been revealed to me that you (people) will be put in trial in your graves like or nearly like the trial of Masih Ad-Dajjal. (The angels) will come to everyone of you and ask him, What do you know about this man (Prophet Muhammad ﷺ)?" The faithful believer or firm believer (Hisham was in doubt which word the Prophet ﷺ used), will say, He is Allahs Messenger ﷺ and he is Muhammad ﷺ who came to us with clear evidences and guidance. So we believed him, accepted his teachings and followed and trusted his teaching. Then the angels will tell him to sleep (in peace) as they have come to know that he was a believer. But the hypocrite or a doubtful person (Hisham is not sure as to which word the Prophet ﷺ used), will be asked what he knew about this man (Prophet Muhammed ﷺ). He will say, I do not know but I heard the people saying something (about him) so I said the same " Hisham added, "Fatima told me that she remembered that narration completely by heart except that she said about the hypocrite or a doubtful person that he will be punished severely."
باب: خطبہ میں اللہ کی حمد و ثنا کے بعد امابعد کہنا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِمَالٍ أَوْ سَبْيٍ فَقَسَمَهُ فَأَعْطَى رِجَالًا وَتَرَكَ رِجَالًا، فَبَلَغَهُ أَنَّ الَّذِينَ تَرَكَ عَتَبُوا فَحَمِدَ اللَّهَ، ثُمَّ أَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ وَأَدَعُ الرَّجُلَ، وَالَّذِي أَدَعُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الَّذِي أُعْطِي، وَلَكِنْ أُعْطِي أَقْوَامًا لِمَا أَرَى فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الْجَزَعِ وَالْهَلَعِ وَأَكِلُ أَقْوَامًا إِلَى مَا جَعَلَ اللَّهُ فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الْغِنَى وَالْخَيْرِ فِيهِمْ عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ، فَوَاللَّهِ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِكَلِمَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُمْرَ النَّعَمِ، تَابَعَهُ يُونُسُ .
ہم سے محمد بن معمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعاصم نے جریر بن حازم سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے امام حسن بصری سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے عمرو بن تغلب ؓ سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ مال آیا یا کوئی چیز آئی۔ آپ نے بعض صحابہ کو اس میں سے عطا کیا اور بعض کو کچھ نہیں دیا۔ پھر آپ کو معلوم ہوا کہ جن لوگوں کو آپ نے نہیں دیا تھا انہیں اس کا رنج ہوا، اس لیے آپ نے اللہ کی حمد و تعریف کی پھر فرمایا امابعد! اللہ کی قسم! میں بعض لوگوں کو دیتا ہوں اور بعض کو نہیں دیتا لیکن میں جس کو نہیں دیتا وہ میرے نزدیک ان سے زیادہ محبوب ہیں جن کو میں دیتا ہوں۔ میں تو ان لوگوں کو دیتا ہوں جن کے دلوں میں بےصبری اور لالچ پاتا ہوں لیکن جن کے دل اللہ تعالیٰ نے خیر اور بےنیاز بنائے ہیں، میں ان پر بھروسہ کرتا ہوں۔ عمرو بن تغلب بھی ان ہی لوگوں میں سے ہیں۔ اللہ کی قسم! میرے لیے رسول اللہ ﷺ کا یہ ایک کلمہ سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب ہے۔
Narrated Amr bin Taghlib (RA): Some property or something was brought to Allahs Apostle ﷺ and he distributed it. He gave to some men and ignored the others. Later he got the news of his being admonished by those whom he had ignored. So he glorified and praised Allah and said, "Amma badu. By Allah, I may give to a man and ignore another, although the one whom I ignore is more beloved to me than the one whom I give. But I give to some people as I feel that they have no patience and no contentment in their hearts and I leave those who are patient and self-contented with the goodness and wealth which Allah has put into their hearts and Amr bin Taghlib is one of them." Amr added, By Allah! Those words of Allahs Apostle ﷺ are more beloved to me than the best red camels.
