باب: آیت کی تفسیر ”جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور نیک کام کرتے رہتے ہیں ان پر اس چیز میں کوئی گناہ نہیں جس کو انہوں نے پہلے کھا لیا ہے“ آخر آیت «والله يحب المحسنين» تک، یعنی شراب کی حرمت نازل ہونے سے پہلے پہلے جن لوگوں نے شراب پی ہے اور اب وہ تائب ہو گئے، ان پر کوئی گناہ نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ الْخَمْرَ الَّتِي أُهْرِيقَتِ الْفَضِيخُ، وَزَادَنِي مُحَمَّدٌ الْبِيكَنْدِيُّ، عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ، قَالَ: كُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ فِي مَنْزِلِ أَبِي طَلْحَةَ، فَنَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ، فَأَمَرَ مُنَادِيًا، فَنَادَى، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: اخْرُجْ، فَانْظُرْ مَا هَذَا الصَّوْتُ، قَالَ: فَخَرَجْتُ، فَقُلْتُ: هَذَا مُنَادٍ يُنَادِي، أَلَا إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ، فَقَالَ لِي: اذْهَبْ فَأَهْرِقْهَا، قَالَ: فَجَرَتْ فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: وَكَانَتْ خَمْرُهُمْ يَوْمَئِذٍ الْفَضِيخَ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: قُتِلَ قَوْمٌ وَهْيَ فِي بُطُونِهِمْ، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ: لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا سورة المائدة آية 93.
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، کہا ہم سے ثابت نے، ان سے انس بن مالک نے کہ (حرمت نازل ہونے کے بعد) جو شراب بہائی گئی تھی وہ فضيخ. کی تھی۔ امام بخاری (رح) نے بیان کیا کہ مجھ سے محمد نے ابوالنعمان سے اس زیادتی کے ساتھ بیان کیا کہ انس ؓ نے کہا: میں صحابہ کی ایک جماعت کو ابوطلحہ ؓ کے گھر شراب پلا رہا تھا کہ شراب کی حرمت نازل ہوئی۔ نبی کریم ﷺ نے منادی کو حکم دیا اور انہوں نے اعلان کرنا شروع کیا۔ ابوطلحہ ؓ نے کہا: باہر جا کے دیکھو یہ آواز کیسی ہے۔ بیان کیا کہ میں باہر آیا اور کہا کہ ایک منادی اعلان کر رہا ہے کہ خبردار ہوجاؤ، شراب حرام ہوگئی ہے۔ یہ سنتے ہی انہوں نے مجھ کو کہا کہ جاؤ اور شراب بہا دو۔ راوی نے بیان کیا، مدینہ کی گلیوں میں شراب بہنے لگی۔ راوی نے بیان کیا کہ ان دنوں فضيخ. شراب استعمال ہوتی تھی۔ بعض لوگوں نے شراب کو جو اس طرح بہتے دیکھا تو کہنے لگے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں نے شراب سے اپنا پیٹ بھر رکھا تھا اور اسی حالت میں انہیں قتل کردیا گیا ہے۔ بیان کیا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ليس على الذين آمنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور نیک کام کرتے رہتے ہیں، ان پر اس چیز میں کوئی گناہ نہیں جس کو انہوں نے کھالیا۔
Narrated Anas (RA) :
The alcoholic drink which was spilled was Al-Fadikh. I used to offer alcoholic drinks to the people at the residence of Abu Talha. Then the order of prohibiting Alcoholic drinks was revealed, and the Prophet ﷺ ordered somebody to announce that: Abu Talha said to me, "Go out and see what this voice (this announcement) is." I went out and (on coming back) said, "This is somebody announcing that alcoholic beverages have been prohibited." Abu Talha said to me, "Go and spill it (i.e. the wine)," Then it (alcoholic drinks) was seen flowing through the streets of Medina. At that time the wine was Al-Fadikh. The people said, "Some people (Muslims) were killed (during the battle of Uhud) while wine was in their stomachs." So Allah revealed: "On those who believe and do good deeds there is no blame for what they ate (in the past)." (5.93)
باب: آیت کی تفسیر ”اے لوگو! ایسی باتیں نبی سے مت پوچھو کہ اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں وہ باتیں ناگوار گزریں“۔
حَدَّثَنَا مُنْذِرُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَارُودِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُطْبَةً مَا سَمِعْتُ مِثْلَهَا قَطُّ، قَالَ: لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا، قَالَ: فَغَطَّى أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُجُوهَهُمْ لَهُمْ خَنِينٌ، فَقَالَ رَجُلٌ: مَنْ أَبِي ؟ قَالَ: فُلَانٌ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ، لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101. رَوَاهُ النَّضْرُ، وَرَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ شُعْبَةَ.
ہم سے منذر بن ولید بن عبدالرحمٰن جارودی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن انس نے اور ان سے انس ؓ نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے ایسا خطبہ دیا کہ میں نے ویسا خطبہ کبھی نہیں سنا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تمہیں بھی معلوم ہوتا تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم ﷺ کے صحابہ ؓ نے اپنے چہرے چھپا لیے، باوجود ضبط کے ان کے رونے کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ ایک صحابی نے اس موقع پر پوچھا: میرے والد کون ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ فلاں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی لا تسألوا عن أشياء إن تبد لکم تسؤكم کہ ایسی باتیں مت پوچھو کہ اگر تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں ناگوار گزریں۔ اس کی روایت نضر اور روح بن عبادہ نے شعبہ سے کی ہے۔
Narrated Anas (RA) :
The Prophet ﷺ delivered a sermon the like of which I had never heard before. He said, "If you but knew what I know then you would have laughed little and wept much." On hearing that, the companions of the Prophet ﷺ covered their faces and the sound of their weeping was heard. A man said, "Who is my father?" The Prophet ﷺ said, "So-and-so." So this Verse was revealed: "Ask not about things which, if made plain to you, may cause you trouble." (5.101)
باب: آیت کی تفسیر ”اے لوگو! ایسی باتیں نبی سے مت پوچھو کہ اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں وہ باتیں ناگوار گزریں“۔
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجُوَيْرِيَةِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ قَوْمٌ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتِهْزَاءً، فَيَقُولُ الرَّجُل: مَنْ أَبِي ؟ وَيَقُولُ الرَّجُلُ: تَضِلُّ نَاقَتُهُ، أَيْنَ نَاقَتِي ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِمْ هَذِهِ الْآيَةَ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101 حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَةِ كُلِّهَا.
