باب: آیت «وانشق القمر وإن يروا آية يعرضوا» کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: انْشَقَّ الْقَمَرُ وَنَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَارَ فِرْقَتَيْنِ، فَقَالَ لَنَا: اشْهَدُوا اشْهَدُوا.
ہم سے علی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن ابی نجیح نے خبر دی، انہیں مجاہد نے، انہیں ابومعمر نے اور ان سے عبداللہ ؓ نے بیان کیا کہ چاند پھٹ گیا تھا اور اس وقت ہم بھی نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے۔ چناچہ اس کے دو ٹکڑے ہوگئے۔ نبی کریم ﷺ نے ہم سے فرمایا کہ لوگو گواہ رہنا، گواہ رہنا۔
Narrated Abdullah (RA) :
The moon was cleft asunder while we were in the company of the Prophet, and it became two parts. The Prophet ﷺ said, Witness, witness (this miracle)."
باب: آیت «وانشق القمر وإن يروا آية يعرضوا» کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَكْرٌ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: انْشَقَّ الْقَمَرُ فِي زَمَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے بکر نے بیان کیا، ان سے جعفر نے، ان سے عراک بن مالک نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عباس ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں چاند پھٹ گیا تھا۔
Narrated Ibn Abbas (RA) :
The moon was cleft asunder during the lifetime of the Prophet
باب: آیت «وانشق القمر وإن يروا آية يعرضوا» کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَأَلَ أَهْلُ مَكَّةَ أَنْ يُرِيَهُمْ آيَةً، فَأَرَاهُمُ انْشِقَاقَ الْقَمَرِ.
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس ؓ نے بیان کیا کہ مکہ والوں نے نبی کریم ﷺ سے معجزہ دکھانے کو کہا تو نبی کریم ﷺ نے انہیں چاند کے پھٹ جانے کا معجزہ دکھایا۔
Narrated Anas (RA) :
The people of Makkah asked the Prophet ﷺ to show them a sign (miracle). So he showed them (the miracle) of the cleaving of the moon.
باب: آیت «وانشق القمر وإن يروا آية يعرضوا» کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: انْشَقَّ الْقَمَرُ فِرْقَتَيْنِ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس ؓ نے بیان کیا کہ چاند دو ٹکڑوں میں پھٹ گیا تھا۔
Narrated Anas (RA) :
The moon was cleft asunder into two parts.
باب: آیت «تجري بأعيننا جزاء لمن كان كفر* ولقد تركناها آية فهل من مدكر» کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ: فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 15.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، ان سے اسود نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ فهل من مدکر پڑھا کرتے تھے۔
Narrated Abdullah (RA) :
The Prophet ﷺ used to recite: Is there any that remember? And a furious wind (plucking out men) as if they were uprooted stems of palm trees, then how terrible was My punishment and My warnings! (54.20-21)
باب: آیت کی تفسیر ”اور ہم نے آسان کر دیا ہے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے، سو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا؟“۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّه كَانَ يَقْرَأُ: فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 17.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے ابواسحاق نے، ان سے اسود نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ فهل من مدکر (سو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا؟ ) پڑھا کرتے تھے۔
Narrated `Abdullah:
The Prophet (ﷺ) used to recite: Is there any that remember? And a furious wind (plucking out men) as if they were uprooted stems of palm trees, then how terrible was My punishment and My warnings! (54.20-21)
باب: آیت کی تفسیر ”(وہ ہلاک شدہ کافر) گویا اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے تھے سو دیکھو میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا رہا“۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا سَأَلَ الْأَسْوَدَ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ، أَوْ مُذَّكِرٍ، فَقَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ يَقْرَؤُهَا فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 22، قَالَ: وَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا: فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 22 دَالًا.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے انہوں نے ایک شخص کو اسود سے پوچھتے سنا کہ سورة القمر میں آیت فهل من مدکر ہے یا فهل من مذکر؟ انہوں نے کہا کہ میں نے ابن مسعود ؓ سے سنا وہ فهل من مدکر پڑھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو بھی فهل من مدکر پڑھتے سنا ہے (دال مہملہ سے) ۔
Narrated Abu Ishaq (RA) :
A man asked Al-Aswad, is it Fahal min-Muddakir or..Mudhdhakir?" Al Aswad replied, I have heard Abdullah bin Masud reciting it, Fahal-min Muddakir; I too, heard the Prophet ﷺ reciting it Fahal-min-Muddakir with d.