باب: خطبہ میں اللہ کی حمد و ثنا کے بعد امابعد کہنا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ، فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ فَصَلَّى رِجَالٌ بِصَلَاتِهِ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ فَتَحَدَّثُوا فَاجْتَمَعَ أَكْثَرُ مِنْهُمْ فَصَلَّوْا مَعَهُ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ فَتَحَدَّثُوا فَكَثُرَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ، فَلَمَّا كَانَتِ اللَّيْلَةُ الرَّابِعَةُ عَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنْ أَهْلِهِ حَتَّى خَرَجَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ، فَلَمَّا قَضَى الْفَجْرَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَتَشَهَّدَ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ مَكَانُكُمْ لَكِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ فَتَعْجِزُوا عَنْهَا، تَابَعَهُ يُونُسُ .
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے عقیل سے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، انہوں نے کہا کہ مجھے عروہ نے خبر دی کہ عائشہ ؓ نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے رات کے وقت اٹھ کر مسجد میں نماز پڑھی اور چند صحابہ بھی آپ ﷺ کی اقتداء میں نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے۔ صبح کو ان صحابہ (رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے دوسرے لوگوں سے اس کا ذکر کیا چناچہ (دوسرے دن) اس سے بھی زیادہ جمع ہوگئے اور آپ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی۔ دوسری صبح کو اس کا چرچا اور زیادہ ہوا پھر کیا تھا تیسری رات بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوگئے اور جب رسول اللہ ﷺ اٹھے تو صحابہ ؓ نے آپ ﷺ کے پیچھے نماز شروع کردی۔ چوتھی رات جو آئی تو مسجد میں نمازیوں کی کثرت سے تل رکھنے کی بھی جگہ نہیں تھی۔ لیکن آج رات نبی کریم ﷺ نے یہ نماز نہ پڑھائی اور فجر کی نماز کے بعد لوگوں سے فرمایا، پہلے آپ نے کلمہ شہادت پڑھا پھر فرمایا۔ امابعد! مجھے تمہاری اس حاضری سے کوئی ڈر نہیں لیکن میں اس بات سے ڈرا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ کردی جائے، پھر تم سے یہ ادا نہ ہو سکے۔ اس روایت کی متابعت یونس نے کی ہے۔
Narrated Aisha (RA): Once in the middle of the night Allahs Apostle ﷺ went out and prayed in the mosque and some men prayed with him. The next morning the people spoke about it and so more people gathered and prayed with him (in the second night). They circulated the news in the morning, and so, on the third night the number of people increased greatly. Allahs Apostle ﷺ came out and they prayed behind him. On the fourth night the mosque was overwhelmed by the people till it could not accommodate them. Allahs Apostle ﷺ came out only for the Fajr prayer and when he finished the prayer, he faced the people and recited "Tashah-hud" (I testify that none has the right to be worshipped but Allah and that Muhammad is His Apostle) ﷺ , and then said, "Amma badu. Verily your presence (in the mosque at night) was not hidden from me, but I was afraid that this prayer (Prayer of Tahajjud) might be made compulsory and you might not be able to carry it out."
باب: خطبہ میں اللہ کی حمد و ثنا کے بعد امابعد کہنا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَشِيَّةً بَعْدَ الصَّلَاةِ فَتَشَهَّدَ وَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، تَابَعَهُأَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، تَابَعَهُ الْعَدَنِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ فِي أَمَّا بَعْدُ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے عروہ نے ابو حمید ساعدی ؓ سے خبر دی کہ نبی کریم ﷺ نماز عشاء کے بعد کھڑے ہوئے۔ پہلے آپ نے کلمہ شہادت پڑھا، پھر اللہ تعالیٰ کے لائق اس کی تعریف کی، پھر فرمایا امابعد! زہری کے ساتھ اس روایت کی متابعت ابومعاویہ اور ابواسامہ نے ہشام سے کی، انہوں نے اپنے والد عروہ سے اس کی روایت کی، انہوں نے ابوحمید سے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے کہ آپ ﷺ نے فرمایا امابعد! اور ابوالیمان کے ساتھ اس حدیث کو محمد بن یحییٰ نے بھی سفیان سے روایت کیا۔ اس میں صرف امابعد ہے۔
Narrated Abu Hummaid As-Saidi One night Allahs Apostle ﷺ stood up after the prayer and recited "Tashah-hud" and then praised Allah as He deserved and said, "Amma badu."
باب: خطبہ میں اللہ کی حمد و ثنا کے بعد امابعد کہنا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ حِينَ تَشَهَّدَ يَقُولُ: أَمَّا بَعْدُ، تَابَعَهُ الزُّبَيْدِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ .
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی، کہا کہ مجھ سے علی بن حسین نے مسور بن مخرمہ ؓ سے حدیث بیان کی کہ نبی کریم ﷺ کھڑے ہوئے۔ میں نے سنا کہ کلمہ شہادت کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا امابعد! شعیب کے ساتھ اس روایت کی متابعت محمد بن ولید زبیدی نے زہری سے کی ہے۔
Narrated Al-Miswar bin Makhrama (RA): Once Allahs Apostle ﷺ got up for delivering the Khutba and I heard him after "Tashah-hud" saying "Amma badu."
باب: خطبہ میں اللہ کی حمد و ثنا کے بعد امابعد کہنا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْغَسِيلِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: صَعِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ، وَكَانَ آخِرَ مَجْلِسٍ جَلَسَهُ مُتَعَطِّفًا مِلْحَفَةً عَلَى مَنْكِبَيْهِ قَدْ عَصَبَ رَأْسَهُ بِعِصَابَةٍ دَسِمَةٍ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ إِلَيَّ، فَثَابُوا إِلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنْ الْأَنْصَارِ يَقِلُّونَ وَيَكْثُرُ النَّاسُ، فَمَنْ وَلِيَ شَيْئًا مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَطَاعَ أَنْ يَضُرَّ فِيهِ أَحَدًا أَوْ يَنْفَعَ فِيهِ أَحَدًا فَلْيَقْبَلْ مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَيَتَجَاوَزْ عَنْ مُسِيئِهِمْ.
ہم سے اسماعیل بن ابان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن غسیل عبدالرحمٰن بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عکرمہ نے ابن عباس ؓ کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ منبر پر تشریف لائے۔ منبر پر یہ آپ کی آخری بیٹھک تھی۔ آپ دونوں شانوں سے چادر لپیٹے ہوئے تھے اور سر مبارک پر ایک پٹی باندھ رکھی تھی۔ آپ نے حمد و ثنا کے بعد فرمایا لوگو! میری بات سنو۔ چناچہ لوگ آپ کی طرف کلام مبارک سننے کے لیے متوجہ ہوگئے۔ پھر آپ نے فرمایا امابعد! یہ قبیلہ انصار کے لوگ (آنے والے دور میں) تعداد میں بہت کم ہوجائیں گے پس محمد ﷺ کی امت کا جو شخص بھی حاکم ہو اور اسے نفع و نقصان پہنچانے کی طاقت ہو تو انصار کے نیک لوگوں کی نیکی قبول کرے اور ان کے برے کی برائی سے درگزر کرے۔
Narrated Ibn Abbas (RA): Once the Prophet ﷺ ascended the pulpit and it was the last gathering in which he took part. He was covering his shoulder with a big cloak and binding his head with an oily bandage. He glorified and praised Allah and said, "O people! Come to me." So the people came and gathered around him and he then said, "Amma badu." "From now onward the Ansar will decrease and other people will increase. So anybody who becomes a ruler of the followers of Muhammad and has the power to harm or benefit people then he should accept the good from the benevolent amongst them (Ansar) and overlook the faults of their wrong-doers."