ہم سے فضل بن سہل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالنضر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوخیثمہ نے بیان کیا، ان سے ابوجویریہ نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ بعض لوگ رسول اللہ ﷺ سے مذاقاً سوالات کیا کرتے تھے۔ کوئی شخص یوں پوچھتا کہ میرا باپ کون ہے؟ کسی کی اگر اونٹنی گم ہوجاتی تو وہ یہ پوچھتے کہ میری اونٹنی کہاں ہوگی؟ ایسے ہی لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی يا أيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لکم تسؤكم کہ اے ایمان والو! ایسی باتیں مت پوچھو کہ اگر تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں ناگوار گزرے۔ یہاں تک کہ پوری آیت پڑھ کر سنائی۔
Narrated Ibn Abbas (RA) :
Some people were asking Allahs Apostle ﷺ questions mockingly. A man would say, "Who is my father?" Another man whose she-camel had gone astray would say, "Where is my she-camel? "So Allah revealed this Verse in this connection: "O you who believe! Ask not about things which, if made plain to you, may cause you trouble." (5.101)
باب: آیت کی تفسیر ”اللہ نے نہ بحیرہ کو مقرر کیا ہے، نہ سائبہ کو اور نہ وصیلہ کو اور نہ حام کو“۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: الْبَحِيرَةُ الَّتِي يُمْنَعُ دَرُّهَا لِلطَّوَاغِيتِ فَلَا يَحْلُبُهَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ، وَالسَّائِبَةُ: كَانُوا يُسَيِّبُونَهَا لِآلِهَتِهِمْ لَا يُحْمَلُ عَلَيْهَا شَيْءٌ، قَالَ: وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ الْخُزَاعِيَّ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ، كَانَ أَوَّلَ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ، وَالْوَصِيلَةُ: النَّاقَةُ الْبِكْرُ، تُبَكِّرُ فِي أَوَّلِ نِتَاجِ الْإِبِلِ، ثُمَّ تُثَنِّي بَعْدُ بِأُنْثَى، وَكَانُوا يُسَيِّبُونَهَا لِطَوَاغِيتِهِمْ إِنْ وَصَلَتْ إِحْدَاهُمَا بِالْأُخْرَى لَيْسَ بَيْنَهُمَا ذَكَرٌ، وَالْحَامِ: فَحْلُ الْإِبِلِ، يَضْرِبُ الضِّرَابَ الْمَعْدُودَ، فَإِذَا قَضَى ضِرَابَهُ وَدَعُوهُ لِلطَّوَاغِيتِ وَأَعْفَوْهُ مِنَ الْحَمْلِ، فَلَمْ يُحْمَلْ عَلَيْهِ شَيْءٌ، وَسَمَّوْهُ الْحَامِيَ. وقَالَ لِي أَبُو الْيَمَانِ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ،سَمِعْتُ سَعِيدًا، قَالَ: يُخْبِرُهُ بِهَذَا، قَالَ: وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَرَوَاهُ ابْنُ الْهَادِ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدٍ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ بحيرة اس اونٹنی کو کہتے تھے جس کا دودھ بتوں کے لیے روک دیا جاتا اور کوئی شخص اس کے دودھ کو دوہنے کا مجاز نہ سمجھا جاتا اور سائبة اس اونٹنی کو کہتے تھے جسے وہ اپنے دیوتاؤں کے نام پر آزاد چھوڑ دیتے اور اس سے باربرداری و سواری وغیرہ کا کام نہ لیتے۔ سعید راوی نے بیان کیا کہ ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا کہ وہ اپنی آنتوں کو جہنم میں گھسیٹ رہا تھا، اس نے سب سے پہلے سانڈ چھوڑنے کی رسم نکالی تھی۔ اور وصيلة اس جوان اونٹنی کو کہتے تھے جو پہلی مرتبہ مادہ بچہ جنتی اور پھر دوسری مرتبہ بھی مادہ ہی جنتی، اسے بھی وہ بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے لیکن اسی صورت میں جبکہ وہ برابر دو مرتبہ مادہ بچہ جنتی اور اس درمیان میں کوئی نر بچہ نہ ہوتا۔ اور حام وہ نر اونٹ جو مادہ پر شمار سے کئی دفعہ چڑھتا (اس کے نطفے سے دس بچے پیدا ہوجاتے) جب وہ اتنی صحبتیں کر چکتا تو اس کو بھی بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے اور بوجھ لادنے سے معاف کردیتے (نہ سواری کرتے) اس کا نام حام رکھتے اور ابوالیمان (حکم بن نافع) نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہوں نے زہری سے سنا، کہا میں نے سعید بن مسیب سے یہی حدیث سنی جو اوپر گزری۔ سعید نے کہا ابوہریرہ ؓ نے کہا میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا (وہی عمرو بن عامر خزاعی کا قصہ جو اوپر گزرا) اور یزید بن عبداللہ بن ہاد نے بھی اس حدیث کو ابن شہاب سے روایت کیا۔ انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے، کہا میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا۔
Narrated Said bin Al-Musaiyab (RA) :
Bahira is a she-camel whose milk is kept for the idols and nobody is allowed to milk it; Saiba was the she-camel which they used to set free for their gods and nothing was allowed to be carried on it. Abu Hurairah (RA) said: Allahs Apostle ﷺ said, "I saw Amr bin Amir Al-Khuzai (in a dream) dragging his intestines in the Fire, and he was the first person to establish the tradition of setting free the animals (for the sake of their deities)," Wasila is the she-camel which gives birth to a she-camel as its first delivery, and then gives birth to another she-camel as its second delivery. People (in the Pre-lslamic periods of ignorance) used to let that she camel loose for their idols if it gave birth to two she-camels successively without giving birth to a male camel in between. Ham was the male camel which was used for copulation. When it had finished the number of copulations assigned for it, they would let it loose for their idols and excuse it from burdens so that nothing would be carried on it, and they called it the Hami. Abu Hurairah (RA) said, "I heard the Prophet ﷺ saying so."Narrated Aisha (RA) :
Allahs Apostle ﷺ said, "I saw Hell and its different portions were consuming each other and saw Amr dragging his intestines (in it), and he was the first person to establish the tradition of letting animals loose (for the idols)."