باب: آیت کی تفسیر ”سو وہ (ثمود) ایسے ہو گئے جیسے کانٹوں کی باڑ جو چکنا چور ہو گئی ہو اور ہم نے قرآن کو آسان کر دیا ہے، کیا کوئی ہے قرآن مجید سے نصیحت حاصل کرنے والا؟ جو قرآن مجید سے نصیحت حاصل کرے“۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 32.
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو ہمارے والد عثمان نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں ابی اسحاق نے، انہیں اسود نے اور انہیں ابن مسعود ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے فهل من مدکر الآیۃ (دال مہملہ سے) ۔
Narrated Abdullah (RA) :
The Prophet ﷺ recited: Fahal-min-Muddakir "And Verily an abiding torment seized them early in the morning So, taste you My torment and My warnings (54.38-39)
باب: آیت کی تفسیر ”اور صبح سویرے ہی ان پر عذاب دائمی آ پہنچا اور ان سے کہا گیا کہ پس میرے عذاب اور ڈرانے کا مزہ چکھو“۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَرَأَ: فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 40.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، ان سے اسود نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فهل من مدکر (دال مہملہ سے) پڑھا تھا۔
Narrated Abdullah (RA) :
The Prophet ﷺ recited: Fahal-min Muddakir: And verily, We have destroyed nations like unto you; then is there any that will receive admonition? (54.51)
باب: آیت کی تفسیر ”اور ہم تمہارے جیسے لوگوں کو ہلاک کر چکے ہیں سو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا؟“۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ۔ فَهَلْ مِنْ مُذَّكِرٍ 0، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 51.
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو وکیع نے بیان کیا، ان سے اسرائیل نے، ان سے ابواسحاق نے، ان سے اسود بن یزید نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے سامنے فهل من مذکر پڑھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ فهل من مدکر (یعنی دال مہملہ سے پڑھو) ۔
Narrated Abdullah (RA) :
I recited before the Prophet ﷺ Fahal-min-Mudhdhakir. The Prophet ﷺ said, "It is Fahal-min Muddakir."
باب: آیت کی تفسیر ”کافروں کی عنقریب ساری جماعت شکست کھائے گی اور یہ سب پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے“۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ. ح وحَدَّثَنِيمُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ وُهَيْبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ يَوْمَ بَدْرٍ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَنْشُدُكَ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ، اللَّهُمَّ إِنْ تَشَأْ لَا تُعْبَدْ بَعْدَ الْيَوْمِ، فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ بِيَدِهِ، فَقَالَ: حَسْبُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلْحَحْتَ عَلَى رَبِّكَ وَهُوَ يَثِبُ فِي الدِّرْعِ، فَخَرَجَ وَهُوَ يَقُولُ: سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ سورة القمر آية 45.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن حوشب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد حذاء نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس ؓ نے (دوسری سند) اور مجھ سے محمد بن یحییٰ ذہلی نے بیان کیا، کہا ہم سے عفان بن مسلم نے بیان کیا، ان سے وہیب نے کہا ہم سے خالد حذاء نے ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ جبکہ آپ بدر کی لڑائی کے دن ایک خیمے میں تھے اور یہ دعا کر رہے تھے کہ اے اللہ! میں تجھے تیرا عہد اور وعدہ نصرت یاد دلاتا ہوں۔ اے اللہ! تیری مرضی ہے اگر تو چاہے (ان تھوڑے سے مسلمانوں کو بھی ہلاک کر دے) پھر آج کے بعد تیری عبادت باقی نہیں رہے گی۔ پھر ابوبکر ؓ نے نبی کریم ﷺ کا ہاتھ پکڑ لیا اور عرض کیا: بس یا رسول اللہ! آپ نے اپنے رب سے بہت ہی الحاح وزاری سے دعا کرلی ہے۔ اس وقت نبی کریم ﷺ زرہ پہنے ہوئے چل پھر رہے تھے اور آپ خیمہ سے نکلے تو زبان مبارک پر یہ آیت تھی سيهزم الجمع ويولون الدبر سو عنقریب (کافروں کی) جماعت شکست کھائے گی اور یہ سب پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔
Narrated Abbas (RA) :
Allahs Apostle ﷺ while in a tent on the day of the Battle of Badr, said, "O Allah! I request you (to fulfill) Your promise and contract! O Allah! If You wish that you will not be worshipped henceforth.." On that Abu Bakr (RA) held the Prophet ﷺ by the hand and said, "That is enough, O Allahs Apostle ﷺ You have appealed to your Lord too pressingly," while the Prophet ﷺ was putting on his armor. So Allahs Apostle ﷺ went out, reciting Their multitude will be put to flight, and they will show their backs. (54.45)