باب: جمعہ کے دن دونوں خطبوں کے بیچ میں بیٹھنا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ خُطْبَتَيْنِ يَقْعُدُ بَيْنَهُمَا.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبیداللہ عمری نے نافع سے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ (جمعہ میں) دو خطبے دیتے اور دونوں کے بیچ میں بیٹھتے تھے۔ (خطبہ جمعہ کے بیچ میں یہ بیٹھنا بھی مسنون طریقہ ہے) ۔
Narrated Abdullah Ibn Umar (RA): The Prophet ﷺ used to deliver two Khutbas and sit in between them
باب: جمعہ کے روز خطبہ کان لگا کر سننا۔
حَدَّثَنَا آدَمُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ وَقَفَتِ الْمَلَائِكَةُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ يَكْتُبُونَ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ، وَمَثَلُ الْمُهَجِّرِ كَمَثَلِ الَّذِي يُهْدِي بَدَنَةً ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي بَقَرَةً ثُمَّ كَبْشًا ثُمَّ دَجَاجَةً ثُمَّ بَيْضَةً، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ طَوَوْا صُحُفَهُمْ وَيَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے ابوعبداللہ سلیمان اغر نے، ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب جمعہ کا دن آتا ہے تو فرشتے جامع مسجد کے دروازے پر آنے والوں کے نام لکھتے ہیں، سب سے پہلے آنے والا اونٹ کی قربانی دینے والے کی طرح لکھا جاتا ہے۔ اس کے بعد آنے والا گائے کی قربانی دینے والے کی طرح پھر مینڈھے کی قربانی کا ثواب رہتا ہے۔ اس کے بعد مرغی کا، اس کے بعد انڈے کا۔ لیکن جب امام (خطبہ دینے کے لیے) باہر آجاتا ہے تو یہ فرشتے اپنے دفاتر بند کردیتے ہیں اور خطبہ سننے میں مشغول ہوجاتے ہیں۔
Narrated Abu Hurairah (RA): The Prophet ﷺ said, "When it is a Friday, the angels stand at the gate of the mosque and keep on writing the names of the persons coming to the mosque in succession according to their arrivals. The example of the one who enters the mosque in the earliest hour is that of one offering a camel (in sacrifice). The one coming next is like one offering a cow and then a ram and then a chicken and then an egg respectively. When the Imam comes out (for Jumua prayer) they (i.e. angels) fold their papers and listen to the Khutba."
باب: امام خطبہ کی حالت میں کسی شخص کو جو آئے دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھنے کا حکم دے سکتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: أَصَلَّيْتَ يَا فُلَانُ ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: قُمْ فَارْكَعْ.
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے جابر بن عبداللہ ؓ نے بیان کیا کہ ایک شخص آیا نبی کریم ﷺ جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے۔ آپ ﷺ نے پوچھا کہ اے فلاں! کیا تم نے (تحیۃ المسجد کی) نماز پڑھ لی۔ اس نے کہا کہ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اچھا اٹھ اور دو رکعت نماز پڑھ لے۔
Narrated Jabir bin Abdullah (RA): A person entered the mosque while the Prophet ﷺ was delivering the Khutba on a Friday. The Prophet ﷺ said to him, "Have you prayed?" The man replied in the negative. The Prophet ﷺ said, "Get up and pray two Rakat."
باب: جب امام خطبہ دے رہا ہو اور کوئی مسجد میں آئے تو ہلکی سی دو رکعت نماز پڑھ لے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ جَابِرًا ، قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَأَصَلَّيْتَ ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: قُمْ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے عمرو سے بیان کیا، انہوں نے جابر ؓ سے سنا کہ ایک شخص جمعہ کے دن مسجد میں آیا۔ نبی کریم ﷺ خطبہ پڑھ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے اس سے پوچھا کہ کیا تم نے (تحیۃ المسجد کی ) نماز پڑھ لی ہے؟ آنے والے نے جواب دیا کہ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اٹھو اور دو رکعت نماز (تحیۃ المسجد) پڑھ لو۔
Narrated Jabir (RA): A man entered the Mosque while the Prophet ﷺ was delivering the Khutba. The Prophet ﷺ said to him, "Have you prayed?" The man replied in the negative. The Prophet ﷺ said, "Pray two Rakat."
باب: خطبہ میں دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَعَنْ يُونُسَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ قَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكَ الْكُرَاعُ وَهَلَكَ الشَّاءُ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسْقِيَنَا، فَمَدَّ يَدَيْهِ وَدَعَا.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عبد العزیز بن انس نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک ؓ نے (دوسری سند) اور حماد بن یونس سے بھی روایت کی عبدالعزیز اور یونس دونوں نے ثابت سے، انہوں نے انس ؓ سے کہ نبی کریم ﷺ جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص کھڑا ہوگیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مویشی اور بکریاں ہلاک ہوگئیں (بارش نہ ہونے کی وجہ سے) آپ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ بارش برسائے۔ چناچہ آپ ﷺ نے دونوں ہاتھ پھیلائے اور دعا کی۔
Narrated Anas (RA): While the Prophet ﷺ was delivering the Khutba on a Friday, a man stood up and said, "O, Allahs Apostle ﷺ ! The livestock and the sheep are dying, so pray to Allah for rain." So he (the Prophet) raised both his hands and invoked Allah (for it).