باب: آیت کی تفسیر ”اللہ نے نہ بحیرہ کو مقرر کیا ہے، نہ سائبہ کو اور نہ وصیلہ کو اور نہ حام کو“۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْكَرْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْعُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَأَيْتُ جَهَنَّمَ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا، وَرَأَيْتُ عَمْرًا يَجُرُّ قُصْبَهُ، وَهْوَ أَوَّلُ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ.
مجھ سے محمد بن ابی یعقوب ابوعبداللہ کرمانی نے بیان کیا، کہا ہم سے حسان بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے جہنم کو دیکھا کہ اس کے بعض حصے بعض دوسرے حصوں کو کھائے جا رہے ہیں اور میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا کہ وہ اپنی آنتیں اس میں گھسیٹا پھر رہا تھا۔ یہی وہ شخص ہے جس نے سب سے پہلے سانڈ چھوڑنے کی رسم ایجاد کی تھی۔
Narrated ‘Aisha (RA):
Allahs Messenger ﷺ said, "I saw Hell and its different portions were consuming each other and saw `Amr (RA) dragging his intestines (in it), and he was the first person to establish the tradition of letting animals loose (for the idols).
باب: آیت کی تفسیر ”اور میں ان پر گواہ رہا جب تک میں ان کے درمیان موجود رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا (جب سے) تو ہی ان پر نگراں ہے اور تو تو ہر چیز پر گواہ ہے“۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ النُّعْمَانِ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ إِلَى اللَّهِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا، ثُمَّ قَالَ: كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ سورة الأنبياء آية 104 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا وَإِنَّ أَوَّلَ الْخَلَائِقِ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ، أَلَا وَإِنَّهُ يُجَاءُ بِرِجَالٍ مِنْ أُمَّتِي، فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ أُصحَابِي، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ، فَأَقُولُ: كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ، وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ سورة المائدة آية 117، فَيُقَالُ: إِنَّ هَؤُلَاءِ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم کو مغیرہ بن نعمان نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا اور ان سے ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا اور فرمایا کہ اے لوگو! تم اللہ کے پاس جمع کئے جاؤ گے، ننگے پاؤں ننگے جسم اور بغیر ختنہ کے، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی كما بدأنا أول خلق نعيده وعدا علينا إنا کنا فاعلين جس طرح ہم نے اول بار پیدا کرنے کے وقت ابتداء کی تھی، اسی طرح اسے دوبارہ زندہ کردیں گے، ہمارے ذمہ وعدہ ہے، ہم ضرور اسے کر کے ہی رہیں گے۔ آخر آیت تک۔ پھر فرمایا قیامت کے دن تمام مخلوق میں سب سے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کو کپڑا پہنایا جائے گا۔ ہاں اور میری امت کے کچھ لوگوں کو لایا جائے گا اور انہیں جہنم کی بائیں طرف لے جایا جائے گا۔ میں عرض کروں گا، میرے رب! یہ تو میرے امتی ہیں؟ مجھ سے کہا جائے گا، آپ کو نہیں معلوم ہے کہ انہوں نے آپ کے بعد نئی نئی باتیں شریعت میں نکالی تھیں۔ اس وقت میں بھی وہی کہوں گا جو عبد صالح عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ہوگا وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم فلما توفيتني كنت أنت الرقيب عليهم کہ میں ان کا حال دیکھتا رہا جب تک میں ان کے درمیان رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا (جب سے) تو ہی ان پر نگراں ہے۔ مجھے بتایا جائے گا کہ آپ کی جدائی کے بعد یہ لوگ دین سے پھرگئے تھے۔
Narrated Ibn Abbas (RA) :
Allahs Apostle ﷺ delivered a sermon and said, "O people! You will be gathered before Allah bare-footed, naked and not circumcised." Then (quoting Quran) he said:--
"As We began the first creation, We shall repeat it. A promise We have undertaken: Truly we shall do it.." (21.104)
The Prophet ﷺ then said, "The first of the human beings to be dressed on the Day of Resurrection, will be Abraham. Lo! Some men from my followers will be brought and then (the angels) will drive them to the left side (Hell-Fire). I will say. O my Lord! (They are) my companions! Then a reply will come (from Almighty), You do not know what they did after you. I will say as the pious slave (the Prophet ﷺ Jesus) said: And I was a witness over them while I dwelt amongst them. When You took me up. You were the Watcher over them and You are a Witness to all things. (5.117) Then it will be said, "These people have continued to be apostates since you left them."
سورة الأَنْعَامِ:
باب: سورة انعام
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ: مَعْذِرَتُه، مَعْرُوشَاتٍ: مَا يُعْرَشُ مِنَ الْكَرْمِ وَغَيْرِ ذَلِكَ، حَمُولَةً: مَا يُحْمَلُ عَلَيْهَا، وَلَلَبَسْنَا: لَشَبَّهْنَا لِأُنْذِرَكُمْ بِهِ أَهْلَ مَكَّةَ، يَنْأَوْنَ: يَتَبَاعَدُونَ تُبْسَلُ تُفْضَحُ، أُبْسِلُوا: أُفْضِحُوا، بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ: الْبَسْطُ الضَّرْبُ، وَقَوْلُهُ اسْتَكْثَرْتُمْ: مِنَ الْإِنْسِ أَضْلَلْتُمْ كَثِيرًا مِمَّا، ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ: جَعَلُوا لِلَّهِ مِنْ ثَمَرَاتِهِمْ وَمَالِهِمْ نَصِيبًا وَلِلشَّيْطَانِ وَالْأَوْثَانِ نَصِيبًا أَكِنَّةً وَاحِدُهَا كِنَانٌ، أَمَّا اشْتَمَلَتْ: يَعْنِي هَلْ تَشْتَمِلُ إِلَّا عَلَى ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى، فَلِمَ تُحَرِّمُونَ بَعْضًا وَتُحِلُّونَ بَعْضًا، مَسْفُوحًا: مُهْرَاقًا، صَدَفَ: أَعْرَضَ، أُبْلِسُوا: أُويِسُوا، وَأُبْسِلُوا: أُسْلِمُوا، سَرْمَدًا: دَائِمًا، اسْتَهْوَتْهُ: أَضَلَّتْهُ، تَمْتَرُونَ: تَشُكُّونَ، وَقْرٌ: صَمَمٌ وَأَمَّا الْوِقْرُ فَإِنَّهُ الْحِمْلُ، أَسَاطِيرُ: وَاحِدُهَا أُسْطُورَةٌ وَإِسْطَارَةٌ وَهْيَ التُّرَّهَاتُ الْبَأْسَاءُ مِنَ الْبَأْسِ وَيَكُونُ مِنَ الْبُؤْسِ، جَهْرَةً: مُعَايَنَةً الصُّوَرُ جَمَاعَةُ صُورَةٍ كَقَوْلِهِ سُورَةٌ وَسُوَرٌ مَلَكُوتٌ مُلْكٌ مِثْلُ رَهَبُوتٍ خَيْرٌ مِنْ رَحَمُوتٍ، وَيَقُولُ تُرْهَبُ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تُرْحَمَ وَإِنْ تَعْدِلْ تُقْسِطْ لَا يُقْبَلْ مِنْهَا فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ، جَنَّ: أَظْلَمَ تَعَالَى عَلَا يُقَالُ عَلَى اللَّهِ حُسْبَانُهُ أَيْ حِسَابُهُ، وَيُقَالُ حُسْبَانًا مَرَامِيَ وَرُجُومًا لِلشَّيَاطِينِ مُسْتَقِرٌّ فِي الصُّلْبِ وَمُسْتَوْدَعٌ: فِي الرَّحِمِ الْقِنْوُ الْعِذْقُ وَالِاثْنَانِ قِنْوَانِ وَالْجَمَاعَةُ أَيْضًا قِنْوَانٌ مِثْلُ صِنْوٍ وَصِنْوَانٍ.