باب: آیت کی تفسیر ”بلکہ ان کا اصل وعدہ تو قیامت کے دن کا ہے اور قیامت بڑی سخت اور تلخ ترین چیز ہے“۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ مَاهَكٍ، قَالَ: إِنِّي عِنْدَ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: لَقَدْ أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ، وَإِنِّي لَجَارِيَةٌ أَلْعَبُ بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ سورة القمر آية 46.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، انہیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے یوسف بن ماہک نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ میں ام المؤمنین عائشہ ؓ کی خدمت میں حاضر تھا۔ آپ نے فرمایا کہ جس وقت آیت بل الساعة موعدهم والساعة أدهى وأمر لیکن ان کا اصل وعدہ تو قیامت کے دن کا ہے اور قیامت بڑی سخت اور تلخ چیز ہے محمد ﷺ پر مکہ میں نازل ہوئی تو میں بچی تھی اور کھیلا کرتی تھی۔
Narrated Yusuf bin Mahik (RA) :
I was in the house of Aisha (RA), the mother of the Believers. She said, "This revelation: "Nay, but the Hour is their appointed time (for their full recompense); and the Hour will be more previous and most bitter." (54.46) was revealed to Muhammad at Makkah while I was a playfull little girl."
باب: آیت کی تفسیر ”بلکہ ان کا اصل وعدہ تو قیامت کے دن کا ہے اور قیامت بڑی سخت اور تلخ ترین چیز ہے“۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ لَهُ يَوْمَ بَدْرٍ: أَنْشُدُكَ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ، اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ لَمْ تُعْبَدْ بَعْدَ الْيَوْمِ أَبَدًا، فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ بِيَدِهِ، وَقَالَ: حَسْبُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَدْ أَلْحَحْتَ عَلَى رَبِّكَ وَهُوَ فِي الدِّرْعِ، فَخَرَجَ وَهُوَ يَقُولُ: سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ 45 بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ 46 سورة القمر آية 45-46.
مجھ سے اسحاق بن شاہین واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن عبداللہ طحان نے، کہا ان سے خالد بن مہران حذاء نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ جبکہ آپ بدر کی لڑائی کے موقع پر میدان میں ایک خیمے میں یہ دعا کر رہے تھے کہ اے اللہ! میں تجھے تیرا عہد اور وعدہ نصرت یاد دلاتا ہوں۔ اے اللہ! اگر تو چاہے کہ (مسلمانوں کو فنا کر دے) تو آج کے بعد پھر کبھی تیری عبادت نہیں کی جائے گی۔ اور اس پر ابوبکر ؓ نے نبی کریم ﷺ کا ہاتھ پکڑ کر عرض کیا: بس یا رسول اللہ! آپ اپنے رب سے خوب الحاح وزاری کے ساتھ دعا کرچکے ہیں۔ نبی کریم اس وقت زرہ پہنے ہوئے تھے۔ آپ باہر تشریف لائے تو آپ کی زبان مبارک پر یہ آیت تھی سيهزم الجمع ويولون الدبر * بل الساعة موعدهم والساعة أدهى وأمر یعنی عنقریب کافروں کی یہ جماعت ہار جائے گی اور یہ سب پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔ لیکن ان کا اصل وعدہ تو قیامت کے دن کا ہے اور قیامت بڑی سخت اور بہت ہی کڑوی چیز ہے۔
Narrated Ibn Abbas (RA) :
While in his tent on the day the Battle of Badr, the Prophet ﷺ said, "O Allah! I request You (to fulfill) Your promise and contract. O Allah! It You wish that the Believers be destroyed). You will never be worshipped henceforth." On that, Abu Bakr (RA) held the Prophet ﷺ by the hand and said, "That is enough, O Allahs Apostle ﷺ ! You have appealed to your Lord too pressingly" The Prophet ﷺ was wearing his armor and then went out reciting:
Their multitude will be put to flight and they will show their backs. Nay, but the Hour is their appointed time (for their full recompense), and the Hour will be more previous and most bitter. (54.45-46)
باب: آیت کی تفسیر ”اور ان باغوں سے کم درجہ میں دو اور باغ بھی ہیں“۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ،عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: جَنَّتَانِ مِنْ فِضَّةٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا، وَجَنَّتَانِ مِنْ ذَهَبٍ آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا، وَمَا بَيْنَ الْقَوْمِ وَبَيْنَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَبِّهِمْ إِلَّا رِدَاءُ الْكِبْرِ عَلَى وَجْهِهِ فِي جَنَّةِ عَدْنٍ.