باب: جمعہ کے خطبہ میں بارش کے لیے دعا کرنا۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: أَصَابَتِ النَّاسَ سَنَةٌ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ قَامَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكَ الْمَالُ وَجَاعَ الْعِيَالُ فَادْعُ اللَّهَ لَنَا، فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا وَضَعَهَا حَتَّى ثَارَ السَّحَابُ أَمْثَالَ الْجِبَالِ، ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ عَنْ مِنْبَرِهِ حَتَّى رَأَيْتُ الْمَطَرَ يَتَحَادَرُ عَلَى لِحْيَتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمُطِرْنَا يَوْمَنَا ذَلِكَ وَمِنَ الْغَدِ وَبَعْدَ الْغَدِ وَالَّذِي يَلِيهِ حَتَّى الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى وَقَامَ ذَلِكَ الْأَعْرَابِيُّ أَوْ قَالَ غَيْرُهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَهَدَّمَ الْبِنَاءُ وَغَرِقَ الْمَالُ فَادْعُ اللَّهَ لَنَا، فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ: اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا، فَمَا يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ السَّحَابِ إِلَّا انْفَرَجَتْ وَصَارَتْ الْمَدِينَةُ مِثْلَ الْجَوْبَةِ وَسَالَ الْوَادِي قَنَاةُ شَهْرًا وَلَمْ يَجِئْ أَحَدٌ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلَّا حَدَّثَ بِالْجَوْدِ.
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے امام ابوعمرو اوزاعی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ ؓ نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک ؓ نے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں قحط پڑا، آپ ﷺ خطبہ دے رہے تھے کہ ایک دیہاتی نے کہا یا رسول اللہ! جانور مرگئے اور اہل و عیال دانوں کو ترس گئے۔ آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں۔ آپ ﷺ نے دونوں ہاتھ اٹھائے، اس وقت بادل کا ایک ٹکڑا بھی آسمان پر نظر نہیں آ رہا تھا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میری جان ہے ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھوں کو نیچے بھی نہیں کیا تھا کہ پہاڑوں کی طرح گھٹا امڈ آئی اور آپ ﷺ ابھی منبر سے اترے بھی نہیں تھے کہ میں نے دیکھا کہ بارش کا پانی آپ ﷺ کے ریش مبارک سے ٹپک رہا تھا۔ اس دن اس کے بعد اور متواتر اگلے جمعہ تک بارش ہوتی رہی۔ (دوسرے جمعہ کو) یہی دیہاتی پھر کھڑا ہوا یا کہا کہ کوئی دوسرا شخص کھڑا ہوا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! عمارتیں منہدم ہوگئیں اور جانور ڈوب گئے۔ آپ ہمارے لیے اللہ سے دعا کیجئے۔ آپ ﷺ نے دونوں ہاتھ اٹھائے اور دعا کی کہ اے اللہ! اب دوسری طرف بارش برسا اور ہم سے روک دے۔ آپ ہاتھ سے بادل کے لیے جس طرف بھی اشارہ کرتے، ادھر مطلع صاف ہوجاتا۔ سارا مدینہ تالاب کی طرح بن گیا تھا اور قناۃ کا نالا مہینہ بھر بہتا رہا اور اردگرد سے آنے والے بھی اپنے یہاں بھرپور بارش کی خبر دیتے رہے۔
Narrated Anas bin Malik (RA): Once in the lifetime of the Prophet ﷺ the people were afflicted with drought (famine). While the Prophet ﷺ was delivering the Khutba on a Friday, a Bedouin stood up and said, "O, Allahs Apostle ﷺ ! Our possessions are being destroyed and the children are hungry; please invoke Allah (for rain)". So the Prophet ﷺ raised his hands. At that time there was not a trace of cloud in the sky. By Him in Whose Hands my soul is as soon as he lowered his hands, clouds gathered like mountains, and before he got down from the pulpit, I saw the rain falling on the beard of the Prophet. It rained that day, the next day, the third day, the fourth day till the next Friday. The same Bedouin or another man stood up and said, "O Allahs Apostle ﷺ ! The houses have collapsed, our possessions and livestock have been drowned; Please invoke Allah (to protect us)". So the Prophet ﷺ I raised both his hands and said, "O Allah! Round about us and not on us". So, in whatever direction he pointed with his hands, the clouds dispersed and cleared away, and Medinas (sky) became clear as a hole in between the clouds. The valley of Qanat remained flooded, for one month, none came from outside but talked about the abundant rain.