ابن عباس ؓ نے کہا ثم لم تکن فتنتهم کا معنی پھر ان کا اور کوئی عذر نہ ہوگا۔ معروشات کا معنی ٹٹیوں پر چڑھائے ہوئے جیسے انگور وغیرہ (جن کی بیل ہوتی ہے) ۔ حمولة کا معنی لدو یعنی بوجھ لادنے کے جانور۔ وللبسنا کا معنی ہم شبہ ڈال دیں گے۔ ينأون کا معنی دور ہوجاتے ہیں۔ تبسل کا معنی رسوا کیا جائے۔ أبسلوا رسوا کئے گئے۔ باسطو أيديهم میں بسط کے معنی مارنا۔ استکثرتم یعنی تم نے بہتوں کو گمراہ کیا۔ وجعلوا لله من ثمراتهم ومالهم نصيبا یعنی انہوں نے اپنے پھلوں اور مالوں میں اللہ کا ایک حصہ اور شیطان اور بتوں کا ایک حصہ ٹھہرایا۔ اكنة، کنان کی جمع ہے یعنی پردہ۔ أما اشتملت یعنی کیا مادوں کی پیٹ میں نر مادہ نہیں ہوتے پھر تم ایک کو حرام ایک کو حلال کیوں بناتے ہو۔ اور وما مسفوحا یعنی بہایا گیا خون۔ صدف کا معنی منہ پھیرا۔ أبلسوا کا معنی ناامید ہوئے۔ فاذاهم مبلسون میں اور أبسلوا بما کسبوا میں یہ معنی ہے کہ ہلاکت کے لیے سپرد کئے گئے۔ سرمدا کا معنی ہمیشہ۔ استهوته کا معنی گمراہ کیا۔ يمترون کا معنی شک کرتے ہو۔ وقر کا معنی بوجھ (جس سے کان بہرا ہو) ۔ اور وقر بکسرہ واؤ معنی بوجھ جو جانور پر لادا جائے۔ أساطير، أسطورة اور إسطارة کی جمع ہے یعنی واہیات اور لغو باتیں۔ البأساء، بأس سے نکلا ہے یعنی سخت مایوس سے یعنی تکلیف اور محتاجی نیز بؤس. سے بھی آتا ہے اور محتاج۔ جهرة کھلم کھلا۔ صور ( يوم ينقخ فى الصور ) میں صورت کی جمع جیسے سور، سورة کی جمع۔ ملکوت سے ملك یعنی سلطنت مراد ہے۔ جیسے رهبوت اور رحموت مثل ہے رهبوت یعنی ڈر۔ رحموت (مہربانی) سے بہتر ہے اور کہتے ہیں تیرا ڈرایا جانا بچہ پر مہربانی کرنے سے بہتر ہے۔ جن عليه اليل رات کی اندھیری اس پر چھا گئی۔ حسبان کا معنی حساب۔ کہتے ہیں اللہ پر اس کا حسبان یعنی حساب ہے اور بعضوں نے کہا حسبان سے مراد تیر اور شیطان پر پھینکنے کے حربے۔ مستقر باپ کی پشت۔ مستودع ماں کا پیٹ۔ قنو (خوشہ) گچھہ اس کا تثنیہ قنوان اور جمع بھی قنوان جیسے صنو اور صنوان. (یعنی جڑ ملے ہوئے درخت) ۔
Narrated Ibn `Abbas: The Prophet said, You will be gathered (on the Day of Resurrection) and some people will be driven (by the angels) to the left side (and taken to Hell) whereupon I will say as the pious slave (Jesus) said:- - And I was a witness over them while I dwelt amongst them...the ALMIGHTY, the All Wise. (5.117-118)
باب: آیت کی تفسیر ”اور اس ہی کے پاس ہیں غیب کے خزانے، انہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا“۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَفَاتِحُ الْغَيْبِ خَمْسٌ: إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ، وَيُنْزِلُ الْغَيْثَ، وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ، وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ سورة لقمان آية 34.
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سالم بن عبداللہ نے اور ان سے ان کے والد (عبداللہ بن عمر ؓ) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ غیب کے خزانے پانچ ہیں۔ جیسا کہ ارشاد باری ہے۔ بیشک اللہ ہی کو قیامت کی خبر ہے اور وہی جانتا ہے کہ رحموں میں کیا ہے اور کوئی بھی نہیں جان سکتا کہ وہ کل کیا عمل کرے گا اور نہ کوئی یہ جان سکتا ہے کہ وہ کس زمین پر مرے گا، بیشک اللہ ہی علم والا ہے، خبر رکھنے والا ہے۔
Narrated Abdullah (RA) :
Allahs Apostle ﷺ said, "The key of the Unseen are five: Verily with Allah (Alone) is the knowledge of the Hour He sends down the rain and knows what is in the wombs. No soul knows what it will earn tomorrow, and no soul knows in what land it will die. Verily, Allah is All-Knower, All-Aware." (31.34)
باب: آیت کی تفسیر ”آپ کہہ دیں کہ اللہ اس پر قادر ہے کہ تمہارے اوپر سے کوئی عذاب بھیج دے“ آخر آیت تک۔
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ سورة الأنعام آية 65، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعُوذُ بِوَجْهِكَ، قَالَ: أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ، قَالَ: أَعُوذُ بِوَجْهِكَ، أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ سورة الأنعام آية 65، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَا أَهْوَنُ أَوْ هَذَا أَيْسَرُ.