ہم سے عبداللہ بن ابی الاسود نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن عبدالصمد العمی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعمران الجونی نے بیان کیا، ان سے ابوبکر بن عبداللہ بن قیس نے اور ان سے ان کے والد (عبداللہ بن قیس ابوموسیٰ اشعری) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ (جنت میں) دو باغ ہوں گے جن کے برتن اور تمام دوسری چیزیں چاندی کی ہوں گی اور دو دوسرے باغ ہوں گے جن کے برتن اور تمام دوسری چیزیں سونے کے ہوں گے اور جنت عدن سے جنتیوں کے اپنے رب کے دیدار میں کوئی چیز سوائے کبریائی کی چادر کے جو اس کے منہ پر ہوگی، حائل نہ ہوگی۔
Narrated Abdullah bin Qais (RA) :
Allahs Apostle ﷺ said, "Two gardens, the utensils and the contents of which are of silver, and two other gardens, the utensils and contents of which are of gold. And nothing will prevent the people who will be in the Garden of Eden from seeing their Lord except the curtain of Majesty over His Face."
باب: آیت «حور مقصورات في الخيام» کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ فِي الْجَنَّةِ خَيْمَةً مِنْ لُؤْلُؤَةٍ مُجَوَّفَةٍ عَرْضُهَا سِتُّونَ مِيلًا، فِي كُلِّ زَاوِيَةٍ مِنْهَا أَهْلٌ مَا يَرَوْنَ الْآخَرِينَ يَطُوفُ عَلَيْهِمُ الْمُؤْمِنُونَ.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبدالعزیز بن عبدالصمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعمران جونی نے بیان کیا، ان سے ابوبکر بن عبداللہ بن قیس نے اور ان سے ان کے والد نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں کھوکھلے موتی کا خیمہ ہوگا، اس کی چوڑائی ساٹھ میل ہوگی اور اس کے ہر کنارے پر مسلمان کی ایک بیوی ہوگی ایک کنارے والی دوسرے کنارے والی کو نہ دیکھ سکے گی۔
Narrated Abdullah bin Qais (RA) :
Allahs Apostle ﷺ said, "In Paradise there is a pavilion made of a single hollow pearl sixty miles wide, in each corner of which there are wives who will not see those in the other corners; and the believers will visit and enjoy them. And there are two gardens, the utensils and contents of which are made of silver; and two other gardens, the utensils and contents of which are made of so-and-so (i.e. gold) and nothing will prevent the people staying in the Garden of Eden from seeing their Lord except the curtain of Majesty over His Face."
58- الْمُجَادِلَةُ:
باب: سورة المجادلہ کی تفسیر
وَقَالَ مُجَاهِدٌ: يُحَادُّونَ: يُشَاقُّونَ اللَّهَ، كُبِتُوا: أُخْزُوا مِنَ الْخِزْيِ، اسْتَحْوَذَ: غَلَبَ.
مجاہد نے کہا يحادون الله کا معنی اللہ کی مخالفت کرتے ہیں۔ کبتوا ذلیل کئے گئے۔ استحوذ غالب ہوگیا۔
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, In Paradise there is a tree which is so big that a rider can travel in its shade for one hundred years without passing it; and if you wish, you can recite: 'In shade long extended.' 56.30.
تفسیر سورت حشر! جلاء کے معنی ایک ملک سے دوسرے ملک میں نکال دینا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: سُورَةُ التَّوْبَةِ، قَالَ: التَّوْبَةُ هِيَ الْفَاضِحَةُ مَا زَالَتْ تَنْزِلُ وَمِنْهُمْ وَمِنْهُمْ حَتَّى ظَنُّوا أَنَّهَا لَنْ تُبْقِيَ أَحَدًا مِنْهُمْ إِلَّا ذُكِرَ فِيهَا، قَالَ: قُلْتُ: سُورَةُ الْأَنْفَالِ، قَالَ: نَزَلَتْ فِي بَدْرٍ، قَالَ: قُلْتُ: سُورَةُ الْحَشْرِ، قَالَ: نَزَلَتْ فِي بَنِي النَّضِيرِ.