باب: جمعہ کے دن خطبہ کے وقت چپ رہنا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَنْصِتْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَقَدْ لَغَوْتَ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے عقیل سے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، انہوں نے کہا کہ مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی اور انہیں ابوہریرہ ؓ نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب امام جمعہ کا خطبہ دے رہا ہو اور تو اپنے پاس بیٹھے ہوئے آدمی سے کہے کہ چپ رہ تو تو نے خود ایک لغو حرکت کی۔
Narrated Abu Hurairah (RA): Allahs Apostle ﷺ said, "When the Imam is delivering the Khutba, and you ask your companion to keep quiet and listen, then no doubt you have done an evil act."
باب: جمعہ کے دن وہ گھڑی جس میں دعا قبول ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ فِيهِ: سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ تَعَالَى شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَأَشَارَ بِيَدِهِ يُقَلِّلُهَا.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے امام مالک (رح) سے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے عبدالرحمٰن اعرج نے، ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے ذکر میں ایک دفعہ فرمایا کہ اس دن ایک ایسی گھڑی آتی ہے جس میں اگر کوئی مسلمان بندہ کھڑا نماز پڑھ رہا ہو اور کوئی چیز اللہ پاک سے مانگے تو اللہ پاک اسے وہ چیز ضرور دیتا ہے۔ ہاتھ کے اشارے سے آپ نے بتلایا کہ وہ ساعت بہت تھوڑی سی ہے۔
Narrated Abu Hurairah (RA): Allahs Apostle ﷺ talked about Friday and said, "There is an hour (opportune time) on Friday and if a Muslim gets it while praying and asks something from Allah, then Allah will definitely meet his demand." And he (the Prophet) pointed out the shortness of that time with his hands.
باب: اگر جمعہ کی نماز میں کچھ لوگ امام کو چھوڑ کر چلے جائیں تو امام اور باقی نمازیوں کی نماز صحیح ہو جائے گی۔
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُنُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَقْبَلَتْ عِيرٌ تَحْمِلُ طَعَامًا فَالْتَفَتُوا إِلَيْهَا حَتَّى مَا بَقِيَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا سورة الجمعة آية 11.
ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زائدہ نے حصین سے بیان کیا، ان سے سالم بن ابی جعد نے، انہوں نے کہا کہ ہم سے جابر بن عبداللہ ؓ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، اتنے میں غلہ لادے ہوئے ایک تجارتی قافلہ ادھر سے گزرا۔ لوگ خطبہ چھوڑ کر ادھر چل دیئے۔ نبی کریم ﷺ کے ساتھ کل بارہ آدمی رہ گئے۔ اس وقت سورة الجمعہ کی یہ آیت اتری وإذا رأوا تجارة أو لهوا انفضوا إليها وترکوک قائما اور جب یہ لوگ تجارت اور کھیل دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ دیتے ہیں۔
Narrated Jabir bin Abdullah (RA): While we were praying (Jumua Khutba prayer) with the Prophet ﷺ , some camels loaded with food, arrived (from Sham. ~ The people diverted their attention towards the camels (and left the mosque), and only twelve persons remained with the Prophet. So this verse was revealed (RA): "But when they see some bargain or some amusement, they disperse headlong to it, and leave you standing." (62.11)
باب: جمعہ کے بعد اور اس سے پہلے سنت پڑھنا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ، وَبَعْدَ الْعِشَاءِ رَكْعَتَيْنِ وَكَانَ لَا يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ حَتَّى يَنْصَرِفَ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک (رح) نے نافع سے خبر دی، ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ظہر سے پہلے دو رکعت، اس کے بعد دو رکعت اور مغرب کے بعد دو رکعت اپنے گھر میں پڑھتے اور عشاء کے بعد دو رکعتیں پڑھتے اور جمعہ کے بعد دو رکعتیں جب گھر واپس ہوتے تب پڑھا کرتے تھے۔
Narrated Abdullah bin Umar (RA): Allahs Apostle ﷺ used to pray two Rakat before the Zuhr prayer and two Rakat after it. He also used to pray two Rakat after the Maghrib prayer in his house, and two Rakat after the Isha prayer. He never prayed after Jumua prayer till he departed (from the Mosque), and then he would pray two Rakat at home.