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا اور ان سے جابر ؓ نے بیان کیا کہ جب یہ آیت قل هو القادر على أن يبعث عليكم عذابا من فوقکم نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے اللہ! میں تیرے منہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ پھر یہ اترا أو من تحت أرجلکم آپ ﷺ نے فرمایا کہ یا اللہ! میں تیرے منہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ پھر یہ اترا أو يلبسکم شيعا ويذيق بعضکم بأس بعض اس وقت نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ پہلے عذابوں سے ہلکا یا آسان ہے۔
Narrated Jabir (RA) :
When this Verse was revealed: "Say: He has power to send torment on you from above." (6.65) Allahs Apostle ﷺ said, "O Allah! I seek refuge with Your Face (from this punishment)." And when the verse: "or send torment from below your feet," (was revealed), Allahs Apostle ﷺ said, "(O Allah!) I seek refuge with Your Face (from this punishment)." (But when there was revealed): "Or confuse you in party strife and make you to taste the violence of one another." (6.65) Allahs Apostle ﷺ said, "This is lighter (or, this is easier)."
باب: آیت کی تفسیر ”جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم سے خلط ملط نہیں کیا“ یہاں ظلم سے شرک مراد ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ سورة الأنعام آية 65، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعُوذُ بِوَجْهِكَ، قَالَ: أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ، قَالَ: أَعُوذُ بِوَجْهِكَ، أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ سورة الأنعام آية 65، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَا أَهْوَنُ أَوْ هَذَا أَيْسَرُ.
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا اور ان سے جابر ؓ نے بیان کیا کہ جب یہ آیت قل هو القادر على أن يبعث عليكم عذابا من فوقکم نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے اللہ! میں تیرے منہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ پھر یہ اترا أو من تحت أرجلکم آپ ﷺ نے فرمایا کہ یا اللہ! میں تیرے منہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ پھر یہ اترا أو يلبسکم شيعا ويذيق بعضکم بأس بعض اس وقت نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ پہلے عذابوں سے ہلکا یا آسان ہے۔
Narrated Abdullah (RA) :
When:"...and confuse not their belief with wrong." (6.82) was revealed, the Prophets companions said, "Which of us has not done wrong?" Then there was revealed:-- "Verily joining others in worship with Allah is a tremendous wrong indeed." (31.13)
باب: آیت کی تفسیر ”اور یونس اور لوط علیہما السلام کو اور ان میں سے سب کو ہم نے جہاں والوں پر فضیلت دی تھی“۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ سورة الأنعام آية 82، قَالَ أَصْحَابُهُ: وَأَيُّنَا لَمْ يَظْلِمْ، فَنَزَلَتْ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ سورة لقمان آية 13.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عدی نے بیان کیا، ان سے شعبی نے، ان سے سلیمان نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ ؓ نے بیان کیا کہ جب آیت ولم يلبسوا إيمانهم بظلم نازل ہوئی صحابہ ؓ نے کہا، ہم میں کون ہوگا جس کا دامن ظلم سے پاک ہو۔ اس یہ آیت اتری إن الشرک لظلم عظيم بیشک شرک ظلم عظیم ہے۔
Narrated Ibn Abbas (RA) :
The Prophet ﷺ said, "Nobody has the rights to say that I am better than Jonah bin Matta."
باب: آیت کی تفسیر ”اور یونس اور لوط علیہما السلام کو اور ان میں سے سب کو ہم نے جہاں والوں پر فضیلت دی تھی“۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ: أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن مہدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے ابوالعالیہ نے بیان کیا کہ مجھ سے تمہارے نبی کے چچا زاد بھائی یعنی ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کسی کے لیے مناسب نہیں کہ مجھے یونس بن متی (علیہ السلام) سے بہتر بتائے۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
The Prophet ﷺ said, "Nobody has the right to say that I am better than Jonah bin Matta."
باب: آیت کی تفسیر ”یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی تھی، سو آپ بھی ان کی ہدایت کی پیروی کریں“۔
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ: أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو سعد بن ابراہیم نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف ؓ سے سنا، انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ مجھے یونس بن متی (علیہ السلام) سے بہتر بتائے۔
Narrated Mujahid (RA) :
That he asked Ibn Abbas (RA), "Is there a prostration Surat-al-Sad?" (38.24) Ibn Abbas (RA) said, "Yes," and then recited: "We gave...So follow their guidance." (6.85,90) Then he said, "He (David) is one them (i.e. those prophets)." Mujahid narrated: I asked Ibn Abbas (RA) (regarding the above Verse). He said, "Your Prophet ﷺ (Muhammad) was one of those who were ordered to follow them."