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوبشر جعفر نے خبر دی، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عباس ؓ سے سورة التوبہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا یہ سورة التوبہ کی ہے یا فضیحت کرنے والی ہے اس سورت میں برابر یہی اترتا رہا بعض لوگ ایسے ہیں اور بعض لوگ ایسے ہیں یہاں تک کہ لوگوں کو گمان ہوا یہ سورت کسی کا کچھ بھی نہیں چھوڑے گی بلکہ سب کے بھید کھول دے گی۔ بیان کیا کہ میں نے سورة الانفال کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ یہ جنگ بدر کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ بیان کیا کہ میں نے سورة الحشر کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ قبیلہ بنو نضیر کے یہود کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔
Narrated Said bin Jubair (RA) :
I asked Ibn Abbas (RA) about Surat Al-Tauba, and he said, "Surat Al-Tauba? It is exposure (of all the evils of the infidels and the hypocrites). And it continued revealing (that the oft-repeated expression): ...and of them ...and of them. till they started thinking that none would be left unmentioned therein." I said, "What about) Surat Al-Anfal?" He replied, "Surat Al-Anfal was revealed in connection with the Badr Battle." I said, "(What about) Surat Al-Hashr?" He replied, "It was revealed in connection with Bani an-Nadir."
تفسیر سورت حشر! جلاءکے معنی ایک ملک سے دوسرے ملک میں نکال دینا۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُدْرِكٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: سُورَةُ الْحَشْرِ، قَالَ: قُلْ سُورَةُ النَّضِيرِ.
ہم سے حسن بن مدرک نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوعوانہ نے خبر دی، انہیں ابوبشر (جعفر بن ابی) نے اور ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے سورة الحشر کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا بلکہ اسے سورة النضیر کہا۔
Narrated Said (RA) :
I asked Ibn Abbas (RA) about Surat Al-Hashr. He replied, "Say Surat An-Nadir."
باب: آیت کی تفسیر ”جو کھجوروں کے درخت تم نے کاٹے“۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ، وَقَطَعَ وَهِيَ الْبُوَيْرَةُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ سورة الحشر آية 5.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کے کھجوروں کے درخت جلا دیئے تھے اور انہیں کاٹ ڈالا تھا۔ یہ درخت مقام بویرہ میں تھے پھر اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے آیت نازل کی ما قطعتم من لينة أو ترکتموها قائمة على أصولها فبإذن الله وليخزي الفاسقين کہ جو کھجوروں کے درخت تم نے کاٹے یا انہیں ان کی جڑوں پر قائم رہنے دیا سو یہ دونوں اللہ ہی کے حکم کے موافق ہیں اور تاکہ نافرمانوں کو ذلیل کرے۔
Narrated Ibn Umar (RA):
Allahs Apostle ﷺ burnt and cut down the palm trees of Bani An-Nadir which were at Al-Buwair (a place near Medina). There upon Allah revealed:
What you (O Muslims) cut down of the palm trees (of the enemy) or you left them standing on their stems, it was by the leave of Allah, so that He might cover with shame the rebellious. (59.5)
باب: قول ”اور جو کچھ اللہ نے اپنے رسول کو ان سے بطور فے دلوایا“ کی تفسیر۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ غَيْرَ مَرَّةٍ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، عَنْعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَتْ أَمْوَالُ بَنِي النَّضِيرِ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِمَّا لَمْ يُوجِفْ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ بِخَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ، فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ مِنْهَا نَفَقَةَ سَنَتِهِ، ثُمَّ يَجْعَلُ مَا بَقِيَ فِي السِّلَاحِ وَالْكُرَاعِ عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے کئی مرتبہ عمرو بن دینار سے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے مالک بن اوس بن حدثان نے اور ان سے عمر ؓ نے بیان کیا کہ بنی نضیر کے اموال کو اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو بغیر لڑائی کے دیا تھا۔ مسلمانوں نے اس کے لیے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے۔ ان اموال کا خرچ کرنا خاص طور سے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں تھا۔ چناچہ آپ ﷺ اس میں سے ازواج مطہرات کا سالانہ خرچ دیتے تھے اور جو باقی بچتا تھا اس سے سامان جنگ اور گھوڑوں کے لیے خرچ کرتے تھے تاکہ اللہ رب العزت کے راستہ میں جہاد کے موقع پر کام آئیں۔
Narrated Umar (RA) :
The properties of Bam An-Nadir were among the booty that Allah gave to His Apostle ﷺ such Booty were not obtained by any expedition on the part of Muslims, neither with cavalry, nor with camelry. So those properties were for Allahs Apostle ﷺ only, and he used to provide thereof the yearly expenditure for his wives, and dedicate the rest of its revenues for purchasing arms and horses as war material to be used in Allahs Cause.