باب: آیت کی تفسیر ”اور جو لوگ کہ یہودی ہوئے ان پر ناخن والے کل جانور ہم نے حرام کر دیئے تھے اور گائے اور بکری میں سے ہم نے ان پر ان دونوں کی چربیاں حرام کی تھیں“ آخر آیت تک۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، قَالَ عَطَاءٌ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، لَمَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ شُحُومَهَا جَمَلُوهُ، ثُمَّ بَاعُوهُ فَأَكَلُوهَا، وَقَالَ أَبُو عَاصِمٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، كَتَبَ إِلَيَّ عَطَاءٌ، سَمِعْتُ جَابِرًا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.s
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی حبیب نے کہ عطاء نے بیان کیا کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ ؓ سے سنا انہوں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، نبی کریم ﷺ نے فرمایا، اللہ یہودیوں کو غارت کرے، جب اللہ تعالیٰ نے ان پر مردہ جانوروں کی چربی حرام کردی تو اس کا تیل نکال کر اسے بیچنے اور کھانے لگے۔ اور ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے یزید نے بیان کیا، انہیں عطاء نے لکھا تھا کہ میں نے جابر ؓ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے۔
Narrated Jabir bin Abdullah (RA) :
The Prophet ﷺ said, "May Allah curse the Jews! When Allah forbade them to eat the fat of animals, they melted it and sold it, and utilized its price! "
باب: آیت «ولا تقربوا الفواحش ما ظهر منها وما بطن» کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَا أَحَدَ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ، وَلِذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، وَلَا شَيْءَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنَ اللَّهِ، وَلِذَلِكَ مَدَحَ نَفْسَهُ، قُلْتُ: سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: وَرَفَعَهُ، قَالَ: نَعَمْ.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو نے، ان سے ابو وائل نے اور ان سے عبداللہ ؓ نے کہا کہ اللہ سے زیادہ اور کوئی غیرت مند نہیں، یہی وجہ ہے کہ اس نے بےحیائیوں کو حرام قرار دیا ہے۔ خواہ وہ ظاہر ہوں خواہ پوشیدہ اور اللہ کو اپنی تعریف سے زیادہ اور کوئی چیز پسند نہیں، یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنی خود مدح کی ہے۔ (عمرو بن مرہ نے بیان کیا کہ) میں نے پوچھا آپ نے یہ حدیث خود عبداللہ بن مسعود ؓ سے سنی تھی انہوں نے بیان کیا کہ ہاں، میں نے پوچھا اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے حوالہ سے حدیث بیان کی تھی؟ کہا کہ ہاں۔
وکیل سے مراد حفیظ اور اس پر نگران یا اس کو گھیرنے والا۔ قبلا، قبيل کی جمع ہے یعنی عذاب کی قسمیں۔ قبيل ایک ایک قسم۔ زخرف لغو اور بیکار چیز (یا بات) جس کو ظاہر میں آراستہ پیراستہ کریں۔ ( زخرف القول چکنی چپڑی باتیں) ۔ حرث حجر یعنی روکی گئی۔ حجر کہتے ہیں حرام اور ممنوع کو۔ اسی سے ہے حجر محجور اور حجر عمارت کو بھی کہتے ہیں اور مادہ گھوڑیوں کو بھی اور عقل کو بھی حجر اور حجى. کہتے ہیں اور اصحاب الحجر میں ثمود کی بستی والے مراد ہیں اور جس زمین کو تو روک دے اس میں کوئی آنے اور جانور چرانے نہ پائے اس کو بھی حجر کہتے ہیں۔ اسی سے خانہ کعبہ کے حطيم کو حجر کہتے ہیں۔ حطيم، محطوم کے معنوں میں ہے جیسے قتيل، مقتول کے معنی میں اب رہا یمامہ کا حجر تو وہ ایک مقام کا نام ہے۔
Narrated Abu Wail (RA) :
Abdullah (bin Masud) said, "None has more sense of ghaira than Allah therefore - He prohibits shameful sins (illegal sexual intercourse, etc.) whether committed openly or secretly. And none loves to be praised more than Allah does, and for this reason He praises Himself." I asked Abu Wali, "Did you hear it from Abdullah?" He said, "Yes," I said, "Did Abdullah ascribe it to Allahs Apostle?" He said, "Yes."
باب: آیت کی تفسیر ”کسی شخص کو اس کا ایمان فائدہ نہ دے گا“۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا، فَإِذَا رَآهَا النَّاسُ آمَنَ مَنْ عَلَيْهَا، فَذَاكَ حِينَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا، لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عمارہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوزرعہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس وقت تک قیامت قائم نہ ہوگی، جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو لے۔ جب لوگ اسے دیکھیں گے تو ایمان لائیں گے لیکن یہ وہ وقت ہوگا جب کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان کوئی نفع نہ دے گا جو پہلے سے ایمان نہ رکھتا ہو۔
Narrated Abu Hurairah (RA) :
Allahs Apostle ﷺ said, "The Hour will not be established until the sun rises from the West: and when the people see it, then whoever will be living on the surface of the earth will have faith, and that is (the time) when no good will it do to a soul to believe then, if it believed not before." (6.158)
7- سورة الأَعْرَافِ:
باب: سورة اعراف
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَرِيَاشًا الْمَالُ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ، الْمُعْتَدِينَ: فِي الدُّعَاءِ وَفِي غَيْرِهِ، عَفَوْا: كَثُرُوا وَكَثُرَتْ أَمْوَالُهُمْ، الْفَتَّاحُ: الْقَاضِي، افْتَحْ بَيْنَنَا: اقْضِ بَيْنَنَا، نَتَقْنَا: الْجَبَلَ رَفَعْنَا، انْبَجَسَتْ: انْفَجَرَتْ، مُتَبَّرٌ: خُسْرَانٌ، آسَى: أَحْزَنُ، تَأْسَ: تَحْزَنْ، وَقَالَ غَيْرُهُ: مَا مَنَعَكَ أَنْ لَا تَسْجُدَ: يَقُولُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْجُدَ، يَخْصِفَانِ: أَخَذَا الْخِصَافَ مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ، يُؤَلِّفَانِ الْوَرَقَ يَخْصِفَانِ الْوَرَقَ بَعْضَهُ إِلَى بَعْضٍ، سَوْآتِهِمَا: كِنَايَةٌ عَنْ فَرْجَيْهِمَا، وَمَتَاعٌ إِلَى حِينٍ: هُوَ هَا هُنَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَالْحِينُ عِنْدَ الْعَرَبِ مِنْ سَاعَةٍ إِلَى مَالَا يُحْصَى عَدَدُهُ الرِّيَاشُ وَالرِّيشُ وَاحِدٌ وَهْوَ مَا ظَهَرَ مِنَ اللِّبَاسِ، قَبِيلُهُ: جِيلُهُ الَّذِي هُوَ مِنْهُمْ، ادَّارَكُوا: اجْتَمَعُوا وَمَشَاقُّ الْإِنْسَانِ وَالدَّابَّةِ كُلُّهَا يُسَمَّى سُمُومًا، وَاحِدُهَا سَمٌّ، وَهِيَ عَيْنَاهُ وَمَنْخِرَاهُ وَفَمُهُ وَأُذُنَاهُ وَدُبُرُهُ وَإِحْلِيلُهُ، غَوَاشٍ: مَا غُشُّوا بِهِ، نُشُرًا: مُتَفَرِّقَةً، نَكِدًا: قَلِيلًا، يَغْنَوْا: يَعِيشُوا، حَقِيقٌ: حَقٌّ، اسْتَرْهَبُوهُمْ: مِنَ الرَّهْبَةِ، تَلَقَّفُ: تَلْقَمُ، طَائِرُهُمْ: حَظُّهُمْ طُوفَانٌ مِنَ السَّيْلِ، وَيُقَالُ: لِلْمَوْتِ الْكَثِيرِ الطُّوفَانُ الْقُمَّلُ الْحُمْنَانُ يُشْبِهُ صِغَارَ الْحَلَمِ عُرُوشٌ وَعَرِيشٌ بِنَاءٌ، سُقِطَ: كُلُّ مَنْ نَدِمَ فَقَدْ سُقِطَ فِي يَدِهِ الْأَسْبَاطُ، قَبَائِلُ بَنِي إِسْرَائِيلَ، يَعْدُونَ فِي السَّبْتِ: يَتَعَدَّوْنَ لَهُ يُجَاوِزُونَ تَجَاوُزٌ بَعْدَ تَجَاوُزٍ، تَعْدُ تُجَاوِزْ، شُرَّعًا: شَوَارِعَ، بَئِيسٍ: شَدِيدٍ، أَخْلَدَ: إِلَى الْأَرْضِ قَعَدَ وَتَقَاعَسَ، سَنَسْتَدْرِجُهُمْ: أَيْ نَأْتِيهِمْ مِنْ مَأْمَنِهِمْ كَقَوْلِهِ تَعَالَى، فَأَتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا مِنْ جِنَّةٍ: مِنْ جُنُونٍ أَيَّانَ مُرْسَاهَا مَتَى خُرُوجُهَا، فَمَرَّتْ بِهِ: اسْتَمَرَّ بِهَا الْحَمْلُ فَأَتَمَّتْهُ، يَنْزَغَنَّكَ: يَسْتَخِفَّنَّكَ طَيْفٌ مُلِمٌّ بِهِ لَمَمٌ وَيُقَالُ، طَائِفٌ: وَهُوَ وَاحِدٌ، يَمُدُّونَهُمْ: يُزَيِّنُونَ، وَخِيفَةً: خَوْفًا وَخُفْيَةً مِنَ الْإِخْفَاءِ وَالْآصَالُ وَاحِدُهَا أَصِيلٌ وَهُوَ مَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى الْمَغْرِبِ كَقَوْلِهِ: بُكْرَةً وَأَصِيلًا.
ابن عباس ؓ نے کہا يوارى، سواتکم، ورياشا میں رياشا سے مال اسباب مراد ہے۔ لا يحب المعتدين میں معتدي سے دعا میں حد سے بڑھ جانے والے مراد ہیں۔ عفوا کا معنی بہت ہوگئے ان کے مال زیادہ ہوئے۔ فتاح کہتے ہیں فیصلہ کرنے والے کو۔ افتح بيننا ہمارا فیصلہ کر۔ نتقنا اٹھایا۔ انبجست پھوٹ نکلے۔ متبر تباہی نقصان۔ آسى غم کھاؤں۔ فلا تأس غم نہ کھا۔ اوروں نے کہا ما منعک أن لا تسجد میں لا زائد ہے۔ یعنی تجھے سجدہ کرنے سے کس بات نے روکا يخصفان من ورق الجنة انہوں نے بہشت کے پتوں کا دونا بنا لیا یعنی بہشت کے پتے اپنے اوپر جوڑ لیے (تاکہ ستر نظر نہ آئے) ۔ سوآتهما سے شرمگاہ مراد ہے۔ ومتاع إلى حين میں حين سے قیامت مراد ہے۔ عرب کے محاورے میں حين ایک ساعت سے لے کے بےانتہا مدت کو کہہ سکتے ہیں۔ رياشا اور ريش کے معنی ایک ہیں یعنی ظاہری لباس۔ قبيله اس کی ذات والے شیطان جن میں سے وہ خود بھی ہے۔ ادارکوا اکٹھا ہوجائیں گے آدمی اور جانور سب کے سوراخ (یا مساموں) کو سموم کہتے ہیں اس کا مفرد سم یعنی آنکھ کے سوراخ، نتھنے، منہ، کان، پاخانہ کا مقام، پیشاب کا مقام۔ غواش غلاف جس سے ڈھانپے جائیں گے۔ نشرا متفرق نكدا تھوڑا۔ يغنوا جیے یا بسے۔ حقيق حق واجب۔ استرهبوهم، رهبة سے نکلا ہے یعنی ڈرایا۔ تلقف لقمہ کرنے لگا (نگلنے لگا) ۔ طائرهم ان کا نصیبہ حصہ طوفان سیلاب، کبھی موت کی کثرت کو بھی طوفان کہتے ہیں۔ قمل چچڑیاں چھوٹی جوؤں کی طرح۔ عروش اور عريش عمارت، سقط جب کوئی شرمندہ ہوتا ہے تو کہتے ہیں سقط في يده.۔ الأسباط بنی اسرائیل کے خاندان قبیلے يعدون في السبت ہفتہ کے دن حد سے بڑھ جاتے تھے اسی سے ہے تعد یعنی حد سے بڑھ جائے۔ شرعا پانی کے اوپر تیرتے ہوئے۔ بئيس سخت۔ أخلد بیٹھ رہا، پیچھے ہٹ گیا۔ سنستدرجهم یعنی جہاں سے ان کو ڈر نہ ہوگا ادھر سے ہم آئیں گے جیسے اس آیت میں ہے فأتاهم الله من حيث لم يحتسبوا یعنی اللہ کا عذاب ادھر سے آپہنچا جدھر سے گمان نہ تھا۔ من جنة یعنی جنون دیوانگی فمرت به برابر پیٹ رہا، اس نے پیٹ کی مدت پوری کی ينزغنک گدگدائے پھسلائے۔ طيف اور طائف شیطان کی طرف سے جو اترے یعنی وسوسہ آئے۔ دونوں کا معنی ایک ہے يمدونهم ان کو اچھا کر دکھلاتے ہیں خفية کا معنی خوف، ڈر خيفة، الإخفاء سے ہے یعنی چپکے چپکے الآصال، أصيل کی جمع ہے وہ وقت جو عصر سے مغرب تک ہوتا ہے جیسے اس آیت میں ہے بكرة وأصيلا۔
Narrated Abu Huraira: Allah's Messenger said, The hour will not be established till the sun rises from the West; and when it rises (from the West) and the people see it, they all will believe. And that is (the time) when no good will it do to a soul to believe then. Then he recited the whole Verse (6.158)
باب: آیت کی تفسیر ”آپ کہہ دیں کہ میرے پروردگار نے بےحیائی کے کاموں کو حرام کیا ہے، ان میں سے جو ظاہر ہوں (ان کو بھی) اور جو چھپے ہوئے ہوں (ان کو بھی)۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَرَفَعَهُ، قَالَ: لَا أَحَدَ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ، فَلِذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، وَلَا أَحَدَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمِدْحَةُ مِنَ اللَّهِ فَلِذَلِكَ مَدَحَ نَفْسَهُ.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن مرہ نے، ان سے ابو وائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود ؓ نے (عمرو بن مرہ نے بیان کیا کہ) میں نے (ابو وائل سے) پوچھا، کیا تم نے یہ حدیث ابن مسعود ؓ سے خود سنی ہے؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ سے زیادہ اور کوئی غیرت مند نہیں ہے۔ اسی لیے اس نے بےحیائیوں کو حرام کیا خواہ ظاہر میں ہوں یا پوشیدہ اور اللہ سے زیادہ اپنی مدح کو پسند کرنے والا اور کوئی نہیں، اسی لیے اس نے اپنے نفس کی خود تعریف کی ہے۔
Narrated Abdullah bin Masud (RA) :
Allahs Apostle ﷺ said, "None has more sense of ghaira than Allah, and for this He has forbidden shameful sins whether committed openly or secretly, and none loves to be praised more than Allah does, and this is why He Praises Himself."
باب: آیت کی تفسیر ”اور جب موسیٰ ہمارے مقرر کردہ وقت پر (کوہ طور) پر آ گئے اور ان سے ان کے رب نے کلام کیا، موسیٰ بولے، اے میرے رب! مجھے تو اپنا دیدار کرا دے (کہ) میں تجھ کو ایک نظر دیکھ لوں (اللہ تعالیٰ نے فرمایا) تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے، البتہ تم (اس) پہاڑ کی طرف دیکھو، سو اگر یہ اپنی جگہ پر قائم رہا تو تم (مجھ کو بھی دیکھ سکو گے، پھر جب ان کے رب نے پہاڑ پر اپنی تجلی ڈالی تو (تجلی نے) پہاڑ کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور موسیٰ بیہوش ہو کر گر پڑے، پھر جب انہیں ہوش آیا تو بولے اے رب! تو پاک ہے، میں تجھ سے معافی طلب کرتا ہوں اور میں سب سے پہلا ایمان لانے والا ہوں“۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ لُطِمَ وَجْهُهُ، وَقَالَ يَا مُحَمَّدُ: إِنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِكَ مِنْ الْأَنْصَارِ لَطَمَ فِي وَجْهِي، قَالَ: ادْعُوهُ، فَدَعَوْهُ، قَالَ: لِمَ لَطَمْتَ وَجْهَهُ ؟قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي مَرَرْتُ بِالْيَهُودِ، فَسَمِعْتُهُ، يَقُولُ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ، فَقُلْتُ: وَعَلَى مُحَمَّدٍ، وَأَخَذَتْنِي غَضْبَةٌ، فَلَطَمْتُهُ، قَالَ: لَا تُخَيِّرُونِي مِنْ بَيْنِ الْأَنْبِيَاءِ، فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ، فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ، فَلَا أَدْرِي أَفَاقَ قَبْلِي أَمْ جُزِيَ بِصَعْقَةِ الطُّورِ، الْمَنَّ وَالسَّلْوَى.
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے عمرو بن یحییٰ مازنی نے، ان سے ان کے والد یحییٰ مازنی نے اور ان سے ابو سعید خدری ؓ نے بیان کیا کہ ایک یہودی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس کے منہ پر کسی نے طمانچہ مارا تھا۔ اس نے کہا: اے محمد! آپ کے انصاری صحابہ میں سے ایک شخص نے مجھے طمانچہ مارا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ انہیں بلاؤ۔ لوگوں نے انہیں بلایا، پھر آپ ﷺ نے ان سے پوچھا تم نے اسے طمانچہ کیوں مارا ہے؟ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں یہودیوں کی طرف سے گزرا تو میں نے سنا کہ یہ کہہ رہا تھا۔ اس ذات کی قسم! جس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تمام انسانوں پر فضیلت دی۔ میں نے کہا اور محمد ﷺ پر بھی۔ مجھے اس کی بات پر غصہ آگیا اور میں نے اسے طمانچہ مار دیا۔ نبی کریم ﷺ نے اس پر فرمایا کہ مجھے انبیاء پر فضیلت نہ دیا کرو۔ قیامت کے دن تمام لوگ بیہوش کردیئے جائیں گے۔ سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا لیکن میں موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھوں گا کہ وہ عرش کا ایک پایہ پکڑے کھڑے ہوں گے اب مجھے نہیں معلوم کہ وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آگئے یا طور کی بےہوشی کا انہیں بدلہ دیا گیا۔
Narrated Abu Said Al-Khudri(RA):
A man from the Jews, having been slapped on his face, came to the Prophet ﷺ and said, " O Muhammad ﷺ ! A man from your companions from the Ansar has slapped me on my face!" The Prophet ﷺ said, "Call him." When they called him, the Prophet ﷺ said, "Why did you slap him?" He said, "O Allahs Apostle ﷺ ! While I was passing by the Jews, I heard him saying, By Him Who selected Moses (علیہ السلام) above the human beings, I said, Even above Muhammad? I became furious and slapped him on the face." The Prophet ﷺ said, "Do not give me superiority over the other prophets, for on the Day of Resurrection the people will become unconscious and I will be the first to regain consciousness. Then I will see Moses (علیہ السلام) holding one of the legs of the Throne. I will not know whether he has come to his senses before me or that the shock he had received at the Mountain, (during his worldly life) was sufficient for him."
باب: آیت کی تفسیر ”ہم نے تمہارے کھانے کے لیے من اور سلویٰ اتارا“۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ، وَمَاؤُهَا شِفَاءُ الْعَيْنِ.
ہم سے مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبدالملک نے، ان سے عمرو بن حریث نے اور ان سے سعید بن زید ؓ کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، کھنبی من میں سے ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفاء ہے۔
Narrated Said Ibn Zaid (RA) :
The Prophet ﷺ said, "Al-Kama is like the Mann (sweet resin or gum) (in that it grows naturally without human care) and its water is a cure for the eye diseases."